Surat Abas

Surah: 80

Verse: 5

سورة عبس

اَمَّا مَنِ اسۡتَغۡنٰی ۙ﴿۵﴾

As for he who thinks himself without need,

جو بے پروائی کرتا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

فَأَنتَ لَهُ تَصَدَّى

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

5۔ 1 ایمان سے اور اس علم سے جو تیرے پاس اللہ کی طرف سے آیا ہے۔ یا دوسرا ترجمہ جو صاحب ثروت و غنا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(اما من استغنی …:” تصدی “ اصل میں ” تنصدی ‘ اور ” تلھی “ اصل میں ” تتلھی “ فعل مضارع مخاطب ہیں۔ یعنی جسے اپنی دولت اور سرداری کی وجہ سے آپ کی پرواہی نہیں آپ اس کے پیچھے پڑ رہے ہیں، حالانکہ اگر وہ کفر کی نجاست سے پاک نہیں ہوتا تو آپ پر کچھ الزام نہیں اور جو کوشش کر کے آیا ہے اور وہ اللہ سے ڈرتا ہے تو آپ سے بےتوجہی کرتے ہیں، حالانکہ آپ کی توجہ کا اصل حق دار وہ ہے جو طلب رکھتا ہے گونادار ہے، وہ نہیں جو بےپروا ہے خواہ سرمایہ دار ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَمَّا مَنِ اسْتَغْنٰى۝ ٥ ۙفَاَنْتَ لَہٗ تَصَدّٰى۝ ٦ ۭ «أمَّا» و «أمَّا» حرف يقتضي معنی أحد الشيئين، ويكرّر نحو : أَمَّا أَحَدُكُما فَيَسْقِي رَبَّهُ خَمْراً وَأَمَّا الْآخَرُ فَيُصْلَبُ [يوسف/ 41] ، ويبتدأ بها الکلام نحو : أمّا بعد فإنه كذا . ( ا ما حرف ) اما ۔ یہ کبھی حرف تفصیل ہوتا ہے ) اور احد اشیئین کے معنی دیتا ہے اور کلام میں مکرر استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ { أَمَّا أَحَدُكُمَا فَيَسْقِي رَبَّهُ خَمْرًا وَأَمَّا الْآخَرُ فَيُصْلَبُ } ( سورة يوسف 41) تم میں سے ایک ( جو پہلا خواب بیان کرنے ولا ہے وہ ) تو اپنے آقا کو شراب پلایا کریگا اور جو دوسرا ہے وہ سونی دیا جائے گا ۔ اور کبھی ابتداء کلام کے لئے آتا ہے جیسے امابعد فانہ کذا ۔ صدی الصَّدَى: صوت يرجع إليك من کلّ مکان صقیل، والتَّصْدِيَةُ : كلّ صوت يجري مجری الصَّدَى في أن لا غناء فيه، وقوله : وَما کانَ صَلاتُهُمْ عِنْدَ الْبَيْتِ إِلَّا مُكاءً وَتَصْدِيَةً [ الأنفال/ 35] ، أي : غناء ما يوردونه غناء الصّدى، ومکاء الطّير . والتَّصَدِّي : أن يقابل الشیء مقابلة الصَّدَى، أي : الصّوت الرّاجع من الجبل، قال : أَمَّا مَنِ اسْتَغْنى فَأَنْتَ لَهُ تَصَدَّى[ عبس/ 5- 6] ، والصَّدَى يقال لذکر البوم وللدّماغ لکون الدّماغ متصوّرا بصورة الصّدى، ولهذا يسمّى: هامة، وقولهم : أصمّ اللہ صَدَاهُ فدعاء عليه بالخرس، والمعنی: لا جعل اللہ له صوتا حتّى لا يكون له صدی يرجع إليه بصوته، وقد يقال للعطش : صَدَى، يقال : رجل صَدْيَانٌ ، وامرأة صَدْيَا، وصَادِيَةٌ. ( ص د ی ) الصدیٰ ۔ صدائے باز گشت جو کسی شفاف مکان سے ٹکرا کر واپس آئے اور التصدیہ ( تفعیل ) ہر اس آواز کو کہتے ہیں جو صدی کی طرح ہو یعنی جس کا کوئی مفہوم نہ ہو ۔ اور آیت : ۔ وَما کانَ صَلاتُهُمْ عِنْدَ الْبَيْتِ إِلَّا مُكاءً وَتَصْدِيَةً [ الأنفال/ 35] اور لوگوں کی نماز خانہ کعبہ کے پاس سیٹیاں اور تالیان بجانے کے سوا کچھ نہ تھی ۔ میں بتایا ہے کہ ان کی نماز بےمعنی ہونے میں صدی یا پرند کی چہچہا ہٹ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی ۔ التصدی صدائے باز گشت کی طرح کسی چیز کے درپے ہونا ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَمَّا مَنِ اسْتَغْنى فَأَنْتَ لَهُ تَصَدَّى[ عبس/ 5- 6] جو پرواہ انہیں کرتا اس کی طرف تم توجہ کرتے ہو ۔ الصدیٰ کے معنی بو مہ یا دماغ کے ہیں کیونکہ دماغ بھی بومہ کی شکل پر ہوتا ہے اسی لئے اس کو ہامہ بھی کہا جاتا ہے مشہور محاورہ ہے ۔ ( مثل ) اصم اللہ صداہ : خدا اسے ہلاک کرے یعنی اس میں آواز ہی نہ رہے حتیٰ کہ اس کی صدائے باز گشت آئے ۔ صد ی پیاس صد یان پیا سا آدمی امراءۃ صد یاء وصادیۃ : پیاسی عورت ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥۔ ١٦) سو جو شخص اللہ تعالیٰ سے بےپروائی کرتا ہے آپ اس کی طرف توجہ کرتے ہیں حالانکہ ان کے موحد نہ بننے کا آپ پر کوئی الزام نہیں اور جو شخص نیکی کے شوق میں آپ کے پاس دوڑ کر آتا ہے اور وہ اللہ سے ڈرتا ہے تو آپ اس پر توجہ نہیں کرتے ہیں۔ حالانکہ آپ کو ایسا نہ کرنا چاہیے اور حضرت ابن ام مکتوم پہلے ہی سے مشرف بااسلام ہوچکے تھے، چناچہ اس کے بعد جب حضرت ابن ام مکتوم آپ کے پاس آتے تو آپ ان کی بڑی خاطر و احترام کرتے، امیر ہو یا غریب یہ سورت سب کے لیے اللہ کی طرف سے ایک نصیحت کی چیز ہے لہذا جس کا دل چاہے نصیحت قبول کرے اور یہ قرآن ایسے صحیفوں میں ثبت ہے جو عنداللہ مکرم ہیں۔ رفیع المکان ہیں اور وہ شرک و برائی سے پاک ہیں جو ایسے لکھنے والوں یعنی فرشتوں کے ہاتھوں میں ہیں کہ وہ مکرم ہیں اور نیک کار ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥{ اَمَّا مَنِ اسْتَغْنٰی ۔ } ” لیکن وہ جو بےنیازی دکھاتا ہے۔ “ ایک ایسا شخص جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات سننے کو تیار نہیں ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(80:5) اما من استغنی : اما۔ لیکن۔ یا ۔ سو ۔ حرف شرط ہے۔ اور اکثر حالات میں تفصیل کے لئے آتا ہے اس صورت میں اما کا تکرار ضروری ہے اس کے شرط ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اس کے بعد حرف فاء کا آنا لازم ہے۔ یہاں اس آیت میں یہ تفصیل کے لئے استعمال ہوا ہے۔ من شرطیہ ہے۔ استغنی ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب استغناء (استفعال) مصدر لاپروائی کرنا۔ لیکن جس نے لا پروائی کی۔ جملہ شرطیہ ہے۔ اس شرط کا جواب فانت لہ تصدی ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 11 یا جو (ایمان اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نصیحت سے) بےنیاز بنتا ہے یعنی اس کی کوئی پروا نہیں کرتا۔ یہ دو ترجمے اس لحاظ سے ہیں کہ استغنی، کے معنی مالدار بننا بھی ہیں، اور بےنیاز بھی۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اما من .................... عنہ لتھی (5:80 تا 10) ” جو شخص بےپروائی برتتا ہے اس کی طرف تو تم توجہ کرتے ہو ، حالانکہ اگر وہ نہ سدھرے تو تم پر اس کی کیا ذمہ داری ہے ؟ اور جو خود تمہارے پاس دوڑا آتا ہے اور ڈر رہا ہوتا ہے ، اس سے تم بےرخی برتتے ہو “۔ یعنی جو آپ سے ، آپ کے دین سے ، آپ کے پاس موجود ہدایت ، بھلائی سے ، نور اور طہارت سے جو قرآن کریم کی شکل میں ہے ان سب خزانوں سے بےپروائی برتتا ہے تو ایسے شخص کو آپ اہمیت دیتے ہیں ، اس کی ہدایت کے لئے جدوجہد کرتے ہیں۔ آپ اس کے درپے ہوتے ہیں اور وہ آپ سے منہ موڑارہا ہوتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

4:۔ ” اما من استغنی “ جو ایمان سے اور آپ کی دعوت و تبلیغ سے مستغنی اور بےنیاز ہیں آپ ان کے درپے ہیں اور غور سے ان کی باتیں سنتے ہیں۔ اگر وہ ایمان نہ لائیں اور کفر و شرک سے پاک نہ ہوں تو اس سے آپ پر کوئی گناہ نہیں، کیونکہ آپ کا کام بتانا، سنان اور سمجھانا ہی منوانا آپ کا کام نہیں۔ اس سے مراد صنادید قریش ہیں جو آپ کی دعوت و تبلیغ میں کوئی حقیقی دلچسپی نہیں لیتے تھے۔ واما من جاءک “ لیکن جو شخص یعنی ابن ام مکتوم بڑے شوق سے دوڑتا ہوا آپ کے پاس آتا ہے اور وہ خدا سے ڈرتا بھی ہے۔ ہدایت کا متمنی اور راہ حق کا جو یا بھی ہے آپ اس سے اعراض کرتے اور اس سے غفلت کا برتاؤ فرماتے ہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(5) تو وہ شخص جو بےپروائی کرتا ہے یعنی دین حق سے مراد رئوسائے قریش ہیں جو اپنے غرور ونخوت کی بنا پر اسلام قبول کرنے سے بےپروائی اور بےنیازی کا برتائو کیا کرتے ہیں۔