Surat ul Maarijj
Surah: 70
Verse: 20
سورة المعارج
اِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ جَزُوۡعًا ﴿ۙ۲۰﴾
When evil touches him, impatient,
جب اسے مصیبت پہنچتی ہے تو ہڑ بڑا اٹھتا ہے ۔
اِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ جَزُوۡعًا ﴿ۙ۲۰﴾
When evil touches him, impatient,
جب اسے مصیبت پہنچتی ہے تو ہڑ بڑا اٹھتا ہے ۔
Apprehensive when evil touches him; meaning, whenever any harm touches him he is frightful, worried and completely taken back due to the severity of his terror and his despair that he will receive any good after it. وَإِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ مَنُوعًا
إِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوعًا وَإِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ مَنُوعًا (very upset when touched by evil, and very niggard when visited by good (fortune)... 70:20-21). This verse describes the fickle nature of man. When bad things happen to him he becomes desperate and upset, and loses patience. When good things come to him, such as wealth and comfort, he becomes begrudging and miserly in spending his wealth for good causes. &Impatience&, in this context, signifies &that which is outside the limits of Shari` ah&. &Niggard&, in this context, signifies &failing to fulfill pecuniary obligations imposed by the Shari&ah& as explained previously. The verses that follow make an exception of the righteous believers to the characteristics of the general body of human beings. This exception starts from إِلَّا الْمُصَلِّينَ (except the performers of salah...70:22) and ends at عَلَىٰ صَلَاتِهِمْ دَائِمُونَ (regular in their salah.... 70:23) The first exception is expressed with the words &the performers of salah& [ 22]. Obviously, it means the believers, but referring to them as &performers of salah& indicates that &salah& is the greatest sign and the essential characteristic of a believer. In fact, the only people worthy of the name &believers& are &the performers of salah&. The following verses describe the qualities of the performers of salah. الَّذِينَ هُمْ عَلَىٰ صَلَاتِهِمْ دَائِمُونَ (who are regular in their salah...70:23). This means that the entire salah needs to be performed with due concentration. Imam Baghawi, on the basis of his own chain of narrators, transmits a narration on the authority of Abul-Khair that they asked Sayyidna &Uqbah Ibn ` Amir (رض) about the meaning of this verse (23) whether it implies that they perform their salah constantly and always without any break or non-stop, he replied that is not its meaning. It means they, from the outset to the end, perform it with due concentration - without an intentional deviation This is similar to the verse 2 of Surah Mu&minun: الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ &who are concentrative in their salah [ 23:2] & Thus Verse 23 describes the quality of Khushu& (&humbleness) while Verse 34 وَالَّذِينَ هُمْ عَلَىٰ صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ (and those who take due care of their salah) speaks of those who regularly offer it on its due time and take care of its general etiquette. Thus it may not be surmised that the subject-matter has been repeated. The qualities of the righteous believers given in forthcoming verses are almost the same as those given in Surah Al- Mu&minun.
(آیت) ۙاِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوْعًا 20ۙوَّاِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ مَنُوْعًا، یعنی اس انسان کی کم ہمتی اور بےصبری کا یہ عالم ہے کہ جب اس کو کوئی تکلیف و مصیبت پیش آجاتی ہے تو صبر سے کام نہیں لیتا اور جب کوئی راحت و آرام اور مال و دولت مل جاتا ہے تو اس میں بخل کرتا ہے۔ یہاں بےصبری اور جزع سے مراد وہ ہے جو حدود شرع سے باہر ہوں اسی طرح بخل سے مراد فرائض و واجبات کی ادائیگی میں کوتاہی ہے (کما مر) آگے عام انسانوں کی اس خصلت مذکورہ سے مومنین صالحین کو مستثنیٰ کیا گیا ہے اور ان کے اعمال و اخلاق صالحہ کا ذکر کیا گیا ہے جو ۙاِلَّا الْمُصَلِّين سے شروع ہو کر الَّذِيْنَ هُمْ عَلٰي صَلَاتِهِمْ دَاۗىِٕمُوْنَ تک بیان کئے گئے ہیں۔ یہاں استثناء بلفظ مصلین کیا گیا ہے یعنی نمازی اور مراد اس سے مؤمنین ہیں اس میں اشارہ اس طرف ہے کہ نماز مومن کی پہلی اور سب سے بڑی علامت ہے مومنین کہلانے کے مستحق وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو نمازی ہیں۔ آگے ان مصلین کی یہ صفت بتلائی ہ۔ الَّذِيْنَ هُمْ عَلٰي صَلَاتِهِمْ دَاۗىِٕمُوْنَ ، مراد اس سے یہ ہے کہ وہ نمازی جو پوری نماز میں اپنی نماز کی طرف متوجہ رہیں ادھر ادھر التفات نہ کریں۔ امام بغوی نے اپنی سندھ کیساتھ ابوالخیر سے روایت کیا ہے کہ ہم نے حضرت عقبہ بن عامر نے اس آیت عَلٰي صَلَاتِهِمْ دَاۗىِٕمُوْنَ کا مطلب پوچھا کہ کیا اس کی مراد یہ ہے جو ہمیشہ ہمیشہ نماز پڑھتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ نہیں یہ مراد نہیں بلکہ مراد یہ ہے کہ جو اول سے آخر نماز تک اپنی نماز کی طرف متوجہ رہے، داہنے بائیں آگے پیچھے التفات نہ کرے اس کا حاصل مفہوم وہی ہوا جو سورة مومنون میں (آیت) الذین ھم فی صلاتھم خشعون کا ہے تو اس جملہ میں نماز کے خشوع کا ذکر ہوا اور آگے جو جملہ۽وَالَّذِيْنَ هُمْ عَلٰي صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُوْنَ آ رہا ہے اس میں نماز اور آداب نماز پر مداومت کا ذکر ہے اس لئے مضمون میں تکرار نہ ہوا۔ آگے مومنین صالحین کی جو صفات بیان کی گئی ہیں یہ سب تقریباً وہی ہیں جو سورة مومنون میں بیان ہوئی ہیں اور اسی سورت میں ان کے معافی کی پوری تفسیر مکمل لکھی جا چکی ہے اس کو دیکھ لیا جاوے۔
اِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ جَزُوْعًا ٢٠ ۙ إذا إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له ( اذ ا ) اذ ا ۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ع (11) اذمااتیت علی الرسول فقل لہ جب تو رسول اللہ کے پاس جائے تو ان سے کہنا ۔ مسس المسّ کاللّمس لکن اللّمس قد يقال لطلب الشیء وإن لم يوجد والمسّ يقال في كلّ ما ينال الإنسان من أذى. نحو قوله : وَقالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّاماً مَعْدُودَةً [ البقرة/ 80] ، ( م س س ) المس کے معنی چھونا کے ہیں اور لمس کے ہم معنی ہیں لیکن گاہے لمس کیس چیز کی تلاش کرنے کو بھی کہتے ہیں اور اس میں یہ ضروری نہیں کہ وہ چیز مل جل بھی جائے ۔ اور مس کا لفظ ہر اس تکلیف کے لئے بول دیا جاتا ہے جو انسان تو پہنچے ۔ جیسے فرمایا : ۔ وَقالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّاماً مَعْدُودَةً [ البقرة/ 80] اور کہتے ہیں کہ دوزخ کی آگ ہمیں ۔۔ چھوہی نہیں سکے گی شر الشَّرُّ : الذي يرغب عنه الكلّ ، كما أنّ الخیر هو الذي يرغب فيه الكلّ قال تعالی: شَرٌّ مَکاناً [يوسف/ 77] ، وإِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِنْدَ اللَّهِ الصُّمُ [ الأنفال/ 22] ( ش ر ر ) الشر وہ چیز ہے جس سے ہر ایک کراہت کرتا ہو جیسا کہ خیر اسے کہتے ہیں ۔ جو ہر ایک کو مرغوب ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ شَرٌّ مَکاناً [يوسف/ 77] کہ مکان کس کا برا ہے وإِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِنْدَ اللَّهِ الصُّمُ [ الأنفال/ 22] کچھ شک نہیں کہ خدا کے نزدیک تمام جانداروں سے بدتر بہرے ہیں جزع قال تعالی: سَواءٌ عَلَيْنا أَجَزِعْنا أَمْ صَبَرْنا [إبراهيم/ 21] ، الجَزَع : أبلغ من الحزن، فإنّ الحزن عام والجزع هو : حزن يصرف الإنسان عمّا هو بصدده، ويقطعه عنه، وأصل الجَزَع : قطع الحبل من نصفه، يقال : جَزَعْتُهُ فَانْجَزَعَ ، ولتصوّر الانقطاع منه قيل : جِزْعُ الوادي، لمنقطعه، ولانقطاع اللون بتغيّره قيل للخرز المتلوّن جَزْع، ومنه استعیر قولهم : لحم مُجَزَّع، إذا کان ذا لونین . وقیل للبسرة إذا بلغ الإرطاب نصفها : مجزّعة . والجَازِع : خشبة تجعل في وسط البیت فتلقی عليها رؤوس الخشب من الجانبین، وكأنما سمي بذلک إمّا لتصور الجزعة لما حمل من العبء، وإمّا لقطعه بطوله وسط البیت . ( ج ز ع ) الجزع بےصبری ۔ قرآن میں ہے :۔ سَواءٌ عَلَيْنا أَجَزِعْنا أَمْ صَبَرْنا [إبراهيم/ 21] اب ہم گھرائیں یا صبر کریں ۔ ہمارے حق میں برابر ہے ۔ یہ حزن سے خاص ہے کیونکہ جزع خاص کر اس غم کو کہتے ہیں جو انسان کو جس چیز کے وہ درپے ہو اس سے پھیر دے اور اس سے تعلق قطع کردے ۔ اصل میں جزع ( ف) کے معنی رسی کو نصف سے کاٹ دینے کے ہیں اور انجزع ) انفعال ) اس کا مطاوع آتا ہے جیسے جزعتہ فانجزع میں نے اسے کا ٹا چناچہ کٹ گیا ۔ اور معنی انقطاع کے تصور کی بنا پر دادی کے موڑ کو جزع الوادی کہا جاتا ہے اور تغیر سے بھی چونکہ اصل رنگ کٹ جاتا ہے اس لئے متلون خر مہرے کو جزع کہتے ہیں اسی سے لحم مجرع کا محاورہ مستعار ہے جس کے معنی درزنگ کے گوشت کے ہیں اور نیم پختہ کھجور کو مجرع کہاجا تا ہے الجرزع شہتیر کو کہتے ہیں جو چھت کے وسط میں ڈالا جاتا ہے اور دونوں طرف سے چھوٹے شہتیر آآکر اس پر مل جاتے ہیں تو اسے جازع تو اس لئے کہا جاتا ہے کہ بوجھ اٹھانے کی وجہ سے گویا وہ بےصبر ہورہا ہے اور یا اس لئے کہ کمرے کے درمیان ہونے کی وجہ سے گویا اور اسے دو حصوں میں قطع کردیتا ہے ۔
اگلی دو آیات ہَلُوْعًاکی وضاحت پر مشتمل ہیں : آیت ٢٠{ اِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ جَزُوْعًا ۔ } ” جب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو بہت گھبرا جانے والا ہے۔ “ جب کوئی انسان اپنی روح سے بیگانہ ہوجاتا ہے تو وہ نرا حیوان بن کر رہ جاتا ہے۔ ایسے حیوان نما انسان کو جب کسی تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ صبر کرنے کی بجائے فوراً چیخنا چلانا شروع کردیتا ہے اور جزع فزع کرنے لگتا ہے۔
(70:20) اذا مسہ الشر جزوعا : اذا ظرف زمان ہے بمعنی جب، مس ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ مس (باب نصر) مصدر سے۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب الانسان کے لئے۔ الشر جس سے سب کو نفرت ہو وہ شر ہے جیسے غریبی، فاقہ، بیماری ، مصیبت، وغیرہ یہ خبر کی ضد ہے۔ ہر وہ چیز جو سب کو پسند ہو خیر ہے۔ مثلاً مال و دولت، صحت، اولاد، کشائش رزق وغیرہ۔ جزوعا : جزع (باب سمع) مصدر سے (بمعنی گھبرا جانا) بروزن فعول صفت مشبہ کا صیغہ ہے گھبرا جانے والا اضطراب کرنے والا امام راغب المفردات میں رقم طراز ہیں :۔ الجزع۔ بےصبری ۔ قرآن مجید میں ہے ! سواء علینا اجرعنا ام صبرنا (14:21) اب ہم گھرائیں یا صبر کریں۔ ہمارے حق میں برابر ہے ۔ یہ حزن سے خاص ہے کیونکہ جزع خاص کر اس غم کو کہتے ہیں کہ انسان جس چیز کے درپے ہو وہ اس سے پھر جائے اور اس سے قطع تعلق کرلے۔ جزوعا ھلوعا کی طرح حال ہے۔