Surat ul Qiyama

Surah: 75

Verse: 30

سورة القيامة

اِلٰی رَبِّکَ یَوۡمَئِذِ ۣ الۡمَسَاقُ ﴿ؕ٪۳۰﴾  17

To your Lord, that Day, will be the procession.

آج تیرے پروردگار کی طرف چلنا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The drive will be on that Day to your Lord! meaning, the place of return and the destination. This is that the soul ascends into the heavens and Allah says, "Return my servant to the earth, for verily, I have created them from it, I return them into it, and from it I will bring them out at another time." This has been reported in the lengthy Hadith of Al-Bara'. Verily, Allah says, وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُم حَفَظَةً حَتَّى إِذَا جَأءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لاَ يُفَرِّطُونَ ثُمَّ رُدُّواْ إِلَى اللَّهِ مَوْلَـهُمُ الْحَقِّ أَلاَ لَهُ الْحُكْمُ وَهُوَ أَسْرَعُ الْحَـسِبِينَ He is the Irresistible (Supreme), over His servants, and He sends guardians over you, until when death approaches one of you, Our messengers take his soul, and they never neglect their duty. Then they are returned to Allah, their True Master. Surely, for Him is the judgement and He is the swiftest in taking account. (6:61,62) Mentioning the Case of the Denier Allah says, فَلَ صَدَّقَ وَلاَ صَلَّى

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِلٰى رَبِّكَ يَوْمَىِٕذِۨ الْمَسَاقُ۝ ٣٠ ۭۧ إلى إلى: حرف يحدّ به النهاية من الجوانب الست، وأَلَوْتُ في الأمر : قصّرت فيه، هو منه، كأنه رأى فيه الانتهاء، وأَلَوْتُ فلانا، أي : أولیته تقصیرا نحو : کسبته، أي : أولیته کسبا، وما ألوته جهدا، أي : ما أولیته تقصیرا بحسب الجهد، فقولک : «جهدا» تمييز، وکذلك : ما ألوته نصحا . وقوله تعالی: لا يَأْلُونَكُمْ خَبالًا[ آل عمران/ 118] منه، أي : لا يقصّرون في جلب الخبال، وقال تعالی: وَلا يَأْتَلِ أُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ [ النور/ 22] قيل : هو يفتعل من ألوت، وقیل : هو من : آلیت : حلفت . وقیل : نزل ذلک في أبي بكر، وکان قد حلف علی مسطح أن يزوي عنه فضله وردّ هذا بعضهم بأنّ افتعل قلّما يبنی من «أفعل» ، إنما يبنی من «فعل» ، وذلک مثل : کسبت واکتسبت، وصنعت واصطنعت، ورأيت وارتأيت . وروي : «لا دریت ولا ائتلیت»وذلک : افتعلت من قولک : ما ألوته شيئا، كأنه قيل : ولا استطعت . الیٰ ۔ حرف ( جر ) ہے اور جہات ستہ میں سے کسی جہت کی نہایتہ حدبیان کرنے کے لئے آتا ہے ۔ ( ا ل و ) الوت فی الامر کے معنی ہیں کسی کام میں کو تا ہی کرنا گو یا کوتاہی کرنے والا سمجھتا ہے کہ اس امر کی انتہا یہی ہے ۔ اور الوت فلانا کے معنی اولیتہ تقصیرا ( میں نے اس کوتاہی کا والی بنا دیا ) کے ہیں جیسے کسبتہ ای اولیتہ کسبا ( میں نے اسے کسب کا ولی بنا دیا ) ماالوتہ جھدا میں نے مقدر پھر اس سے کوتاہی نہیں کی اس میں جھدا تمیز ہے جس طرح ماالوتہ نصحا میں نصحا ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ { لَا يَأْلُونَكُمْ خَبَالًا } ( سورة آل عمران 118) یعنی یہ لوگ تمہاری خرابی چاہنے میں کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے ۔ اور آیت کریمہ :{ وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ } ( سورة النور 22) اور جو لوگ تم میں سے صاحب فضل داور صاحب وسعت ) ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھائیں ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ یہ الوت سے باب افتعال ہے اور بعض نے الیت بمعنی حلفت سے مانا ہے اور کہا ہے کہ یہ آیت حضرت ابوبکر کے متعلق نازل ہوئی تھی جب کہ انہوں نے قسم کھائی تھی کہ وہ آئندہ مسطح کی مالی امداد نہیں کریں گے ۔ لیکن اس پر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ فعل ( مجرد ) سے بنایا جاتا ہے جیسے :۔ کبت سے اکتسبت اور صنعت سے اصطنعت اور رایت سے ارتایت اور روایت (12) لا دریت ولا ائتلیت میں بھی ماالوتہ شئیا سے افتعال کا صیغہ ہے ۔ گویا اس کے معنی ولا استطعت کے ہیں ( یعنی تونے نہ جانا اور نہ تجھے اس کی استطاعت ہوئ ) اصل میں رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٠{ اِلٰی رَبِّکَ یَوْمَئِذِ نِالْمَسَاقُ ۔ } ” اس دن تو تیرے رب ہی کی طرف دھکیلے جانا ہے۔ “ نوٹ کیجیے ‘ گزشتہ آیات کے بعد ہم آواز الفاظ سے بننے والا مخصوص صوتی آہنگ ایک مرتبہ پھر تبدیل ہورہا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 12 یعنی دنیا کی زندگی ختم ہوئی اب جواب دہی کا وقت آیا۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

الی ............ المساق (75:30) ” وہ دن ہوگا تیرے رب کی طرف روانگی کا “۔ یہ منظر اس قدر زندہ اور متحرک ہے کہ انسان کو ریل پر چلتا ہوا نظر آتا ہے۔ اور ہر لفظ ایک حرکت کو مصور کررہا ہے۔ ہر لمحہ اور ہر قفرہ دوڑ دھوپ اور حرکت کو ظاہر کرتا ہے۔ جوں جوں موت قریب آتی ہے لوگوں کی حرکت اور جزع فزع میں تیزی آتی ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جس کی طرف پورا مجمع بڑھ رہا ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں تمام علاج ناکام ہوگئے ہیں۔ اور آخری منظر آتا ہے۔ الی ربک .................... المساق (75:30) ” یہ تو تیرے رب کی طرف چلنے کا دن ہے “۔ اب پردہ گرتا ہے ، لیکن ہمارے تخیل کے پردے پر تصویر جمی ہوئی ہے۔ ہمارے احساسات پر انمٹ نقوش بیٹھے ہیں۔ اب فضا پر مہیب خاموشی ہے۔ کہیں کہیں رونے کی آواز آرہی ہے۔ اس زندہ ، حقیقی اور ناقابل دفاع منظر کے سامنے اب جھٹلانے والوں اور مدہوس اور غافل لوگوں کا بھی ایک نقشہ ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو عمل اور اطاعت نہ کرنے کی وجہ سے سعادت سے محروم ہیں۔ ان کے دامن میں معاصی اور نافرمانیاں ہی ہیں اور یہ لوگ لہو ولعب میں مصروف ہیں اور اپنے اس حال میں مگن ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(30) اس روز تیرے پروردگار کی جانب کشاں کشاں جانا۔ یعنی خوشی یا نہ خوشی بہرحال کھینچ کر تیرے پروردگار کی جانب چلا جانا ہے یہ حالت وہ ہے کہ دیکھنے والے دیکھتے ہیں اور عاجز و لاچار ہوتے ہیں پھر بھی قیامت کا یقین نہیں کرتے اور عاجلہ کی محبت سے باز نہیں آتے۔ حضرت سعدی نے کیا خوب فرمایا ہے۔ ؎ روز گا رم بشد نبا دانی من نکروم شما حدز بکنید اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھتے ہیں اور غفلت کا یہ عالم ہے کہ ہم کو ذرا احساس نہیں ہوتا اللہ تعالیٰ نے اپنے فصیح کلام میں کس درد انگیز انداز میں موت کا نقشہ کھینچا ہے۔ اللھم انی اسئلک حسن الخاتمہ۔ اللھم احسن عاقبتا فی الامور کلھا واجرنا من خزی الدنیا و عذاب الاخرۃ آگے مرنے کے بعد منکر انسان کی حالت کا بیان ہے۔