Surat ul Burooj

Surah: 85

Verse: 13

سورة البروج

اِنَّہٗ ہُوَ یُبۡدِئُ وَ یُعِیۡدُ ﴿ۚ۱۳﴾

Indeed, it is He who originates [creation] and repeats.

وہی پہلی مرتبہ پیدا کرتا ہے وہی دوبارہ پیدا کرے گا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Verily, He it is Who begins and repeats. meaning, from His perfect strength and power is that He begins the creation, and He repeats it just as He began it, without opposition or resistance. وَهُوَ الْغَفُورُ الْوَدُودُ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

13۔ 1 یعنی وہی اپنی قوت اور قدرت کاملہ سے پہلی مرتبہ پیدا کرتا ہے اور پھر قیامت والے دن دوبارہ انہیں اسی طرح پیدا کرے گا جس طرح اس نے پہلی مرتبہ پیدا کیا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

انہ ھو یبدی و یعید : یہ نہ سمجھنا کہ دنیا میں تمہارے ظلم و ستم پر باز پرس نہیں ہوئی تو مرنے کے بعد بھی نہیں ہوگی، جس نے تمہیں پہلے پیدا کیا وہی دوبارہ زندہ کر کے تمہیں تمہارا اعمال کی جزا دے گا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّہٗ ہُوَيُبْدِئُ وَيُعِيْدُ۝ ١٣ ۚ بدأ يقال : بَدَأْتُ بکذا وأَبْدَأْتُ وابْتَدَأْتُ ، أي : قدّمت، والبَدْءُ والابتداء : تقدیم الشیء علی غيره ضربا من التقدیم . قال تعالی: وَبَدَأَ خَلْقَ الْإِنْسانِ مِنْ طِينٍ [ السجدة/ 7] ( ب د ء ) بدء ات بکذا وابتدءات میں نے اسے مقدم کیا ۔ اس کے ساتھ ابتدا کی ۔ البداء والابتداء ۔ ایک چیز کو دوسری پر کسی طور مقدم کرنا قرآن میں ہے { وَبَدَأَ خَلْقَ الْإِنْسَانِ مِنْ طِينٍ } ( سورة السجدة 7) اور انسان کی پیدائش کو مٹی سے شروع کیا ۔ عود الْعَوْدُ : الرّجوع إلى الشیء بعد الانصراف عنه إمّا انصرافا بالذات، أو بالقول والعزیمة . قال تعالی: رَبَّنا أَخْرِجْنا مِنْها فَإِنْ عُدْنا فَإِنَّا ظالِمُونَ [ المؤمنون/ 107] ( ع و د ) العود ( ن) کسی کام کو ابتداء کرنے کے بعد دوبارہ اس کی طرف پلٹنے کو عود کہاجاتا ہی خواہ وہ پلٹا ھذایۃ ہو ۔ یا قول وعزم سے ہو ۔ قرآن میں ہے : رَبَّنا أَخْرِجْنا مِنْها فَإِنْ عُدْنا فَإِنَّا ظالِمُونَ [ المؤمنون/ 107] اے پروردگار ہم کو اس میں سے نکال دے اگر ہم پھر ( ایسے کام ) کریں تو ظالم ہوں گے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٣{ اِنَّہٗ ہُوَ یُـبْدِئُ وَیُعِیْدُ ۔ } ” وہی ہے جو پہلی مرتبہ پیدا کرتا ہے اور وہی اعادہ بھی کرے گا۔ “ جب اس نے انسان کو پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے تو دوسری مرتبہ وہ اسے پیدا کرنے پر بھلا کیونکر قادر نہیں ہوگا ؟

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(85:13) انہ ھو یبدی ویعید : یبدی مضارع واحد مذکر غائب ابداء (افعال) مصدر سے وہ ایجاد کرتا ہے وہ تخلیق اول کرتا ہے۔ ب و ء مادہ۔ اسی مادہ سے باب افتعال سے : ابتداء بمعنی شروع کرنا ہے۔ یعید۔ مضارع معروف واحد مذکر غائب : اعادۃ (افعال) مصدر سے لوٹانا۔ اعادہ کرنا۔ دوبارہ پیدا کرنا۔ وہ دوبارہ پیدا کرے گا

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 معلوم ہوا کہ سارا اختیار اسی کا ہے لہٰذا اس کے عذاب سے ڈرنا چاہیے یا یہ کہ وہی مجرموں کو دنیا میں سزا دیتا ہے اور وہی آخرت میں سزا دیگا ابن جریر نے اسی مفہوم کو اختیار کیا ہے۔ (شوکانی) شاہ صاحب لکھتے ہیں :’ د یعنی دنیا کا عذاب اور (پھر) آخرت کا

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اصولی طور پر ابتدا اور اعادہ حیات کا مفہوم ابتدائے حیات اور موت کے بعد قیامت میں حیات ثانی کے ساتھ مختص ہے۔ لیکن رات اور دن کے ہر لمحہ میں آغاز حیات اور اعادہ حیات کا عمل مسلسل جاری ہے۔ ہر لمحہ آغاز حیات اور تخلیق حیات کا عمل جاری ہے۔ اللہ نے ایک ایسا نظام وضع کیا ہے جس کے ذریعہ حیات کا تسلسل قائم ہے۔ جو چیز ہوتی ہے اس کا اعادہ ہوتا رہتا ہے۔ اور یہ کائنات مسلسل نئی زندگی پاتی رہتی ہے۔ آغاز اور اعادہ کے اس مسلسل نظام میں اصحاب اخدود کا واقعہ بھی اپنے نتائج کے ساتھ گزر گیا۔ اللہ نے ایسا ہی طے کیا تھا ، جو ہوگیا اور ایسے ہی واقعات ہوتے رہیں گے۔ یہ واقعہ آغاز تھا جس کا اعادہ ہوگا ، یا اس قسم کے پہلے واقعات کا اعادہ تھا ، بہرحال اس دنیا میں واقعات کی ابتدا بھی ہوتی ہے اور اعادہ بھی ہوتا ہے اور یہ سب اللہ کی کتاب تقدیر کے مطابق ہوتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

9:۔ ” انہ ھو “ یہ بھی دوسرے شاہد سے متعلق ہے اللہ تعالیٰ ہی پہلی بار سب کو پیدا کرنے والا ہے اور وہی سب کو دوبارہ پیدا کرے گا وہ توبہ کرنے والوں کو بخشنے والا، فرمانبرداروں سے محبت کرنے والا عرش عظیم کا مالک، بڑی شان والا ہے وہ ان تمام خوبیوں کا مالک ہے لیکن ” فعال لما یرید “ بھی ہے وہ جو ارادہ فرمالے اس کو پورا کرنے والا بھی ہے۔ اس میں تخویف اخروی کی طرف اشارہ ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(13) بیشک وہی پہلی مرتبہ پیدا کرتا ہے اور وہی دوبارہ بھی پیدا کرے گا یعنی جس کو اس نے پہلی مرتبہ پیدا کیا اس کا اعادہ بھی کرسکتا ہے پس قیامت کا واقع ہونا اور منکروں کو سزا ملنی یقینی ہے اور ہوسکتا ہے کہ اس سے دنیا اور آخرت کا عذاب مراد ہو۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی دنیا کا عذاب اور آخرت کا۔ خلاصہ : یہ کہ جو دنیا میں گرفت کرسکتا ہے وہی آخرت میں بھی گرفت کرے گا۔