Surat un Naziaat

Surah: 79

Verse: 25

سورة النازعات

فَاَخَذَہُ اللّٰہُ نَکَالَ الۡاٰخِرَۃِ وَ الۡاُوۡلٰی ﴿ؕ۲۵﴾

So Allah seized him in exemplary punishment for the last and the first [transgression].

تو ( سب سے بلند و بالا ) اللہ نے بھی اسے آخرت کے اور دنیا کے عذاب میں گرفتار کر لیا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

So Allah seized him with a punishing example for the Hereafter and the first (life). meaning, Allah avenged Himself against him with a severe vengeance, and He made an example and admonition of him for those rebellious people in the world who are like him. وَيَوْمَ الْقِيَـمَةِ بِيْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُودُ And on the Day of Resurrection, evil indeed is the gift gifted, ﴿i.e., the curse (in this world) pursued by another curse (in the Hereafter). (11:99) This is as Allah says, وَجَعَلْنَـهُمْ أَيِمَّةً يَدْعُونَ إِلَى النَّارِ وَيَوْمَ الْقِيـمَةِ لاَ يُنصَرُونَ And We made them leaders inviting to the Fire: and on the Day of Resurrection, they will not be helped. (28:41) Allah said; إِنَّ فِي ذَلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَن يَخْشَى

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

25۔ 1 یعنی اللہ نے اس کی ایسی گرفت فرمائی کہ اسے دنیا میں آئندہ آنے والے فرمانوں کے لئے نشان عبرت بنادیا اور قیامت کا عذاب اس کے علاوہ ہے، جو اسے وہاں ملے گا

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فاخذہ اللہ نکال الاخرۃ و الاولی : یعنی آخرت کو آگ میں جلے گا اور دنیا میں غرق ہوا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

فَأَخَذَهُ اللَّـهُ نَكَالَ الْآخِرَ‌ةِ وَالْأُولَىٰ (So, Allah seized him for the deterrent punishment in the Hereafter and the present world....79:25). The word nakal means an &exemplary punishment& or &an extremely severe punishment given to an offender to deter others against committing a similar offence or sin&. The phrase &punishment of the &akhirah& refers to the punishment of the Hereafter that will be meted out to Fir&aun (the Pharaoh). The phrase &punishment of the &al a& refers to the punishment meted out to Fir&aun (the Pharaoh) and his army in this world whereby they were destroyed by drowning. Further, the Qur&an again disposes of the doubt of the rejecters of resurrection who pose the question: |"Are we going to be brought back to our former state (of life)? Is it when we will have turned into decayed bones?|" [ 10-11] In other words, this is a negative rhetorical question. They purport to say that it is not possible for them to be restored to life after death when they have become perished and worm-eaten bones. Allah responds that the Supreme Creator, Who drew out this universe without any pre-existing matter and without any instrument, certainly has the Supreme power to give existence to things after destroying them. Why should it be a surprise? In the verses that follow, the horrors of the Day of Judgment are depicted. It is mentioned that on that Day, every person will be presented with his deeds. Described also are the abodes of the inmates of Paradise and Hell. Towards the end, special traits of the people of Paradise and those of Hell are portrayed by which a man can decide in this very world whether, according to the rules, his abode would be Paradise or Hell. The expression &according to the rules& has been used because many verses and narratives indicate that there could be &exceptions to the rules&. For example, a person might attain freedom from Hell and enter Paradise by virtue of intercession or directly through the grace of Allah. This is an exception to the rule. The general rule is the same as has been mentioned in these verses.

فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الْاٰخِرَةِ وَالْاُوْلٰى نکال ایسے عذاب کو کہا جاتا ہے جس کو دیکھ کر دوسروں کو عبرت ہو اور سب سہم جائیں۔ نکال آخرت فرعون کے لئے آخرت کا عذاب ہے، اور نکال اولیٰ سے مراد وہ عذاب ہے جو دنیا میں اس کی پوری قوم کے غرق دریا ہوجانے سے ان کو پہنچا۔ اگے پھر منکرین حشر ونشر کے اس استبعاد اور شبہ کا ازالہ ہے کہ مرنے اور مٹی ہوجانے کے بعد کیسے دوبارہ زندہ کئے جاویں گے۔ اس میں حق تعالیٰ نے آسمان و زمین اور انکے اندر پیدا کی ہوئی عظیم مخلوقات کا ذکر کرکے انسان غافل کو اس پر متنبہ کیا ہے کہ جس ذات نے ایسی عظیم الشان مخلوقات کو ابتدائی وجود بغیر کسی مادہ و آلہ کے عظا فرمایا وہ اگر ان کو نیست ونابود کرنے کے بعد دوبارہ وجود عظا فرمادے تو تمارے تعجب کا کیا مقام ہے۔ آگے پھر روز قیامت کی شدت اور اس روز ہر شخص کے اعمال کا سامنے آجانا اور اہل جنت اور اہل جہنم کے دونوں ٹھکانوں کا بیان اور آخر میں اہل جنت اور اہل دوزخ کی خاص خاص علامات کا بیان ہے جس سے ایک انسان دنیا مہی میں فیصلہ کرسکتا ہے کہ ضابطہ سے میرا ٹھکانا جنت میں ہے یا دوزخ میں، ضابطہ اس لئے کہا گیا ہے کہ کسی کی شفاعت یا بلاواسطہ حق تعالیٰ کی رحمت سے کسی جہنمی کو اس سے آزاد کرکے جنت میں پہنچا دینا جیسا کہ بہت سی آیات وروایات حدیث اس پر دلالت کرتی ہیں وہ ایک استثنائی حکم ہے اور اصل ضابطہ جنت یا دوزخ میں ٹھکانے کا وہی ہے جو آگی والی آیت میں بیان فرمایا ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَاَخَذَہُ اللہُ نَكَالَ الْاٰخِرَۃِ وَالْاُوْلٰى۝ ٢٥ ۭ أخذ الأَخْذُ : حوز الشیء وتحصیله، وذلک تارةً بالتناول نحو : مَعاذَ اللَّهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنا مَتاعَنا عِنْدَهُ [يوسف/ 79] ، وتارةً بالقهر نحو قوله تعالی: لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ [ البقرة/ 255] ( اخ ذ) الاخذ ۔ کے معنی ہیں کسی چیز کو حاصل کرلینا جمع کرلینا اور احاطہ میں لے لینا اور یہ حصول کبھی کسی چیز کو پکڑلینے کی صورت میں ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ { مَعَاذَ اللهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهُ } ( سورة يوسف 79) خدا پناہ میں رکھے کہ جس شخص کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے اس کے سو اہم کسی اور پکڑ لیں اور کبھی غلبہ اور قہر کی صورت میں جیسے فرمایا :۔ { لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ } ( سورة البقرة 255) نہ اس پر اونگھ غالب آسکتی اور نہ ہ نیند ۔ محاورہ ہے ۔ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم، وکذا اللات، وسمّوا الشمس إِلَاهَة لاتخاذهم إياها معبودا . وأَلَهَ فلان يَأْلُهُ الآلهة : عبد، وقیل : تَأَلَّهَ. فالإله علی هذا هو المعبود وقیل : هو من : أَلِهَ ، أي : تحيّر، وتسمیته بذلک إشارة إلى ما قال أمير المؤمنین عليّ رضي اللہ عنه : (كلّ دون صفاته تحبیر الصفات، وضلّ هناک تصاریف اللغات) وذلک أنّ العبد إذا تفكّر في صفاته تحيّر فيها، ولهذا روي : «تفكّروا في آلاء اللہ ولا تفكّروا في الله»وقیل : أصله : ولاه، فأبدل من الواو همزة، وتسمیته بذلک لکون کل مخلوق والها نحوه، إمّا بالتسخیر فقط کالجمادات والحیوانات، وإمّا بالتسخیر والإرادة معا کبعض الناس، ومن هذا الوجه قال بعض الحکماء : اللہ محبوب الأشياء کلها وعليه دلّ قوله تعالی: وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلكِنْ لا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ [ الإسراء/ 44] . وقیل : أصله من : لاه يلوه لياها، أي : احتجب . قالوا : وذلک إشارة إلى ما قال تعالی: لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصارَ [ الأنعام/ 103] ، والمشار إليه بالباطن في قوله : وَالظَّاهِرُ وَالْباطِنُ [ الحدید/ 3] . وإِلَهٌ حقّه ألا يجمع، إذ لا معبود سواه، لکن العرب لاعتقادهم أنّ هاهنا معبودات جمعوه، فقالوا : الآلهة . قال تعالی: أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنا [ الأنبیاء/ 43] ، وقال : وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ [ الأعراف/ 127] وقرئ : ( وإلاهتك) أي : عبادتک . ولاه أنت، أي : لله، وحذف إحدی اللامین .«اللهم» قيل : معناه : يا الله، فأبدل من الیاء في أوله المیمان في آخره وخصّ بدعاء الله، وقیل : تقدیره : يا اللہ أمّنا بخیر مركّب تركيب حيّهلا . ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ الہ کا لفظ عام ہے اور ہر معبود پر بولا جاتا ہے ( خواہ وہ معبود پر حق ہو یا معبود باطل ) اور وہ سورج کو الاھۃ کہہ کر پکارتے تھے کیونکہ انہوں نے اس کو معبود بنا رکھا تھا ۔ الہ کے اشتقاق میں مختلف اقوال ہیں بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( ف) یالہ فلاو ثالہ سے مشتق ہے جس کے معنی پر ستش کرنا کے ہیں اس بنا پر الہ کے معنی ہوں گے معبود اور بعض نے کہا ہے کہ یہ الہ ( س) بمعنی تحیر سے مشتق ہے اور باری تعالیٰ کی ذات وصفات کے ادراک سے چونکہ عقول متحیر اور دو ماندہ ہیں اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امیرالمومنین حضرت علی (رض) نے فرمایا ہے ۔ کل دون صفاتہ تحبیرالصفات وضل ھناک تصاریف للغات ۔ اے بروں ازوہم وقال وقیل من خاک برفرق من و تمثیل من اس لئے کہ انسان جس قدر صفات الیہ میں غور و فکر کرتا ہے اس کی حیرت میں اضافہ ہوتا ہے اس بناء پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے (11) تفکروا فی آلاء اللہ ولا تفکروا فی اللہ کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں غور و فکر کیا کرو اور اس کی ذات کے متعلق مت سوچا کرو ۔ (2) بعض نے کہا ہے کہ الہ اصل میں ولاہ ہے واؤ کو ہمزہ سے بدل کر الاہ بنالیا ہے اور ولہ ( س) کے معنی عشق و محبت میں دارفتہ اور بیخود ہونے کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ سے بھی چونکہ تمام مخلوق کو والہانہ محبت ہے اس لئے اللہ کہا جاتا ہے اگرچہ بعض چیزوں کی محبت تسخیری ہے جیسے جمادات اور حیوانات اور بعض کی تسخیری اور ارادی دونوں طرح ہے جیسے بعض انسان اسی لئے بعض حکماء نے کہا ہے ذات باری تعالیٰ تما اشیاء کو محبوب ہے اور آیت کریمہ :{ وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِنْ لَا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ } ( سورة الإسراء 44) مخلوقات میں سے کوئی چیز نہیں ہے مگر اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتی ہے ۔ بھی اسی معنی پر دلالت کرتی ہے ۔ (3) بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں لاہ یلوہ لیاھا سے ہے جس کے معنی پر وہ میں چھپ جانا کے ہیں اور ذات باری تعالیٰ بھی نگاہوں سے مستور اور محجوب ہے اس لئے اسے اللہ کہا جاتا ہے ۔ اسی معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :۔ { لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ } ( سورة الأَنعام 103) وہ ایسا ہے کہ نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک کرسکتا ہے ۔ نیز آیت کریمہ ؛{ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ } ( سورة الحدید 3) میں الباطن ، ، کہہ کر بھی اسی معنی کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ الہ یعنی معبود درحقیقت ایک ہی ہے اس لئے ہونا یہ چاہیے تھا کہ اس کی جمع نہ لائی جائے ، لیکن اہل عرب نے اپنے اعتقاد کے مطابق بہت سی چیزوں کو معبود بنا رکھا تھا اس لئے الہۃ صیغہ جمع استعمال کرتے تھے ۔ قرآن میں ہے ؛۔ { أَمْ لَهُمْ آلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِنْ دُونِنَا } ( سورة الأنبیاء 43) کیا ہمارے سوا ان کے اور معبود ہیں کہ ان کو مصائب سے بچالیں ۔ { وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ } ( سورة الأَعراف 127) اور آپ سے اور آپ کے معبودوں سے دست کش ہوجائیں ۔ ایک قراءت میں والاھتک ہے جس کے معنی عبادت کے ہیں الاہ انت ۔ یہ اصل میں للہ انت ہے ایک لام کو تخفیف کے لئے خذف کردیا گیا ہے ۔ اللھم بعض نے کہا ہے کہ اس کے معنی یا اللہ کے ہیں اور اس میں میم مشدد یا ( حرف ندا کے عوض میں آیا ہے اور بعض کا قول یہ ہے کہ یہ اصل میں یا اللہ امنا بخیر ( اے اللہ تو خیر کے ساری ہماری طرف توجہ فرما) ہے ( کثرت استعمال کی بنا پر ) ۔۔۔ حی ھلا کی طرح مرکب کرکے اللھم بنا لیا گیا ہے ۔ ( جیسے ھلم ) نكل يقال : نَكَلَ عَنِ الشَّيْءِ : ضَعُفَ وعَجَزَ ونَكَلْتُهُ : قَيَّدْتُهُ ، والنِّكْلُ : قَيْدُ الدَّابَّةِ ، وحدیدةُ اللِّجَامِ ، لکونهما مانِعَيْنِ ، والجمْعُ : الأَنْكَالُ. قال تعالی: إِنَّ لَدَيْنا أَنْكالًا وَجَحِيماً [ المزمل/ 12] ونَكَّلْتُ به : إذا فَعَلْتُ به ما يُنَكَّلُ به غيرُه، واسم ذلک الفعل نَكَالٌ. قال تعالی: فَجَعَلْناها نَكالًا لِما بَيْنَ يَدَيْها وَما خَلْفَها[ البقرة/ 66] ، وقال : جَزاءً بِما كَسَبا نَكالًا مِنَ اللَّهِ [ المائدة/ 38] وفي الحدیث : «إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ النَّكَلَ عَلَى النَّكَلِ» أي : الرَّجُلَ القَوِيَّ عَلَى الفَرَسِ القَوِيِّ. ( ن ک ل ) نکل عن الشئی ۔ کسی کام سے کمزور اور عاجز ہوجانا ۔ نکلتہ ۔ کسی کے پاوں میں بیڑیاں ڈال دینا ۔ اور نکل ۔ جانور کی بیڑی اور لگام کے لوہے کو کہتے ہیں ۔ کیوں کہ یہ بھی چلنے سے مانع ہوتے ہیں ۔ اس کی جمع انکال ہے ۔ قرآن پاک میں ہے :إِنَّ لَدَيْنا أَنْكالًا وَجَحِيماً [ المزمل/ 12] کچھ شک نہیں کہ ہمارے پاس بیڑیاں ہیں اور بھڑکتی آگ ہی ۔ نکلتہ ۔ کسی کو عبرت ناک سزا دینا ۔ اس سے اسم نکال سے ۔ جس کے معنی عبرت ناک سزا کے ہیں ۔ قرآن پاک میں ہے : فَجَعَلْناها نَكالًا لِما بَيْنَ يَدَيْها وَما خَلْفَها[ البقرة/ 66] اور اس قصے کو اس وقت کے لوگوں کے لئے اور جوان کے بعد آنے والے تھے ۔ عبرت بنادیا ۔ جَزاءً بِما كَسَبا نَكالًا مِنَ اللَّهِ [ المائدة/ 38] ان کے فعلوں کی سزا اور خدا کی طرف سے عبرت ہے ۔ اور حدیث میں ہے (133) ان اللہ یحب النکل علی النکل کہ قوی آدمی جو طاقت ور گھوڑے پر سوار ہو اللہ تعالیٰ کو پیارا لگتا ہے ۔ آخرت آخِر يقابل به الأوّل، وآخَر يقابل به الواحد، ويعبّر بالدار الآخرة عن النشأة الثانية، كما يعبّر بالدار الدنیا عن النشأة الأولی نحو : وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوانُ [ العنکبوت/ 64] ، وربما ترک ذکر الدار نحو قوله تعالی: أُولئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ [هود/ 16] . وقد توصف الدار بالآخرة تارةً ، وتضاف إليها تارةً نحو قوله تعالی: وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأنعام/ 32] ، وَلَدارُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ لِلَّذِينَ اتَّقَوْا «1» [يوسف/ 109] . وتقدیر الإضافة : دار الحیاة الآخرة . و «أُخَر» معدول عن تقدیر ما فيه الألف واللام، ولیس له نظیر في کلامهم، فإنّ أفعل من کذا، - إمّا أن يذكر معه «من» لفظا أو تقدیرا، فلا يثنّى ولا يجمع ولا يؤنّث . - وإمّا أن يحذف منه «من» فيدخل عليه الألف واللام فيثنّى ويجمع . وهذه اللفظة من بين أخواتها جوّز فيها ذلک من غير الألف واللام . اخر ۔ اول کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے اور اخر ( دوسرا ) واحد کے مقابلہ میں آتا ہے اور الدارالاخرۃ سے نشاۃ ثانیہ مراد لی جاتی ہے جس طرح کہ الدار الدنیا سے نشاۃ اولیٰ چناچہ فرمایا { وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ } ( سورة العنْکبوت 64) ہمیشہ کی زندگی کا مقام تو آخرت کا گھر ہے لیکن کھی الدار کا لفظ حذف کر کے صرف الاخرۃ کا صیغہ استعمال کیا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ { أُولَئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ } ( سورة هود 16) یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں آتش جہنم کے سوا اور کچھ نہیں ۔ اور دار کا لفظ کبھی اخرۃ کا موصوف ہوتا ہے اور کبھی اس کی طر ف مضاف ہو کر آتا ہے چناچہ فرمایا ۔ { وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ } ( سورة الأَنعام 32) اور یقینا آخرت کا گھر بہتر ہے ۔ ان کے لئے جو خدا سے ڈرتے ہیں ۔ (6 ۔ 32) { وَلَأَجْرُ الْآخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ } ( سورة النحل 41) اور آخرت کا اجر بہت بڑا ہے ۔ اگر وہ اسے جانتے ہوتے ۔ یہ اصل میں ولاجر دار الحیاۃ الاخرۃ ہے ( اور دار کا لفظ الحیاۃ الاخرۃ کی طرف مضاف ہے ) اور اخر ( جمع الاخریٰ ) کا لفظ الاخر ( معرف بلام ) سے معدول ہے اور کلام عرب میں اس کی دوسری نظیر نہیں ہے کیونکہ افعل من کذا ( یعنی صیغہ تفصیل ) کے ساتھ اگر لفظ من لفظا یا تقدیرا مذکورہ ہو تو نہ اس کا تثنیہ ہوتا اور نہ جمع اور نہ ہی تانیث آتی ہے اور اس کا تثنیہ جمع دونوں آسکتے ہیں لیکن لفظ آخر میں اس کے نظائر کے برعکس الف لام کے بغیر اس کے استعمال کو جائز سمجھا گیا ہے تو معلوم ہوا کہ یہ الاخر سے معدول ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٥{ فَاَخَذَہُ اللّٰہُ نَکَالَ الْاٰخِرَۃِ وَالْاُوْلٰی ۔ } ” تو پکڑ لیا اس کو اللہ نے آخرت اور دنیا کی سزا میں۔ “ دنیا کی سزا کے طور پر تو اسے اپنے لائو لشکر سمیت غرق کردیا گیا۔ جہاں تک اس کی آخرت کی سزا کا تعلق ہے اس کا ذکر قرآن میں جابجا ہوا ہے کہ وہ بہت بھیانک ہوگی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

8: دُنیا کا عذاب یہ کہ اُسے اور اُس کے لشکر کو غرق کردیا گیا۔ تفصیل کے لئے دیکھئے سورۃ شعراء (۲۶:۶۱ تا ۶۴) اور آخرت میں دوزخ کا عذاب ہوگا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(79:25) فاضذہ اللہ نکال الاخرۃ والاولی۔ ف عاقبت کا ہے۔ بمعنی آخر کار۔ نکال بمعنی تنکیل فعل محذوف کا مفعول مطلق برائے تاکید ہے بمعنی عبرتناک سزا دینا۔ یعنی اللہ نے اس کو پکڑا اور اس کو سخت عبرت بنادیا۔ بان اغرقہ فی الدنیا ویدخلہ فی النار فی الاخرۃ (دنیا میں اس کو اللہ نے دریا میں غرق کردیا اور آخرت میں اس کو جہنم میں داخل کریگا۔ (الخازن) الاولی : اول کا مؤنث ہے۔ قرآن مجید میں جہاں آخرۃ کے مقابلہ میں اس کا استعمال ہوا ہے وہاں اس سے مراد عالم دنیا ہے کیونکہ وہ آخرت سے پہلے ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ دنیوی عذاب تو غرق ہے اور اخروی عذاب حرق یعنی آگ میں جلنا ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اس کفر ، سرکشی اور تکذیب اور گندی بات کے بعد اب اللہ کی عظیم قوتیں حرکت میں آتی ہیں۔ فاخذ ................ والاولی (25:79) ” آخر کار اللہ نے اسے آخرت اور دنیا کے عذاب میں مبتلا کردیا “۔ یہاں آخرت کے عذاب کو دنیا کے عذاب پر مقدم کردیا گیا ، اس لئے کہ عذاب آخرت تو بہت ہی سخت اور شدید ہوگا۔ نافرمانوں اور سرکشوں کے لئے حقیقی عذاب تو عذاب آخرت ہوگا اور آخرت میں ایسے لوگ بڑی سختی اور بےرحمی سے پکڑے جائیں گے۔ پھر سورت کا موضوع ہی آخرت ہے۔ اس لئے عذاب آخرت کو مقدم کرنا ضروری ہوا۔ نیز لفظی ترنم اور قافیہ کے اعتبار سے بھی ” آخرت “ کو پہلے اور ” اولیٰ “ کو بعد میں ہونا چاہئے تھا ، یوں لفظی اور معنوی اعتبار سے الاخرة والاولی (25:79) ہم آہنگ ہوگئے۔ اس دنیا میں فرعون جس عذاب سے دو چار ہوا ، وہ بھی بڑا سخت تھا۔ رہا آرت کا عذاب تو وہ بہت ہی شدید اور سخت ہوگا۔ فرعون بڑی قوت والا تھا ، اور خاندانی عزت اور وقار کا مالک تھا۔ اسے اگر اس قدر شدید عذاب سے دوچار کیا گیا تو دوسرے کم درجے کے مکذبین ڈکٹیٹر اور سرکش بہرحال شدید ترین عذاب سے دو چار ہوں گے اور رہے مشرکین مکہ تو عالمی قوتوں میں تو ان کی کوئی حیثیت ہی نہ تھی۔ ان فی ........................ یخشیٰ (26:79) ” در حقیقت اس میں بڑی عبرت ہے ہر اس شخص کے لئے جو ڈرے “۔ جو شخص اللہ کی معرفت رکھتا ہے ، اللہ سے ڈرتا ہے ، وہی اس بات کو اچھی طرح جانتا ہے کہ فرعون کے واقعہ میں لوگوں کے لئے کیا کیا عبرتیں ہیں۔ رہا وہ شخص جس کے دل میں تقویٰ ، خوف اور خشیت ہی نہیں ہے۔ اس کے اور عبرت کے درمیان پردے حائل ہوگئے ہیں۔ اس کے اور نصیحت حاصل کرنے کے درمیان ایک دبیز پردہ حائل ہوجاتا ہے۔ آخر کار وہ انجام بد سے دوچار ہی نہیں ہوتا بلکہ انجام بد سے جاکر ٹکراتا ہے اور اللہ اس سے دنیا وآخرت میں انتقام لے لیتا ہے۔ پس ہر شخص کو اللہ ہی عبرت ، راہ راست اور اچھے انجام کے لئے وسائل فراہم کرتا ہے۔ ڈکٹیٹروں اور مادی وسیاسی قوت کے بل بوتے پر ظلم اور سرکشی کرنے والوں کے اس مطالعے اور نظارے کے بعد اب ذرا مشرکین مکہ کی طرف ، جن کو اپنی چھوٹی سی قوت پر بڑا گھمنڈ تھا ، ان کے سامنے بعض عظیم کائناتی قوتیں پیش کی جاتی ہیں ، تاکہ وہ ذرا سمجھیں کہ ان ہولناکی کی کائناتی قوتوں کے سامنے ان کی قوت ہیچ ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(25) پس اللہ تعالیٰ نے اس کو آخرت اور دنیا دونوں کے عذاب میں گرفتار کیا۔ دنیوی عذاب تو دریا میں غرق کرنا ہے اور آخرت کا عذاب جہنم میں جانا ہے بعض حضرات نے فرمایا اولی اور آخرت سے مراد ماعلمت لکم من الہ غیری اور ناربکم الاعلیٰ کے دونوں کلمے مراد ہیں اور ان دونوں کلموں کے درمیان چالیس سال کا فاصلہ ہے مطلب یہ ہے کہ پہلے قول اور دوسرے قول کی سزا میں پکڑا گیا اور گرفتار کیا گیا۔ ہم نے اپنی تیسیر میں حضرت حسن اور حضرت قتادہ (رض) کی تفسیر اختیار کی ہے ۔ واللہ اعلم