The tafseer of Surat un Naziaat, verse 9, from every tafseer on this site - read one or compare them with each other.
Their vision humiliated. meaning, the eyes of the people. It means that the eyes will be lowly and disgraced from what they will witness of terrors. Allah then says, يَقُولُونَ أَيِنَّا لَمَرْدُودُونَ فِي الْحَافِرَةِ
9۔ 1 دہشت زدہ لوگوں کی نظریں بھی (مجرموں کی طرح) جھکی ہوئی ہوں گی۔
اَبْصَارُہَا خَاشِعَۃٌ ٩ ۘ بصر البَصَر يقال للجارحة الناظرة، نحو قوله تعالی: كَلَمْحِ الْبَصَرِ [ النحل/ 77] ، ووَ إِذْ زاغَتِ الْأَبْصارُ [ الأحزاب/ 10] ( ب ص ر) البصر کے معنی آنکھ کے ہیں جیسے فرمایا ؛کلمح البصر (54 ۔ 50) آنکھ کے جھپکنے کی طرح ۔ وَ إِذْ زاغَتِ الْأَبْصارُ [ الأحزاب/ 10] اور جب آنگھیں پھر گئیں ۔ نیز قوت بینائی کو بصر کہہ لیتے ہیں اور دل کی بینائی پر بصرہ اور بصیرت دونوں لفظ بولے جاتے ہیں قرآن میں ہے :۔ فَكَشَفْنا عَنْكَ غِطاءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيدٌ [ ق/ 22] اب ہم نے تجھ پر سے وہ اٹھا دیا تو آج تیری نگاہ تیز ہے ۔ خشع الخُشُوع : الضّراعة، وأكثر ما يستعمل الخشوع فيما يوجد علی الجوارح . والضّراعة أكثر ما تستعمل فيما يوجد في القلب ولذلک قيل فيما روي : روي : «إذا ضرع القلب خَشِعَتِ الجوارح» قال تعالی: وَيَزِيدُهُمْ خُشُوعاً [ الإسراء/ 109] ، وقال : الَّذِينَ هُمْ فِي صَلاتِهِمْ خاشِعُونَ [ المؤمنون/ 2] ، وَكانُوا لَنا خاشِعِينَ [ الأنبیاء/ 90] ، وَخَشَعَتِ الْأَصْواتُ [ طه/ 108] ، خاشِعَةً أَبْصارُهُمْ [ القلم/ 43] ، أَبْصارُها خاشِعَةٌ [ النازعات/ 9] ، كناية عنها وتنبيها علی تزعزعها کقوله : إِذا رُجَّتِ الْأَرْضُ رَجًّا [ الواقعة/ 4] ، وإِذا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزالَها [ الزلزلة/ 1] ، يَوْمَ تَمُورُ السَّماءُ مَوْراً وَتَسِيرُ الْجِبالُ سَيْراً [ الطور/ 9- 10] . ( خ ش ع ) الخشوع ۔ ( ان ) کے معنی ضواعۃ یعنی عاجزی کرنے اور جھک جانے کے ہیں ۔ مگر زیادہ تر خشوع کا لفظ جوارح اور ضراعت کا لفظ قلب کی عاجزی پر بولا جاتا ہے ۔ اسی لئے ایک روایت میں ہے :۔ (112) اذا ضرعت القلب خشعت الجوارح جب دل میں فروتنی ہو تو اسی کا اثر جوارح پر ظاہر ہوجاتا ہے قرآن میں ہے : وَيَزِيدُهُمْ خُشُوعاً [ الإسراء/ 109] اور اس سے ان کو اور زیادہ عاجزی پید اہوتی ہے ۔ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلاتِهِمْ خاشِعُونَ [ المؤمنون/ 2] جو نماز میں عجز و نیاز کرتے ہیں ۔ وَكانُوا لَنا خاشِعِينَ [ الأنبیاء/ 90] اور ہمارے آگے عاجزی کیا کرتے تھے ۔ وَخَشَعَتِ الْأَصْواتُ [ طه/ 108] آوازیں پست ہوجائیں گے ۔ ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی ۔ أَبْصارُها خاشِعَةٌ [ النازعات/ 9] یہ ان کی نظروں کے مضطرب ہونے سے کنایہ ہے ۔ جیسا کہ زمین وآسمان کے متعلق بطور کنایہ کے فرمایا ۔ إِذا رُجَّتِ الْأَرْضُ رَجًّا [ الواقعة/ 4] جب زمین بھونچال سے لرزنے لگے ۔ وإِذا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزالَها [ الزلزلة/ 1] جب زمین بھونچال سے ہلا دی جائے گی ۔ يَوْمَ تَمُورُ السَّماءُ مَوْراً وَتَسِيرُ الْجِبالُ سَيْراً [ الطور/ 9- 10] جس دن آسمان لرزنے لگے کپکپا کر۔ اور پہاڑ اڑانے لگیں ( اون ہوکر )
آیت ٩{ اَبْصَارُہَا خَاشِعَۃٌ ۔ } ” ان کی نگاہیں جھکی ہوئی ہوں گی۔ “ فرطِ خوف سے آنکھیں زمین میں گڑی ہوئی ہوں گی ‘ اوپر آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی ہمت نہ ہوگی۔
(79:9) ابصارھا خاشعۃ : ابصارھا مبتداء خاشعۃ خبر۔ ابصارھا ای ابصار اصحب القلوب (ان کانپتے دل والوں کی آنکھیں) ھا ضمیر کا مرجع قلوب ہے۔ خاشعۃ : خشوع (باب فتح) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث ہے بمعنی ذلیل ہونے والی۔ خوار ہونے والی۔ نیچی ہونے والی۔ ان دل والوں کی آنکھیں ڈر اور ذلت و خواری سے نیچی ہو رہی ہوں گی۔ فائدہ : آیات 8 و 9 میں مذکور حال کفار و منافقین کا ہوگا۔ اللہ کے نیک بندے اس روز حزن و غم سے محفوظ ہوں گے۔ ان کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے :۔ لایخرنھم الفزع الاکبر وتتلقھم الملئکۃ ھذا یومکم ھذا یومکم الذی کنتم توعدون ۔ (21:103) ان کو (اس دن کا) بڑا بھاری خوف غمگین نہیں کرے گا اور فرشتے ان کو لینے آئیں گے (اور کہیں گے کہ) یہی وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ فائدہ : حضرت ابن عباس (رض) کے قول کے مطابق یوم ترجف الراجفۃ (آیت 6) میں نفخہ اولیٰ مراد ہے اور تتبعھا الرادفۃ (آیت 7) میں الردفۃ سے مراد نفخہ ثانیہ ہے۔ اور آیات 8 9 میں مذکور مضامین نفخہ ثانیہ سے متعلق ہیں۔
(9) ان دل دھڑکنے والوں کی ندامت و شرمندگی سے آنکھیں پست اور جھکی ہوئی ہوں گی۔