Surat un Naziaat

Surah: 79

Verse: 46

سورة النازعات

کَاَنَّہُمۡ یَوۡمَ یَرَوۡنَہَا لَمۡ یَلۡبَثُوۡۤا اِلَّا عَشِیَّۃً اَوۡ ضُحٰہَا ﴿٪۴۶﴾  4

It will be, on the Day they see it, as though they had not remained [in the world] except for an afternoon or a morning thereof.

جس روز یہ اسے دیکھ لیں گے تو ایسا معلوم ہوگا کہ صرف دن کا آخری حصہ یا اول حصہ ہی ( دنیا میں ) رہے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Day they see it (it will be) as if they had not tarried (in this world) except an (`Ashiyyah) afternoon or its (Duha)morning. meaning, when they stand up from their graves to go to the place of Gathering, they will feel that the period of the worldly life was short, it will seem to them that it was only the afternoon of one day. Juwaybir reported from Ad-Dahhak from Ibn Abbas: "As for Ashiyyah, it is the time between noon until the setting of the sun. Or its أَوْ ضُحَـهَا (Duha) morning, what is between sunrise and midday (noon)." Qatadah said, "This refers to the time period of the worldly life in the eyes of the people when they see the Hereafter." This is the end of the Tafsir of Surah An-Nazi`at. And to Allah belongs all praise and thanks.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

46۔ 1 یعنی دنیا میں پورا ایک دن بھی نہ رہے، دن کا پہلا حصہ یا دن کا آخری حصہ ہی صرف دنیا میں رہے ہیں یعنی دنیا کی زندگی، انہیں اتنی قلیل معلوم ہوگی۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٩] گزشتہ واقعات کے متعلق انسان کا تصور یہ ہوتا ہے کہ بیسیوں سال پہلے گزرے ہوئے واقعہ کے متعلق وہ کہتا ہے کہ یہ کل کی بات ہے۔ یہ اس عالم دنیا کا حال ہے جس میں لیل و نہار کی گردش اسے نظر آتی ہے اور ماہ و سال کا وہ حساب لگا سکتا ہے لیکن عالم برزخ میں تو یہ دن رات بھی نہیں ہوں گے جیسے اصحاب کہف پر تین سو سال گزرنے کے بعد وہ یہ فیصلہ نہ کرسکے تھے کہ وہ اس غار میں پورا دن سوئے رہے ہیں یا دن کا کچھ حصہ۔ بالکل یہی صورت حال قیامت کے دن لوگوں کو پیش آئے گی اور کافر قیامت کا دن دیکھ کر یہی سمجھیں گے کہ ان کی دنیا کی زندگی تو پورا ایک دن بھی نہ تھی۔ کاش یہ تھوڑی سی مدت ہم اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں ہی گزار کر یہاں آتے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

کانھم یوم یرونھا…: یعنی وہ قیامت جسے یہ بہت دور سمجھ رہے ہیں جب آئے گی تو انہیں ایسے معلوم ہوگا جیسے وہ دنیا میں صرف دن کا پچھلا حصہ یا پہلا حصہ ہی رہے ہیں، پورا ایک دن بھی نہیں رہے۔ مثال سمجھنے کے لئے اپنی گزشتہ زندگی پر نظر ڈال کر دیکھ لیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

كَاَنَّہُمْ يَوْمَ يَرَوْنَہَا لَمْ يَلْبَثُوْٓا اِلَّا عَشِـيَّۃً اَوْ ضُحٰىہَا۝ ٤٦ ۧ رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ، والثاني : بالوهم والتّخيّل، نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] . والثالث : بالتّفكّر، نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] . والرابع : بالعقل، وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ، ( ر ء ی ) رای الرؤیتہ کے معنی کسی مرئی چیز کا ادراک کرلینا کے ہیں اور قوائے نفس ( قوائے مدر کہ ) کہ اعتبار سے رؤیتہ کی چند قسمیں ہیں ۔ ( 1) حاسئہ بصریا کسی ایسی چیز سے ادراک کرنا جو حاسہ بصر کے ہم معنی ہے جیسے قرآن میں ہے : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] تم ضروری دوزخ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوگے پھر ( اگر دیکھو گے بھی تو غیر مشتبہ ) یقینی دیکھنا دیکھو گے ۔ ۔ (2) وہم و خیال سے کسی چیز کا ادراک کرنا جیسے ۔ اری ٰ ان زیدا منطلق ۔ میرا خیال ہے کہ زید جا رہا ہوگا ۔ قرآن میں ہے : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] اور کاش اس وقت کی کیفیت خیال میں لاؤ جب ۔۔۔ کافروں کی جانیں نکالتے ہیں ۔ (3) کسی چیز کے متعلق تفکر اور اندیشہ محسوس کرنا جیسے فرمایا : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے ۔ (4) عقل وبصیرت سے کسی چیز کا ادارک کرنا جیسے فرمایا : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] پیغمبر نے جو دیکھا تھا اس کے دل نے اس میں کوئی جھوٹ نہیں ملایا ۔ «لَمْ» وَ «لَمْ» نفي للماضي وإن کان يدخل علی الفعل المستقبل، ويدخل عليه ألف الاستفهام للتّقریر . نحو : أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينا وَلِيداً [ الشعراء/ 18] ، أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيماً فَآوی [ الضحی/ 6] ( لم ( حرف ) لم ۔ کے بعد اگرچہ فعل مستقبل آتا ہے لیکن معنوی اعتبار سے وہ اسے ماضی منفی بنادیتا ہے ۔ اور اس پر ہمزہ استفہام تقریر کے لئے آنا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينا وَلِيداً [ الشعراء/ 18] کیا ہم نے لڑکپن میں تمہاری پرورش نہیں کی تھی ۔ لبث لَبِثَ بالمکان : أقام به ملازما له . قال تعالی: فَلَبِثَ فِيهِمْ أَلْفَ سَنَةٍ [ العنکبوت/ 14] ، ( ل ب ث ) لبث بالمکان کے معنی کسی مقام پر جم کر ٹھہرنے اور مستقل قیام کرنا کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : فَلَبِثَ فِيهِمْ أَلْفَ سَنَةٍ [ العنکبوت/ 14] تو وہ ان میں ۔ ہزار برس رہے ۔ عشا العَشِيُّ من زوال الشمس إلى الصّباح . قال تعالی: إِلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحاها[ النازعات/ 46] ، والعِشَاءُ : من صلاة المغرب إلى العتمة، والعِشَاءَانِ : المغرب والعتمة «1» ، والعَشَا : ظلمةٌ تعترض في العین، ( ع ش ی ) العشی زوال آفتاب سے لے کر طلوع فجر تک کا وقت قرآن میں ہے : ۔ إِلَّا عَشِيَّةً أَوْضُحاها[ النازعات 46] گویا ( دنیا میں صرف ایک شام یا صبح رہے تھے ۔ العشاء ( ممدود ) مغرب سے عشا کے وقت تک اور مغرب اور عشا کی نمازوں کو العشاء ن کہا جاتا ہے اور العشا ( توندی تاریکی جو آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے رجل اعثی جسے رتوندی کی بیمار ی ہو اس کی مؤنث عشراء آتی ہے ۔ ضحی الضُّحَى: انبساطُ الشمس وامتداد النهار، وسمّي الوقت به . قال اللہ عزّ وجل : وَالشَّمْسِ وَضُحاها[ الشمس/ 1] ، إِلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحاها [ النازعات/ 46] ، وَالضُّحى وَاللَّيْلِ [ الضحی/ 1- 2] ، وَأَخْرَجَ ضُحاها [ النازعات/ 29] ، وَأَنْ يُحْشَرَ النَّاسُ ضُحًى [ طه/ 59] ، وضَحَى يَضْحَى: تَعَرَّضَ للشمس . قال : وَأَنَّكَ لا تَظْمَؤُا فِيها وَلا تَضْحى[ طه/ 119] ، أي : لك أن تتصوّن من حرّ الشمس، وتَضَحَّى: أَكَلَ ضُحًى، کقولک : تغدّى، والضَّحَاءُ والغداءُ لطعامهما، وضَاحِيَةُ كلِّ شيءٍ : ناحیتُهُ البارزةُ ، وقیل للسماء : الضَّوَاحِي ولیلة إِضْحِيَانَةٌ ، وضَحْيَاءُ : مُضيئةٌ إضاءةَ الضُّحَى. والأُضْحِيَّةُ جمعُها أَضَاحِي وقیل : ضَحِيَّةٌ وضَحَايَا، وأَضْحَاةٌ وأَضْحًى، وتسمیتها بذلک في الشّرع لقوله عليه السلام : «من ذبح قبل صلاتنا هذه فليُعِدْ» ( ض ح و ) الضحی ٰ ۔ کے اصل معنی دہوپ پھیل جانے اور دن چڑھ آنے کے ہیں پھر اس وقت کو بھی ضحی کہاجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : وَالشَّمْسِ وَضُحاها[ الشمس/ 1] سورج کی قسم اور اس کی روشنی کی ۔ إِلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحاها [ النازعات/ 46] ایک شام یا صبح وَالضُّحى وَاللَّيْلِ [ الضحی/ 1- 2] آفتاب کی روشنی کی قسم اور رات کی تاریکی کی جب چھاجائے ۔ وَأَخْرَجَ ضُحاها [ النازعات/ 29] اور اسکی روشنی نکالی ۔ وَأَنْ يُحْشَرَ النَّاسُ ضُحًى[ طه/ 59] اور یہ لوگ ( اس دن چاشت کے وقت اکٹھے ہوجائیں ۔ ضحی یضحیٰ شمسی یعنی دھوپ کے سامنے آنا ۔ قرآن میں ہے : وَأَنَّكَ لا تَظْمَؤُا فِيها وَلا تَضْحى[ طه/ 119] اور یہ کہ نہ پیاسے رہو اور نہ دھوپ کھاؤ۔ یعنی نہ دھوپ سے تکلیف اٹھاؤ گے ۔ تضحی ضحی کے وقت کھانا کھانا جیسے تغدیٰ ( دوپہر کا کھانا کھانا ) اور اس طعام کو جو ضحی اور دوپہر کے وقت کھایا جائے اسے ضحاء اور غداء کہا جاتا ہے ۔ اور ضاحیۃ کے معنی کسی چیز کی کھلی جانب کے ہیں اس لئے آسمان کو الضواحی کہا جاتا ہے لیلۃ اضحیانۃ وضحیاء روشن رات ( جس میں شروع سے آخر تک چاندنی رہے ) اضحیۃ کی جمع اضاحی اور ضحیۃ کی ضحایا اور اضحاۃ کی جمع اضحیٰ آتی ہے اور ان سب کے معنی قربانی کے ہیں ( اور شرقا قربانی بھی چونکہ نماز عید کے بعد چاشت کے وقت دی جاتی ہے اس لئے اسے اضحیۃ کہاجاتا ہے حدیث میں ہے (9) من ذبح قبل صلوتنا ھذہ فلیعد کہ جس نے نما زعید سے پہلے قربانی کا جانور ذبح کردیا وہ دوبارہ قربانی دے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٦{ کَاَنَّہُمْ یَوْمَ یَرَوْنَہَا لَمْ یَلْبَثُوْٓا اِلَّا عَشِیَّۃً اَوْ ضُحٰٹہَا ۔ } ” جس دن وہ اسے دیکھیں گے (انہیں یوں لگے گا ) گویا وہ نہیں رہے (دنیا میں) مگر ایک شام یا اس کی ایک صبح۔ “ قیامت کے دن انسان جب اپنی دنیوی زندگی کو یاد کرے گا تو اسے اپنی پوری زندگی ایسے نظر آئے گی جیسے وہ ایک دن کی بھی صرف چند گھڑیاں دنیا میں رہا تھا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

24 This theme has occurred at several places in the Qur'an and been explained in the corresponding Notes. For it, see E.N. 53 of Yunus, E.N. 56 of Bani Isra'il, E.N. 80 of Ta Ha, E.N. 101 of Al-Mu'minun, E.N.'s 81, 82 of ArRum, E.N. 48 of Ya Sin. Besides, this theme has also occurred in Al-Ahqaf: 35 but we have not explained it there for fear of repetition.

سورة النّٰزِعٰت حاشیہ نمبر :24 یہ مضمون اس سے پہلے کئی جگہ قرآن میں بیان ہو چکا ہے اور ہم اس کی تشریح کر چکے ہیں ۔ ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد دوم ، یونس ، حاشیہ 53 ۔ بنی اسرائیل ، حاشیہ 56 ۔ جلد سوم ، طہٰ ، حاشیہ 80 ۔ المومنون ، حاشیہ 101 ۔ الروم ، حواشی 81 ۔ 82 ۔ جلد چہارم ۔ یسین ، حاشیہ 48 ۔ اس کے علاوہ یہ مضمون سورہ احقاف آیت35 میں بھی گزر چکا ہے جسکی تشریح ہم نے وہاں نہیں کی کیونکہ پہلے کئی جگہ تشریح ہو چکی تھی ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

10: یعنی آخرت میں پہنچنے کے بعد دُنیا میں گذری ہوئی زندگی یا قبر کے عالمِ میں برزخ میں قیام کی مدّت بہت مختصر معلوم ہوگی۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(79:46) کانھم یوم یرونھا لم یلبثوا : کان حرف مشبہ بالفعل ہم ضمیر جمع مذکر غائب کان کا اسم لم یلبثوا اس کی خبر۔ یوم یرونھا : ظرف زمان لم یلبثوا کا۔ یرونھا میں ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع الساعۃ ہے۔ لم یلبثوا مضارع نفی جحد بلم لبث باب سمع مصدر۔ وہ نہیں ٹھہرے۔ وہ نہیں رہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ جس دن کہ وہ (منکرین قیامت) اس کو دیکھ لیں گے (تو یہی سمجھیں گے کہ دنیا میں) وہ نہیں ٹھہرے مگر ۔۔ ای یظنون انھم لم یلبثوا فی الدنیا الا (حقانی) الا حرف استثناء عشیۃ اوضحھا : مستثنیٰ ۔ ضحھا مضاف مضاف الیہ ہے ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع عشیۃ ہے ای عشیۃ یوم او بکرتہ دن کا پچھلا وقت یا اس کا پہلا وقت۔ عشیۃ دن کے زوال کے وقت سے لے کر غروب تک کا وقت اور الضحی صبح سویرے سے لے کر زوال کے وقت تک۔ او بمعنی یا۔ مطلب یہ کہ یوم قیامت جس کے متعلق استہزاء یہ سوال کرتے رہے جب یہ اس دن کو دیکھ لیں گے تو اس کی ہولناکیوں کے پیش نظر دنیا کی زندگی ان کو ایک مختصر سا وقفہ معلوم دے گی اور قیامت کی سختی اور عذاب کا دن ایک طویل اور لامتناہی مدت۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 یا (قبروں میں) پہر بھر شام، یا پہر بھر صبح رہے “ یعنی بہت تھوڑی دیر رہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ یعنی دنیا کی طویل مدت قصیر معلوم ہوگی اور سمجھیں گے کہ عذاب استعجال کے ساتھ آگیا، جس کی یہ استدعا کرتے ہیں، حاصل یہ کہ استعجال (جلدی) کیوں کرتے ہو، وقوع کے وقت اس کو مستعجل ہی سمجھو گے اور جس دیر کو اب دیر سمجھ رہے ہو یہ دیر معلوم نہ ہوگی۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

کانھم .................... ضحھا (46:79) ” جس روز یہ لوگ اسے دیکھ لیں گے تو انہیں یوں محسوس ہوگا کہ (دنیا میں یا حالت موت میں) یہ بس ایک دن کے پچھلے پہر یا اگلے پہر تک ٹھہرے ہیں “۔ اس کے بارے میں تمہارے تاثرات یوں ہوں گے کہ اس کی عظمت کو دیکھ کر تم پوری دنیا کو اور اپنی پوری عمروں کو اور اپنے سازوسامان کو یوں سمجھو گے کہ شاید صبح وشام کا ایک مختصر وقت تھا جو ہم نے دنیا میں بسر کیا۔ یہ دنیا جس کے لئے لوگ باہم لڑتے اور جھگڑتے ہیں۔ اور ایک دوسرے کے ساتھ انہوں نے ہمہ گیر کشمکش برپا کی ہے۔ اس دنیا کے لوگ مرتے ہیں اور آخرت کی لازوال اور بےپناہ انعامات کو اس کی خاطر ترک کرتے ہیں اور اس مختصر مدت کے لئے عظیم جرائم اور مظالم کا ارتکاب کرتے ہیں ، نافرمانی کرتے ہیں ، سرکشیاں کرتے ہیں ، اور رات اور دن اس کی طلب میں غرق ہیں۔ یہ دنیا ان دنیاداروں کی نظروں میں اس قدر سمٹ اور سکڑ جائے گی کہ وہ کہیں گے کہ ہم تو صرف اتنا عرصہ رہے ہیں جس طرح صبح کے وقت کا ایک مختصر حصہ یا شام کا ایک حصہ۔ یہ ہے دنیا ، مختصر ، جلدی سے فنا ہونے والی ، حقیر وناپائیدار ، کم قیمت اور گھٹیا۔ کیا لوگ اس دنیا کے ایک مختصر وقت کے لئے جس کے بارے میں خود ان کا تاثر یہ ہگا کہ یہ ایک پورے دن کے برابر بھی نہیں ہے۔ بلکہ صبح وشام کے ایک پہر کے برابر ہے۔ ابدی زندگی اور اس کی نعمتوں کو ترک کررہے ہیں حالانکہ اس دنیا کی خواہشات بھی زائل ہونے والی خواہشات ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان ایک عظیم حماقت میں مبتلا ہے۔ کوئی ذی عقل اور چشم بینارکھنے والا انسان تو یہ فعل نہیں کرسکتا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

18:۔ ” کانہم “ یہ ” یظنون “ مقدر کا مفعول ہے اور ” یوم “ ظرف اسی فعل مقدر کے ساتھ متعلق ہے اصل عبارت اس طرح ” یوم یرونہا یظنون کانہم لم یلبثوا الخ “ اب تو قیامت کو نہیں مانت اور بطور استہزاء اس کے معین وقت سے سوال کرتے ہیں تو جب قیامت کو دیکھ لیں گے تو دنیا میں رہنے کا وقت ان کو بہت ہی مختصر نظر آئے گا اور وہ یہ سمجھیں گے کہ گویا دنیا میں وہ صرف عشیہ (ظہر تا مغرب) کی مقدار ٹھیرے ہیں یا اس سے بھی کم یعنی صرف ضحی (طلوع آفتاب سے دو نیزہ کی مقدار تک) کا زمانہ ٹھیرے ہیں۔ یعنی قیامت کے اہوال و شدائد کی وجہ سے انہیں دنیا کی زندگی کا وقت بہت کم معلوم ہوگا راحت کے بعد مصیبت میں راحت کا وقت بہت تھوڑا معلوم ہوتا ہے۔ ” ضحہا “ کی ضمیر مجرور ” عشیۃ “ کی طرف راجع ہے لیکن اس پر اعتراض وارد ہوتا ہے کہ ” عشیۃ “ کا تو کوئی ” ضحی “ ہوتا ہی نہیں، تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اضافت بانی ملابست ہے اور مراد عشیہ کے دن کا ضحی ہے۔ قال الفراء والزجاج المراد باضافۃ الضحی الی العشیۃ اضافتہا الی یوم العشیۃ او ضحی یومہا (کبیر ج 89 ص 469) ۔ یا مراد یہ ہے کہ عشیہ میں سے ضحی کا قدر۔ (الشیخ (رح) تعالی) سورة النازعات ختم ہوئی

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(46) لوگ جس دن قیامت گے تو ان کو ایسا معلوم ہوگا کو یا وہ دنیا میں دن کا آخری حصہ یا اس کا ابتدائی حصہ ٹھہرے ہوں گے۔ یعنی اب تو قیامت کو جلدی طلب کررہے ہیں اور جلدی جلدی کا شورمچا رہے ہیں لیکن جب وہ آجائیگی تو اس کو مستعجل اور جلدی ہی سمجھو گے کیونکہ دنیا کا رہنا دنیا کا رہنا ایسا معلوم ہوگا کہ شاید ایک دن کی شام یا اس صبح رہے ہوں گے کہ عذاب آگیا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی شتاب مانگتے ہیں قیامت اس وقت معلوم ہوگا کہ بہت شتاب آئی بیچ میں کچھدیر نہیں لگی ۔ عشیہ، زوال سے لے کر شام تک اور ضحی صبح سے زوال تک ضحا ہوا کی ہا یا تو صلے کے لئے ہے یا اضافت یوم العشیہ کی طرف ہے یعنی العشیۃ اوضحی یومھا پہلا قول حضرت ابن عباس سے مروی ہے اور دوسرا افرا کا قول ہے اہل عرب بولا کرتے ہیں۔ اتیک العشیۃ اوغدائھا۔ تم تفسیر سورة النزعت