Surat ul Ghashiya

Surah: 88

Verse: 19

سورة الغاشية

وَ اِلَی الۡجِبَالِ کَیۡفَ نُصِبَتۡ ﴿ٝ۱۹﴾

And at the mountains - how they are erected?

اور پہاڑوں کی طرف کہ کس طرح گاڑھ دیئے گئے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And at the mountains, how they are rooted? meaning, how they have been erected. For indeed they are firmly affixed so that the earth does not sway with its dwellers. And He made them with the benefits and minerals they contain. وَإِلَى الاْإَرْضِ كَيْفَ سُطِحَتْ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

19۔ 1 یعنی کس طرح اس کو زمین پر میخوں کی طرح گاڑھ دیا تاکہ زمین حرکت نہ کرے، نیز ان میں جو معدنیات اور دیگر منافع ہیں وہ اس کے علاوہ ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِلَى الْجِبَالِ كَيْفَ نُصِبَتْ۝ ١٩ ۪ جبل الجَبَل جمعه : أَجْبَال وجِبَال، وقال عزّ وجل : أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِهاداً وَالْجِبالَ أَوْتاداً [ النبأ/ 6- 7] ( ج ب ل ) قرآن میں ہے : ۔ أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِهاداً وَالْجِبالَ أَوْتاداً [ النبأ/ 6- 7] کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہیں بنایا |" ۔ اور پہاڑوں کو ( اس کی میخیں ) نہیں ٹھہرایا ؟ نصب نَصْبُ الشیءِ : وَضْعُهُ وضعاً ناتئاً كنَصْبِ الرُّمْحِ ، والبِنَاء والحَجَرِ ، والنَّصِيبُ : الحجارة تُنْصَبُ علی الشیءِ ، وجمْعُه : نَصَائِبُ ونُصُبٌ ، وکان للعَرَبِ حِجَارةٌ تعْبُدُها وتَذْبَحُ عليها . قال تعالی: كَأَنَّهُمْ إِلى نُصُبٍ يُوفِضُونَ [ المعارج/ 43] ، قال : وَما ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ [ المائدة/ 3] وقد يقال في جمعه : أَنْصَابٌ ، قال : وَالْأَنْصابُ وَالْأَزْلامُ [ المائدة/ 90] والنُّصْبُ والنَّصَبُ : التَّعَبُ ، وقرئ : بِنُصْبٍ وَعَذابٍ [ ص/ 41] و ( نَصَبٍ ) وذلک مثل : بُخْلٍ وبَخَلٍ. قال تعالی: لا يَمَسُّنا فِيها نَصَبٌ [ فاطر/ 35] وأَنْصَبَنِي كذا . أي : أَتْعَبَنِي وأَزْعَجَنِي، قال الشاعرُ : تَأَوَّبَنِي هَمٌّ مَعَ اللَّيْلِ مُنْصِبٌوهَمٌّ نَاصِبٌ قيل : هو مثل : عِيشَةٍ رَاضِيَةٍ والنَّصَبُ : التَّعَبُ. قال تعالی: لَقَدْ لَقِينا مِنْ سَفَرِنا هذا نَصَباً [ الكهف/ 62] . وقد نَصِبَ فهو نَصِبٌ ونَاصِبٌ ، قال تعالی: عامِلَةٌ ناصِبَةٌ [ الغاشية/ 3] . والنَّصِيبُ : الحَظُّ المَنْصُوبُ. أي : المُعَيَّنُ. قال تعالی: أَمْ لَهُمْ نَصِيبٌ مِنَ الْمُلْكِ [ النساء/ 53] ، أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيباً مِنَ الْكِتابِ [ آل عمران/ 23] ، فَإِذا فَرَغْتَ فَانْصَبْ [ الشرح/ 7] ويقال : نَاصَبَهُ الحربَ والعَداوةَ ، ونَصَبَ له، وإن لم يُذْكَر الحربُ جَازَ ، وتَيْسٌ أَنْصَبُ ، وشَاةٌ أو عَنْزَةٌ نَصْبَاءُ : مُنْتَصِبُ القَرْنِ ، وناقةٌ نَصْبَاءُ : مُنْتَصِبَةُ الصَّدْرِ ، ونِصَابُ السِّكِّين ونَصَبُهُ ، ومنه : نِصَابُ الشیءِ : أَصْلُه، ورَجَعَ فلانٌ إلى مَنْصِبِهِ. أي : أَصْلِه، وتَنَصَّبَ الغُبارُ : ارتَفَع، ونَصَبَ السِّتْرَ : رَفَعَهُ ، والنَّصْبُ في الإِعراب معروفٌ ، وفي الغِنَاءِ ضَرْبٌ منه ( ن ص ب ) نصب الشئیء کے منعی کسی چیز کو کھڑا کرنے یا گاڑ دینے کے ہیں مثلا نیزے کے گاڑنے اور عمارت یا پتھر کو کھڑا کرنے پر نصب کا لفظ بولا جاتا ہے اور نصیب اس پتھر کو کہتے ہیں جو کسی مقام پر ( بطور نشان کے ) گاڑ دیا جاتا ہے اس کی جمع نصائب ونصب آتی ہے ۔ جاہلیت میں عرب جن پتھروں کی پوجا کیا کرتے اور ان پر جانور بھینٹ چڑہا یا کرتے تھے ۔ انہیں نصب کہا ۔ جاتا تھا ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ كَأَنَّهُمْ إِلى نُصُبٍ يُوفِضُونَ [ المعارج/ 43] جیسے وہ عبارت کے پتھروں کی طرف دوڑتے ہیں ۔ نیز فرمایا : ۔ وَما ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ [ المائدة/ 3] اور وہ جانور بھی جو تھا ن پر ذبح کیا جائے ۔ اس کی جمع انصاب بھی آتی ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَالْأَنْصابُ وَالْأَزْلامُ [ المائدة/ 90] اور بت اور پا سے ( یہ سب ) ناپاک کام اعمال شیاطین سے ہیں ۔ اور نصب ونصب کے معنی تکلیف ومشقت کے ہیں اور آیت کریمہ : ۔ لا يَمَسُّنا فِيها نَصَبٌ [ فاطر/ 35] ایذا اور تکلیف میں ایک قراءت نصب بھی ہے اور یہ بخل وبخل کی طرح ہے قرآن میں ہے : ۔ یہاں نہ ہم کو رنج پہنچے گا ۔ وانصبنی کذا کے معنی کسی کو مشقت میں ڈالنے اور بےچین کرنے کے ہیں شاعر نے کہا ہے ( 427 ) تاو بنی ھم مع اللیل منصب میرے پاس رات کو تکلیف وہ غم بار بار لوٹ کر آتا ہے ۔ اور عیشۃ راضیۃ کی طرح ھم ناصب کا محاورہ بھی بولا جاتا ہے ۔ النصب کے معنی مشقت کے ہیں چناچہ قرآن میں ہے : ۔ لَقَدْ لَقِينا مِنْ سَفَرِنا هذا نَصَباً [ الكهف/ 62] اس سفر سے ہم کو بہت تھکان ہوگئی ہے ۔ اور نصب ( س ) فھو نصب وناصب کے معنی تھک جانے یا کسی کام میں سخت محنت کرنے کے ہیں چناچہ قرآن میں ہے : ۔ عامِلَةٌ ناصِبَةٌ [ الغاشية/ 3] سخت محنت کرنے والے تھکے ماندے ۔ فَإِذا فَرَغْتَ فَانْصَبْ [ الشرح/ 7] تو جب فارغ ہوا کرو ۔ تو عبادت میں محنت کیا کرو النصب کے معنی معین حصہ کے ہیں چناچہ قرآن میں ہے : ۔ أَمْ لَهُمْ نَصِيبٌ مِنَ الْمُلْكِ [ النساء/ 53] کیا ان کے پاس بادشاہی کا کچھ حصہ ہے ۔ أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيباً مِنَ الْكِتابِ [ آل عمران/ 23] بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو کتاب سے حصہ دیا گیا ۔ اور ناصبۃ الحر ب والعدۃ ونصب لہ کے معنی کسی کے خلاف اعلان جنگ یا دشمنی ظاہر کرنے کے ہیں ۔ اس میں لفظ حر ب یا عداوۃ کا حزف کر نا بھی جائز ہے تئیس انصب وشاۃ او عنزۃ نصباء کھڑے سینگوں والا مینڈ ھایا بکری ۔ ناقۃ نصباء ابھرے ہوئے سینہ والی اونٹنی نصاب السکین ونصبۃ کے معنی چھری کے دستہ ہیں ۔ اور اسی سے نصاب الشئی کا محاورہ ہے جس کے معنی اصل الشئی ہیں ۔ تنصب الغبار غبار کا اڑنا نصب الستر پر دہ اٹھانا نصب ( اعراب زبر کو کہتے ہیں اور نصب ایک قسم کا راگ بھی ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٩{ وَاِلَی الْجِبَالِ کَیْفَ نُصِبَتْ ۔ } ” اور (کیا یہ دیکھتے نہیں) پہاڑوں کو کہ کیسے گاڑ دیے گئے ہیں ! “ پہاڑوں کی بناوٹ اور کرئہ ارضی پر ان کے اثرات وغیرہ کے بارے میں تحقیق کرنا ماہرین ارضیات کا کام ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(88:19) والی الجبال کیف نصیبت : کیا یہ پہاڑوں کو نہیں دیکھتے کہ کیسے جمائے گئے ہیں۔ نصبت ماضی مجہول واحد مؤنث غائب نصب (باب ضرب) مصدر سے بمعنی نصب کرنا۔ کھڑا کرنا۔ گاڑنا۔ کیف نصبت کیسے ایک جگہ کھڑے ہوئے ہیں اور جمے ہوئے ہیں کہ باوجود اتنے طویل اور جسامت کے ادھر ادھر نہیں جھکتے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 کہ اپنی جگہ سے جنبش نہیں کرسکتے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

والی الجبال ................ نصیبت (19:88) ” اور پہاڑوں کو نہیں دیکھتے کہ کیسے جمائے گئے “۔ ایک عرب کے نزدیک پہاڑ بہت اہم تھے ، پہاڑوں ہی میں عرب مشکل اوقات میں پناہ لیتے تھے۔ شکل مراحل میں پہاڑ ہی ان کے انیس اور دوست ہوا کرتے تھے۔ پہاڑوں کے مناظر جب انسان دیکھتا ہے تو ان سے اس کو گہرے نفسیاتی اشارات ملتے ہیں۔ یہ پہاڑوں کے نظام میں ایک عظمت نظر آتی ہے۔ ایک جمال نظر آتا ہے۔ انسان اپنے آپ کو کم تر سمجھ کر ان کے اندر پناہ لیتا ہے۔ پہاڑوں کے دامن میں سکون حاصل کرتا ہے اور اس فطری ماحول میں خدا کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور ان اونچے پہاڑوں میں انسان یہ سوچتا ہے کہ وہ اللہ کے زیادہ قریب ہے۔ یوں بلند پہاڑوں کے دامن میں وہ زمین کے شور وشغب اور حقیر سرگرمیوں سے قدرے بلند ہوجاتا ہے۔ یہ بات نہ کوئی عبث بات تھی اور نہ کوئی اتفاقی فعل تھا کہ نبوت سے قبل حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جبل ثور کے غار حرا میں علیحدگی اختیار فرماتے تھے ، لہٰذا جو لوگ لافانی بالیدگی چاہتے ہیں ان کو چاہئے کہ ان کی روح ایک عرصہ کے لئے دنیاوی آلودگیوں سے دور ہوجائے۔ پہاڑوں کے بارے میں یہاں جو الفاظ غور کے لئے آئے ہیں وہ ہیں۔ کیف نصبت (19:88) ” یعنی وہ زمین کے اوپر کس طرح جمائے گئے ہیں ، یہ الفاظ منظر کے ماحول کے ساتھ زیادہ ہم آہنگ ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(19) اور پہاڑوں کی طرف کہ وہ کس طرح قائم کئے گئے ہیں۔