Surat ul Qiyama
Surah: 75
Verse: 36
سورة القيامة
اَیَحۡسَبُ الۡاِنۡسَانُ اَنۡ یُّتۡرَکَ سُدًی ﴿ؕ۳۶﴾
Does man think that he will be left neglected?
کیا انسان یہ سمجھتا ہے کے اسے بیکار چھوڑ دیا جائے گا ۔
اَیَحۡسَبُ الۡاِنۡسَانُ اَنۡ یُّتۡرَکَ سُدًی ﴿ؕ۳۶﴾
Does man think that he will be left neglected?
کیا انسان یہ سمجھتا ہے کے اسے بیکار چھوڑ دیا جائے گا ۔
Does man think that he will be left neglected As-Suddi said, "Meaning not resurrected." Mujahid, Ash-Shafi`i and `Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam, all said, "Meaning, he will not be commanded and prohibited." Apparently the Ayah includes both meanings. - This means that he will not be left neglected in this worldly life, without being commanded and prohibited. - He also will not be left neglected in his grave unattended to without being resurrected. Rather he will be commanded and prohibited in this life, and gathered back to Allah in the abode of the Hereafter. The intent here is to affirm the existence of the abode of the final return and to refute whoever rejects it from the people of deviance, ignorance and stubbornness. Thus, Allah uses the beginning of creation as a proof for the repetition of the creation in His saying, أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِيٍّ يُمْنَى
36۔ 1 یعنی اس کو کسی چیز کا حکم دیا جائے گا، نہ کسی چیز سے منع کیا جائے گا، نہ اس کا محاسبہ ہوگا۔ یا اس کی قبر میں ہمیشہ کے لئے چھوڑ دیا جائے گا، وہاں سے اسے دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا۔
[٢٠] یعنی اللہ نے انسان کو بیشمار ایسی قوتیں عطا فرمائی ہیں جو دوسرے جانداروں کو عطا نہیں کی گئیں۔ لہذا جو انسان یہ سمجھتا ہے کہ جس طرح دوسرے جاندار پیدا ہوتے اور مرجاتے ہیں اور ان پر کسی طرح کی کچھ ذمہ داری نہیں اسی طرح انسان کا بھی حال ہے۔ اس کی یہ سوچ نہایت احمقانہ اور غیر دانشمندانہ ہے۔ اسے دوسرے جانداروں سے ممتاز کرنے کی آخر اللہ میاں کو کیا ضرورت تھی ؟ بلکہ اس سے اگلا سوال یہ ہے کہ اگر انسان کی زندگی بھی ویسی ہی غیر ذمہ دارانہ سمجھی جائے جیسے دوسرے جانداروں کی ہے تو انسان کو پیدا کرنے کی ہی کیا ضرورت تھی ؟
(١) ایحسب الانسان ان یثرک سدی …:” سدی “ وہ اونٹ جو کھلے چھوڑ دیئیج ائیں، انہیں ” ایل سدی “ کہتے ہیں، یعنی کھلا چھوڑا ہوا ، جس سے کوئی باز پرس نہ ہو۔” یمنی “” امنی یمنی “ (افعال) سے مضارع مجہول ہے، گرایا جاتا ہے، ٹپ کیا ا جاتا ہے۔ (٢) حشر و نشر کے منکر اس بات کو ناممکن قرار یدتے تھے کہ بوسیدہ ہڈیاں دوبارہ زندہ ہوں گی اور ان کا محاسبہ ہوگا۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو دوبارہ زندہ کر کے اس سے حساب لینے کی دلیل بیان فرمایا ہے کہ کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے پوچھے بغیر ہی رہنے دیا جائے گا ؟ نہیں، یہ غلط سوچ ہے، جس قادر مطلق نے پانی جیسی پتلی چیز کی ایک بوند کو رحم مادر میں مے ہوئے خون میں بدلنے کے بعد گوشت، ہڈیاں اور تمام اعضا مکمل کر کے روح پھونک کر مرد یا عورت کی صورت والا زندہ انسان بنادیا، تو اس کے لئے اسی کی مٹی کو دوبارہ اصل شکل میں لے آنا کیا مشکل ہے ؟ اس کے علاوہ اگر انسان اپنی اصل پر غور کرے کہ وہ ایک حقیر قطرہ تھا جو باپ کے ان اعضا سے ماں کے ان اعضا میں گرایا گیا جن کا نام بیھ شرم و حیا کی وجہ سے نہیں لیا جاتا، پھر وہاں مختلف مراحل سے گزار کر اس کی مکمل صورت گری کے بعد اسے اسی راستے سے واپس لایا گیا جس کا ذکر ہی موجب حیا ہے۔ اب کیا انسان کو یہ زیب دیتا ہے کہ اپنے پیدا کرنے والے کے سامنے سرکشی کرے اور اکڑ کر چلے اور یہ سمجھے کہ اسے کوئی پوچھنے والا ہی نہیں ؟
اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ يُّتْرَكَ سُدًى ٣٦ ۭ الف ( ا) الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع : - نوع في صدر الکلام . - ونوع في وسطه . - ونوع في آخره . فالذي في صدر الکلام أضرب : - الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية . فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْداً [ البقرة/ 80] ، آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ [يونس/ 91] ، أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144] ، أَفَإِنْ مِتَّ فَهُمُ الْخالِدُونَ [ الأنبیاء/ 34] ، أَكانَ لِلنَّاسِ عَجَباً [يونس/ 2] ، آلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ الْأُنْثَيَيْنِ [ الأنعام/ 144] . والتسوية نحو : سَواءٌ عَلَيْنا أَجَزِعْنا أَمْ صَبَرْنا [إبراهيم/ 21] ، سَواءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لا يُؤْمِنُونَ [ البقرة/ 6] «1» ، وهذه الألف متی دخلت علی الإثبات تجعله نفیا، نحو : أخرج ؟ هذا اللفظ ينفي الخروج، فلهذا سأل عن إثباته نحو ما تقدّم . وإذا دخلت علی نفي تجعله إثباتا، لأنه يصير معها نفیا يحصل منهما إثبات، نحو : أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ [ الأعراف/ 172] «2» ، أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحاكِمِينَ [ التین/ 8] ، أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ [ الرعد/ 41] ، أَوَلَمْ تَأْتِهِمْ بَيِّنَةُ [ طه/ 133] أَوَلا يَرَوْنَ [ التوبة : 126] ، أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ [ فاطر/ 37] . - الثاني : ألف المخبر عن نفسه نحو : أسمع وأبصر . - الثالث : ألف الأمر، قطعا کان أو وصلا، نحو : أَنْزِلْ عَلَيْنا مائِدَةً مِنَ السَّماءِ [ المائدة/ 114] ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتاً فِي الْجَنَّةِ [ التحریم/ 11] ونحوهما . - الرابع : الألف مع لام التعریف «4» ، نحو : العالمین . - الخامس : ألف النداء، نحو : أزيد، أي : يا زيد . والنوع الذي في الوسط : الألف التي للتثنية، والألف في بعض الجموع في نحو : مسلمات ونحو مساکين . والنوع الذي في آخره : ألف التأنيث في حبلی وبیضاء «5» ، وألف الضمیر في التثنية، نحو : اذهبا . والذي في أواخر الآیات الجارية مجری أواخر الأبيات، نحو : وَتَظُنُّونَ بِاللَّهِ الظُّنُونَا [ الأحزاب/ 10] ، فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا [ الأحزاب/ 67] ، لکن هذه الألف لا تثبت معنی، وإنما ذلک لإصلاح اللفظ . ا : الف با معنی کی تین قسمیں ہیں ۔ ایک وہ جو شروع کلام میں آتا ہے ۔ دوسرا وہ جو وسط کلام میں واقع ہو ۔ تیسرا وہ جو آخر کلام میں آئے ۔ ( ا) وہ الف جو شروع کلام میں آتا ہے ۔ اس کی چند قسمیں ہیں : ۔ (1) الف الاستخبار اسے ہمزہ استفہام کہنے کے بجائے الف استخبار کہنا زیادہ صحیح ہوگا ۔ کیونکہ اس میں عمومیت ہے جو استفہام و انکار نفی تبکیت پر زجرو تو بیخ ) تسویہ سب پر حاوی ہے۔ چناچہ معنی استفہام میں فرمایا ۔ { أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ } [ البقرة : 30]( انہوں نے کہا ) کیا تو اس میں ایسے شخص کو نائب بنانا چاہتا ہے جو خرابیاں کرے اور کشت و خون کرتا پھرے اور تبکیت یعنی سرزنش کبھی مخاطب کو ہوتی ہے اور کبھی غیر کو چناچہ ( قسم اول کے متعلق ) فرمایا :۔ (1){ أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُم } [ الأحقاف : 20] تم اپنی لذتیں حاصل کرچکے ۔ (2) { أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدًا } [ البقرة : 80] کیا تم نے خدا سے اقرار لے رکھا ہے ؟ (3) { آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ } [يونس : 91] کیا اب ( ایمان لاتا ہے ) حالانکہ تو پہلے نافرمانی کرتا رہا ؟ اور غیر مخاظب کے متعلق فرمایا :۔ (4) { أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا } [يونس : 2] کیا لوگوں کے لئے تعجب خیز ہے ؟ (5) { أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِل } [ آل عمران : 144] تو کیا اگر یہ مرجائیں یا مارے جائیں ؟ (6) { أَفَإِنْ مِتَّ فَهُمُ الْخَالِدُونَ } [ الأنبیاء : 34] بھلا اگر تم مرگئے تو کیا یہ لوگ ہمیشہ رہیں گے ؟ (7) { آلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ الْأُنْثَيَيْنِ } [ الأنعام : 143] بتاؤ تو ( خدا نے ) دونوں نروں کو حرام کیا ہے ۔ یا دونوں ماديؤں کو ۔ اور معنی تسویہ میں فرمایا ، { سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَجَزِعْنَا أَمْ صَبَرْنَا } [إبراهيم : 21] اب ہم گهبرائیں یا صبر کریں ہمارے حق میں برابر ہے ۔ { سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ } ( سورة البقرة 6) تم خواہ انہیں نصیحت کردیا نہ کرو ان کے لئے برابر ہے ، وہ ایمان نہیں لانے کے ۔ اور یہ الف ( استخبار ) کلام مثبت پر داخل ہو تو اسے نفی میں تبدیل کردیتا ہے ۔ جیسے اخرج ( وہ باہر نہیں نکلا ) کہ اس میں نفی خروج کے معنی پائے جائے ہیں ۔ اس لئے کہ اگر نفی کے معنی نہ ہوتے تو اس کے اثبات کے متعلق سوال نہ ہوتا ۔ اور جب کلام منفی پر داخل ہو تو اسے مثبت بنا دیتا ہے ۔ کیونکہ کلام منفی پر داخل ہونے سے نفی کی نفی ہوئی ۔ اور اس طرح اثبات پیدا ہوجاتا ہے چناچہ فرمایا :۔ { أَلَسْتُ بِرَبِّكُم } [ الأعراف : 172] کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں ( یعنی ضرور ہوں ) { أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ } [ التین : 8] کیا اللہ سب سے بڑا حاکم نہیں ہے یعنی ضرور ہے ۔ { أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ } [ الرعد : 41] کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم زمین کا بندوبست کرتے ہیں ۔ { أَوَلَمْ تَأْتِهِمْ بَيِّنَة } [ طه : 133] کیا ان کے پاس کھلی نشانی نہیں آئی ۔ { أَوَلَا يَرَوْنَ } [ التوبة : 126] اور کیا یہ نہیں دیکھتے { أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُم } [ فاطر : 37] اور کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہیں دی ۔ (2) الف جو مضارع کے صیغہ واحد متکلم کے شروع میں آتا ہے اور میں |" کے معنی رکھتا ہے جیسے اسمع و ابصر یعنی میں سنتاہوں اور میں دیکھتا ہوں (3) ہمزہ فعل امر خواہ قطعی ہو یا وصلي جیسے فرمایا :۔ { أَنْزِلْ عَلَيْنَا مَائِدَةً مِنَ السَّمَاءِ } [ المائدة : 114] ہم پر آسمان سے خوان نازل فرما ۔ { رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ } [ التحریم : 11] اے میرے پروردگار میرے لئے بہشت میں اپنے پاس ایک گھر بنا ۔ (4) الف جو لام کے ساتھ معرفہ بنانے کے لئے آیا ہے جیسے فرمایا { الْعَالَمِينَ } [ الفاتحة : 2] تمام جہانوں (5) الف نداء جیسے ازید ( اے زید ) ( ب) وہ الف جو وسط کلمہ میں آتا ہے اس کی پہلی قسم الف تثنیہ ہے ( مثلا رجلان ) اور دوسری وہ جو بعض اوزان جمع میں پائی جاتی ہے مثلا مسلمات و مساکین ۔ ( ج) اب رہا وہ الف جو کلمہ کے آخر میں آتا ہے ۔ وہ یا تو تانیث کے لئے ہوتا ہے جیسے حبلیٰ اور بَيْضَاءُمیں آخری الف یا پھر تثنیہ میں ضمیر کے لئے جیسا کہ { اذْهَبَا } [ الفرقان : 36] میں آخر کا الف ہے ۔ وہ الف جو آیات قرآنی کے آخر میں کہیں بڑھا دیا جاتا ہے جیسے { وَتَظُنُّونَ بِاللَّهِ الظُّنُونَا } [ الأحزاب : 10] { فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا } [ الأحزاب : 67] تو یہ کوئی معنوی اضافہ نہیں کرتا بلکہ محض لفظی اصلاح ( اور صوتی ہم آہنگی ) کے لئے آخر میں بڑھا دیا جاتا ہے ( جیسا کہ ابیات کے اواخر میں الف |" اشباع پڑھاد یتے ہیں ) حسب ( گمان) والحِسبةُ : فعل ما يحتسب به عند اللہ تعالی. الم أَحَسِبَ النَّاسُ [ العنکبوت/ 1- 2] ، أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئاتِ [ العنکبوت/ 4] ، وَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ [إبراهيم/ 42] ، فَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِ رُسُلَهُ [إبراهيم/ 47] ، أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ [ البقرة/ 214] ( ح س ب ) الحساب اور الحسبة جس کا معنی ہے گمان یا خیال کرنا اور آیات : ۔ الم أَحَسِبَ النَّاسُ [ العنکبوت/ 1- 2] کیا لوگ یہ خیال کئے ہوئے ہیں ۔ کیا وہ لوگ جو بڑے کام کرتے ہیں یہ سمجھے ہوئے ہیں : وَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ [إبراهيم/ 42] اور ( مومنو ) مت خیال کرنا کہ یہ ظالم جو عمل کررہے ہیں خدا ان سے بیخبر ہے ۔ فَلا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِ رُسُلَهُ [إبراهيم/ 47] تو ایسا خیال نہ کرنا کہ خدا نے جو اپنے پیغمبروں سے وعدہ کیا ہے اس کے خلاف کرے گا : أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ [ البقرة/ 214] کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ( یوں ہی ) جنت میں داخل ہوجاؤ گے ۔ إنس الإنس : خلاف الجن، والأنس : خلاف النفور، والإنسيّ منسوب إلى الإنس يقال ذلک لمن کثر أنسه، ولكلّ ما يؤنس به، ولهذا قيل :إنسيّ الدابة للجانب الذي يلي الراکب وإنسيّ القوس : للجانب الذي يقبل علی الرامي . والإنسيّ من کل شيء : ما يلي الإنسان، والوحشيّ : ما يلي الجانب الآخر له . وجمع الإنس أَناسيُّ ، قال اللہ تعالی: وَأَناسِيَّ كَثِيراً [ الفرقان/ 49] . وقیل ابن إنسک للنفس وقوله عزّ وجل : فَإِنْ آنَسْتُمْ مِنْهُمْ رُشْداً [ النساء/ 6] أي : أبصرتم أنسا بهم، وآنَسْتُ ناراً [ طه/ 10] ، وقوله : حَتَّى تَسْتَأْنِسُوا[ النور/ 27] أي : تجدوا إيناسا . والإِنسان قيل : سمّي بذلک لأنه خلق خلقة لا قوام له إلا بإنس بعضهم ببعض، ولهذا قيل : الإنسان مدنيّ بالطبع، من حيث لا قوام لبعضهم إلا ببعض، ولا يمكنه أن يقوم بجمیع أسبابه، وقیل : سمّي بذلک لأنه يأنس بكلّ ما يألفه وقیل : هو إفعلان، وأصله : إنسیان، سمّي بذلک لأنه عهد اللہ إليه فنسي . ( ان س ) الانس یہ جن کی ضد ہے اور انس ( بضمہ الہمزہ ) نفور کی ضد ہے اور انسی ۔ انس کی طرف منسوب ہے اور انسی اسے کہا جاتا ہے ۔ جو بہت زیادہ مانوس ہو اور ہر وہ چیز جس سے انس کیا جائے اسے بھی انسی کہدیتے ہیں اور جانور یا کمان کی وہ جانب جو سوار یا کمانچی کی طرف ہو اسے انسی کہا جاتا ہے اور اس کے بالمقابل دوسری جانب کو وحشی کہتے ہیں انس کی جمع اناسی ہے قرآن میں ہے :۔ { وَأَنَاسِيَّ كَثِيرًا } ( سورة الفرقان 49) بہت سے ( چوریاں ) اور آدمیوں کو ۔ اور نفس انسانی کو ابن انسک کہا جاتا ہے ۔ انس ( افعال ) کے معنی کسی چیز سے انس پانا یا دیکھتا ہیں ۔ قرآن میں ہے :۔ { فَإِنْ آنَسْتُمْ مِنْهُمْ رُشْدًا } ( سورة النساء 6) اگر ان میں عقل کی پختگی دیکھو ۔ انست نارا (27 ۔ 7) میں نے آگ دیکھی ۔ اور آیت کریمہ :۔ { حَتَّى تَسْتَأْنِسُوا } ( سورة النور 27) کا مطلب یہ ہے کہ جب تک تم ان سے اجازت لے کر انس پیدا نہ کرلو ۔ الانسان ۔ انسان چونکہ فطرۃ ہی کچھ اس قسم کا واقع ہوا ہے کہ اس کی زندگی کا مزاج باہم انس اور میل جول کے بغیر نہیں بن سکتا اس لئے اسے انسان کے نام سے موسوم کیا گیا ہے اسی بنا پر یہ کہا گیا ہے کہ انسان طبعی طور پر متمدن واقع ہوا ہے ۔ کیونکہ وہ آپس میں بیل جوں کے بغیر نہیں رہ سکتا اور نہ ہی اکیلا ضروریات زندگی کا انتظام کرسکتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ اسے جس چیز سے محبت ہوتی ہے اسی سے مانوس ہوجاتا ہے ۔ اس لئے اسے انسان کہا جاتا ہے ۔ بعض کا قول ہے کہ انسان اصل میں انسیان پر وزن افعلان ہے اور ( انسان ) چونکہ اپنے عہد کو بھول گیا تھا اس لئے اسے انسان کہا گیا ہے ۔ ترك تَرْكُ الشیء : رفضه قصدا واختیارا، أو قهرا واضطرارا، فمن الأول : وَتَرَكْنا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ [ الكهف/ 99] ، وقوله : وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً [ الدخان/ 24] ، ومن الثاني : كَمْ تَرَكُوا مِنْ جَنَّاتٍ [ الدخان/ 25] ( ت ر ک) ترک الشیئء کے معنی کسی چیز کو چھوڑ دینا کے ہیں خواہ وہ چھوڑنا ارادہ اختیار سے ہو اور خواہ مجبورا چناچہ ارادۃ اور اختیار کے ساتھ چھوڑنے کے متعلق فرمایا : ۔ وَتَرَكْنا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ [ الكهف/ 99] اس روز ہم ان کو چھوڑ دیں گے کہ ور وئے زمین پر پھل کر ( ایک دوسری میں گھسن جائیں وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْواً [ الدخان/ 24] اور دریا سے ( کہ ) خشک ( ہورہا ہوگا ) پاور ہوجاؤ ۔ اور بحالت مجبوری چھوڑ نے کے متعلق فرمایا : كَمْ تَرَكُوا مِنْ جَنَّاتٍ [ الدخان/ 25] وہ لوگ بہت سے جب باغ چھوڑ گئے ۔ ( سدی) ، صفة مشتّقة للواحد والجمع يقال : إبل سدی أي مهملة .. و ( الألف) منقلبة عن ياء .. وقال العکبري : الألف منقلبة عن واو .. وجاء في المصباح سدیت الأرض فهي سدية من باب تعب کثر سداها وسدا الرجل سدوا من باب قال مدّ يده نحو الشیء، وسدا البعیر سدوا مدّ يده في السیر .. وأسدیته تركته سدی أي مهملا .( اعراب القرآن)
کیا ابوجہل یہ سمجھتا ہے کہ اسے یوں ہی بغیر امر و نہی کے چھوڑ دیا جائے گا۔
آیت ٣٦{ اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ یُّتْرَکَ سُدًی ۔ } ” کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے یوں ہی چھوڑ دیا جائے گا ؟ “ کیا یہ لوگ اپنی دنیوی زندگی کو ہی اصل زندگی سمجھے بیٹھے ہیں ؟ کیا یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا اور ان کا حساب کتاب نہیں ہوگا ؟ اور انہیں ان کے کرتوتوں کا خمیازہ نہیں بھگتنا پڑے گا ؟
23 Now, in conclusion, the same theme is being repeated with which the discourse began Life-after-death is necessary as well as possible. 24 The word suda when used with regard to a camel implies a camel who is wandering aimlessly, grazing at will, without there being anybody to look after him. Thus, the verse means: "Dces tnan think that he has been left to himself to wander at will as if his Creator had laid no responsibility on him, had imposed no duty on him, had forbidden nothing to him, that at no time in future he would be required to account for his deeds'?" This same theme has been expressed in AlMu'minun: 115 thus: "On the Day of Resurrection, AIIah will ask the disbelievers: 'Did you think that We had created you without any purpose, and that you would never be brought back to Us?" At both these places the argument for the necessity of the life hereafter has been presented as a question. The question means: Do you really think that you are no more than mere animals? Don't you see the manifest difference between yourself and the animal? The animal has been created without the power of choice and authority, but you have been blessed with the power of choice and authority; there is no question of morality about what the animal dces, but your acts are necessarily characterised by good and evil. Then, how did you take it into your head that you had been created irresponsible and unanswerable as the animal has been? Why the animal will not be resurrected, is quite understandable The animal only fulfilled the fixed demands of its instinct it did not use its intellect to propound a philosophy; it did not invent a religion; it did not snake anyone its god nor became a god for others; it did nothing that could be called good or bad; it did not enforce a good or bad way of life, which would influence others, generation after generation, so that it should deserve a reward or punishment for it. Hence, if it perished to annihilation, it would be understandable, for it could not be held responsible for any of its acts to account for which it might treed to be resurrected. But how could you be excused from life after-death when right till the time of your death you continued to perform moral acts, which your own intellect judged as good or bad and worthy of reward or punishment? Should a man who killed an innocent person and then fell a victim to a sudden accident immediately after it, get off Scot-free and should never be punished for the crime of murder he committed? Do you really feel satisfied that a man, who sowed corruption and iniquity in the world, which entailed evil consequences for mankind for centuries after him, should himself perish like an insect; or a grasshopper, and should never be resurrected to account for his misdeeds, which corrupted the lives of hundreds of thousands of human beings after him? Do you think that the man, who struggled throughout his life for the cause of truth and justice, goodness and peace, and suffered hardships for their sake, was a creation of the kind of an insect, and had no right to be rewarded for his good acts?
سورة الْقِیٰمَة حاشیہ نمبر :23 اب کلام کو ختم کرتے ہوئے اسی مضمون کا اعادہ کیا جا رہا ہے جس سے کلام کا آغاز کیا گیا تھا ، یعنی زندگی بعد موت ضروری بھی ہے اور ممکن بھی ۔ سورة الْقِیٰمَة حاشیہ نمبر :24 عربی زبان میں ابل سدی اس اونٹ کے لیے بولتے ہیں جو یونہی چھوٹا پھر رہا ہو ، جدھر چاہے چرتا پھرے ، کوئی اس کی نگرانی کرنے والا نہ ہو ۔ اسی معنی میں ہم شتر بے مہار کا لفظ بولتے ہیں ۔ پس آیت کا مطلب یہ ہے کہ کیا انسان نے اپنے آپ کو شتر بے مہار سمجھ رکھا ہے کہ اس کے خالق نے اسے زمین میں غیر ذمہ دار بنا کر چھوڑ دیا ہو؟ کوئی فرض اس پر عائد نہ ہو ؟ کوئی چیز اس کے لیے ممنوع نہ ہو؟ اور کوئی وقت ایسا آنے والا نہ ہو جب اس سے اس کے اعمال کی باز پرس کی جائے؟ یہی بات ایک دوسرے مقام پر قرآن مجید میں اسی طرح بیان کی گئی ہے کہ قیامت کے روز اللہ تعالی کفار سے فرمائے گا: افحسبتم انما خلقنکم عبثا و انکم الینا لا ترجعون ۔ کیا تم نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ ہم نے تمہیں فضول ہی پیدا کیا ہے اور تمہیں کبھی ہماری طرف پلٹ کر نہیں آنا ہے ؟ ( المؤمنون ۔ 115 ) ان دونوں مقامات پر زندگی بعد موت کے واجب ہونے کی دلیل سوال کی شکل میں پیش کی گئی ہے ۔ سوال کا مطلب یہ ہے کہ کیا واقعی تم نے اپنے آپ کو جانور سمجھ رکھا ہے؟ کیا تمہیں اپنے اور جانور میں یہ کھلا فرق نظر نہیں آتا کہ وہ بے اختیار ہے اور تم با اختیار ، اس کے افعال میں اخلاقی حسن و قبح کا سوال پیدا نہیں ہوتا اور تمہارے افعال میں یہ سوال لازماً پیدا ہوتا ہے؟ پھر تم نے اپنے متعلق یہ کیسے سمجھ لیا کہ جس طرح جانور غیر ذمہ دار اور غیر جواب دہ ہے اس طرح تم بھی ہو؟ جانور کے دوبارہ زندہ کر کے نہ اٹھائے جانے کی معقول وجہ تو سمجھ میں آتی ہے کہ اس نے صرف اپنی جبلت کے لگے بندھے تقاضے پورے کیے ہیں ، اپنی عقل سے کام لے کر کوئی فلسفہ تصنیف نہیں کیا ، کوئی مذہب ایجاد نہیں کیا ، کسی کو معبود نہیں بتایا نہ خود کسی کا معبود بنا ، کوئی کام ایسا نہیں کیا جسے نیک یا بد کہا جا سکتا ہو ، کوئی اچھی یا بری سنت جاری نہیں کی جس کے ا ثرات نسل در نسل چلتے رہیں اور وہ ان پر کسی اجر یا سزا کا مستحق ہو ۔ لہذا وہ اگر مر کر فنا ہو جائے تو یہ سمجھ میں آنے کے قابل بات ہے کیونکہ اس پر اپنے کسی عمل کی ذمہ داری عائد ہی نہیں ہوتی جس کی باز پرس کے لیے اسے دوبارہ زندہ کر کے اٹھانے کی کوئی حاجت ہو ۔ لیکن تم حیات بعد موت سے کیسے معاف کیے جا سکتے ہو جبکہ عین اپنی موت کے وقت تک تم ایسے ا خلاقی افعال کرتے رہتے ہو جن کے نیک یا بد ہونے اور جزا یا سزا کے مستوجب ہونے کا تمہاری عقل خود لگاتی ہے؟ جس آدمی نے کسی بے گناہ کو قتل کیا اور فواً ہی اچانک کسی حادثے کا شکار ہو گیا ، کیا تمہارے نزدیک اس کو نلوہ ( Scot free ) چھوٹ جانا چاہیے اور اس ظلم کا بدلہ اسے کبھی نہ ملنا چاہیے؟ جو آدمی دنیا میں کسی ایسے فساد کا بیج بو گیا جس کا خمیازہ اس کے بعد صدیوں تک انسانی نسلیں بھگتی رہیں ، کیا تمہاری عقل واقعی اس بات پر مطمئن ہے کہ اسے بھی کسی بھنگے یا ٹڈے کی طرح مر کر فنا ہو جانا چاہیے اور کبھی اٹھ کر اپنے ان کرتوتوں کی جوابدہی نہیں کرنی چاہیے جن کی بدولت ہزاروں لاکھوں انسانوں کی زندگیاں خراب ہوئیں؟ جس آدمی نے عمر بھر حق و انصاف اور خیر و صلاح کے لیے اپنی جان لڑائی ہو اور جیتے جی مصیبتیں ہی بھگتا رہا ہو کیا تمہارے خیال میں وہ بھی حشرات الارض ہی کی قسم کی کوئی مخلوق ہے جسے اپنے اس عمل کی جزا پانے کا کوئی حق نہیں ہے؟
13: یعنی اُسے اُس دُنیا میں اس طرح چھوڑ دیا جائے گا کہ وہ کسی شرعی قاعدے قانون کا پابند نہ ہو، اور جو جی میں آئے، کرتا پھرے۔
(75:36) ایحسب الانسان ان یترک سدی۔ جملہ استفہامیہ انکاریہ ہے۔ ایحسب الانسان : ملاحظہ ہو 75:3 متذکرۃ الصدر۔ کیا انسان خیال کرتا ہے ان مصدریہ بمعنی کہ : یترک مضارع مجہول (منصوب بوجہ عمل ان) ترک (باب نصر) مصدر۔ وہ چھوڑ دیا جائے گا۔ سدی۔ بےقید، مہل، کہ نہ کسی بات پر مامور ہو اور نہ کسی چیز سے اسے روکا جائے۔ اسداء (افعال) مصدر سے جس کے معنی مہمل چھوڑ دینے کے ہیں۔ اسم ہے واحد اور جمع دونوں کے لئے مساوی طور پر استعمال ہوتا ہے۔ سدی بےکار چھوڑے ہوئے اونٹ ، شتر بےبہار۔ سدی، یترک کی ضمیر نائب فاعل سے حال ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کیا انسان یہ سوچتا ہے کہ اس کو یوں ہی بےکار چھوڑ دیا جائے گا نہ کسی کام کا حکم دیا جائے گا اور نہ کسی فعل سے منع کیا جائے گا۔ حالانکہ انسان کی پیدائش کی غرض ہی پابندی امر و نہی ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون (5:56) اور میں نے جنوں اور انسانوں کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری ہی عبادت کریں۔
یہ آخری مقطع ہے جو نہایت اثر آفرین ہے اور اس میں گہرے حقائق کی طرف اشارہ ہیں۔ ان حقائق کے بارے میں اس وقت کے سامعین نے کبھی غور ہی نہ کیا تھا۔ ان حقائق میں سے زیادہ انسان کی تخلیق اور اس دنیا میں اس کی حیات کے نشوونما کے لئے تدابیر کی طرف اشارات ہیں۔ ایحسب ........................ سدی (36:75) ” کیا انسان نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ اسے یونہی مہمل چھوڑ دیا جائے گا ؟ “ اہل عرب کے نزدیک زندگی ایک ایسی حرکت تھی جس کا نہ کوئی سبب تھا اور نہ کوئی علت تھی۔ نہ کوئی مقصد اور نہ غایت تھی۔ لوگ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتے تھے اور قبروں میں جاتے تھے۔ اور پیدائش اور موت کے درمیان کا عرصہ لہو ولعب کے لئے مخصوص تھا۔ زندگی زینت اور زیبائش اور باہم فخر ومباہات سے عبارت تھی۔ لوگ زندگی اسی طرح گزارتے تھے جس طرح حیوانات گزارتے ہیں یہ کہ اس کائنات میں کوئی ناموس فطرت ہے اور زندگی کا کوئی مقصد ہے اور وہ ایک حکمت کے تحت وجود میں لائی گئی ہے۔ یہ باتیں ان کی سمجھ سے دور تھیں۔ وہ یہ نہ سمجھتے تھے کہ انسان ایک متعین تقدیر کے مطابق پیدا کیا گیا ہے اور یہ کہ وہ کوئی ذمہ دار مخلوق ہے اور اس کی تخلیق کے پیچھے کوئی جزاء وسزا کا نظام بھی موجود ہے۔ اور زندگی کا یہ سفر ایک آزمائش ہے۔ رہا یہ تصور کہ یہ زندگی ایک بامقصد زندگی ہے اور اس کی پشت پر ایک قادر مطلق ذات ہے جو الٰہ العالمین ہے ، اور اس نے ہر چیز کو ایک اندازے اور ایک حکمت کے مطابق پیدا کیا ہے اور ہر چیز ایک انجام کو پہنچنے والی ہے تو یہ تصورات ان کی سوچ میں نہ تھے ، بلکہ یہ لوگ ان تصورات سے کوسوں دور تھے۔ اسلام سے قبل کے زمانے میں عربوں کی ایسی ہی حالت تھی۔ حالانکہ انسان اور حیوان کے درمیان فرق ہی اس شعور کی وجہ سے ہے کہ واقعات ایک مقصد کے تحت وقوع پذیر ہوتے ہیں ، ان کے اہداف اور مقاصد متعین ہیں۔ جس طرح یہ پوری کائنات بامقصد ہے اسی طرح اس کے اندر حضرت انسان بھی بامقصد ہے۔ جوں جوں انسان کا یہ شعور ترقی کرتا رہا ہے ، انسانیت نے ترقی کی ہے ، اس شعور کے تحت انسان کی زندگی باہم مربوط ہوتی ہے۔ اس تصور کے تحت انسان اپنی زندگی کے لمحات کا حساب کرتا ہے۔ تمام حادثات وواقعات پر غور کرتا ہے۔ حال اور مستقبل کو ماضی سے مربوط رکھتا ہے۔ پھر اس پوری زندگی کو اس کائنات کے نظام کے ساتھ مربوط رکھتا ہے۔ اور پھر انسان اور پوری کائنات کو ذات باری تعالیٰ کے ساتھ جوڑتا ہے کہ یہ انسان اور اس کی زندگی اور یہ جہاں عبث نہیں پیدا کیے گئے۔ یہ ہے وہ عظیم تصورحیات جس کی طرف قرآن نے لوگوں کو پہنچایا۔ یہ ایک عظیم انقلاب تصور تھا۔ اس وقت انساوں کے اندر جو سوچ بالعموم موجود تھی اس پر اگر غور کیا جائے تو اس کے مقابلہ میں یہ بہت ہی انقلابی سوچ تھی۔ نیز اس وقت دنیا میں جو فلسفے اور خیالات رائج اور مشاہد تھے ان کے مقابلے میں یہ تصور اور عقیدہ ایک انقلابی تصور اور سوچ تھی۔ (دیکھئے میری کتاب اسلام کائنات اور زندگی اور انسان) ۔ یہ چٹکی کہ۔ ایحسب ................ سدی (36:75) ” کیا انسان نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ یونہی مہمل چھو ڑدیا جائے گا ؟ “۔ یہ دراصل ان چند قرآنی اشارات میں سے ہے جو انسان کو اس کائنات کے ساتھ روابط اور تعلقات قائم کرنے کی ہدایت کرتے ہیں۔ اس جہاں اور انسان دونوں کے لئے غرض وغایت اور ایک مقصد متعین کرتے ہیں۔ واقعات کے لئے علل واسباب متعین کرتے ہیں اور کچھ چیزوں کو کچھ کے نتائج قرار دیتے ہیں۔ یوں یہ پوری کائنات اور اس کے اندر انسان بامقصد اور باہم مربوط ہوجاتے ہیں۔ یہاں اس تصور پر نہایت ہی سادہ اور سیدھے دلائل لائے جاتے ہیں ، جن کے سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں ہے۔ خلاصہ یہ کہ انسان شتر بےمہار اور بےمقصد نہیں ہے۔
﴿ اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ يُّتْرَكَ سُدًىؕ٠٠٣٦﴾ (کیا انسان سمجھتا ہے کہ وہ یوں ہی مہمل چھوڑ دیا جائے گا) ۔ قرآن مجید کے مخاطبین ایمان لانے کو تیار نہ تھے اور جب انہیں قیامت اور وہاں کے حساب کتاب اور جنت اور جہنم کے داخلے کی باتیں بتائی جاتی تھیں تو ان سب کو جھٹلا دیتے تھے اور یوں سمجھتے تھے کہ دنیا میں رہیں گے مزے اڑاتے رہیں گے۔ دنیا میں آئے، وقت پورا کیا، چلے گئے، موت کے بعد پوچھ گچھ جزا سزا کچھ نہیں ان لوگوں کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کیا انسان یوں سمجھتا ہے کہ وہ یوں ہی مہمل چھوڑ دیا جائے گا ؟ یہ استفہام انکاری ہے اور مطلب یہ ہے کہ انسان کا اپنے بارے میں یہ سوچ لینا کہ میں یوں ہی بلاحساب کتاب چھوڑ دیا جاؤ گا غلط ہے۔
13:۔ ” ایحسب “ یہ زجر ہے اور ابتداء سورت۔ ایحسب الانسان ان لن نجمع عظامہ سے متعلق ہے۔ سدی، بےکار، مہمل۔ جس پر نہ کوئی ذمہ داری عائد اور نہ اسے جزاء سزا ہو۔ (سدی) مہملا لا یکلف ولا یجازی (بیضاوی) ۔ کیا منکرین قیامت کا خیال ہے کہ ان کو ویسے ہی بےکار اور بےمقصد پیدا کیا گیا ہے ؟ اور مرنے کے بعد جزاء وسزا کے لیے ان کو دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا نہیں نہیں، ان کی طرف پیغمبر مبعوث کر کے ان کو ایمان وعمل کا مکلف کیا گیا ہے اور ان پر قرآن کی تعلیمات پر عمل کرنے کی ذمہ داری عائد کی گئی ہے۔ ایمان و تصدیق کی صورت میں وہ ثواب کے مستحق ہوں گے اور انکار وجحود پر عذاب کے مستحق ہوں گے وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جائیں گے اور اپنے عملوں کے مطابق جزاء وسزا پائیں گے۔
(36) کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ وہ یوں ہی بیکار اور مہمل چھوڑ دیا جائے گا۔ یہ منکر انسان شایدوہی ہے جس کا ذکر شروع سورت میں گزرا ہے۔ ایحسب الانسان الن نجمع یعنی سعد بن ربیعہ جو اخنس بن شریق کا داماد تھا اور بعض حضرات فرماتے ہیں انسان سے مراد ابوجہل ہے بہرحال ! مطلب یہ ہے کہ اس منکر انسان نے نہ تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی تصدیق کی نہ عقائد اسلامی کا یقین کیا نہ نماز ادا کی جو اعمال صالحہ میں بڑی اہم چیز تھی اسلامی عقائد کا یقین تو کیا کرتا اور نماز تو کیا پڑھتا بلکہ اس نے تو بجائے تصدیق کی تکذیب کی اور اللہ تعالیٰ کی عبادت سے منہ موڑا اور اپنی ان ناشائستہ اور کافرانہ حرکت پر فخر کرتا ہوا اور اتراتا ہوا تختر کے طور پر اپنے گھروالوں کی طرف چل دیا، یعنی بجائے شرمندہ ہونے کے اکڑتا ہوا گھر چلا گیا۔ حضرت حق تعالیٰ نے اس کی اس کافرانہ ، معاندانہ اور متکبرانہ روش پر فرمایا، اے تکذیب کرنے والے انسان تیرے لئے خرابی ہے اس خرابی پر اور تباہی ہے پھر مکرر سن لے تیرے لئے تباہی ہے اس تباہی پر اور باہی ہے چار خرابیاں اور تباہیاں فرمائیں۔ شاید دو عالم برزخ کے لئے ایک میدان حشر کے لئے ایک دوزخ کے لئے اول ترک تصدیق اور ترک نماز پر، میدان حشر میں تکذیب پر اور دوزخ میں روگردانی پر۔ بعض علماء نے فرمایا پہلی خرابی یقین نہ لانے اور نماز نہ پڑھنے پر، دوسری جھٹلانے اور منہ پھیرنے اور منہ موڑنے پر ، اور تیسری اور چوتھی، دونوں باتوں میں سے ہر ایک کو قابل فخر سمجھنے پر واللہ اعلم کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ وہ یوں ہی مہمل اور بےکار چھوڑ دیا جائے گا یعنی نہ یہ اوامرونواہی کا مکلف ہوگا نہ اس سے حساب وکتاب ہوگا نہ کوئی باز پرس ہوگی۔ حضرت حق جل مجدہ کے تمام مخلوق میں سے انسان پر بہت زیادہ احسانات ہیں اس وجہ سے اس کو مکلف بنایا بعض کاموں کے کرنے کا حکم دیا بعض سے منیع فرمایا اور جب مکلف بنایا اور تکلیف کے تحقق کو مجازات مستلزم ہے مجازات کے لئے عالم آخرت ضروری ٹھہرا۔ بہرحال ! یہ بیکار نہ چھوڑا جائے گا بلکہ اس کو مکلف بنایا جائے گا اور اس کو کوتاہیوں پر باز پرس ہوگی مرنے کے بعد اس کو دوبارہ اٹھایا جائے گا یہ انسان جو بعث کا انکار کرتا ہے تو یہ اس کی بڑی حماقت اور جہالت ہے۔