Surat ul Mursilaat

Surah: 77

Verse: 24

سورة المرسلات

وَیۡلٌ یَّوۡمَئِذٍ لِّلۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿۲۴﴾

Woe, that Day, to the deniers.

اس دن تکذیب کرنے والوں کی خرابی ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

So We did measure; and We are the best to measure. Woe that Day to the deniers! Then Allah says, أَلَمْ نَجْعَلِ الاَْرْضَ كِفَاتًا

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٥] یعنی انسان کا نطفہ بےجان غذاؤں سے بنا تھا۔ اللہ نے اس کی نشوونما کی اس میں جان ڈالی اور اسے ایک جیتا جاگتا انسان بنا کھڑا کیا۔ اس کے باوجود جو لوگ موت کے بعد دوبارہ زندگی کے منکر ہیں ان کی عقلوں پر افسوس ہے اور ان کا انجام تباہی کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے ؟

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ۝ ٢٤ ويل قال الأصمعيّ : وَيْلٌ قُبْحٌ ، وقد يستعمل علی التَّحَسُّر . ووَيْسَ استصغارٌ. ووَيْحَ ترحُّمٌ. ومن قال : وَيْلٌ وادٍ في جهنّم، قال عز وجل : فَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا يَكْسِبُونَ [ البقرة/ 79] ، وَوَيْلٌ لِلْكافِرِينَ [إبراهيم/ 2] وَيْلٌ لِكُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ [ الجاثية/ 7] ، فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا [ مریم/ 37] ، فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا [ الزخرف/ 65] ، وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ [ المطففین/ 1] ، وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ [ الهمزة/ 1] ، يا وَيْلَنا مَنْ بَعَثَنا[يس/ 52] ، يا وَيْلَنا إِنَّا كُنَّا ظالِمِينَ [ الأنبیاء/ 46] ، يا وَيْلَنا إِنَّا كُنَّا طاغِينَ [ القلم/ 31] . ( و ی ل ) الویل اصمعی نے کہا ہے کہ ویل برے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور حسرت کے موقع پر ویل اور تحقیر کے لئے ویس اور ترحم کے ویل کا لفظ استعمال ہوتا ہے ۔ اور جن لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ ویل جہنم میں ایک وادی کا نام ہے۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا يَكْسِبُونَ [ البقرة/ 79] ان پر افسوس ہے اس لئے کہ بےاصل باتیں اپنے ہاتھ سے لکھتے ہیں اور پھر ان پر افسوس ہے اس لئے کہ ایسے کام کرتے ہیں وَوَيْلٌ لِلْكافِرِينَ [إبراهيم/ 2] اور کافروں کے لئے سخت عذاب کی جگہ خرابی ہے ۔ ۔ فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا [ الزخرف/ 65] سو لوگ ظالم ہیں ان کی خرابی ہے ۔ وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ [ المطففین/ 1] ناپ تول میں کمی کر نیوالا کے لئے کر ابی ہے ۔ وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ [ الهمزة/ 1] ہر طعن آمیز اشارتیں کرنے والے چغلخور کی خرابی ہے ۔ يا وَيْلَنا مَنْ بَعَثَنا[يس/ 52]( اے ہے) ہماری خواب گا ہوں سے کسی نے ( جگا ) اٹھایا ۔ يا وَيْلَنا إِنَّا كُنَّا ظالِمِينَ [ الأنبیاء/ 46] ہائے شامت بیشک ہم ظالم تھے ۔ يا وَيْلَنا إِنَّا كُنَّا طاغِينَ [ القلم/ 31] ہائے شامت ہم ہی حد سے بڑھ گئے تھے ۔ يَوْمَئِذٍ ويركّب يَوْمٌ مع «إذ» ، فيقال : يَوْمَئِذٍ نحو قوله عزّ وجلّ : فَذلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ [ المدثر/ 9] وربّما يعرب ويبنی، وإذا بني فللإضافة إلى إذ . اور کبھی یوم کے بعد اذ بڑھا دیاجاتا ہے اور ( اضافت کے ساتھ ) یومئذ پڑھا جاتا ہے اور یہ کسی معین زمانہ کی طرف اشارہ کے لئے آتا ہے اس صورت میں یہ معرب بھی ہوسکتا ہے اور اذ کی طرف مضاف ہونے کی وجہ سے مبنی بھی ۔ جیسے فرمایا : وَأَلْقَوْا إِلَى اللَّهِ يَوْمَئِذٍ السَّلَمَ [ النحل/ 87] اور اس روز خدا کے سامنے سرنگوں ہوجائیں گے ۔ فَذلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ [ المدثر/ 9] وہ دن بڑی مشکل کا دن ہوگا ۔ اور آیت کریمہ : وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ [إبراهيم/ 5] اور ان کو خدا کے دن یا ددلاؤ۔ میں ایام کی لفظ جلالت کی طرف اضافت تشریفی ہے اور ا یام سے وہ زمانہ مراد ہے جب کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے فضلو انعام کے سمندر بہا دیئے تھے ۔ كذب وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی: إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ، ( ک ذ ب ) الکذب قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٤۔ ٢٦) ایمان و قیامت کے منکروں کو قیامت کے دن سخت ترین عذاب ہوگا، بندوں پر جو اللہ تعالیٰ نے احسانات کیے ان کا تذکرہ کرتا ہے کیا ہم نے زمین کو سمیٹنے والی نہیں بنایا کہ زندہ اس کے اوپر اور مردہ اس کے اندر ہیں یا یہ کہ زندوں اور مردوں کے لیے اس کو برتن نہیں بنایا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

14 This sentence here gives the meaning that in spite of the express argument for the possibility of life-after-death, the people who are denying it, may mock it as they may and look down upon its believers as people of antiquated ideas and whims, but when the Day comes which they are denying today, they will themselves know that it is a Day of their own ruin and disaster.

سورة الْمُرْسَلٰت حاشیہ نمبر :14 یہاں یہ فقرہ اس معنی میں ارشاد ہوا ہے کہ حیات بعد موت کے امکان کی یہ صریح دلیل سامنے موجود ہوتے ہوئے بھی جو لوگ اس کو جھٹلا رہے ہیں ، وہ آج اس کا جتنا چاہیں مذاق اڑا لیں ، اور جس قدر چاہیں اس کے ماننے والوں کو دقیانوسی ، تاریک خیال اور اوہام پرست قرار دیتے رہیں ، مگر جب وہ دن آ جائے گا جسے جھٹلا رہے ہیں تو انہیں خود معلوم ہو جائے گا کہ یہ ان کے لیے تباہی کا دن ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(77:24) ویل یؤمئذ للمکذبین۔ تباہی ہے اس روز جھٹلانے والوں کے لئے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ویل ........................ للمکذبین (24:77) ” تباہی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے “۔ اس کے بعد اس زمین کا مطالعاتی سفر ، یہ سفر انسانی زندگی کے بارے میں ہے۔ اور زمین کے اندر اس زندگی کے لئے تمام ضروریات کا مقرر کرنا اور اس کا مطالعہ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اس کے بعد فرمایا کیا ہم نے زمین کو سمیٹنے والی نہیں بنائی ؟ دیکھو اس نے زندوں اور مردوں کو سب کو سمیٹ لیا جب قیامت کا دن ہوگا (جو زندہ ہوں گے وہ بھی مرجائیں گے) پھر یہ سب زندہ ہو کر اٹھیں گے تم بھی اللہ کی مخلوق ہو اس نے تمہیں اپنی زمین میں دوسری مخلوق کی طرح جمع فرما دیا ہے قیامت کے دن زمین کے پیٹ سے نکل کر باہر آجاؤ گے، مزید فرمایا کہ ہم نے اس میں بڑے بڑے پہاڑ بنا دیئے ان پہاڑوں سے تمہارے لیے بہت سے فائدے ہیں جن میں سے ایک فائدہ یہ ہے کہ وہ زمین کی میخیں بنے ہوئے ہیں جو اسے ہلنے نہیں دیتے پھر جب قیامت کا دن ہوگا تو زمین میں زلزلہ آجائے گا اور پہاڑ بھی دھنے ہوئے اون کی طرح اڑے اڑے پھریں گے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(24) اس دن جھٹلانے والوں اور تکذیب کرنے والوں کے لئے بڑی تباہی ہے۔