Surat un Naba
Surah: 78
Verse: 3
سورة النبأ
الَّذِیۡ ہُمۡ فِیۡہِ مُخۡتَلِفُوۡنَ ؕ﴿۳﴾
That over which they are in disagreement.
جس کے بارے میں یہ اختلاف کر رہے ہیں ۔
الَّذِیۡ ہُمۡ فِیۡہِ مُخۡتَلِفُوۡنَ ؕ﴿۳﴾
That over which they are in disagreement.
جس کے بارے میں یہ اختلاف کر رہے ہیں ۔
About which they are in disagreement. meaning, the people are divided into two ideas about it. - There are those who believe in it and - those who disbelieve in it. Then Allah threatens those who deny the Day of Judgement by saying, كَلَّ سَيَعْلَمُونَ
3۔ 1 یعنی جس بڑی خبر کی بابت ان کے درمیان اختلاف ہے اس کے متعلق استفسار ہے۔ اس بڑی خبر سے بعض نے قرآن مجید مراد لیا ہے کافر اس کے بارے میں مختلف باتیں کرتے تھے، کوئی اسے جادو، کوئی کہانت، کوئی شعرا اور کوئی پہلوں کی کہانیاں بتلاتا تھا۔ بعض کے نزدیک اس سے مراد قیامت کا برپا ہونا اور دوبارہ زندہ ہونا ہے۔ اسکا ان کے درمیان کچھ اختلاف تھا کوئی بالکل انکار کرتا تھا کوئی صرف شک کا اظہار بعض کہتے تھے کہ سوال کرنے والے مومن و کافر دونوں ہی تھے، مومنین کا سوال تو اضافہ یقین یا بصیرت کے لئے تھا اور کافروں کا جھٹلانا اور مذاق کے طور پر۔
[٢] دور نبوی میں عقیدہ آخرت کے متعلق کئی طرح کے اختلاف پائے جاتے تھے۔ کچھ لوگ تو دہریے تھے جو سرے سے اللہ کی ہستی کے ہی قائل نہ تھے۔ ان کے لیے عقیدہ آخرت خارج از بحث تھا۔ مشرکین مکہ اللہ کی ہستی کے تو قائل تھے مگر آخرت کے منکر تھے۔ عیسائی آخرت کے تو قائل تھے مگر ان میں سے اکثریت کا عقیدہ یہ تھا کہ اخروی عذاب وثواب صرف روح پر وارد ہوگا۔ بدن جو گل سڑ چکا ہے اسے دوبارہ زندہ کرکے نہیں اٹھایا جائے گا اور کچھ لوگ نظریہ لا ادریت کے قائل تھے یعنی وہ شک و شبہ میں مبتلا تھے۔ ان کے خیال میں یہ دونوں صورتیں ممکنات سے تھیں یعنی یہ بھی ممکن ہے کہ قیامت قائم ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ مرنے کے ساتھ ہی انسان کا قصہ پاک ہوجائے۔ اور قیامت کا نظریہ محض ایک قیاسی اور وہمی نظریہ ہو۔ ان سب اختلافات کے باوجود یہ لوگ عملاً اور نتیجہ کے لحاظ سے آخرت کے منکر تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو آخرت کے منکر ہونے کی وجہ سے کافر ہی قرار دیا ہے۔
الَّذِيْ ہُمْ فِيْہِ مُخْـتَلِفُوْنَ ٣ ۭ الاختلافُ والمخالفة والاختلافُ والمخالفة : أن يأخذ کلّ واحد طریقا غير طریق الآخر في حاله أو قوله، والخِلَاف أعمّ من الضّدّ ، لأنّ كلّ ضدّين مختلفان، ولیس کلّ مختلفین ضدّين، ولمّا کان الاختلاف بين النّاس في القول قد يقتضي التّنازع استعیر ذلک للمنازعة والمجادلة، قال : فَاخْتَلَفَ الْأَحْزابُ [ مریم/ 37] ( خ ل ف ) الاختلاف والمخالفۃ الاختلاف والمخالفۃ کے معنی کسی حالت یا قول میں ایک دوسرے کے خلاف کا لفظ ان دونوں سے اعم ہے کیونکہ ضدین کا مختلف ہونا تو ضروری ہوتا ہے مگر مختلفین کا ضدین ہونا ضروری نہیں ہوتا ۔ پھر لوگوں کا باہم کسی بات میں اختلاف کرنا عموما نزاع کا سبب بنتا ہے ۔ اس لئے استعارۃ اختلاف کا لفظ نزاع اور جدال کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَاخْتَلَفَ الْأَحْزابُ [ مریم/ 37] پھر کتنے فرقے پھٹ گئے ۔
آیت ٣{ الَّذِیْ ہُمْ فِیْہِ مُخْتَلِفُوْنَ ۔ } ” جس کے بارے میں یہ اختلافِ رائے میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ “ قیامت کے بارے میں تفصیلات سن کر ان میں سے کوئی کچھ کہتا ہے کوئی کچھ۔ کوئی کہتا ہے کہ مرنے کے بعد انسانوں کا دوبارہ زندہ ہونا بالکل بعید از قیاس ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ ہمارے معبودوں کے ہوتے ہوئے ہم سے کوئی محاسبہ نہیں ہوسکتا۔ غرض جتنے منہ اتنی باتیں ! ہر کوئی اپنی اپنی رائے دے رہا ہے۔
1 "The Great News": the news of the Resurrection and Hereafter, which the people of Makkah heard with amazement, then raised questions and doubts about it in their assemblies. When they met each other they would ask: "Did you ever hear that the dead will be resurrected to life? Is it credible that life will be infused once again into the bones which have decayed and become rotten? Does it stand to reason that the former and the latter generations will rise up and gather together at one place? Is it possible that these huge mountains which are so firmly set in the earth will fly about like flakes of wool? Can it so happen that the sun and the moon and the stars should be extinguished and the order and system of the world be overturned and upset? What has happened to him who was until yesterday a sane and wise man among us? Today he is giving us strange, impossible news. Where were this Hell and Heaven of which we had never heard from him before? wherefrom have they appeared suddenly so that he has started depicting them so vividly before us?" Another meaning of fi-hi mukhtalifun also can be: "As these people themselves are not agreed on any one view about the end of fhe world, they hold varying views about it." Some one has been influenced by the Christian belief and believes in the life after death but thinks that the second life would not be a physical but only a spiritual life. Another does not deny the Hereafter absolutely but doubts whether it was possible or not. The Qur'an relates the view of these very people when it says: "We do only guess: we are not certain." (AI-Jathiyah: 32) . And another plainly said: "There is no other life than this present life, and we shall never be raised back to life after our death." (Al-An`am: 29) . Then, there were some atheists, who said: "Life is only this worldly life of ours. Here we shall die and live and nothing but the change of time destroys us." (AI-Jathiyah: 24) . There were some others who were not atheistic but they regarded the second life as impossible. According to them it was beyond the power of God to raise the dead back to life. They said, "Who will give life to these bones when they are rotten." (Ya Sin: 78) . Their different views by themselves were a proof that they had no knowledge in this regard; they were only conjecturing and guessing. Had they any knowledge they would have agreed on ane view. (For further explanation, see E.N. 6 of Surah Adh-Dhariyat) .
سورة النَّبَا حاشیہ نمبر :1 بڑی خبر سے مراد قیامت اور آخرت کی خبر ہے جس کو اہل مکہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر سنتے تھے ، پھر ہر محفل میں اس پر طرح طرح کی چہ مگوئیاں ہوتی تھیں ۔ پوچھ گچھ سے مراد یہی چہ میگوئیاں ہیں ۔ لوگ جب ایک دوسرے سے ملتے تھے تو کہتے تھے کہ بھائی ، کبھی پہلے بھی تم نے سنا ہے کہ مر کے کوئی دوباہ زندہ ہو گا ؟ کیا یہ ماننے کے قابل بات ہے کہ گل سڑ کر جو ہڈیاں ریزہ ریزہ ہو چکی ہیں ان میں نئے سرے سے جان پڑے گی؟ کیا عقل میں یہ بات سماتی ہے کہ اگلی پچھلی ساری نسلیں اٹھ کر ایک جگہ جمع ہوں گی؟ کیا یہ ممکن ہے کہ یہ بڑے بڑے جمے ہوئے پہاڑ ہوا میں روئی کے گالوں کی طرح اڑنے لگیں گے؟ کیا یہ ہو سکتا ہے کہ چاند سورج اور تارے سب بجھ کر رہ جائیں اور دنیا کا یہ سارا جما جمایا نظام الٹ پلٹ ہو جائے گا ؟ یہ صاحب جو کل تک اچھے خاصے دانا آدمی تھے آج انہیں یہ کیا ہو گیا ہے کہ ہمیں ایسی عجیب انہونی خبریں سنا رہے ہیں ۔ یہ جنت اور یہ دوزخ آخر پہلے کہاں تھیں جن کا ذکر ہم نے کبھی ان کی زبان سے نہ سنا تھا ؟ اب یہ ایک دم کہاں سے نکل آئی ہیں کہ انہوں نے ان کے عجیب و غریب نقشے ہمارے سامنے کھینچنے شروع کر دیے ہیں؟ ھم فیہ مختلفون کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ وہ اس کے بارے میں مختلف چہ میگوئیاں کر رہے ہیں ۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دنیا کے انجام کے بارے میں یہ لوگ خود بھی کوئی ایک متفق علیہ عقیدہ نہیں رکھتے بلکہ ان کے درمیان اس کے متعلق مختلف خیالات پائے جاتے ہیں ۔ ان میں سے کوئی عیسائیوں کے خیالات سے متاثر تھا اور زندگی بعد موت کو مانتا تھا مگر یہ سمجھتا تھا کہ وہ دوسری زندگی جسمانی نہیں بلکہ روحانی ہو گی ۔ کوئی آخرت کا قطعی منکر نہ تھا مگر اسے شک تھا کہ وہ ہو سکتی ہے یا نہیں ، چنانچہ قرآن مجید ہی میں اس خیال کے لوگوں کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ ان نظن الا ظنا و ما نحن بمستیقنین ، ہم تو بس ایک گمان سا رکھتے ہیں ، یقین ہم کو نہیں ہے ۔ ( الجاثیہ آیت 31 ) ۔ اور کوئی بالکل صاف صاف کہتا تھا کہ ان ھی الا حیاتنا الدنیا و ما نحن بمبعوثین ، جو کچھ بھی ہے بس ہماری یہی دنیا کی زندگی ہے اور ہم ہرگز مرنے کے بعد دوبارہ نہ اٹھائے جائیں گے ۔ ( الانعام ۔ آیت 29 ) ۔ پھر کچھ لوگ ان میں سے دہریے تھے اور کہتے تھے کہ ماھی الا حیاتنا الدنیا نموت و نحیا و ما یھلکنا الا الدھر ، زندگی بس یہی ہماری دنیا کی زندگی ہے ، یہیں ہم مرتے اور جیتے ہیں اور گردش ایام کے سوا کوئی چیز نہیں جو ہمیں ہلاک کرتی ہو ۔ ( الجاثیہ ۔ 24 ) ۔ اور کچھ دوسرے لوگ دہریے تو نہ تھے مگر دوسری زندگی کو ناممکن قرار دیتے تھے ، یعنی ان کے نزدیک یہ خدا کی قدرت سے خارج تھا کہ وہ مرے ہوئے انسانوں کو پھر سے زندہ کر سکے ۔ ان کا قول تھا من یحیی العظام و ھی رمیم ، کون ان ہڈیوں کو زندہ کرے گا جبکہ یہ بوسیدہ ہو چکی ہوں گی؟ ۔ ( یٰسین ۔ 78 ) ۔ یہ ان کے مختلف اقوال خود ہی اس بات کا ثبوت تھے کہ ان کے پاس اس مسئلے میں کوئی علم نہ تھا ، بلکہ وہ محض گمان و قیاس کے تیر تکے چلا رہے تھے ، ورنہ علم ہوتا تو سب کسی ایک بات کے قائل ہوتے ( مزید تشریح کے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد پنجم ، الذاریات ، حاشیہ 6 ) ۔
1: اس سے قیامت اور آخرت مراد ہے۔ کافر لوگ قیامت کے بارے میں طرح طرح کی باتیں بنایا کرتے تھے۔ کوئی اُس کا مذاق اُڑاتا، کوئی اُس کے خلاف دلیلیں پیش کرتا، کوئی مسلمانوں سے اُس کی تفصیلات کے بارے میں سوالات کرتا، اور سوال کرنے کا مقصد حق کی تلاش نہیں، بلکہ اِستہزاء ہوتا تھا۔ ان آیتوں میں اُن کے اسی طرز ِعمل کی طرف اشارہ ہے۔ اس کے بعد اﷲ تعالیٰ نے کائنات میں پھیلی ہوئی اپنی قدرت کی نشانیوں کا ذِکر فرمایا ہے کہ جب تم یہ مانتے ہو کہ یہ سب کچھ اﷲ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے، تو اُس کی یہ قدرت تسلیم کرنے میں تمہیں کیوں مشکل پیش آ رہی ہے کہ وہ اس عالم کو ایک مرتبہ ختم کر کے دوبارہ پیدا فرما دے گا۔
(78:3) الذی ہم فیہ مختلفون : الذی اسم موصول باقی جملہ اس کا صلہ ہے۔ موصول و صلہ مل کرنبأ کی صفت ہے۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب یتساء لون کی ضمیر کی طرح کفار مکہ کی طرف راجع ہے یہ اس صورت میں ہوگا جب کہ سوال استہزائی یا انکاری قرار دیا جائے۔ اس حالت میں نبأ عظیم کے متعلق کفار مکہ کے مختلف ہونے کے یہ معنی ہیں کہ کچھ لوگ نبأ عظیم کی صداقت کے قطعی منکر ہیں اور کچھ تردد میں پڑے ہیں۔ یہ بھی احتمال ہے کہ یتساء لون اور ہم کی ضمیریں اہل مکہ کی طرف راجع ہوں اہل مکہ میں کچھ مومن تھے اور کچھ کافر نبأ عظیم کے متعلق سوال کرنے والے دونوں گروہ تھے۔ ایک گروہ تصدیق کرتا تھا ۔ لیکن زیادتی یقین اور انکشاف حالات کے لئے سوال کرتا تھا۔ دوسرا گروہ منکر تھا اور محض استہزاء کے لئے سوال کرتا تھا۔ (ایضا)
ف 3 قیامت، قرآن یا خود آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں مگر جمہور علما نے اس سے قیامت ہی مراد لی ہے۔ یعنی کوئی قیامت کے آنے میں شک کرتا ہے کوئی اس سے بالکل انکار کرتا ہے۔ قرآن میں اختلاف یہ ہے کہ کوئی قرآن کو سحر کہتا ہے اور کوئی پہلوں کے افسانے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں بھی وہ مختلف قسم کی چہ میگوئیاں کرتے کبھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ساحر کبھی شاعر اور کبھی مجنوں کہتے ہیں۔ (قرطبی)
(3) جس کے بارے میں یہ اختلاف رکھتے ہیں یعنی اہل حق سے یا آپس میں۔ علم اصل میں عن ما ہے ما عام طور پر سوال کسی شئے کی حقیقت اور ماہیت کے لئے ہوتا ہے لیکن کبھی اس کا استعمال حال اور اوصاف کو دریافت کرنے کے لئے بھی ہوتا ہے۔ جیسے مازید کے جواب میں کہا کرتے ہیں طبیب یا عالم ، پوچھ گچھ کا مطلب یہ ہے کہ آپس میں سوال کرتے ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مسلمانوں سے دریافت کرتے ہیں کہ وہ چیز کب آنے والی ہے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ نباء عیم اور عظیم الشان واقعہ سے مراد قیامت ہے اگرچہ بعض نے عظیم قرآن کو بھی کہا ہے ، اور بعض حضرات نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت مرال دی ہے لیکن عام مفسرین کی رائے یہی ہے کہ نباء عظیم سے مراد قیامت ہے جیسا کہ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مبعوث ہوئے اور آپ نے قیامت کا ذکر تفصیل کے ساتھ فرمایا تو کافر ازراہ تعجب و استہزا کہنے لگے کہ بھلا کہیں سڑی اور گلی ہوئی ہڈیاں بھی زندہ ہوسکتی ہیں۔ کسی نے کہا کہ یہی دنیا کی زندگی ہے اس کے بعد کچھ نہیں بعض نے یہ بھی کہا کہ اچھا اگر یہ ہوگا تو کب ہوگا اور یہ دن کب آئے گا غرض اسی قسم کی باتیں کرتے اور کھوج لگاتے ۔ حضرت حق تعالیٰ نے فرمایا کہ ایسی چیز کا کھوج لگا رہے ہیں جس میں خود بھی مختلف ہیں مثلاً کوئی بالکل دوسری زندگی کا منکر ہے کوئی اسی دنیا میں دوبارہ زندہ ہونے کا قائل ہے کوئی روحانی زندگی کا قائل ہے ۔ غرض یہو د و نصاریٰ اور مشرکین عرب بلکہ دنیا کے مشرک باہم مختلف نظریوں کے قائل ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اہل حق سے اختلاف کرتے ہیں یعنی خود کچھ بھی خیال رکھتے ہوں مگر اہل حق سے قیامت کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں اور جھگڑتے ہیں اور قیامت کا ذکر سن کر انکار کرتے ہیں آگے زجر وتہدید کے طور پر فرمایا۔