Surat un Naziaat
Surah: 79
Verse: 5
سورة النازعات
فَالۡمُدَبِّرٰتِ اَمۡرًا ۘ﴿۵﴾
And those who arrange [each] matter,
پھر کام کی تدبیر کرنے والوں کی قسم!
فَالۡمُدَبِّرٰتِ اَمۡرًا ۘ﴿۵﴾
And those who arrange [each] matter,
پھر کام کی تدبیر کرنے والوں کی قسم!
And by those who arrange affairs. Ali, Mujahid, Ata, Abu Salih, Al-Hasan, Qatadah, Ar-Rabi bin Anas, and As-Suddi all said, "They are the angels." Al-Hasan added, "They control the affairs from the heaven to the earth, meaning by the command of their Lord, the Mighty and Majestic." The Description of the Day of Judgement, the People, and what They will say Then Allah says, يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُ
5۔ 1 یعنی اللہ تعالیٰ جو کام سپرد کرتا ہے، وہ اس کی تدبیر کرتے ہیں اصل مدبر تو اللہ ہے لیکن جب اللہ تعالیٰ اپنی حکمت بالغہ کے تحت فرشتوں کے ذریعے سے کام کرواتا ہے تو انہیں بھی مدبر کہا جاتا ہے۔
[٥] پھر ارواح کے متعلق فرشتوں کو جو حکم ملتا ہے خواہ وہ حکم ثواب کا ہو یا عذاب کا۔ اس پر فوراً عمل درآمد کی تدبیر کرتے ہیں۔ اور اگر الفاظ کی عمومیت کا لحاظ رکھا جائے تو ان سے مراد وہ تمام فرشتے ہیں جو تدبیر امور کائنات پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور ہیں۔
(فالمدبرت امراً : پھر دین و دنیا کے جس کام کا انہیں حکم دیا ہوتا ہے اس کی تدبیر کرتے ہیں۔ قرآن مجید میں جن چیزں کی قسم کھائی گئی ہے یا تو ان کی ندرت کی طرف توجہ دلانا مقصود ہوتا ہے یا انہیں بعد میں آنے والے جواب قسم کی شہادت کے طور پر ذکر کیا جاتا ہے۔ یہاں جواب قسم صاف لفظوں میں مذکور نہیں مگر قیامت کے احوال ذکر کرنے سے خود بخود سمجھ آرہا ہے کہ یہ قسمیں اس بات کا یقین دلانے کے لئے کھائی گئی ہیں کہ قیامت قائم ہو کر رہے گی۔ اہل عرب فرشتوں کا اللہ کی طرف سے قبض ارواح اور دوسرے معاملات کی تدبیر پر مامور ہونا مانتے تھے۔ فرشتوں کے یہ اوصاف ذکر کر کے ان کی قسم اس بنا پر کھائی گی ہے کہ فرشتے جس اللہ کے حکم سے روح قبض کرسکتے ہیں، نہایت تیزی سے کائنات میں نقل و حرکت کرسکتے ہیں اور کائنات کے معاملات کی تدبیر کرس کتے ہیں، اسی اللہ کے حکم سے صور میں پھونک کر اس کائنات کو فنا بھی کرسکتے ہیں اور دوبارہ پھونک کر از سر نو زندہ بھی کرسکتے ہیں۔
The fifth quality of the angels: فَالْمُدَبِّرَاتِ أَمْرًا (then manage [ to do ] everything [ they are ordered to do,]...79:5). In other words, the last task of these angels of death will be as follows: Those who are commanded to reward and comfort the deserving souls, will gather means of reward and comfort for them; and those who are commanded to punish and cause pain to [ the evil souls ] will organize means for that. Reward and Punishment in the Grave The Surah thus far confirms that at the time of death, the angels will arrive and extract human souls. Then they will take them to the sky and swiftly transport them to their abodes, the good souls to the good abode and the bad souls to the bad one. There they will organise means of reward or punishment and pain or comfort for them. The verses show that the reward and punishment will take place in the grave or barzakh. Thereafter the reward and punishment will be meted out on the Day of Judgment. Authentic Traditions give elaborate details of this. There is a lengthy Tradition of Sayyidna Bard& Ibn ` Azib cited in Mishkat-ul-Masabih with reference to Musnad of Ahmad. Nafs [ Self ] Ruh [ Spirit - Soul ]: Qadi Thana&ullah&s Research and Analysis The readers are referred to a special research and analysis by the Baihaqi of his time, Qadi Thana&ullah Panipati, that was presented in this book under verse [ 29] of Surah Hijr. Here the learned commentator has added some more details which dispose of many doubts which arise from the above Tradition: The human soul is a refined body which permeates the dense material body. The [ ancient ] doctors and philosophers called it as ruh or soul. But the real spirit is an abstract substance and a subtle divine creature connected in a special way with this physical soul or nafs, the life of which is dependent on the Divine Spirit. The pure, abstract and non-material spirit is the life of the first soul on which depends the life of the body, and therefore it is called the &soul of soul&. The real nature of the connection between these two kinds of soul is not known to anyone. It is known to Allah alone. Perhaps an illustration would clarify the matter. If we were to hold a mirror against the sun, then, despite that the sun is 149.6 million kilometers away from the earth, its reflection comes into the mirror. And because of the light, that too starts glowing like the sun. The same thing applies to the human soul. If it exerts itself in spiritual struggle and ascetic discipline in keeping with the teachings of [ Divine ] revelation, he will be enlightened. Otherwise he would be polluted with the bad effects of the physical body. This is the refined bodily soul that the angels transport to the heaven and transport him back with honours if he is enlightened. Otherwise the doors of the heaven are not opened for him and is thrown down from top. This is the refined bodily soul, the Tradition notes, which Allah created from dust and to it He will return him and from it. He resurrect him. It is this refined bodily soul that gets enlightened and becomes fragrant. But the same body can stink because of [ the filth on disbelief and idolatrous practices. The &abstract spirit& is connected with the dense body through the refined bodily soul. The abstract spirit never dies. The reward or punishment of grave is experienced by the refined bodily soul which keeps connected with the grave whereas the abstract spirit remains in ` illiyyun, and it feels the effects of reward and punishment indirectly. Thus the statement that &the soul is in the grave& is true in the sense that &soul& in this context refers to the bodily soul. The statement that &the soul is in ` Alam-ul-arwah or ` illiyyun& is also true, because the &soul& in this context refers to ruh mujarrad or &abstract spirit&. Thus it is possible to reconcile the apparently conflicting statements. فَإِذَا هُم بِالسَّاهِرَةِ (and in no time they will be [ brought ] in the plain [ of hashr ]...79:14). The word sahirah refers to &the surface of the earth&. When the earth will be re-created at Resurrection, it will be a completely level surface. There will be no mountain barriers, no buildings or caves. This is referred to as &sahirah&. The Holy Prophet صلی اللہ علیہ وسلم used to be hurt by the stubbornness of the obdurate rejecters of Resurrection. The next verses recount the story of Musa (علیہ السلام) and Fir&aun to console him, and to show that the adverse attitude of the pagans is not confined to him. The previous prophets have also faced similar situations, but they endured them with patience. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) too should exercise patience and fortitude.
پانچویں صفت فالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًا ہے۔ امر الٰہی کی تدبیر و تنفیذ کرنے والے یعنی ان ملائکہ موت کا آخری کام یہ ہوگا کہ جس روح کو ثواب اور راحت دینے کا حکم ہوگا اس کے لئے راحت کے سامان جمع کردیں اور جس کو عذاب اور تکلیف میں ڈالنے کا حکم ہوگا اس کے لئے اس کا انتظام کردیں۔ قبر میں ثواب وعذاب موت کے وقت فرشتوں کا آنا اور انسان کی روح قبض کرکے آسمان کی طرف لیجانا پھر اسکے اچھے یا برے ٹھکانے پر جلدی سے پہنچا دینا اور وہاں ثواب یا عذاب، تکلیف یا راحت کے انتظامات کردینا ان آیات مذکورہ سے ثابت ہوگیا۔ یہ عذاب وثواب قبر یعنی برزخ میں ہوگا۔ حشر کا عذاب وثواب اس کے بعد ہے احادیث صحیحہ میں اس کی بڑی تفصیلات مذکور ہیں۔ حضرت برا بن عازب کی ایک طویل حدیث مشکوة میں بحوالہ مسند احمد مذکور ہے۔ نفس اور روح کے متعلق حضرت قاضی ثناء اللہ (رح) کی تحقیق مفید تفسیر مظہری کے حوالہ سے نفس و روح کی حقیقت پر کچھ کلام سورة حجر کی آیت 29 کے تحت گزر چکا ہے۔ اسی سلسلے کی مزید تحقیق و توضیح بیہقی وقت حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی قدس سرہ نے اس جگہ تحریر فرمائی ہے جس سے بہت سے اشکالات حل ہوجاتے ہیں وہ یہ ہے کہ حدیث مذکور سے یہ واضح ہوتا ہے کہ نفس انسانی ایک جسم لطیف ہے جو اسکے جسم کثیف کے اندر سمایا ہوا ہے اور وہ انہیں مادی عناصر اربعہ سے بنا ہے۔ فلاسفہ اور اطبا اسی کو روح کہتے ہیں مگر درحقیقت روح انسانی ایک جوہر مجرد اور لطیفہ ربانی ہے جو اس طبعی روح یعنی نفس کیساتھ ایک خاص تعلق رکھتا ہے اور طبعی روح یعنی نفس کی حیات خود اس لطیفہ ربانی پر موقوف ہے گکویا اس کی روح الروح کہہ سکتے ہیں کہ جسم کی زندگی نفس سے ہے اور نفس کی زندگی اس روح سے وابستہ ہے اس روح مجرد اور لطیفہ ربانیہ کا تعلق اسی جسم لطیف یعنی نفس کیساتھ کیا اور کس طرح کا ہے اس کی حقیقت کا علم انکے پیدا کرنے والے کے سوا کسی کو نہیں، اور یہ جسم لطیف جسکا نام نفس ہے اس کو حق تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ایک آئینہ کی مثال بنایا ہے جو آفتاب کے بالمقابل رکھدیا گیا ہو تو آفتاب کی روشنی اس میں ایسی آجاتی ہے کہ یہ خود آفتاب کی طرح روشنی پھیلاتا ہے۔ نفس انسانی اگر تعلیم وحی کے مطابق ریاضت و محنت کرلیتا ہے تو وہ بھی منور ہوجاتا ہے ورنہ وہ جسم کثیف کے خراب اثرات میں ملوث ہوتا ہے یہی جسم لطیف ہے جس کو فرشتے اوپر لیجاتے ہیں اور پھر اعزاز کے ساتھ نیچے لاتے ہیں جبکہ وہ منور ہوچکا ہو، ورنہ آسمان کے دروازے اسکے لئے نہیں کھلتے، اوپر ہی سے نیچے پٹخ دیا جاتا ہے۔ یہی جسم لطیف ہے جس کے بارے میں حدیث مذکور میں ہے کہ ہم نے اس کو زمین کی مٹی سے پیدا کیا، پھر اس میں لوٹائیں گے پھر اسی سے دوبارہ پیدا کریں گے، یہی جسم لطیف اعمال صاحلہ سے منور اور خوشبودار بنجاتا ہے اور کفر و شرک سے بدبودار ہوجاتا ہے۔ باقی روح مجرد اس کا تعلق جسم کثیف کے ساتھ بواسطہ جسم لطیف یعنی نفس کے ہوتا ہے اس پر موت طاری نہیں ہوتی، قبر کا عذاب وثواب بھی اسی جسم لطیف یعنی نفس سے وابستہ ہے اور اس نفس کا تعلق قبر سے ہی رہتا ہے اور روح مجرد علیین میں ہوتی ہے اور روح مجرد اسکے ثواب و عذاب سے بالواسطہ متاثر ہوتی ہے۔ اس طرح روح کا قبر میں ہونا بمعنے نفس کے صحیح ہے اور اس کا عالم ارواح یا علین میں رہنا بمعنے روح مجرد صحیح ہے اس سے ان روایات مختلفہ کی تطبیق بھی ہوجاتی ہے، واللہ اعلم۔ آگے قیامت کے وقوع اور اس میں پہلے نفخ صور سے سارے عالم کی فنا پھر دوسرے سے سارے عالم کی دوبارہ ایجاد اور اس پر کفار کے شبہ استبعاد کا جواب مذکور ہے اس کے آخر میں فرمایا فَاِذَا هُمْ بالسَّاهِرَةِ ساہرہ سطح زمین کو کہا جاتا ہے۔ قیامت میں جو زمین دوبارہ پیدا کی جاوے گی وہ پوری ایک سطح مستوی ہوگی۔ اس میں آڑ پہاڑ عمارت یا غار نہیں ہوگا، اسی کو ساہرہ کہا گیا ہے۔ اس کے بعد کفار منکرین قیامت کی ضد اور عناد سے جو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایذا پہنچتی تھی اس کا ازالہ فرعون اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بیان کرکے کیا گیا ہے کہ مخالفین سے ایسی ایذا میں کچھ آپ کے لئے مخصوص نہیں، انبیا سابقین کو بھی بڑی بڑی ایذائیں ان سے پہنچی ہیں، انہوں نے صبر کیا، آپ بھی صبر سے کام لیں۔
فَالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًا ٥ ۘ دبر والتدبیرُ : التفکّر في دبر الأمور، قال تعالی: فَالْمُدَبِّراتِ أَمْراً [ النازعات/ 5] ، يعني : ملائكة موكّلة بتدبیر أمور، ( د ب ر ) دبر ۔ التدبیر ( تفعیل ) کسی معاملہ کے انجام پر نظر رکھتے ہوئے اس میں غور و فکر کرنا قرآن میں ہے :۔ فَالْمُدَبِّراتِ أَمْراً [ النازعات/ 5] پھر دنیا کے ) کاموں کا انتظام کرتے ہیں ۔ یعنی وہ فرشتے جو امور دینوی کے انتظام کیلئے مقرر ہیں ۔ أمر الأَمْرُ : الشأن، وجمعه أُمُور، ومصدر أمرته : إذا کلّفته أن يفعل شيئا، وهو لفظ عام للأفعال والأقوال کلها، وعلی ذلک قوله تعالی: إِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ [هود/ 123] ( ا م ر ) الامر ( اسم ) کے معنی شان یعنی حالت کے ہیں ۔ اس کی جمع امور ہے اور امرتہ ( ن ) کا مصدر بھی امر آتا ہے جس کے معنی حکم دینا کے ہیں امر کا لفظ جملہ اقوال وافعال کے لئے عام ہے ۔ چناچہ آیات :۔ { وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ } ( سورة هود 123) اور تمام امور کا رجوع اسی طرف ہے
آیت ٥{ فَالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًا ۔ } ” پھر (حسب حکم) معاملات کی تدبیر کرتے ہیں۔ “ یعنی ہر مرنے والے کی روح کو فرشتے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق سِجِّین یا عِلِّیّین میں لے جاتے ہیں۔ یہاں پر ان قسموں کا جواب یا مقسم علیہ چونکہ محذوف ہے ‘ اس لیے ان قسموں کا مقسم علیہ بھی وہی تصور ہوگا جو سورة الذاریات اور سورة المرسلات میں مذکور ہے۔ یعنی : { اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَصَادِقٌ - وَّاِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌ ۔ } (الذّٰرِیٰت) ” جو وعدہ تمہیں دیا جا رہا ہے وہ یقینا سچ ہے۔ اور جزا و سزا ضرور واقع ہو کر رہے گی “۔ اور { اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَـوَاقِعٌ ۔ } (المرسلٰت) ” جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے وہ یقینا واقع ہو کر رہے گی۔ “
1 Here, the object for which an oath has been sworn by beings having five qualities has not been mentioned; but the theme that follows by itself leads to the conclusion that the oath has been sworn to affirm that the Resurrection is a certainty, which must come to pass, when all dead men shall be resurrected. Nor is there any mention as to what are the beings possessed of the qualities. However, a large number of the Companions and their immediate successors and most of the commentators have expressed the opinion that they are the angels. Hadrat `Abdullah bin Mas`ud, Hadrat `Abdullah bin `Abbas, Masruq, Sa`id bin Jubair, Abu salih Abud-Duha and Suddi; say that "those who pluck out from the depths and those who draw out gently" imply the angels, who wrench out the soul of man at death from the very depths of his body, from its every fibre. "Those who glide about swiftly", according to Hadrat Ibn Mas`ud, Mujahid, Sa`id bin Jubair and Abu Salih, also imply the angels, who hurry about swiftly in execution of Divine Commands as though they were gliding through space. The same meaning of "those who hasten out as in a race" has been taken by Hadrat `Ali, Mujahid, Masruq, Abu Salih and Hasan Bari, and hastening out implies that each one of them hurries on his errand as soon as he receives the first indication of Divine Will. "Those who conduct the affairs" also imply the angels as has been reported from Hadrat `Ali, Mujahid, 'Ata' Abu -Salih, Hasan Bari;, Qatadah, Rabi`bin Anas and Suddi. In other words, these are the workers of the Kingdom of the Universe, who are conducting all the affairs of the world in accordance with Allah's Command and Will. Though this meaning of these verses has not been reported in any authentic Hadith from the Holy Prophet, while this meaning has been given by some major Companions and their immediate successors and pupils, one is led to form the view that they must have obtained this knowledge from the Holy Prophet himself. Now the question arises: On what basis has the oath been sworn by these angels for the occurrence of the Resurrection and life after death when they themselves are as imperceptible as the thing for the occurrence of which they have been presented as an evidence and as an argument. In our opinion the reason is (and Allah has the best knowledge) that the Arabs were not deniers of the existence of the angels. They themselves admitted that at the death the soul was taken out by the angels; they also believed that the angels moved at tremendous speeds; they could reach any place between the earth and the heavens instantly and promptly execute any errand that was entrusted to them. They also acknowledged that the angels are subordinate to Divine Will and they conduct the affairs of the universe strictly and precisely in accordance with Divine Will; they are not independent and masters of their will. They regarded them as daughters of Allah out of ignorance and worshipped them as deities, but they did not believe that they possessed the real authority as well. Therefore, the basis of the reasoning from the abovementioned attributes for the occurrence of the Resurrection and life after death is that the angels who took the soul by the order of God, could also restore the soul by the order of the same God; and the angels who conducted the affairs of the universe by the order of God could also upset this universe by the order of the same God whenever . He so ordered them and could also bring about a new world order. They would not show any negligence or delay in the execution of His Command.
سورة النّٰزِعٰت حاشیہ نمبر :1 یہاں پانچ اوصاف رکھنے والی ہستیوں کی قسم جس بات پر کھائی گئی ہے اس کی وضاحت نہیں کی گئی ۔ لیکن بعد کا مضمون اس امر پر خود دلالت کرتا ہے کہ یہ قسم اس بات پر کھائی گئی ہے کی قیامت ضرور آئے گی اور تمام مرے ہوئے انسان ضرور از سر نو زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے ۔ اس کی وضاحت بھی نہیں کی گئی کہ یہ پانچ اوصاف کن ہستیوں کے ہیں ، لیکن صحابہ اور تابعین کی بڑی تعداد نے اور اکثر مفسرین نے کہا ہے کہ ان سے مراد فرشتے ہیں ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ، حضرت عبداللہ بن عباس ، مسروق ، سعید بن حبیر ، ابو صالح ، ابوالضحیٰ اور سدی ( رضی اللہ عنہم ) کہتے ہیں کہ ڈوب کر کھینچنے والوں اور آہستگی سے نکال لے جانے والے سے مراد وہ فرشتے ہیں جو موت کے وقت انسان کی جان کو اس کے جسم کی گہرائیوں تک اتر کر اور اس کی رگ رگ سے کھینچ کر نکالتے ہیں ۔ تیزی سے تیرتے پھرنے والوں سے مراد بھی حضرت علی ، حضرت ابن مسعود ، مجاہد ، سعید بن حبیر اور ابوصالح ( رضی اللہ عنہم ) نے فرشتے ہی لیے ہیں جو احکام الہی کی تعمیل میں اس طرح تیزی سے رواں دواں رہتے ہیں جیسے کہ وہ فضا میں تیر رہے ہوں ۔ یہی مفہوم سبقت کرنے والوں کا حضرت علی ، مجاہد ، ابوصالح ، اور حسن بصری ( رضی اللہ عنہم ) نے لیا ہے اور سبقت کرنے سے مراد یہ ہے کہ حکم الہی کا اشارہ پاتے ہی ان میں سے ہر ایک اس کی تعمیل کے لیے دوڑ پڑتا ہے ۔ معاملات کا انتظام چلانے والوں سے مراد بھی فرشتے ہیں ، جیسا کہ حضرت علی ، مجاہد ، عطاء ، ابو صالح ، حسن بصری ، قتادہ ، ربیع بن انس ، اور سدی ( رضی اللہ عنہم ) سے منقول ہے ۔ بالفاظ دیگر یہ سلطنت کائنات کے وہ کارکن ہیں جن کے ہاتھوں دنیا کا سارا انتظام اللہ تعالی کے حکم کے مطابق چل رہا ہے ۔ ان آیات کے یہ معنی اگرچہ کسی صحیح حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول نہیں ہوئے ہیں ، لیکن چند اکابر صحابہ نے ، ان تابعین نے جو صحابہ کے شاگرد تھے ، جب ان کا یہ مطلب بیان کیا ہے تو گمان یہی ہوتا ہے کہ یہ علم حضور ہی سے حاصل کیا گیا ہو گا ۔ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وقوع قیامت اور حیات بعد الموت پر ان فرشتوں کی قسم کس بنا پر کھائی گئی ہے جبکہ یہ خود بھی اسی طرح غیر محسوس ہیں جس طرح وہ چیز غیر محسوس ہے جس کے واقع ہونے پر ان کو بطور شہادت اور بطور استدلال پیش کیا گیا ہے ۔ ہمارے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے ، واللہ اعلم ، کہ اہل عرب فرشتوں کی ہستی کے منکر نہ تھے ۔ وہ خود اس بات کو تسلیم کرتے تھے کہ موت کے وقت انسان کی جان فرشتے ہی نکالتے ہیں ۔ ان کا یہ عقیدہ بھی تھا کہ فرشتوں کی حرکت انتہائی تیز ہے ، زمین سے آسمان تک آناً فاناً وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ جاتے ہیں اور ہر کام جس کا انہیں حکم دیا جائے بلا تاخیر انجام دیتے ہیں ۔ وہ یہ بھی مانتے تھے کہ یہ فرشتے حکم الہی کے تابع ہیں اور کائنات کا انتظام اللہ تعالی ہی کے امر سے چلاتے ہیں خود مختار اور اپنی مرضی کے مالک نہیں ہیں ۔ جہالت کی بنا پر وہ ان کو اللہ کی بیٹیاں ضرور کہتے تھے اور ان کو معبود بھی بنائے ہوئے تھے ، لیکن ان کا یہ عقیدہ نہیں تھا کہ اصل اختیارات انہی کے ہاتھ میں ہیں ۔ اس لیے یہاں وقوع قیامت اور حیات بعد الموت پر ان کے مذکورہ بالا اوصاف سے استدلال اس بنا پر کیا گیا ہے کہ جس خدا کے حکم سے فرشتے تمہاری جان نکالتے ہیں اسی کے حکم سے وہ دوبارہ جان ڈال بھی سکتے ہیں ۔ اور جس خدا کے حکم سے وہ کائنات کا انتظام چلا رہے ہیں اسی کے حکم سے جب بھی اس کا حکم ہو ، اس کائنات کو وہ درہم برہم بھی کر سکتے ہیں ، اور ایک دوسری دنیا بنا بھی سکتے ہیں ۔ اس کے حکم کی تعمیل میں ان کی طرف سے ذرہ برابر بھی سستی یا لمحہ بھر کی تاخیر بھی نہیں ہو سکتی ۔
(79:5) فالمدبرات امرا : ف عاطفہ (واؤ قسمیہ مقدرہ ہے) المدبرات مقسم بہا ہے۔ امرا مفعول بہٖ ہے۔ المدبرات تدبیر (تفعیل) مصدر سے اسم فاعل جمع مؤنث ہے کسی کام کی تدبیر کرنے والیاں۔ پھر ان کی قسم جو (تفویض کئے گئے) امور میں تدبیر و تعظیم کرتی پھرتی ہیں۔ بغوی کی روایت میں ہے کہ حضرت ابن عباس کے نزدیک وہ ملائکہ مراد ہیں جن کے سپرد کچھ کام بحکم خدا کئے گئے ہیں اور ان کو انجام دینے کے طریقے اللہ تعالیٰ نے ان کو تعلیم فرما دئیے ہیں۔ فائدہ : آیات 1 5 میں مقسم بہا کا ان کے نام کے بجائے ان کے اوصاف کا ذکر کیا گیا ہے اس میں علماء کے مختلف اقوال ہیں :۔ (1) جمہور کے نزدیک ان سے مراد فرشتے ہیں۔ اس صورت میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نازعات، ناشطات، سابحات، سابقات، مدبرات، سب صیغے مؤنث کے ہیں۔ حالانکہ فرشتے مؤنث نہیں ہیں۔ بلکہ خدائے پاک نے کفار کو فرشتوں کو مؤنث کہنے میں الزام دیا ہے۔ تنبیہ فرمائی ہے جیسا کہ ارشاد ہے :۔ وجعلوا الملئکۃ الذین ھم عباد الرحمن انثا ۔۔ الخ (43:19) اور انہوں نے فرشتوں کو کہ وہ بھی اللہ کے بندے ہیں (خدا کی ) بیٹیاں مقرر کیا ہے ۔۔ اس کے متعلق علامہ حقانی فرماتے ہیں :۔ ” اس کا جواب یہ ہے کہ عرب کی زبان میں جمع اور جماعات کو بصیغہ مؤنث تعبیر کرتے ہیں اور ملائکہ سے اشخاص مراد نہیں بلکہ جماعات مراد ہیں “۔ ان فرشتوں میں سے نازعات سے وہ فرشتے مراد ہیں جو جان نکالتے ہیں۔ اور کھینچ کر، (جان) نکالنے والے وہ ہیں جو کفار کی جان کنی پر مامور ہیں۔ کفار کی روح عالم آخرت کے مصائب سے ڈر کر ان کے بدن میں ادھر ادھر تمام اطراف و جوانب میں چھپتی پھرتی ہے۔ اس لئے وہ ملائکہ بھی ان کے اجسام میں گھس کر ان کی روح کو نکالتے ہیں۔ اسی طرح ناشطات ، سابحات، سابقت، مدبرات سے مراد بھی ملائکہ ہیں جن کو باعتبار ان کی صفات اور حالات کے مختلف صفات سے تعبیر کیا گیا ہے۔ (2) امام حسن بصری (رح) نے ان سے مراد ستارے لئے ہیں۔ (3) بعض کے نزدیک ان پانچوں کلمات سے مراد ارواح ہیں۔ (4) بعض کہتے ہیں کہ ان پانچویں سے مراد غازیوں کے گھوڑے ہیں۔ (5) ابو مسلم اصفہانی کہتے ہیں کہ ان پانچوں کلمات سے مراد غازی ہیں۔ (تفسیر حقانی) فائدہ : یہ پانچ قسمیں کھائی گئی ہیں لیکن جواب قسم محذوف ہے یعنی لتبعثن۔ کہ تمہیں ضرور دو بارہ زندہ کرکے اٹھایا جائے گا۔
ف 1 یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق کائنات کا نظام چلاتے ہیں۔ اس آیت میں ” مدتبرات “ سے فرشتے ہونے پر تمام مفسرین کا اتفاق ہے۔ (شوکانی)
﴿فَالْمُدَبِّرٰتِ۠ اَمْرًاۘ٠٠٥﴾ پھر وہ فرشتے حکم خداوندی کے مطابق تدبیر کرتے ہی یعنی جس روح کے متعلق جو حکم ہوتا ہے اس حکم کے مطابق عمل کرنے کی تدبیروں میں لگتے ہیں۔ ﴿يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُۙ٠٠٦﴾ یہ جواب قسم ہے فرشتوں کی قسمیں کھا کر فرمایا کہ قیامت ضرور آئے گی، اس کا وقوع کس دن ہوگا اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جس دن ہلا دینے والی چیز ہلا دے گی اس دن قیامت کا وقوع ہوگا۔ ہلا دینے والی چیز سے نفخہ اولیٰ یعنی پہلی بار کا صور پھونکنا مراد ہے۔
(5) پھر ان فرشتوں کی جو ہر امر کی تدبیر کرتے ہیں۔ اہل تفسیر کے ان آیتوں کے متعلق بھی کئی قول ہیں ہم نے مشہور اور راجح قول کو اختیار کرلیا ہے چناچہ نازعات سے وہ فرشتے مراد ہیں جو سختی اور زور کے ساتھ کافروں کی جان نکالتے ہیں۔ غرق انزع فی القوس فاغرق سے مشتق ہے یعنی کمان کو اس قدر زور سے کھینچا کہ گویا پیکان کمان کے اندر ڈوب گیا، مراد ہے سختی اور زور سے کھینچنا کافر مرتے وقت گھبراتا ہے اور اس کی روح چھپنے کی کوشش کرتی ہے اس لئے فرشتوں کو سختی سے کام لینا پڑتا ہے۔ دوسری قسم ان فرشتوں کی جو مومن کی جان نرمی اور آسانی سے کھینچتے ہیں۔ نزع اور نشط میں اتنا ہی فرق ہے کہ نزع سختی سے کھینچتا اور نشط نرمی سے کھینچنا اس لئے بعض محققین نے نشط کے معنی بند کھول دینے سے ہی کئے ہیں مومن کی روح اس آسانی سے نکالتے ہیں جیسے بند کھول دیئے اور روح جس سے باہر نکل آئی۔ پھر تیسری قسم فرشتوں کی روح کو لے کر آسمان کی طرف جانے کی ہے کہ وہ سرعت اور نہایت سہولت کے ساتھ لے کر چلتے ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کوئی تیررہا ہے گویا ہوا میں تیرتے ہوئے روح کو لے کر چلتے ہیں پھر ان ارواح کے متعلق جو حکم ہوتا ہے اس کی تعمیل کے لئے تیزی کے ساتھ چلتے اور دوڑتے ہیں پھر ارواح کے متعلق ثواب یاعقاب کا حکم ہوتا ہے اس حکم کی تدبیر کرتے ہیں اور ان کا انتظام کرتے ہیں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فالمدبرات امراً سے وہ فرشتے مراد ہوں جو عالم میں تکوینی امور کی تدبیر کرتے ہوں۔ جیسے جبرئیل ومیکائیل وغیرہ۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ملائکہ کے ساتھ ارواح طیبہ بھی مراد ہوں جو عالم میں مختلف خدمات پر مامور ہیں جیسا کہ حضرت مولانا اسماعیل دہلوی شہید (رح) نے اپنی مشہور کتاب منصب امامت میں فالمدہرات امراً کی تفسیر میں فرمایا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فالسبقات سبقاً سے وہ ملائکہ مراد ہوں جو ہر حکم کی تعمیل میں سبقت اور آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ابتداء کی چار قسمیں اہل ریاضت کی ہوں جو اپنے نفس کو مجاہدے کی سختیوں میں ڈالتے ہیں پھر عبادت الٰہی میں شوق اور لذت پیدا کرتے ہیں۔ پھر عبادت الٰہی میں پیرتے ہیں یعنی بغیر کسی کلفت اور بغیر کسی رنج والم کے عبادت الٰہی بجا لاتے ہیں اور نیکیوں میں اور بھلائیوں میں اپنے معاصرین سے آگے نکل جاتے ہیں اور بڑھ جاتے ہیں ہم عرض کرچکے ہیں کہ اقوال کئی ہیں لیکن ہم نے راجح اور جمہور کا قول اختیار کرلیا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ایک قسم فرشتے کافر کی جان گھسیٹ کر نکالیں اس کی رگوں میں ڈوب کر ایک قسم فرشتے مسلمان کے بدن سے جان کی گرہ کھول دیں وہ اپنی خوشی عالم پاک کو دوڑے جیسے کسی کے بند کھول دیئے لیکن بدن کی تکلیف اور ہوے اس میں دونوں برابر ہیں یہ ذکر ہے روح کا نیک خوشی سے دوڑتا ہے بد ڈر سے بھاگتا ہے پھر گھسیٹا جاتا ہے ایک فرشتے پیرتے پھرتے ہیں ہوا میں ایک سے ایک درجہ زیادہ چاہتے جب کچھ حکم پہنچا دوڑے اس کے بنانے کو یہ قسمیں کھا کر اگلا مدعا جتانا منظور ہوتا ہے اور کبھی ان چیزوں کی خوبی اور ندرت جتانے کو قسم کھاتے ہیں۔ بہرحال یہاں تمام قسموں کا جواب قسم یہ ہے کہ تم ضرور اٹھائے جائو گے یعنی بعث ضرور ہوگا یا قیامت وضررآئے گی آگے اسی کی تفصیل ہے ، چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔