Surat Abas
Surah: 80
Verse: 10
سورة عبس
فَاَنۡتَ عَنۡہُ تَلَہّٰی ﴿ۚ۱۰﴾
From him you are distracted.
تو اس سے تو بے رخی برتتا ہے ۔
فَاَنۡتَ عَنۡہُ تَلَہّٰی ﴿ۚ۱۰﴾
From him you are distracted.
تو اس سے تو بے رخی برتتا ہے ۔
Of him you are neglectful and divert your attention to another. meaning, `you are too busy.' Here Allah commands His Messenger to not single anyone out with the warning. Rather, he should equal warn the noble and the weak, the poor and the rich, the master and the slave, the men and the women, the young and the old. Then Allah will guide whomever He chooses to a path that is straight. He has the profound wisdom and the decisive proof. Abu Ya`la and Ibn Jarir both recorded from Aishah that she said about, عَبَسَ وَتَوَلَّى (He frowned and turned away), "was revealed." At-Tirmidhi recorded this Hadith but he did not mention that it was narrated by Aishah. I say it is reported like this in Al-Muwatta' as well. The Characteristics of the Qur'an Allah says, كَلَّ إِنَّهَا تَذْكِرَةٌ
10۔ 1 یعنی ایسے لوگوں کی قدر افزائی کی ضرورت ہے نہ کہ ان سے بےرخی برتنے کی۔ ان آیات سے یہ معلوم ہوا کہ دعوت و تبلیغ میں کسی کو خاص نہیں کرنا چاہیے بلکہ صاحب حیثیت اور بےحیثیت، امیر اور غریب، آقا اور غلام مرد اور عورت، چھوٹے اور بڑے سب کو یکساں حیثیت دی جائے اور سب کو مشترکہ خطاب کیا جائے۔
فَاَنْتَ عَنْہُ تَلَہّٰى ١٠ ۚ كَلَّآ اِنَّہَا تَذْكِرَۃٌ ١١ ۚ تلهّى: فيه إعلال بالقلب شأنه شأن استغنی، وفيه حذف إحدی التاء ین تخفیفا . كلا كَلَّا : ردع وزجر وإبطال لقول القائل، وذلک نقیض «إي» في الإثبات . قال تعالی: أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77- 79] وقال تعالی: لَعَلِّي أَعْمَلُ صالِحاً فِيما تَرَكْتُ كَلَّا [ المؤمنون/ 100] إلى غير ذلک من الآیات، وقال : كَلَّا لَمَّا يَقْضِ ما أَمَرَهُ [ عبس/ 23] . کلا یہ حرف روع اور زجر ہے اور ماقبل کلام کی نفی کے لئے آتا ہے اور یہ ای حرف ایجاب کی ضد ہے ۔ جیسا کہ قرآن میں ہے ۔ أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77- 79] بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں سے کفر کیا ۔ اور کہنے لگا اگر میں ازسر نو زندہ ہوا بھی تو یہی مال اور اولاد مجھے وہاں ملے گا کیا اس نے غیب کی خبر پالی ہے یا خدا کے یہاں ( سے ) عہد لے لیا ہے ہر گز نہیں ۔ لَعَلِّي أَعْمَلُ صالِحاً فِيما تَرَكْتُ كَلَّا [ المؤمنون/ 100] تاکہ میں اس میں جسے چھوڑ آیا ہوں نیک کام کروں ہرگز نہیں ۔ كَلَّا لَمَّا يَقْضِ ما أَمَرَهُ [ عبس/ 23] کچھ شک نہیں کہ خدا نے سے جو حکم دیا ۔ اس نے ابھی تک اس پر عمل نہیں کیا ۔ اور اس نوع کی اور بھی بہت آیات ہیں ۔ تَّذْكِرَةُ : ما يتذكّر به الشیء، وهو أعمّ من الدّلالة والأمارة، قال تعالی: فَما لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِينَ [ المدثر/ 49] ، كَلَّا إِنَّها تَذْكِرَةٌ [ عبس/ 11] ، أي : القرآن . وذَكَّرْتُهُ التذکرۃ جس کے ذریعہ کسی چیز کو یاد لایا جائے اور یہ دلالت اور امارت سے اعم ہے ۔ قرآن میں ہے ؛ فَما لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِينَ [ المدثر/ 49] ان کو کیا ہوا کہ نصیحت سے روگرداں ہورہے ہیں ۔ كَلَّا إِنَّها تَذْكِرَةٌ [ عبس/ 11] دیکھو یہ ( قرآن ) نصیحت ہے ۔ مراد قرآن پاک ہے ۔ ذَكَّرْتُهُ كذا
2 This is the real point which the Holy Prophet (upon whom be peace) had overlooked in the preaching of Islam on that occasion, and for teaching him the same Allah first reproved him on his treatment of Ibn Umm Maktum, and then ' told him what really deserved to occupy his attention as preacher of the Truth and what did not. There is a man whose apparent state clearly shows that he is a seeker after truth: he fears lest he should follow falsehood and invite Allah's wrath; therefore, he comes all the way in search of the knowledge of the true faith. There is another man, whose attitude clearly reflects that he has no desire for the truth; rather on the contrary, he regards himself as self-sufficient, having no desire to be guided to the right way. Between these two kinds of men one should not see whose becoming a Muslim would be of greater use for Islam and whose becoming a believer could not be of any use in its propagation. But one should see as to who was inclined to accept the guidance and reform himself, and who was least interested in this precious bargain. The first kind of man, whether he is blind, lame, crippled. or an indigent mendicant, who might apparently seem incapable of rendering any useful service in the propagation of Islam, is in any case a .valuable man for the preacher to the Truth. To him therefore he should attend, for the real object of this invitation is to reform the people, and the apparent state of the person shows that if he was instructed he would accept guidance. As for the other kind of man, the preacher has no need to pursue him, no matter how influential he is in society. For his attitude and conduct openly proclaim that he has no desire for reform; therefore, any effort made to reform him would be mere waste of time. If he has no desire to reform himself, he may nor the loss would be his, the preacher would not at all be accountable for it.
سورة عَبَس حاشیہ نمبر :2 یہی ہے وہ اصل نکتہ جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبلیغ دین کے معاملہ میں اس موقع پر نظر انداز کر دیا تھا ، اور اسی کو سمجھانے کے لیے اللہ تعالی نے پہلے ابن ام مکتوم کے ساتھ آپ کے طرز عمل پر گرفت فرمائی ، پھر آپ کو بتایا کہ داعی حق کی نگاہ میں حقیقی اہمیت کس چیز کی ہونی چاہیے اور کس کی نہ ہونی چاہیے ۔ ایک وہ شخص ہے جس کی ظاہری حالت صاف بتا رہی ہے کہ وہ طالب حق ہے ، اس بات سے ڈر رہا ہے کہ کہیں وہ باطل کی پیروی کر کے خدا کے غضب میں مبتلا نہ ہو جائے ، اس لیے وہ راہ راست کا علم حاصل کرنے کی خاطر خود چل کر آتا ہے ۔ دوسرا وہ شخص ہے جس کا رویہ صریحا یہ ظاہر کر رہا ہے کہ اس میں حق کی کوئی طلب نہیں پائی جاتی ، بلکہ وہ اپنے آپ کو اس سے بے نیاز سمجھتا ہے کہ اسے راہ راست بتائی جائے ۔ ان دونوں قسم کے آدمیوں کے درمیان دیکھنے کی چیز یہ نہیں ہے کہ کون ایمان لے آئے تو دین کے لیے بہت مفید ہو سکتا ہے اور کس کا ایمان لانا دین کے فروغ میں کچھ زیادہ مفید نہیں ہو سکتا ۔ بلکہ دیکھنا یہ چاہیے کہ کون ہدایت کو قبول کر کے سدھرنے کے لیے تیار ہے اور کون اس متاع گراں مایہ کا سرے سے قدر دان ہی نہیں ہے ۔ پہلی قسم کا آدمی ، خواہ اندھا ہو ، لنگڑا ہو ، لولا ہو ، فقیر بے نوا ہو ، بظاہر دین کی طرف اسے توجہ کرنی چاہیے ، کیونکہ اس دعوت کا اصل مقصد بندگان خدا کی اصلاح ہے ، اور اس شخص کا حال یہ بتا رہا ہے کہ اسے نصیحت کی جائے گی تو وہ اصلاح قبول کر لے گا ۔ رہا دوسری قسم کا آدمی ، تو خواہ وہ معاشرے میں کتنا ہی با اثر ہو ، اس کے پیچھے پڑنے کی داعی حق کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ کیونکہ اس کی روش علانیہ یہ بتا رہی ہے کہ وہ سدھرنا نہیں چاہتا ، اس لیے اس کی اصلاح کی کوشش میں وقت صرف کرنا وقت کا ضیاع ہے وہ اگر نہ سدھرنا چاہے تو نہ سدھرے ، نقصان اس کا اپنا ہو گا ، داعی حق پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں ۔
(8:10) فانت عنہ تلہی۔ جملہ شرطیہ ہے اور اما من جاءک یسعی کا جواب ہے۔ آپ اس سے لاپرواہی برتتے ہیں۔ تلہی مضارع کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ تلہی (تفعل) مصدر سے جس کے معنی کھیلنے اور کسی چیز میں وقت گزارنے اور مشغول ہونے کے ہیں۔ اور جب اس کے صلہ میں عن آتا ہے تو اس کے معنی تغافل کرنے کے ہوتے ہیں۔ تلہی اصل میں تتلہی تھا۔ ایک تاء گرگئی۔ ترجمہ ہوگا :۔ سو آپ اس سے لاپروائی کرتے ہیں۔
فانت ................ تلھی (10:80) ” آپ اس سے بےرخی برتتے ہیں “۔ یہ نہایت ہی شدید عتاب ہے تلہی کے معنی کسی شخص کو چھوڑ کر دوسری طرف مشغول ہونا۔ اب اس عتاب کا لہجہ ذرا اور سخت ہوجاتا ہے اور جھڑکی اور سختی سے تردید کے مقام تک قہنچ جاتا ہے۔ کلا ہرگز نہیں ، یہ ممکن نہیں ، یہ ایک ایسا انداز خطاب ہے جس پر غور کرنا چاہئے ، ایسا ہرگز نہ ہوگا۔ اس کے بعد دعوت اسلامی کی حقیقت ، اس کی عظمت اور اس کی بلندی کو بیان کیا جاتا ہے کہ یہ ایک ایسی دعوت ہے جو کسی کی محتاج نہیں ہے۔ اس کو کسی کی سند اور سہارے کی ضرورت نہیں ہے اور اس دعوت کی نظر میں وہی شخص قابل لحاظ ہے جو دعوت اسلامی کو صرف دعوت کی خاطر قبول کرتا ہے ، دنیا میں اس کے حالات اور اس کی حیثیت جو بھی ہو۔
(10) تو آپ اس سے بےاعتنائی اور تغافل کرتے ہیں عبداللہ بن ام مکتوم کی طرف اشارہ ہے کہ آپ کے پاس باوجود نابینا ہونے کے دوڑتا اور سعی کرکے آتا ہے اور وہ ڈرتا بھی ہے تو آپ اس سے بےاعتنائی کرتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں وہ ڈرتا ہے اللہ سے یا ڈر لگا ہے کہ تیری ملاقات پاوے یا نہ پاوے۔ مطلب یہ ہے کہ جو شخص مسلمان بھی ہے ڈرتا بھی ہے وہ ان لوگوں سے زیادہ توجہ کا مستحق ہے جو متکبر ہیں اور دین کے بارے میں مغرور اور بےپروا ہیں۔ جبرئیل (علیہ السلام) جب یہ آیتیں تلاوت فرما رہے تھے تو آپ پر خوف کے آثار نمایاں ہورہے تھے جب آگے کی آیت پڑھی کلا انھا تذکرۃ تب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرہ مبارک پر اطمینان کے آثار نمایاں ہوئے اس کے بعد ابن ام مکتوم سے جب کبھی ملاقات ہوتی تو آپ فرمایا کرتے۔ مرحبا بمن عاتبنی فیہ ربی۔ کئی دفعہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سفر میں جاتے وقت ان کو مسجد نبوی میں امام بھی مقرر کیا ہے، یہ جنگ قادسیہ میں جہاد کی غرض سے شریک ہوئے ہیں اور جنگ قادسیہ ہی میں ان کی شہادت ہوئی ہے بہرحال نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قریش کے ان لوگں کی جانب متوجہ ہوئے جن کے ایمان لانے سے آگے بڑی توقعات وابستہ تھیں لیکن اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ لوگ بےپروا ہیں ان کا مقصد ایمان لانا نہیں ہے ان کے لئے عبداللہ بن ام مکتوم (رض) جیسے مخلص کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔