Surat ul Maarijj
Surah: 70
Verse: 22
سورة المعارج
اِلَّا الۡمُصَلِّیۡنَ ﴿ۙ۲۲﴾
Except the observers of prayer -
مگر وہ نمازی ۔
اِلَّا الۡمُصَلِّیۡنَ ﴿ۙ۲۲﴾
Except the observers of prayer -
مگر وہ نمازی ۔
Except those who are devoted to Salah. meaning, man is described with blameworthy characteristics except for He whom Allah protects, helps and guides to good, making its means easy for him -- and these are those people who perform Salah. الَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلَتِهِمْ دَايِمُونَ
[١٤] یہ دونوں حالتیں، یعنی تنگ دستی میں صبر کے بجائے شکوہ و شکایت اور خوشحالی میں اللہ کا شکر ادا کرنے کے بجائے بخل اور پیسہ سے والہانہ محبت ایسی چیزیں ہیں جو انسان کو جہنم میں لے جانے والی ہیں۔ البتہ جن لوگوں میں اور بالخصوص جن ایمانداروں میں مندرجہ ذیل آٹھ صفات، جو آگے آیت نمبر ٢٢ سے ٣٤ تک مذکور ہیں، پائی جائیں وہ عذاب جہنم سے محفوظ رہیں گے۔ اور ان میں مذکورہ بالا قباحتیں بھی ختم ہوجائیں گی۔
الا المصلین…: مگر نمازی بےصبرے اور تھڑولے نہیں ہوتے، وہ نہ مصیبت پر شکوہ ش کیا ت کرتے ہیں اور نہ نعمت ملنے پر بخل کرتے ہیں۔ نماز کی صحیح ادائیگی سے آدمی میں وہ عزم اور ہمت پیدا ہوتی ہے کہ وہ ایسی تمام کمزوریوں پر قابو پا لیتا ہے، کیونکہ روزانہ پانچ وقت دنیا کے کسی لالچ کے بغیر پورے شروط و آداب کے ساتھ نماز ادا کرنا بہت ہی مشکل کام ہے جو اللہ کے خوف اور آخرت پر ایمان کے بغیر ادا ہو نہیں سکتا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(واستعینوا بالصبر و الصلوۃ و انھا لکبیرۃ الا علی الخشعین ، الذین یظنون انھم ملقوا ربھم وانمم الیہ رجعون) (البقرۃ : ٣٥، ٣٦)” اور صبر اور نماز کے ساتھ مدد طلب کرو اور بیشک وہ بہت بڑی ہے مگر عاجزی کرنے والوں پر۔ جو سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں اور یہ کہ وہ اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ “ آیات (٢٣) تا (٣٤) میں وہ صفات بیان فرمائی ہیں جن کے بغیر نمازی بھی ” ہلوع “ (تھڑدلا) ہی رہتا ہے۔ ان میں سے پہلی صفت اپنی نماز پر ہمیشگی ہے، یہ نہیں کہ کبھی پڑھ لی کبھی چھوڑ دی، کیونکہ جونہی نماز ترک کرے گا، تو صرف بےصبری اور بخل ہی واپس نہیں آئیں گے بلکہ کفر بھی دوبارہ اس میں پلٹ آئے گا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا نے فرمایا :(بین العبد و بین الکفر ترک الصلاۃ) (ابو داؤد السنۃ باب فی ردالارجاء : ٣٦٨٨۔ مسلم : ٨٢)” بندے اور کفر کے درمیان نماز ترک کرنے کی دیر ہے۔ “
اِلَّا الْمُصَلِّيْنَ ٢٢ ۙ صلا أصل الصَّلْيُ الإيقادُ بالنار، ويقال : صَلِيَ بالنار وبکذا، أي : بلي بها، واصْطَلَى بها، وصَلَيْتُ الشاةَ : شویتها، وهي مَصْلِيَّةٌ. قال تعالی: اصْلَوْهَا الْيَوْمَ [يس/ 64] والصَّلاةُ ، قال کثير من أهل اللّغة : هي الدّعاء، والتّبريك والتّمجید يقال : صَلَّيْتُ عليه، أي : دعوت له وزكّيت، وقال عليه السلام : «إذا دعي أحدکم إلى طعام فلیجب، وإن کان صائما فَلْيُصَلِّ» أي : ليدع لأهله، وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ [ التوبة/ 103] وصَلَاةُ اللهِ للمسلمین هو في التّحقیق : تزكيته إيّاهم . وقال : أُولئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَواتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ [ البقرة/ 157] ، ومن الملائكة هي الدّعاء والاستغفار، كما هي من النّاس «3» . قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ وَمَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِ [ الأحزاب/ 56] والصَّلَاةُ التي هي العبادة المخصوصة، أصلها : الدّعاء، وسمّيت هذه العبادة بها کتسمية الشیء باسم بعض ما يتضمّنه، والصَّلَاةُ من العبادات التي لم تنفکّ شریعة منها، وإن اختلفت صورها بحسب شرع فشرع . ولذلک قال : إِنَّ الصَّلاةَ كانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتاباً مَوْقُوتاً [ النساء/ 103] ( ص ل ی ) الصلیٰ ( س) کے اصل معنی آگ جلانے ہے ہیں صلی بالنار اس نے آگ کی تکلیف برداشت کی یا وہ آگ میں جلا صلی بکذا اسے فلاں چیز سے پالا پڑا ۔ صلیت الشاۃ میں نے بکری کو آگ پر بھون لیا اور بھونی ہوئی بکری کو مصلیۃ کہاجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : اصْلَوْهَا الْيَوْمَ [يس/ 64] آج اس میں داخل ہوجاؤ ۔ الصلوۃ بہت سے اہل لغت کا خیال ہے کہ صلاۃ کے معنی دعا دینے ۔ تحسین وتبریک اور تعظیم کرنے کے ہیں ۔ چناچہ محاورہ ہے صلیت علیہ میں نے اسے دعادی نشوونمادی اور بڑھایا اور حدیث میں ہے (2) کہ «إذا دعي أحدکم إلى طعام فلیجب، وإن کان صائما فَلْيُصَلِّ» أي : ليدع لأهله، جب کسی کو کھانے پر بلا یا جائے تو اسے چاہیے کہ قبول کرلے اگر روزہ دار ہے تو وہ انکے لئے دعاکرکے واپس چلا آئے اور قرآن میں ہے وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ [ التوبة/ 103] اور ان کے حق میں دعائے خیر کرو کہ تمہاری دعا ان کے لئے موجب تسکین ہے ۔ اور انسانوں کی طرح فرشتوں کی طرف سے بھی صلاۃ کے معنی دعا اور استغفار ہی آتے ہیں چناچہ فرمایا : إِنَّ اللَّهَ وَمَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِ [ الأحزاب/ 56] بیشک خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں ۔ اور الصلوۃ جو کہ ایک عبادت مخصوصہ کا نام ہے اس کی اصل بھی دعاہی ہے اور نماز چونکہ دعا پر مشتمل ہوتی ہے اسلئے اسے صلوۃ کہاجاتا ہے ۔ اور یہ تسمیۃ الشئی باسم الجزء کے قبیل سے ہے یعنی کسی چیز کو اس کے ضمنی مفہوم کے نام سے موسوم کرنا اور صلاۃ ( نماز) ان عبادت سے ہے جن کا وجود شریعت میں ملتا ہے گو اس کی صورتیں مختلف رہی ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : إِنَّ الصَّلاةَ كانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتاباً مَوْقُوتاً [ النساء/ 103] بیشک نماز مومنوں مقرر اوقات میں ادا کرنا فرض ہے ۔
(٢٢۔ ٢٨) مگر وہ پانچ وقت کا نمازی جو اپنی فرض نمازوں کو رات دن میں ہمیشہ پڑھتے ہیں۔ وہ ایسے نہیں ہیں اور جو کہ اپنے مالوں میں زکوٰۃ کے علاوہ سوال کرنے والے اور سوال نہ کرنے والے سب کا حق سمجھتے ہیں یا یہ کہ محروم سے مراد وہ ہے جو اپنے اجر و غنیمت سے محروم رہے یا یہ کہ وہ محنتی آدمی ہے جس کا پیشہ اس کی معیشت کے لیے کافی نہ ہو اور جو کہ قیامت کے دن کا اور جو کچھ اس میں ہوگا سب کا اعقتاد رکھتے ہیں اور جو کہ اپنے پروردگار کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں واقعی ان کے رب کا عذاب مطمئن ہونے کی چیز ہیں۔
آیت ٢٢ { اِلَّا الْمُصَلِّیْنَ ۔ } ” سوائے نمازیوں کے۔ “ ان کمزوریوں اور خامیوں سے محفوظ رکھنے والی ایک چیز نماز ہے۔ گویا نماز تعمیر سیرت کی بنیاد کا پہلا پتھر ہے۔ لیکن صرف وہ نماز جو خاص اہتمام سے مداومت کے ساتھ ادا کی جاتی ہو۔ چناچہ مذکورہ استثناء کے اہل صرف وہی نمازی ہوں گے :
14 A person's performing the salat necessarily implies that he believes in Allah, His Messenger, His Book and the Hereafter as well as tries to act according to his belief.
سورة الْمَعَارِج حاشیہ نمبر :14 کسی شخص کا نماز پڑھنا لازماً یہ معنی رکھتا ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول اور اس کی کتاب اور آخرت پر ایمان بھی رکھتا ہے اور اپنے اس ایمان کے مطابق عمل بھی کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔
(70:22) الا المصلین : الا استثنائیہ متصلہ : المصلین مستثنیٰ ۔ الانسان (آیت 19) مستثنیٰ منہ۔ الانسان میں الف لام جنس ہے یا استغراقی ہے۔ لفظ انسان اگرچہ مفرد ہے، لیکن معنوی اعتبار سے جمع ہے اسی لئے الا المصلین میں الا استثناء متصلہ آیا ہے۔ و مثلہ قولہ تعالیٰ والعصر ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعملوا الصلحت (103:13) اضواء البیان۔ مولانا پانی پتی تحریر فرماتے ہیں :۔ مصلی سے مراد کامل مومن ہے جیسے آیت وما کان اللہ لیضیع ایمانکم (2:143) میں ایمان سے مراد نماز ہے۔ کیونکہ مومن کے مراتب میں چوٹی کا درجہ نماز ہی ہے ۔ یہی مومن کی معراج اور دین کا ستون ہے۔ (تفسیر مظہری)
پھر ان کی صفات کیا ہیں۔ انسان کی ان عام صفات سے جن کا اوپر ذکر ہوا ، ایک مومن کو مستثنیٰ کیا جاتا ہے۔ مثلاً : الا المصلین (٢٢) الذین ................ دآئمون (٣٢) (٠٧ : ٢٢ تا ٣٢) ” مگر وہ لوگ جو نماز پڑھنے والے ہیں ، جو اپنی نماز کی ہمیشہ پابندی کرتے ہیں “۔ نماز بنیادی طور پر رکن اسلام اور علامت ایمان ہے ، لیکن اس کی حکمت یہ ہے کہ یہ درحقیقت اللہ کے ساتھ ذریعہ اتصال ہے۔ اور یہ ایک ایسے تعلق کا مظہر ہے جس میں صرف بندہ اور اس کا رب آمنے سامنے ہوتے ہیں۔ بندہ مقام بندگی کے اعلیٰ مرتبے پر اور رب تعالیٰ مقام ربوبیت اور معبودیت کے اعلیٰ مرتبے پر ہوتا ہے۔ اس کے بارے میں یہ کہا گیا کہ ایمان کی صفت دائمہ صلوة ہے۔
اولاً نمازیوں کا ذکر فرمایا : ﴿اِلَّا الْمُصَلِّيْنَۙ٠٠٢٢ الَّذِيْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ دَآىِٕمُوْنَ۪ۙ٠٠٢٣﴾ سوائے ان لوگوں کے جو نمازی ہیں جو اپنی نماز پر متوجہ رہتے ہیں۔ لفظ ﴿دَآىِٕمُوْنَ﴾ دوام سے ماخوذ ہے، صاحب روح المعانی اس کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ای مواظبون علی اداہٴا لا یخلون بھا ولا یشتغلون عنھا بشی عن الشواغل یعنی نمازوں کو پابندی کے ساتھ ادا کرتے ہیں ان میں ذرا سا خلل بھی گوارا نہیں کرتے اور دیگر مشغولیتیں انہیں نماز سے نہیں ہٹاتیں۔ اس کے بعد لکھتے ہیں : وقیل دَآىِٕمُوْنَ ای لا یلتفتون فیھا یعنی جب نماز پڑھنے لگتے ہیں تو برابر نماز ہی کی طرف متوجہ رہتے ہیں، نہ ادھر ادھر کی باتیں سوچتے ہیں اور نہ دائیں بائیں دیکھتے ہیں۔ حدیث شریف میں فرمایا ہے : اذا قمت فی صلوتک فصل صلوة مودع (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ ٤٤٥) ثانیاً : ان لوگوں کا تذکرہ فرمایا ہے جن کے مالوں میں سوالی اور محروم کا حق معلوم ہے یعنی جو لوگ سوال کرنے والے ہیں انہیں بھی اپنے اموال میں سے دیتے رہتے ہیں اور ان لوگوں کو بھی دے دیتے ہیں جن کا سوال کرنے کا مزاج نہیں ہے وہ اپنی حاجتیں دبائے بیٹھے رہتے ہیں اور اموال سے محروم رہتے ہیں یہ اصحاب خیر انہیں جا کر مال دے دیتے ہیں اس انتظار میں نہیں رہتے کہ کوئی شخص مانگے گا تب دیں گے۔
7:۔ ” الا المصلین “ الا بمعنی لکن ہے اور استثناء منقطع ہے۔ الا بمعنی لکن، ناصب اسم اور راع خبر ہوا کرتا ہے، اس کی خبر کبھی محذوف ہوتی ہے، کبھی مذکور، یہاں مذکور ہے۔ المصلین الخ اس کا اسم ہے اور اولئک فی جنات منکرمون اس کی خبر ہے (رضی شرح کافیہ) اور یہ بعذاب واقع ہوگا لیکن مصلین (نمازی) جو اللہ کے مقبول بندے ہیں وہ جنات نعیم میں ہوں گے۔ یہ ان الانسان خلق ھلوعا کے ساتھ متعلق نہیں، تاکہ یہ معنی بن جائے کہ انسان دل کے خام ہیں، مگر نمازی اس سے مستثنی ہیں، کیونکہ دل کے خام تو سب ہیں۔ افادہ الشیخ (رح) تعالی۔ یہاں دفع عذاب کے لیے امور ثلاثہ کا بیان ہے اس سے محفوظ رہنے والے اللہ کے مقبول بندوں کی صفتیں حسب ذیل ہیں۔