Surat ul Haaqqaa

Surah: 69

Verse: 44

سورة الحاقة

وَ لَوۡ تَقَوَّلَ عَلَیۡنَا بَعۡضَ الۡاَقَاوِیۡلِ ﴿ۙ۴۴﴾

And if Muhammad had made up about Us some [false] sayings,

اور اگر یہ ہم پر کوئی بات بنا لیتا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

If the Prophet forged anything against Allah, then Allah would punish Him Allah says, وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الاَْقَاوِيلِ And if he had forged a false saying concerning Us, meaning, `if Muhammad forged something against Us, as they claim, and added or removed anything from the Message, or said anything from himself while attributing it to Us, then We would surely be swift in punishing him. And of course, Muhammad did not do any of this (as the disbelievers claimed).' Thus, Allah says, لاَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ

ہدایت اور شفا قرآن حکیم یہاں فرمان باری ہے کہ جس طرح تم کہتے ہو اگر فی الواقع ہمارے یہ رسول ایسے ہی ہوتے کہ ہماری رسالت میں کچھ کمی بیشی کر ڈالتے یا ہماری نہ کہی ہوئی بات ہمارے نام سے بیان کر دیتے تو یقیناً اسی وقت ہم انہیں بدترین سزا دیتے یعنی اپنے دائیں ہاتھ سے اس کا دائیاں ہاتھ تھام کر اس کی وہ رگ کاٹ ڈالتے جس پر دل معلق ہے اور کوئی ہمارے اس کے درمیان بھی نہ آ سکتا کہ اسے بچانے کی کوشش کرے ، پس مطلب یہ ہوا کہ حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سچے پاک باز رشد و ہدایت والے ہیں اسی لئے اللہ نے زبردست تبلیغی خدمت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سونپ رکھی ہے اور اپنی طرف سے بہت سے زبردست معجزے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صدق کی بہترین بڑی بڑی نشانیاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عنایت فرما رکھی ہیں ۔ پھر فرمایا یہ قرآن متقیوں کے لئے تذکرہ ہے ، جیسے اور جگہ ہے کہدو یہ قرآن ایمانداروں کے لئے ہدایت اور شفا ہے اور بے ایمان تو اندھے بہرے ہیں ہی ، پھر فرمایا باوجود اس صفائی اور کھلے حق کے ہمیں بخوبی معلوم ہے کہ تم میں سے بعض اسے جھوٹا بتلاتے ہیں ، یہ تکذیب ان لوگوں کے لئے قیامت کے دن باعث حسرت و افسوس ہو گی ، یا یہ مطلب کہ یہ قرآن اور اس پر ایمان حقیقتاً کفار پر حسرت کا باعث ہو گا ، جیسے اور جگہ ہے ، اسی طرح ہم اسے گنہگاروں کے دلوں میں اتارتے ہیں پھر وہ اس پر ایمان نہیں لاتے ۔ اور جگہ ہے ( وَحِيْلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُوْنَ كَمَا فُعِلَ بِاَشْيَاعِهِمْ مِّنْ قَبْلُ ۭ اِنَّهُمْ كَانُوْا فِيْ شَكٍّ مُّرِيْبٍ 54؀ۧ ) 34- سبأ:54 ) ان میں اور ان کی خواہش میں حجاب ڈال دیا گیا ہے ، پھر فرمایا یہ خبر بالکل سچ حق اور بیشک و شبہ ہے ، پھر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ اس قرآن کے نازل کرنے والے رب عظیم کے نام کی بزرگی اور پاکیزگی بیان کرتے رہو ۔ اللہ کے فضل سے سورہ الحاقہ کی تفسیر ختم ہوئی ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

44۔ 1 یعنی اپنی طرف سے گھڑ کر ہماری طرف منسوب کردیتا، یا اس میں کمی بیشی کردیتا، تو ہم فوراً اس کا مؤاخذہ کرتے اور اسے ڈھیل نہ دیتے جیسا کہ اگلی آیات میں فرمایا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

ولو تقول علینا بعض الاقاویل…: ان آیات میں کفار کی اس بات کا رد ہے کہ یہ باتیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے دل سے بنا کر اللہ کے ذمے لگا دی ہیں۔ فرمایا جب یہ ثابت ہوگیا کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور آپ کی کہی ہوئی ہر بات اللہ کی بات ہے تو اب اگر اللہ تعالیٰ انہیں اپنے ذمے باتیں لگانے دے اور اس پر انہیں کچھ نہ کہے تو وہ سب باتیں اللہ یک باتیں سمجھی جائیں گی، اللہ تعالیٰ اس کی اجازت کس طرح دے سکتا ہے ؟ فرمایا ، اگر ہمارا ی ہ سچا رسول کوئی بات گھڑ کر ہمارے ذمے لگا دیتا تو اس جعل سازی کے جرم میں ہم اس کا دائیاں ہاتھ پکڑ کر اس کی جان ک رگ کاٹ دیتے اور کوی شخص رستے میں رکاوٹ نہ بن سکتا۔ بعض لوگوں نے اس آیت سے غلط استدلال کیا ہے کہ اگر کسی مدعی نبوت کی جان کی رگ دعوائے نبوت کرتے ہی نہ کاٹ دی جائے تو یہ اس کے نبی ہونے کی دلیل ہے، حالانکہ اس آیت میں جو بات فرمائی گئی ہے وہ سچے نبی کے بارے میں ہے، نبوت کے جھوٹیم دعیوں کے بارے میں نہیں ہے۔ جھوٹے مدعی تو نبوت ہی نہیں خدائی تک کے دعوے کرتے ہیں اور مدتوں زمین پر دندناتے رہتے ہیں، یہ ان کے سچے ہونے کا ثبوت نہیں۔ اس کی مثال یوں سمجھیں کہ جس طرح بادشاہ کسیش خص کو کسی منصب پر مقرر کر کے سند وغیرہ دے کر کسی طرف روانہ کرتے ہیں، اب اگر وہ کوئی بات جھوٹ گھڑ کر بادشاہ کے ذمے لگا دے تو فوراً بادشاہ کی طرف سے اس کی تردید کی جاتی ہے اور ایسا کرنے والے کو سخت سزا دی جاتی ہے، لیکن اگر کوئی سڑک کوٹنے والا مزدور یا صفائی کرنے والا بھنگی اعلان کرتا پھرے کہ بادشاہ نے یہ حکم جاری کیا ہے تو نہ سننے والے اس کی پروا کرتے ہیں اور نہ حکومت فوراً اس سے تعرض کرتی ہے۔ ہمارے زمانے کے دجال قادیانی کا اس ایٓ سے استدلال اور خود اس کے کلام میں سے اس کا رد دیکھنے کیلئے تفسیر ثنائی ملاحظہ فرمائیں۔ (فانہ کفی و شقی رحمۃ اللہ تعالیٰ رحمۃ واسعۃ) (تقول “ کا معنی ہے، کسی کے ذمے وہ بات لگانا جو اس نے نہیں کہی۔” الاقاویل “” افولہ “ کی جمع ہے، جس طرح ” اغجوبۃ “ اور ” ضحوکۃ “ کی جمع ” اعاجیب “ اور ” اضاحیک “ ہے۔ ” لاخدنا منہ بالیمین “ سے مراد یا تو یہ ہے کہ ہم اس کا دایاں ہاتھ پکڑ کر اس کی گردن کی رگ کاٹ دیتے۔ یہ سزا کی ہولناک کی دکھانے کے لئے قتل کی تصویر کشی ہے، کیونکہ جب قتل کرنے والا کسی مجرم کو تلوار مارنے لگتا ہے تو اس کا دایاں ہاتھ پکڑ لیتا ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ خود اپنے دائیں ہاتھ سے پکڑ کر اس کی رگ جاں کاٹ دیتے۔ بعض مفسرین نے ” الیمین “ کا معنی قوت کیا ہے، یعنی ہم اسے پوری قوت سے پکڑ کر اس کی رگ جاں کاٹ دیتے۔ عرب کے محاورہ میں یہ معنی بھی استعمال ہوتا ہے، مگر یہم عنی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے ہاتھوں کا انکار کردینا درست نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(بل یدہ مبسوطین) (المائدۃ : ٦٣)” ابل کہ اللہ کے دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں۔ “ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :(کلتا یدی ربی یمین مبارکۃ) (ترمذی، تفسیر لا قرآن، باب : ٣٣٦٨۔ مسلم ١٨٢٨)” میرے رب کے دونوں ہاتھ دائیں اور برکت والے ہیں۔ “ البتہ اس بات میں شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ ہمارے ہاتھوں جیسے نہیں، جیسا کہ فرمایا :(لیس کمثلہ شیء ) (الشوری : ١١)” اس کی مثل کوئی چیز نہیں۔ “ بلکہ اس طرح ہیں جس طرح اس کی شان کے لائق ہیں۔” الوتین “ گردن کی وہ رگ جو دل سے ملتی ہے، جس کے کٹنے سے آدمی فوراً مرجاتا ہے۔ (اشرف الحواشی)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ ﴿٤٤﴾ لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ﴿٤٥﴾ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ ﴿٤٦﴾ And had he forged some statements in Our name, We would have certainly seized him by the right hand, and then severed his life-astery,…(69:44-46) The word taqawwul means &to forge, fabricate or concoct& and the word watin refers to &aorta or life-artery&. This is the main artery that carries blood from the heart to other parts of the body. Once this artery is cut off, death occurs instantly. The foregoing verses refute the outrageous thoughts of the disbelievers. They used to accuse the Prophet o (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) of being a poet and a soothsayer. They said that the Qur&an was the word of a poet or the word of a soothsayer. The Qur&an denounces their argument - it is not the word of a poet nor the word of a soothsayer; it is a revelation from Allah to His Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . In other words, in verses [ 37-38] it was claimed that all visible and invisible things prove that the Prophet is Allah&s true Messenger and that the Qur&an is Allah&s revealed Word and not the imaginary flight of a poet&s mind or the wild conjectures of a diviner. In this and the preceding three verses another invincible argument is given in support of his claim. The argument is to the effect that if the Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had been a forger of lies against Allah, Allah&s strong hand would have seized him by the throat and cut off his life-artery and he would have certainly met with a violent death. The invincible argument is put forward in a strong language - assuming the impossible - to make the ignorant realise the worst-case scenario. The expression &right hand& is used probably because when a convicted criminal is to be executed, the executioner stands in front facing the condemned person. The executioner&s left hand faces the guilty person&s right hand. The executioner holds the condemned person with his left hand and attacks him with his right hand. A Cautionary Note This verse refers to a theoretical situation relating to the Apostle of Allah in particular that lest, God forbid, if he were to concoct a word and impute it to Allah, this is the way he would have been dealt with. A hypothetical situation is a possible situation, not an actual situation. Thus this does not necessarily set down a universal principle that any and every impostor, who lays claim to prophethood, would be destroyed as a matter of general rule. History records that many impostors laid claim to prophethood, but no such destructive punishment was ever imposed on them.

(آیت) وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا الخ، تقول کے معنی بات گھڑنے کے ہی اور وہ تین قلب سے نکلنے والی وہ رگ ہے۔ جس سے روح جسم انسانی میں پھیلتی ہے اس کے قطع کردینے سے موت فوراً واقع ہوجاتی ہے۔ سابقہ آیات میں کفار مکہ کے اس بےہودہ خیال کا رد کیا گیا تھا، کوئی آپ کو شاعر اور آپ کے کلام کو شعر کہتا تھا، کوئی آپ کو کاہن اور کلام کو کہانت کہتا تھا۔ کاہن وہ شخص ہوتا ہے جو کچھ شیاطین سے خبریں پا کر کچھ نجوم کے اثرات سے معلوم کرنے کے آنے والے واقعات میں اٹکل بچو باتیں کیا کرتا تھا۔ غرض آپ کو اشعر یا کاہن کہنے والوں کے الزام کا حاصل یہ تھا کہ آپ جو کلام سناتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے نہیں، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود اپنے خیالات سے یا کاہنوں کی طرح شیاطین سے کچھ کلمات جمع کر لئے ہیں ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ مذکورہ آیات میں حق تعالیٰ نے ان کے اس خیال باطل کو ایک دوسری صورت سے بڑی شدت کے ساتھ اس طرح رد کیا ہے کہ دیوانو، اگر یہ رسول معاذ اللہ ہماری طرف جھوٹی باتیں منسوب کرتے اور ہم پر افتراء پردازی کرتے تو کیا ہم یوں ہی دیکھتے رہتے اور ان کو ڈھیل دیدیتے کہ خلق خدا کو گمراہ کریں۔ یہ بات کوئی عقل والا باور نہیں کرسکتا اس لئے اس آیت میں بطور فرض محال کے ارشاد فرمایا کہ اگر یہ رسول کوئی قول بھی اپنی طرف سے گھڑ کر ہماری طرف منسوب کرتے تو ہم ان کا داہنا ہاتھ پکڑ کر ان کی رگ جان کاٹ ڈالتے اور پھر ہماری سزا سے ان کو کوئی بھی نہ بچ اسکتا۔ یہاں یہ شدت کے الفاظ ان جاہلوں کو سنانے کے لئے قرض محال کے طور پر استعمال فرمائے ہیں۔ داہنا ہاتھ پکڑنے کی تخصیص غالباً اس لئے ہے کہ جب کسی مجرم کو قتل کیا جاتا ہے تو قتل کرنے والا اس کے بالمقابل کھڑا ہوتا ہے قتل کرنے والے کے بائیں ہاتھ کے مقابل مقتول کا داہعنا ہاتھ ہوتا ہے اس کو یہ قتل کرنے والا اپنے بائیں ہاتھ میں پکڑ کر داہنے ہاتھ سے اس پر حملہ کرتا ہے۔ تنبیہ :۔ اس آیت میں ایک خاص واقعہ کے متعلق یہ فرمایا ہے کہ اگر خدانخواستہ معاذ اللہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی طرف سے کوئی بات گھڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کردیتے تو آپ کے ساتھ یہ معاملہ کیا جاتا، اس میں کوئی عام ضابطہ بیان نہیں کیا گیا کہ جو شخص بھی نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرے ہمیشہ اس کو ہلاک ہی کردیا جائے گا یہی وجہ ہے کہ دنیا میں بہت سے لوگوں نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا ان پر کوئی سا عذاب نہیں آیا۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْلِ۝ ٤٤ ۙ لو لَوْ : قيل : هو لامتناع الشیء لامتناع غيره، ويتضمّن معنی الشرط نحو : قوله تعالی: قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] . ( لو ) لو ( حرف ) بعض نے کہا ہے کہ یہ امتناع الشئی لا متناع غیر ہ کے لئے آتا ہے ( یعنی ایک چیز کا دوسری کے امتناع کے سبب ناممکن ہونا اور معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں ہوتے ۔ تقول ( تفعل) مصدر سے۔ اس نے بنا لیا۔ اس نے گھڑ لیا۔ اس نے باندھ لیا۔ تقول کے معنی اپنے دل سے گھڑ کر دوسرے کی طرف سے کہہ دینا۔ اقاویل جمع اقوال کی جمع ہے قول کی بمعنی بات جیسے ابابیت جمع ہے ابیات کی جو جمع ہے بیت کی۔ تقول کی مناسبت سے یہاں اقوال سے مراد بھی اقوال المفتراۃ ( من گھڑت اقوال) لیا جائے گا۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٤{ وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِیْلِ ۔ } ” اور اگر یہ (نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود گھڑ کر بعض باتیں ہماری طرف منسوب کرتا۔ “ تَقَوَّلَ باب تفعل ہے ‘ اس باب میں تکلف کے معنی پائے جاتے ہیں ‘ یعنی ارادے ‘ محنت اور کوشش سے کوئی بات کہنا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٤٤۔ ٥٢۔ جس طرح اوپر گزرا کہ اہل مکہ قرآن کر شاعر یا کاہن کا کلام کہتے تھے اسی طرح وہ لوگ ایک بات یہ بھی کہتے تھے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے دل سے یہ باتیں جوڑ لی ہیں جن باتوں کو انہوں نے کلام الٰہی مشہور کیا ہے اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں دیا اور فرمایا کہ غیب سے اس دین کی دن بدن مدد ہوتی چلی جاتی ہے دن بدن یہ دین ترقی پکڑتا جاتا ہے اس سے یہ سمجھ لینا چاہئے کہ یہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے سچے رسول ہیں اور قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے کیونکہ صاحب شریعت نبی حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانہ سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ تک جو مدد غیبی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کی فرمائی ہے وہی مدد رسول کی ہر وقت ہر باب میں اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے جس طرح یہ قریش کے لوگ کہتے ہیں اگر ایسا ہوتا تو لوگوں کے جھٹلانے سے پہلے اللہ تعالیٰ ہی جھوٹ کی سزا میں ان کو ہلاک کر ڈالتا اور تم میں سے کوئی ان کو بچا نہ سکتا لیکن حالت تو یہ ہے کہ جس طرح اور رسولوں کی غیب سے اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ مدد فرمائی ہے اسی طرح سے ان کی مدد غیب سے دن بدن ہو رہی ہے حاصل کلام یہ ہے کہ اگر غور سے دیکھا جائے تو ہر ایک قوم کے لئے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نبی ہونے کی یہی ایک دلیل کافی ہے کہ جس زمانہ میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نبوت کا دعویٰ کیا اسی زمانہ میں مسیلمہ کذاب اور اسود غسی ان دو شخصوں نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا۔ اوپر ان دو شخصوں کا قصہ گزر چکا ہے کہ آخر کس ذلت سے یہ دونوں مارے گئے اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سچی نبوت کا جو انجام ہوا وہ آج بھی ہر قوم کے لوگوں کی آنکھوں کے سامنے ہے اور قیامت تک رہے گا۔ تقول بات بنانے کو کہتے ہیں۔ سزا دیتے وقت مجرم کا سیدھا ہاتھ اس کے قابو میں رکھنے کیلئے پکڑ لیتے ہیں اس لئے سیدھے ہاتھ کے پکڑنے کا ذکر فرمایا۔ وتین رگ دل کو کہتے ہیں جس کے کٹ جانے کے بعد آدمی نہیں بچتا۔ اس کو ترجمہ میں ناڑ کہا ہے۔ اللہ کے رسول اور اللہ کے کلام کے جھٹلانے والوں کا حسرت اور ندامت کا حال جو کچھ قیامت کے دن ہوگا اس کا ذکر سورة فرقان میں گزر چکا ہے آخر کو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو معبود کی تسبیح پڑھنے کا حکم فرمایا ہے جس نے ایسا بےمثل کلام اپنے رسول پر اتارا۔ یہ تسبیح اس لئے کہ اللہ کی اس نعمت کا کچھ تو شکر ادا ہو۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(69:44) ولو تقول علینا : واؤ عاطفہ، لو حرف شرط تقول ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب تقول (تفعل) مصدر سے۔ اس نے بنا لیا۔ اس نے گھڑ لیا۔ اس نے باندھ لیا۔ تقول کے معنی اپنے دل سے گھڑ کر دوسرے کی طرف سے کہہ دینا۔ اقاویل جمع اقوال کی جمع ہے قول کی بمعنی بات جیسے ابابیت جمع ہے ابیات کی جو جمع ہے بیت کی۔ تقول کی مناسبت سے یہاں اقوال سے مراد بھی اقوال المفتراۃ (من گھڑت اقوال) لیا جائے گا۔ ترجمہ ہوگا :۔ اگر وہ گھڑ کر بعض باتیں ہماری طرف منسوب کرتا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ولو تقول .................... حجزین ان آیات کا مطلب یہ ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود تمہارے اقوال کے مطابق بھی صادق وامین ہیں۔ اور اگر انہوں نے اس کلام سے کوئی بات اپنی طرف سے بنائی ہوتی تو ہم اس کو اپنی گرفت میں لے لیتے اور چونکہ آپ پر خدا کی پکڑ نہیں آئی ، اس لئے لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ آپ سچے ہیں۔ یہ تو تھا ایک مثبت استدلالی نظریہ اور ثبوت ، لیکن جس انداز میں یہ بات کی گئی ہے وہ ایک مکمل اور متحرک منظر کا انداز ہے۔ مثلاً یوں نظر آتا ہے کہ جس طرح ایک قوی تر انسان باز پرس کے لئے کسی کو پکڑ لے اپنے دائیں ہاتھ سے ، اور پھر اس کی رگ جان کاٹ دے۔ یہ بھی نہایت ہی سخت اور متاثر کردینے والا منظر ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی قدرت کس قدر عظیم ہے اور اس کے سامنے انسان کس قدر عاجز ہے۔ سب کے سب انسان اس کے سامنے ہیچ ہیں۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی نظریہ حیات ، اسلامی عقائد ، دین سے استدلالی اور تمام دینی مباحث ، نہایت ذمہ داری کا کام ہے۔ اور اس میں ہر شخص کو ذمہ داری سے اقدام و کلام کرنا چاہئے ، جبکہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ دھمکی دی گئی ہے تو ان لوگوں کا کیا حال ہوگا ، جو اسلام کے بارے میں لاپرواہ ہوکر کلام کرتے ہیں۔ لہٰذا یہ نہایت خوف ، ڈر اور احتیاط اور خضوع وخشوع کا مقام ہے اور محتاط رہنے کا کلام ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

ثالثاً یہ فرمایا : ﴿ وَ لَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْلۙ٠٠٤٤ لَاَخَذْنَا مِنْهُ بالْيَمِيْنِۙ٠٠٤٥ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِيْنَٞۖ٠٠٤٦ فَمَا مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ عَنْهُ حٰجِزِيْنَ ٠٠٤٧﴾ (اور اگر یہ شخص ہمارے ذمہ کچھ باتیں لگا دیتا تو ہم اس کا داہنا ہاتھ پکڑ لیتے پھر ہم اس کے دل کی رگ کاٹ ڈالتے پھر تم میں سے کوئی اسے سزا سے بچانے والا نہ ہوتا) ۔ ان آیات میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دعویٰ نبوت کو سچا ثابت فرمایا ہے ارشاد فرمایا کہ یہ شخص جو دعویٰ کرتا ہے کہ میں اللہ کا رسول اور نبی ہوں اور یہ دعویٰ کرتا ہے کہ مجھ پر اللہ تعالیٰ نے کتاب نازل فرمائی ہے اگر یہ ہماری طرف کچھ جھوٹی باتیں منسوب کردیتا یعنی نبوت کا جھوٹا دعویدار ہوتا اور ہماری طرف کسی ایسی بات کی نسبت کردیتا جو ہماری طرف سے نازل نہیں کی گئی تو ہم اس کا داہنا ہاتھ پکڑ لیتے اور اس کے دل کی رگ کاٹ ڈالتے یعنی اس کی گرفت فرما لیتے اور اس کو موت دے دیتے جب اس کو ہم سزا دیتے تو اس کو تم میں سے کوئی شخص بچا نہیں سکتا، صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ موت دینے کو اس طرح جو تعبیر فرمایا کہ ہم اس کا داہنا ہاتھ پکڑ لیتے اور اس کے دل کی رگ کو کاٹ ڈالتے اس میں ہلاک کرنے کی ایک رسوا کن تصویر بیان فرمائی، جب بادشاہ کسی پر غصہ ہوتے تھے تو اس کے قتل کرنے کے لیے جلاد کو حکم دیتے تھے جلاد یوں کرتا تھا کہ پہلے مقتول کے داہنے ہاتھ کو پکڑتا تھا پھر اس کی گردن مار دیتا تھا اس کے بعد حضرت حسن سے نقل کیا ہے کہ : ان المعنی لقطعنا یمینہ ثم لقطعن وتینة عبرة و نکالا یعنی ہم اولاً ، اس کے دہانے ہاتھ کو کاٹ دیتے پھر ہم اس کی رگ جان کو کاٹ دیتے تاکہ دوسروں کے لیے عبرت ناک سزا ہوجائے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

14:۔ ” ولو تقول “ یہ صداقت رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دلیل ہے۔ یمین کے معنی قوت وقدرت کے ہیں۔ اگر بالفرض محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے ذمہ کوئی جھوٹی بات لگا دیتے، تو ہم ان کو پوری قوت کے ساتھ مواخذہ کرتے اور ان کی رگ حیات کاٹ دیتے اور پھر تم میں سے کوئی بھی ان کو ہماری گرفت سے نہ بچا سکتا، چونکہ اللہ کی طرف سے آپ پر کسی قسم کا عذاب نازل نہیں ہوا تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور آپ جو کچھ بھی بیان فرماتے ہیں وہ سب اللہ کی طرف سے ہے۔ دجالِ قادیان مرزا غلام احمد نے اس آیت سے اپنی صداقت پر استدلال کیا ہے کہ اگر وہ جھوٹا ہوتا تو اس کی رگ حیات کاٹ دی جاتی۔ مگر ایسا نہیں ہوا، لہذا وہ اپنے دعوی میں مفتری نہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت کو اگر قانون کی بنیاد بنایا جائے تو اس سے جو قانون اخذ ہوتا ہے وہ سچے پیغمبروں کے لیے ہے کہ اگر وہ خدا پر افتراء کریں تو ان کی رگ حیات کاٹ دی جاتی ہے۔ اس آیت کو نبوت کے جھوٹے دعویداروں سے کوئی تعلق نہیں۔ بلکہ جھوٹے دعویداروں کو تو بطور استدراج مہلت دی جاتی ہے، تاکہ اپنی روسیاہی اور بدبختی میں مزید اضافہ کرلیں۔ لہذا اللہ تعالیٰ کا مرزا غلام احمد قادیانی اور اس قسم کے دوسرے دجالوں اور مفتریوں کو مہلت دینا بطور استدراج ہے اور یہ ان کی سچائی کی دلیل نہیں، بلکہ ان کے کاذب اور مفتری ہونے کی واضح برہان ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(44) اور اگر یہ پیغمبر ہمارے ذمے کوئی غلط اور جھوٹ بات گھڑ کر لگاتا۔