Surat Abas
Surah: 80
Verse: 21
سورة عبس
ثُمَّ اَمَاتَہٗ فَاَقۡبَرَہٗ ﴿ۙ۲۱﴾
Then He causes his death and provides a grave for him.
پھر اسے موت دی اور پھر قبر میں دفن کیا ۔
ثُمَّ اَمَاتَہٗ فَاَقۡبَرَہٗ ﴿ۙ۲۱﴾
Then He causes his death and provides a grave for him.
پھر اسے موت دی اور پھر قبر میں دفن کیا ۔
Then He causes him to die and puts him in his grave. After creating man, Allah causes him to die and makes him the inhabitant of a grave. Allah said; ثُمَّ إِذَا شَاء أَنشَرَهُ
[١٤] انسان کو موت دینا اور قبر مہیا کرنا بھی اللہ کا احسان ہے :۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا انسان کو موت دینا بھی اس کا احسان ہے اور اسے قبر مہیا کرنا بھی۔ موت کے احسان ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب ایک بیمار بستر مرگ پر پڑا ایڑیاں رگڑ رہا ہوتا ہے۔ تکلیف سے سخت بےتاب ہوتا ہے مگر اسے موت نہیں آتی۔ گھر والے اس کی مرض کی طوالت کی وجہ سے الگ پریشان ہوتے ہیں۔ بیماری پر بےبہا مصارف اٹھتے ہیں اور وہ کوئی دوسرا کام کرنے کے قابل بھی نہیں رہتے۔ اس وقت دل سے بھی دعا مانگتے ہیں کہ مرنے والے کو موت آجائے تاکہ اسے بھی تکلیف سے نجات حاصل ہو اور اس کے گھر والے بھی پریشانیوں سے نجات پاجائیں۔ نیز اگر انسان کو موت نہ آتی تو یہ زمین بنی نوع انسان کے لیے تنگ ہوجاتی۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا انسان کو قبر مہیا کرنا یا روئے زمین سے اس کے وجود کو غائب کردینا بھی اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ ورنہ جہاں یہ بات میت کے لواحقین کے لیے ناقابل فراموش صدمہ ہوتا وہ مرنے کے بعد میت کے جسم میں ہونے والے تغیرات کو دیکھنا برداشت نہ کرسکتے۔ زندوں کے سامنے لاش کی بےحرمتی ان کے لیے مزید صدمہ جانکاہ بن جاتا۔ واضح رہے قبر سے مراد صرف زمینی گڑھا ہی نہیں بلکہ سمندر کی گہرائی، آگ کا الاؤ، درندوں کا پیٹ سب قبر کے حکم میں داخل ہیں۔
(ثم اماتہ فاقبرہ : پھر اسے موت دی جو آخرت کی مصلحت کے تحت ضروری تھی، پھر اسے قبر میں رکھوایا، اگر وہ یہ احسان نہ کرتا تو یہ جانوروں کیطرح زمین پر پڑا رہتا، متعفن ہو کر اللہ کی مخلوق کے لئے باعث آزار بنتا ۔ اس کی بےحرمتی ہوتی، بےپردہ ہوتا اور اسے درندے نوچتے۔ ” قبرہ “ قبر میں رکھا اور ” اقبرہ “ قبر میں رکھوایا۔ کوئی جل جائے، غرق ہوجائے یا اسے درندے کھا جائیں تو اس کے اجزا جہاں بھی ہیں وہ اس کے لئے قبر ہے۔ اگر کسی کو دفن نہ کیا جاسکے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسے قبر نہیں ملی۔
ثُمَّ أَمَاتَهُ فَأَقْبَرَهُ (Later, he made him die, and put him into the grave..80:21) After mentioning the inception of human life, Allah points to its end, that is, death and grave. Death has been mentioned here in the context of blessings of Allah. It indicates that death is a blessing rather than a calamity. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) is reported to have put it thus: تحفَۃ المؤمِن الموت |"The gift of a believer is death.|" Moreover, there is a profound wisdom in death at macro level for the entire world. The phrase فَأَقْبَرَهُ fa-aqbarah (and put him into the grave) describes another blessing of Allah, in that when man is dead, he is not left lying on the earth like other animals where he might rot, blow up and burst [ and probably be ravaged by vultures or beasts ]. But, even after death, he is honoured in the most befitting manner. His body is washed ceremonially, enshrouded in clean cloths, and buried in a grave with respect. This verse also indicates that it is obligatory to bury a dead human body.
ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقْبَرَهٗ ، تخلیق انسانی کی ابتدا بیان کرنے کے بعد اس کی انتہا موت اور قبر پر ہے اس کا ذکر بسلسلہ انعامات فرمایا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ انسان کی موت درحقیقت کوئی مصیبت نہیں نعمت ہی ہے۔ حدیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تحفتہ المومن الموت کو مومن کا تحفہ موت ہے اور اس میں مجموعہ عالم کے اعتبار سے بڑی حکمتیں ہیں اور فاقبرہ کے معنی پھر اس کو قبر میں داخل کیا یہ بھی ایک انعام ہے کہ انسان کو حق تعالیٰ نے عام جانوروں کی طرح نہیں رکھا کہ مر گیا تو وہیں زمین پر سڑتا اور پھولتا پھٹتا ہے، بلکہ اس کا اکرام یہ کیا گیا کہ اس کہ نہلا کر نئے اور پاک صاف کپڑوں میں ملبوس کرکے احترام کے ساتھ قبر میں دفن کردیا جاتا ہے۔ مسئلہ۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ مردہ انسان کو دفن کرنا واجب ہے۔
14 That is, not only in the matter of birth and destiny but in the matter of death also he is absolutely helpless before his Creator. Neither he can take birth by his choice nor die by his choice, nor can defer his death even by a moment. He dies precisely at the appointed time, in the appointed place, under the appointed circumstances that have been decreed for his death, and he is deposited in the type of grave destined for him whether it is the belly of the earth, the depths of the sea, a bonfire. or the stomach of a beast. Nothing to say of the man, even the whole world together cannot change the Creator's decree in respect of any person.
سورة عَبَس حاشیہ نمبر :14 یعنی اپنی پیدائش اور اپنی تقدیر کے معاملہ ہی میں نہیں بلکہ اپنی موت کے معاملہ میں بھی یہ اپنے خالق کے آگے بالکل بے بس ہے ، نہ اپنے اختیار سے پیدا ہو سکتا ہے ، نہ اپنے اختیار سے مر سکتا ہے ، اور نہ اپنی موت کو ایک لمحہ کے لیے بھی ٹال سکتا ہے ۔ جس وقت ، جہاں ، جس حال میں بھی اس کی موت کا فیصلہ کر دیا گیا ہے اسی وقت ، اسی جگہ اور اسی حال میں یہ مر کر رہتا ہے ، اور جس نوعیت کی قبر بھی اس کے لیے طے کر دی گئی ہے اسی نوعیت کی قبر میں ودیعت ہو جاتا ہے ، خواہ وہ زمین کا پیٹ ہو ، یا سمندر کی گہرائیاں ، یا آگ کا الاؤ ، یا کسی درندے کا معدہ انسان خود تو درکنار ، ساری دنیا مل کر بھی اگر چاہے تو کسی شخص کے معاملہ میں خالق کے اس فیصلے کو بدل نہیں سکتی ۔
(80:21) ثم امانۃ فاقبرہ : ثم حرف عطف ہے پھر۔ اماتہ ، امات ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ اماتہ (افعال) مصدر۔ بمعنی موت دینا۔ مار ڈالنا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب الانسان کے لئے ہے۔ ترجمہ :۔ پھر اس (خدا) نے اسے (انسان کو) موت دی۔ فاقبر : ف تعقیب کا۔ اقبر : ماضی واحد مذکر غائب اقبار (افعال) بمعنی قبر میں رکھوانا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب پھر اس کو قبر میں رکھوایا۔ یعنی امر ان یقبر حکم دیا کہ اس کو قبر میں دفن کیا جائے۔
ف 8 تاکہ ایسا نہ ہو کہ زمین پر پڑے رہنے سے درندے اور پرندے اس کا گوشت نوچیں اور زندوں کے سامنے اس کی بےحرمتی ہو۔ معلوم ہوا کہ میت کو دفن کرنا مشروع ہے اور اس میں کسی کو اختلاف نہیں ہے یہاں تک ابتداء سے لے کر انتہا تک انسان کے تمام احولا بالاجمال بیان کردیئے ہیں اب اس کے بعد جزائے اعمال کا ذکر ہے۔
ثم ................ فاقبرہ (21:80) ” پھرا سے موت دی اور قبر میں پہنچایا “۔ لہٰذا جس طرح اس کا آنا اللہ کے امر سے ہے ، اس کا یہ انجام بھی اللہ کے امر سے ہے۔ اللہ نے جب چاہا اسے زندگی میں لے آیا اور جب چاہا زندگی کا سلسلہ ختم کردیا۔ اور قبر کے پیٹ میں رکھوادیا۔ یہ قبر بھی اس کے لئے اس کی شرافت کی خاطر اور اس پر مہربانی کرتے ہوئے مقرر کی۔ یوں نہ چھوڑا کہ جہاں مرجائے ، وہیں چھوڑ دیا جائے اور جانور اسے نوچتے رہیں۔ انسان کی فطرت میں یہ بات رکھ دی کہ مردہ انسانوں کی لاش کو قبر میں چھپایا جائے۔ یہ بھی اللہ کی تدبیر اور تقدیر اور احکام کا ایک حصہ ہے کہ مردوں کو دفن کیا جائے۔ اور جب اللہ کی مشیت کے مطابق باز پرس کا وقت آپہنچے گا تو اسے دوبارہ زمین سے اٹھا دیا جائے گا اور یہ بھی اللہ کے حکم سے ہوگا۔
﴿ ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقْبَرَهٗۙ٠٠٢١﴾ (پھر اسے موت دی پھر اسے قبر میں چھپا دیا) مرنا اور جینا انسان کے اپنے اختیار میں نہیں ہے اور موت کے بعد تو بالکل ہی بےبس ہوجاتا ہے، جسے اللہ تعالیٰ کے دوسرے بندے بحکم الٰہی تشر یعا وتکوینا قبر میں پہنچا دیتے ہیں، چونکہ عموماً بنی آدم مردوں کو دفن ہی کرتے ہیں اس لیے لفظ اقبرہ فرمایا انسان کے دفن کیے جانے میں اس کا اکرام ہے اگر میدان میں پڑا رہے اور جانور کھاتے رہیں اور ادھر ادھر ہڈیاں پڑی رہیں اس کی بجائے اس کی نعش کو زمین کے حوالے کردیا جاتا ہے وہ اسے سنبھال لیتی ہے۔ یہ ظاہری اکرام ہے اس کے بعد قبر میں کیا ہوتا ہے اس کا تعلق مرنے والے کے ایمان اور کفر اور اچھے برے اعمال سے ہے۔ بعض قومیں اپنے مردوں کو جلا دیتی ہیں اور بعض گدھوں کو کھلا دیتی ہیں لیکن جو لوگ دین سماوی کے مدعی ہیں وہ اپنے مردوں کو دفن ہی کرتے ہیں، جو لوگ دفن نہیں کرتے وہ بالآخر راکھ بن کر یا جانور کی غذا بن کر زمین ہی کے حوالے ہوجاتے ہیں کیونکہ جانور بھی مر کر مٹی ہی میں جاتے ہیں۔ اسی کو سورة ٴ مرسلات میں فرمایا ﴿اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ كِفَاتًاۙ٠٠٢٥ اَحْيَآءً وَّ اَمْوَاتًاۙ٠٠٢٦﴾ (کیا ہم نے زمین کو زندوں اور مردوں کو سمیٹنے والا نہیں بنایا) ۔