Surat ul Burooj
Surah: 85
Verse: 4
سورة البروج
قُتِلَ اَصۡحٰبُ الۡاُخۡدُوۡدِ ۙ﴿۴﴾
Cursed were the companions of the trench
۔ ( کہ ) خندقوں والے ہلاک کئے گئے ۔
قُتِلَ اَصۡحٰبُ الۡاُخۡدُوۡدِ ۙ﴿۴﴾
Cursed were the companions of the trench
۔ ( کہ ) خندقوں والے ہلاک کئے گئے ۔
Cursed were (Qutila) the People of the Ditch (Ukhdud). meaning, the companions of the Ukhdud were cursed. The plural of Ukhdud is Akhadid, which means ditches in the ground. This is information about a group of people who were among the disbelievers. They went after those among them who believed in Allah and they attempted to force them to give up their religion. However, the believers refused to recant, so they dug a ditch for them in the ground. Then they lit a fire in it and prepared some fuel for it in order to keep it ablaze. Then they tried to convince them (the believers) to apostate from their religion (again), but they still refused them. So they threw them into the fire. Thus, Allah says, قُتِلَ أَصْحَـبُ الاٍّخْدُودِ النَّارِ ذَاتِ الْوَقُودِ
4۔ 1 یعنی جن لوگوں نے خندقیں کھود کر اس میں رب کے ماننے والوں کو ہلاک کیا، ان کے لئے ہلاکت اور بربادی ہے قتل بمعنی لعن۔
[٣] اُخدود۔ الخدّ والاخدود۔ اخدود کا لفظ صاحب منجد کے نزدیک واحد ہے جبکہ بعض دوسرے اسے خدّ کی جمع بتاتے ہیں۔ بمعنی ایک لمبا اور گہرا گڑھا جو خود کھودا گیا ہو بمعنی خندق اور جمع کی صورت میں اس کا معنی خندقیں ہوگا۔
(١) قتل اصحب الاخدود :” خد یخد خدا “ (ي)” الارض وفی الارض “ زمین میں لمبا گڑھا کھودنا۔” الاخدود “ لمبا گڑھا۔ خندق، کھائی۔ اس کی جمع ” اخادید “ ہے۔ یعنی عظیم الشان برجوں والا آسمان، قیامت کا دن، کسی بھی مقام پر حاضر ہونے والے لوگ اور کوئی بھی موقع جس میں لوگ حاضر ہوتے ہیں، یہ سب چیزیں اگر اپنا وجود رکھتی ہیں اور یقیناً ان کے وجود میں کوئی شبہ نہیں تو یہ بات بھی یقینی سمجھو کہ جن لوگوں نے بڑی بڑی خندقیں کھدوا کر انہیں آگ سے بھرا ، پھر جو اہل ایمان اپنے ایمان پر ڈٹے رہے اور مرتد نہ ہوئے انہیں اس آگ میں پھینک کر ان کے جلنے کا تماشا دیکھتے رہے ، وہ مارے گئے، کیونا کہ وہ زبردست ہستی جو ان برجوں والے آسمان کو تھامے ہوئے ہے، جس نے انصاف کیلئے قیامت کا دن مارے گئے، کیونکہ وہ زبردست ہستی جو ان پر جوں والے آسمان کو تھامے ہوئے ہے، جس نے انصاف کیلئے قیامت کا دن مقرر کر رکھا ہے اور جس کی نگاہ سے نہ کسی جگہ کوئی حاضر ہونے والا غائب ہے اور نہ حاضری کا کوئی موقع ، وہ ان سنگ دل ظالموں کو ان کے ظلم کی سزا ضرور دے گا اور وہ نہ اس کی نگاہ سے غائب ہو سکیں گے اور نہ عذاب سے بچ سکیں گے۔ (٢) دنیا میں ایسے کئی واقعات ہوئے جن میں اہل ایمان کو خندق کھود کر آگ میں جلا دیا گیا، سند کے لحاظ سے سب سے صحیح ایک کافر بادشاہ کا وہ طویل واقعہ ہے جو صحیح مسلم میں صہیب (رض) عنہمانے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کیا ہے۔ حدیث لمبی ہے، اس کے آخر میں ہے کہ اس کافر بادشاہ کی رعایا کے لوگ مسلمان ہوگئے تو اس نے گلیوں کے کناروں پر گڑھے کھدوا کر ان میں اگ بھڑکائی اور حکم دیا کہ جو شخص اسلام نہ چھوڑے اسے آگ میں پھینک دو ، چناچہ اہل ایمان جو ان گڑھوں میں پھینک دیا گیا۔ مفصل واقعہ کیلئے دیکھیے صحیح مسلم میں ” باب قصۃ اصحاب الاخدود (٣٠٠٥) ۔ “ تفسیر ابن کثیر میں مومنوں کو آگ میں جلائے جانے کے مزید واقعات بھی موجود ہیں۔
قُتِلَ اَصْحٰبُ الْاُخْدُوْدِ ٤ ۙ قتل أصل القَتْلِ : إزالة الروح عن الجسد کالموت، لکن إذا اعتبر بفعل المتولّي لذلک يقال : قَتْلٌ ، وإذا اعتبر بفوت الحیاة يقال : موت . قال تعالی: أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144] ( ق ت ل ) القتل ( ن ) الموت کی طرح اس کے معنی بھی جسم سے روح کو زائل کرنے کے ہیں لیکن موت اور قتل میں فرق یہ ہے کہ اگر اس فعل کو سرا انجام دینے والے کا اعتبار کیا جائے تو اسے قتل کہا جاتا ہے اور اگر صرف روح کے فوت ہونے کا اعتبار کیا جائے تو اسے موت کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں قرآن میں ہے : ۔ أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144] صحب الصَّاحِبُ : الملازم إنسانا کان أو حيوانا، أو مکانا، أو زمانا . ولا فرق بين أن تکون مُصَاحَبَتُهُ بالبدن۔ وهو الأصل والأكثر۔ ، أو بالعناية والهمّة، ويقال للمالک للشیء : هو صاحبه، وکذلک لمن يملک التّصرّف فيه . قال تعالی: إِذْ يَقُولُ لِصاحِبِهِ لا تَحْزَنْ [ التوبة/ 40] قالَ لَهُ صاحِبُهُ وَهُوَ يُحاوِرُهُ [ الكهف/ 34] ، أَمْ حَسِبْتَ أَنَّ أَصْحابَ الْكَهْفِ وَالرَّقِيمِ [ الكهف/ 9] ، وَأَصْحابِ مَدْيَنَ [ الحج/ 44] ، أَصْحابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيها خالِدُونَ [ البقرة/ 82] ، أَصْحابُ النَّارِ هُمْ فِيها خالِدُونَ [ البقرة/ 217] ، مِنْ أَصْحابِ السَّعِيرِ [ فاطر/ 6] ، وأما قوله : وَما جَعَلْنا أَصْحابَ النَّارِ إِلَّا مَلائِكَةً [ المدثر/ 31] أي : الموکّلين بها لا المعذّبين بها كما تقدّم . وقد يضاف الصَّاحِبُ إلى مسوسه نحو : صاحب الجیش، وإلى سائسه نحو : صاحب الأمير . والْمُصَاحَبَةُ والِاصْطِحَابُ أبلغ من الاجتماع، لأجل أنّ المصاحبة تقتضي طول لبثه، فكلّ اصْطِحَابٍ اجتماع، ولیس کلّ اجتماع اصطحابا، وقوله : وَلا تَكُنْ كَصاحِبِ الْحُوتِ [ القلم/ 48] ، وقوله : ثُمَّ تَتَفَكَّرُوا ما بصاحبِكُمْ مِنْ جِنَّةٍ [ سبأ/ 46] ، وقد سمّي النبيّ عليه السلام صاحبهم تنبيها أنّكم صحبتموه، وجرّبتموه وعرفتموه ظاهره وباطنه، ولم تجدوا به خبلا وجنّة، وکذلک قوله : وَما صاحِبُكُمْ بِمَجْنُونٍ [ التکوير/ 22] . والْإِصحَابُ للشیء : الانقیاد له . وأصله أن يصير له صاحبا، ويقال : أَصْحَبَ فلان : إذا كَبُرَ ابنه فصار صاحبه، وأَصْحَبَ فلان فلانا : جعل صاحبا له . قال : وَلا هُمْ مِنَّا يُصْحَبُونَ [ الأنبیاء/ 43] ، أي : لا يكون لهم من جهتنا ما يَصْحَبُهُمْ من سكينة وروح وترفیق، ونحو ذلک ممّا يصحبه أولیاء ه، وأديم مصحب : أُصْحِبَ الشّعر الذي عليه ولم يُجَزَّ عنه . ( ص ح ب ) الصاحب ۔ کے معنی ہیں ہمیشہ ساتھ رہنے والا ۔ خواہ وہ کسی انسان یا حیوان کے ساتھ رہے یا مکان یا زمان کے اور عام اس سے کہ وہ مصاحبت بدنی ہو جو کہ اصل اور اکثر ہے یا بذریعہ عنایت اور ہمت کے ہو جس کے متعلق کہ شاعر نے کہا ہے ( الطوایل ) ( اگر تو میری نظروں سے غائب ہے تو دل سے تو غائب نہیں ہے ) اور حزف میں صاحب صرف اسی کو کہا جاتا ہے جو عام طور پر ساتھ رہے اور کبھی کسی چیز کے مالک کو بھی ھو صاحبہ کہہ دیا جاتا ہے اسی طرح اس کو بھی جو کسی چیز میں تصرف کا مالک ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِذْ يَقُولُ لِصاحِبِهِ لا تَحْزَنْ [ التوبة/ 40] اس وقت پیغمبر اپنے رفیق کو تسلی دیتے تھے کہ غم نہ کرو ۔ پیغمبر اپنے رفیق کو تسلی دیتے تھے کہ غم نہ کرو ۔ قالَ لَهُ صاحِبُهُ وَهُوَ يُحاوِرُهُ [ الكهف/ 34] تو اس کادوست جو اس سے گفتگو کر رہا تھا کہنے لگا ۔ أَمْ حَسِبْتَ أَنَّ أَصْحابَ الْكَهْفِ وَالرَّقِيمِ [ الكهف/ 9] کیا تم خیال کرتے ہو کہ غار اور لوح والے ۔ وَأَصْحابِ مَدْيَنَ [ الحج/ 44] اور مدین کے رہنے والے بھی ۔ أَصْحابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيها خالِدُونَ [ البقرة/ 82] وہ جنت کے مالک ہوں گے ( اور ) ہمیشہ اس میں ( عیش کرتے ) رہیں گے ۔ وَلا تَكُنْ كَصاحِبِ الْحُوتِ [ القلم/ 48] اور مچھلی ) کا لقمہ ہونے والے ( یونس (علیہ السلام) کی طرح نہ ہونا ۔ اور آیت : ۔ مِنْ أَصْحابِ السَّعِيرِ [ فاطر/ 6]( تاکہ وہ ) دوزخ والوں میں ہوں ۔ اور آیت کریمہ : وَما جَعَلْنا أَصْحابَ النَّارِ إِلَّا مَلائِكَةً [ المدثر/ 31] اور ہم نے دوزخ کے دروغہ فرشتے بنائے ہیں ۔ میں اصحاب النار سے دوزخی مراد نہیں ہیں بلکہ دوزخ کے داردغے مراد ہیں جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے ۔ پھر صاحب کا لفظ کبھی ان کی طرف مضاف ہو تو ہے جو کسی کے زیر نگرانی ہوتے ہیں جیسے صاحب الجیش ( فوج کا حاکم اور کبھی حاکم کی طرف جیسے صاحب الاسیر ( بادشاہ کا وزیر ) المصاحبۃ والا صطحاب میں بنسبت لفظ الاجتماع کے مبالغہ پایا جاتا ہے کیونکہ مصاحبۃ کا لفظ عرصہ دراز تک ساتھ رہنے کو مقتضی ہے اور لفظ اجتماع میں یہ شرط نہیں ہے لہذا اصطحاب کے موقعہ پر اجتماع کا لفظ تو بول سکتے ہیں مگر اجتماع کی جگہ پر ہر مقام میں اصطحاب کا لفظ نہین بول سکتے اور آیت کریمہ : ۔ ثُمَّ تَتَفَكَّرُوا ما بصاحبِكُمْ مِنْ جِنَّةٍ [ سبأ/ 46] تمہارے رفیق کو سودا نہیں میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو صاحبکم کہہ کر متنبہ کیا ہے کہ تم نے ان کے ساتھ زندگی بسر کی ہے ان کا تجربہ کرچکے ہو اور ان کے ظاہر و باطن سے واقف ہوچکے ہو پھر بتاؤ کہ ان میں کوئی دماغی خلل یا دیوانگی پائی جاتی ہے یہی معنی آیت وما صاحِبُكُمْ بِمَجْنُونٍ [ التکوير/ 22] کے ہیں ۔ الا صحاب للشئی کے معنی ہیں وہ فرمانبردار ہوگیا اصل میں اس کے معنی کسی کا مصاحب بن کر اس کے ساتھ رہنے کے ہیں ۔ چناچہ اصحب فلان اس وقت بولتے ہیں جب کسی کا بیٹا بڑا ہو کر اس کے ساتھ رہنے لگے ۔ اور اصحب فلان فلانا کے معنی ہیں وہ اس کا ساتھی بنادیا گیا قرآن میں ہے : ۔ وَلا هُمْ مِنَّا يُصْحَبُونَ [ الأنبیاء/ 43] اور نہ ہم سے پناہ ہی دیئے جائیں گے ۔ یعنی ہماری طرف سے ان پر سکینت تسلی کشائش وغیرہ کی صورت میں کسی قسم کا ساتھ نہیں دیا جائے گا جیسا کہ اس قسم کی چیزوں سے اولیاء اللہ کی مدد کی جاتی ہے ۔ ادیم مصحب : کچا چمڑہ جس سے بال نہ اتارے گئے ہوں ۔ خد قال اللہ تعالی: قُتِلَ أَصْحابُ الْأُخْدُودِ [ البروج/ 4] . الخَدُّ والأخدود : شقّ في الأرض مستطیل غائص، وجمع الأخدود أَخَادِيد، وأصل ذلک من خَدَّيِ الإنسان، وهما : ما اکتنفا الأنف عن الیمین والشمال . والخَدّ يستعار للأرض، ولغیرها کاستعارة الوجه، وتَخَدُّدُ اللّحمِ : زواله عن وجه الجسم، يقال : خَدَّدْتُهُ فَتَخَدَّدَ. ( خ دد ) الخد والاخدود کے معنی ہیں زمین میں مستطیل اور گہرا گڑھا الاخدود کی جمع اخادید ہے قرآن میں ہے قُتِلَ أَصْحابُ الْأُخْدُودِ [ البروج/ 4] کہ خندقوں کے ( کھودنے ) والے ہلاک کردئے گئے ۔ اصل میں خد الانسان کے معنی انسان کے رخسار کے ہیں اور استعارہ زمین اور دوسری اشیاء کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ جیسا کہ لفظ وجہ ( چہر ہ ) ہے ۔ تخدد الحم جسم کا لاغر ہوکر جھری دار ہونا خدوتہ کسی کو دبلا کرنا ۔ اس کا مطاوع تخدد آتا ہے ۔
(٤۔ ٧) ان تمام چیزوں کی قسم کھا کر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ کافر کے لیے آپ کے رب کا عذاب بڑا سخت ہے، خندق والے یعنی بہت سے ایندھن کی آگ والے ملعون ہوئے، یا یہ کہ اس سے مسلمان مراد ہیں جن کی آگ کی خندقوں میں ڈال کر بادشاہ نے جلوا دیا تھا جس وقت کفار جہاں اللہ تعالیٰ نے ان کو آگ میں جلوایا تھا بیٹھے ہوئے تھے اور جو کچھ مسلمانوں کے ساتھ کر رہے تھے اس کو دیکھ رہے تھے۔
آیت ٤{ قُتِلَ اَصْحٰبُ الْاُخْدُوْدِ ۔ } ” ہلاک ہوگئے وہ کھائیوں والے۔ “ ” اصحاب الاخدود “ سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے خندقیں کھودیں اور اہل ایمان کو ان خندقوں میں ڈال کر جلایا۔ بظاہر تو وہاں اہل ایمان ہلاک ہوئے تھے لیکن وہ تو اپنی جان جان آفریں کے سپرد کر کے آخرت کی نعمتوں اور کامیابیوں کے مستحق ٹھہرے اور واقعتا ہلاکت اور بربادی ان لوگوں کے حصے میں آئی جنہوں نے خندقیں کھود کر اہل ایمان کو ان میں ڈال کر جلایا۔
3: مشہور تفسیر کے مطابق ان آیتوں میں ایک واقعے کی طرف اشارہ ہے جو حضورِ اقدس صلی اﷲ علیہ وسلم صحیح مسلم کی ایک حدیث میں منقول ہے۔ اور وہ یہ کہ پچھلی کسی امت میں ایک بادشاہ تھا جو ایک جادوگر سے کام لیا کرتا تھا۔ جب وہ جادوگر بوڑھا ہوگیا تو اُس نے بادشاہ سے کہا کہ میرے پاس کوئی لڑکا بھیج دیا کرو جسے میں جادو سکھاوں، تاکہ میرے بعد وہ تمہارے کام آسکے۔ بادشاہ نے ایک لڑکے کو جادوگر کے پاس بھیجنا شروع کردیا۔ یہ لڑکا جب جادوگر کے پاس جاتا تو راستے میں ایک عبادت گذار شخص کے پاس سے گذرتا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اصلی دین پر تھا (ایسے شخص کو راہب کہتے تھے) اور توحید کا قائل تھا۔ یہ لڑکا اُس کے پاس بیٹھ جاتا اور اُس کی باتیں سنتا تھا جو اُسے اچھی لگتی تھیں۔ ایک دن وہ جا رہا تھا تو راستے میں ایک بڑا جانور نظر آیا جس نے لوگوں کا راستہ روکا ہوا تھا، (بعض روایتوں میں ہے کہ وہ جانور شیر تھا، اور لوگ اس سے ڈر رہے تھے)۔ لڑکے نے ایک پتھر اٹھایا، اور اﷲ تعالیٰ سے دعا کی کہ یا اللہ ! اگر راہب کی باتیں آپ کو جادوگر کی باتوں سے زیادہ پسند ہیں تو اس پتھر سے اس جانور کو مروا دیجئے۔ اب جو اُس نے پتھر اس جانور کی طرف پھینکا تو جانور مر گیا، اور لوگوں کا راستہ کھل گیا۔ اس کے بعد لوگوں کو اَندازہ ہوا کہ اس لڑکے کے پاس کوئی خاص علم ہے۔ چنانچہ ایک اندھے شخص نے اُس سے درخواست کی کہ اُس کی بینائی واپس آجائے۔ لڑکے نے اُس سے کہا کہ شفا دینے والا تو اﷲ تعالیٰ ہے، اس لئے اگر تم یہ وعدہ کرو کہ اﷲ تعالیٰ کی توحید پر ایمان لے آو گے تو میں تمہارے لئے اﷲ تعالیٰ سے دُعا کروں گا۔ اُس نے یہ شرط مان لی۔ لڑکے نے دُعا کی تو اﷲ تعالیٰ نے اُس کو بینائی عطا فرمادی، اور وہ توحید پر ایمان لے آیا۔ ان واقعات کی خبر جب بادشاہ کو ہوئی تو اُس نے اُس نابینا کو بھی گرفتار کرلیا، اور لڑکے اور راہب کو بھی۔ اور ان سب کو توحید کے انکار پر مجبور کیا۔ جب وہ نہ مانے تو اُس نے اُس نابینا شخص اور راہب کو تو آری سے چروا دیا اور لڑکے کے بارے میں اپنے نوکروں کو حکم دیا کہ اُسے کسی اُونچے پہاڑ پر لے جا کر نیچے پھینک دیں۔ لیکن جب وہ لوگ لڑکے کو لے کر گئے تو اُس نے اﷲ تعالیٰ سے دُعا کی، پہاڑ پر زلزلہ آیا جس سے وہ لوگ مر گئے، اور لڑکا زندہ رہا۔ بادشاہ نے حکم دیا کہ اُسے کشتی میں لے جا کر سمندر میں ڈبو دیا جائے۔ لڑکے نے پھر دُعا کی، جس کے نتیجے میں کشتی اُلٹ گئی، وہ سب ڈوب گئے، اور لڑکا پھر سلامت رہا۔ بادشاہ جب عاجز آگیا تو لڑکے نے اس سے کہا کہ اگر تم مجھے واقعی مارنا چاہتے ہو تو اُس کا ایک ہی طریقہ ہے، اور وہ یہ کہ تم سب لوگوں کو ایک میدان میں جمع کر کے مجھے سولی پر چڑھاو، اور اپنے ترکش سے تیر نکال کر کمان میں چڑھاو، اور یہ کہو کہ : ’’اُس اللہ کے نام پر جو اس لڑکے کا پروردگار ہے۔‘‘ پھر تیر سے میرا نشانہ لگاو۔ بادشاہ نے ایسا ہی کیا، اور تیر اُس لڑکے کی کنپٹی پر جا کر لگا، اور اُس سے وہ شہید ہوگیا۔ لوگوں نے جب یہ نظارہ دیکھا تو بہت سے ایمان لے آئے۔ اس موقع پر بادشاہ نے اُن کو سزا دینے کے لئے سڑکوں کے کناروں پر خندقیں کھدوا کر ان میں آگ بھڑکائی، اور حکم دیا کہ جو کوئی دین حق کو نہ چھوڑے، اسے ان خندقوں میں ڈال دیا جائے۔ چنانچہ اس طرح ایمان والوں کی ایک بڑی تعداد کو زندہ جلا دیا گیا۔ صحیح مسلم کی اس حدیث میں یہ صراحت نہیں ہے کہ سور بروج میں خندق والوں کا جو ذِکر ہے، اُس سے یہی واقعہ مراد ہے۔ محمد بن اسحاقؒ نے اس سے ملتا جلتا ایک اور واقعہ بیان کیا ہے، اور اُس کو سورۃ بروج کی تفسیر قرار دیا ہے۔ یہاں اس تفصیل کا موقع نہیں ہے۔ حضرت مولانا حفظ الرحمن صاحب سیوہارویؒ نے ’’قصص القرآن‘‘ میں اس پر بہت مفصل بحث کی ہے۔ اہل علم اُس کی مراجعت فرمائیں۔
(85:4) قتل افعل ماضی مجہول صیغہ واحد مذکر غائب ہے قتل کیا گیا۔ مارا گیا۔ برباد ہوا۔ بددعائیہ جملہ ہے۔ قتل ہو۔ مارا جائے۔ برباد ہو۔ کلام الٰہی میں بددعا سے مراد ہوتا ہے اللہ نے ان کے لئے قتل کیا جانا مقرر کردیا۔ یا اللہ کی رحمت سے ان کو دور کردیا گیا۔ اصحب الاخدود النار : اصحب مفعول مالم یسم فاعلہ ۔ مضاف ، الاخدود النار۔ موصوف و صفت مل کر مضاف الیہ۔ اخدود۔ کھائی، خندق۔ اخادید جمع۔ آگ کی خندق والے لوگ ۔ یعنی وہ لوگ جنہوں نے خندقیں کھود کر ان میں آگ جلائی اور اپنا صحیح دین نہ چھوڑنے والوں کو ان میں جھونک دیا۔ فائدہ : اصحاب الاخدود کون تھے اس کے متعلق قرآن حکیم نے صریحا کوئی تفصیل نہیں بتائی۔ محض ایک فرقہ مذہب کے دوسرے فرقہ مذہب پر ظلم و استبداد کی وضاحت کے لئے ایک عام مثال کو بیان کردیا ہے قرون وسطی کے یورپ میں ایسی متعدد مثالیں موجود ہیں اسلئے جب قرآن نے متعین کرنے کی ضرورت کو چنداں اہمیت کرنے کی کوشش کی ہے اور اکثریت نے اسے ذونواس کے طرف منسوب کیا ہے ذونواس حمیری خاندان سے یمن کا آخری حکمران تھا۔ مذہب کا یہودی تھا۔ اس نے بخران کے عیسائی مذہب کے پیروکاروں کو جبرا اپنے دین سے منحرف ہوکر یہودیت قبول کرنے کی کوشش کی اور ان کے انکار پر بڑی بڑی خندقیں کھود کر اس میں آگ بھڑکا کر ان کو اس میں پھینک دیا
اس کے بعد اخدود (گڑھوں) کی تشریح کی جاتی ہے کہ وہ کیا ہیں ؟ وہ آگ ہے بڑھکتی ہوئی ، دراصل انہوں نے زمین کے اندر گڑھے بنوائے تھے ان میں آگ جلائی تھی اور ان کو آگ سے بھر دیا تھا ، یوں گڑھوں کو دہکتی ہوئی آگ بنایا گیا۔ یعنی وہ گڑھے دہکتی ہوئی آگ سے بھرے ہوئے تھے۔ ” گڑھوں والے قتل ہوئے “ وہ قتل ہونے اور اسی طرح جلائے جانے کے مستحق ہیں کیونکہ انہوں نے جب یہ ظلم کیا تو وہ کیسے حالات میں تھے ؟
4:۔ ” قتل “ یہ تیسرے شاہد سے متعلق ہے۔ قتل ای لعن۔ ” الاخدود “ خندق۔ ” النار “ اس سے بدل الاشتمال ہے۔ ” الوقود “ ایندھن۔ اصحاب الاخدود سے وہ مشرک بادشاہ اور اس کے حواری مراد ہیں۔ جو اہل توحید کو خندقوں میں جلاتے تھے کہتے ہیں ایک بادشاہ تھا جو ایک صنم کی عبادت کرتا اور لوگوں کو بھی اس کی عبادت پر مجبور کرتا تھا۔ اس نے بڑی بڑی خندقیں کھود کر ان میں کافی ایندھن ڈلوا کر آگ بھڑکائی جو شخص بت کی پوجا سے انکار کرتا اسے اس آگ میں ڈال دیا جاتا۔ اسی اثناء میں ایک عوت کو پکڑ کر لائے جس کی گود میں بچہ تھا اس عورت سے انہوں نے کہا اگر تو بت کی عبادت نہیں کرتے گی تو تیرا بچہ آگ میں ڈال دیا جائیگا مگر اس عورت نے ان کی دھمکی سے کوئی اثر نہ لیا اور شرک پر رضا مند نہ ہوئی۔ آخر ان ظالموں نے اس کا بچہ چھین کر آگ میں پھینکدیا۔ قریب تھا کہ عورت کے دل میں کمزوری آجائے بچے نے آگ کے اندر سے آواز بلند کی (شعر) اندر آ مادر، کہ من اینجا خوشم۔ گرچہ در ظاہر میان آتشم۔ کہ بلا کھٹکے آگ میں کود جا میں اگرچہ بظاہر آگ میں ہوں لیکن میرے لیے آگ باغ و بہار بن چکی ہے چناچہ اس عورت نے بھی آگ میں چھلانگ لگا دی۔ ” اذ ھم علیہا قعود “ جب وہ مشرک خندقوں پر بیٹھے تھے اور مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ کر رہے تھے اس کو آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔