Surat ul Maarijj

Surah: 70

Verse: 31

سورة المعارج

فَمَنِ ابۡتَغٰی وَرَآءَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡعٰدُوۡنَ ﴿ۚ۳۱﴾

But whoever seeks beyond that, then they are the transgressors -

اب جو کوئی اس کے علاوہ ( راہ ) ڈھونڈے گا تو ایسے لوگ حد سے گزر جانے والے ہونگے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

for (then) they are not blameworthy. But whosoever seeks beyond that, then it is those who are trespassers. The explanation of this has already preceded at the beginning of Surah Al-Mu'minun, and therefore does not need to be repeated here. Allah said, وَالَّذِينَ هُمْ لاِاَمَانَاتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَاعُونَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٨] آیت نمبر ٢٩، ٣٠ اور ٣١ کی تشریح کے لیے دیکھئے سورة مومنون کی آیت نمبر ٥، ٦، ٧ کے حواشی اس کے علاوہ النور آیت نمبر ٣٠ اور الاحزاب آیت نمبر : ٣٥ بھی ملاحظہ فرمائیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

فَمَنِ ابْتَغَىٰ وَرَ‌اءَ ذَٰلِكَ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْعَادُونَ (but the one who seeks [ sexual gratification ] beyond that, then such people are the transgressors...70:31). The preceding verse permitted to have sex with their wives and with slave-girls who are lawfully in their possession. The current verse prohibits sexual gratification beyond this limit. This verse also excludes women who, according to Shari&ah, fall within the prohibited degree. Similarly, Mut&ah (hiring a woman for a temporary period for the purpose of enjoying sex with her) is not a marriage according to Shari&ah, therefore, it is also included in the meaning of this verse. Masturbation is Forbidden According to most jurists, masturbation falls under the generality of verse [ 31], hence forbidden. Ibn Juraij says that he asked Sayyidna ` Ata& (رض) about it and the latter replied that it is makruh (reprehensible), adding that he heard that on the Plain of Hashr some people will come whose hands will be pregnant. He feels these will be the people who used to satisfy their sexual lust with their hands. Sayyidna Said Ibn Jubair (رض) says that Allah punished a nation who used to fondle with their private parts with their hands. A Hadith reports that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has said: مَلعون من نکح یدہ |"Cursed is he who marries his hand.|" The chain of authorities of this Hadith is weak. [ Mazhari ].

(آیت) فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَاۗءَ ذٰلِكَ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْعٰدُوْنَ ، اس سے پہلی آیت میں نفسانی خواہش اور شہوت کا جائز مصرف منکوحہ بیوی یا شرعی لونڈی بتلایا گیا تھا اس آیت میں ان دو صورتوں کے سوا شہوت رانی کی ہر صورت کو ممنوع و ناجائز قرار دیا ہے اس میں نکاح کی وہ صورتیں بھی داخل ہیں جو شرعاً حلال نہیں جیسے ان عورتوں سے نکاح جن سے شرعاً نکاح حرام ہے اسی طرح متعہ جو شرعا نکاح نہیں۔ اپنے ہاتھ سے شہوت پوری کرنا حرام ہے :۔ اور اکثر فقہاء رحم اللہ نے استمناء بالید یعنی اپنے ہاتھ سے شہوت پوری کرلینے کو بھی اس کے عموم میں داخل قرار دے کر حرام قرار دیا ہے۔ ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطار سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا مکروہ ہے۔ میں نے سنا ہے محشر میں کچھ ایسے لوگ آئیں گے جن کے ہاتھ حاملہ ہوں گے۔ میرا گمان یہ ہے کہ یہ وہی لوگ ہیں جو اپنے ہاتھ سے شہوت پوری کرتے ہیں اور حضرت سعید بن جبیر (رح) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی قوم پر عذاب نازل فرمایا جو اپنے ہاتھوں سے اپنی شرمگاہوں سے کھیلتے ہیں ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ملعن من نکحدیدہ یعنی جو اپنے ہاتھ سے نکاح کرے وہ ملعون ہے۔ سند اس کی ضعیف ہے۔ (مظہری)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَاۗءَ ذٰلِكَ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْعٰدُوْنَ۝ ٣١ ۚ ابتغاء (ينبغي) البَغْي : طلب تجاوز الاقتصاد فيما يتحرّى، تجاوزه أم لم يتجاوزه، فتارة يعتبر في القدر الذي هو الكمية، وتارة يعتبر في الوصف الذي هو الكيفية، يقال : بَغَيْتُ الشیء : إذا طلبت أكثر ما يجب، وابْتَغَيْتُ كذلك، قال اللہ عزّ وجل : لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ [ التوبة/ 48] ، وأمّا الابتغاء فقد خصّ بالاجتهاد في الطلب، فمتی کان الطلب لشیء محمود فالابتغاء فيه محمود نحو : ابْتِغاءَ رَحْمَةٍ مِنْ رَبِّكَ [ الإسراء/ 28] ، وابْتِغاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْأَعْلى [ اللیل/ 20] ، الابتغاء فقد خصّ بالاجتهاد في الطلب، فمتی کان الطلب لشیء محمود فالابتغاء فيه محمود نحو : ابْتِغاءَ رَحْمَةٍ مِنْ رَبِّكَ [ الإسراء/ 28] ، وابْتِغاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْأَعْلى [ اللیل/ 20] ، وقولهم : يَنْبغي مطاوع بغی. فإذا قيل : ينبغي أن يكون کذا ؟ فيقال علی وجهين : أحدهما ما يكون مسخّرا للفعل، نحو : النار ينبغي أن تحرق الثوب، والثاني : علی معنی الاستئهال، نحو : فلان ينبغي أن يعطی لکرمه، وقوله تعالی: وَما عَلَّمْناهُ الشِّعْرَ وَما يَنْبَغِي لَهُ [يس/ 69] ، علی الأول، فإنّ معناه لا يتسخّر ولا يتسهّل له، ألا تری أنّ لسانه لم يكن يجري به، وقوله تعالی: وَهَبْ لِي مُلْكاً لا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي [ ص/ 35] . ( ب غ ی ) البغی کے معنی کسی چیز کی طلب میں درمیانہ ردی کی حد سے تجاوز کی خواہش کرنا کے ہیں ۔ خواہ تجاوز کرسکے یا نہ اور بغی کا استعمال کیت اور کیفیت یعنی قدر وو صف دونوں کے متعلق ہوتا ہے ۔ کہا جاتا ۔ کسی چیز کے حاصل کرنے میں جائز حد سے تجاوز ۔ قرآن میں ہے : ۔ لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ [ التوبة/ 48 پہلے بھی طالب فسادر ہے ہیں ۔ الا بتغاء یہ خاص کر کوشش کے ساتھ کسی چیز کو طلب کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ اگر اچھی چیز کی طلب ہو تو یہ کوشش بھی محمود ہوگی ( ورنہ مذموم ) چناچہ فرمایا : ۔ { ابْتِغَاءَ رَحْمَةٍ مِنْ رَبِّكَ } ( سورة الإسراء 28) اپنے پروردگار کی رحمت ( یعنی فراخ دستی ) کے انتظار میں ۔ وابْتِغاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْأَعْلى [ اللیل/ 20] بلکہ اپنے خدا وندی اعلیٰ کی رضامندی حاصل کرنے کے لئے دیتا ہے ۔ اور ینبغی ( انفعال ) بغی کا مطاوع آتا ہے اور ینبغی ایکون کذا کا محاورہ طرح استعمال ہوتا ہے ( 1) اس شے کے متعلق جو کسی فعل کے لئے مسخر ہو جیسے یعنی کپڑے کو جلا ڈالنا آگ کا خاصہ ہے ۔ ( 2) یہ کہ وہ اس کا اہل ہے یعنی اس کے لئے ایسا کرنا مناسب اور زیبا ہے جیسے کہ فلان کے لئے اپنی کرم کی وجہ سے بخشش کرنا زیبا ہے اور آیت کریمہ : ۔ وَما عَلَّمْناهُ الشِّعْرَ وَما يَنْبَغِي لَهُ [يس/ 69] اور ہم نے ان ( پیغمبر ) کو شعر گوئی نہیں سکھلائی اور نہ وہ ان کو شایاں ہے ۔ پہلے معنی پر محمول ہے ۔ یعنی نہ تو آنحضرت فطر تا شاعر ہیں ۔ اور نہ ہی سہولت کے ساتھ شعر کہہ سکتے ہیں اور یہ معلوم کہ آپ کی زبان پر شعر جاری نہ ہوتا تھا ۔ اور آیت کریمہ : وَهَبْ لِي مُلْكاً لا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي [ ص/ 35] اور مجھ کو ایسی بادشاہ ہی عطا فرما کر میرے بعد کیسی کو شایاں نہ ہو ۔ ( دوسرے معنی پر محمول ہے ۔ یعنی میرے بعد وہ سلطنت کسی کو میسر نہ ہو ) وراء ( وَرَاءُ ) إذا قيل : وَرَاءُ زيدٍ كذا، فإنه يقال لمن خلفه . نحو قوله تعالی: وَمِنْ وَراءِ إِسْحاقَ يَعْقُوبَ [هود/ 71] ، ( و ر ی ) واریت الورآء کے معنی خلف یعنی پچھلی جانب کے ہیں مثلا جو زہد کے پیچھے یا بعد میں آئے اس کے متعلق ورآء زید کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَمِنْ وَراءِ إِسْحاقَ يَعْقُوبَ [هود/ 71] اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوش خبری دی ۔ هذا ( ذَاكَ ذلك) وأما ( ذا) في (هذا) فإشارة إلى شيء محسوس، أو معقول، ويقال في المؤنّث : ذه وذي وتا، فيقال : هذه وهذي، وهاتا، ولا تثنّى منهنّ إلّا هاتا، فيقال : هاتان . قال تعالی: أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] ، هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] ، هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] ، إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] ، إلى غير ذلك هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها تُكَذِّبُونَ [ الطور/ 14] ، هذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ [ الرحمن/ 43] ، ويقال بإزاء هذا في المستبعد بالشخص أو بالمنزلة : ( ذَاكَ ) و ( ذلك) قال تعالی: الم ذلِكَ الْكِتابُ [ البقرة/ 1- 2] ، ذلِكَ مِنْ آياتِ اللَّهِ [ الكهف/ 17] ، ذلِكَ أَنْ لَمْ يَكُنْ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرى [ الأنعام/ 131] ، إلى غير ذلك . ( ذ ا ) ہاں ھذا میں ذا کا لفظ اسم اشارہ ہے جو محسوس اور معقول چیز کی طرف اشارہ کے لئے آتا ہے ۔ چناچہ کہا جاتا ہے ۔ ھذہ وھذی وھاتا ۔ ان میں سے سرف ھاتا کا تژنیہ ھاتان آتا ہے ۔ ھذہٰ اور ھٰذی کا تثنیہ استعمال نہیں ہوتا قرآن میں ہے : أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] کہ دیکھ تو یہی وہ ہے جسے تونے مجھ پر فضیلت دی ہے ۔ هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] یہ وہ چیزیں ہیں جن کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا ۔ هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] یہ وہی ہے جس کے لئے تم جلدی مچایا کرتے تھے ۔ إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] کہ یہ دونوں جادوگر ہیں ۔ هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها تُكَذِّبُونَ [ الطور/ 14] یہی وہ جہنم ہے جس کو تم جھوٹ سمجھتے تھے ۔ هذِهِ جَهَنَّمُ الَّتِي يُكَذِّبُ بِهَا الْمُجْرِمُونَ [ الرحمن/ 43] یہی وہ جہنم ہے جسے گنہگار لوگ جھٹلاتے تھے ۔ ھذا کے بالمقابل جو چیز اپنی ذات کے اعتبار سے دور ہو یا باعتبار مرتبہ بلند ہو ۔ اس کے لئے ذاک اور ذالک استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا الم ذلِكَ الْكِتابُ [ البقرة/ 1- 2] یہ کتاب یہ خدا کی نشانیوں میں سے ہے ۔ ذلِكَ مِنْ آياتِ اللَّهِ [ الكهف/ 17] یہ اس لئے کہ تمہارا پروردگار ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہلاک کردے ۔ عدا والاعْتِدَاءُ : مجاوزة الحقّ. قال تعالی: وَلا تُمْسِكُوهُنَّ ضِراراً لِتَعْتَدُوا[ البقرة/ 231] ، وقال : وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُ [ النساء/ 14] ، ( ع د و ) العدو الاعتداء کے معنی حق سے تجاوز کرنا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : وَلا تُمْسِكُوهُنَّ ضِراراً لِتَعْتَدُوا[ البقرة/ 231] اور اس نیت سے ان کو نکاح میں نہ رہنے دینا چاہیئے کہ انہیں تکلیف دو اور ان پر زیادتی کرو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

20 For explanation, see E.N. 7 of Al-Mu'minun.

سورة الْمَعَارِج حاشیہ نمبر :20 تشریح کے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد سوم ، المومنون ، حاشیہ 7 ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

8: یعنی بیویوں اور باندیوں کے سوا کسی اور طریقے سے جنسی خواہش پوری کرنا حرام ہے، اس لئے ایسے لوگ حد سے گزرے ہوئے ہیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(70:31) فمن ابتغی وراء ذلک جملہ شرطیہ ہے ف عاطفہ۔ من شرطیہ (بمعنی جمع) جس نے (جنہوں نے) ابتغی۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ابتغاء (افتعال) مصدر سے۔ اس نے چاہا۔ اس نے تلاش کیا۔ وراء اصل میں مصدر ہے اس کا معنی ہے آڑ۔ حد فاصل۔ کسی چیز کا آگے ہونا۔ پیچھے ہونا۔ علاوہ۔ سوا ہونا۔ فصل اور حد بندی پر دلالت کرتا ہے۔ اس لئے سب معنی میں مستعمل ہے۔ ذلک سے مراد اپنی بیویوں اور باندیوں کے علاوہ کسی اور سے یا کسی غیر مقام میں اپنی شرمگاہوں کو استعمال کرنا ہے۔ وراء ذلک۔ مضاف مضاف الیہ مل کر ابتغی کا مفعول۔ فاولئک ہم العادون : ف جواب شرط اور جملہ جواب شرط ہے۔ اولئک اسم اشارہ جمع مذکر۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع اولئک ہے ضمیر کو تاکید کے لئے اور تخصیص کے لئے لایا گیا ہے۔ العادون حد سے گزرنے والے۔ حد سے بڑھنے والے۔ حد سے نکلنے والے۔ عدو (باب نصر) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر۔ داع کی جمع بحالت رفع۔ ترجمہ ہوگا :۔ سو وہی لوگ ہیں حد سے بڑھنے والے (نیز ملاحظہ ہو 23:567)

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 یعنی جو اپنی بیوی یا لونڈی کے علاوہ کسی اور ذریعہ سے اپنی شہوت پوری کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے ہی لوگ حرام کاری کا ارتکاب کرنے والے ہیں۔ (دیکھیے مومنون :7)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

فمن .................... العدون (٠٨ : ١٣) ” البتہ جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں “ یوں اسلام ہر قسم کی جنسی گندگی کے سامنے یہ بندباندھ دیتا ہے۔ ان دو واضح صورتوں کے علاوہ جنسی تعلق حرام ہے۔ اسلام نفس جنسی تعلق میں کوئی گندگی محسوس نہیں کرتا لیکن ان دو جائز صورتوں کے علاوہ سب تعلقات کو حرام قرار دیتا ہے۔ اسلام ایک صاف ستھرا اور واضح اور کھلا معاشرتی نظام چاہتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

﴿فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ٠٠٣١ ﴾ (سو جو شخص اس کے علاوہ کا طلب گار ہوگا یعنی بیوی اور شرعی باندی کے علاوہ اور کسی جگہ شہوت پوری کرے گا سو یہ لوگ ہیں حد سے آگے بڑھ جانے والے) یعنی اللہ تعالیٰ نے جو حد مقرر فرمائی کہ شہوت پورا کرنے کے جذبات کو صرف بیویوں اور باندیوں تک محدود رکھیں اس کے خلاف ورزی کر کے مقررہ حد سے آگے نکل کر اپنے کو گناہ گار بنانے والے ہیں اور حدود سے آگے بڑھ جانے پر جو دنیاوی اور اخروی عذاب ہے اس کے مستحق ہوجانے والے ہیں۔ بیویوں اور شرعی باندیوں کے علاوہ جس سے بھی شہوت رانی کی جائے وہ حرام ہے اس میں زنا کاری اور بیویوں کے ساتھ غیر فطری عمل اور ہم جنسوں کے ساتھ شہوت رانی اور روافض کا متعہ سب داخل ہے۔ روافض جو متعہ کرتے ہیں وہ بھی حرام ہے دیگر دلائل کے علاوہ اس آیت سے بھی متعہ کی حرمت ثابت ہو رہی ہے کیونکہ جس عورت سے متعہ کیا جاتا ہے وہ روافض کے نزدیک بھی بیوی نہیں ہوتی اگر متعہ کر کے کوئی شخص مدت مقررہ ختم ہونے سے پہلے مرجائے تو اس عورت کو میراث نہیں ملے گی (بیوی ہوتی تو میراث پاتی) اور دیگر احکام متعلقہ ازواج بھی اس پر نافذ نہیں کیے جاتے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(31) ہاں جو شخص ان بیویوں اور باندیوں کے علاوہ کوئی اور راہ تلاش کرے گا تو ایسے ہی لوگ حد سے بڑھنے والے ہیں یعنی بیویوں اور باندیوں کے علاوہ شہوت رانی کا کوئی اور راستہ ڈھونڈ لے۔