Surat un Naba

Surah: 78

Verse: 5

سورة النبأ

ثُمَّ کَلَّا سَیَعۡلَمُوۡنَ ﴿۵﴾

Then, no! They are going to know.

پھر بالیقین انہیں بہت جلد معلوم ہو جائے گا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Nay, they will come to know! Nay, again, they will come to know! This is a severe threat and a direct warning. Mentioning Allah's Power, and the Proof of His Ability to resurrect the Dead Then, Allah begins to explain His great ability to create strange things and amazing matters. He brings this as a proof of His ability to do whatever He wishes concerning the matter of the Hereafter and other matters as well. He says, أَلَمْ نَجْعَلِ الاَْرْضَ مِهَادًا

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

۔ 1 اللہ تعالیٰ اپنی کاریگری اور عظیم قدرت کا تذکرہ فرما رہا ہے تاکہ توحید کی حقیقت ان کے سامنے واضح ہو اور اللہ کا رسول انہیں جس چیز کی دعوت دے رہا تھا، اس پر ایمان لانا ان کے لئے آسان ہوجائے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣] یعنی اسی دنیا میں ان کی موت کے وقت آخرت سے متعلق سب حقائق پوری طرح کھل کر ان کے سامنے آجائیں گے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥{ ثُمَّ کَلَّا سَیَعْلَمُوْنَ ۔ } ” ہاں کوئی بات نہیں ! عنقریب یہ جان لیں گے۔ “ عالم دنیا اور عالم برزخ کے درمیان صرف موت کا پردہ حائل ہے ۔ جونہی کسی انسان کی آنکھ بند ہوتی ہے یہ پردہ اٹھ جاتا ہے۔ قبر عالم برزخ کی پہلی منزل ہے۔ اس منزل پر پہنچتے ہی ہر انسان اصل حقیقت کو جان جاتا ہے ۔ چناچہ وہ وقت دور نہیں جب ان میں سے ہر شخص پر اصل حقائق عیاں ہوجائیں گے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

3 That is, the time is not far off when the same thing about which they are expressing all sorts of meaningless doubts and misgivings, will appear before them as a reality. Then they will realize that what the Messenger had foretold was absolutely true and what they were saying on the basis of conjecture and speculation had no truth in it.

سورة النَّبَا حاشیہ نمبر :3 یعنی وہ وقت دور نہیں ہے جب وہی چیز حقیقت بن کر ان کے سامنے آ جائے گی جس کے بارے میں یہ فضول چہ میگوئیاں کر رہے ہیں ۔ اس وقت انہیں پتہ چل جائے گا کہ رسول نے جو خبر ان کو دی تھی وہی صحیح تھی اور قیاس و گمان سے جو باتیں یہ بنا رہے تھے ان کی کوئی حقیقت نہ تھی ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(78:5) ثم کلا سیعلمون : ثم تراخی فی الرتبہ کے لئے آیا ہے پس ضرور ہی وہ بہت جلد قیامت کے وقوع پذیر ہونے کی حقیقت کو جان لیں گے۔ جملہ کا تکرار مبالغہ کے لئے آیا ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 اس میں تقریع وتوبیخ ہے کہ عنقریب جب قیامت آجائے گی اور غیب سے پردہ اٹھ جائے گا تو انہیں معلوم ہوجائے گا کہ جن چیزوں کے بارے میں وہ اختلاف میں پڑے ہوئے تھے اور جزا سزا کا انکار کررہے تھے وہ سب حقیقت تھیں۔ ویسی ہی حقیقت جیسی انبیاء (علیہم السلام) نے ان سے بیان کی تھی۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

6۔ جب بعد فراق دنیا کے ان پر عذاب واقع ہوگا، تب حقیقت اور حقیقت قیامت کی منکشف ہوجائے گی، یہ لوگ اس کو ممتنع و محال سمجھتے ہیں حالانکہ اس کو ممتنع سمجھنے سے ہماری قدرت کا انکار لازم آتا ہے اور ہماری قدرت کا انکار نہایت عجیب ہے کیونکہ (آگے دیکھو ترجمہ)

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(5) پھر سن لو ہرگز ایسا نہیں ان کو عنقریب معلوم ہوا جاتا ہے یعنی تمہارا آپس میں مختلف ہونا یا اہل حق سے جھگڑنا اور اس قیامت کا انکار کرنا یہ ہرگز ایسا نہیں ہے بلکہ وہ ضرور آئے گی اور تم کو ابھی معلوم ہوا جاتا ہے پھر تاکید کے طور پر فرمایا نہیں اس کا انکار نہ کرو عنقریب تم کو معلوم ہوا جاتا ہے کہ جس کا تم انکار اور استہزا کررہے ہو اور مذاق اڑا رہے ہو وہ کیسی ہیت ناک چیز ہے اور تمہارے اختلاف اور انکار کی حیثیت کیا ہے۔ آگے اپنی قدرت کے بعض دلائل بیان فرمائے ہیں جس سے یہ ثابت ہوگا کہ جو ایسی بڑی قدرت کا مالک ہے اور جس نے اس عالم کو ترتیب دیا ہے اس کے نزدیک اس عالم کو برباد کرنا اور دوبارہ سب کو زندہ کردینا کیا مشکل ہے۔