Surat ul Maarijj
Surah: 70
Verse: 25
سورة المعارج
لِّلسَّآئِلِ وَ الۡمَحۡرُوۡمِ ﴿۪ۙ۲۵﴾
For the petitioner and the deprived -
مانگنے والوں کا بھی اور سوال سے بچنے والوں کا بھی ۔
لِّلسَّآئِلِ وَ الۡمَحۡرُوۡمِ ﴿۪ۙ۲۵﴾
For the petitioner and the deprived -
مانگنے والوں کا بھی اور سوال سے بچنے والوں کا بھی ۔
And those in whose wealth there is a recognized right. For the one who asks, and for the deprived. meaning, in their wealth is a determined portion for those who are in need. Concerning Allah's statement, وَالَّذِينَ يُصَدِّقُونَ بِيَوْمِ الدِّينِ
25۔ 1 محروم میں وہ شخص بھی داخل ہے جو رزق سے ہی محروم ہے وہ بھی جو کسی آفت سماوی وارضی کی زد میں آکر اپنی پونجی سے محروم ہوگیا اور وہ بھی جو ضرورت مند ہونے کے باوجود اپنی صفت تعفف کی وجہ سے لوگوں کی عطا اور صدقات سے محروم رہتا ہے۔
لِّلسَّاۗىِٕلِ وَالْمَحْرُوْمِ ٢٥ سأل السُّؤَالُ : استدعاء معرفة، أو ما يؤدّي إلى المعرفة، واستدعاء مال، أو ما يؤدّي إلى المال، فاستدعاء المعرفة جو ابه علی اللّسان، والید خلیفة له بالکتابة، أو الإشارة، واستدعاء المال جو ابه علی الید، واللّسان خلیفة لها إمّا بوعد، أو بردّ. ( س ء ل ) السؤال ( س ء ل ) السوال کے معنی کسی چیز کی معرفت حاصل کرنے کی استد عایا اس چیز کی استز عا کرنے کے ہیں ۔ جو مودی الی المعرفۃ ہو نیز مال کی استدعا یا اس چیز کی استدعا کرنے کو بھی سوال کہا جاتا ہے جو مودی الی المال ہو پھر کس چیز کی معرفت کی استدعا کا جواب اصل مٰن تو زبان سے دیا جاتا ہے لیکن کتابت یا اشارہ اس کا قائم مقام بن سکتا ہے اور مال کی استدعا کا جواب اصل میں تو ہاتھ سے ہوتا ہے لیکن زبان سے وعدہ یا انکار اس کے قائم مقام ہوجاتا ہے ۔ محروم والحَرَمُ : سمّي بذلک لتحریم اللہ تعالیٰ فيه كثيرا مما ليس بمحرّم في غيره من المواضع وکذلک الشهر الحرام، وقیل : رجل حَرَام و حلال، ومحلّ ومُحْرِم، قال اللہ تعالی: يا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ ما أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ تَبْتَغِي مَرْضاتَ أَزْواجِكَ [ التحریم/ 1] ، أي : لم تحکم بتحریم ذلک ؟ وكلّ تحریم ليس من قبل اللہ تعالیٰ فلیس بشیء، نحو : وَأَنْعامٌ حُرِّمَتْ ظُهُورُها [ الأنعام/ 138] ، وقوله تعالی: بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ [ الواقعة/ 67] ، أي : ممنوعون من جهة الجدّ ، وقوله : لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ [ الذاریات/ 19] ، أي : الذي لم يوسّع عليه الرزق کما وسّع علی غيره . ومن قال : أراد به الکلب فلم يعن أنّ ذلک اسم الکلب کما ظنّه بعض من ردّ عليه، وإنما ذلک منه ضرب مثال بشیء، لأنّ الکلب کثيرا ما يحرمه الناس، أي : يمنعونه . والمَحْرَمَة والمَحْرُمَة والحُرْمَة، واستحرمت الماعز کناية عن إرادتها الفحل . الحرم کو حرام اس لئے کہا جاتا ہے کہ اللہ نے اس کے اندر بہت سی چیزیں حرام کردی ہیں جو دوسری جگہ حرام نہیں ہیں اور یہی معنی الشہر الحرام کے ہیں یعنی وہ شخص جو حالت احرام میں ہو اس کے بالمقابل رجل حلال ومحل ہے اور آیت کریمہ : يا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ ما أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ تَبْتَغِي مَرْضاتَ أَزْواجِكَ [ التحریم/ 1] کے معنی یہ ہیں کہ تم اس چیز کی تحریم کا حکم کیون لگاتے ہو جو اللہ نے حرام نہیں کی کیونکہ جو چیز اللہ تعالیٰ نے حرام نہ کی ہو وہ کسی کے حرام کرنے سے حرام نہیں ہوجاتی جیسا کہ آیت : ۔ وَأَنْعامٌ حُرِّمَتْ ظُهُورُها [ الأنعام/ 138] اور ( بعض ) چار پائے ایسے ہیں کہ ان کی پیٹھ پر چڑھنا حرام کردیا گیا ہے ۔ میں مذکور ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ [ الواقعة/ 67] بلکہ ہم ( برکشتہ نصیب ) بےنصیب ہیں ان کے محروم ہونے سے بد نصیبی مراد ہے ۔ اور آیت کریمہ : لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ [ الذاریات/ 19] مانگنے والے اور نہ مانگنے ( دونوں ) میں محروم سے مراد وہ شخص ہے جو خوشحالی اور وسعت رزق سے محروم ہو اور بعض نے کہا ہے المحروم سے کتا مراد ہے تو اس کے معنی نہیں ہیں کہ محروم کتے کو کہتے ہیں جیسا ان کی تردید کرنے والوں نے سمجھا ہے بلکہ انہوں نے کتے کو بطور مثال ذکر کیا ہے کیونکہ عام طور پر کتے کو لوگ دور ہٹاتے ہیں اور اسے کچھ نہیں دیتے ۔ المحرمۃ والمحرمۃ کے معنی حرمت کے ہیں ۔ استحرمت الما ر عذ بکری نے نر کی خواہش کی دیہ حرمۃ سے ہے جس کے معنی بکری کی جنس خواہش کے ہیں ۔
قول باری ہے (للسائل والمحروم سائل اور محروم کے لئے) حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ سوال کرنے والے کو سائل کہتے ہیں اور محروم وہ شخص ہے جسے کسی تجارت میں کامیابی نہ ہوتی ہو۔ ابوقلابہ کا قول ہے کہ محروم وہ شخص جس کا مال چلا جائے۔ حسن بن محمد کا قول ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک سریہ روانہ کیا، اسے مال غنیمت حاصل ہوا، اس کے بعد کچھ دوسرے لوگ بھی آگئے اور یہ آیت نازل ہوئی (فی اموالھم حق معلوم للسائل والمحروم جن کے مالوں میں سائل اور محروم کا ایک مقرر حق ہے) حضرت انس (رض) نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا (ان المحروم من حرم وصیتہ بیشک محروم وہ شخص ہے جسے اس چیز سے محروم رکھا جائے جس کی اس کے لئے وصیت کی گئی ہو) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ ہم نے اس سے قبل محروم کے معنی اور اس کے بارے میں اہل علم کے اختلاف آراء کا ذکر کردیا ہے۔
16 In Surah Adh-Dhariyat: 19, it has been said: "In their wealth there is a right of the beggar and the needy", and here: "In their wealth there is a due share of the beggar and the needy. " Some people have understood this to mean that the "due share" implies the obligatory zakat, for in the zakat both the exemption limit and the rate have been fixed. But this commentary cannot be accepted on the ground that the Surah AI-Ma`arij is unanimously a Makkan Revelation, and the zakat with its specific exemption limit and rate was enjoined at Madinah. Therefore, the correct meaning of the "due share° is that they have of their own accord set aside a share in their possessions of the beggar and needy, which they discharge regularly and honestly. This same meaning of this verse has been given by Hadrat 'Abdullah bin `Abbas, Hadrat `Abdullah bin `Umar, Mujahid, Sha`bi and Ibrahim Nakha`i. Here, sail dces not imply a beggar but a needy person, who asks someone for help, and mahrum implies a person who is jobless, or the one who tries to earn a living but does not earn enough to meet his needs, or the one who has become disabled because of an accident or calamity, and is unable to make a living. About such people when it becomes known that they are destitute, a God - worshipper dces not wait that they should ask for help, but helps them of his own accord as soon as he comes to know that they are needy and stand in need of help. (For further explanation, see E.N. 17 of Surah Adh-Dhariyat) .
سورة الْمَعَارِج حاشیہ نمبر :16 سورہ ذاریات آیت 19 میں فرمایا گیا ہے کہ ان کے مالوں میں سائل اور محروم کا حق ہے ۔ اور یہاں فرمایا گیا ہے کہ ان کے مالوں میں سائل اور محروم کا ایک مقرر حق ہے ۔ بعض لوگوں نے اس سے یہ سمجھا ہے کہ مقرر حق سے مراد فرض زکوۃ ہے ، کیونکہ اسی میں نصاب اور شرح ، دونوں چیزیں مقرر کر دی گئی ہیں ۔ لیکن یہ تفسیر اس بنا پر قابل قبول نہیں ہے کہ سورہ معارج بالاتفاق مکی ہے ، اور زکوۃ ایک مخصوص نصاب اور شرح کے ساتھ مدینہ میں فرض ہوئی ہے ۔ اس لیے مقرر حق کا صحیح مطلب یہ ہے کہ انہوں نے خود اپنے مالوں میں سائل اور محروم کا ایک حصہ طے کر رکھا ہے جسے وہ ان کا حق سمجھ کر ادا کرتے ہیں ۔ یہی حضرت عبداللہ بن عباس ، حضرت عبداللہ بن عمر ، مجاہد ، شعبی اور ابراہیم نخعی نے بیان کیے ہیں ۔ سائل سے مراد پیشہ ور بھیک مانگنے والا نہیں بلکہ وہ حاجت مند شخص ہے جو کسی سے مدد مانگے ۔ اور محروم سے مراد ایسا شخص ہے جو بے روز گار ہو ، یا روزی کمانے کی کوشش کرتا ہو مگر اس کی ضروریات پوری نہ ہوتی ہوں ، یا کسی حاد ثے یا آفت کا شکار ہو کر محتاج ہو گیا ہو ، یا روزی کمانے کے قابل ہی نہ ہو ۔ ایسے لوگوں کے متعلق جب معلوم ہو جائے کہ وہ واقعی محروم ہیں تو ایک خدا پرست انسان اس بات کا انتظار نہیں کرتا کہ وہ اس سے مدد مانگیں ، بلکہ ان کی محرومی کا علم ہوتے ہی وہ خود آگے بڑھ کر ان کی مدد کرتا ہے ۔ ( مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد پنجم ، تفسیر سورہ ذاریات ، حاشیہ 17 ) ۔
7: جو غریب اپنی حاجت ظاہر کردیتے ہیں، انہیں سوالی سے اور جو حاجت مند ہونے کے باوجود اپنی حاجت کسی سے نہیں کہتے، اُنہیں بے سوالی سے تعبیر کیا گیا ہے۔
(70:25) للسائل والمحروم۔ یہ متذکرہ بالا مستثنیات کی دوسری صفت ہے اور وہ لوگ بھی جنس الانسان ہلوہا سے مستثنیٰ ہے جن کے اموال میں سائل اور محروم کے لئے ایک متعین حصہ ہے جیسے زکوۃ اور مقررہ صدقات۔ یا وہ مال جو انسان قربت الٰہی کے حصول کے لئے یا اپنے سے غریب و نادار لوگوں کو ازراہ ہمدردی وقتا فوقتا دیتا رہتا ہے اور اس مقصد کے لئے اپنے اموال سے ایک معین رقم کا استعمال اپنے اوپر لازم کرلیتا ہے محروم سے مراد وہ شخص ہے جو ازحد ضرور تمند ہونے کے باوجود بھی کسی کے آگے دست سوال درانہ کرنے سے ہچکچاتا ہو۔