Surat ul Haaqqaa

Surah: 69

Verse: 30

سورة الحاقة

خُذُوۡہُ فَغُلُّوۡہُ ﴿ۙ۳۰﴾

[ Allah will say], "Seize him and shackle him.

۔ ( حکم ہوگا ) اسے پکڑ لو پھر اسے طوق پہنا دو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

ثُمَّ الْجَحِيمَ صَلُّوهُ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(خذوہ فغلوہ…: حکم ہوگا اسے پکڑو اور اس کی گردن میں طوق ڈال دو ، پھر اسے بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونک دو ، پھر اسے ایک زنجیر میں جکڑ دو جو ستر (٧٠) ہاتھ لمبی ہے۔ جہنیموں کو جہنم میں طوقوں اور زنجیروں سے جکڑ کر لمبے لمبے ستونوں سے باندھ دیا جائے گا تاکہ وہ حرکت نہ کرسکیں، کیونکہ حرکت سے بھی عذاب میں کچھ تخفیف ہوتی ہے، فرمایا :(انھا علیھم موصدۃ، فی عمد ممددۃ) (الھمزۃ : ٨، ٩)” یقیناً وہ ان پر (ہر طرف سے) بند کی ہوئی ہے۔ لمبے لمبے ستونوں میں “ ستر ہاتھ سے مراد یہ پیمئاش بھی ہوسکتی ہے اور بہت زیادہ لمبائی بھی، کیونکہ عربوں کے ہاں ستر کا عدد کثرت کے لئے بھی آتا ہے۔ پھر ہوسکتا ہے کہ یہ زنجیر ہر مجرم کے لئے الگ الگ ہو اور یہ بیھ کہ ایک ہی زنجیر میں سب کو پروتے چلے جائیں۔ (التسہل)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

خُذُوهُ فَغُلُّوهُ (Seize him, then put a collar around his neck... 69:30). This instruction will be given to the angels to seize the guilty one and truss him up by putting a collar around his neck - though, however, the wordings of the verse do not mention who will seize and who will truss him up. Narratives indicate that when this order will be issued, everything, like submissive and obedient servants, will rush to apprehend him.

خُذُوْهُ فَغُلُّوْهُ ، یہ حکم فرشتوں کو ہوگا کہ اس مجرم کو پکڑو اور اس کے گلے میں طوق ڈالو لیکن الفاظ آیت میں اس کا ذکر نہیں کہ کون پکڑے اور طوق ڈالے، اسی لئے بعض روایات میں ہے کہ یہ حکم صادر ہوگا تو ہر در و دیوار اور ہر چیز مطیع و فرمانبرار نوکروں کی طرح ہے اس کے پکڑنے کو دوڑے گی۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

خُذُوْہُ فَغُلُّوْہُ۝ ٣٠ ۙ أخذ الأَخْذُ : حوز الشیء وتحصیله، وذلک تارةً بالتناول نحو : مَعاذَ اللَّهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنا مَتاعَنا عِنْدَهُ [يوسف/ 79] ، وتارةً بالقهر نحو قوله تعالی: لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ [ البقرة/ 255] ( اخ ذ) الاخذ ۔ کے معنی ہیں کسی چیز کو حاصل کرلینا جمع کرلینا اور احاطہ میں لے لینا اور یہ حصول کبھی کسی چیز کو پکڑلینے کی صورت میں ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ { مَعَاذَ اللهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهُ } ( سورة يوسف 79) خدا پناہ میں رکھے کہ جس شخص کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے اس کے سو اہم کسی اور پکڑ لیں اور کبھی غلبہ اور قہر کی صورت میں جیسے فرمایا :۔ { لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ } ( سورة البقرة 255) نہ اس پر اونگھ غالب آسکتی اور نہ ہ نیند ۔ محاورہ ہے ۔ غل الغَلَلُ أصله : تدرّع الشیء وتوسّطه، ومنه : الغَلَلُ للماء الجاري بين الشّجر، وقد يقال له : الغیل، وانْغَلَّ فيما بين الشّجر : دخل فيه، فَالْغُلُّ مختصّ بما يقيّد به فيجعل الأعضاء وسطه، وجمعه أَغْلَالٌ ، وغُلَّ فلان : قيّد به . قال تعالی: خُذُوهُ فَغُلُّوهُ [ الحاقة/ 30] ، وقال : إِذِ الْأَغْلالُ فِي أَعْناقِهِمْ [ غافر/ 71] ( غ ل ل ) الغلل کے اصل معنی کسی چیز کو اوپر اوڑھنے یا اس کے درمیان میں چلے جانے کے ہیں اسی سے غلل اس پانی کو کہا جاتا ہے جو درختوں کے درمیان سے بہہ رہا ہو اور کبھی ایسے پانی کو غیل بھی کہہ دیتے ہیں اور الغل کے معنی درختوں کے درمیان میں داخل ہونے کے ہیں لہذا غل ( طوق ) خاص کر اس چیز کو کہا جاتا ہے ۔ جس سے کسی کے اعضار کو جکڑ کر اس کے دسط میں باندھ دیا جاتا ہے اس کی جمع اغلال اتی ہے اور غل فلان کے معنی ہیں اے طوق سے باندھ دیا گیا قرآن میں ہے : خُذُوهُ فَغُلُّوهُ [ الحاقة/ 30] اسے پکڑ لو اور طوق پہنادو ۔ إِذِ الْأَغْلالُ فِي أَعْناقِهِمْ [ غافر/ 71] جب کہ ان لی گردنوں میں طوق ہوں گے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(69:30) خذوہ : خذوا فعل امر ، جمع مذکر حاضر۔ غل (باب نصر) مصدر۔ الغلل کے اصل معنی کسی چیز کو اوپر اوڑھنے یا اس کے درمیان میں چلے جانے کے ہیں۔ اسی سے غلل اس پانی کو کہا جاتا ہے جو درختوں کے درمیان سے بہہ رہا ہو۔ غل (طوق) خاص کر اس چیز کو کہا جاتا ہے جس سے کسی کے اعضاء جکڑ کر اس کے وسط میں باندھ دیا جاتا ہے اس کی جمع اغلال آتی ہے۔ غلوا طوق پہنا دو ۔ ہاتھ پاؤں اور گردن میں قید ڈال دو ۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

کس قدر ہولناک احکام ہیں ، کس قدر قاتل دہشت ہے اور جلال ربی کس قدر نمایاں ہے ! ! خذوہ (٩٦ : ٠٣) ” پکڑوا سے “ یہ حکم اللہ العلی العظیم کی طرف سے صادر ہورہا ہے۔ اس کمزور ونحیف اور عاجز ومسکین پر پوری کائنات ٹوٹ پڑتی ہے۔ ہر طرف سے مامورین لپکتے ہیں۔ ابن ابو حاتم ، منہال ابن عمر سے روایت کرتے ہیں ” جب اللہ یہ حکم دے گا کہ ” پکڑو اسے “ تو ستر ہزار فرشتے لپکیں گے۔ ہر ایک اس کیڑے پر لپکے گا ، جبکہ یہ کافر نہایت ہی حقیر اور کرب زدہ ہے۔ فغلوہ (٩٦ : ٠٣) ” گردن میں طوق ڈالو اس کے “ جو بھی ان ستر ہزار میں سے پہنچے گا طوق ڈال دے گا اس کی گردن میں ؟

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

کافروں کی ذلت : اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا ﴿ خُذُوْهُ فَغُلُّوْهُۙ٠٠٣٠ ثُمَّ الْجَحِيْمَ صَلُّوْهُۙ٠٠٣١ ثُمَّ فِيْ سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا فَاسْلُكُوْهُؕ٠٠٣٢﴾ (اس کو پکڑ لو پھر اس کو طوق پہنا دو پھر اس کو دوزخ میں داخل کرو پھر ایک ایسی زنجیر میں اس کو جکڑ دو جس کی پیمائش ستر ہاتھ ہے) ۔ ﴿ اِنَّهٗ كَانَ لَا يُؤْمِنُ باللّٰهِ الْعَظِيْمِۙ٠٠٣٣﴾ (بلاشبہ یہ اللہ پر ایمان نہیں لاتا تھا جو عظیم ہے) ۔ ﴿ وَ لَا يَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِيْنِؕ٠٠٣٤﴾ (اور وہ مسکین کے کھانے کی ترغیب نہیں دیتا تھا) داہنے ہاتھ اعمال دیئے جانے والوں کی خوشی اور خوش بختی اور بائیں ہاتھ میں اعمال نامے دیئے جانے والوں کی بدحالی اور بدبختی آیت بالا میں علی الترتیب بیان فرمائی ہے۔ اہل جنت کے تذکرہ میں یہ فرمایا کہ وہ یوں کہیں گے کہ دنیا میں جو ہم سوچ سمجھ کر زندگی گزارتے رہے کہ ہمارے سامنے ہمارا حساب پیش ہوگا آج ہمیں یہ اس کا انعام ملا ہے اور اہل جہنم کے تذکرہ میں فرمایا کہ وہ یوں کہیں گے ہمارا دوبارہ زندہ ہونا ہمارے لیے وبال ہوگیا پہلی بار جو زندگی گزار کر موت آگئی تھی وہی سب کچھ ہوتی اور ہمیں دوبارہ زندہ نہ کیا جاتا تو اچھا ہوتا، یہ جو ہم دنیا کے اموال اور اقتدار اور عہدوں اور منصبوں کی فکر میں لگے رہے یہ تو بیکار ہی گیا یہاں نہ کوئی مال کام آیا اور نہ کسی عہدہ نے فائدہ پہنچایا وہاں پچھتانے سے کچھ فائدہ حاصل نہ ہوگا، بس خیر اسی میں ہے کہ اسی دنیا میں ایمان قبول کرلیں اور نیک بن جائیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے طالب ہوجائیں عہدوں کے طالب نہ ہوں اور مال کو مطلوب نہ بنائیں۔ دنیاوی حکومتیں : دنیا میں جو عہدے ہیں وہ تو بڑی مصیبتوں سے ملتے ہیں اور ان میں بڑے بڑے مظالم کرنے پڑتے ہیں جب دنیا میں بادشاہت کا رواج تھا تو بادشاہت حاصل کرتے تھے اور اب جب سے دنیا میں جھوٹی جمہوریت آگئی ہے اس کی وجہ سے الیکشن لڑتے ہیں اور الیکشن کے بعد عہدہ مل جانے کی صورت میں پھر عہدہ کو باقی رکھنے کے لیے پھر الیکشن میں جو رقمیں خرچ کی گئیں ان کی جگہ مال جمع کرنے کے لیے جو جو مظالم ہوتے ہیں قتل و خون کی نوبت آتی ہے رشوتیں دی جاتی ہیں اور رشوتیں وصول کی جاتی ہیں اور طرح طرح سے انسانوں کو ووٹ دینے کے لیے مجبور کیا جاتا ہے اور ووٹوں کی خریداری ہوتی ہے ان سب باتوں کو الیکشن لڑنے لڑانے والے جانتے ہیں اتنی معصیتوں اور گناہوں کے ارتکاب کے بعد جو عہدہ ملا وہ لا محالہ وبال جان ہوگا پھر شریعت کا یہ مسئلہ بھی ہے کہ جو شخص عہدہ کا طالب ہو اسے عہدہ نہ دیاجائے۔ (کیونکہ وہ اسی لیے عہدہ طلب کرتا ہے کہ وہ اپنی دنیا سیدھی کرلے اور جائیداد جمع کرلے) یہ عہدے آخرت میں وبال جان بنیں گے، یہاں دنیا میں بڑے خوش ہوتے ہیں کہ کوئی عہدہ مل گیا، وزیر بن گئے وہاں زنجیر میں جکڑے جائیں گے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اگر رانگ کا ایک حصہ چھوٹے سے پیالہ کے برابر زمین کی طرف آسمان سے چھوڑ دیا جائے تو رات کے آنے سے پہلے زمین تک پہنچ جائے جو پانچ سو سال کی مسافت ہے اور اگر رانگ کا وہ حصہ دوزخی کی زنجیر کے ایک سرے سے چھوڑا جائے تو دوسرے سرے تک پہنچنے سے پہلے چالیس سال تک چلتا رہے گا۔ فائدہ : دوزخی کی سزا کا سبب بتاتے ہوئے ایک یہ فرمایا کہ وہ مومن نہیں تھا دوسرے یہ فرمایا کہ وہ مسکین کے کھانے کی ترغیب نہیں دیتا تھا، مسکین کو نہ کھلانا اور اس کے کھلانے کی ترغیب نہ دینا اتنی اہم بات ہے کہ اسے کفر کے ساتھ ذکر کیا گیا تو مسکین پر ظلم کرنا اور اسے کسی نے کچھ دیا ہو تو اسے چھین کر کھا جانا یا خود قابض ہو کر اپنا بنا لینا کتنا بڑا گناہ ہوگا۔ خوب سمجھ لیا جائے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

11:۔ ” خذوہ “ جزاء و سزا کا فیصلہ ہوجانے کے بعد فرشتوں کو حکم ہوگا کہ اس کی گردن میں طوق ڈال دو اور اسے ستر گز لمبے زنجیر میں باندھ کر اس کو لٹکاؤ اور اسے جہنم میں پھینک دو اس صورت میں ثم تعقیب ذکری کے لیے ہوگا۔ یا مطلب یہ ہے کہ اسے زنجیروں میں جکڑو اور پھر ستر گز لمبے زنجیر میں اسے جہنم کے اندر جکڑ دو تاکہ وہ ہل جل نہ سکے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(30) حکم ہوگا اس شخص کو پکڑو اور اس کے طوق ڈالو۔