Surat Abas
Surah: 80
Verse: 23
سورة عبس
کَلَّا لَمَّا یَقۡضِ مَاۤ اَمَرَہٗ ﴿ؕ۲۳﴾
No! Man has not yet accomplished what He commanded him.
ہرگز نہیں اس نے اب تک اللہ کے حکم کی بجا آوری نہیں کی ۔
کَلَّا لَمَّا یَقۡضِ مَاۤ اَمَرَہٗ ﴿ؕ۲۳﴾
No! Man has not yet accomplished what He commanded him.
ہرگز نہیں اس نے اب تک اللہ کے حکم کی بجا آوری نہیں کی ۔
Nay, but has not done what He commanded him. Ibn Jarir said, "Allah is saying, `Nay, the matter is not as this disbelieving man says. He claims that he has fulfilled Allah's right upon him regarding himself and his wealth. لَمَّا يَقْضِ مَأ أَمَرَهُ But he has not done what He commanded him. Allah is saying that man has not fulfilled for his Lord the obligations that were imposed upon him." What seems apparent to me of its actual meaning -- and Allah knows best -- is that the Ayah ثُمَّ إِذَا شَأءَ أَنشَرَهُ Then when it is His will, He will resurrect him. means, He will resurrect him. كَلَّ لَمَّا يَقْضِ مَأ أَمَرَهُ Nay! But he has not done what He commanded him. means, He has not done it (resurrected them) as of yet, until the time period has expired and the extent of the earthly life of humanity is complete, according to the lives of all whom Allah has written it to exist from the time they are brought into existence into the world. Verily, Allah has decreed the existence of mankind, and its duration, therefore, when that is finished with Allah, He resurrects the creatures and repeats their creation just as He initially created them. The Growth of the Seed and Other Things is a Proof of Life after Death Then Allah says; فَلْيَنظُرِ الاِْنسَانُ إِلَى طَعَامِهِ
23۔ 1 یعنی معاملہ اس طرح نہیں ہے، جس طرح یہ کافر کہتا ہے۔
[١٦] اسے حکم تو یہ دیا گیا تھا کہ وہ اللہ کا فرمانبردار بن کر رہے۔ یہ حکم اس کی فطرت میں بھی ودیعت کیا گیا تھا پھر اسے پیغمبروں اور کتابوں کے ذریعہ بھی اللہ تعالیٰ نے ایسا حکم دیا تھا۔ اگر وہ اپنے مندرجہ بالا حالات پر غور کرتا تو اس کے لیے اللہ کا فرمانبردار بن کر رہنے کے سوا کوئی چارہ کار نہ تھا۔ مگر اس نے ان تقاضوں کو مطلقاً پورا نہیں کیا۔ بعض مفسرین نے اس آیت کو ایک الگ مستقل آیت سمجھنے کے بجائے سابقہ آیت سے مربوط کیا ہے۔ اور اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ اللہ جب چاہے گا زندہ کرکے اٹھائے گا لیکن ابھی ایسا نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ابھی تک اس دنیا کی آبادی اور کائنات کی تکمیل سے متعلق اس کا جو طے شدہ حکم ہے وہ ابھی تک اس نے پورا نہیں کیا۔
کلا لما یقض ما امرہ :” کلا “ ہرگز نہیں۔ ابن جریر (رح) نے فرمایا کہ یہ کافر انسان جو سمجھتا ہے کہ اس کے مال و جان پر اللہ کا جو حق تھا وہ اس نے ادا کردیا ہے، یہ ہرگز درست نہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ کسی انسان نے بھی ابھی تک وہ فرئاض ہی پورے ادا نہیں کئے جن کا اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا تھا، حق کا ادا کرنا تو بہت دور ہے۔ ” لم یقض “ پورا نہیں کای۔” لما یقض “ ابھی تک پورا نہیں کیا۔ مجاہد (رح) نے فرمایا :” لا یقضی احد ماامربہ “ (بخاری، التفسیر، باب سورة عبس، بعد ج : ٣٩٣٦)” کوئی بھی شخص وہ کام پورا نہیں کرتا جس کا اسے حکم دیا گیا ہے (کمی رہ ہی جاتی ہے۔ ) “
كَلَّا لَمَّا يَقْضِ مَا أَمَرَهُ (No! He has not yet fulfilled what He [ Allah ] had commanded him...80:23). Having mentioned in the preceding verses the beginning and the end of human life, Divine Omnipotence and Divine blessings, the current verses warn the non-believing man that the demand of Divine Signs and blessings was to carefully ponder and believe in Allah, and comply with His injunctions, but the unfortunate creature failed to do so. Further, the Divine favours are mentioned that were conferred on man between the beginning and end of his life. Man is then asked to consider the sources of his food. Allah showers down water abundantly from the clouds. He cleaves the earth with new growth. Thereupon He causes grain to grow out of it. At first, a fragile shoot germinates and sprouts. Then many different kinds of grain, fruits and gardens come into existence. Having warned man several times about these Divine blessings, the Surah concludes with the mention of Resurrection, thus:
كَلَّا لَمَّا يَقْضِ مَآ اَمَرَهٗ ، اس میں تخلیق انسانی کی ابتدا و انتہا اور ان میں حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور انعامات کا ذکر کرنے کے بعد منکر انسان کو تنبیہ کی گئی کہ ان آیات الیہہ اور انعامات کا تقاضا تھا کہ انسان ان میں غور کرکے اللہ پر ایمان لاتا اور اسکے احکام کی تعمیل کرتا مگر اس بدنصیب نے ایسا نہیں کیا، آگے پھر ان انعامات الیہہہ کا تذکر ہے جو تخلیق انسانی کی ابتداء و انتہا کے درمیانی زمانے میں انسانی پر مبذول ہوتے ہیں کہ انسان کا رزق کس طرح پیدا کیا جاتا ہے کہ آسمان سے پانی برستا ہے، بیج اور دانہ جو زمین میں مدفون ہے یہ بارش اس میں ایک حیات نباتی پیدا کرتی ہے جس کے ذریعہ ایک نحیف وصیعف کونپل زمین کو شق کرکے اوپر نکلتی ہے اور پھر اس سے انواع و اقسام کے غلے میوے اور باغات وجود میں آتے ہیں۔ ان سب انعامات الہیہ پر انسان کو مکرر سکرر تنبیہ کے بعد آخر سورت میں پھر قیامت کا ذکر ہے۔
كَلَّا لَمَّا يَقْضِ مَآ اَمَرَہٗ ٢٣ ۭ كلا كَلَّا : ردع وزجر وإبطال لقول القائل، وذلک نقیض «إي» في الإثبات . قال تعالی: أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77- 79] وقال تعالی: لَعَلِّي أَعْمَلُ صالِحاً فِيما تَرَكْتُ كَلَّا [ المؤمنون/ 100] إلى غير ذلک من الآیات، وقال : كَلَّا لَمَّا يَقْضِ ما أَمَرَهُ [ عبس/ 23] . کلا یہ حرف روع اور زجر ہے اور ماقبل کلام کی نفی کے لئے آتا ہے اور یہ ای حرف ایجاب کی ضد ہے ۔ جیسا کہ قرآن میں ہے ۔ أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77- 79] بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں سے کفر کیا ۔ اور کہنے لگا اگر میں ازسر نو زندہ ہوا بھی تو یہی مال اور اولاد مجھے وہاں ملے گا کیا اس نے غیب کی خبر پالی ہے یا خدا کے یہاں ( سے ) عہد لے لیا ہے ہر گز نہیں ۔ لَعَلِّي أَعْمَلُ صالِحاً فِيما تَرَكْتُ كَلَّا [ المؤمنون/ 100] تاکہ میں اس میں جسے چھوڑ آیا ہوں نیک کام کروں ہرگز نہیں ۔ كَلَّا لَمَّا يَقْضِ ما أَمَرَهُ [ عبس/ 23] کچھ شک نہیں کہ خدا نے سے جو حکم دیا ۔ اس نے ابھی تک اس پر عمل نہیں کیا ۔ اور اس نوع کی اور بھی بہت آیات ہیں ۔ لَمَّا يستعمل علی وجهين : أحدهما : لنفي الماضي وتقریب الفعل . نحو : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] . والثاني : عَلَماً للظّرف نحو : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] أي : في وقت مجيئه، وأمثلتها تکثر . ( لما ( حرف ) یہ دوطرح پر استعمال ہوتا ہے زمانہ ماضی میں کسی فعل کی نفی اور اس کے قریب الوقوع ہونے کے لئے جیسے فرمایا : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو اچھی طرح معلوم کیا ہی نہیں ۔ اور کبھی یہ اسم ظرف ک طورپر استعمال ہوتا ہے ۔ اور یہ قرآن میں بکژت آیا ہے ۔ جیسے فرمایا : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] جب خوشخبری دینے والا آپہنچا۔ قضی الْقَضَاءُ : فصل الأمر قولا کان ذلک أو فعلا، وكلّ واحد منهما علی وجهين : إلهيّ ، وبشريّ. فمن القول الإلهيّ قوله تعالی: وَقَضى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] أي : أمر بذلک، ( ق ض ی ) القضاء کے معنی قولا یا عملا کیس کام کا فیصلہ کردینے کے ہیں اور قضاء قولی وعملی میں سے ہر ایک کی دو قسمیں ہیں قضا الہیٰ اور قضاء بشری چناچہ قضاء الہیٰ کے متعلق فرمایا : ۔ وَقَضى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] اور تمہارے پروردگار نے ارشاد فرمایا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ۔ أمر الأَمْرُ : الشأن، وجمعه أُمُور، ومصدر أمرته : إذا کلّفته أن يفعل شيئا، وهو لفظ عام للأفعال والأقوال کلها، وعلی ذلک قوله تعالی: إِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ [هود/ 123] ( ا م ر ) الامر ( اسم ) کے معنی شان یعنی حالت کے ہیں ۔ اس کی جمع امور ہے اور امرتہ ( ن ) کا مصدر بھی امر آتا ہے جس کے معنی حکم دینا کے ہیں امر کا لفظ جملہ اقوال وافعال کے لئے عام ہے ۔ چناچہ آیات :۔ { وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ } ( سورة هود 123) اور تمام امور کا رجوع اسی طرف ہے
(٢٣۔ ٢٤) اللہ تعالیٰ نے جو اسے توحید کا حکم دیا تھا ہرگز اس نے اس کی بجا آوری نہیں کی سو اس کافر کو اپنے کھانے ہی میں ذرا غور کرنا چاہیے کہ کیسے ایک حالت سے وہ دوسری حالت اختیار کرتا ہے پھر اس کے بعد اسے کھاتا ہے۔
16 "Duty" implies the duty that Allah has enjoined on every man in the form of natural guidance as well as the duty to which man's own existence and every particle of the universe, from the earth to the heavens, and every manifestation of Divine power are pointing, and that duty also which Allah has conveyed in every age through His Prophets and Books and disseminated through the righteous people of every period. (For explanation, see E.N. 5 of Surah Ad- Dahr) . In the present context the object is to express the meaning that on the basis of the truths stated in the above verses, it was man's duty to have obeyed his Creator, but, contrary to this, he adopted the way of disobedience and did not fulfil the demand of his being His creature.
سورة عَبَس حاشیہ نمبر :16 حکم سے مراد وہ حکم بھی ہے جو اللہ تعالی نے فطری ہدایت کی صورت میں ہر انسان کے اندر ودیعت کر دیا ہے ۔ وہ حکم بھی جس کی طرف انسان کا اپنا وجود اور زمین سے لے کر آسمان تک کائنات کا ہر ذرہ اور قدرت الہی کا ہر مظہر اشارہ کر رہا ہے اور وہ حکم بھی جو ہر زمانے میں اللہ تعالی نے اپنے انبیاء اور اپنی کتابوں کے ذریعہ سے بھیجا اور ہر دور کے صالحین کے ذریعہ سے پھیلایا ہے ( تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد ششم ، تفسیر سورہ دہر ، حاشیہ 5 ) ۔ اس سلسلہ بیان میں یہ بات اس معنی میں ارشاد فرمائی گئی ہے کہ جو حقائق اوپر کی آیتوں میں بیان ہوئے ہیں ان کی بنا پر فرض تو یہ تھا کہ انسان اپنے خالق کی فرمانبرداری کرتا ، مگر اس نے الٹی نافرمانی کی راہ اختیار کی اور بندہ مخلوق کا جو تقاضا تھا اسے پورا نہ کیا ۔
7: اس سے مراد کافر بھی ہوسکتے ہیں کہُ ان کی نافرمانی بالکل ظاہر ہے، اور اگر مسلمان مراد ہوں تب بھی یہ بات صحیح ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی فرماں برداری کا پورا پورا حق کون ادا کرسکتا ہے؟
(80:23) کلا۔ حرف ردع وزجر ہے۔ کافر انسان کے لئے ڈانٹ ہے کہ اسے ہرگز ایسا نہ کرنا چاہیے تھا۔ یعنی خدا کی متذکرہ بالا قدرتوں اور اس کی گونا گوں نعمتوں کے باوجود اسے متکبر نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اور نہ ہی کفر پر اصرار کرنا چاہیے تھا۔ بعض کے نزدیک کلا بمعنی حقا ہے۔ یعنی حق یہ ہے کہ لما یقض ما امرہ جو اللہ نے اسے حکم دیا وہ اسے بجانہ لایا۔ لما یقض : لما حرف جازم ہے لم کی طرح فعل مضارع پر داخل ہوتا ہے اور اس کو جزم دیتا ہے ۔ اور مضارع کو ماضی منفی میں کردیتا ہے۔ لما سے جس نفی کا حصول ہوتا ہے وہ زمانہ حال تک مبتداء مسلسل اور مستمر ہوتی ہے ۔ (نیز ملاحظہ ہو 2:214) یقض مضارع مجزوم واحد مذکر غائب، قضاء (باب ضرب) مصدر سے بمعنی پورا کرنا۔ ادا کرنا۔ اصل میں یقضی تھا۔ لما کے داخل ہونے پر یقض ہوگیا۔ لما یقض اس نے پوری طرح ادا نہیں کیا۔ اس نے پورا نہیں کیا۔ اس نے ادا نہیں کیا۔ ضمیر فاعل الانسان کے لئے ہے۔ ما امرہ : ما موصولہ، امرہ اس کا صلہ، صلہ اور موصول مل کر لما یقض کا مفعول۔ جس چیز کا اس کو حکم دیا گیا تھا۔ اس نے اس کو پورا نہیں کیا۔ امرہ میں امر کی ضمیر فاعل اللہ کے لئے ہے۔ اور ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب الانسان کے لئے ہے۔
ف 9 یعنی کافروں کا یہ خیال غلط ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے وہ تمام حقوق ادا کردیئے جو ان پر عائد ہوتے ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ آدمی نے بحیثیت مجموعی ہرگز اپنے مالک کا حق نہیں پہنچانا اور اس کے وہ فرائض ادا نہیں کئے جو اس پر عائد کئے تھے۔ آیت کا یہی مطلب اکثر قدیم مفسرین نے بیان کیا ہے۔ حافظ ابن کثیر نے اس کا تعلق پچھلی آیت سے سمجھا ہے اور لما نقص اور ما امرہ، کا فاعل اللہ تعالیٰ کو قرار دیا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ جب چاہے گا آدمی کو زندہ کرکے اٹھائے گا لیکن ابھی وہ ایسا نہیں کرے گا کیونکہ ابھی اس نے وہ حکم پورا نہیں کیا جو دنیا میں انسانی زندگی کے متعلق اس نے کوئی قدری لحاظ سے دیا تھا جب دنیا میں وہ تمام انسان آجائیں گے جن کے پیدا کرنے کا فیصلہ اس نے اپنی قبضہ وقدر میں کیا تھا تو دنیا ختم کردی جائے گی اور قیامت قائم ہوجائے گی۔ واللہ اعلم
کلا ............ ما امرہ (23:80) ” ہرگز نہیں ، اس نے وہ فرض ادا نہیں کیا جس کا اللہ نے اسے حکم دیا تھا “۔ بات مطلق انسان کی ہورہی ہے ، تمام افراد انسان کی بہر دور کے انسان اللہ کے احکام بجا لانے میں کوتاہی کرتے ہیں ، اپنی پوری زندگی میں ان کی روش یہی ہوتی ہے۔ ” لما “ سے اس مفہوم کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔ ہرگز نہیں ، انسان ہر صورت میں قصور وار ہے ، یہ اپنے فرائض ادا نہیں کرتا ، وہ اپنی اصلیت اور حقیقت کو بھی پیش نظر نہیں رکھتا ، حالانکہ یہ بات ہر وقت اس کے پیش نظر ہونی چاہیے۔ نیز وہ اپنے خالق ، اپنے ہادی اور اپنے کفیل کا حق شکر بھی ادا نہیں کرتا۔ اور اس زندگی کا مختصر سا سفر اس طرح نہیں طے کرتا کہ اس کے اقدامات آخرت کو پیش نظر رکھ کر ہوں۔ مجموعی طور پر انسان کی حالت ایسی ہی ہے کہ اکثریت نافرمان ، ناشکری ، ہدایت سے بےنیاز اور متکبر ہے۔ اب جدید پیراگراف آتا ہے۔ سابقہ پیراگراف میں انسان کی پیدائش کی بات رکھی گئی تھی ، اب کہا جاتا ہے کہ یہ انسان ذرا اپنی اور اپنے مویشیوں کی خوراک پر تو غور کرے۔ اس دنیا کی زندگی اور سفر میں اللہ نے انسان اور اس کے مویشیوں کے لئے کیا انتظام فرمایا۔ انسان کے غور کے لئے یہ ایک ہی چیزکافی ہے جو اللہ نے اس کے لئے فراہم کی ہے۔