Surat ul Qiyama

Surah: 75

Verse: 4

سورة القيامة

بَلٰی قٰدِرِیۡنَ عَلٰۤی اَنۡ نُّسَوِّیَ بَنَانَہٗ ﴿۴﴾

Yes. [We are] Able [even] to proportion his fingertips.

ہاں ضرور کریں گے ہم تو قادر ہیں کہ اس کی پور پور تک درست کر دیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Yes, We are able to put together in perfect order the tips of his fingers. meaning, `does man think that We will not gather his bones Surely, We will gather them and We are quite able to put together his fingertips. This means Our power is suitable to gather (and recreate) them, and if We wished We could surely resurrect him with more than what he originally had. We could make his Banan, which are the tips of his fingers, all equal (in length).' Concerning Allah's statement, بَلْ يُرِيدُ الاِْنسَانُ لِيَفْجُرَ أَمَامَهُ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

4۔ 1 بَنَان (پور پور) جوڑوں، ناخن، لطیف رگوں اور باریک ہڈیوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ جب یہ باریک اور لطیف چیزیں ہم بالکل صحیح صحیح جوڑ دیں گے تو بڑے حصے کو جوڑ دینا ہمارے لئے کیا مشکل ہوگا

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣] یعنی انسان کی سوچ یہ ہے کہ ہم اس کے مرنے کے بعد اس کی گلی سڑی ہڈیوں کو کیونکر اکٹھا کرسکیں گے اور کیسے اسے دوبارہ زندہ کرکے اٹھا کھڑا کیا جائے گا ؟ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ انسان کی بڑی بڑی ہڈیاں تو دور کی بات ہے۔ ہم تو اس کی انگلیوں کے ایک ایک پور کو مکمل کرکے اسے اٹھا کھڑا کریں گے۔ پس اسے تھوڑا سا غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر وہ اپنی پہلی پیدائش پر جو رحم مادر میں ہوئی، غور کرلے تو بات اسے پوری طرح سمجھ میں آسکتی ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Then an oft-repeated objection of the disbelievers is mentioned, that is, when they are dead and reduced to bones and dust, how will they be raised again to life. The following verse rebuts this objection, thus: بَلٰى قٰدِرِيْنَ عَلٰٓي اَنْ نُّسَوِّيَ بَنَانَهٗ (Yes! We are able to reset [ even ] his fingertips perfectly... 75:4). Man is amazed and surprised and thinks that Allah is unable to gather his tiny particles that have been scattered and reassemble his decomposed bones and give him a new life. The verse effectively rebuts this objection by saying that this has happened once before. Every man who grows and develops in the world, his body is composed of particles and elements gathered from different parts of the world. Allah has infinite power to do anything. He will gather the disintegrated bones and the scattered particles of man from different parts of the world and give them life again, as he did the first time. It is not impossible for Him to breathe soul into his structure the second time, as it was not impossible the first time. Why should it be surprising? Divine Wonders in the Resurrection of Bodies Allah is able not only to raise man&s dead body again, but also to reconstruct every part of his body perfectly up to the minute detail of the very delicate fingertips and individual fingerprints. Man will be given the same body as he had in his worldly life without the slightest difference. Since the inception of time until the end of the world, zillions of human beings of different shapes and sizes come and die. Even if anyone remembers them, it is an impossible task to recompose them precisely. But Allah says in the verse under comment that He is quite able to recreate not only the large limbs, members and organs of the dead, but He is also able to put together his fingertips. The word Banan &fingertips& is specially mentioned here because they are among the smallest parts of the body. If Allah is able to recreate such small parts [ with such precision ], it would not be impossible for Him to recreate the larger limbs of the body, such as arms or hands or legs or feet. Another reason why banan &fingertips& finds a special mention is that Allah has characterized every human body with some identification marks through which one person could be distinctly recognized and distinguished from the other. For instance, the human face is no more than a few square centimeters; yet it has such distinctive characteristics that no two faces look exactly alike. Despite man&s tongue and throat being alike, the sounds and voices of young and old, and of men and women are easily distinguishable. Even more amazing than this, are the fingertips and fingerprints. No two thumbprints or fingerprints are alike. Fingertips look alike, but the fingerprints are different. There are zillions of human beings, but the patterns of lines on the skins of the fingers is distinctly recognizable. Thumbprints have played a decisive role in court decisions and judgments. Technical analysis reveals that the patterns of lines are not only on the skin of the thumbs, but also on the skins of all the fingers - distinguishable and recognizable. In sum, man is amazed as to how Allah will reassemble his bones and give him a new life again, but he should think further than this. He will be raised with the same face, shape and size, and with the same distinctive features, so much so that his fingertips and fingerprints will be reshaped as they were in the first instance of his creation. Fa-tabarak Allahu Ahsanul khaliqin - &Glorious is Allah, the Best of Creators!&

آگے منکرین قیامت کے اس عامیانہ شب کا جواب ہے مرنے کے بعد جب انسان مٹی ہوگیا اس کی ہڈیاں بھی ریزہ ریزہ ہو کر منتشر ہوگئیں ان کو دوبارہ کیسے جمع کرکے زندہ کیا جائے گا۔ جس کے جواب میں فرمایا بَلٰى قٰدِرِيْنَ عَلٰٓي اَنْ نُّسَوِّيَ بَنَانَهٗ جس کا حاصل یہ ہے کہ تمہیں تو اس پر تعجب ہے کہ میت کے ذرات منتشرہ اور بوسیدہ ہڈیوں کو جمع کیسے کیا جاوے گا اور ان میں دوبارہ حیات کیسے ڈالی جاوے گی۔ حالانکہ یہ بات پہلے ایک مرتبہ مشاہدہ میں آٰچکی ہے کہ ہر انسان کا وجود جو دنیا میں پلتا اور بڑھتا ہے وہ دنیا بھر کے مختلف ملکوں خطوں کے اجزاء اور ذرات کا مرکب ہوتا ہے تو جس ذات قادر نے پہلی مرتبہ ساری دنیا میں بکھرے ہوئے ذرات کو ایک انسان کے وجود میں جمع کردیا تھا اب دوبارہ جمع کرلیتا اسکے لئے کیوں مشکل ہوگا، اور جس طرح پہلے اس کے ڈھانچے میں روح ڈال کر زندہ کیا تھا دوبارہ ایسا کرنے میں کیا حیرت کی بات ہے۔ حشراجساد میں قدرت حق تعالیٰ کا عجیب و غریب عمل غور اس پر کرو کہ ایک انسان جس ہیت وجسامت اور شکل و صورت پر پہلے پیدا کیا گیا تھا قدرت حق دوبارہ بھی اسی کے وجود میں انہی ساری چیزوں کو بغیر کسی ادنی فرق کے جمع کردے گی حالانکہ یہ اربوں پدموں انسان ابتدائے دنیا سے قیامت تک پیدا ہوتے اور فنا ہوتے رہے کس کی مجال ہے کہ ان سب کی شکلوں صورتوں اور قدوقامت کی کیفیتوں کو الگ الگ یاد بھی رکھ سکے اس جیسا دوبارہ بنانا تو بڑا کام ہے مگر حق تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا کہ ہم صرف اسی پر قادر نہیں ہیں کہ میت کے سارے بڑے بڑے اجزاء واعضا کو دوبارہ اسی طرح بنادیں بلکہ انسانی وجود کی چھوٹی سے چھوٹی چیز کو بھی ہم ٹھیک اسی طرح کردیں گے جس طرح وہ پہلے تھی اس میں بنان یعنی انگلیوں کے پوروں کا خاص ذکر فرمایا کہ وہ سب سے چھوٹے اجزاء ہیں۔ جب ان چھوٹے اجزاء کی دوبارہ ساخت میں فرق نہیں آیا تو بڑے بڑے اعضا ہاتھ پاؤں وغیرہ میں تو کیا فرق ہوتا۔ اور اگر غور کیا جائے تو شاید بنان یعنی انگلیوں کے پوروں کے تخصیص میں اس کی طرف بھی اشارہ ہو کہ حق تعالیٰ نے ایک انسان کو دوسرے انسان سے ممتاز کرنے کے لئے اس کے سارے ہی بدن میں ایسی خصوصیات رکھی ہیں جن سے وہ پہچانا جاتا ہے اور ایک دوسرے سے ممتاز ہوتا ہے خصوصاً انسانی چہرہ جو چند انچ مربع سے زائد نہیں، اسکے اندر قدر حق نے ایسے امتیازات رکھے ہیں کہ اربوں قدموں انسانوں میں ایک کا چہرہ بالکل دوسرے کے ساتھ ایسا نہیں ملتا کہ امتیاز باقی نہ رہے۔ انسان کی زبان اور حلقوم بالکل ایک ہی طرح ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے اسی ممتاز ہے کہ بچے بوڑھے عورت مرد کی آوازیں الگ پہچانی جاتی ہیں اور ہر انسان کی آواز الگ الگ پہچانی جاتی ہے، اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز انسان کے انگوٹھے اور انگلیوں کے پوروے ہیں کہ ان کے اوپر جو نقش ونگار خطوط کے جال کی صورت میں قدرت نے بنائے ہیں وہ کبھی ایک انسان کے دوسرے انسان کے ساتھ نہیں ملتے، صرف آدھ انچ کی جگہ میں ایسے امتیازات کہ اربوں انسانوں میں یہ پورے مشترک ہونے کے باوجود ایک کے خطوط دوسرے سے نہیں ملتے۔ اور قدیم وجدید ہر زمانے میں نشان انگوٹھہ ایک امتیاز چیز قرار دے کر عدالتی فیصلے اس پر ہوتے ہیں، اور فنی تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ بات صرف انگوٹھے ہی میں نہیں ہر انگلی کے پوروے کے خطوط بھی اس طرح ممتاز ہوتے ہیں۔ یہ سمجھ لیتے کے بعد پوروں کے بیان کی تخصیص خودبخود سمجھ میں آجاتی ہے اور مطلب یہ ہے کہ تمہیں تو اسی پر تعجب ہے کہ یہ انسان دوبارہ کیسے زندہ ہوگیا ذرا اس سے آگے سوچو اور غور کرو کہ صرف زندہ ہی نہیں ہوگیا بلکہ اپنی سابقہ شکل و صورت اور اسکے ہر امتیازی وصف کیساتھ زندہ ہوا ہے یہاں تک کہ انگوٹھے اور انگلیوں کے پورو وں کے خطوط پہلی پیدائش میں جس طرح تھے اس نشات ثانیہ میں بھی بالکل وہی ہوں گے۔ فتبارک اللہ احسن الخالقین۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

بَلٰى قٰدِرِيْنَ عَلٰٓي اَنْ نُّسَوِّيَ بَنَانَہٗ۝ ٤ قادر الْقُدْرَةُ إذا وصف بها الإنسان فاسم لهيئة له بها يتمكّن من فعل شيء ما، وإذا وصف اللہ تعالیٰ بها فهي نفي العجز عنه، ومحال أن يوصف غير اللہ بالقدرة المطلقة معنی وإن أطلق عليه لفظا، بل حقّه أن يقال : قَادِرٌ علی كذا، ومتی قيل : هو قادر، فعلی سبیل معنی التّقييد، ولهذا لا أحد غير اللہ يوصف بالقدرة من وجه إلّا ويصحّ أن يوصف بالعجز من وجه، والله تعالیٰ هو الذي ينتفي عنه العجز من کلّ وجه . ( ق د ر ) القدرۃ ( قدرت) اگر یہ انسان کی صنعت ہو تو اس سے مراد وہ قوت ہوتی ہے جس سے انسان کوئی کام کرسکتا ہو اور اللہ تعالیٰ کے قادرہونے کے معنی یہ ہیں کہ وہ عاجز نہیں ہے اور اللہ کے سوا کوئی دوسری ہستی معنوی طور پر قدرت کا ملہ کے ساتھ متصف نہیں ہوسکتی اگرچہ لفظی طور پر ان کیطرف نسبت ہوسکتی ہے اس لئے انسان کو مطلقا ھو قادر کہنا صحیح نہیں ہے بلکہ تقیید کے ساتھ ھوقادر علی کذا کہاجائیگا لہذا اللہ کے سوا ہر چیز قدرت اور عجز دونوں کے ساتھ متصف ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ایسی ہے جو ہر لحاظ سے عجز سے پاک ہے سوا ( مساوات برابر) الْمُسَاوَاةُ : المعادلة المعتبرة بالذّرع والوزن، والکيل، وتَسْوِيَةُ الشیء : جعله سواء، إمّا في الرّفعة، أو في الضّعة، وقوله : الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ [ الانفطار/ 7] ، أي : جعل خلقتک علی ما اقتضت الحکمة، وقوله : وَنَفْسٍ وَما سَوَّاها [ الشمس/ 7] ، فإشارة إلى القوی التي جعلها مقوّمة للنّفس، فنسب الفعل إليها، وکذا قوله : فَإِذا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي [ الحجر/ 29] ، ( س و ی ) المسا واۃ کے معنی وزن کیل یا مسا حت کے لحاظ سے دو چیزوں کے ایک دوسرے کے برابر ہونے کے ہیں التسویۃ کے معنی کسی چیز کو ہموار کرنے ہیں اور آیت : ۔ الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ [ الانفطار/ 7] دو ہی تو ہے ) جس نے تجھے بنایا اور تیرے اعضاء کو ٹھیک کیا ۔ میں سواک سے مراد یہ ہے کہ انسان کی خلقت کو اپنی حکمت کے اقتضاء کے مطابق بنایا اور آیت : ۔ وَنَفْسٍ وَما سَوَّاها [ الشمس/ 7] اور انسان کی اور اس کی جس نے اس کے قوی کو برابر بنایا ۔ اسی طرح آیت کریمہ : ۔ فَإِذا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي [ الحجر/ 29] جب اس کو ( صورت انسانیہ میں ) درست کرلوں اور اس میں ( اپنی بےبہا چیز یعنی ) روح پھونک دوں ۔ بنَانه البَنَان : الأصابع، قيل : سمّيت بذلک لأنّ بها صلاح الأحوال التي يمكن للإنسان أن يبنّ بها، يريد : أن يقيم بها، ويقال : أَبَنَّ بالمکان يُبِنُّ ولذلک خصّ في قوله تعالی: بَلى قادِرِينَ عَلى أَنْ نُسَوِّيَ بَنانَهُ [ القیامة/ 4] ، وقوله تعالی: وَاضْرِبُوا مِنْهُمْ كُلَّ بَنانٍ [ الأنفال/ 12] ، خصّه لأجل أنهم بها تقاتل وتدافع، والبَنَّة : الرائحة التي تبنّ بما تعلق به . ( ب ن ن ) البنان ( واحد بنانۃ ) کے معنی انگلیاں ریا ن کے اطراف کے ہیں یہ ابن بالمکان کے محاورہ سے ماخوذ ہے جس کے معنی کسی جگہ اقامت پزیر ہونے کے ہیں اور چونکہ کسی جگہ اقامت کیلئے ضروریات زندگی کی اصلاح بھی انگلیوں سے ہوتی ہے اس لئے ان کو بنان کہا جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آیت کریمہ : { بَلَى قَادِرِينَ عَلَى أَنْ نُسَوِّيَ بَنَانَهُ } ( سورة القیامة 4) ضرور کریں گے ( اور ) ہم اس بات پر قادر ہیں کہ اس کی پورا پورا درست کریں ۔ میں انگلیوں کی درستگی پر اپنی قدرت کا اظہار کیا ہے اسی طرح آیت : { وَاضْرِبُوا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍ } ( سورة الأَنْفال 12) اور ان کا پور پور مار ( کر توڑ ) دو ۔ میں خاص کر ان کے پور پور کاٹ ڈالتے کا حکم دیا گیا ہے ۔ کیونکہ یہ مدافعت اور مقاتلہ کا واحد ذریعہ ہیں ۔ البنتہ بو اچھی یا بری ۔ کیونکہ اس میں کسی چیز کے ساتھ لازم ہونے کی وجہ سے ٹھر نے کے معنی پائے جاتے ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤{ بَلٰی قٰدِرِیْنَ عَلٰٓی اَنْ نُّسَوِّیَ بَنَانَہٗ ۔ } ” کیوں نہیں ! ہم تو پوری طرح قادر ہیں اس پر بھی کہ ہم اس کی ایک ایک پور درست کردیں۔ “ یہاں پر بلٰیکے بعد لفظ کُنَّا محذوف ہے ‘ گویا تقدیر عبارت یوں ہے : بلٰی کُنَّا قَادِرِیْن …

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

4 That is, "Not to speak of building up your skeleton once again by gathering together the major bones? We are able to make whole the most delicate parts of your body, even your finger tips, as they used to be before."

سورة الْقِیٰمَة حاشیہ نمبر :4 یعنی بڑی بڑی ہڈیوں کو جمع کر کے تمہارا ڈھانچہ پھر سے کھڑا کر دینا تو درکنار ، ہم تو اس بات پر بھی قادر ہیں کہ تمارے نازک ترین اجزائے جسم حتیٰ کہ تمہاری انگلیوں کی پوروں تک کو پھر ویسا ہی بنا دیں جیسی وہ پہلے تھیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

2: فرمایا جارہا ہے کہ ہڈیوں کو جمع کرلینا تو بہت معمولی بات ہے، اﷲ تعالیٰ تو اِنسان کی اُنگلیوں کے ایک ایک پورے کو دوبارہ ٹھیک ٹھیک اُسی طرح دوبارہ بنانے پر قادر ہیں، جیسے وہ شروع میں تھے۔ اُنگلیوں کے پورے کا خاص طور پر اس لئے ذکر فرمایا گیا ہے کہ ان پوروں میں جو باریک باریک لکیریں ہوتی ہیں، وہ ہر اِنسان کی دوسرے سے الگ ہوتی ہیں، اسی وجہ سے دُنیا میں دستخط کے بجائے انگوٹھے کے نشان کو استعمال کیا جاتا ہے۔ ان لکیروں میں اتنا باریک باریک فرق ہوتا ہے کہ اربوں پدموں اِنسانوں کی انگلیوں کے اس فرق کو یاد رکھ کر پھر دوبارہ ویسی ہی لکیریں بنادینا اﷲ تعالیٰ کے سوا کسی اور کے لئے ممکن نہیں ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(75:4) بلی قادرین علی ان نسوی بنانہ۔ کیوں نہیں ہم قدرت رکھتے ہیں کہ ہم اس کی پور پور درست کردیں ۔ (نیز ملاحظہ ہو 3: 76) ۔ بلی حرف جواب ہے اور کلام مخاطب کی نفی اور اس کے ابطال کے لئے آتا ہے۔ اس کی دو صورتیں ہیں :۔ (1) کلام استفہام سے خالی ہو۔ جیسے زعم الذین کفروا ان لن یبعثوا قل بلی وربی لتبعثن (64:7) جو لوگ کافر ہیں ان کا اعتقاد ہے کہ وہ (دوبارہ) ہرگز نہیں اٹھائے جائیں گے۔ کہہ دو کیوں نہیں میرے رب کی قسم تم ضرور اٹھائے جاؤ گے۔ (2) یہ کلام استفہامی ہو۔ خواہ استفہام حقیقی ہو جیسے الیس زید بقائم کے جواب میں کوئی کہے بلی۔ خواہ توبیخی ہو جیسے آیت زیر غور۔ ایحسب الانسان الن نجمع عظامہ اور جواب میں کہا جائے گا بلی قادرین علی ان نسوی بنانہ۔ قادرین منصوب بوجہ نجمع کے فاعل کے حال سے ہے۔ ای نجمعھا قادرین ۔۔ قادرین قدر (باب ضرب) مصدر سے اسم فاعل جمع مذکر (بحالت نصب) بمعنی قدرت رکھنے والے۔ ان نسوی : ان مصدریہ۔ نسوی مضارع منصوب بوجہ عمل ان جمع متکلم تسویۃ (تفعیل) مصدر۔ ہم درست کردیں گے۔ ہم درست کردیں۔ بنانہ : بنان (مفعول فعل نسوی کا) مضاف ہ ضمیر مضاف الیہ۔ اس کی انگلیوں کے پورے انگلیوں کے سرے۔ بنانۃ کی جمع جس طرح تمرۃ کی جمع بحذف ت تمر ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 13 اس سے معلوم ہوا کہ آخرت میں حشر و نشر اور جزا و سزا صرف روح کے ساتھ نہیں بلکہ جسم اور روح دونوں کے ساتھ ہوگی۔ اس کو اللہ تعالیٰ نے قسم کھا کر یہاں تاکید کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

بلی قدرین .................... بنانہ (75:4) ” کیوں نہیں ہم تو اس کی انگلیوں کی پور پور تک ٹھیک بنادینے پر قادر ہیں “۔ بنان انگلیوں کے اگلے سرے کو کہتے ہیں۔ مفہوم کے اندر تاکید یوں پیدا کی جاتی ہے کہ ہڈیوں کو ہم تو پورے پورے تک بنادیں گے اور جب کوئی ایک ایک پورا بناسکتا ہے اس کے لئے ہڈیاں جمع کرنا کیا مشکل ہے۔ مقصد ہے کہ انسان کے ایک ایک جزء کو دوبارہ جمع کردیا جائے گا اور کوئی جز نہ رہ جائے گا۔ پورے کا پورا آموجود ہوگا ، خواہ چھوٹا حصہ ہو یا بڑا۔ یہاں تو یہ کہہ دیا ، لیکن سورت کے آخر میں دوبارہ تخلیق پر ایک دوسری دلیل بھی لائی گئی ہے۔ یہاں تو صرف ان کے خلجان اور اس کے ظاہری سبب کا اظہار کردیا گیا کہ یہ لوگ ہڈیوں کے جمع ہونے کی توقع نہیں رکھتے۔ انسان دراصل فسق وفجور کی خواہش رکھتا ہے۔ اور چاہتا ہے کہ اس فسق وفجور میں آگے ہی جاتا رہے۔ اور کوئی چیز اسے روکنے والی نہ ہو اور نہ اس کو حساب و کتاب کا سامنا کرنا پڑے اور نہ جزاء وسزا کا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ وقوع قیامت کو مستعبد سمجھتا ہے اور قیامت کے وقوع سے فرار کی راہ ڈھونڈتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

﴿ بَلٰى قٰدِرِيْنَ عَلٰۤى اَنْ نُّسَوِّيَ بَنَانَهٗ ٠٠٤﴾ (ہاں ہم اس پر ضرور قادر ہیں کہ ہم انسان کی انگلیوں کے پوروں تک کو درست کردیں) ۔ یعنی نہ صرف یہ کہ ہم اس کی ہڈیوں کو جمع کرسکتے ہیں بلکہ اس کی جسمانی ساخت کو دوبارہ پاؤں سے لے کر سر تک اسی طرح بنا سکتے ہیں جیسا کہ وہ موت سے پہلے تھا انگلیوں کے پورے جو جسم میں چھوٹی چیزیں ہیں ان کو بھی حسب سابق ان کی جگہ لاسکتے ہیں۔ قال البغوی فی معالم التنزیل صفحہ ٤٢١: وقال الزجاج و ابن قتیبة : معناہ ظن الکافر انا لانقدر علٰی جمع عظامہ بلی نقدر علی ان بغیر اسلامیات علٰی صغرھا فنؤلف بینھا حتی نسوی البنان فمن قدر علی جمع صغار العظام فھو علی جمع کبارھا اقدر۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(4) بے شک ہم ضرورجمع کریں گے ہم اس پر قادر ہیں کہ اس کے انگلیوں کی پور پور درست کردیں۔ یعنی انگلی کا پورا واجو چھوٹی سی چیز ہے اور ایک باریک باریک خطوط کی وجہ سے اس کی تیاری میں بڑی صنعت اور کاریگری کی ضرورت ہے جب حضرت حق تعالیٰ انگلیوں کے پور دے درست کرنے کی قدرت رکھتا ہے تو اس کے لئے ہڈیوں کا ڈھانچہ بنا لینا کون سا مشکل ہے عام طریقے سے پور پور بول کر تمام جسم بھی مراد لیتے ہیں کہا کرتے ہیں میں اس کی پور پور کا چوراکردوں گا یعنی تمام جسم کچل دوں گا تو گویا ہڈیوں کا جمع کرنا کیسا وہ تمام جسم کی ترتیب دینے پر قادر ہے۔