Surat ul Mursilaat
Surah: 77
Verse: 16
سورة المرسلات
اَلَمۡ نُہۡلِکِ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿ؕ۱۶﴾
Did We not destroy the former peoples?
کیا ہم نے اگلوں کو ہلاک نہیں کیا؟
اَلَمۡ نُہۡلِکِ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿ؕ۱۶﴾
Did We not destroy the former peoples?
کیا ہم نے اگلوں کو ہلاک نہیں کیا؟
The Call to contemplate the various Manifestations of Allah's Power Allah says, أَلَمْ نُهْلِكِ الاَْوَّلِينَ Did We not destroy the ancients? meaning, those who rejected the Messengers and opposed what they came to them with. ثُمَّ نُتْبِعُهُمُ الاْخِرِينَ
حسرت و افسوس کا وقت آنے سے پہلے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم سے پہلے بھی جن لوگوں نے میرے رسولوں کی رسالت کو جھٹلایا میں نے انہیں نیست و نابود کر دیا پھر ان کے بعد اور لوگ آئے انہوں نے بھی ایسا ہی کیا اور ہم نے بھی انہیں اسی طرح غارت کر دیا ہم مجرموں کی غفلت کا یہی بدلہ دیتے چلے آئے ہیں ، اس دن ان جھٹلانے والوں کی درگت ہو گی ، پھر اپنی مخلوق کو اپنا احسان یاد دلاتا ہے اور منکرین قیامت کے سامنے دلیل پیش کرتا ہے کہ ہم نے اسے حقیر اور ذلیل قطرے سے پیدا کیا جو خالق کائنات کی قدرت کے سامنے ناچیز محض تھا ، جیسے سورہ یس کی تفسیر میں گذر چکا کہ اے ابن آدم بھلا تو مجھے کیا عاجز کر سکے گا میں نے تو تجھے اسی جیسی چیز سے پیدا کیا ہے ، پھر اس قطرے کو ہم نے رحم میں جمع کیا جو اس پانی کے جمع ہونے کی جگہ ہے اسے بڑھاتا ہے اور محفوظ رکھتا ہے ، مدت مقررہ تک وہ وہیں رہا یعنی چھ مہینے یا نو مہینے ، ہمارے اس اندازے کو دیکھو کہ کس قدر صحیح اور بہترین ہے ، پھر بھی اگر تم اس آنے والے دن کو نہ مانو گے تو یقین جانو کہ تمہیں قیامت کے دن بڑی حسرت اور سخت افسوس ہو گا ۔ پھر فرمایا کیا ہم نے زمین کو یہ خدمت سپرد نہیں کی؟ کہ وہ تمہیں زندگی میں بھی اپنی پیٹھ پر چلاتی رہے اور موت کے بعد بھی تمہیں اپنے پیٹ میں چھپا رکھے ، پھر زمین کے نہ ہلنے جلنے کے لئے ہم نے مضبوط وزنی بلند پہاڑ اس میں گاڑ دیئے اور بادلوں سے برستا ہوا اور چشموں سے رستا ہوا ہلکا زور ہضم خوش گوار پانی ہم نے تمہیں پلایا ، ان نعمتوں کے باوجود بھی اگر تم میری باتوں کو جھٹلاتے ہی رہے تو یاد رکھو وہ وقت آ رہا ہے جب حسرت و افسوس کرو گے اور کچھ کام نہ آئے ۔
[١٠] یعنی ہمارا دستور یہ ہے کہ ہم اپنے نافرمانوں اور سرکشوں کو ایسا تباہ و برباد کردیتے ہیں کہ ان قوموں کی تہذیب و تمدن کا نام و نشان تک صفحہ ہستی سے مٹا دیا جاتا ہے۔ ہم نے پہلی قوموں سے بھی یہی سلوک کیا تھا اور بعد میں ایسی کرتوتیں کرنے والوں کے ساتھ بھی ویسا ہی سلوک کریں گے۔
الم نھلک الاولین…: رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے سے پہلے کے کفار کو ” الاولین “ فرمایا، جن میں نوح (علیہ السلام) کے زمانے کے کفار سے لے کر عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے کے تمام کفار شامل ہیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے بعد تمام زمانوں کے کفار کو ” الاخرین “ فرمایا۔ پہلے لوگوں کی بربادی کا سبب بھی یہ تھا کہ وہ آخرت پر یقین رکھتے تھے اور اس دنیا کی زندگی ہی کو اصل زندگی سمجھتے تھے، نتیجہ یہ ہوا کہ وہ لوگ آخر کار تباہ و برباد ہوگئے۔ اب بھی یہی قانون ہے کہ جو قوم آخرت کا انکار کرے گی تباہ و برباد ہوگی۔ قیامت کے دن ایسے لوگوں پر جو ہلاکت آئے گی وہ اس دنیاوی بربادی کے علاوہ ہے اور ان کی اصل بربادی کا دن وہی ہوگا۔
أَلَمْ نُهْلِكِ الْأَوَّلِينَ (Did We not destroy the earlier people?...77:16) It refers to the nations of ` Ad, Thamud, nation of Lut (علیہ السلام) and Fir&aun (The Pharaoh) who were destroyed because of their obstinacy.
اَلَمْ نُہْلِكِ الْاَوَّلِيْنَ ١٦ ۭ الف ( ا) الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع : - نوع في صدر الکلام . - ونوع في وسطه . - ونوع في آخره . فالذي في صدر الکلام أضرب : - الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية . فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْداً [ البقرة/ 80] ، آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ [يونس/ 91] ، أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144] ، أَفَإِنْ مِتَّ فَهُمُ الْخالِدُونَ [ الأنبیاء/ 34] ، أَكانَ لِلنَّاسِ عَجَباً [يونس/ 2] ، آلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ الْأُنْثَيَيْنِ [ الأنعام/ 144] . والتسوية نحو : سَواءٌ عَلَيْنا أَجَزِعْنا أَمْ صَبَرْنا [إبراهيم/ 21] ، سَواءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لا يُؤْمِنُونَ [ البقرة/ 6] «1» ، وهذه الألف متی دخلت علی الإثبات تجعله نفیا، نحو : أخرج ؟ هذا اللفظ ينفي الخروج، فلهذا سأل عن إثباته نحو ما تقدّم . وإذا دخلت علی نفي تجعله إثباتا، لأنه يصير معها نفیا يحصل منهما إثبات، نحو : أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ [ الأعراف/ 172] «2» ، أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحاكِمِينَ [ التین/ 8] ، أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ [ الرعد/ 41] ، أَوَلَمْ تَأْتِهِمْ بَيِّنَةُ [ طه/ 133] أَوَلا يَرَوْنَ [ التوبة : 126] ، أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ [ فاطر/ 37] . - الثاني : ألف المخبر عن نفسه نحو : أسمع وأبصر . - الثالث : ألف الأمر، قطعا کان أو وصلا، نحو : أَنْزِلْ عَلَيْنا مائِدَةً مِنَ السَّماءِ [ المائدة/ 114] ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتاً فِي الْجَنَّةِ [ التحریم/ 11] ونحوهما . - الرابع : الألف مع لام التعریف «4» ، نحو : العالمین . - الخامس : ألف النداء، نحو : أزيد، أي : يا زيد . والنوع الذي في الوسط : الألف التي للتثنية، والألف في بعض الجموع في نحو : مسلمات ونحو مساکين . والنوع الذي في آخره : ألف التأنيث في حبلی وبیضاء «5» ، وألف الضمیر في التثنية، نحو : اذهبا . والذي في أواخر الآیات الجارية مجری أواخر الأبيات، نحو : وَتَظُنُّونَ بِاللَّهِ الظُّنُونَا [ الأحزاب/ 10] ، فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا [ الأحزاب/ 67] ، لکن هذه الألف لا تثبت معنی، وإنما ذلک لإصلاح اللفظ . ا : الف با معنی کی تین قسمیں ہیں ۔ ایک وہ جو شروع کلام میں آتا ہے ۔ دوسرا وہ جو وسط کلام میں واقع ہو ۔ تیسرا وہ جو آخر کلام میں آئے ۔ ( ا) وہ الف جو شروع کلام میں آتا ہے ۔ اس کی چند قسمیں ہیں : ۔ (1) الف الاستخبار اسے ہمزہ استفہام کہنے کے بجائے الف استخبار کہنا زیادہ صحیح ہوگا ۔ کیونکہ اس میں عمومیت ہے جو استفہام و انکار نفی تبکیت پر زجرو تو بیخ ) تسویہ سب پر حاوی ہے۔ چناچہ معنی استفہام میں فرمایا ۔ { أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ } [ البقرة : 30]( انہوں نے کہا ) کیا تو اس میں ایسے شخص کو نائب بنانا چاہتا ہے جو خرابیاں کرے اور کشت و خون کرتا پھرے اور تبکیت یعنی سرزنش کبھی مخاطب کو ہوتی ہے اور کبھی غیر کو چناچہ ( قسم اول کے متعلق ) فرمایا :۔ (1){ أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُم } [ الأحقاف : 20] تم اپنی لذتیں حاصل کرچکے ۔ (2) { أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدًا } [ البقرة : 80] کیا تم نے خدا سے اقرار لے رکھا ہے ؟ (3) { آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ } [يونس : 91] کیا اب ( ایمان لاتا ہے ) حالانکہ تو پہلے نافرمانی کرتا رہا ؟ اور غیر مخاظب کے متعلق فرمایا :۔ (4) { أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا } [يونس : 2] کیا لوگوں کے لئے تعجب خیز ہے ؟ (5) { أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِل } [ آل عمران : 144] تو کیا اگر یہ مرجائیں یا مارے جائیں ؟ (6) { أَفَإِنْ مِتَّ فَهُمُ الْخَالِدُونَ } [ الأنبیاء : 34] بھلا اگر تم مرگئے تو کیا یہ لوگ ہمیشہ رہیں گے ؟ (7) { آلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ الْأُنْثَيَيْنِ } [ الأنعام : 143] بتاؤ تو ( خدا نے ) دونوں نروں کو حرام کیا ہے ۔ یا دونوں ماديؤں کو ۔ اور معنی تسویہ میں فرمایا ، { سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَجَزِعْنَا أَمْ صَبَرْنَا } [إبراهيم : 21] اب ہم گهبرائیں یا صبر کریں ہمارے حق میں برابر ہے ۔ { سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ } ( سورة البقرة 6) تم خواہ انہیں نصیحت کردیا نہ کرو ان کے لئے برابر ہے ، وہ ایمان نہیں لانے کے ۔ اور یہ الف ( استخبار ) کلام مثبت پر داخل ہو تو اسے نفی میں تبدیل کردیتا ہے ۔ جیسے اخرج ( وہ باہر نہیں نکلا ) کہ اس میں نفی خروج کے معنی پائے جائے ہیں ۔ اس لئے کہ اگر نفی کے معنی نہ ہوتے تو اس کے اثبات کے متعلق سوال نہ ہوتا ۔ اور جب کلام منفی پر داخل ہو تو اسے مثبت بنا دیتا ہے ۔ کیونکہ کلام منفی پر داخل ہونے سے نفی کی نفی ہوئی ۔ اور اس طرح اثبات پیدا ہوجاتا ہے چناچہ فرمایا :۔ { أَلَسْتُ بِرَبِّكُم } [ الأعراف : 172] کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں ( یعنی ضرور ہوں ) { أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ } [ التین : 8] کیا اللہ سب سے بڑا حاکم نہیں ہے یعنی ضرور ہے ۔ { أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ } [ الرعد : 41] کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم زمین کا بندوبست کرتے ہیں ۔ { أَوَلَمْ تَأْتِهِمْ بَيِّنَة } [ طه : 133] کیا ان کے پاس کھلی نشانی نہیں آئی ۔ { أَوَلَا يَرَوْنَ } [ التوبة : 126] اور کیا یہ نہیں دیکھتے { أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُم } [ فاطر : 37] اور کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہیں دی ۔ (2) الف جو مضارع کے صیغہ واحد متکلم کے شروع میں آتا ہے اور میں |" کے معنی رکھتا ہے جیسے اسمع و ابصر یعنی میں سنتاہوں اور میں دیکھتا ہوں (3) ہمزہ فعل امر خواہ قطعی ہو یا وصلي جیسے فرمایا :۔ { أَنْزِلْ عَلَيْنَا مَائِدَةً مِنَ السَّمَاءِ } [ المائدة : 114] ہم پر آسمان سے خوان نازل فرما ۔ { رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ } [ التحریم : 11] اے میرے پروردگار میرے لئے بہشت میں اپنے پاس ایک گھر بنا ۔ (4) الف جو لام کے ساتھ معرفہ بنانے کے لئے آیا ہے جیسے فرمایا { الْعَالَمِينَ } [ الفاتحة : 2] تمام جہانوں (5) الف نداء جیسے ازید ( اے زید ) ( ب) وہ الف جو وسط کلمہ میں آتا ہے اس کی پہلی قسم الف تثنیہ ہے ( مثلا رجلان ) اور دوسری وہ جو بعض اوزان جمع میں پائی جاتی ہے مثلا مسلمات و مساکین ۔ ( ج) اب رہا وہ الف جو کلمہ کے آخر میں آتا ہے ۔ وہ یا تو تانیث کے لئے ہوتا ہے جیسے حبلیٰ اور بَيْضَاءُمیں آخری الف یا پھر تثنیہ میں ضمیر کے لئے جیسا کہ { اذْهَبَا } [ الفرقان : 36] میں آخر کا الف ہے ۔ وہ الف جو آیات قرآنی کے آخر میں کہیں بڑھا دیا جاتا ہے جیسے { وَتَظُنُّونَ بِاللَّهِ الظُّنُونَا } [ الأحزاب : 10] { فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا } [ الأحزاب : 67] تو یہ کوئی معنوی اضافہ نہیں کرتا بلکہ محض لفظی اصلاح ( اور صوتی ہم آہنگی ) کے لئے آخر میں بڑھا دیا جاتا ہے ( جیسا کہ ابیات کے اواخر میں الف |" اشباع پڑھاد یتے ہیں ) «لَمْ» وَ «لَمْ» نفي للماضي وإن کان يدخل علی الفعل المستقبل، ويدخل عليه ألف الاستفهام للتّقریر . نحو : أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينا وَلِيداً [ الشعراء/ 18] ، أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيماً فَآوی [ الضحی/ 6] ( لم ( حرف ) لم ۔ کے بعد اگرچہ فعل مستقبل آتا ہے لیکن معنوی اعتبار سے وہ اسے ماضی منفی بنادیتا ہے ۔ اور اس پر ہمزہ استفہام تقریر کے لئے آنا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينا وَلِيداً [ الشعراء/ 18] کیا ہم نے لڑکپن میں تمہاری پرورش نہیں کی تھی ۔ هلك الْهَلَاكُ علی ثلاثة أوجه : افتقاد الشیء عنك، وهو عند غيرک موجود کقوله تعالی: هَلَكَ عَنِّي سُلْطانِيَهْ [ الحاقة/ 29] - وهَلَاكِ الشیء باستحالة و فساد کقوله : وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ [ البقرة/ 205] ويقال : هَلَكَ الطعام . والثالث : الموت کقوله : إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ [ النساء/ 176] وقال تعالیٰ مخبرا عن الکفّار : وَما يُهْلِكُنا إِلَّا الدَّهْرُ [ الجاثية/ 24] . ( ھ ل ک ) الھلاک یہ کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ایک یہ کہ کسی چیز کا اپنے پاس سے جاتے رہنا خواہ وہ دوسرے کے پاس موجود ہو جیسے فرمایا : هَلَكَ عَنِّي سُلْطانِيَهْ [ الحاقة/ 29] ہائے میری سلطنت خاک میں مل گئی ۔ دوسرے یہ کہ کسی چیز میں خرابی اور تغیر پیدا ہوجانا جیسا کہ طعام ( کھانا ) کے خراب ہونے پر ھلک الطعام بولا جاتا ہے قرآن میں ہے : ۔ وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ [ البقرة/ 205] اور کھیتی کو بر باد اور انسانوں اور حیوانوں کی نسل کو نابود کردی ۔ موت کے معنی میں جیسے فرمایا : ۔ إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ [ النساء/ 176] اگر کوئی ایسا مرد جائے ۔
(١٦۔ ١٩) کیا ہم پہلے لوگوں کو عذاب اور موت سے نہیں ہلاک کرچکے اور پچھلوں کو بھی عذاب اور موت کے ذریعے اگلوں ہی کے ساتھ ساتھ کردیں گے آپ کی قوم جو مشرک ہے ہم ان کے ساتھ ایسا ہی کریں گے قیامت کے دن ان جھٹلانے والوں کو سخت عذاب ہوگا۔
8 This is an argument from history for the Hereafter, It means; "Consider your own history in the world. Whichever nations denied the Hereafter and took this worldly life to be real life and based their moral attitude on the results appearing here regarding them as the criterion of good and evil, ultimately went to their doom without exception This is a proof of the fact that the Hereafter is an actual reality overlooking and ignoring which causes the same kind of harm to a person which is caused when he chooses to close his eyes to the hard facts of life. (For further explanation, see E.N. 12 of Yunus, E.N. 86 of An-Naml, E.N. 8 of Ar-Rum, E.N. 25 of Saba) .
سورة الْمُرْسَلٰت حاشیہ نمبر :8 یہ آخرت کے حق میں تاریخی استدلال ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ خود اسی دنیا میں اپنی تاریخ کو دیکھ لو ۔ جن قوموں نے بھی آخرت کا انکار کر کے اسی دنیا کو اصل زندگی سمجھا اور اسی دنیا میں ظاہر ہونے والے نتائج کو خیر و شر کا معیار سمجھ کر اپنا اخلاقی رویہ متعین کیا ، بلا استثناء وہ سب آخر کار تباہ ہو کر رہیں ۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آخرت فی الواقع ایک حقیقت ہے جسے نظر انداز کر کے کام کرنے والا اسی طرح نقصان اٹھاتا ہے جس طرح ہر اس شخص کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے جو حقائق سے آنکھیں بند کر کے چلے ۔ ( مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد دوم ، یونس ، حاشیہ 12 ۔ جلد سوم ، النمل ، حاشیہ 86 ۔ الروم ، حاشیہ 8 ۔ جلد چہارم ، سبا ، حاشیہ 25 ) ۔
١٦۔ ٢٨۔ قوم نوح سے لے کر فرعون تک کے ان لوگوں کو اولین فرمایا جن پر عذاب آخرت کے علاوہ دنیا میں بھی عذاب آیا جس سے وہ ہلاک ہوگئے۔ اسی واسطے فرمایا ہم یہی کچھ کرتے ہیں گناہ گاروں سے۔ کفار مکہ اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ کے منکر شریعت لوگوں کو آخرین فرمایا۔ اور اس میں یہ تنبیہ ہے کہ اگر یہ آخر زمانہ کے لوگ بھی اللہ کے رسول کی مخالفت اور اللہ کے کلام کے جھٹلانے میں پہلے لوگوں کے قدم بقدم رہے تو ان پر بھی ایسی آفت آئے گی جو ان سے پہلوں پر آئی۔ قیامت کے دن ایسے لوگوں کے لئے جو خرابی درپیش ہے وہ اس آفت دنیاوی کے علاوہ ہے پھر ایک ناچیز نطفہ سے انسان کی پیدائش کا اور تاحیات اس کے زمین پر رہنے کا اور مردہ انسان کی زمین میں سمائی کا اور بارش اور زمین کی ندیوں نالوں چشموں کنوئوں سے میٹھے پانی کے بہم پہنچانے کا ذکر فرما کر یہ تنبیہ فرمائی کہ انسان کی سمجھ سے باہر یہ سب انتظام آنکھوں سے دیکھ کر پھر بھی جو کوئی حشر کا انکار کرے گا۔ اس کے لئے اس دن بڑی خرابی ہے۔ جمے ٹھہراؤ سے مقصود رحم ہے جہاں نطفہ حفاظت سے رہا۔ وعدہ مقرر سے مقصود حمل کی مدت ہے۔ فقد رنا فنعم القدرون کا مطلب یہ ہے کہ ایک ہی نطفہ سے مرد عورت پورا ادھورا گورا کالا جس کو جیسا چاہا پیدا کیا۔ کفاتا کے معنی ٹھکانا ‘ زندے زمین کے اوپر مردے زمین کے اندر رہتے ہیں اس لئے زمین کو زندوں اور مردوں کا ٹھکانا فرمایا۔
(77:16) الم نھلک الاولین۔ الف استفہام انکاری کے لئے۔ لم نھلک مضارع نفی جحد بلم کا صیغہ جمع متکلم اہلاک (افعال) مصدر سے، الاولین الاول کی جمع۔ اگلے۔ پہلے (لوگ) کیا ہم نے پہلوں کو غارت نہیں کردیا تھا۔ (جیسے قوم نوح قوم عاد، قوم ثمود وغیرہ
الم نھلک ........................ للمکذبین یوں ایک ہی چوٹ میں اقوام وملل سابقین کی ہلاکتوں کی ایک جھلک دکھادی جاتی ہے۔ اور بعد میں آنے والوں کی جھلک دکھائی جاتی ہے۔ حالانکہ تاریخ بعید اور تاریخ قریب میں ہلاک شدہ اقوام کی مثالیں بیشمار ہیں۔ دور دور تک اور قریب قریب کے زمانوں میں اقوام کی لاشیں ہی لاشیں نظر آتی ہیں۔ اور زبان حال سے سنت الٰہی کی گونج نظر آتی ہے اور سنائی دیتی ہے۔
پہلی امتیں ہلاک ہوچکی ہیں ان سے عبرت حاصل کرو، اللہ کی نعمتوں کی قدر دانی کرو، جھٹلانے والوں کے لیے بڑی خرابی ہے جب تکذیب پر عذاب میں مبتلا کیے جانے کی وعید سنائی جاتی تھی تو مکذبین و منکرین کہتے تھے کہ یہ ایسی ہی باتیں ہیں عذاب وزاب کچھ آنے والا نہیں۔ اللہ تعالیٰ شانہ نے فرمایا کیا دنیا میں ہم نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک نہیں کیا ؟ اسے تو تم مانتے ہو کہ تم سے پہلی قومیں ہلاک ہوئی ہیں اور ان پر عذاب آیا ہم نے انہیں ہلاک کیا ان کے بعد والوں کو بھی ان کے ساتھ کردیں گے یعنی بعد والوں کو بھی عذاب دیں گے اور ہلاک کریں گے اور ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی کرتے ہیں یعنی کافروں کے کفر پر سزا دینا طے شدہ امر ہے خواہ دنیا و آخرت دونوں میں سزا ملے خواہ صرف آخرت میں عذاب دیا جائے۔ بڑی خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔ جو لوگ قیامت کے منکر تھے انہیں یہی تعجب ہوتا تھا کہ دوبارہ کیسے زندہ ہوں گے ان کے استعجاب کو دور کرنے کے لیے ارشاد فرمایا کیا ہم نے تمہیں ذلیل پانی یعنی قطرہ منی سے پیدا نہیں کیا ؟ اس نطفہ کو ٹھہرنے کی محفوظ جگہ میں یعنی مادر رحم میں ٹھہرایا یعنی وقت ولادت تک اور یہ وقت ہم نے مقرر کردیا سو ہم اچھے وقت مقرر کرنے والے ہیں، جو وقت مقرر کیا ٹھیک مقرر کیا اسی کے مطابق ہر ایک کی ولادت ہوئی بڑی خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔
4:۔ ” الم نہلک “ یہ تخویف دنیوی ہے ذرا ان سے پوچھو تو سہی کیا ہم نے ان سے پہلے سرکشوں اور معاندوں کو ہلاک نہیں کیا ؟۔ ” ثم نتبعہم الاخرین “ یہ استیناف ہے اور اس میں اہل مکہ کے لیے وعید ہے۔ ان اولین کی طرح ہم ان باقیوں کو بھی ہلاک کریں گے کیونکہ مجرموں کے ساتھ ہم یہی کچھ کرتے ہیں۔ مگر اس کے باوجود وہ پھر بھی نہیں مانتے اور مکذبین کے لیے تو ہے ہی ہلاکت اور ویل۔ رفع علی الاستیناف وھو وعید لاھل مکۃ واخبار بعد الھجرۃ کبدر کانہ قیل ثم نحن نفعل بامثالہم من الاخرین مثل ما فعلنا بالاولین الخ (روح ج 29 ص 174) ۔