Surat ul Infitaar

Surah: 82

Verse: 4

سورة الإنفطار

وَ اِذَا الۡقُبُوۡرُ بُعۡثِرَتۡ ۙ﴿۴﴾

And when the [contents of] graves are scattered,

اور جب قبریں ( شق کر کے ) اکھاڑ دی جائیں گی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And when the graves Bu`thirat. Ibn Abbas said, "searched." As-Suddi said, "Tub`athiru means that they will be moved and those who are in them will come out." عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَأَخَّرَتْ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

4۔ 1 یعنی قبروں سے مردے زندہ ہو کر نکل آئیں گے یا ان کی مٹی پلٹ دی جائے گی۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥] بعثر کا لغوی مفہوم :۔ بُعْثِرَتْ ۔ بعثر دراصل دو لفظوں کا مرکب ہے۔ بعث اور عثر کا۔ بعث کا ایک معنی (زمین وغیرہ کا) کھودنا اور ڈھونڈنا یا ڈھونڈھ نکالنا بھی ہے۔ اور عثر کے معنی کسی دوسری چیز کے دوران کسی اور چیز کا خود بخود ظاہر ہوجانا، کھل جانا یا سامنے آجانا۔ مطلب یہ ہے کہ جب قبروں کو الٹ پلٹ کیا اور کھودا جائے گا تو مردے خود بخود زمین سے باہر نکل پڑیں گے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(واذا القبور بعثرت :) دوسرے نفخہ سے قبریں پھٹیں گی اور مردے زندہ ہو کر باہر نکل آئیں گے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْ۝ ٤ ۙ قبر القَبْرُ : مقرّ الميّت، ومصدر قَبَرْتُهُ : جعلته في القَبْرِ ، وأَقْبَرْتُهُ : جعلت له مکانا يُقْبَرُ فيه . نحو : أسقیته : جعلت له ما يسقی منه . قال تعالی: ثُمَّ أَماتَهُ فَأَقْبَرَهُ [ عبس/ 21] ، قيل : معناه ألهم كيف يدفن، والْمَقْبَرَةُ والْمِقْبَرَةُ موضع الْقُبُورِ ، وجمعها : مَقَابِرُ. قال : حَتَّى زُرْتُمُ الْمَقابِرَ [ التکاثر/ 2] ، كناية عن الموت . وقوله : إِذا بُعْثِرَ ما فِي الْقُبُورِ [ العادیات/ 9] ، إشارة إلى حال البعث . وقیل : إشارة إلى حين كشف السّرائر، فإنّ أحوال الإنسان ما دام في الدّنيا مستورة كأنّها مَقْبُورَةٌ ، فتکون القبور علی طریق الاستعارة، وقیل : معناه إذا زالت الجهالة بالموت، فكأنّ الکافر والجاهل ما دام في الدّنيا فهو مَقْبُورٌ ، فإذا مات فقد أنشر وأخرج من قبره . أي : من جهالته، وذلک حسبما روي : ( الإنسان نائم فإذا مات انتبه) «2» وإلى هذا المعنی أشار بقوله : وَما أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَنْ فِي الْقُبُورِ [ فاطر/ 22] ، أي : الذین هم في حکم الأموات . ( ق ب ر ) القبر کے معنی میت کو دفن کرنے جگہ کے ہیں اگر یہ قبرتہ ( ضرب ونصر ) کا مصدر ہو تو اس کے میت کو قبر میں دفن کر نیکے ہوتے ہیں ۔ اوراقبرتہ کے معنی کیس کیلئے قبر مہیا کرنے کے ہیں تاکہ اسے دفن کیا جائے جیسے اسقینہ کے معنی پینے کے لئے پانی مہیا کرنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ ثُمَّ أَماتَهُ فَأَقْبَرَهُ [ عبس/ 21] پھر اس کو موت دی ۔ پھر قبر میں دفن کرایا ۔ بعض نے اقبرہ کے معنی یہ کئے ہیں کہ اسے الہام کردیا کہ کس طرح میت کو دفن کیا جائے ۔ المقبرۃ والمقبرۃ ( قبر ستان ) جمع مقابر قرآن میں سے : ۔ حَتَّى زُرْتُمُ الْمَقابِرَ [ التکاثر/ 2] یہاں تک کہ تم نے قبریں جا دیکھیں ۔ یہ موت سے کنایہ ہے اور آیت کریمہ : ۔ إِذا بُعْثِرَ ما فِي الْقُبُورِ [ العادیات/ 9] کہ جو مردے قبروں میں ہیں وہ باہر نکال لئے جائیں گے ۔ میں حیات بعد الممات یعنی موت کے بعد زندہ ہونے کی طرف اشارہ ہے ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ دلوں کے اسرار ظاہر کردینے کی طرف اشارہ ہے کیونکہ جب تک انسان دنیا میں رہتا ہے اس کے بھید مستور رہتے ہیں گویا قبر میں مدفون ہیں تو یہاں قبور سے مجازا دل مراد ہیں بعض نے اس کے معنی یہ کئے ہیں کہ جب موت کی وجہ سے جہالت کا پردہ اٹھ جائے گا گو یا کا فر اور جاہل جب تک دنیا میں رہتے ہیں جہالت کی قبروں میں مدفون رہتے ہیں چونکہ مرنے کے بعد وہ جہالت دور ہوجاتی ہے ۔ تو گویا وہ قبر جہالت سے دوبارہ زندہ کر کے نکالے گئے ہیں ۔ جیسا کہ مروی ہے الانسان نائم اذا مات کہ انسان دنیامیں سویا رہتا ہے جب موت آکر دستک دیتی ہے تو اس کی آنکھیں کھلتی ہیں اور اسی معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : ۔ وَما أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَنْ فِي الْقُبُورِ [ فاطر/ 22] اور تم ان کو جو قبروں میں مدفون ہیں نہیں سنا سکتے ۔ یعنی جو لوگ جہالت کے گڑھے میں گرنے کی وجہ سے مردوں کے حکم میں ہیں ۔ بعثر قال اللہ تعالی: وَإِذَا الْقُبُورُ بُعْثِرَتْ [ الانفطار/ 4] ، أي : قلب ترابها وأثير ما فيها، ومن رأى تركيب الرباعي والخماسيّ من ثلاثيين نحو : تهلل وبسمل : إذا قال : لا إله إلا اللہ وبسم اللہ يقول : إنّ بعثر مركّب من : بعث وأثير، وهذا لا يبعد في هذا الحرف، فإنّ البعثرة تتضمن معنی بعث وأثير . ( ب ع ثر ) وَإِذَا الْقُبُورُ بُعْثِرَتْ [ الانفطار/ 4] میں ببعثرت کے معنی قبروں کی مٹی کو الٹ پلٹ کرنے اور مردوں کو اٹھانے کے ہیں ۔ جن علماء کے نزدیک رباعی اور خماسی دو ثلاثی مادوں سے مل کر بنتے ہیں ان کے خیال میں بعثرت بعث اور اثیر سے مل کر بنا ہے جیسا کہ سے بنے ہیں ۔ اور اس میں کچھ بعد نہیں ہے کیونکہ البعثیرۃ میں ان دونوں فعلوں کے معنی موجود ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور جب قبروں میں سے مردے نکل کھڑے ہوں گے تو اس وقت ہر ایک شخص اپنے اگلے اور پچھلے اعمال جان لے گا خواہ نیکی ہو یا گناہ۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

2 In the first three verses, the first stage of the Resurrection has been mentioned, and in this verse the second stage is being described. "Opening of the graves" implies resurrection of the dead then.

سورة الْاِنْفِطَار حاشیہ نمبر :2 پہلی تین آیتوں میں قیامت کے پہلے مرحلے کا ذکر ہے اور اس آیت میں دوسرا مرحلہ بیان کیا گیا ہے ۔ قبروں کے کھولے جانے سے مراد لوگوں کا از سر نو زندہ کر کے اٹھایا جانا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(82:4) واذا القبور بعثرت : بعثرت ماضی مجہول واحد مؤنث غائب بعثرۃ (فعلل۔ رباعی مجرد) مصدر سے۔ بمعنی الٹ پلٹ کرنا، بکھیرنا۔ سامان کو الٹنا پلٹنا۔ جن علما کی رائے ہے کہ رباعی و خماسی دو ثلاتی سے مل کر بنتی ہے ان کے خیال میں بعثر : بعث اور اثیر سے مل کر بنا ہے اور یہ بات کچھ بعید نہیں ہے کیونکہ بعثرۃ میں دونوں فعلوں کے معنی موجود ہیں پس جس طرح بسمل (اس نے بسم اللہ پڑھی) اور ہلل (اس نے لا الہ الا اللہ پڑجا) بنا ہے اسی طرح لفظ بعثرۃ بعث اور اثارۃ سے بن گیا ہے۔ جب قبریں زیر و زیر کردی جائیں گے یعنی مردوں کو ازسر نو زندہ کرکے قبروں سے اٹھایا جائے گا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(4) اور جب قبریں زیروزبر کردی جائیں اس سورت میں مثل سابقہ سورتوں کے قیامت اور مجازاۃ کا بیان ہے چناچہ ارشا فرمایا جس وقت آسمان پھٹ جائے اور جب آسمان پھٹ پڑے گا تو ستارے بےنور ہوکر جھڑ پڑیں گے دریا سب کے سب ملاکر بہادیئے جائیں گے یعنی میٹھے اور کھاری دریا مل کر بہیں اور درمیان میں سے حجاب ہٹ جائیں اور مل کر بہنے کے بعدان میں جوش اور طغیانی پیدا ہو اور ان میں دھواں اور آگ پیدا ہو اور سب دریاخشک ہوجائیں پہاڑوں کا ریت اور دوسری قسم کا کو ڑاکرکٹ اور مٹی وغیرہ اس میں پڑجائے اور دریائوں کا نام ونسان باقی نہ رہے۔ یہ تین باتیں نفخہ اولیٰ کے وقت ہوں گی اور قبروں کا زیروزبر ہونا اور قبروں کا اکھیڑا جانا یہ نفخہ ثانیہ کے بعد ہوگا یعنی جو کچھ زمین کی تہ میں ہوگا سب اوپر آجائے گا اور مردے بھی باہر نکل آئیں گے اور سونا چاندی بھی جو زمین کی تہ میں ہے وہ بھی باہر آجائے گا جیسا کہ سورة انشقاق میں آجائے گا علامات قیامت میں سے یہ بھی ایک علامت ہے کہ زمین اپنے اندر کی تمام چیزیں اگل دے گی ایک ترتیب تعمیر کے لئے گزر چکی ہے۔ ان سورتوں میں تخریب کی ترتیب ہے جس کسی مکان کی تخریب مقصود ہوتی ہے تو پہلے اس کی چھت گراتے ہیں پھر دوسری چیزوں کو برباد کرتے ہیں اسی طرح اول آسمان کی تخریب کا ذکر ہے جس کے ساتھ ساتھ ستاروں کا جھڑجانا ضروری ہے پھر دریائوں کو خشک کردینا اور پانی کے نظام کو برباد کردینے کا ذکر فرمایا اس کے بعد زمین کے زیروزبر کرنے کا ذکر کیا اور اس طرح پو رہے عالم کی تخریب کے بعد نیا عالم یعنی عالم آخرت قائم کیا گیا۔ فسبحن الذی بیدہ ملکوت کل شئی والیہ ترجعون۔