Surat ul Haaqqaa

Surah: 69

Verse: 7

سورة الحاقة

سَخَّرَہَا عَلَیۡہِمۡ سَبۡعَ لَیَالٍ وَّ ثَمٰنِیَۃَ اَیَّامٍ ۙ حُسُوۡمًا ۙ فَتَرَی الۡقَوۡمَ فِیۡہَا صَرۡعٰی ۙ کَاَنَّہُمۡ اَعۡجَازُ نَخۡلٍ خَاوِیَۃٍ ۚ﴿۷﴾

Which Allah imposed upon them for seven nights and eight days in succession, so you would see the people therein fallen as if they were hollow trunks of palm trees.

جسے ان پر لگاتار سات رات اور آٹھ دن تک ( اللہ نے ) مسلط رکھا پس تم دیکھتے کہ یہ لوگ زمین پر اس طرح گر گئے جیسے کھجور کے کھوکھلے تنے ہوں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ ... Which Allah imposed on them, meaning, He made it overpower them. ... سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا ... for seven nights and eight days Husum, Husum means, complete, successive and unfortunately evil. Ibn Mas`ud, Ibn Abbas, Mujahid, Ikrimah, Ath-Thawri and others all said, "Husum means in succession." It has been reported that Ikrimah and Ar-Rabi` bin Khuthaym both said, "It means it was unfortunately evil upon them." This is similar to Allah's statement, فِى أَيَّامٍ نَّحِسَاتٍ in days of calamity, (41:16) It has been said that it is that which people now call A`jaz (apparently used to mean evil devastation). It seems as though the people took this term from Allah's statement, ... فَتَرَى الْقَوْمَ فِيهَا صَرْعَى كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍ so that you could see the people lying toppled, as if they were A`jaz (trunks) of date palms, Khawiyah! Ibn `Abbas said about, خَاوِيَةٍ (Khawiyah), "It means ruined." Others besides him said, "It means dilapidated." This means that the wind would cause one of them (palm tree) to hit the ground, and it will fall down dead on his head. Then his head would shatter and it would remain a lifeless corpse as if it were without branches, motionless. It has been confirmed in the Two Sahihs that the Messenger of Allah said, نُصِرْتُ بِالصَّبَا وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُور I was helped by an easterly wind and the people of `Ad were destroyed by a westerly wind. فَهَلْ تَرَى لَهُم مِّن بَاقِيَةٍ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

7۔ 1 جسم کے معنی کاٹنے اور جدا جدا کرنے کے ہیں اور بعض نے حسوما کے معنی پے درپے کیے ہیں۔ اس سے ان کی درازی کی طرف اشارہ ہے کھوکھلے بےروح جسم کو کھوکھلے تنے سے تشبیہ دی ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦] یہ لوگ بڑے مضبوط جسم والے، طاقتور اور طویل القامت تھے۔ جب ان کو ہود (علیہ السلام) نے اللہ کے عذاب سے ڈرایا تو کہنے لگے : (مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً 15؀) 41 ۔ فصلت :15) (ہم سے زیادہ طاقتور کون ہے ؟ ) لیکن جب ہم نے ان پر ہوا کو چھوڑ دیا تو یہ لوگ اس کا بھی مقابلہ نہ کرسکے۔ تندو تیز ہوا نے ان کو یوں چاروں شانے چت گرا دیا کہ طویل القامت ہونے کی وجہ سے ان کے سر گرتے ہی تن سے جدا ہوجاتے تھے۔ اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ کھجوروں کے بےجان اور کھوکھلے تنے پڑے ہوئے ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(سخر ھا علیھم سبع لیال …:” حسوماً “ کا معنی ابن عباس (رض) عنہمانے ” پے در پے “ کیا ہے۔ (ابن جریر) اس صورت میں یہ ” حسمت الدابۃ “ (میں نے جانور کو پے در پے داغ لگائے) سے مشتق ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے وہ آندھی ان پر سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلائے رکھی، ایک لمحہ کے لئے بھی نہیں رکی۔” حسم یحسم “ (ض) کا معنی ” جڑ سے کاٹنا “ بھی ہے۔ اس صورت میں یہ ” حاسم “ کی جمع ہے ، جیسے ” شاھد “ کی جمع ” شھود “ ہے، معنی ہوگا ” ان پر وہ آندھی جڑ سے کاٹ ڈالنے والی سات راتوں اور آٹھ دنوں تک چلائے رکھی۔ “” حسوماً “ مصدر بھی ہوسکتا ہے، جیسے ” شکور “ اور ” کفور “ ہے، اس صورت میں یہ مفعول لہ ہوگا، یعنی ان پر وہ آندھی سات راتیں اور آٹھ دن جڑ سے کاٹ ڈالنے کے لئے چلائے رکھی۔ مزید تراکیب کے لئے دیگر کتب تفاسیر ملاحظہ فرمائیں۔” صرعی “” صریع “ کی جمع ہے، پچھاڑ کر گرائے ہوئے، ہلاک کئے ہوئے۔” اعجاز “” عجز و عجز “ کی جمع ہے، کسی چیز کا آخری حصہ، درخت کا تنا۔” خاویۃ “ ” خوی یخوی “ (ض ) گرپڑنا، خالی ہونا۔ اللہ تعالیٰ نے قوم عاد سے ان کی نافرمانی کی وجہ سے ایک عرصہ تک بارش روکے رکھی، ادھر وہ پیغمبر کو زچ کرنے کے لئے بار بار عذاب کا مطالبہ کر رہے تھے، جب عذاب بادل کی صورت میں نمودار ہو اور انہوں نے اسے اپنی وادیوں کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھا تو خوش ہوگئے کہ اب بارش ہوگ ی، مگر تھوڑی ہی دیر میں عذاب شروع ہوگیا ، جو مغرب کی طرف سے آنے والی تیز ٹھنڈی آندھی کی صورت میں تھا، جس نے ہر چیز کو تباہ کر کے رکھ دیا۔ تفصیل کے لئے دیکھیے سورة احقاف (٢١ تا ٢٦) ۔ سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلنے کے بعد آندھی تھمی تو ان کی لاشیں اس طرح گری ہوئی تھیں جیسے کھجور کے کھوکھلے تنے اہل ایمان کے علاوہ ایک شخص بھی باقی نہ بچا۔ اس تشبیہ سے اس قوم کا مضبوط جسامت اور لمبے قدوں والا ہونا صاف معلوم ہو رہا ہے۔ سورة احقاف (٢٦) اور سورة فجر (٨ تا ١٠) میں ان کی قوت و شوکت کا کچھ حال بیان ہوا ہے۔ ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :(نصرت بالصبا، واھلکت عاد بالدبور) (بخاری، احادیث الانبیائ، باب قول اللہ تعالیٰ (واما عاد…): ٣٣٣٣۔ مسلم : ٩٠٠)” خندق کے موقع پر) میری مدد صبا یعنی مشرق سے آنے والی ہوا کے ساتھ کی گئی اور عاد کو دبور یعنی مغرب سے آنے والی ہوا کے ساتھ ہلاک کیا گیا۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ (seven nights and eight consecutive days&... 69:7). According to some of the narratives, the punishment of windstorm started on Wednesday morning, and lasted till the following Wednesday evening. In this way, it makes up eight days and seven nights. The word husuman (in verse 7) is the plural of hasim and means &cutting them off entirely& or &causing them to perish completely&. The word مُؤْتَفِكَاتُ mu&tafikat (in verse 9) means &adjacent to one another&. The towns of Sayyidna Lut Sodom and Gomorrah, are so called because they were adjacent to each other or because when the punishment overtook the disbelievers and criminals overthrowing their towns ], they were all jumbled up.1 (1) Another possible meaning of mu&tafikat is &overthrown& as mentioned by several exegetes. The translation in the text is based on this meaning. Muhammad Taqi Usmani

سَبْعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَةَ اَيَّامٍ ، بعض روایات میں ہے کہ بدھ کی صبح سے یہ آندھی کا عذاب شروع ہو کر دوسرے بدھ کی شام تک رہا اس طرح دن تو آٹھ ہوگئے اور راتیں سات آئیں۔ حسوماً حاسم کی جمع ہے جس کے معنی قطع کرنے اور استیصال کرنے یعنی بالکل فنا کردینے والے کے ہیں وَالْمُؤْتَفِكٰت۔ کے معنے باہم مختلط اور ملے جلے کے ہیں۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بستیوں کو مؤتفکات یا تو اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ سب آپس میں ملی ہوئی بستیاں تھیں اور یا اس لئے کہ عذاب آنے کے وقت جب ان کا تختہ الٹا گیا تو سب گڈ مڈ ہوگئیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

سَخَّرَہَا عَلَيْہِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَّثَمٰنِيَۃَ اَيَّامٍ۝ ٠ ۙ حُسُوْمًا فَتَرَى الْقَوْمَ فِيْہَا صَرْعٰى۝ ٠ ۙ كَاَنَّہُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَۃٍ۝ ٧ ۚ سخر التَّسْخِيرُ : سياقة إلى الغرض المختصّ قهرا، قال تعالی: وَسَخَّرَ لَكُمْ ما فِي السَّماواتِ وَما فِي الْأَرْضِ [ الجاثية/ 13] ( س خ ر ) التسخیر ( تفعیل ) کے معنی کسی کو کسی خاص مقصد کی طرف زبر دستی لیجانا کے ہیں قرآن میں ہے وَسَخَّرَ لَكُمْ ما فِي السَّماواتِ وَما فِي الْأَرْضِ [ الجاثية/ 13] اور جو کچھ آسمان میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اس نے ( اپنے کرم سے ) ان سب کو تمہارے کام میں لگا رکھا ہے ۔ سبع أصل السَّبْع العدد، قال : سَبْعَ سَماواتٍ [ البقرة/ 29] ، سَبْعاً شِداداً [ النبأ/ 16] ، يعني : السموات السّبع وسَبْعَ سُنْبُلاتٍ [يوسف/ 46] ، سَبْعَ لَيالٍ [ الحاقة/ 7] ، سَبْعَةٌ وَثامِنُهُمْ كَلْبُهُمْ [ الكهف/ 22] ، سَبْعُونَ ذِراعاً [ الحاقة/ 32] ، سَبْعِينَ مَرَّةً [ التوبة/ 80] ، سَبْعاً مِنَ الْمَثانِي[ الحجر/ 87] . قيل : سورة الحمد لکونها سبع آيات، السَّبْعُ الطّوال : من البقرة إلى الأعراف، وسمّي سور القرآن المثاني، لأنه يثنی فيها القصص، ومنه : السَّبْعُ ، والسَّبِيعُ والسِّبْعُ ، في الورود . والْأُسْبُوعُ جمعه : أَسَابِيعُ ، ويقال : طفت بالبیت أسبوعا، وأسابیع، وسَبَعْتُ القومَ : كنت سابعهم، وأخذت سبع أموالهم، والسَّبُعُ : معروف . وقیل : سمّي بذلک لتمام قوّته، وذلک أنّ السَّبْعَ من الأعداد التامّة، وقول الهذليّ : 225- كأنّه عبد لآل أبي ربیعة مسبع «2» أي : قد وقع السّبع في غنمه، وقیل : معناه المهمل مع السّباع، ويروی ( مُسْبَع) بفتح الباء، وكنّي بالمسبع عن الدّعيّ الذي لا يعرف أبوه، وسَبَعَ فلان فلانا : اغتابه، وأكل لحمه أكل السّباع، والْمَسْبَع : موضع السَّبُع . ( س ب ع ) السبع اصل میں |" سبع |" سات کے عدد کو کہتے ہیں ۔ قرآن میں ہے ؛ سَبْعَ سَماواتٍ [ البقرة/ 29] سات آسمان ۔ سَبْعاً شِداداً [ النبأ/ 16] سات مضبوط ( آسمان بنائے ) ۔ وسَبْعَ سُنْبُلاتٍ [يوسف/ 46] سات بالیں ۔ سَبْعَ لَيالٍ [ الحاقة/ 7] سات راتیں ۔ سَبْعَةٌ وَثامِنُهُمْ كَلْبُهُمْ [ الكهف/ 22] سات ہیں اور آٹھواں ان کا کتا ہے ۔ سَبْعُونَ ذِراعاً [ الحاقة/ 32] ستر گز سَبْعِينَ مَرَّةً [ التوبة/ 80] ستر مرتبہ اور آیت : سَبْعاً مِنَ الْمَثانِي[ الحجر/ 87] ( الحمد کی ) سات آیتیں ( عطا فرمائیں جو نماز کی ہر رکعت میں مکرر پڑھی جاتی ہیں میں بعض نے کہا ہے کہ سورة الحمد مراد ہے ۔ کیونکہ اس کی سات آیتیں ہیں اور بعض نے کہا ہے کہ السبع الطوال یعنی سورة بقرہ سے لے کر اعراف تک سات لمبی سورتیں مراد ہیں ۔ اور قرآن پاک کی تمام سورتوں کو بھی مثانی کہا گیا ہے ۔ کیونکہ ان میں واقعات تکرار کے ساتھ مذکور ہیں منجملہ ان کے یہ سات سورتیں ہیں السبیع والسبع اونٹوں کو ساتویں روز پانی پر وارد کرتا ۔ الاسبوع ۔ ایک ہفتہ یعنی سات دن جمع اسابیع طفت بالبیت اسبوعا میں نے خانہ کعبہ کے گرد سات چکر لگائے سبعت القوم میں ان کا ساتواں بن گیا ۔ اخذت سبع اموالھم میں نے ان کے اموال سے ساتواں حصہ وصول کیا ۔ السبع ۔ درندہ کو کہتے ہیں ۔ کیونکہ اس کی قوت پوری ہوتی ہے جیسا کہ سات کا عدد |" عدد تام |" ہوتا ہے ۔ ھذلی نے کہا ہے ( الکامل) كأنّه عبد لآل أبي ربیعة مسبعگویا وہ آل ابی ربیعہ کا غلام ہے جس کی بکریوں کو پھاڑ کھانے کے لئے درندے آگئے ہوں ۔ بعض نے مسبع کا معنی مھمل مع السباع کئے ہیں یعنی وہ جو درندوں کی طرح آوارہ پھرتا ہے اور بعض نے مسبع ( بفتح باء ) پڑھا ہے ۔ اور یہ دعی سے کنایہ ہے یعنی وہ شخص جسکا نسب معلوم نہ ہو ۔ سبع فلانا کسی کی غیبت کرنا اور درندہ کی طرح اس کا گوشت کھانا ۔ المسبع ۔ درندوں کی سر زمین ۔ ليل يقال : لَيْلٌ ولَيْلَةٌ ، وجمعها : لَيَالٍ ولَيَائِلُ ولَيْلَاتٌ ، وقیل : لَيْلٌ أَلْيَلُ ، ولیلة لَيْلَاءُ. وقیل : أصل ليلة لَيْلَاةٌ بدلیل تصغیرها علی لُيَيْلَةٍ ، وجمعها علی ليال . قال اللہ تعالی: وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ [إبراهيم/ 33] ( ل ی ل ) لیل ولیلۃ کے معنی رات کے ہیں اس کی جمع لیال ولیا ئل ولیلات آتی ہے اور نہایت تاریک رات کو لیل الیل ولیلہ لیلاء کہا جاتا ہے بعض نے کہا ہے کہ لیلۃ اصل میں لیلاۃ ہے کیونکہ اس کی تصغیر لیلۃ اور جمع لیال آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّا أَنْزَلْناهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ [ القدر/ 1] ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں نازل ( کرنا شروع ) وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ [إبراهيم/ 33] اور رات اور دن کو تمہاری خاطر کام میں لگا دیا ۔ يوم اليَوْمُ يعبّر به عن وقت طلوع الشمس إلى غروبها . وقد يعبّر به عن مدّة من الزمان أيّ مدّة کانت، قال تعالی: إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعانِ [ آل عمران/ 155] ، ( ی و م ) الیوم ( ن ) ی طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک کی مدت اور وقت پر بولا جاتا ہے اور عربی زبان میں مطلقا وقت اور زمانہ کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ خواہ وہ زمانہ ( ایک دن کا ہو یا ایک سال اور صدی کا یا ہزار سال کا ہو ) کتنا ہی دراز کیوں نہ ہو ۔ قرآن میں ہے :إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعانِ [ آل عمران/ 155] جو لوگ تم سے ( احد کے دن ) جب کہہ دوجماعتیں ایک دوسرے سے گتھ ہوگئیں ( جنگ سے بھاگ گئے ۔ حسم الحَسْم : إزالة أثر الشیء، يقال : قطعه فَحَسَمَهُ ، أي : أزال مادّته، وبه سمّي السیف حُسَاما . وحَسْمُ الداء : إزالة أثره بالکيّ ، وقیل للشؤم المزیل لأثر من ناله : حُسُوم، قال تعالی: ثَمانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُوماً [ الحاقة/ 7] ، قيل : حاسما أثرهم، وقیل : حاسما خبرهم، وقیل : قاطعا لعمرهم . وکل ذلک داخل في عمومه . ( ح س م ) الحسم ( ض ) کے معنی کسی چیز کے نشان کو زائل کرنے اور مٹا دینے کے ہیں کہا جاتا ہے : ۔ یعنی اسے قطع کیا اور پھر اس کا نشان تک مٹادیا ۔ پھر اس اعتبار سے تلوار کو حسام کہا جاتا ہے ۔ حسم لداء زخم کو مسلسل داغ دے کر اس کے نشان کو مٹا دینا اور جب نحوست انسان کے نشانہ کو مٹاڈالے تو کہا جا تا ہے نالہ حسوم اور آیت کریمہ : ثَمانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُوماً [ الحاقة/ 7] آٹھ دن لگا تار میں بعض نے کہا ہے کہ ان کے گھروں کے نشانات مٹادینے والی ریح مراد ہے اور بعض نے کہا ہے کہ نام ونشان مٹادینے والی مراد ہے اور بعض نے ان کے عمروں کو قطع کردینے والی مراد ہے اور یہ سب معانی حسوم کے مفہوم میں داخل ہیں ۔ رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ، والثاني : بالوهم والتّخيّل، نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] . والثالث : بالتّفكّر، نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] . والرابع : بالعقل، وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ، ( ر ء ی ) رای الرؤیتہ کے معنی کسی مرئی چیز کا ادراک کرلینا کے ہیں اور قوائے نفس ( قوائے مدر کہ ) کہ اعتبار سے رؤیتہ کی چند قسمیں ہیں ۔ ( 1) حاسئہ بصریا کسی ایسی چیز سے ادراک کرنا جو حاسہ بصر کے ہم معنی ہے جیسے قرآن میں ہے : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] تم ضروری دوزخ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوگے پھر ( اگر دیکھو گے بھی تو غیر مشتبہ ) یقینی دیکھنا دیکھو گے ۔ ۔ (2) وہم و خیال سے کسی چیز کا ادراک کرنا جیسے ۔ اری ٰ ان زیدا منطلق ۔ میرا خیال ہے کہ زید جا رہا ہوگا ۔ قرآن میں ہے : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] اور کاش اس وقت کی کیفیت خیال میں لاؤ جب ۔۔۔ کافروں کی جانیں نکالتے ہیں ۔ (3) کسی چیز کے متعلق تفکر اور اندیشہ محسوس کرنا جیسے فرمایا : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے ۔ (4) عقل وبصیرت سے کسی چیز کا ادارک کرنا جیسے فرمایا : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] پیغمبر نے جو دیکھا تھا اس کے دل نے اس میں کوئی جھوٹ نہیں ملایا ۔ قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قيام القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] صرع الصَّرْعُ : الطّرح . يقال : صَرَعْتُهُ صَرْعاً ، والصَّرْعَةُ : حالة المَصْرُوعِ ، والصَّرَاعَةُ : حرفة الْمُصَارِعُ ، ورجلٌ صَرِيعٌ ، أي : مَصْرُوعٌ ، وقومٌ صَرْعَى. قال تعالی: فَتَرَى الْقَوْمَ فِيها صَرْعى [ الحاقة/ 7] ، وهما صِرْعَانِ ، کقولهم قِرْنَانِ. والْمِصْرَاعَانِ من الأبواب، وبه شبّه المِصْرَاعَانِ في الشِّعْرِ ( ص رع ) الصرع ( ف) کے معنی ہیں زمین پر پٹخ دینا ، بچھاڑ دینا ۔ صرعتہ صرعا : میں نے اسے پچھاڑ دیا ۔ الصرعۃ بچھڑے ہوئے آدمی کی حالت ۔ الصراعۃ ۔ کشتی لڑنے کا فن رجل صریع بچھاڑا ہوا آدمی قوم صرعیٰ : بچھڑے ہوئے لوگ قرآن میں ہے :۔ فَتَرَى الْقَوْمَ فِيها صَرْعى [ الحاقة/ 7] یعنی تم دیکھو گے کہ لوگ بچھڑے پڑے ہیں ۔ اور قریتان کی طرح ھما صرعان کہا جاتا ہے یعنی وہ دونوں ایک دوسرے کے برابر اور مثل ہیں ۔ المصرعان من الباب ۔ دروازے کے دوپٹ۔ پھر تشبیہ کے طور پر دونوں مصرعوں کو بھی مصرعان کہاجاتا ہے ۔ عجز عَجُزُ الإنسانِ : مُؤَخَّرُهُ ، وبه شُبِّهَ مُؤَخَّرُ غيرِهِ. قال تعالی: كَأَنَّهُمْ أَعْجازُ نَخْلٍ مُنْقَعِرٍ [ القمر/ 20] ، والعَجْزُ أصلُهُ التَّأَخُّرُ عن الشیء، وحصوله عند عَجُزِ الأمرِ ، أي : مؤخّره، كما ذکر في الدّبر، وصار في التّعارف اسما للقصور عن فعل الشیء، وهو ضدّ القدرة . قال تعالی: أَعَجَزْتُ أَنْ أَكُونَ [ المائدة/ 31] ، وأَعْجَزْتُ فلاناً وعَجَّزْتُهُ وعَاجَزْتُهُ : جعلته عَاجِزاً. قال : وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللَّهِ [ التوبة/ 2] ، وَما أَنْتُمْ بِمُعْجِزِينَ فِي الْأَرْضِ [ الشوری/ 31] ، وَالَّذِينَ سَعَوْا فِي آياتِنا مُعاجِزِينَ [ الحج/ 51] ، وقرئ : معجزین فَمُعَاجِزِينَ قيل : معناه ظانّين ومقدّرين أنهم يُعْجِزُونَنَا، لأنهم حسبوا أن لا بعث ولا نشور فيكون ثواب و عقاب، وهذا في المعنی کقوله : أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئاتِ أَنْ يَسْبِقُونا [ العنکبوت/ 4] ، و «مُعَجِّزِينَ» : يَنسُبُون إلى العَجْزِ مَن تَبِعَ النبيَّ صلّى اللہ عليه وسلم، وذلک نحو : جهّلته وفسّقته، أي : نسبته إلى ذلك . وقیل معناه : مثبّطين، أي : يثبّطون الناس عن النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم کقوله : الَّذِينَ يَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ [ الأعراف/ 45] ، وَالعَجُوزُ سمّيت لِعَجْزِهَا في كثير من الأمور . قال تعالی: إِلَّا عَجُوزاً فِي الْغابِرِينَ [ الصافات/ 135] ، وقال : أَأَلِدُ وَأَنَا عَجُوزٌ [هود/ 72] . ( ع ج ز ) عجز الانسان عجز الانسان ۔ انسان کا پچھلا حصہ تشبیہ کے طور ہر چیز کے پچھلے حصہ کو عجز کہہ دیا جاتا ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ كَأَنَّهُمْ أَعْجازُ نَخْلٍ مُنْقَعِرٍ [ القمر/ 20] جیسے کھجوروں کے کھو کھلے تنے ۔ عجز کے اصلی معنی کسی چیز سے پیچھے رہ جانا یا اس کے ایسے وقت میں حاصل ہونا کے ہیں جب کہ اسکا وقت نکل جا چکا ہو جیسا کہ لفظ کسی کام کے کرنے سے قاصر رہ جانے پر بولا جاتا ہے اور یہ القدرۃ کی ضد ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ أَعَجَزْتُ أَنْ أَكُونَ [ المائدة/ 31] اے ہے مجھ سے اتنا بھی نہ ہوسکا کہ میں ۔۔۔۔ ۔ اعجزت فلانا وعجزتہ وعاجزتہ کے معنی کسی کو عاجز کردینے کے ہیں ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللَّهِ [ التوبة/ 2] اور جان رکھو کہ تم خدا کو عاجز نہیں کرسکو گے ۔ وَما أَنْتُمْ بِمُعْجِزِينَ فِي الْأَرْضِ [ الشوری/ 31] اور تم زمین میں خدا کو عاجز نہیں کرسکتے ۔ وَالَّذِينَ سَعَوْا فِي آياتِنا مُعاجِزِينَ [ الحج/ 51] اور جہنوں نے ہماری آیتوں میں کوشش کی کہ ہمیں ہرادیں گے ۔ ایک قرات میں معجزین ہے معاجزین کی صورت میں اس کے معنی ہوں گے وہ یہ زعم کرتے ہیں کہ ہمیں بےبس کردیں گے کیونکہ وہ یہ گمان کرچکے ہیں کہ حشر ونشر نہیں ہے کہ اعمال پر جذا وسزا مر تب ہو لہذا یہ باعتبار معنی آیت کریمہ : أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئاتِ أَنْ يَسْبِقُونا [ العنکبوت/ 4] کیا وہ لوگ جو برے کام کرتے ہیں یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ ہمارے قابو سے نکل جائیں گے ۔ کے مترادف ہوگا اور اگر معجزین پڑھا جائے تو معنی یہ ہوں گے کہ وہ آنحضرت کے متبعین کیطرف عجز کی نسبت کرتے ہیں جیسے جھلتہ وفسقتہ کے معنی کسی کی طرف جہالت یا فسق کی نسبت کرنا کے ہوتے ہیں ۔ اور بعض کے نزدیک معجزین بمعنی مثبطین ہے یعنی لوگوں کو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اتباع سے روکتے ہیں جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا : ۔ الَّذِينَ يَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ [ الأعراف/ 45] جو خدا کی راہ سے روکتے ( ہیں ) اور بڑھیا کو عجوز اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ بھی اکثر امور سے عاجز ہوجاتی ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ إِلَّا عَجُوزاً فِي الْغابِرِينَ [ الصافات/ 135] مگر ایک بڑھیا کہ پیچھے رہ گئی ۔ أَأَلِدُ وَأَنَا عَجُوزٌ [هود/ 72] اے ہے میرے بچہ ہوگا اور میں تو بڑھیا ہوں ۔ نخل النَّخْلُ معروف، وقد يُستعمَل في الواحد والجمع . قال تعالی: كَأَنَّهُمْ أَعْجازُ نَخْلٍ مُنْقَعِرٍ [ القمر/ 20] وقال : كَأَنَّهُمْ أَعْجازُ نَخْلٍ خاوِيَةٍ [ الحاقة/ 7] ، وَنَخْلٍ طَلْعُها هَضِيمٌ [ الشعراء/ 148] ، وَالنَّخْلَ باسِقاتٍ لَها طَلْعٌ نَضِيدٌ [ ق/ 10] وجمعه : نَخِيلٌ ، قال : وَمِنْ ثَمَراتِ النَّخِيلِ [ النحل/ 67] والنَّخْلُ نَخْل الدّقيق بِالْمُنْخُل، وانْتَخَلْتُ الشیءَ : انتقیتُه فأخذْتُ خِيارَهُ. ( ن خ ل ) النخل ۔ کھجور کا درخت ۔ یہ واحد جمع دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے : كَأَنَّهُمْ أَعْجازُ نَخْلٍ خاوِيَةٍ [ الحاقة/ 7] جیسے کھجوروں کے کھوکھلے تنے ۔ كَأَنَّهُمْ أَعْجازُ نَخْلٍ مُنْقَعِرٍ [ القمر/ 20] اور کھجوریں جن کے خوشے لطیف اور نازک ہوتے ہیں ۔ وَالنَّخْلَ باسِقاتٍ لَها طَلْعٌ نَضِيدٌ [ ق/ 10] اور لمبی لمبی کھجوریں جن کا گا بھاتہ بہ تہ ہوتا ہے اس کی جمع نخیل آتی ہے چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَمِنْ ثَمَراتِ النَّخِيلِ [ النحل/ 67] اور کھجور کے میووں سے بھی ۔ النخل ( مصدر کے معنی چھلنی سے آٹا چھاننے کے ہیں اور انتخلت الشئی کے معنی عمدہ چیز منتخب کرلینے کے ؛ خوی أصل الخَوَاء : الخلا، يقال خَوَى بطنه من الطعام يَخْوِي خَوًى وخَوَى الجوز خَوًى تشبيها به، وخَوَتِ الدار تَخْوِي خَوَاءً ، وخَوَى النجم وأَخْوَى: إذا لم يكن منه عند سقوطه مطر، تشبيها بذلک، وأخوی أبلغ من خوی، كما أن أسقی أبلغ من سقی. والتّخوية : ترک ما بين الشيئين خالیا . ( خ و ی ) الخوا ء کے معنی خالی ہونے کے ہیں ۔ کہا جاتا ہے : ۔ یعنی اس کا پیٹ طعام سے خالی ہوگیا ۔ اور تشبیہ کے طور پر خوی الجواز کا محاورہ بھی استعمال ہوتا ہے ۔ جسکے معنی خالی ہونے کے ہیں ۔ خوت خواء الدار گھر ویران ہوکر گر پڑا اور جب ستارے کے گرنے پر بارش نہ ہو تو تشبیہ کے طور پر کہا جاتا ہے یہاں خوی کی نسبت آخویٰ کے لفظ میں زیادہ مبالغہ پایا جاتا ہے جیسا کہ سقی اور اسقیٰ میں ۔ التخویۃ دو چیزوں کے درمیان جگہ خالی چھوڑ نا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

جس کو اللہ تعالیٰ نے ان پر سات رات اور آٹھ دن متواتر مسلط کردیا تھا۔ سو اے مخاطب تو ان دنوں میں عاد کو اس طرح گرا ہوا دیکھتا گویا کہ وہ گری ہوئی کھجوروں کے تنے پڑے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٧{ سَخَّرَہَا عَلَیْہِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّثَمٰنِیَۃَ اَیَّامٍلا حُسُوْمًالا فَتَرَی الْقَوْمَ فِیْہَا صَرْعٰیلا کَاَنَّہُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِیَۃٍ ۔ } ” اللہ نے مسلط کردیا اسے ان پر مسلسل سات راتوں اور آٹھ دنوں تک ‘ ان کی بیخ کنی کے لیے ‘ تو تم دیکھتے ان لوگوں کو کہ وہاں ایسے پچھڑے پڑے ہیں جیسے کھجور کے کھوکھلے تنے ہوں۔ “ قومِ عاد کے لوگ بہت قد آور تھے ‘ اس لیے انہیں کھجور کے تنوں سے تشبیہہ دی گئی ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

3: قومِ عاد کا تعارف بھی سورۃ اَعراف (۷:۶۵) میں گزر گیا ہے۔ ان پر زبردست آندھی مسلط کی گئی تھی جو آٹھ دن جاری رہی۔ 4: قومِ عاد کے لوگ بڑے ڈیل ڈول والے تھے اس لئے ان کی زمین پر گری ہوئی لاشوں کو کھجور کے تنوں سے تشبیہ دی گئی ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(69:7) سخرھا علیہم : جملہ مستانفہ ہے سخر ماضی واحد مذکر غائب تسخیر (تفعیل) مصدر ۔ بمعنی زبردست کسی کو خاص کام میں لگا دینا۔ کسی کو مقرر کرنا۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب کا مرجع ریح صرصر ہے۔ اس نے یعنی اللہ نے اس (طوفان ۔ باد تند و تیز) کو ان پر مسلط کردیا۔ سبع لیال وثمنیۃ ایام : سات راتیں اور آٹھ دن۔ یہ ہوا بدھ کے روز صبح سے شروع ہوئی اور اگلے بدھ کی شام کو تھی۔ (تفسیر حقانی) حسوما : یہ ھسم یحسم کا مصدر بھی ہوسکتا ہے جس کے معنی ہیں :۔ (1) جڑ سے کاٹ دینا (2) زخم کو مسلسل داغ دینا۔ اور یہ (حسوما) حاسم کی جمع بھی ہوسکتا ہے جیسے شاھد کی جمع شھود ہے اس صورت میں یہ حسم یحسم سے اسم فاعل کا صیغہ مذکر ہے، بمعنی (1) جڑ سے کاٹ دینے والے۔ (2) لگاتار، مسلسل، پیہم۔ مجاہد اور قتادہ نے اسی معنی میں لیا ہے۔ مطلب یہ کہ یہ طوفان متواتر سات رات اور آٹھ دن قوم عاد پر مسلط رہا۔ اور ان کی تباہی و بربادی کرتا رہا۔ فتری القوم فیہا صرعی : ف عاطفہ، تری مضارع واحد مذکر حاضر۔ رؤیۃ (ر ء ی حروف مادہ) باب فتح۔ مصدر۔ حال ماضی کی حکایت ہے۔ (فعل مضارع کو کسی گذشتہ بات کو بیان کرنے کے لئے ماضی کے بجائے استعمال کرنا) تو تو دیکھتا) مخاطب عام ہے کوئی ہو۔ القوم سے مراد قوم عاد۔ فیہا میں ضمیر ھا واحد مؤنث غائب کا مرجع مذکورہ لیل و نہار ہے ۔ صرعے : صرع (باب فتح) مصدر سے۔ صریع (اسم مفعول) کی جمع ہے۔ زمین پر پڑے ہوئے۔ مصروع مرگی کا مریض۔ صرعی۔ یا تو تری کا دوسرا مفعول ہے یا القوم سے حال ہے۔ آیت کا ترجمہ ہوگا :۔ (اگر تو اے مخاطب اس وقت موجود ہوتا) تو تو دیکھتا قوم عاد کو ان دنوں میں (زمین پر) گرے پڑے۔ کانھم اعجاز نخل خاویۃ۔ یہ جملہ بھی القوم سے حال ہے ک حرف تشبیہ ان حرف مشبہ بالفعل ۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب۔ بیشک وہ لوگ ، اعجاز نخل۔ مضاف مضاف الیہ۔ اعجاز تنے، جڑیں۔ عجز کی جمع ہے۔ نخل۔ کھجور کا درخت۔ خاویۃ۔ اقتادہ۔ گری ہوئی۔ کھوکھلی۔ خواء (باب سمع) (خ و ی حروف مادہ) جگہ یا مکان کا خالی ہونا۔ اور باب ضرب سے بھی بمعنی خالی ہونا ہے ای خویٰ بطنہ من الطعام اس کا پیٹ طعام سے خالی ہوگیا۔ اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے یہ نخل کی صفت ہے گویا وہ کھوکھلی کھجور کے مڈھ و جڑیں ہیں ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 14 ” حسوماً کے معنی ” برابر “ یعنی لگاتار اور ” منحوس “ دونوں ہوسکتے ہیں۔ (دیکھیے حم السجدہ :16) 1 یعنی کھوکھلے اور بےجان تنے جن کے سر اوپر سے کٹ گئے ہیں۔ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ عاد کے عام لوگ بڑے قد آور اور گرانڈ یل پہلوان تھے۔ صحیحین میں ہے کہ آنحضرت نے فرمایا : ” عاد پر دبور یعنی پچھوا ہوا چلائی گئی اور میری صبا یعنی مشرق سے آنیوالی ہوا کے ذریعہ مدد کی گئی (ابن کثیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

سخرھا ................ حسوما (٩٦ : ٧) ” اللہ تعالیٰ نے مسلسل سات رات اور آٹھ دن ان پر مسلط کیا “۔ الحسوم کے معنی مسلسل کاٹ دینے والی۔ یہ شدید چلنے والی ، دھاڑتی چنگھارتی اور تباہی مچاتی ہوئی ، اس طویل عرصے کے لئے مسلسل جاری تھی۔ جس وقت قرآن تعین کے ساتھ کررہا ہے۔ فتری .................... خاویة (٩٦ : ٧) ” تم دیکھتے کہ وہ وہاں اس طرح پچھڑے پڑے ہیں گویا وہ کھجور کے بوسیدہ تنے “۔ گویا یہ منظر اسکرین پر پیش ہورہا ہے یا سامنے ہے۔ انداز تعبیر ایسا ہے کہ پردہ احساس پر منظر نمودار ہوجاتا ہے۔ صرعی ۔ وہ گرے پڑے اور بکھرے ہوئے۔ گویا وہ ایسے ہیں جیسے اعجاز نخل۔ (کھجور کے تنے جڑوں اور تنوں کے ساتھ) خاویہ یعنی بوسیدہ جو اندر سے خالی ہوں اور بوسیدگی کی وجہ سے جگہ جگہ گرے ہوئے ہوں۔ یہ ایک ایسا منظر ہے کہ چندالفاظ میں اس کا نقشہ قرآن ہی کھینچ سکتا ہے۔ اب نہایت ہی ٹھہراﺅ ہے اور وہ منظر کہ جب ہوا چنگھاڑتی ہوئی گزر گئی ہے۔ فھل ............ باقیة (٩٦ : ٨) ” پھر کیا اب ان میں سے کوئی باقی بچا ہوا نظر آتا ہے “۔ نہیں کچھ بھی باقی نہیں ہے۔ ویرانی ہی ویرانی ہے۔ یہ تو ہے عاد وثمود کا قصہ ، یہی حال ہے دوسرے مکذبین کا۔ اب فقط دو آیات میں کئی واقعات۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

﴿ فَتَرَى الْقَوْمَ فِيْهَا صَرْعٰى١ۙ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍۚ٠٠٧﴾ (سو ان لوگوں نے گر پڑنے کا جو منظر تھا اسے مخاطب اگر تو اسے دیکھتا تو یوں معلوم ہوتا کہ وہ کھوکھلی کھجوروں کے تنے ہیں) ۔ اسی تیز ہوا کے چلنے سے سب مرگئے ان میں سے ایک بھی نہ بچا اسی لیے بعد میں فرمایا ﴿ فَهَلْ تَرٰى لَهُمْ مِّنْۢ بَاقِيَةٍ ٠٠٨﴾ (اے مخاطب کیا تو ان میں سے کسی کو دیکھ رہا ہے جو بچا ہوا ہو) ۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(7) جس کو اللہ تعالیٰ نے ان پر سات رات اور آٹھ دن برابر لگاتار مسلط کردیا تھا سو اے مخاطب اگر تو وہاں ہوتا تو ان لوگوں کو اس زمانے میں ایسا گرا ہوا اور پچھڑا ہوا دیکھتا جیسے وہ کھجوروں کے کھوکھلے تنے پڑے ہیں۔ یعنی طویل القامت ہونے کی وجہ سے ایسے معلوم ہوتے جیسے پرانی اور کھوکھلی کھجوروں کے تنے پڑے ہوئے ہیں۔ حرم، کے معنی کاٹنے کے بھی ہیں اور بعض حضرات نے نحس بھی کئے ہیں لیکن ہم نے متواتر اور لگاتار کئے ہیں اور یہی معنی عام طور سے علما نے کئے ہیں یعنی سات رات اور آٹھ دن میں ایک لحظہ کو ہوا نہیں رکی اور پوری قوم کا کھلیان ہوگیا ان دونوں کو عرب ایام عجوز کہتے ہیں۔