رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً (...well-pleased, well-pleasing....89:28). [ The true believer&s ] soul is well-pleased with decrees destined by Allah and His legislative commands, and Allah too is well-pleased with His slave. The slave&s being pleased with Allah&s decrees and injunctions is a sign that Allah is pleased.
راضیة مرضیة، یعنی یہ نفس اللہ تعالیٰ سے اسکے تکوینی اور تشریعی احکام پر راضی ہے اور اللہ تعالیٰ بھی اس سے راضی ہے کیونکہ بندہ کا اللہ تعالیٰ کے تقدیری احکام پر راضی ہونا ہی اس کی علامت ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہے، اگر اللہ تعالیٰ اس سے راضی نہ ہوتا تو اسکو و رضا بالقضا کی توفیق ہی نہ ہوتی۔ یہ نفس اپنی موت کے وقت موت پر بھی راضی اور خوش ہوتا ہے۔ حضرت عبادہ ابن صامت کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے من احب لقاء اللہ احب اللہ لقاہ، ومن کرہ لقاء اللہ کرہ اللہ لقاہ، یعنی جو شخص اللہ تعالیٰ سے ملنے کو پسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنے کو پسند کرتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے اللہ بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے یہ حدیث سن کر حضرت صدیقہ عائشہ نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا کہ اللہ سے ملنا تو موت ہی کے ذریعہ ہوسکتا ہے لیکن موت تو ہمیں یا کسی کو بھی پسند نہیں، آپ نے فرمایا یہ بات نہیں، حقیقت یہ ہے کہ مومن کو موت کے وقت فرشتوں کے ذریعہ اللہ کی رضا اور جنت کی بشارت دیجاتی ہے جس کو سن کر اس کو موت زیادہ محبوب ہوجاتی ہے۔ اسی طرح کافر کو موت کے وقت عذاب اور سزا سامنے کردی جاتی ہے اسلئے اس کو اس وقت موت سے بڑھ کر کوئی چیز بری اور مکروہ معلوم نہیں ہوتی (رواہ البخاری ومسل، مظہری) خلاصہ یہ ہے کہ موت کی محبت یا کراہت اس وقت کی معتبر نہیں بلکہ نزع روح کے وقت جو مرنے اور اللہ سے ملنے پر راضی ہے اللہ بھی اس سے راضی یہی مفہوم ہے راضیة مرضیہ کا۔