Surat Abas
Surah: 80
Verse: 3
سورة عبس
وَ مَا یُدۡرِیۡکَ لَعَلَّہٗ یَزَّکّٰۤی ۙ﴿۳﴾
But what would make you perceive, [O Muhammad], that perhaps he might be purified
تجھے کیا خبر شاید وہ سنور جاتا ۔
وَ مَا یُدۡرِیۡکَ لَعَلَّہٗ یَزَّکّٰۤی ۙ﴿۳﴾
But what would make you perceive, [O Muhammad], that perhaps he might be purified
تجھے کیا خبر شاید وہ سنور جاتا ۔
He frowned and turned away. Because there came to him the blind man. And how can you know that he might become pure? meaning, he may attain purification and cleanliness in his soul. أَوْ يَذَّكَّرُ فَتَنفَعَهُ الذِّكْرَى
3۔ 1 یعنی وہ نابینا تجھ سے دینی رہنمائی حاصل کر کے عمل صالح کرتا، جس سے اس کا اخلاق و کردار سنور جاتا، اس کے باطن کی اصلاح ہوجاتی اور تیری نصیحت سننے سے اس کو فائدہ ہوتا۔
(وما یدریک لعلہ یزکی…: آپ نے جو یہ سمجھا کہ یہ نابینا تو مسلمان ہی ہے، کسی اور وقت مسئلہ پوچھ لے گا، مجھے کافر کو مسلمان بنانے پر زیادہ توجہ دینی چاہیے تو یہ بات اگرچہ ایک حد تک درست ہے، مگر آپ کو اس بات کا خیال بھی ضروری تھا کہ وہ کافر تو آپ کی ہدایت سے فائدہ اٹھانے پر تیار ہی نہیں۔ خوف ناک بیماری میں مبتلا شخص کا علاج مقدم ہونا چاہئیم گر وہ دوا لینے پر آمادہ ہی نہ ہو تو اس کی امید میں آپ اپنے ساتھیوں سے کیوں بےتوجہی کریں، جو دوائے دل کے طالب ہیں کہ آپ توجہ فرمایئں تو وہ جہل اور گناہ سے خوب پاک صاف ہوجائیں۔” یزکی “ میں مبالغہ ہے، یا آپ کی نصیحت سے انہیں نفع حاصل ہوجائے۔
لَعَلَّهُ يَزَّكَّىٰ أَوْ يَذَّكَّرُ فَتَنفَعَهُ الذِّكْرَىٰ (May be, [ if you had attended him properly,] he would have attained purity, or have taken to the advice, and the advice would have benefited him....80:3-4). In other words, because Sayyidna ` Abdullah Ibn Umm Maktum (رض) was a genuine believer, any advice given to him would have benefited him and served to purify him. The companion sought enlightenment and its benefit was certain. If the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) enlightened him on the topic, he would have purified himself and attained perfection. If that did not happen, he would have at least attained the basic benefit of Divine remembrance. He would have improved the love and fear of Allah in his heart. The word dhikra means &to remember Allah abundantly& [ Sihah ].1 (1) This interpretation is based on taking the word &dhikra& in the sense of remembrance of Allah&. However, some other exegetes have taken this word to mean &advice&, and the translation of the text, as well as the explanation following in the next paragraph, is based on it. (Muhammad Taqi Usmani) On this occasion, the Qur’ an has used two sentences yazzakka and yazzakkaru. The first statement signifies &to be purified& and the second statement signifies &he may take heed and the reminder may benefit him&. The first stage is that of the &righteous& who cleanse their inner and outer selves. The second stage is that of mubtadi &beginners on the spiritual journey&. At this stage, the beginner is reminded of Allah which enhances the greatness and awe of Allah in his heart. The two sentences are disjoined by disjunctive particle sau (or) and technically they are not necessarily exclusive to one another. The sense is that` Abdullah Ibn Umm Maktum (رض) would have attained either both benefits, or at least, the second one, that is, increase in Allah&s remembrance and in His awe, which is the initial step towards perfection An Important Qur’ anic Principle of Teaching and Preaching On this occasion, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was faced with two different requirements at the same time. On the one hand, he was required to teach a Muslim and to encourage him on attaining perfection. On the other hand, he had to provide guidance to non-Muslims. The principle laid down here makes it clear that the first requirement takes priority over the second one. It is improper to delay the first task (educating Muslims) because of the second task. This indicates that education of Muslims and their reform are more important than, and take priority over, getting the non-Muslims to embrace the faith. Scholars should avoid any such indulgence when disposing of any doubts of the non-Muslims, which may create doubts or complaints in the minds of the general body of Muslims. The teachers, preachers and reformers need to keep in mind these Qur’ anic guidelines to maintain the welfare and priority of the Muslims. How beautifully Akbar Allahabadi, the Urdu poet, versifies this principle: بے وفا سمجھیں تمہیں اہل حرم اس سے بچو دیر والے کج ادا کہ دیں یہ بدنامی بھلی &Protect yourselves from a position where people of the Haram (Muslims) call you unfaithful. As opposed to this, if People of temple [ non-Muslims ] call you &ill-mannered&, (because of your faithfulness to your religion), this dishonor is better. The following verses clarify the principles more elaborately: أَمَّا مَنِ اسْتَغْنَىٰ فَأَنتَ لَهُ تَصَدَّىٰ (As for the one who does not care [ about faith ], you are anxious to pursue him!...80:5-6). In other words: &Those who turn away from you and your religion, you are pursuing them under the hope that somehow they should become Muslims, while this is not your responsibility. If they do not embrace the faith, there will be no blame on you. Thereafter, in verses 13 and 14, Allah Almighty has described the high status of the Holy Qur’ an, thus:
(آیت) لَعَلَّهٗ يَزَّكّىٰٓ ۙاَوْ يَذَّكَّرُ فَتَنْفَعَهُ الذِّكْرٰى، یعنی آپ کو کیا معلوم کہ یہ صحابی جو بات دریافت کر رہے تھے اس کا فائدہ متیقن تھا کہ آپ ان کو تعلیم دیتے تو یہ اس کے ذریعہ اپنے نفس کا تذکیہ کرلیتے اور کمال حاصل کرلیتے اور یہ بھی نہ ہوتا تو کم از کم اس ذکر اللہ سے وہ ابتدائی نفع اٹھاتے کہ اس سے انکے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت اور خوف کی ترقی ہوجاتی۔ لفظ ذکریٰ کے معنے کثرت ذکر کے ہیں (کذافی الصحاح) یہاں قرآن کریم نے دو جملے اختیار فرمائے یزکی اور یذکر، پہلے کے معنے پاک صاف ہوجانے کے ہیں اور دوسرے کے معنے نصیحت حاصل کرنے اور ذکر سے متاثر ہونے کے ہیں۔ پہلا مقام ابرار واتقیاء کا ہے جو اپنے نفس کو ظاہری اور باطنی ہر قسم کی گندگیوں سے پاک صاف کرلیں اور دوسرا مقام طریق دین پر چلنے کے ابتدائی حال کا ہے کہ مبتدی کو اللہ کی یاد دلائی جاتی ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی عظمت وخوف اسکے دل میں مستحضر ہوجاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کو تعلیم دینا نفع سے کسی حال خالی نہیں تھا خواہ نفع کامل ہوجا تاکہ تزکیہ نفس مکمل حاصل کرلیتے یا ابتدائی نفع حاصل ہوتا کہ اللہ کی یاد اور عظمت وخوف انکے دل میں بڑھ جاتا اور دونوں جملے بحرف تردید یعنی او کے ساتھ استعمال کئے گئے کہ ان دونوں میں سے کوئی ایک حال ضرور حاصل ہوتا اس میں اصطلاحی مانعتہ الخلو ہے یعنی احتمال یہ بھی ہے کہ دونوں نفع جمع ہوجائیں کہ ابتدائی تذکرہ اور اسکے بعد تزکیہ، مانعتہ الجمع نہیں کہ دونوں جمع نہ ہوسکیں (مظہری) تبلیغ وتعلیم کے لئے ایک اہم اصولی قرآنی اس موقع پر یہ تو ظاہر ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے وہ کام بیک وقت آگئے، ایک مسلمان کو تعلیم اور اس کی تکمیل اور دلجوئی، دوسرے غیر مسلموں کی ہدایت کے لئے ان کی طرف توجہ۔ قرآن کریم کے اس ارشاد نے یہ واضح کردیا کہ پہلا کام دوسرے کام پر مقدم ہے۔ دوسرے کام کی وجہ سے پہلے کام میں تاخیر کرنا یا کوئی خلل ڈالنا درست نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کی تعلیم اور ان کی اصلاح کی فکر غیر مسلموں کو اسلام میں داخل کرنے کی فکر سے اہم اور مقدم ہے۔ اس میں ان علما کے لئے ایک اہم ہدایت ہے جو غیر مسلموں کے شبہات کے ازالے اور ان کو اسلام سے مانوس کرنے کی خاطر بعض ایسے کام کر بیٹھے ہیں جن سے عام مسلمانوں کے دلوں میں شوک شبہات یا شکایات پیدا ہوجاتی ہے ان کو اس قرآنی ہدایت کے مطابق مسلمانوں کی حفاظت اور اصلاح حال کو مقدم رکھنا چاہیے۔ اکبر مرحوم نے خوب فرمایا بے وفا سمجھیں تمہیں اہل حرم اس سے بچو دیر والے کحج ادا کہہ دیں یہ بدنامی بھلی بعد کی آیتوں میں قرآن کریم نے اسی بات کو پوری وضاحت سے بیان فرمایا ہے کہ اَمَّا مَنِ اسْتَغْنٰى ۙفَاَنْتَ لَهٗ تَصَدّٰى، یعنی جو شخص آپ سے اور آپ کے دین سے استغناء اور بےرخی برت رہا ہے آپ اس کے تو درپے ہیں کہ کسی طرح یہ مسلمان ہوجائے حالانکہ یہ آپ کے کے ذمہ نہیں اور اگر وہ مسلمان نہ ہو تو آپ پر کوئی الزام نہیں، اور جو شخص دوڑتا ہوا طلب علم دین کے لئے آیا اور خدا تعالیٰ سے ڈرنے والا بھی ہے آپ اس کی طرف توجہ نہیں دیتے۔ اس میں واضح طور پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ہدایت دی گئی کہ مسلمانوں کی تعلیم اور اصلاح و تربیت کرکے ان کو پکا مسلمان اور قومی مومن بنانا یہ غیر مسلموں کو اسلام میں داخل کرنے کی فکر سے زیادہ اہم اور مقدم ہے اس کی فکر زیادہ چاہیے۔ واللہ اعلم۔ اس کے بعد قرآن مجید کا اللہ کی طرف تذکرہ نصیحت ہونا اور اس کا مکرم عالیشان ہونا بیان فرمایا۔
وَمَا يُدْرِيْكَ لَعَلَّہٗ يَزَّكّٰٓي ٣ ۙ ما مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف . فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع . فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله : بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] . الثاني : نكرة . نحو : نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ [ النساء/ 58] أي : نعم شيئا يعظکم به، وقوله : فَنِعِمَّا هِيَ [ البقرة/ 271] فقد أجيز أن يكون ما نكرة في قوله : ما بَعُوضَةً فَما فَوْقَها [ البقرة/ 26] ، وقد أجيز أن يكون صلة، فما بعده يكون مفعولا . تقدیره : أن يضرب مثلا بعوضة الثالث : الاستفهام، ويسأل به عن جنس ذات الشیء، ونوعه، وعن جنس صفات الشیء، ونوعه، وقد يسأل به عن الأشخاص، والأعيان في غير الناطقین . وقال بعض النحويين : وقد يعبّر به عن الأشخاص الناطقین کقوله تعالی: إِلَّا عَلى أَزْواجِهِمْ أَوْ ما مَلَكَتْ أَيْمانُهُمْ [ المؤمنون/ 6] ، إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ [ العنکبوت/ 42] وقال الخلیل : ما استفهام . أي : أيّ شيء تدعون من دون اللہ ؟ وإنما جعله كذلك، لأنّ «ما» هذه لا تدخل إلّا في المبتدإ والاستفهام الواقع آخرا . الرّابع : الجزاء نحو : ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها، وَما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُ الآية [ فاطر/ 2] . ونحو : ما تضرب أضرب . الخامس : التّعجّب نحو : فَما أَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ [ البقرة/ 175] . وأمّا الحروف : فالأوّل : أن يكون ما بعده بمنزلة المصدر كأن الناصبة للفعل المستقبَل . نحو : وَمِمَّا رَزَقْناهُمْ يُنْفِقُونَ [ البقرة/ 3] فإنّ «ما» مع رَزَقَ في تقدیر الرِّزْق، والدّلالة علی أنه مثل «أن» أنه لا يعود إليه ضمیر لا ملفوظ به ولا مقدّر فيه، وعلی هذا حمل قوله : بِما کانُوا يَكْذِبُونَ [ البقرة/ 10] ، وعلی هذا قولهم : أتاني القوم ما عدا زيدا، وعلی هذا إذا کان في تقدیر ظرف نحو : كُلَّما أَضاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ [ البقرة/ 20] ، كُلَّما أَوْقَدُوا ناراً لِلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّهُ [ المائدة/ 64] ، كُلَّما خَبَتْ زِدْناهُمْ سَعِيراً [ الإسراء/ 97] . وأما قوله : فَاصْدَعْ بِما تُؤْمَرُ [ الحجر/ 94] فيصحّ أن يكون مصدرا، وأن يكون بمعنی الذي . واعلم أنّ «ما» إذا کان مع ما بعدها في تقدیر المصدر لم يكن إلّا حرفا، لأنه لو کان اسما لعاد إليه ضمیر، وکذلک قولک : أريد أن أخرج، فإنه لا عائد من الضمیر إلى أن، ولا ضمیر لهابعده . الثاني : للنّفي وأهل الحجاز يعملونه بشرط نحو : ما هذا بَشَراً [يوسف/ 31] «1» . الثالث : الکافّة، وهي الدّاخلة علی «أنّ» وأخواتها و «ربّ» ونحو ذلك، والفعل . نحو : إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] ، إِنَّما نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدادُوا إِثْماً [ آل عمران/ 178] ، كَأَنَّما يُساقُونَ إِلَى الْمَوْتِ [ الأنفال/ 6] وعلی ذلك «ما» في قوله : رُبَما يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الحجر/ 2] ، وعلی ذلك : قَلَّمَا وطَالَمَا فيما حكي . الرابع : المُسَلِّطَة، وهي التي تجعل اللفظ متسلِّطا بالعمل، بعد أن لم يكن عاملا . نحو : «ما» في إِذْمَا، وحَيْثُمَا، لأنّك تقول : إذما تفعل أفعل، وحیثما تقعد أقعد، فإذ وحیث لا يعملان بمجرَّدهما في الشّرط، ويعملان عند دخول «ما» عليهما . الخامس : الزائدة لتوکيد اللفظ في قولهم : إذا مَا فعلت کذا، وقولهم : إمّا تخرج أخرج . قال : فَإِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الْبَشَرِ أَحَداً [ مریم/ 26] ، وقوله : إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُما أَوْ كِلاهُما[ الإسراء/ 23] . ( ما ) یہ عربی زبان میں دو قسم پر ہے ۔ اسمی اور حر فی پھر ہر ایک پانچ قسم پر ہے لہذا کل دس قسمیں ہیں ( 1 ) ما اسمی ہو تو واحد اور تذکیر و تانیث کے لئے یکساں استعمال ہوتا ہے ۔ پھر لفظا مفرد ہونے کے لحاظ سے اس کی طرف ضمیر مفرد بھی لوٹ سکتی ہے ۔ اور معنی جمع ہونے کی صورت میں ضمیر جمع کا لانا بھی صحیح ہوتا ہے ۔ یہ ما کبھی بمعنی الذی ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا ۔ وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] اور یہ ( لوگ ) خدا کے سوا ایسی چیزوں کی پر ستش کرتے ہیں جو نہ ان کا کچھ بگاڑ سکتی ہیں ۔ تو یہاں ما کی طرف یضر ھم میں مفرد کی ضمیر لوٹ رہی ہے اس کے بعد معنی جمع کی مناسب سے هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] آگیا ہے اسی طرح آیت کریمہ : ۔ وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] اور خدا کے سوا ایسوں کو پوجتے ہیں جوان کو آسمانوں اور زمین میں روزیدینے کا ذرہ بھی اختیار نہیں رکھتے میں بھی جمع کے معنی ملحوظ ہیں اور آیت کریمہ : ۔ بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] کہ تمہارا ایمان تم کو بری بات بتاتا ہے ۔ میں بھی جمع کے معنی مراد ہیں اور کبھی نکرہ ہوتا ہے جیسے فرمایا : ۔ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ [ النساء/ 58] بہت خوب نصیحت کرتا ہے ۔ تو یہاں نعما بمعنی شیئا ہے نیز فرمایا : ۔ فَنِعِمَّا هِيَ [ البقرة/ 271] تو وہ بھی خوب ہیں ایت کریمہ : ما بَعُوضَةً فَما فَوْقَها[ البقرة/ 26] کہ مچھر یا اس سے بڑھ کر کیس چیز کی میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ما نکرہ بمعنی شیاء ہو اور یہ بھی کہ ماصلہ ہو اور اس کا ما بعد یعنی بعوضۃ مفعول ہو اور نظم کلام دراصل یوں ہو أن يضرب مثلا بعوضة اور کبھی استفھا فیہ ہوتا ہے اس صورت میں کبھی کبھی چیز کی نوع یا جنس سے سوال کے لئے آتا ہے اور کبھی کسی چیز کی صفات جنسیہ یا نوعیہ کے متعلق سوال کے لئے آتا ہے اور کبھی غیر ذوی العقول اشخاص اور اعیان کے متعلق سوال کے لئے بھی آجاتا ہے ۔ بعض علمائے نحو کا قول ہے کہ کبھی اس کا اطلاق اشخاص ذوی العقول پر بھی ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ إِلَّا عَلى أَزْواجِهِمْ أَوْ ما مَلَكَتْ أَيْمانُهُمْ [ المؤمنون/ 6] مگر ان ہی بیویوں یا ( کنیزوں سے ) جو ان کی ملک ہوتی ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ [ العنکبوت/ 42] جس چیز کو خدا کے سوا پکارتے ہیں خواہ وہ کچھ ہی ہو خدا اسے جانتا ہے ۔ میں خلیل نے کہا ہے کہ ماتدعون میں ما استفہامیہ ہے ای شئی تدعون من دون اللہ اور انہوں نے یہ تکلف اس لئے کیا ہے کہ یہ ہمیشہ ابتداء کلام میں واقع ہوتا ہے اور مابعد کے متعلق استفہام کے لئے آتا ہے ۔ جو آخر میں واقع ہوتا ہے جیسا کہ آیت : ۔ ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها، وَما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُالآية [ فاطر/ 2] خدا جو اپنی رحمت کا در وازہ کھول دے اور مثال ماتضرب اضرب میں ہے ۔ اور کبھی تعجب کے لئے ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ فَما أَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ [ البقرة/ 175] یہ ( آتش جہنم کیسی بر داشت کرنے والے ہیں ۔ ما حرفی ہونے کی صورت میں بھی پانچ قسم پر ہے اول یہ کہ اس کا بعد بمنزلہ مصدر کے ہو جیسا کہ فعل مستقبل پر ان ناصبہ داخل ہونے کی صورت میں ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ وَمِمَّا رَزَقْناهُمْ يُنْفِقُونَ [ البقرة/ 3] اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں ۔ تو یہاں ما رزق بمعنی رزق مصدر کے ہے اور اس ما کے بمعنی ان مصدر یہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اس کی طرف کہیں بھی لفظا ما تقدیر اضمیر نہیں لوٹتی ۔ اور آیت کریمہ : ۔ بِما کانُوا يَكْذِبُونَ [ البقرة/ 10] اور ان کے جھوٹ بولتے کے سبب ۔ میں بھی ما مصدر ری معنی پر محمول ہے ۔ اسی طرح اتانیالقوم ماعدا زیدا میں بھی ما مصدر یہ ہے اور تقدیر ظرف کی صورت میں بھی ما مصدر یہ ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ كُلَّما أَضاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ [ البقرة/ 20] جب بجلی ( چمکتی اور ) ان پر روشنی ڈالتی ہے تو اس میں چل پڑتے ہیں ۔ كُلَّما أَوْقَدُوا ناراً لِلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّهُ [ المائدة/ 64] یہ جب لڑائی کے لئے آگ جلاتے ہیں ۔ خدا اس کو بجھا دیتا ہے ۔ كُلَّما خَبَتْ زِدْناهُمْ سَعِيراً [ الإسراء/ 97] جب ( اس کی آگ ) بجھنے کو ہوگی تو ہم ان کو ( عذاب دینے ) کے لئے اور بھڑ کا دیں گے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ فَاصْدَعْ بِما تُؤْمَرُ [ الحجر/ 94] پس جو حکم تم کو ( خدا کی طرف سے ملا ہے وہ ( لوگوں ) کو سنا دو ۔ میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ما مصدر یہ ہوا اور یہ بھی کہ ما موصولہ بمعنی الذی ہو ۔ یاد رکھو کہ ما اپنے مابعد کے ساتھ مل کر مصدری معنی میں ہونے کی صورت میں ہمیشہ حرفی ہوتا ہے کیونکہ اگر وہ اسی ہو تو اس کی طرف ضمیر کا لوٹنا ضروری ہے پس یہ ارید ان اخرک میں ان کی طرح ہوتا ہے جس طرح ان کے بعد ضمیر نہیں ہوتی جو اس کی طرف لوٹ سکے اسی طرح ما کے بعد بھی عائد ( ضمیر نہیں آتی ۔ دوم ما نافیہ ہے ۔ اہل حجاز اسے مشروط عمل دیتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ ما هذا بَشَراً [يوسف/ 31] یہ آدمی نہیں ہے تیسرا ما کا فہ ہے جو ان واخواتھا اور ( رب کے ساتھ مل کر فعل پر داخل ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] خدا سے تو اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو صاحب علم ہیں ۔ إِنَّما نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدادُوا إِثْماً [ آل عمران/ 178] نہیں بلکہ ہم ان کو اس لئے مہلت دیتے ہیں کہ اور گناہ کرلیں ۔ كَأَنَّما يُساقُونَ إِلَى الْمَوْتِ [ الأنفال/ 6] گویا موت کی طرف دھکیلے جارہے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : ۔ رُبَما يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الحجر/ 2] کسی وقت کافر لوگ آرزو کریں گے ۔ میں بھی ما کافہ ہی ہے ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ قلما اور لما میں بھی ما کافہ ہوتا ہے ۔ چہارم ما مسلمۃ یعنی وہ ما جو کسی غیر عامل کلمہ کو عامل بنا کر مابعد پر مسلط کردیتا ہے جیسا کہ اذا ما وحیتما کا ما ہے کہ ما کے ساتھ مرکب ہونے سے قبل یہ کلمات غیر عاملہ تھے لیکن ترکیب کے بعد اسمائے شرط کا سا عمل کرتے ہیں اور فعل مضارع کو جز م دیتے ہیں جیسے حیثما نقعد اقعد وغیرہ پانچواں مازائدہ ہے جو محض پہلے لفظ کی توکید کے لئے آتا ہے جیسے اذا مافعلت کذا ( جب تم ایسا کرو ماتخرج اخرج اگر تم باہر نکلو گے تو میں بھی نکلو نگا قرآن پاک میں ہے : ۔ فَإِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الْبَشَرِ أَحَداً [ مریم/ 26] اگر تم کسی آدمی کو دیکھوں ۔ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُما أَوْ كِلاهُما [ الإسراء/ 23] اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھا پے کو پہنچ جائیں ۔ دری الدّراية : المعرفة المدرکة بضرب من الحیل، يقال : دَرَيْتُهُ ، ودَرَيْتُ به، دِرْيَةً ، نحو : فطنة، وشعرة، وادَّرَيْتُ قال الشاعر : وماذا يدّري الشّعراء منّي ... وقد جاوزت رأس الأربعین والدَّرِيَّة : لما يتعلّم عليه الطّعن، وللناقة التي ينصبها الصائد ليأنس بها الصّيد، فيستتر من ورائها فيرميه، والمِدْرَى: لقرن الشاة، لکونها دافعة به عن نفسها، وعنه استعیر المُدْرَى لما يصلح به الشّعر، قال تعالی: لا تَدْرِي لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذلِكَ أَمْراً [ الطلاق/ 1] ، وقال : وَإِنْ أَدْرِي لَعَلَّهُ فِتْنَةٌ لَكُمْ [ الأنبیاء/ 111] ، وقال : ما كُنْتَ تَدْرِي مَا الْكِتابُ [ الشوری/ 52] ، وكلّ موضع ذکر في القرآن وما أَدْراكَ ، فقد عقّب ببیانه نحو وما أَدْراكَ ما هِيَهْ نارٌ حامِيَةٌ [ القارعة/ 10- 11] ، وَما أَدْراكَ ما لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ الْقَدْرِ [ القدر/ 2- 3] ، وَما أَدْراكَ مَا الْحَاقَّةُ [ الحاقة/ 3] ، ثُمَّ ما أَدْراكَ ما يَوْمُ الدِّينِ [ الانفطار/ 18] ، وقوله : قُلْ لَوْ شاءَ اللَّهُ ما تَلَوْتُهُ عَلَيْكُمْ وَلا أَدْراكُمْ بِهِ [يونس/ 16] ، من قولهم : دریت، ولو کان من درأت لقیل : ولا أدرأتكموه . وكلّ موضع ذکر فيه : وَما يُدْرِيكَ لم يعقّبه بذلک، نحو : وَما يُدْرِيكَ لَعَلَّهُ يَزَّكَّى [ عبس/ 30] ، وَما يُدْرِيكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِيبٌ [ الشوری/ 17] ، والدّراية لا تستعمل في اللہ تعالی، وقول الشاعر : لا همّ لا أدري وأنت الدّاري فمن تعجرف أجلاف العرب ( د ر ی ) الدرایۃ اس معرفت کو کہتے ہیں جو کسی قسم کے حیلہ یا تدبیر سے حاصل کی جائے اور یہ دریتہ ودریت بہ دریۃ دونوں طرح استعمال ہوتا ہے ( یعنی اس کا تعدیہ باء کے ساتھ بھی ہوتا ہے ۔ اور باء کے بغیر بھی جیسا کہ فطنت وشعرت ہے اور ادریت بمعنی دریت آتا ہے ۔ شاعر نے کہا ہے ع اور شعراء مجھے کیسے ہو کہ دے سکتے ہیں جب کہ میں چالیس سے تجاوز کرچکاہوں قرآن میں ہے ۔ لا تَدْرِي لَعَلَّ اللَّهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذلِكَ أَمْراً [ الطلاق/ 1] تجھے کیا معلوم شاید خدا اس کے کے بعد کوئی ( رجعت کی سبیلی پیدا کردے ۔ وَإِنْ أَدْرِي لَعَلَّهُ فِتْنَةٌ لَكُمْ [ الأنبیاء/ 111] اور میں نہیں جانتا شاید وہ تمہارے لئے آزمائش ہو ۔ ما كُنْتَ تَدْرِي مَا الْكِتابُ [ الشوری/ 52] تم نہ تو کتاب کو جانتے تھے ۔ اور قرآن پاک میں جہاں کہیں وما ادراک آیا ہے وہاں بعد میں اس کا بیان بھی لایا گیا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ وَما أَدْراكَ ما هِيَهْ نارٌ حامِيَةٌ [ القارعة/ 10- 11] اور تم کیا سمجھتے کہ ہاویہ ) کیا ہے ؟ ( وہ ) دھکتی ہوئی آگ ہے ۔ وَما أَدْراكَ ما لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ الْقَدْرِ [ القدر/ 2- 3] اور تمہیں کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے ؟ شب قدر ۔ وَما أَدْراكَ مَا الْحَاقَّةُ [ الحاقة/ 3] اور تم کو کیا معلوم ہے کہ سچ مچ ہونے والی کیا چیز ہے ؟ ثُمَّ ما أَدْراكَ ما يَوْمُ الدِّينِ [ الانفطار/ 18] اور تمہیں کیا معلوم کہ جزا کا دن کیسا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ قُلْ لَوْ شاءَ اللَّهُ ما تَلَوْتُهُ عَلَيْكُمْ وَلا أَدْراكُمْ بِهِ [يونس/ 16] یہ بھی ) کہہ و کہ اگر خدا چاہتا تو ( نہ تو ) میں ہی یہ کتاب ) تم کو پڑھکر سناتا اور نہ وہی تمہیں اس سے واقف کرتا ۔ میں سے ہے کیونکہ اگر درآت سے ہوتا تو کہا جاتا ۔ اور جہاں کہیں قران میں وما يُدْرِيكَآیا ہے اس کے بعد اس بیان مذکور نہیں ہے ( جیسے فرمایا ) وَما يُدْرِيكَ لَعَلَّهُ يَزَّكَّى [ عبس/ 30] اور تم کو کیا خبر شاید وہ پاکیزگی حاصل کرتا ہے ۔ وَما يُدْرِيكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِيبٌ [ الشوری/ 17] اور تم کیا خبر شاید قیامت قریب ہی آپہنچی ہو یہی وجہ ہے کہ درایۃ کا لفظ اللہ تعالیٰ کے متعلق استعمال نہیں ہوتا اور شاعر کا قول ع اے اللہ ہی نہیں جانتا اور تو خوب جانتا ہے میں جو اللہ تعالیٰ کے متعلق استعمال ہوا ہے بےسمجھ اور اجڈ بدر دکا قول ہے ( لہذا حجت نہیں ہوسکتا ) الدریۃ ( 1 ) ایک قسم کا حلقہ جس پر نشانہ بازی کی مشق کی جاتی ہے ۔ ( 2 ) وہ اونٹنی جسے شکار کو مانوس کرنے کے لئے کھڑا کردیا جاتا ہے ۔ اور شکار اسکی اوٹ میں بیٹھ جاتا ہے تاکہ شکا کرسکے ۔ المدوی ( 1 ) بکری کا سینگ کیونکہ وہ اس کے ذریعہ مدافعت کرتی ہے اسی سے استعارہ کنگھی یا بار یک سینگ کو مدری کہا جاتا ہے جس سے عورتیں اپنے بال درست کرتی ہیں ۔ مطعن کی طرح مد سر کا محاورہ بھی استعمال ہوتا ہے جس کے معنی بہت بڑے نیزہ باز کے ہیں ۔ ایک روایت میں ہے کہ عنبر میں زکوۃ نہیں ہے وہ ایک چیز ہے جسے سمندر کنارے پر پھینک دیتا ہے ۔ لعل لَعَلَّ : طمع وإشفاق، وذکر بعض المفسّرين أنّ «لَعَلَّ» من اللہ واجب، وفسّر في كثير من المواضع ب «كي» ، وقالوا : إنّ الطّمع والإشفاق لا يصحّ علی اللہ تعالی، و «لعلّ» وإن کان طمعا فإن ذلك يقتضي في کلامهم تارة طمع المخاطب، وتارة طمع غيرهما . فقوله تعالیٰ فيما ذکر عن قوم فرعون : لَعَلَّنا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ [ الشعراء/ 40] ( لعل ) لعل ( حرف ) یہ طمع اور اشفاق ( دڑتے ہوئے چاہنے ) کے معنی ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے ۔ بعض مفسرین کا قول ہے کہ جب یہ لفظ اللہ تعالیٰ اپنے لئے استعمال کرے تو اس کے معنی میں قطیعت آجاتی ہے اس بنا پر بہت سی آیات میں لفظ کی سے اس کی تفسیر کی گئی ہے کیونکہ ذات باری تعالیٰ کے حق میں توقع اور اندیشے کے معنی صحیح نہیں ہیں ۔ اور گو لعل کے معنی توقع اور امید کے ہوتے ہیں مگر کبھی اس کا تعلق مخاطب سے ہوتا ہے اور کبھی متکلم سے اور کبھی ان دونوں کے علاوہ کسی تیسرے شخص سے ہوتا ہے ۔ لہذا آیت کریمہ : لَعَلَّنا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ [ الشعراء/ 40] تاکہ ہم ان جادو گروں کے پیرو ہوجائیں ۔ میں توقع کا تعلق قوم فرعون سے ہے ۔ زكا أصل الزَّكَاةِ : النّموّ الحاصل عن بركة اللہ تعالی، ويعتبر ذلک بالأمور الدّنيويّة والأخرويّة . يقال : زَكَا الزّرع يَزْكُو : إذا حصل منه نموّ وبرکة . وقوله : أَيُّها أَزْكى طَعاماً [ الكهف/ 19] ، إشارة إلى ما يكون حلالا لا يستوخم عقباه، ومنه الزَّكاةُ : لما يخرج الإنسان من حقّ اللہ تعالیٰ إلى الفقراء، وتسمیته بذلک لما يكون فيها من رجاء البرکة، أو لتزکية النّفس، أي : تنمیتها بالخیرات والبرکات، أو لهما جمیعا، فإنّ الخیرین موجودان فيها . وقرن اللہ تعالیٰ الزَّكَاةَ بالصّلاة في القرآن بقوله : وَأَقِيمُوا الصَّلاةَ وَآتُوا الزَّكاةَ [ البقرة/ 43] ، وبِزَكَاءِ النّفس وطهارتها يصير الإنسان بحیث يستحقّ في الدّنيا الأوصاف المحمودة، وفي الآخرة الأجر والمثوبة . وهو أن يتحرّى الإنسان ما فيه تطهيره، وذلک ينسب تارة إلى العبد لکونه مکتسبا لذلک، نحو : قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاها[ الشمس/ 9] ، وتارة ينسب إلى اللہ تعالی، لکونه فاعلا لذلک في الحقیقة نحو : بَلِ اللَّهُ يُزَكِّي مَنْ يَشاءُ [ النساء/ 49] ، وتارة إلى النّبيّ لکونه واسطة في وصول ذلک إليهم، نحو : تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِها[ التوبة/ 103] ، يَتْلُوا عَلَيْكُمْ آياتِنا وَيُزَكِّيكُمْ [ البقرة/ 151] ، وتارة إلى العبادة التي هي آلة في ذلك، نحو : وَحَناناً مِنْ لَدُنَّا وَزَكاةً [ مریم/ 13] ، لِأَهَبَ لَكِ غُلاماً زَكِيًّا[ مریم/ 19] ، أي : مُزَكًّى بالخلقة، وذلک علی طریق ما ذکرنا من الاجتباء، وهو أن يجعل بعض عباده عالما وطاهر الخلق لا بالتّعلّم والممارسة بل بتوفیق إلهيّ ، كما يكون لجلّ الأنبیاء والرّسل . ويجوز أن يكون تسمیته بالمزکّى لما يكون عليه في الاستقبال لا في الحال، والمعنی: سَيَتَزَكَّى، وَالَّذِينَ هُمْ لِلزَّكاةِ فاعِلُونَ [ المؤمنون/ 4] ، أي : يفعلون ما يفعلون من العبادة ليزكّيهم الله، أو لِيُزَكُّوا أنفسهم، والمعنیان واحد . ولیس قوله : «للزّكاة» مفعولا لقوله : «فاعلون» ، بل اللام فيه للعلة والقصد . وتَزْكِيَةُ الإنسان نفسه ضربان : أحدهما : بالفعل، وهو محمود وإليه قصد بقوله : قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاها [ الشمس/ 9] ، وقوله : قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّى[ الأعلی/ 14] . والثاني : بالقول، كتزكية العدل غيره، وذلک مذموم أن يفعل الإنسان بنفسه، وقد نهى اللہ تعالیٰ عنه فقال : فَلا تُزَكُّوا أَنْفُسَكُمْ [ النجم/ 32] ، ونهيه عن ذلک تأديب لقبح مدح الإنسان نفسه عقلا وشرعا، ولهذا قيل لحكيم : ما الذي لا يحسن وإن کان حقّا ؟ فقال : مدح الرّجل نفسه . ( زک و ) الزکاۃ : اس کے اصل معنی اس نمو ( افزونی ) کے ہیں جو برکت الہیہ سے حاصل ہو اس کا تعلق دنیاوی چیزوں سے بھی ہے اور اخروی امور کے ساتھ بھی چناچہ کہا جاتا ہے زکا الزرع یزکو کھیتی کا بڑھنا اور پھلنا پھولنا اور آیت : ۔ أَيُّها أَزْكى طَعاماً [ الكهف/ 19] کس کا کھانا زیادہ صاف ستھرا ہے ۔ میں ازکیٰ سے ایسا کھانا مراد ہے جو حلال اور خوش انجام ہو اور اسی سے زکوۃ کا لفظ مشتق ہے یعنی وہ حصہ جو مال سے حق الہیٰ کے طور پر نکال کر فقراء کو دیا جاتا ہے اور اسے زکوۃ یا تو اسلئے کہا جاتا ہے کہ اس میں برکت کی امید ہوتی ہے اور یا اس لئے کہ اس سے نفس پاکیزہ ہوتا ہے یعنی خیرات و برکات کے ذریعہ اس میں نمو ہوتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کے تسمیہ میں ان ہر دو کا لحاظ کیا گیا ہو ۔ کیونکہ یہ دونوں خوبیاں زکوۃ میں موجود ہیں قرآن میں اللہ تعالیٰ نے نما ز کے ساتھ ساتھ زکوۃٰ کا بھی حکم دیا ہے چناچہ فرمایا : وَأَقِيمُوا الصَّلاةَ وَآتُوا الزَّكاةَ [ البقرة/ 43] نماز قائم کرو اور زکوۃ ٰ ادا کرتے رہو ۔ اور تزکیہ نفس سے ہی انسان دنیا میں اوصاف حمیدہ کا مستحق ہوتا ہے اور آخرت میں اجر وثواب بھی اسی کی بدولت حاصل ہوگا اور تزکیہ نفس کا طریق یہ ہے کہ انسان ان باتوں کی کوشش میں لگ جائے جن سے طہارت نفس حاصل ہوتی ہے اور فعل تزکیہ کی نسبت تو انسان کی طرف کی جاتی ہے کیونکہ وہ اس کا اکتساب کرتا ہے جیسے فرمایا : ۔ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاها [ الشمس/ 9] کہ جس نے اپنی روح کو پاک کیا ( وہ ضرور اپنی ) مراد کو پہنچا ۔ اور کبھی یہ اللہ تعالےٰ کی طرف منسوب ہوتا ہے کیونکہ فی الحقیقت وہی اس کا فاعل ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ بَلِ اللَّهُ يُزَكِّي مَنْ يَشاءُ [ النساء/ 49] بلکہ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے پاک کردیتا ہے ۔ اور کبھی اس کی نسبت نبی کی طرف ہوتی ہے کیونکہ وہ لوگوں کو ان باتوں کی تعلیم دیتا ہے جن سے تزکیہ حاصل ہوتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِها[ التوبة/ 103] کہ اس سے تم ان کو ( ظاہر میں بھی ) پاک اور ( باطن میں بھی ) پاکیزہ کرتے ہو ۔ يَتْلُوا عَلَيْكُمْ آياتِنا وَيُزَكِّيكُمْ [ البقرة/ 151] وہ پیغمبر انہیں ہماری آیات پڑھ کر سناتا ہے اور انہیں بذریعہ تعلیم ( اخلاق رذیلہ ) سے پاک کرتا ہے : ۔ اور کبھی اس کی نسبت عبادت کی طرف ہوتی ہے کیونکہ عبادت تزکیہ کے حاصل کرنے میں بمنزلہ آلہ کے ہے چناچہ یحیٰ (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا : ۔ وَحَناناً مِنْ لَدُنَّا وَزَكاةً [ مریم/ 13] اور اپنی جناب سے رحمدلی اور پاگیزگی دی تھی ۔ لِأَهَبَ لَكِ غُلاماً زَكِيًّا [ مریم/ 19] تاکہ تجھے ایک پاکیزہ لڑکا بخشوں یعنی وہ فطرتا پاکیزہ ہوگا اور فطرتی پاکیزگی جیسا کہ بیان کرچکے ہیں ۔ بطریق اجتباء حاصل ہوتی ہے کہ حق تعالیٰ اپنے بعض بندوں کو عالم اور پاکیزہ اخلاق بنا دیتا ہے اور یہ پاکیزگی تعلیم وممارست سے نہیں بلکہ محض توفیق الہی سے حاصل ہوتی ہے جیسا کہ اکثر انبیاء اور رسل کے ساتھ ہوا ہے ۔ اور آیت کے یہ معنی ہوسکتے ہیں کہ وہ لڑکا آئندہ چل کر پاکیزہ اخلاق ہوگا لہذا زکیا کا تعلق زمانہ حال کے ساتھ نہیں بلکہ استقبال کے ساتھ ہے قرآن میں ہے : ۔ وَالَّذِينَ هُمْ لِلزَّكاةِ فاعِلُونَ [ المؤمنون/ 4] اور وہ جو زکوۃ دیا کرتے ہیں ۔ یعنی وہ عبادت اس غرض سے کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں پاک کر دے یا وہ اپنے نفوس کو پاک کرنے کی غرض سے عبادت کرتے ہیں والما ل واحد ۔ لہذا للزکوۃ میں لام تعلیل کے لیے ہے جسے لام علت و قصد کہتے ہیں اور لام تعدیہ نہیں ہے حتیٰ کہ یہ فاعلون کا مفعول ہو ۔ انسان کے تزکیہ نفس کی دو صورتیں ہیں ایک تزکیہ بالفعل یعنی اچھے اعمال کے ذریعہ اپنے نفس کی اصلاح کرنا یہ طریق محمود ہے چناچہ آیت کریمہ : ۔ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاها [ الشمس/ 9] اور آیت : ۔ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّى [ الأعلی/ 14] میں تزکیہ سے یہی مراد ہیں ۔ دوسرے تزکیہ بالقول ہے جیسا کہ ایک ثقہ شخص دوسرے کے اچھے ہونیکی شہادت دیتا ہے ۔ اگر انسان خود اپنے اچھا ہونے کا دعوے ٰ کرے اور خود ستائی سے کام لے تو یہ مذموم ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے تزکیہ سے منع فرمایا ہے ۔ چناچہ ارشاد ہے ۔ فَلا تُزَكُّوا أَنْفُسَكُمْ [ النجم/ 32] اپنے آپ کو پاک نہ ٹھہراؤ ۔ اور یہ نہی تادیبی ہے کیونکہ انسان کا اپنے منہ آپ میاں مٹھو بننا نہ تو عقلا ہی درست ہے اور نہ ہی شرعا ۔ یہی وجہ ہے کہ جب ایک دانش مند سے پوچھا گیا کہ وہ کونسی بات ہے جو باوجود حق ہونے کے زیب نہیں دیتی تو اس نے جواب دیا مدح الانسان نفسہ کہ خود ستائی کرنا ۔
آیت ٣{ وَمَا یُدْرِیْکَ لَعَلَّہٗ یَزَّکّٰیٓ ۔ } ” اور (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کو کیا معلوم شاید کہ وہ تزکیہ حاصل کرتا۔ “ ممکن ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی گفتگو سے استفادہ کر کے وہ بلند درجات تک پہنچ جاتا۔
(80:3) وما یدریک لعلم یزکی : ما استفہامیہ ہے بمعنی کون۔ یدری مضارع کا صیغہ واحد مذکر غائب ادراء (افعال) مصدر۔ دری مادہ سے مجرد باب ضرب سے آتا ہے۔ جیسے ما کنت تدری ما الکتب (42:52) تم نہ تو کتاب کو جانتے تھے۔ باب افعال سے بمعنی دے۔ یعنی تم کو کہاں معلوم۔ تم کو اس کے حال پر کون واقف بنائے۔ ما استفہامیہ انکاریہ ہے بمعنی نفی کے ہے۔ علامہ پانی پتی اپنی تفسیر مظہری میں رقمطراز ہیں :۔ بہرحال اس لفظ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے ایک عذر مترشح ہے کہ تم واقف نہ تھے۔ اگر نابینا کے حال سے واقف ہوتے تو دوسروں کی طرف متوجہ اور اس کی طرف سے ردگرداں نہ ہوتے۔ آیت میں چند وجوہ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اعزار موجود ہے۔ (1) آغار کلام میں ہی اعراض کے سبب کو بصیغہ ماضٰ بیان کیا۔ مخاطب کا صیغہ ذکر نہیں کیا گویا مخاطب کے ذہن کو اس طرف موڑا کہ اس فعل کا صدور تم سے نہیں کسی اور سے ہوا۔ تم ایسے نہیں کہ ایسا کام تم سے صادر ہو۔ اس کی توجیہ اس طرح ہوگی کہ اعمال کا مدرانیت پر ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نیت اس کی طرف سے منہ موڑنے کی بالکل نہ تھی بلکہ آپ کا مقصد یہ تھا کہ یہ شخص تو مومن ہی ہے اگر اس کی تعلیم میں کچھ تاخیر بھی ہوجائے تو اس کا کچھ نقصان نہ ہوگا نہ اس کی طرف سے انحراف اور چلے جانے کا کوئی اندیشہ ہے۔ اور قریش کے سردار اپنی طرف سے میرے رخ کو پھرا دیکھ چلے جائیں گے انتظار نہیں کریں گے اور اگر یہ سردار مسلمان ہوگئے تو ان کے ساتھ بہت سے لوگ مسلمان ہوجائیں گے اور دائرہ اسلام وسیع ہوجائے گا۔ ان ہی مقاصد کے زیر اثر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عبد اللہ کی طرف سے منہ پھیرلیا۔ گویا واقعی طور پر ان کی طرف سے روگردانی نہیں کی اگرچہ ظاہری طور پر اس فعل کا وقوع ہوگیا۔ (2) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے معذرت بھی اشارہ بتادی کہ آپ ناواقف تھے ورنہ ایسا نہ کرتے۔ (3) صیغہ غائب سے صیغہ خطاب کی طرف کلام کا رخ پھیرنے سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مانوس بنانا اور آپ کے دل سے ملال دور کرنا مقصود ہے اور صیغہ غائب سے جو وہم پیدا ہوتا تھا کہ خدا نے آپ کو ساقط الالتفات سمجھ لیا ہے صیغہ خطاب سے اس وہم کا ازالہ کردینا مقصود ہے۔ (4) موجب عذر (عدم علم) کی اسناد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف صریحی تخاطب کے ساتھ بتارہی ہے کہ آپ سے جو فعل سرزد ہوگیا اس میں آپ معذور تھے۔ مختلف علماء نے اپنی اپنی تاویلات کی ہیں جن کا ما حاصل یہ ہے کہ آپ کا فعل نیک نیتی پر مبنی تھا۔ لعلم یزکی : لعل حرف مشبہ بالفعل ہے ترجی (امید یا خوف) پر دلدلت کرنے کے لئے اس کی وضع ہے اسم کو نصب اور خبر کو رفع دیتا ہے۔ جیسے لا تدری لعل اللہ یحدث بعد ذلک امرا (65:1) (اے طلاق دینے والے) تجھے کیا معلوم شاید خدا اس کے بعد کوئی (رجعت کی) سبیل پیدا کر دے۔ (نیز ملاحظہ ہو 11:12) ہ ضمیر فاعل واحد مذکر غائب الاعلمی کے لئے ہے۔ یزکی مضارع معروف صیغہ واحد مذکر غائب تزکی (تفعل) مصدر۔ اصل میں یتزکی تھا۔ ت کو ز میں مدغم کیا گیا ہے معنی پاکیزگی حاصل کرنا۔ پاک ہوجانا ۔ لعل حرف مشبہ بالفعل ہ اس کا اسم اس کا مرجع الاعمی ہے۔ یتزکی اس کی خبر۔ شاید کہ وہ کامل طور پر پاک ہوجاتا۔
وما یدریک ............ الذکری (4:80) ”” تمہیں کیا خبر ، شاید وہ سدھر جائے یا نصیحت پر دھیان دے اور نصیحت کرنا اس کے لئے نافع ہو “۔ آپ کو کیا معلوم کہ یہ عظیم بھلائی وقوع پذیر ہوجائے ، یہ کہ یہ اندھا فقیر پاک وصاف ہوجائے جو نہایت شوق سے آپ کے پاس آیا ہے ، ہدایت چاہتا ہے اور جب آپ اس کو ہدایت دیں تو اس کے لئے نفع بخش ہوجائے اور اس کے دل میں نور ربانی روشن ہوجائے اور زمین پر وہ اس طرح ہوجائیں جس طرح منارہ نور ہوتا ہے۔ اگر ایک دل میں ایمان بیٹھ جائے اور پوری طرح بیٹھ جائے تو اللہ کے نزدیک یہ ایک عظیم کام ہے۔ اب اس عتاب کا لہجہ ذرا اور تیز ہوتا ہے۔ بات کے اندر بھی ذرا سختی آجاتی ہے۔ اور یہ اظہار شدید عتاب کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔
3:۔ ” وما یدریک “ آپ کو کیا معلوم شاید وہ نابینا آپ سے قرآن سن کر ہی پاک ہوجاتا اور ” یذکر “ یا نصیحت سن کر اس میں غور و فکر کرتا اور اس طرح اس سے فائدہ اٹھاتا۔ ” یزر کی “ میں قبول کا اعلی درجہ کا ذکر ہے یعنی سنتے ہی اس سے متاثر ہو کر برائیوں سے پاک ہوجاتا میں ادنی مرتبہ مذکور ہے کہ غور و تدبر کے بعد اسے سمجھ لیتا۔