Surat ul Aeyraaf

Surah: 7

Verse: 148

سورة الأعراف

وَ اتَّخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰی مِنۡۢ بَعۡدِہٖ مِنۡ حُلِیِّہِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا لَّہٗ خُوَارٌ ؕ اَلَمۡ یَرَوۡا اَنَّہٗ لَا یُکَلِّمُہُمۡ وَ لَا یَہۡدِیۡہِمۡ سَبِیۡلًا ۘ اِتَّخَذُوۡہُ وَ کَانُوۡا ظٰلِمِیۡنَ ﴿۱۴۸﴾

And the people of Moses made, after [his departure], from their ornaments a calf - an image having a lowing sound. Did they not see that it could neither speak to them nor guide them to a way? They took it [for worship], and they were wrongdoers.

اور موسیٰ ( علیہ السلام ) کی قوم نے ان کے بعد اپنے زیوروں کا ایک بچھڑا معبود ٹھہرا لیا جو کہ ایک قالب تھا جس میں ایک آواز تھی ۔ کیا انہوں نے یہ نہ دیکھا کہ وہ ان سے بات نہیں کرتا تھا اور نہ ان کو کوئی راہ بتلاتا تھا اس کو انہوں نے معبود قرار دیا اور بڑی بے انصافی کا کام کیا ۔

Word by Word by

Dr Farhat Hashmi

وَاتَّخَذَ
اور بنا لیا
قَوۡمُ
قوم نے
مُوۡسٰی
موسیٰ کی
مِنۡۢ بَعۡدِہٖ
اس کے پیچھے سے
مِنۡ حُلِیِّہِمۡ
اپنے زیورات میں سے
عِجۡلًا
ایک بچھڑا
جَسَدًا
جسم والا
لَّہٗ
اس کی
خُوَارٌ
گائے کی آواز تھی
اَلَمۡ
کیا نہیں
یَرَوۡا
انہوں نے دیکھا
اَنَّہٗ
کہ بیشک وہ
لَایُکَلِّمُہُمۡ
نہیں وہ کلام کرتا تھا ان سے
وَلَا
اور نہ
یَہۡدِیۡہِمۡ
وہ راہنمائی کرتا تھا ان کی
سَبِیۡلًا
کسی راستے (کی طرف)
اِتَّخَذُوۡہُ
انہوں نے بنا لیا اسے (معبود)
وَکَانُوۡا
اور تھے وہ
ظٰلِمِیۡنَ
ظالم
Word by Word by

Nighat Hashmi

وَاتَّخَذَ
اور بنا یا
قَوۡمُ مُوۡسٰی
قومِ موسیٰ نے
مِنۡۢ بَعۡدِہٖ
اس کے بعد
مِنۡ حُلِیِّہِمۡ
اپنے زیوروں سے
عِجۡلًا
ایک بچھڑا
جَسَدًا
ایک جسم تھا
لَّہٗ
اس کے لیے
خُوَارٌ
گا ئے کی آواز تھی
اَلَمۡ
کیا نہیں
یَرَوۡا
اُنہوں نے دیکھا
اَنَّہٗ
یقیناً وہ
لَایُکَلِّمُہُمۡ
نہیں وہ بولتا ان سے
وَلَا
اور نہ
یَہۡدِیۡہِمۡ
وہ بتاتا ہےان کو
سَبِیۡلًا
راستہ
اِتَّخَذُوۡہُ
اُنہوں نے پکڑ لیا اسے
وَکَانُوۡا
اور تھے وہ
ظٰلِمِیۡنَ
ظالم
Translated by

Juna Garhi

And the people of Moses made, after [his departure], from their ornaments a calf - an image having a lowing sound. Did they not see that it could neither speak to them nor guide them to a way? They took it [for worship], and they were wrongdoers.

اور موسیٰ ( علیہ السلام ) کی قوم نے ان کے بعد اپنے زیوروں کا ایک بچھڑا معبود ٹھہرا لیا جو کہ ایک قالب تھا جس میں ایک آواز تھی ۔ کیا انہوں نے یہ نہ دیکھا کہ وہ ان سے بات نہیں کرتا تھا اور نہ ان کو کوئی راہ بتلاتا تھا اس کو انہوں نے معبود قرار دیا اور بڑی بے انصافی کا کام کیا ۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

موسیٰ کے (طور پر جانے کے) بعد اس کی قوم نے اپنے زیوروں سے ایک بچھڑے کا جسم (پتلا) بنایا جس میں سے بیل کی آواز نکلتی تھی ان لوگوں نے یہ نہ دیکھا کہ وہ نہ تو ان سے کوئی بات کرتا ہے اور نہ ہی ان کو راستہ دکھاسکتا ہے پھر بھی انہوں نے اسے (الٰہ) بنالیا

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اورموسیٰ کے بعدقومِ موسیٰ نے اپنے زیوروں سے بچھڑا بنایا،ایک جسم تھا جس میں گائے کی آواز تھی ۔کیااُنہوں نے دیکھا نہیں کہ وہ ان سے بولتا بھی نہیں اورنہ وہ راستہ بتاتاہے ان کو؟اُسے انہوں نے پکڑلیااور وہ تھے ہی ظالم۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

And after him the people of Musa made a calf from their ornaments; just a body with a mooing sound. Did they not see that it neither talked to them nor did it guide them to the path? They took to it, and were so unjust.

اور بنالیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا ایک بدن کہ اس میں گائے کی آوازتھی، کیا انہوں نے یہ دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا اور بتلاتا رستہ معبود بنالیا اس کو اور وہ تھے ظالم

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

اور بنا لیا موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے آپ ( علیہ السلام) کے بعد اپنے زیورات سے بچھڑے کا سا ایک جسم جس سے گائے کی سی آواز آتی تھی کیا انہوں نے غور نہ کیا کہ نہ وہ ان سے کوئی بات کرسکتا ہے اور نہ انہیں راستہ بتاسکتا ہے ! اسی کو وہ (معبود) بنا بیٹھے اور وہ تھے بہت ظالم !

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

And in the absence of Moses his people made the image of a calf from their ornaments, which lowed. Did they not observe that it could neither speak nor give them any guidance? And still they made it an object of worship. They were indeed wrong-doing.

موسیٰ کے پیچھے 106 اس کی قوم کےلوگوں نے اپنے زیوروں سے ایک بچھڑے کا پتلا بنایا جس میں سے بیل کی سی آواز نکلتی تھی ۔ کیا انہیں نظر نہ آتا تھا کہ وہ نہ ان سے بولتا ہے نہ کسی معاملہ میں ان کی رہنمائی کرتا ہے ؟ مگر پھر بھی انہوں نے اسے معبود بنا لیا اور وہ سخت ظالم تھے ۔ 107

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

اور موسیٰ کی قوم نے ان کے جانے کے بعد اپنے زیوروں سے ایک بچھڑا بنا لیا ( بچھڑا کیا تھا؟ ) ایک بے جان جسم جس سے بیل کی سی آواز نکلتی تھی ۔ ( ٦٩ ) بھلا کیا انہوں نے اتنا بھی نہیں دیکھا کہ وہ نہ ان سے بات کرسکتا ہے ، اور نہ انہیں کوئی راستہ بتا سکتا ہے؟ ( مگر ) اسے معبود بنا لیا ، اور ( خود اپنی جانوں کے لیے ) ظالم بن بیٹھے ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

(موسی تو طور پہاڑ پر گئے ہوئے تھے) اور موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچے اپنے زیوروں کا (گلا کر) ایک بچھڑا بنا لیا ایک بدن (جیسے گائے کا بدن ہوتا ہے گوشت اور خون کا) آواز بھی گائے کی 8 ان لوگوں نے اتنا بھی نہ سمجھا کہ نہ تو وہ ان سے بات کرتا ہے اور نہ ان کو سیدھا رستہ بتائے 9 یہ لوگ (صریح) ظلم (ارو بےانصافی) کرکے بکھیڑا بیٹھے

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

اور موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے ان کے بعد اپنے ( مقبوضہ) زیوروں کا ایک بچھڑا بنالیا (جو) ایک قالب (تھا) جس میں ایک آواز تھی کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ وہ ان سے بات تک نہیں کرسکتا ہے اور نہ انہیں راہ دکھا سکتا ہے انہوں نے اس کو (معبود) اختیار کرلیا اور وہ بہت غلط کام کرنے والے تھے

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

اور موسیٰ ٰ کی قوم نے ان کے ( کوہ طور پر ) جانے کے بعد اپنے زیورات سے ایک بچھڑا بنالیا جس سے بیل کی جیسی آواز نکلتی تھی۔ انہوں نے یہ نہ دیکھا کہ وہ نہ ان سے کلام کرتا ہے اور نہ یہ دیکھا کہ وہ ان سے کلام کرتا ہے اور نہ وہ انہیں کوئی ہدایت دیتا ہے بہر حال انہوں نے اس کو معبود بنالیا اور وہ ظالم بن گئے ۔

Translated by

Fateh Muhammad Jalandhari

اور قوم موسیٰ نے موسیٰ کے بعد اپنے زیور کا ایک بچھڑا بنا لیا (وہ) ایک جسم (تھا) جس میں سے بیل کی آواز نکلتی تھی۔ ان لوگوں نے یہ نہ دیکھا کہ وہ نہ ان سے بات کرسکتا ہے اور نہ ان کو راستہ دکھا سکتا ہے۔ اس کو انہوں نے (معبود) بنالیا اور (اپنے حق میں) ظلم کیا

Translated by

Abdul Majid Daryabadi

And ehe people of Musa, after him, took of their trinkets a calf: a body with a low. Saw they not that it spake nor unto them nor could guide them to a way? They took it, and became wrong-doers.

اور موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے ان کے (جانے کے) بعد ایک بچھڑا اپنے زیوروں سے بنایا (یعنی) ایک قالب جس کے اندر ایک آواز تھی ۔ کیا ان کو یہ تک نہ سوجھا کہ وہ نہ تو ان سے بات کرسکتا تھا اور نہ انہیں کوئی راہ بتلا سکتا تھا اسی کو انہوں نے (معبود) بنالیا اور بڑا ہی ظلم (اپنے حق میں) کربیٹھے ۔

Translated by

Amin Ahsan Islahi

اور موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیوروں سے ایک بچھڑا بنالیا ۔ ایک دھڑ جس سے بھاں بھاں کی آواز نکلتی تھی ۔ کیا انہوں نے یہ نہ دیکھا کہ نہ وہ ان سے بات کرسکتا ہے اور نہ ان کو کوئی راہ دکھا سکتا ہے! اس کو وہ بنا بیٹھے اور وہ اپنے اوپر بڑے ظلم ڈھانے والے تھے ۔

Translated by

Mufti Naeem

اور موسیٰ ( علیہ السلام ) کے ( طور پر جانے کے ) بعد ان کی قوم نے اپنے زیوروں سے ایک ایسے بچھڑے کو معبود بنالیا جس میں ( گائے کی ) آواز تھی ۔ کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ بلاشبہ نہ وہ ان سے باتیں کر سکتا ہے اور نہ ہی انہیں کوئی راستہ بتلا سکتا ہے انہوں نے اس کو معبود بنالیا وہ تھے ہی ظلم کرنے والے

Translated by

Muhtrama Riffat Ijaz

اور اس کی قوم نے موسیٰ کے طور پر جانے کے بعد اپنے زیورات کا ایک بچھڑا بنا لیا وہ ایک جسم تھا کہ جس میں سے گائے کی آواز نکلتی تھی۔ ان لوگوں نے یہ نہ دیکھا کہ وہ ان سے بات کرسکتا ہے۔ نہ ان کو رستہ دکھا سکتا ہے، اس کر انہوں نے معبود بنالیا اور اپنے حق میں ظلم کیا۔

Translated by

Mulana Ishaq Madni

اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے ان کے پیچھے اپنے زیوروں سے ایک بچھڑا، یعنی ایک پتلا جس میں گائے کی سی ایک آواز تھی (اور بس) کیا انہوں نے اتنا بھی نہ دیکھا کہ وہ نہ ان سے بول سکتا ہے، اور نہ انہیں کوئی راہ دکھا سکتا ہے، انہوں اس کو (معبود) بنا لیا اور وہ تھے ہی ظالم لوگ

Translated by

Noor ul Amin

موسیٰ کے ( طورپرجانے کے ) بعد اس کی قوم نے اپنے زیوروں سے ایک بچھڑ ے کاپتلابنایاجس سے بیل کی آواز نکلتی تھی ، ان لوگوں نے یہ نہ دیکھاکہ وہ نہ توا ن سے کوئی بات کرتا ہے اور نہ ہی ان کو راستہ دکھاسکتا ہے پھربھی انہوں نے اسے ( معبود ) بنالیااور وہ تھے ہی بے انصاف لوگ

Kanzul Eman by

Ahmad Raza Khan

اور موسیٰ کے ( ف۲۷۲ ) بعد اس کی قوم اپنے زیوروں سے ( ف۲۷۳ ) ایک بچھڑا بنا بیٹھی بےجان کا دھڑ ( ف۲۷٤ ) گائے کی طرف آواز کرتا ، کیا نہ دیکھا کہ وہ ان سے نہ بات کرتا ہے اور نہ انہیں کچھ راہ بتائے ( ف۲۷۵ ) اسے لیا اور وہ ظالم تھے ( ف۲۷٦ )

Translated by

Tahir ul Qadri

اور موسٰی ( علیہ السلام ) کی قوم نے ان کے ( کوہِ طور پر جانے کے ) بعد اپنے زیوروں سے ایک بچھڑا بنا لیا ( جو ) ایک جسم تھا ، اس کی آواز گائے کی تھی ، کیا انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ وہ نہ ان سے بات کرسکتا ہے اور نہ ہی انہیں راستہ دکھا سکتا ہے ۔ انہوں نے اسی کو ( معبود ) بنا لیا اور وہ ظالم تھے

Translated by

Hussain Najfi

اور موسیٰ کی قوم نے ان کے ( کوہِ طور پر چلے جانے کے ) بعد اپنے زیوروں سے ( ان کو گلا کر ) ایک بچھڑے کا پتلا بنا لیا جس سے بیل کی سی آواز نکلتی تھی ۔ کیا انہوں نے اتنا بھی نہ دیکھا ( نہ سوچا ) کہ وہ نہ ان سے بات کرتا ہے اور نہ ہی کسی طرح کی راہنمائی کر سکتا ہے پھر بھی انہوں نے اسے ( معبود ) بنا لیا اور وہ ( اپنے اوپر ) سخت ظلم کرنے والے تھے ۔

Translated by

Abdullah Yousuf Ali

The people of Moses made, in his absence, out of their ornaments, the image of calf, (for worship): it seemed to low: did they not see that it could neither speak to them, nor show them the way? They took it for worship and they did wrong.

Translated by

Muhammad Sarwar

In Moses' absence, his people manufactured a hollow sounding calf out of their ornaments. Could they not see that it could not speak to them or provide them with any guidance? They gained only evil by worshipping the calf.

Translated by

Safi ur Rehman Mubarakpuri

And the people of Musa made in his absence, out of their ornaments, the image of a calf (for worship). It had a sound. Did they not see that it could neither speak to them nor guide them to the way They took it (for worship) and they were wrongdoers.

Translated by

Muhammad Habib Shakir

And Musa's people made of their ornaments a calf after him, a (mere) body, which gave a mooing sound. What! could they not see that it did not speak to them nor guide them in the way? They took it (for worship) and they were unjust.

Translated by

William Pickthall

And the folk of Moses, after (he left them), chose a calf (for worship), (made) out of their ornaments, of saffron hue, which gave a lowing sound. Saw they not that it spake not unto them nor guided them to any way? They chose it, and became wrong-doers.

Translated by

Moulana Younas Palanpuri

और मूसा (अलै॰) की क़ौम ने उस (के जाने) के बाद अपने ज़ेवरों से एक बछड़ा बनाया, एक धड़ जिससे बैल की सी आवाज़ निकलती थी, क्या उन्होंने नहीं देखा कि वह न उनसे बोलता और न उन्हें कोई राह दिखाता है, उसको उन्होंने माबूद बना लिया और वह बड़े ज़ालिम थे।

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

اور موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے ان کے بعد اپنے (مقبوضہ) زیوروں کا (4) ایک بچھڑا (معبود) بنالیا جو کہ ایک قالب تھا جس میں ایک آواز تھی۔ کیا انہوں نے یہ نہ دیکھا کہ وہ ان سے بات تک نہ کرتا تھا اور نہ ان کو کوئی راہ بتلاتا تھا اس کو معبود بنالیا اور بڑا بےڈھنگا کام کیا۔ (148)

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

” اور موسیٰ کی قوم نے موسیٰ کے بعد اپنے زیوروں سے ایک بچھڑا بنالیا، جو ایک جسم تھا جس کی گائے جیسی آواز تھی کیا انہوں نے یہ نہ دیکھا کہ وہ نہ ان سے بات کرتا ہے اور نہ انہیں کوئی راہ دکھاتا ہے انہوں نے اسے معبود بنالیا اور وہ ظالم تھے۔ (١٤٨)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

موسیٰ کے پیچھے اس کی قوم کے لوگوں نے اپنے زیوروں سے ایک بچھڑے کا پتلا بنایا جس میں بیل کی سی آواز نکلتی تھی۔ کیا انہیں نظر نہ آتا تھا کہ وہ نہ ان سے بولتا ہے نہ کسی معاملہ میں ان کی رہنمائی کرتا ہے ؟ مگر پھر بھی انہوں نے اسے معبود بنا لیا اور وہ سخت ظالم تھے

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اور موسیٰ کی قوم نے ان کے بعد اپنے زیوروں سے ایک بچھڑے کو معبود بنا لیا جو ایک ایسا جسم تھا کہ اس میں سے گائے کی آواز آرہی تھی۔ کیا انہوں نے یہ نہ دیکھا کہ وہ ان سے بات نہیں کرتا اور نہ انہیں کوئی راستہ بتلاتا ہے۔ انہوں نے اس کو معبود بنا لیا اور وہ ظلم کرنے والے تھے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

اور بنا لیا موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیور سے بچھڑا ایک بدن کہ اس میں گائے کی آواز تھی، کیا انہوں نے یہ نہ دیکھا کہ وہ ان سے بات بھی نہیں کرتا، اور نہیں بتلاتا راستہ معبود بنا لیا اس کو اور وہ تھے ظالم

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

اور موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے موسیٰ (علیہ السلام) کے طور پر جانے کے بعد اپنے زیورات کو گلا کر ان سے ایک بچھڑا بنالیا جو محض ایک مجسمہ تھا جس میں بچھڑے کی آواز تھی کیا انہوں نے اتنا بھی نہ دیکھا کہ نہ تو وہ ان سے کوئی کلام کرسکتا ہے اور نہ ان کو کوئی راستہ بتاسکتا ہے اس پر بھی بنی اسرائیل نے اس بچھڑے کو معبود بنالیا اور وہ سخت ناانصاف تھے