Surat ul Qiyama
Surah: 75
Verse: 21
سورة القيامة
وَ تَذَرُوۡنَ الۡاٰخِرَۃَ ﴿ؕ۲۱﴾
And leave the Hereafter.
اور آخرت کو چھوڑ بیٹھے ہو ۔
وَ تَذَرُوۡنَ الۡاٰخِرَۃَ ﴿ؕ۲۱﴾
And leave the Hereafter.
اور آخرت کو چھوڑ بیٹھے ہو ۔
But no! Rather you love the present life of this world. And neglect the Hereafter. meaning, the only thing that has caused them to reject the Day of Judgement and oppose the true revelation and the Mighty Qur'an Allah revealed to His Messenger is that their only concern is the present worldly life. They are preoccupied and distracted from the Hereafter. Seeing Allah in the Hereafter Then Allah says, وُجُوهٌ يَوْمَيِذٍ نَّاضِرَةٌ
21۔ 1 یعنی یوم قیامت کو جھٹلانا اور حق سے اعراض، اسلئے ہے کہ تم نے دنیا کی زندگی کو ہی سب کچھ سمجھ رکھا ہے اور آخرت تمہیں بالکل فراموش ہے۔
[١٣] اس جملہ معترضہ کے بعد اب پھر اصل مضمون کا تسلسل شروع ہو رہا ہے۔ کافروں کے انکار آخرت کی ایک وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ وہ آخرت کا اقرار کرکے اپنے آپ پر پابندی لگا لینا گوارا نہیں کرتے۔ ان دو آیات میں آخرت کے انکار کی دوسری وجہ بیان کی گئی ہے کہ تم لوگ صرف نقد بہ نقد سودا کے گاہک ہو، تم لوگ یہ چاہتے ہو کہ ایسا کام کرو جس کا عوض اسی دنیا میں مل جائے اور جن کاموں کا اجر آخرت میں ملنے کی توقع ہو ان کاموں کو تم نظر انداز کردیتے ہو۔ عوضانہ ادھار بھی ہو اور تمہارے خیال کے مطابق غیر یقینی بھی ہو تو پھر تم آخرت کو دنیا پر کیونکر ترجیح دے سکتے ہو ؟
وَتَذَرُوْنَ الْاٰخِرَۃَ ٢١ ۭ وذر [يقال : فلان يَذَرُ الشیءَ. أي : يقذفه لقلّة اعتداده به ] ، ولم يستعمل ماضيه . قال تعالی: قالُوا أَجِئْتَنا لِنَعْبُدَ اللَّهَ وَحْدَهُ وَنَذَرَ ما کانَ يَعْبُدُ آباؤُنا[ الأعراف/ 70] ، وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ [ الأعراف/ 127] ، فَذَرْهُمْ وَما يَفْتَرُونَ [ الأنعام/ 112] ، وَذَرُوا ما بَقِيَ مِنَ الرِّبا[ البقرة/ 278] إلى أمثاله وتخصیصه في قوله : وَيَذَرُونَ أَزْواجاً [ البقرة/ 234] ، ولم يقل : يترکون ويخلّفون، فإنه يذكر فيما بعد هذا الکتاب إن شاء اللہ . [ والوَذَرَةُ : قطعة من اللّحم، وتسمیتها بذلک لقلة الاعتداد بها نحو قولهم فيما لا يعتدّ به : هو لحم علی وضم ] «1» . ( و ذ ر ) یذر الشئی کے معنی کسی چیز کو قلت اعتداد کی وجہ سے پھینک دینے کے ہیں ( پھر صرف چھوڑ دینا کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے ۔ اس کا فعل ماضی استعمال نہیں ہوتا چناچہ فرمایا : ۔ قالُوا أَجِئْتَنا لِنَعْبُدَ اللَّهَ وَحْدَهُ وَنَذَرَ ما کانَ يَعْبُدُ آباؤُنا[ الأعراف/ 70] وہ کہنے لگے کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہم اکیلے خدا ہی کی عبادت کریں اور جن اور جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے چلے آئے ہیں ان کو چھوڑ دیں ۔ ؟ ، وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ [ الأعراف/ 127] اور آپ سے اور آپ کے معبودوں سے دست کش ہوجائیں ۔ فَذَرْهُمْ وَما يَفْتَرُونَ [ الأنعام/ 112] تو ان کو چھوڑ دو کہ وہ جانیں اور انکا جھوٹ ۔ وَذَرُوا ما بَقِيَ مِنَ الرِّبا[ البقرة/ 278] تو جتنا سو د باقی رہ گیا ہے اس کو چھوڑ دو ۔ ان کے علاوہ اور بھی بہت سی آیات ہیں جن میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے اور آیت : ۔ وَيَذَرُونَ أَزْواجاً [ البقرة/ 234] اور عورتیں چھوڑ جائیں ۔ میں یترکون یا یخلفون کی بجائے یذرون کا صیغہ اختیار میں جو خوبی ہے وہ اس کے بعد دوسری کتاب میں بیان کریں گے ۔ الو ذرۃ : گوشت کی چھوٹی سی بوٹی کو کہتے ہیں اور قلت اعتناء کے سبب اسے اس نام سے پکارتے ہیں جیسا کہ حقیر شخص کے متعلق ھو لحم علیٰ وضمی ( یعنی وہ ذلیل ہے ) کا محاورہ استعمال ہوتا ہے ۔ آخرت آخِر يقابل به الأوّل، وآخَر يقابل به الواحد، ويعبّر بالدار الآخرة عن النشأة الثانية، كما يعبّر بالدار الدنیا عن النشأة الأولی نحو : وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوانُ [ العنکبوت/ 64] ، وربما ترک ذکر الدار نحو قوله تعالی: أُولئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ [هود/ 16] . وقد توصف الدار بالآخرة تارةً ، وتضاف إليها تارةً نحو قوله تعالی: وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأنعام/ 32] ، وَلَدارُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ لِلَّذِينَ اتَّقَوْا «1» [يوسف/ 109] . وتقدیر الإضافة : دار الحیاة الآخرة . و «أُخَر» معدول عن تقدیر ما فيه الألف واللام، ولیس له نظیر في کلامهم، فإنّ أفعل من کذا، - إمّا أن يذكر معه «من» لفظا أو تقدیرا، فلا يثنّى ولا يجمع ولا يؤنّث . - وإمّا أن يحذف منه «من» فيدخل عليه الألف واللام فيثنّى ويجمع . وهذه اللفظة من بين أخواتها جوّز فيها ذلک من غير الألف واللام . اخر ۔ اول کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے اور اخر ( دوسرا ) واحد کے مقابلہ میں آتا ہے اور الدارالاخرۃ سے نشاۃ ثانیہ مراد لی جاتی ہے جس طرح کہ الدار الدنیا سے نشاۃ اولیٰ چناچہ فرمایا { وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ } ( سورة العنْکبوت 64) ہمیشہ کی زندگی کا مقام تو آخرت کا گھر ہے لیکن کھی الدار کا لفظ حذف کر کے صرف الاخرۃ کا صیغہ استعمال کیا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ { أُولَئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ } ( سورة هود 16) یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں آتش جہنم کے سوا اور کچھ نہیں ۔ اور دار کا لفظ کبھی اخرۃ کا موصوف ہوتا ہے اور کبھی اس کی طر ف مضاف ہو کر آتا ہے چناچہ فرمایا ۔ { وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ } ( سورة الأَنعام 32) اور یقینا آخرت کا گھر بہتر ہے ۔ ان کے لئے جو خدا سے ڈرتے ہیں ۔ (6 ۔ 32) { وَلَأَجْرُ الْآخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ } ( سورة النحل 41) اور آخرت کا اجر بہت بڑا ہے ۔ اگر وہ اسے جانتے ہوتے ۔ یہ اصل میں ولاجر دار الحیاۃ الاخرۃ ہے ( اور دار کا لفظ الحیاۃ الاخرۃ کی طرف مضاف ہے ) اور اخر ( جمع الاخریٰ ) کا لفظ الاخر ( معرف بلام ) سے معدول ہے اور کلام عرب میں اس کی دوسری نظیر نہیں ہے کیونکہ افعل من کذا ( یعنی صیغہ تفصیل ) کے ساتھ اگر لفظ من لفظا یا تقدیرا مذکورہ ہو تو نہ اس کا تثنیہ ہوتا اور نہ جمع اور نہ ہی تانیث آتی ہے اور اس کا تثنیہ جمع دونوں آسکتے ہیں لیکن لفظ آخر میں اس کے نظائر کے برعکس الف لام کے بغیر اس کے استعمال کو جائز سمجھا گیا ہے تو معلوم ہوا کہ یہ الاخر سے معدول ہے ۔
آیت ٢١{ وَتَذَرُوْنَ الْاٰخِرَۃَ ۔ } ” اور تم آخرت کو چھوڑ دیتے ہو۔ “ یہاں خطاب کا رخ کفار کی طرف ہے ۔ یعنی تمہارا اصل مرض ہی یہ ہے کہ تم لوگ ” حب ِعاجلہ “ میں مبتلاہو ‘ اپنی دنیا کی زندگی اور دنیا کے مال و اسباب سے محبت کرتے ہو اور اس کے مقابلے میں آخرت کو بالکل ہی نظر انداز کیے ہوئے ہو۔
15 This is the second reason for denying the Hereafter, the first being the one mentioned in verse 5 above, saying: Since man wants to avoid the moral restrictions which are inevitably imposed by the belief in the Hereafter, his selfish motives, in fact, urge him to deny the Hereafter, and then he tries to present arguments in order to rationalise his denial. Now, the second reason being presented is that the deniers of the Hereafter are narrow-minded and shortsighted; for them only those results are all important, which appear in this world, and they do not give any importance to those effects which will appear in the Hereafter. They think that they should expend all their labour and effort in attaining whatever benefits, pleasures or joys they can attain here, for if one attained this, one attained everything, no matter what evil end this might lead to in the Hereafter. Likewise, they think that the loss or trouble or grief that can afflict one here is a thing that one must avoid, no matter how great a reward it might earn one in the Hereafter if one endured it here. They are only interested in the cash bargain. For the sake of as remote a thing as the Hereafter they can neither abandon a profit nor suffer a loss today. With this mode of thought when they discuss the question of the Hereafter rationally, it is not true rationalism but a mode of thinking because of which they are resolved not to acknowledge the Hereafter in any case even if their conscience might be crying froth within that the arguments for the possible occurrence and necessity of the Hereafter given in the Qur'an are highly rational and their own reasoning against it is very weak.
سورة الْقِیٰمَة حاشیہ نمبر :15 یہ انکار آخرت کی دوسری وجہ ہے ۔ پہلی وجہ آیت نمبر 5 میں بیان کی گئی تھی کہ انسان چونکہ فجور کی کھلی چھوٹ چاہتا ہے اور ان اخلاقی پابندیوں سے بچنا چاہتا ہے جو آخرت کو ماننے سے لازماً اس پر عائد ہوتی ہیں ، اس لیے دراصل خواہشات نفس اسے انکار آخرت پر ابھارتی ہیں اور پھر وہ عقلی دلیلیں بگھارتا ہے تاکہ اپنے اس انکار کو معقول ثابت کرے ۔ اب دوسری وجہ یہ بیان کی جا رہی ہے کہ منکرین آخرت چونکہ تنگ نظر اور کوتاہ ہیں اس لیے ان کی نگاہ میں ساری اہمیت انہی نتائج کی ہے جو اسی دنیا میں ظاہر ہوتے ہیں اور ان نتائج کو وہ کوئی اہمیت نہیں دیتے جو آخرت میں ظاہر ہونے والے ہیں ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جو فائدہ یا لذت یا خوشی یہاں حاصل ہو جائے اسی کی طلب میں ساری محنتیں اور کوششیں کھپا دینی چاہیں کیونکہ اسے پا لیا تو گویا سب کچھ پا لیا ، خواہ آخرت میں اس کا انجام کتنا ہی بڑا ہو ۔ اسی طرح ان کا خیال یہ ہے کہ جو نقصان یا تکلیف یا رنج و غم یہاں پہنچ جائے وہی دراصل بچنے کے قابل چیز ہے ، قطع نظر اس سے کہ اس کی برداشت کر لینے کا کتنا ہی بڑا اجر آخرت میں مل سکتا ہو ۔ وہ نقد سودا چاہتے ہیں ۔ آخرت جیسی دور کی چیز کے لیے وہ نہ آج کے کسی نفع کو چھوڑ سکتے ہیں نہ کسی نقصان کو گوارا کر سکتے ہیں ۔ اس انداز فکر کے ساتھ جب وہ آخرت کے مسئلے پر عقلی بحثیں کرتے ہیں تو دراصل وہ خالص عقلیت نہیں ہوتی بلکہ اس کے پیچھے یہ انداز فکر کام کر رہا ہوتا ہے جس کی وجہ سے ان کا فیصلہ بہرحال یہی ہوتا ہے کہ آخرت کو نہیں ماننا ہے ، خواہ اندر سے ان کا ضمیر پکار پکار کر کہہ رہا ہو کہ آخرت کے امکان و قوع اور وجوب کی دلیلیں قرآن میں دی گئی ہیں وہ نہایت معقول ہیں اور اس کے خلاف جو استدلال وہ کر رہے ہیں وہ نہایت بودا ہے ۔
(75:21) وتذرون الاخرۃ واؤ عاطفہ، تذرون مضارع جمع مذکر حاضر وذر مصدر سے تم چھوڑ دیتے ہو الاخرۃ مفعول فعل تذرون کا۔ اور آخرۃ کو تم نے چھوڑ رکھا ہے۔
ف 6 یعنی دنیا میں منہمک اور آخرت سے بےپروا ہو اسی لئے آخرت سے انکار کرتے ہو۔ تمہارے انکار آخرت کی بنیاد ہرگز کوئی عقلی یا علمی دلیل نہیں ہے۔
7۔ پس بناء تمہاری اس نفی کی محض فاسد ہے، سو قیامت ضرور ہوگی اور ہر ایک کو اس کے اعمال پر مطلع کر کے ان اعمال کے مناسب جزا ملے گی۔
(21) اور آخرت کو چھوڑ بیٹھے ہو۔ دین حق کے منکروں کو خطاب ہے کہ قیامت ضرور ہوگی اور تمہارے اگلے پچھلے تمام اعمال سے تم کو آگاہ کیا جائے گا تم سمجھ رہے ہو کہ قیامت نہیں آئے گی ہرگز ایسا نہیں ہے بلکہ بات یہ ہے کہ تم دنیا سے محبت کرتے ہو اور آخرت کو نظر انداز کئے بیٹھے ہو، دنیا کو عاجلہ فرمایا چونکہ پیدا ہوتے ہی دنیا سے ملاقات ہوتی ہے اور جلدی سے سامنے آجاتی ہے اس لئے اس کو عاجلہ فرمایا سو تم دنیا کی محبت میں منہمک ہو اور آخرت سے غافل ہو سوروہ روم میں گزر چکا ہے یعلمون ظاھر امن الحیوۃ الدنیا وھم عن الاخرۃ ھم غفلون آگے قیامت کی مختصر سی تفصیل مذکور ہے ۔