Surat Abas
Surah: 80
Verse: 32
سورة عبس
مَّتَاعًا لَّکُمۡ وَ لِاَنۡعَامِکُمۡ ﴿ؕ۳۲﴾
[As] enjoyment for you and your grazing livestock.
تمہارے استعمال و فائدہ کے لئے اور تمہارے چوپایوں کے لئے ۔
مَّتَاعًا لَّکُمۡ وَ لِاَنۡعَامِکُمۡ ﴿ؕ۳۲﴾
[As] enjoyment for you and your grazing livestock.
تمہارے استعمال و فائدہ کے لئے اور تمہارے چوپایوں کے لئے ۔
A provision and benefit for you and your cattle. meaning, a means of livelihood for you all and your cattle in this life until the (coming of) the Day of Judgement.
[١٨] ہر طرح کی نباتات اور پھل :۔ پھر ہم نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا کہ انسان کے لیے حیات بخش اشیاء اگا دیں بلکہ اس پر مزید احسان یہ کیا کہ ایسی اشیاء پیدا کیں جو حیات بخش ہونے کے ساتھ ساتھ خوشگوار لذیذ اور مزیدار بھی تھیں تاکہ انسان ایک ہی طرح کی خوراک سے اکتا نہ جائے۔ اس کے لیے طرح طرح کی سبزیاں اور ترکاریاں اگائیں۔ پھر ایسے پودے بھی اگائے جن سے انسان روغن حاصل کرسکے اور ایسے انواع و اقسام کے پھل بھی جن کے کھانے سے اسے لذت و سرور بھی حاصل ہو۔ پھر اس کے لیے مویشی پیدا کیے جن سے وہ گوشت، دودھ اور کئی دوسرے فوائد حاصل کرتا ہے۔ پھر ہر پودے اور درخت سے حاصل ہونے والی غذا کا بہترین حصہ تو انسان کی خوراک بنا اور جو حصہ اس کے حساب سے ناکارہ تھا وہ اس کے مویشیوں کی خوراک کے کام آیا۔ اب دیکھیے غلوں اور درختوں کے پھلوں کے پکنے میں زمین، سمندر، سورج، ہوائیں، چاند کی چاندنی اور کئی دوسری اشیاء اپنا اپنا فریضہ ادا کرتی ہیں تو تب جاکر انسان کو کھانے کو خوراک ملتی ہے۔ اور یہ سب چیزیں اللہ کی پیدا کردہ اور اسی کے حکم کے مطابق اپنے اپنے فرائض بجا لا رہی ہیں۔ پھر بھی انسان ایسا ناشکرا واقع ہوا ہے کہ اپنے پروردگار کے منہ کو آنے لگتا ہے اور انسان اس روزی کے سلسلے میں اللہ کا اس قدر محتاج ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کچھ عرصہ کے لیے بارش برسانا ہی روک لے تو انسان اور اس کے علاوہ زمین پر بسنے والی تمام جاندار مخلوق کا عرصہ حیات تنگ ہوجائے۔
متاعاً لکم ولا نعامکم : کائنات کا یہ عظیم الشان سلسلہ اور یہ تمام چیزیں تمہاری اور تمہارے ہی کام آنے والے جانوروں کی زندگی کے سامان کے لئے بنائی گئی ہیں۔ اب اپنے کفران نعمت کو دیکھو کہ میں تمہاری خاطر یہ سب کچھ بنا سکتا ہوں مگر تمہارے خیال میں تمہیں مرنے کے بعد زندہ نہیں کرسکتا۔ نہیں، میں تمہیں ضرور دوبارہ زندہ کروں گا۔ آگے قیامت کا ذکر فرمایا۔
مَّتَاعًا لَّكُمْ وَلِاَنْعَامِكُمْ ٣٢ ۭ متع الْمُتُوعُ : الامتداد والارتفاع . يقال : مَتَعَ النهار ومَتَعَ النّبات : إذا ارتفع في أول النّبات، والْمَتَاعُ : انتفاعٌ ممتدُّ الوقت، يقال : مَتَّعَهُ اللهُ بکذا، وأَمْتَعَهُ ، وتَمَتَّعَ به . قال تعالی: وَمَتَّعْناهُمْ إِلى حِينٍ [يونس/ 98] ، ( م ت ع ) المتوع کے معنی کیس چیز کا بڑھنا اور بلند ہونا کے ہیں جیسے متع النھار دن بلند ہوگیا ۔ متع النسبات ( پو دا بڑھ کر بلند ہوگیا المتاع عرصہ دراز تک فائدہ اٹھانا محاورہ ہے : ۔ متعہ اللہ بکذا وامتعہ اللہ اسے دیر تک فائدہ اٹھانے کا موقع دے تمتع بہ اس نے عرصہ دراز تک اس سے فائدہ اٹھایا قران میں ہے : ۔ وَمَتَّعْناهُمْ إِلى حِينٍ [يونس/ 98] اور ایک مدت تک ( فوائد دینوی سے ) ان کو بہرہ مندر کھا ۔ نعم ( جانور) [ والنَّعَمُ مختصٌّ بالإبل ] ، وجمْعُه : أَنْعَامٌ ، [ وتسمیتُهُ بذلک لکون الإبل عندهم أَعْظَمَ نِعْمةٍ ، لكِنِ الأَنْعَامُ تقال للإبل والبقر والغنم، ولا يقال لها أَنْعَامٌ حتی يكون في جملتها الإبل ] «1» . قال : وَجَعَلَ لَكُمْ مِنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعامِ ما تَرْكَبُونَ [ الزخرف/ 12] ، وَمِنَ الْأَنْعامِ حَمُولَةً وَفَرْشاً [ الأنعام/ 142] ، وقوله : فَاخْتَلَطَ بِهِ نَباتُ الْأَرْضِ مِمَّا يَأْكُلُ النَّاسُ وَالْأَنْعامُ [يونس/ 24] فَالْأَنْعَامُ هاهنا عامٌّ في الإبل وغیرها . ( ن ع م ) نعام النعم کا لفظ خاص کر اونٹوں پر بولا جاتا ہے اور اونٹوں کو نعم اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ عرب کے لئے سب سے بڑی نعمت تھے اس کی جمع انعام آتی ہے لیکن انعام کا لفظ بھیڑ بکری اونٹ اور گائے سب پر بولا جاتا ہے مگر ان جانوروں پر انعام کا لفظ اس وقت بولا جاتا ہے ۔ جب اونٹ بھی ان میں شامل ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَجَعَلَ لَكُمْ مِنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعامِ ما تَرْكَبُونَ [ الزخرف/ 12] اور تمہارے لئے کشتیاں اور چار پائے بنائے ۔ وَمِنَ الْأَنْعامِ حَمُولَةً وَفَرْشاً [ الأنعام/ 142] اور چار پایوں میں بوجھ اٹھا نے والے ( یعنی بڑے بڑے بھی ) پیدا کئے اور زمین سے لگے ہوئے ( یعنی چھوٹے چھوٹے بھی ۔ اور آیت کریمہ : ۔ فَاخْتَلَطَ بِهِ نَباتُ الْأَرْضِ مِمَّا يَأْكُلُ النَّاسُ وَالْأَنْعامُ [يونس/ 24] پھر اس کے ساتھ سبزہ جسے آدمی اور جانور کھاتے ہیں ۔ مل کر نکلا ۔ میں انعام کا لفظ عام ہے جو تمام جانوروں کو شامل ہے ۔
آیت ٣٢{ مَّتَاعًا لَّکُمْ وَلِاَنْعَامِکُمْ ۔ } ” ضرورت کا سامان تمہارے لیے بھی اور تمہارے مویشیوں کے لیے بھی۔ “ یہ آیت ہوبہو سورة النازعات میں (آیت ٣٣ کے طور پر) بھی آچکی ہے۔ جوڑا ہونے کے اعتبار سے ان دونوں سورتوں کے مضمون اور اسلوب میں بہت مشابہت پائی جاتی ہے۔
20 That is, "A means of sustenance not only for you but also for those animals from which you obtain items of food like meat, fat, milk, butter, etc. and which perform countless other services also for your living. You benefit by all this and yet you disbelieve in God Whose provisions sustain you."
سورة عَبَس حاشیہ نمبر :20 یعنی تمہارے ہی لیے نہیں بلکہ ان جانوروں کے لیے بھی جن سے تم کو گوشت ، چربی ، دودھ ، مکھن وغیرہ سامان خوراک حاصل ہوتا ہے اور جو تمہاری معیشت کے لیے ۔ بے شمار دوسری خدمات بھی انجام دیتے ہیں ۔ کیا یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ تم اس سروسامان سے متمتع ہو اور جس خدا کے رزق پر پل رہے ہو اسی سے کفر کرو؟
٣٢۔ ٤١۔ اوپر کی آیتوں میں انسان کے پیدا کرنے اور اس کی زیست بھر کے چند انتظاموں کا ذکر تھا ان آیتوں میں حشر کا ذکر فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ انسان کی پیدائش اور اس کی زیست بھر کے انتظام اسی انجام کے لئے ہیں کہ مرنے کے بعد ایک دفعہ اس کو پھر زندہ کیا جائے اور دنیا کے سب نیک و بد کا حساب و کتاب ہو کر ہر ایک کی جزا و سزا کا فیصلہ اخیر صادر ہوجائے۔ حاصل یہ کہ دنیا فیصلہ اخیر کی روداد جمع ہوجانے کے لئے ہے اور قیامت کا دن اس روداد کے موافق فیصلہ اخیر صادر کرنے کی پیشی کی تاریخ ہے اور تمام دنیا کے مختلف روداد کے مقدمات کا فیصلہ اخیر ایک ہی وقت ہوگا اس لئے دنیا کے ختم کے بعد کی یہ وسیع تاریخ پیشی قرار دی گئی دوسرے صور کے پھونکے جانے اور تمام دنیا کے قبروں سے اٹھنے کا جو بہت بڑا غل شور ہوگا اس کو صاخہ فرمایا۔ صاخہ اس سخت آواز کو کہتے ہیں جس سے کان گنگ ہوجائیں۔ حشر کے دن ایک رشتہ دار دوسرے رشتہ دار سے کچھ تو بدحواسی کے سبب سیب بھاگے گا کیونکہ عام لوگوں کی بدحواسی کا تو کیا ذکر ہے صحیح حدیثوں ١ ؎ کے مضمون کے موافق سوائے نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اور سب انبیاء کے زبان پر نفسی نفسی کا کلمہ ہوگا۔ عام خلائق کی بدحواسی کا اندازہ اس حدیث سے ہوسکتا ہے جو عبد اللہ بن عباس کی روایت سے ترمذی نسائی وغیرہ میں ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حشر کے ذکر میں جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ فرمایا کہ اس دن مرد عورت سب ننگے اٹھیں گے اس پر ایک بی بی نے عرض کیا کہ اس حالت میں تو ایک دوسرے کو ننگا دیکھیں گے۔ آپ نے فرمایا دوزخ کے میدان محشر میں لائے جانے سورج کے قریب ہوجانے کے سبب سے گرمی اور پسینہ کی تکلیف سب کو ایسا بدحواس کر دے گی کہ کوئی کسی کو ایسے وقت میں نہیں دیکھے گا۔ ترمذی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ علاوہ اس کے اس دن ایک رشتہ دار کا دوسرے رشتہ دار سے کترانے اور بھاگنے کا سبب یہ بھی ہوگا کہ اس دن آپس کے ظلم اور زیادتی کا انصاف کا ڈھنڈورا پٹ جائے گا۔ چناچہ مسند امام ٣ ؎ احمد میں معتبر سند سے عبد اللہ بن انیس کی روایت ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا آپس کے ظلم و زیادتی کے انصاف کے لئے قا۔ مت کے دن عام منادی کرا دی جائے گی کہ جس کا کوئی حق کسی پر ہو وہ اپنی فریاد پیش کرے اس کا انصاف کیا جائے گا جس پر ایک دوسرے سے ظلم و زیادتی کا بدلا چاہیں گے اور اس طرح کا سخت بدلا چاہیں گے جو بیان سے باہر ہے چناچہ مستدرک ٤ ؎ حاکم وغیرہ میں انس بن مالک (رض) سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن ایک بھائی اپنے بھائی پر ظلم و زیادتی کی فریاد پیش کرے گا اور اس ظلم و زیادتی کے معاوضہ میں اس کی سب نیکیاں لے کر اپنے گناہ اس پر ڈالنے کی خواہش کرے گا۔ یہ ذکر فرما کر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بہت روئے اور فرمایا اللہ کی پناہ وہ دن بھی کیا آپا دھاپی کا دن ہے حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ٥ ؎ ہے یہ تو اوپر گزر چکا ہے کہ اس دن سب ننگے اٹھیں گے روپے پیسے کا پاس ہونا تو درکنار کسی کے تن پر کپڑا تک نہ ہوگا اس لئے صحیح ٥ حدیثوں کے مضمون کے موافق اس دن ظلم و زیادتی کرنے والوں کے نیک عمل ظلم و زیادتی کے معاوضہ میں مظلوموں کو دیئے جائیں گے۔ اس دن بعض لوگوں کے چہروں پر رونق کا آجانا اور بعضوں کے سیاہی کا چھا جانا یہ اس وقت ہوگا جب دائیں اور بائیں ہاتھ میں اعمال نامے دے کر جنتی اور دوزخی کو چھانٹ دیا جائے گا۔ چناچہ ترمذی صحیح ٦ ؎ ابن حبان وغیرہ میں ابوہریرہ (رض) سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جن لوگوں کے اعمال نامے سیدھے ہاتھ میں دیئے جائیں گے ‘ جنت میں جانے کی خوشی سے ان کے چہروں پر رونق آجائے گی اور جن کے اعمال نامے الٹے ہاتھ میں دیئے جائیں گے ‘ دوزخ میں جانے کے غم سے ان کے چہروں پر سیاہی چھا جائے گی۔ ترمذی نے اس حدیث کو غریب کہا ہے لیکن مسند بزار میں عبد اللہ بن عباس کی ایک روایت ابوہریرہ (رض) کی اس روایت کے موافق ہے جس کو بزار نے صحیح کہا ہے اس لئے ایک روایت کی تقویت دوسری روایت سے ہوجاتی ہے۔ (٢ ؎ تفسیر الدر المنثور ص ٣١٤ ج ٦) (٣ ؎ جامع ترمذی تفسیر سورة عبس ص ١٩١ ج ٢) (١ ؎ تفسیر بان کثیر ص ٥٢٩ ج ٤ و تفسیر الدر المنثور ص ٣٧٠ ج ٦۔ ) (١ ؎ صحیح بخاری تفسیر سورة اخلاص ص ٧٤٣ ج ٢۔ ) (١ ؎ صحیح مسلم کتاب الزھد ص ٤٠٩ ج ٢) (١ ؎ صحیح بخاری کتاب الردعلی الجھمیۃ الخ ص ١١٠٦ ج ٢) (٣ ؎ الترغیب و الترہیب فصل فی ذکر الحساب ص ٧٧٢ ج ٤) (٤ ؎ الرغیب الترہیب فی ذکر الحساب ص ٧٧٦ ج ٤) (٥ ؎ ایضاً ) (٦ ؎ جامع ترمذی تفسیر سورة بنی اسرائیل ص ١٦٤ ج ٢۔ )
(80:32) متاعا لکم ولانعامکم یہ انبتنا کی علت ہے۔ ان چیزوں کو ہم نے تمہارے لئے اور تمہارے چوپاؤں کے لئے اگایا۔ متاعا منصوب ہے کیونکہ :۔ (1) یہ انبتنا کا مفعول لہ ہے۔ (2) یہ انبتنا کے لئے بطور مؤکدہ آیا ہے۔ کیونکہ اشیاء کا پیدا کرنا انسان اور حیوان دونوں کے لئے متاع حیات ہے۔ انعامکم : مضاف مضاف الیہ، تمہارے مویشی، بھیڑ، بکری، گائے، اونٹ مویشی کو اس وقت انعام نہیں کہا جاسکتا جب تک ان میں اونٹ داخل نہ ہوں۔ یہ نعم کی جمع ہے جس کے معنی اصل میں تو اونٹ کے ہیں مگر بھیڑ بکری اور گائے بھینس پر بھی بولا جاتا ہے۔
ف 13 یعنی ان میں سے بعض چیزیں ایسی ہیں جو تمہارے کام آتی ہیں اور بعض ایسی جو تمہارے جانوروں کے کام آتی ہیں۔
متاعا ................ مکم (32:80) ” تمہارے لئے اور تمہارے مویشیوں کے لئے سامان زیست کے طور پر “۔ ایک مقررہ وقت تک ۔ اور جب یہ دنیا ختم ہوگی تو یہ سامان زیست بھی ختم ہوگا کیونکہ اللہ نے اسے متاع حیات کے طور پر بنایا ہے۔ اس کے بعد پھر ایک دوسرا عظیم واقعہ ہوگا۔ وہ کیا ہوگا ؟ انسان کو چاہئے کہ اس کے واقع ہونے سے قبل ہی اس کے بارے میں غور کرے۔
﴿مَّتَاعًا لَّكُمْ وَ لِاَنْعَامِكُمْؕ٠٠٣٢﴾ اوپر جن چیزوں کا بیان ہوا انہیں تمہارے لیے اور تمہارے جانوروں کے فائدہ کے لیے پیدا فرمایا ہے، یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے انعامات ہیں ان کے ذریعہ انسان جیتا ہے زندگی گزارتا ہے اس پر لازم ہے کہ ان چیزوں میں غور کرے اور ان کے اور اپنے خالق کی طرف رجوع ہو۔ قولہ تعالیٰ ﴿وَّ اَبًّا ﴾ اختلف فی معناہ علٰی اقوال کثیرة فقیل ھو ماتا کلہ البھائم من العشب قال ابن عباس والحسن الابُّ كل ما انبتت الارض ممالا یاکلہ الناس ومایا کلہ الادمیون ھو الحصید، وعن ابن عباس ایضا وابن ابی طلحة الاب الثمار الرطبة، وقال الضحاک ھو التین خاصة وھو محکی عن ان عباس ایضا، وقال ابراھیم التیمی سئل ابوبکر الصدیق (رض) عن تفسیر الفاکھة والاب فقال ای سماء تظلنی وای ارض تقلنی اذا قلت فی کتاب اللہ ما لا اعلم وقال انس (رض) سمعت عمر بن الخطاب (رض) قرا ھذہ الایة ثم قال کل ھذا قد عرفناہ فما الاب ؟ ثم رفع عصا کانت بیدہ وقال ھذا لعمر اللہ التکلف وما علیک یا ابن ام عمر الا تدری ما الاب ثم قال اتبعوا مابین لکم من ھذا الکتاب وما لافدعوہ۔ (راجع تفسیر القرطبی الجزء التاسع عشر صفحہ ٢٢٢، ٢٢٣)
(32) یہ سب تمہارے اور تمہارے مواشی کے فائدہ کے لئے یعنی اس نباتات میں سے کچھ تم کھاتے ہو اور بعضی چیزیں تمہارے سے مواشی کھاتے ہیں یعنی غلہ تم کھاتے ہو اور بھوسا تمہارے ڈھو کھاتے ہیں، میوے تم کھاتے ہو اور پتے تمہارے مویشی کھاتے ہیں یہاں تک نعمتیں بیان فرمائیں جن میں ہر نعمت کا مقتضیٰ یہ ہے کہ انسان شکربجا لائے اور اس کی نعمتوں کی قدر کرے آگے قیامت کا اور ہرناشکرے کے لئے عقوبت اور شکر گزار کے لئے ثواب کا بیان ہے۔