Surat ul Mursilaat

Surah: 77

Verse: 29

سورة المرسلات

اِنۡطَلِقُوۡۤا اِلٰی مَا کُنۡتُمۡ بِہٖ تُکَذِّبُوۡنَ ﴿ۚ۲۹﴾

[They will be told], "Proceed to that which you used to deny.

اس دوزخ کی طرف جاؤ جسے تم جھٹلاتے رہے تھے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The driving of the Criminals to their Final Abode in Hell and how it will be done Allah informs about the disbelievers who deny the final abode, the recompense, Paradise, and the Hellfire. On the Day of Judgement it will be said to them: انطَلِقُوا إِلَى مَا كُنتُم بِهِ تُكَذِّبُونَ انطَلِقُوا إِلَى ظِلٍّ ذِي ثَلَثِ شُعَبٍ

جہنم کے شعلے سیاہ اونٹوں اور دہکتے تانبے کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے جو کفار قیامت ، جزا سزا اور جنت دوزخ کو جھٹلاتے تھے ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا کہ لو جسے سچا نہ مانتے تھے وہ سزا اور وہ دوزخ یہ موجود ہے اس میں جاؤ ، اس کے شعلے بھڑک رہے ہیں اور اونچے ہو ہو کر ان میں تین پھانکیں کھل جاتی ہیں ، تین حصے ہو جاتے ہیں اور ساتھ ہی دھواں بھی اوپر کو چڑھتا ہے جس سے نیچے کی طرف چھاؤں پڑتی ہے اور سایہ معلوم ہوتا ہے لیکن فی الواقع نہ تو وہ سایہ ہے نہ آگ کی حرارت کو کم کرتا ہے یہ جہنم اتنی تیز تند سخت اور بہ کثرت آگ والی ہے کہ اس کی چنگاریاں جو اڑتی ہیں وہ بھی مثل قلعہ کے اور تناؤ درخت کے مضبوط لمبے چوڑے تنے کے ہیں ، دیکھنے والے کو یہ لگتا ہے کہ گویا وہ سیاہ رنگ اونٹ ہیں یا کشتیوں کے رسے ہیں یا تانبے کے ٹکڑے ہیں ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ہم جاڑے کے موسم میں تین تین ہاتھ کی یا کچھ زیادہ لمبی لکڑیاں لے کر انہیں بلند کر لیتے اسے ہم قصر کہا کرتے تھے ، کشتی کی رسیاں جب اکٹھی ہو جاتی ہیں تو خاصی اونچی قد آدم کے برابر ہو جاتی ہیں ، اسی کو یہاں مراد لیا گیا ہے ، ان جھٹلانے والوں پر حسرت و افسوس ہے ، آج نہ یہ بول سکیں گے اور نہ انہیں عذر و معذرت کرنے کی اجازت ملے گی کیونکہ ان پر حجت قائم ہو چکی اور ظالموں پر اللہ کی بات ثابت ہو گئی اب انہیں بولنے کی اجازت نہیں ، یہ یاد رہے کہ قرآن کریم میں ان کا بولنا مکرنا چھپانا عذر کرنا بھی بیان ہوا ہے ، تو مطلب یہ ہے کہ حجت قائم ہونے سے پہلے عذر معذرت وغیرہ پیش کریں گے جب سب توڑ دیا جائے گا اور دلیلیں پیش ہو جائیں گی تو اب بول چال عذر معذرت ختم ہو جائے گی ، غرض میدان حشر کے مختلف مواقع اور لوگوں کی مختلف مواقع اور لوگوں کی مختلف حالتیں ہیں کسی وقت یہ کسی وقت وہ ، اسی لئے یہاں ہر کلام کے خاتمہ پر جھٹلانے والوں کی خرابی کی خبر دے دی جاتی ہے ۔ پھر فرماتا ہے یہ فیصلے کا دن ہے اگلے پچھلے سب یہاں جمع ہیں اگر تم کسی چالاکی ، مکاری ، ہوشیاری اور فریب دہی سے میرے قبضے سے نکل سکتے ہو تو نکل جاؤ پوری کوشش کر لو ۔ خیال فرمایئے کہ کس قدر دل ہلا دینے والا فقرہ ہے ، پروردگار عالم خود قیامت کے دن ان منکروں سے فرمائے گا کہ اب خاموش کیوں ہو؟ وہ عیاری ، چالاکی اور بےباکی کیا ہوئی؟ دیکھو میں نے تم سب کو ایک میدان میں حسب وعدہ جمع کر دیا آج اگر کسی حکمت سے مجھ سے چھوٹ سکتے ہو تو کمی نہ کرو ، جیسے اور جگہ ہے آیت ( يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْـطَارِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ فَانْفُذُوْا ۭ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ 33۝ۚ ) 55- الرحمن:33 ) یعنی اے جن وانس کے گروہ اگر تم آسان و زمین کے کناروں سے باہر چلے جانے کی طاقت رکھتے ہو تو نکل جاؤ مگر اتنا سمجھ لو کہ بغیر قوت کے تم باہر نہیں جا سکتے اور وہ تم میں نہیں اور جگہ ہے آیت ( وَلَا تَضُرُّوْنَهٗ شَـيْـــًٔـا ۭ اِنَّ رَبِّيْ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ حَفِيْظٌ 57؀ ) 11-ھود:57 ) یعنی تم اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ، حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے بندو نہ تو تمہیں مجھے نفع پہنچانے کا اختیار ہے نہ نقصان پہنچانے کا ، نہ تم مجھے کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہو نہ میرا کچھ بگاڑ سکتے ہو ، حضرت ابو عبد اللہ جدلی فرماتے ہیں کہ میں بیت المقدس گیا دیکھا کہ وہاں حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت کعب احبار رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے ہیں میں بھی بیٹھ گیا ، تو میں نے سنا کہ حضرت عبادہ فرماتے ہیں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام اگلوں پچھلوں کو ایک چٹیل صاف میدان میں جمع کرے گا آواز دینے والا آواز دے کر سب کو ہوشیار کر دے گا ، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا آج کا دن فیصلوں کا دن ہے تم سب اگلے پچھلوں کو میں نے جمع کر دیا ہے ، اب میں تم سے کہتا ہوں کہ اگر میرے ساتھ کوئی دغا فریب مکر حیلہ کر سکتے ہو تو کر لو سنو! متکبر سرکش منکر اور جھٹلانے والا آج میری پکڑ سے بچ نہیں سکتا اور نہ کوئی نافرمان شیطان میرے عذابوں سے نجات پا سکتا ہے ، حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا لو ایک حدیث میں بھی سنا دوں ، اس دن جہنم اپنی گردن دراز کر کے لوگوں کے بیچوں بیچ پہنچا کر بہ آواز بلند کہے گی ، اے لوگو تین قسم کے لوگوں کو ابھی ہی پکڑ لینے کا مجھے حکم مل چکا ہے ، میں انہیں خوب پہچانتی ہوں کوئی باپ اپنی اولاد کو اور کوئی بھائی اپنے بھائی کو اتنا نہ جانتا ہو گا جتنا میں انہیں پہچانتی ہوں ، آج نہ تو وہ مجھ سے کہیں چھپ سکتے ہیں نہ کوئی انہیں چھپا سکتا ہے ۔ ایک تو وہ جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کیا ہو ، دوسرے وہ جو منکر اور متکبر ہو اور تیسرے وہ جو نافرمان شیطان ہو ، پھر وہ مڑ مڑ کر چن چن کر ان اوصاف کے لوگوں کو میدان حشر میں چھانٹ لے گی اور ایک ایک کو پکڑ کر نکل جائے گی اور حساب سے چالیس سال پہلے ہی یہ جہنم واصل ہو جائیں گے ۔ ( اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں محفوظ رکھے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

29۔ 1 یہ فرشتے جہنمیوں کو کہیں گے

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(انطلقوا الی ماکنتم بہ تکذبون :” شعب “ ” شعبۃ “ کی جمع ہے، شاخیں۔” جملت “ ” حمل “ کی جمع ہے، جیسے ” حجارۃ “” حجر “ کی جمع ہے۔ یہ بات قیامت کے دن جھٹلانے والوں سے کہی جائے گی، اس دن جب متوقی لوگوں کو عرش الٰہی کا اور جنت کے گھنے درختوں کا سایہ ملے گا، تو جھٹلانے والوں کو ایسے سائے کی طرف جانے کا حکم ہوگا جو ھجہنم سے نکلنے والے دھوئیں کا ہوگا، جو پھیل کر تین تین شاخوں میں تقسیم ہوجائیگا، جس میں نہ سایہ ہوگا نہ ٹھنڈک۔ جہنم سے اتنی بڑی بڑی چنگاریاں اڑیں گی جیسے محل ہوں اور اس طرح دکھئای دیں گی جیسے زرد رنگ کے اونٹوں کی جماعت۔ اس دن جھٹلانے والوں کے لئے بہت بڑی بربادی ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنْــطَلِقُوْٓا اِلٰى مَا كُنْتُمْ بِہٖ تُكَذِّبُوْنَ۝ ٢٩ ۚ طلق أصل الطَّلَاقِ : التّخليةُ من الوثاق، يقال : أَطْلَقْتُ البعیرَ من عقاله، وطَلَّقْتُهُ ، وهو طَالِقٌ وطَلِقٌ بلا قيدٍ ، ومنه استعیر : طَلَّقْتُ المرأةَ ، نحو : خلّيتها فهي طَالِقٌ ، أي : مُخَلَّاةٌ عن حبالة النّكاح . قال تعالی: فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَ [ الطلاق/ 1] ، الطَّلاقُ مَرَّتانِ [ البقرة/ 229] ، وَالْمُطَلَّقاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَ [ البقرة/ 228] ، فهذا عامّ في الرّجعيّة وغیر الرّجعيّة، وقوله : وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ [ البقرة/ 228] ، خاصّ في الرّجعيّة، وقوله : فَإِنْ طَلَّقَها فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ [ البقرة/ 230] ، أي : بعد البین، فَإِنْ طَلَّقَها فَلا جُناحَ عَلَيْهِما أَنْ يَتَراجَعا [ البقرة/ 230] ، يعني الزّوج الثّاني . وَانْطَلَقَ فلانٌ: إذا مرّ متخلّفا، وقال تعالی: فَانْطَلَقُوا وَهُمْ يَتَخافَتُونَ [ القلم/ 23] ، انْطَلِقُوا إِلى ما كُنْتُمْ بِهِ تُكَذِّبُونَ [ المرسلات/ 29] ، وقیل للحلال : طَلْقٌ ، أي : مُطْلَقٌ لا حَظْرَ عليه، وعدا الفرس طَلْقاً أو طَلْقَيْنِ اعتبارا بتخلية سبیله . والمُطْلَقُ في الأحكام : ما لا يقع منه استثناء «2» ، وطَلَقَ يَدَهُ ، وأَطْلَقَهَا عبارةٌ عن الجود، وطَلْقُ الوجهِ ، وطَلِيقُ الوجهِ : إذا لم يكن کالحا، وطَلَّقَ السّليمُ : خَلَّاهُ الوجعُ ، قال الشاعر : 302- تُطَلِّقُهُ طوراً وطورا تراجع«3» ولیلة طَلْقَةٌ: لتخلية الإبل للماء، وقد أَطْلَقَهَا . ( ط ل ق ) ا لطلاق دراصل اس کے معنی کسی بندھن سے آزاد کرنا کے ہیں ۔ محاورہ الطلقت البعر من عقالہ وطلقۃ میں نے اونٹ کا پائے بند کھول دیا طالق وطلق وہ اونٹ جو مقید نہ ہو اسی سے خلی تھا کی طرح طلقت المرءۃ کا محاورہ مستعار ہے یعنی میں نے اپنی عورت کو نکاح کے بندھن سے آزادکر دیا ایسی عورت کو طائق کہا جاتا ہے قرآن میں ہے : ۔ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَ [ الطلاق/ 1] تو ان کی عدت کے شروع میں طلاق دو ۔ الطَّلاقُ مَرَّتانِ [ البقرة/ 229] طلاق صرف دو بار ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَالْمُطَلَّقاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَ [ البقرة/ 228] اور طلاق والی عورتیں تین حیض تک اپنے تئیں روکے کے رہیں ۔ میں طلاق کا لفظ عام ہے جو رجعی اور غیر رجعی دونوں کو شامل ہے ۔ لیکن آیت کریمہ : ۔ وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ [ البقرة/ 228] اور ان کے خاوند ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کو اپنی زوجیت میں لے لینے کے زیادہ حقدار ہیں ۔ میں واپس لے لینے کا زیادہ حقدار ہونے کا حکم رجعی طلاق کے ساتھ مخصوص ہے اور آیت کریمہ : ۔ فَإِنْ طَلَّقَها فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ [ البقرة/ 230] پھر اگر شوہر ( دو طلاقوں کے بعد تیسری ) طلاق عورت کو دے دے تو ۔۔۔۔ اس پہلے شوہر پر حلال نہ ہوگی ۔ میں من بعد کے یہ معنی ہیں کہ اگر بینونت یعنی عدت گزرجانے کے بعد تیسری طلاق دے ۔ تو اس کے لئے حلال نہ ہوگی تا و قتیلہ دوسرے شوہر سے شادی نہ کرے ۔ چناچہ آیت کریمہ : ۔ فَإِنْ طَلَّقَها فَلا جُناحَ عَلَيْهِما أَنْ يَتَراجَعا [ البقرة/ 230] میں طلقھا کے معنی یہ ہیں کہ اگر دوسرا خاوند بھی طلاق دے دے وہ پہلے خاوند کے نکاح میں آنا چاہیئے کے تو ان کے دوبارہ نکاح کرلینے میں کچھ گناہ نہیں ہے ۔ انطلق فلان کے معنی چل پڑنا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَانْطَلَقُوا وَهُمْ يَتَخافَتُونَ ، [ القلم/ 23] تو وہ چل پڑے اور آپس میں چپکے چپکے کہتے جاتے تھے : ۔ انْطَلِقُوا إِلى ما كُنْتُمْ بِهِ تُكَذِّبُونَ [ المرسلات/ 29] جس چیز کو تم جھٹلا یا کرتے تھے اب اسکی طرف چلو ۔ اور حلال چیز کو طلق کہا جاتا ہے کیونکہ اس کے کھالینے پر کسی قسم کی پابندی نہیں ہوتی ۔ عد الفرس طلقا اوطلقین گھوڑے نے آزادی سے ایک دو دوڑیں لگائیں اور فقہ کی اصطلاحی میں مطلق اس حکم کو کہا جاتا ہے جس سے کوئی جزئی مخصوص نہ کی گئی ہو ۔ طلق یدہ واطلقھا اس نے اپنا ہاتھ کھول دیا ۔ طلق الوجہ اوطلیق الوجہ خندہ رو ۔ ہنس مکھ ، طلق السلیم ( مجہول ) مار گزیدہ کا صحت یاب ہونا ۔ شاعر نے کہا ہے ( الطویل ) تطلقہ طورا وطور الرجع کہ وہ کبھی در د سے آرام پالیتا ہے اور کبھی وہ دور دوبارہ لوٹ آتا ہے لیلۃ طلحۃ وہ رات جس میں اونٹوں کو پانی پر وارد ہونے کے لئے آزاد دیا جائے کہ وہ گھاس کھاتے ہوئے اپنی مرضی سے چلے جائیں ۔ چناچہ محاورہ ہے ۔ الطلق الابل یعنی اس نے پانی پر وار ہونے کے لئے اونٹوں کو آزاد چھوڑدیا ۔ إلى إلى: حرف يحدّ به النهاية من الجوانب الست، وأَلَوْتُ في الأمر : قصّرت فيه، هو منه، كأنه رأى فيه الانتهاء، وأَلَوْتُ فلانا، أي : أولیته تقصیرا نحو : کسبته، أي : أولیته کسبا، وما ألوته جهدا، أي : ما أولیته تقصیرا بحسب الجهد، فقولک : «جهدا» تمييز، وکذلك : ما ألوته نصحا . وقوله تعالی: لا يَأْلُونَكُمْ خَبالًا[ آل عمران/ 118] منه، أي : لا يقصّرون في جلب الخبال، وقال تعالی: وَلا يَأْتَلِ أُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ [ النور/ 22] قيل : هو يفتعل من ألوت، وقیل : هو من : آلیت : حلفت . وقیل : نزل ذلک في أبي بكر، وکان قد حلف علی مسطح أن يزوي عنه فضله وردّ هذا بعضهم بأنّ افتعل قلّما يبنی من «أفعل» ، إنما يبنی من «فعل» ، وذلک مثل : کسبت واکتسبت، وصنعت واصطنعت، ورأيت وارتأيت . وروي : «لا دریت ولا ائتلیت»وذلک : افتعلت من قولک : ما ألوته شيئا، كأنه قيل : ولا استطعت . الیٰ ۔ حرف ( جر ) ہے اور جہات ستہ میں سے کسی جہت کی نہایتہ حدبیان کرنے کے لئے آتا ہے ۔ ( ا ل و ) الوت فی الامر کے معنی ہیں کسی کام میں کو تا ہی کرنا گو یا کوتاہی کرنے والا سمجھتا ہے کہ اس امر کی انتہا یہی ہے ۔ اور الوت فلانا کے معنی اولیتہ تقصیرا ( میں نے اس کوتاہی کا والی بنا دیا ) کے ہیں جیسے کسبتہ ای اولیتہ کسبا ( میں نے اسے کسب کا ولی بنا دیا ) ماالوتہ جھدا میں نے مقدر پھر اس سے کوتاہی نہیں کی اس میں جھدا تمیز ہے جس طرح ماالوتہ نصحا میں نصحا ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ { لَا يَأْلُونَكُمْ خَبَالًا } ( سورة آل عمران 118) یعنی یہ لوگ تمہاری خرابی چاہنے میں کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے ۔ اور آیت کریمہ :{ وَلَا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ } ( سورة النور 22) اور جو لوگ تم میں سے صاحب فضل داور صاحب وسعت ) ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھائیں ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ یہ الوت سے باب افتعال ہے اور بعض نے الیت بمعنی حلفت سے مانا ہے اور کہا ہے کہ یہ آیت حضرت ابوبکر کے متعلق نازل ہوئی تھی جب کہ انہوں نے قسم کھائی تھی کہ وہ آئندہ مسطح کی مالی امداد نہیں کریں گے ۔ لیکن اس پر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ فعل ( مجرد ) سے بنایا جاتا ہے جیسے :۔ کبت سے اکتسبت اور صنعت سے اصطنعت اور رایت سے ارتایت اور روایت (12) لا دریت ولا ائتلیت میں بھی ماالوتہ شئیا سے افتعال کا صیغہ ہے ۔ گویا اس کے معنی ولا استطعت کے ہیں ( یعنی تونے نہ جانا اور نہ تجھے اس کی استطاعت ہوئ ) اصل میں كذب وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی: إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ، ( ک ذ ب ) الکذب قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٩ { اِنْطَلِقُوْٓا اِلٰی مَا کُنْتُمْ بِہٖ تُکَذِّبُوْنَ ۔ } ” چلو اب اسی چیز کی طرف جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے۔ “ یعنی جہنم کی آگ کی طرف ۔ یہ وہ حکم ہے جو میدانِ محشر میں اہل جہنم کو سنایا جائے گا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

17 After giving proofs of the coming of the Hereafter, now it is being stated how the deniers will be dealt with when it has actually taken place.

سورة الْمُرْسَلٰت حاشیہ نمبر :17 اب آخرت کے دلائل دینے کے بعد یہ بتایا جا رہا ہے کہ جب وہ واقع ہو جائے گی تو وہاں ان منکرین کا حشر کیا ہو گا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٢٩۔ ٤٠۔ منکرین سزا و جزا کو جب فرشتے دوزخ میں لے جانے لگیں گے تو ان منکروں کو قائل کرنے کے لئے ان سے یہ کہیں گے چگو ذرا اس آگ کا مزہ چکھو جس کے تم دنیا میں منکر تھے صحیح ١ ؎ مسلم میں انس (رض) سے روایت ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دنیا میں بڑے عیش و آرام سے جن دوزخیوں نے اپنی تمام عمر گزاری ہے دوزخ کے پہلے ہی جھونکے کیب عد فرشتے ان سے پوچھیں گے کہ دنیا کا عیش و آرام تمہیں کچھ یاد ہے وہ لوگ قسمیں کھا کر کہیں گے کہ آج کے دن کی تکلیف کے سامنے دنیا کا سب عیش و آرام ہم بھول گئے۔ حساب و کتاب سے فارغ ہونے کے تک اہل دوزخ کو دوزخ کی آگ کی لپٹ کے نیچے رکھا جائے گا جس میں دھواں بھی ہوگا اس دھوئیں کی تین پھانکیں ہوں گی تاکہ اس لپٹ کی تپش بدستور قائم رہے اس دھوئیں کی چھائوں کے گھنی نہ ہونے کا اور اس چھائوں کا آگ کی تپش میں کام نہ آنے کا یہی مطلب ہے پھر اس آگ کی لپٹ سے ایسی بڑی بڑی چنگاریاں اڑتی رہیں گی جیسے بڑے بڑے مکان ‘ وہ چنگاریاں زرد رنگ اور بڑے ہونے کے سبب سے زرد اونٹ معلوم ہوں گے۔ قیامت کا دن پچاس ہزار برس کا ہوگا اور اس میں طرح طرح کی حالتیں پیش آئیں گی۔ حساب و کتاب تک تو دوزخیوں کو جواب دہی کرنے اور عذر پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا جس کا ذکر اور آیتوں میں ہے پھر ان کو کسی جواب دہی کا موقع نہ ملے گا۔ اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے اور قیامت کی ہر حالت کا انکار ایک جرم ہے اس لئے اس دن کی مختلف حالتوں کا ذکر فرما کر ہر ایک جگہ پر فرمایا ہے کہ اس دن جھٹلانے والوں کی خرابی ہے۔ اگلے پچھلے منکرین حشر کو قائل کرنے کے لئے ان سب سے اس دن یہ کہا جائے گا کہ آج جزا و سزا کے آخری فیصلہ کا وہ دن ہے جس کی خبر اللہ کے رسولوں نے تم کو دی تھی اور تم نے اس خبر کو جھٹلایا تھا آج بھی اس کے جھٹلانے کا کوئی حیلہ تم لوگ رکھتے ہو تو اس کو اٹھا نہ رکھو۔ ورنہ اس دن کے جھٹلانے کی خرابی کو بھگتو۔ (١ ؎ صحیح مسلم باب فی الکفار ص ٣٧٤ ج ٢۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(77:29) انطلقوا الی ما کنتم بہ تکذبون : ای قیل لہم انطلقوا۔ فعلامر جمع مذکر حاضر ۔ (ان سے کہا جائے گا کہ تم اس کے وقوع پذیر ہونے کی تکذیب کیا کرتے تھے۔ (اب) واقع ہوگئی ہے چلو اور اپنی ہٹ دھرمی کا مزہ چکھو۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جب لوگوں کو قبروں سے اٹھایا جائے گا اور حساب و کتاب ہوجائے گا تو مجرموں کو حکم ہوگا کہ اب اس کی طرف چلو جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ چلو ! اس سائے کی طرف جو تین شاخوں والا ہے نہ ٹھنڈک دینے والا ہے اور نہ آگ سے بچانے والا ہے اس آگ سے محلات کی مانند بڑے بڑے انگارے اچھل رہے ہوں گے۔ دیکھنے میں یوں لگیں گے جیسے زرد رنگ کے اونٹ اچھل کود رہے ہوں۔ اس دن مجرم نہ بول سکیں گے اور نہ ہی انہیں اپنا عذر پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ اس دن تمام مجرموں کو جمع کرلیا جائے گا اور انہیں کہا جائے گا کہ اگر تم میرے مقابلے میں چال چل سکتے ہو تو چل کر دکھاؤ ! لیکن یہ جھٹلانے والوں کے لیے تباہی کا دن ہوگا۔ قرآن مجید نے کئی مقامات پر یہ حقیقت واضح کی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے حکم سے قیامت کے دوسرے مرحلے کے لیے دوسرا صور پھونکا جائے گا تو ہر انسان اپنی اپنی قبر سے اٹھ کر محشر کے میدان کی طرف چلنے لگے گا اور لوگوں کا حساب ہوگا۔ اس وقت آواز دینے والا مجرموں کو آواز دے گا کہ تم اس کی طرف چلو ! جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے چلو ! اس سائے کی طرف جو تین شاخوں والا ہے نہ اس میں ٹھنڈک ہے اور نہ آگ سے بچانے والا ہے۔ اس مقام پر جہنم کی آگ کی یہ کیفیت بیان کی گئی ہے کہ اس آگ سے دھوئیں کے بڑے بڑے غول اٹھیں گے۔ جیسے کہ سرخ رنگ کے اونٹ اچھل کود رہے ہوں۔ محشر کی گرمی کے ستائے ہوئے مجرم دور سے سمجھیں گے کہ یہ ایسا سایہ ہے جس میں ہمیں سکون مل جائے گا مگر جب اس کے قریب جائیں گے تو دیکھیں گے کہ اس میں آگ کے شعلے محلات کی مانند بھڑک رہے ہیں اور اس سے نکلنے والا دھواں آگ کی شدت کی وجہ سے سیاہ ہونے کی بجائے زرد رنگ کا ہوگا اور اس میں اس قدر تیزی اور شدت ہوگی کہ بل کھاتا ہوا دھواں ایسے لگے گا جیسے زرد رنگ کے اونٹ اچھل کود رہے ہیں۔ یاد رہے کہ قیامت کے دن لوگوں کو پوری طرح صفائی پیش کرنے کے بعد ایک مرحلہ ایسا آئے گا کہ جب انہیں بولنے اور معذرت کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس دن اگلے پچھلے مجرمین کو جمع کرلیا جائے گا اور انہیں کہا جائے گا کہ اگر تم میں کوئی چال چلنے کی طاقت ہے تو چل سکتے ہو۔ دنیا میں بڑی بڑی چالیں چلنے والے بڑے مکار اور فریب کار لوگ بےبس ہوں گے انہیں یقین ہوجائے گا کہ آج کا دن ہمارے لیے تباہی اور بربادی کا دن ہے اس لیے وہ کسی قسم کی چال نہیں چل سکیں گے۔ مسائل ١۔ قیامت کے دن حکم ہوگا کہ جسے تم جھٹلایا کرتے تھے اس کے لیے اکٹھے ہوجاؤ۔ ٢۔ قیامت کے دن مجرموں کے لیے بڑا بھاری ہوگا۔ ٣۔ قیامت کے دن مجرم کوئی چال نہیں چل سکیں گے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یعنی جاﺅ، اب تم آزادہو ، قیامت کے طویل دن کے فیصلے اب ہوچکے ، لیکن یہ آزادی اب دائمی قید ہے ، جہنم کے اندر۔ انطلقو .................... بہ تکذبون (29:77) ” چلو اب اسی چیز کی طرف جسے تم جھٹلایا کرتے تھے “۔ یہ چیز اب تمہارے سامنے حاضر موجود ہے ۔ وہ کیا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

منکرین سے خطاب ہوگا کہ ایسے سائبان کی طرف چلو جو گرمی سے نہیں بچاتا وہ بڑے بڑے انگارے پھینکتا ہے، انہیں اس دن معذرت پیش کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی منکرین اور مکذبین جب قیامت کے دن حاضر ہوں گے تو ان سے کہا جائے گا کہ اس کی طرف چلو جسے تم جھٹلایا کرتے تھے یہ لوگ دوزخ کو اور دوزخ کے عذابوں کو جھٹلاتے تھے اور سمجھتے تھے کہ یوں ہی کہنے کی باتیں ہیں جب قیامت کا دن ہوگا تو وہ دوزخ کے عذاب میں مبتلا ہوں گے ابھی اس میں داخل نہ ہوں گے کہ دوزخ سے ایک بڑا دھواں نکلے گا دیکھنے میں سایہ کی طرح ہوگا (جس کا ترجمہ سائبان کیا گیا ہے) اس سایہ کے تین ٹکڑے ہوجائیں گے دیکھنے میں سایہ ہوگا لیکن سایہ کا کام نہ دے گا نہ اس سے کوئی ٹھنڈک حاصل ہوگی اور نہ وہ گرمی سے بچائے گا۔ مفسرین نے فرمایا ہے کہ کافر لوگ حساب سے فارغ ہونے تک اسی دھوئیں میں رہیں جیسا کہ مقبولان بارگاہ الٰہی عرش کے سایہ میں ہوں گے۔ یہ تو دھوئیں کا ذکر تھا جو دوزخ سے نکلے گا اس کے بعد دوزخ کے شراروں اور انگاروں کا ذکر فرمایا ارشاد فرمایا کہ جہنم ایسے ایسے انگاروں کو پھینکے گا جیسے بڑے بڑے محل یعنی مکانات ہوں اور جیسے کالے کالے اونٹ ہوں۔ کچھ انگارے بہت بڑے بڑے ہوں گے اور کچھ چھوٹے ہوں گے یہ چھوٹے بھی ایسے ہوں گے جیسے کالے کالے اونٹ (جب اس آگ کے انگارے اتنے بڑے بڑے ہوں گے تو وہ آگ کتنی بڑی ہوگی اسی سے سمجھ لیا جائے) ﴿وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ ٠٠﴾ (بڑی خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے) ۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

7:۔ ” انطلقوا “ یہ تخویف اخروی ہے قیامت کے دن کافروں سے کہا جائے گا کہ اب اس عذاب کی طرف چلو جس کا دنیا میں انکار کیا کرتے تھے یعنی جہنم میں داخل ہونے کے لیے چلو اگر تمہارا خیال ہو کہ وہاں بچاؤ کیلئے کوئی سایہ یا آڑ ہوگی تو سن لو ہاں، وہاں سایہ ہوگا لیکن درختوں کا نہیں بلکہ جہنم کی آگ کے دھوئیں کا جو تین شاخوں میں اوپر اٹھے گا، کیونکہ دھوئیں کی یہ خاصیت ہے کہ جب وہ زور سے نکلتا ہے تو اوپر جا کر متعدد شاخوں میں بٹ جاتا ہے۔ ” لا ظلیل “ یہ ظل کی صفت ہے وہ سایہ ایسا نہیں ہوگا جیسا کہ دھوپ سے بچانے والا سایہ ہوتا ہے اور نہ وہ کسی وقت آگ کے شعلوں کی تپش ہی سے کچھ مفید ہوگا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(29) چلو اس عذاب کی طرف جس کی تم تکذیب کیا کرتے تھے۔ یہ اس دن منکروں سے کہا جائیگا کہ چلو اور چل کر اس عذاب کو دیکھو جس کو تم جھٹلاتے تھے۔