Surat ul Mudassir

Surah: 74

Verse: 2

سورة المدثر

قُمۡ فَاَنۡذِرۡ ۪ۙ﴿۲﴾

Arise and warn

کھڑا ہو جا اور آگاہ کر دے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Arise and warn! means, prepare to go forth with zeal and warn the people. With this the Prophet attained Messengership just as he attained Prophethood with the first revelation. وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

2۔ 1 یعنی اہل مکہ کو ڈرا، اگر وہ ایمان نہ لائیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢] اس سورة کی ابتدا میں ہی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذمہ داری سے آگاہ کیا جارہا ہے۔ کہ اب سونے کا وقت نہیں بلکہ جو لوگ اللہ کو بھول کر خواب غفلت میں پڑے ہوئے ہیں انہیں بتائیے کہ انہیں اپنے اعمال کی جواب دہی کے لیے اپنے پروردگار کے حضور پیش ہونا ہے۔ لہذا اپنے برے انجام سے بچنے کی خاطر اللہ اور اس کے رسول کے احکام کی اطاعت بجا لاؤ۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قم فانذر : اس آیت میں اور اس کے بعد والی آیات میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دعوت کے آغاز کا حکم ہوا۔ سورة علق کے شروع میں آپ کو وہ وحی پڑھنے کا حکم ہوا تھا جو آپ پر نازل ہوئی، اب وحی کے احکام کے مطابق لوگوں کو نصیحت کرنے اور ڈرانے کا حکم ہوا اور وہ اوصاف اختیار کرنے کا حکم دیا گیا جو داعی کے لئے ضروری ہیں۔ ان میں سے پہلی چیز سستی اور غفلت چھوڑ کر کمر ہمت باندھنا اور اللہ کے علاوہ دوسری چیزوں کی پرستش کرنے والوں کو اس کے وبال سے ڈرانا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Surah Al-Muddaththir lays down the following six injunctions: Injunction [ 1] قُمْ فَاَنْذِرْ (stand up and warn...74:2) &Stand up& could be taken in its primary sense. It will mean: &Remove the additional clothes in which you have wrapped yourself. It is also not unlikely that &stand up& means &Prepare yourself for the onerous task of reforming the creation of Allah&. The command fa-andhir (and warn) comes from the infinitive indhar (warning) which is based on love and affection&, such as a father&s warning his children against the dangers of a snake, scorpion or fire. The Prophets proclaim the Divine Message and warn its rejecters of the evil consequences of rejection. Therefore, they have received the titles of nadhir and bashir. &Nadhir& means &the one who affectionately and endearingly warns [ people ] against harmful things& and &Bashir& refers to &the one who gives glad tidings&. The Qur&an has conferred both the titles on the Holy Prophet and the Holy Book is replete with them. Here, however, the Qur&an takes it as sufficient to mention indhar &to warn& because at the time of revelation of this verse there were only a handful of Muslims. The rest of the people were all rejecters and disbelievers. They needed to be warned and did not merit glad tidings.

سورة مدثر میں سب سے پہلا حکم آپ کو یہ دیا گیا ہے کہ قُمْ فَاَنْذِرْ یعنی کھڑے ہوجائے اسکے معنے حقیقی قیام کے بھی ہوسکتے ہیں کہ آپ جو کپڑوں میں لپ کر لیٹ گئے ہیں اس کو چھوڑ کر کھڑے ہوجائیے اور یہ معنی بھی بعید نہیں کہ قیام سے مراد کام کے لئے مستعد اور تیار ہونا ہو اور مطلب یہ ہو کہ اب آپ ہمت کرکے خلق خدا کی اصلاح کی خدمت سنبھالئے۔ فانذر، انذار سے مشتق ہے جس کے معنے ڈرانے کے ہیں مگر ایسا ڈرانا جو شفقت و محبت پر مبنی ہوتا ہے جیسے باپ اپنے بچے کو سانپ بچھو اور آگے سے ڈراتا ہے انبیا کی یہی شان ہوتی ہے اسلئے ان کا لقب نذیر اور بشیر ہوتا ہے۔ نذیر کے معنی شفقت و ہمدردی کی بنا پر مضر چیزوں سے ڈرانے والا اور بشر کے معنی خوش خبری سنانے والا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بھی دونوں ہی لقب قرآن کریم میں جابجا مذکور ہیں مگر اس جگہ صرف انذار کے ذکر پر اکتفا اس لئے کیا گیا کہ اس وقت مومن مسلمان تو گنے چنے چند ہی تھے باقی سب منکرین و کفار تھے جو کسی بشارت کے مستحق نہیں بلکہ ڈرانے ہی کے مستحق تھے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قُـمْ فَاَنْذِرْ۝ ٢ نذر وَالإِنْذارُ : إخبارٌ فيه تخویف، كما أنّ التّبشیر إخبار فيه سرور . قال تعالی: فَأَنْذَرْتُكُمْ ناراً تَلَظَّى[ اللیل/ 14] والنَّذِيرُ : المنذر، ويقع علی كلّ شيء فيه إنذار، إنسانا کان أو غيره . إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُبِينٌ [ نوح/ 2] ( ن ذ ر ) النذر الا نذار کے معنی کسی خوفناک چیز سے آگاہ کرنے کے ہیں ۔ اور اس کے بالمقابل تبشیر کے معنی کسی اچھی بات کی خوشخبری سنا نیکے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَأَنْذَرْتُكُمْ ناراً تَلَظَّى[ اللیل/ 14] سو میں نے تم کو بھڑکتی آگ سے متنبہ کردیا ۔ النذ یر کے معنی منذر یعنی ڈرانے والا ہیں ۔ اور اس کا اطلاق ہر اس چیز پر ہوتا ہے جس میں خوف پایا جائے خواہ وہ انسان ہو یا کوئی اور چیز چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَما أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ مُبِينٌ [ الأحقاف/ 9] اور میرا کام تو علانیہ ہدایت کرنا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢{ قُمْ فَاَنْذِرْ ۔ } ” آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھئے اور (لوگوں کو) خبردار کیجیے۔ “ یہ ہے وہ کٹھن ذمہ داری جس کے بارے میں سورة المزمل کی آیت { اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْکَ قَوْلًا ثَقِیْلًا ۔ } میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بہت پہلے اشارہ دے دیا گیا تھا ‘ یعنی انذارِ آخرت کی ذمہ داری ‘ جس کے لیے تمہیدی کلمات میں قیام اللیل کے مقابلے میں ” قیام النہار “ کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔ دراصل انبیاء و رسل - کی دعوت کے حوالے سے جو اصطلاح قرآن مجید میں بہت تکرار کے ساتھ آئی ہے وہ ” انذار “ ہی ہے۔ اسی لیے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی بار بار حکم دیا گیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قرآن کے ذریعے سے لوگوں کو خبردار کریں : { وَاُوْحِیَ اِلَیَّ ہٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَکُمْ بِہٖ } (الانعام : ١٩) اینبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ) آپ ان لوگوں کو بتائیں کہ قرآن مجھ پر نازل ہی اس لیے ہوا ہے کہ میں اس کے ذریعے سے تم لوگوں کو خبردار کر دوں۔ تم اللہ تعالیٰ کی اعلیٰ ترین مخلوق ہو ‘ تمہارے اندر اللہ تعالیٰ نے اپنی روح پھونکی ہے ۔ یہ روح اللہ تعالیٰ کی وہ عظیم امانت ہے جس کی ذمہ داری کے بوجھ سے زمین ‘ پہاڑ اور آسمان تک ڈر گئے تھے۔ اسی امانت کے حوالے سے تمہارا احتساب ہونا ہے۔ اس احتساب کے لیے مرنے کے بعد تمہیں پھر سے زندہ کیا جائے گا : (وَاللّٰہِ لَتَمُوْتُنَّ کَمَا تَنَامُوْنَ ، ثُمَّ لَتُبْعَثُنَّ کَمَا تَسْتَـیْقِظُوْنَ ، ثُمَّ لَتُحَاسَبُنَّ بِمَا تَعْمَلُوْنَ ، ثُمَّ لَتُجْزَوُنَّ بِالْاِحْسَانِ اِحْسَانًا وَبالسُّوْئِ سُوْئً ، وَاِنَّھَا لَجَنَّــۃٌ اَبَدًا اَوْ لَـنَارٌ اَبَدًا) (١) ” اللہ کی قسم ‘ تم سب مر جائو گے جیسے (روزانہ) سو جاتے ہو ! پھر یقینا تم اٹھائے جائو گے جیسے (ہر صبح) بیدار ہوجاتے ہو۔ پھر لازماً تمہارے اعمال کا حساب کتاب ہوگا ‘ اور پھر لازماً تمہیں بدلہ ملے گا اچھائی کا اچھائی اور برائی کا برائی ‘ اور وہ جنت ہے ہمیشہ کے لیے یا آگ ہے دائمی ! “ بہرحال آیت زیر مطالعہ سے واضح ہوتا ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت کا نقطہ آغاز ” انذارِ آخرت “ ہے ۔ اب اگلی آیت میں اس دعوت کے ہدف کے بارے میں بتایا جا رہا ہے ۔ ظاہر ہے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت کا ہدف نہ تو خانقاہی نظام کی تشکیل ہے اور نہ ہی صرف تعلیم و تعلّم کے نظام کا قیام ہے ‘ بلکہ اس کا ہدف یہ ہے :

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

2 A command of this very nature had been given to the prophet Noah (peace be on him) while appointing him to the office of Prophet hood; "Warn the people of your nation before they are overtaken by a painful torment." (Nuh: 1) The verse means: "O you who lies enwrapped, stand up and arouse the people who live in heedlessness around you: warn them of the fate which would certainly overtake them if they remained involved in the same heedlessness, Warn them that they are not living in a lawless kingdom where they are free to conduct themselves as they like and where they can do wherever they please without any fear or being called to account for it. "

سورة الْمُدَّثِّر حاشیہ نمبر :2 یہ اسی نوعیت کا حکم ہے جو حضرت نوح علیہ السلام کو نبوت کے منصب پر مامور کرتے ہوئے دیا گیا تھا کہ انذر قومک من قبل ان یاتیھم عذاب الیم اپنی قوم کے لوگوں کو ڈراؤ قبل اس کے کہ ان پر ا یک دردناک عذاب آ جائے ۔ ( نوح ۔ 1 ) آیت کا مطلب یہ ہے کہ اے اوڑھ لپیٹ کر لیٹنے والے ، اٹھو اور تمہارے گردو پیش خدا کے جو بندے خواب غفلت میں پڑے ہوئے ہیں ان کو چونکا دو ۔ انہیں اس انجام سے ڈراؤ جس سے یقیناً وہ دوچار ہوں گے اگر اسی حالت میں مبتلا رہے ۔ انہیں خبردار کر دو کہ وہ کسی اندھیر نگری میں نہیں رہتے ہیں جس میں وہ اپنی مرضی سے جو کچھ چاہیں کرتے رہیں اور ان کے کسی عمل کی کوئی باز پرس نہ ہو ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(74:2) قم فانذر ، قم ، قیام (باب نصر) مصدر سے امرکا صیغہ واحد مذکر حاضر تو کھڑا ہوجا۔ تو اٹھ کھڑا ہو۔ اپنے بستر سے اٹھ کھڑے ہوجاؤ۔ یا عزم اور حوصلہ کے ساتھ کھڑے ہوجاؤ۔ فانذر : ف یہاں شرط کا فائدہ دیتا ہے۔ گویا کلام یوں ہے۔ حذرھم من عذاب ربک ان لم یؤمنوا (الخازن) ۔ اگر وہ ایمان نہیں لائے تو ان کو اپنے رب کے عذاب سے ڈراؤ۔ انذر۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ انذار (افعال) مصدر۔ بمعنی ڈرانا۔ ڈر سنانا۔ انذر متعدی بدو مفعول ہے ایک منذر (اسم مفعول) دوسرا منذر بہ (مفعول بہ) یہاں ان دونوں میں سے کوئی بھی مذکور نہیں ہے۔ وھو متعد لمفعولین المنذر باسم المفعول والمنذر بہ ولم یذکر ھنا واحد منھما۔ (اضواء البیان) کلام یوں ہے :۔ فانذرھم بعذاب ربک یہاں ہم سے مراد کفار قریش سے ہے (الخازن، مدارک التنزیل) یا یہ عامۃ الناس سب کے لئے ہے۔ صاحب اضواء البیان لکھتے ہیں :۔ وقد یکون للجمع ای لعامۃ الناس کما فی قولہ تعالیٰ : اکان للناس عجبا ان اوحینا الی رجل منھم ان انذر الناس وبشر الذین امنوا (10:2) کیا لوگوں کو تعجب ہوا کہ ہم نے انہی میں سے ایک مرد کو حکم بھیجا۔ کہ لوگوں کو ڈر سنا دو ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ یہاں تبشیر کو اس لئے نہیں فرمایا کہ یہ آیت بالکل ابتدائے نبوت کی ہے، اس وقت باستثناء ایک دو کے کوئی مسلمان نہ تھا تو انذار ہی انسب تھا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(2) اٹھ کھڑے ہو اور لوگوں کو ڈرائو۔