Surat us Shams
Surah: 91
Verse: 15
سورة الشمس
وَ لَا یَخَافُ عُقۡبٰہَا ﴿۱۵﴾٪ 16
And He does not fear the consequence thereof.
وہ نہیں ڈرتا اس کے تباہ کن انجام سے ۔
وَ لَا یَخَافُ عُقۡبٰہَا ﴿۱۵﴾٪ 16
And He does not fear the consequence thereof.
وہ نہیں ڈرتا اس کے تباہ کن انجام سے ۔
وَلاَ يَخَافُ ... And He feared not, it has also been recited as (فَلَا يَخَافُ)(So He feared not) ... عُقْبَاهَا the consequences thereof. Ibn `Abbas said, "Allah does not fear any consequences from anyone else." Mujahid, Al-Hasan, Bakr bin `Abdullah Al-Muzani and others all said the same. This is the end of the Tafsir of Surah Al-Shams, and all praise and thanks are due to Allah.
[١٥] یعنی دنیا دار بادشاہ جب کسی دوسری قوم یا ملک پر حملہ کرتے یا ان سے اپنا بدلہ لینا چاہتے ہیں تو اپنی اس کارروائی کے نتائج و عواقب پر نظر رکھتے ہیں کہ مثلاً اس حملہ کا رد عمل کیا ہوگا ؟ کہیں ہماری اپنی ہی رعیت تو اس کے خلاف نہ اٹھ کھڑی ہوگی ؟ یا مخالف قوت ہمارے حملہ کے رد عمل کے طور پر کیا کچھ کارروائی کرنے کی اہلیت رکھتی ہے غرض بیسیوں قسم کے خیالات ان کے ذہن میں آتے ہیں جن کا توڑ وہ پہلے سوچ لیتے ہیں لیکن اللہ جب کسی قوم کو تباہ و برباد کرنا چاہتا ہے تو اسے کسی بات کو سوچنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔
(ولا یخاف عقبھا :” ھا “ ضمیر کا مرجع وہ ”’ مدمۃ “ ہے جو ” فدمدم علیھم ربھم “ کے ضمن میں موجود ہے۔ یعنی دنیا کے بادشاہ کسی کو قتل کرتے ہیں تو ڈرتے ہیں کہ نامعلوم اس کا انجام کیا ہوگا ؟ مقتول کا کوئی وارث بدلا لینے کے لئے نہ اٹھ کھڑا ہو یا ملک میں بغاوت نہ ہوجائے، لیکن اللہ تعالیٰ کو ایسا کوئی خطرہ نہیں۔
وَلَا يَخَافُ عُقْبٰہَا ١٥ ۧ لا «لَا» يستعمل للعدم المحض . نحو : زيد لا عالم، وذلک يدلّ علی كونه جاهلا، وذلک يكون للنّفي، ويستعمل في الأزمنة الثّلاثة، ومع الاسم والفعل غير أنه إذا نفي به الماضي، فإمّا أن لا يؤتی بعده بالفعل، نحو أن يقال لك : هل خرجت ؟ فتقول : لَا، وتقدیره : لا خرجت . ويكون قلّما يذكر بعده الفعل الماضي إلا إذا فصل بينهما بشیء . نحو : لا رجلا ضربت ولا امرأة، أو يكون عطفا . نحو : لا خرجت ولَا رکبت، أو عند تكريره . نحو : فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى [ القیامة/ 31] أو عند الدّعاء . نحو قولهم : لا کان، ولا أفلح، ونحو ذلك . فممّا نفي به المستقبل قوله : لا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقالُ ذَرَّةٍ [ سبأ/ 3] وفي أخری: وَما يَعْزُبُ عَنْ رَبِّكَ مِنْ مِثْقالِ ذَرَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلا فِي السَّماءِ [يونس/ 61] وقد يجيء «لَا» داخلا علی کلام مثبت، ويكون هو نافیا لکلام محذوف وقد حمل علی ذلک قوله : لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيامَةِ [ القیامة/ 1] ، فَلا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشارِقِ [ المعارج/ 40] ، فَلا أُقْسِمُ بِمَواقِعِ النُّجُومِ [ الواقعة/ 75] ، فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ [ النساء/ 65] لا وأبيك ابنة العامريّ «1» وقد حمل علی ذلک قول عمر رضي اللہ عنه۔ وقد أفطر يوما في رمضان فظنّ أنّ الشمس قد غربت ثم طلعت۔: لا، نقضيه ما تجانفنا لإثم فيه، وذلک أنّ قائلا قال له قد أثمنا فقال لا، نقضيه . فقوله : «لَا» ردّ لکلامه قد أثمنا، ثم استأنف فقال : نقضيه «2» . وقد يكون لَا للنّهي نحو : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ [ الحجرات/ 11] ، وَلا تَنابَزُوا بِالْأَلْقابِ [ الحجرات/ 11] ، وعلی هذا النّحو : يا بَنِي آدَمَ لا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطانُ [ الأعراف/ 27] ، وعلی ذلك : لا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمانُ وَجُنُودُهُ [ النمل/ 18] ، وقوله : وَإِذْ أَخَذْنا مِيثاقَ بَنِي إِسْرائِيلَ لا تَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ [ البقرة/ 83] فنفي قيل تقدیره : إنهم لا يعبدون، وعلی هذا : وَإِذْ أَخَذْنا مِيثاقَكُمْ لا تَسْفِكُونَ دِماءَكُمْ [ البقرة/ 84] وقوله : ما لَكُمْ لا تقاتلُونَ [ النساء/ 75] يصحّ أن يكون «لا تقاتلون» في موضع الحال «3» : ما لکم غير مقاتلین . ويجعل «لَا» مبنيّا مع النّكرة بعده فيقصد به النّفي . نحو : فَلا رَفَثَ وَلا فُسُوقَ [ البقرة/ 197] ، [ وقد يكرّر الکلام في المتضادّين ويراد إثبات الأمر فيهما جمیعا . نحو أن يقال : ليس زيد بمقیم ولا ظاعن . أي : يكون تارة كذا وتارة كذا، وقد يقال ذلک ويراد إثبات حالة بينهما . نحو أن يقال : ليس بأبيض ولا أسود ] «4» ، وإنما يراد إثبات حالة أخری له، وقوله : لا شَرْقِيَّةٍ وَلا غَرْبِيَّةٍ [ النور/ 35] . فقد قيل معناه : إنها شرقيّة وغربيّة «5» . وقیل معناه : مصونة عن الإفراط والتّفریط . وقد يذكر «لَا» ويراد به سلب المعنی دون إثبات شيء، ويقال له الاسم غير المحصّل . نحو : لا إنسان، إذا قصدت سلب الإنسانيّة، وعلی هذا قول العامّة : لا حدّ. أي : لا أحد . ( لا ) حرف ) لا ۔ یہ کبھی عدم محض کے لئے آتا ہے ۔ جیسے : زید عالم یعنی جاہل ہے اور کبھی نفی کے لئے ہوتا ہے ۔ اور اسم و فعل دونوں کے ساتھ ازمنہ ثلاثہ میں نفی کے معنی دیتا ہے لیکن جب زمانہ ماضی میں نفی کے لئے ہو تو یا تو اس کے بعد فعل کو ذکر ہی نہیں کیا جاتا مثلا اگر کوئی ھل خرجت کہے تو اس کے جواب میں صرف ، ، لا ، ، کہ دنیا کافی ہے یعنی لاخرجت اور اگر نفی فعل مذکور بھی ہوتا ہے تو شاذو نا در اور وہ بھی اس وقت (11) جب لا اور فعل کے درمیان کوئی فاعل آجائے ۔ جیسے لارجل ضربت ولا امرءۃ (2) جب اس پر دوسرے فعل کا عطف ہو جیسے ۔ لا خرجت ولاضربت اور یا (3) لا مکرر ہو جیسے ؛فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى [ القیامة/ 31] اس ناعاقبت اندیش نے نہ تو کلام خدا کی نعمتوں کی تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی ۔ اور یا (4) جملہ دعائیہ میں جیسے لا کان ( خدا کرے ایسا نہ ہو ) لا افلح ( وہ کامیاب نہ ہوا وغیرہ ۔ اور زمانہ مستقبل میں نفی کے متعلق فرمایا : لا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقالُ ذَرَّةٍ [ سبأ/ 3] ذرہ پھر چیز بھی اس سے پوشیدہ نہیں ۔ اور کبھی ، ، لا ، ، کلام مثبت پر داخل ہوتا ہے اور کلام محذوف کی نفی کے لئے آتا ہے ۔ جسیے فرمایا : وَما يَعْزُبُ عَنْ رَبِّكَ مِنْ مِثْقالِ ذَرَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلا فِي السَّماءِ [يونس/ 61] اور تمہارے پروردگار سے ذرہ برابر بھی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے نہ زمین میں اور نہ آسمان میں ۔۔۔ اور مندرجہ ذیل آیات میں بھی بعض نے لا کو اسی معنی پر حمل کیا ہے ۔ لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيامَةِ [ القیامة/ 1] ہم کو روز قیامت کی قسم ۔ فَلا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشارِقِ [ المعارج/ 40] میں مشرقوں اور مغربوں کے مالک کی قسم کھاتا ہوں ۔ فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ [ النساء/ 65] تمہارے پروردگار کی قسم یہ مومن نہیں ہوں گے ۔ فَلا أُقْسِمُ بِمَواقِعِ النُّجُومِ [ الواقعة/ 75] ہمیں تاروں کی منزلوں کی قسم ۔ اور اسی معنی میں شاعر نے کہا ہے ( المتقارب ) (388) لاوابیک ابتہ العامری نہیں تیرے باپ کی قسم اسے عامری کی بیٹی ۔ اور مروی ہے (105) کہ ا یک مرتبہ حضرت عمر نے یہ سمجھ کر کہ سورج غروب ہوگیا ہے روزہ افطار کردیا اس کے بعد سورج نکل آیا تو آپ نے فرمایا : لانقضیہ ماتجالفنا الاثم فیہ اس میں بھی لا کلام محذوف کی نفی کے لئے ہے یعنی اس غلطی پر جب لوگوں نے کہا کہ آپ نے گناہ کا ارتکاب کیا تو اس کی نفی کے لئے انہوں نے لا فرمایا ۔ یعنی ہم گنہگار نہیں ہیں ۔ اس کے بعد تفضیہ سے از سر نو جملہ شروع کیا ہے ۔ اور کبھی یہ لا نہی کے لئے آتا ہے جیسے فرمایا : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ [ الحجرات/ 11] کوئی قوم کسی قوم سے تمسخرنہ کرے ولا تَنابَزُوا بِالْأَلْقابِ [ الحجرات/ 11] اور نہ ایک دوسرے کا برنام رکھو ۔ اور آیت ؛ يا بَنِي آدَمَ لا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطانُ [ الأعراف/ 27] اے بنی آدم دیکھنا کہیں شیطان تمہیں بہکادے ۔ اور نیزلا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمانُ وَجُنُودُهُ [ النمل/ 18] ایسانہ ہو ک سلمان اور اس کے لشکر تم کو کچل ڈالیں ۔۔۔ میں بھی لا نہی کے لئے ہے ۔ اور آیت کریمہ : وَإِذْ أَخَذْنا مِيثاقَ بَنِي إِسْرائِيلَ لا تَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ [ البقرة/ 83] اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ خدا کے سو اکسی کی عبادت نہ کرنا ۔ کی تفسیر میں بعض نے کہا ہے کہ لانا فیہ یعنی خبر ہے یعنی وہ اللہ کے سو ا کسی کی عبادت نہیں کریں گے ۔ اسی طرح آیت کریمہ : وَإِذْ أَخَذْنا مِيثاقَكُمْ لا تَسْفِكُونَ دِماءَكُمْ [ البقرة/ 84] اور جب ہم نے تم سے عہد لیا ک تم آپس میں کشت وخون نہیں کروگے ۔ میں بھی لانفی پر محمول ہے اور فرمان باری تعالیٰ ما لَكُمْ لا تقاتلُونَ [ النساء/ 75] تمہیں کیا ہوا کہ خدا کی راہ میں نہیں لڑتے ۔ میں ہوسکتا ہے کہ لاتقاتلو ن موضع حال میں ہو ۔ اور معنی ی ہو مالکم غیر مقاتلین یعنی تمہیں کیا ہوا اور آنحالیکہ لڑنے والے نہیں ہو ۔ اور لا کے بعد اسم نکرہ آجائے تو وہ مبنی بر فتحہ ہوتا ہے اور لا لفی کے مبنی دیتا ہے جیسے فرمایا : نہ عورتوں سے اختلاط کرے نہ کوئی برا کام کرے ۔ فَلا رَفَثَ وَلا فُسُوقَ [ البقرة/ 197] اور کبھی دو متضادمعنوں کے درمیان لا مکرر آجاتا ہے ۔ اور دونوں کا اثبات مقصود ہوتا ہے جیسے : لا زید بمقیم ولا ظاعن نہ زید مقیم ہے اور نہ ہی مسافر یعن کبھی مقیم ہے اور کبھی سفر پر اور کبھی متضاد مقصود ہوتا ہے جیسے ۔ لیس ابیض ولااسود سے مراد ہے کہ وہ ان دونوں رنگوں کے درمیان ہے یا پھر یہ بھی ہوسکتا ہے ہے کہ ان دونوں کے علاوہ کوئی تیسرا رنگ ہو چناچہ آیت کریمہ : لا شَرْقِيَّةٍ وَلا غَرْبِيَّةٍ [ النور/ 35] یعنی زیتون کی نہ مشرق کی طرف منسوب اور نہ مغرب کیطر کے بعض نے یہ معنی کئے ہیں کہ وہ بیک وقت مشرقی بھی ہے اور غربی بھی ۔ اور بعض نے اس کا افراط اور تفریط سے محفوظ ہونا مراد لیا ہے ۔ کبھی لا محض سلب کے لئے استعمال ہوتا ہے اور اس سے ایک شے کی نفی کرکے دوسری کا اثبات مقصود نہیں ہوتا مثلا لا انسان کہہ کہ صرف انسانیت کی نفی کا قصد کیا جائے اور عامی محاورہ لاحد بھی اسی معنی پر محمول ہے ۔ عقبي والعُقْبُ والعُقْبَى يختصّان بالثّواب نحو : خَيْرٌ ثَواباً وَخَيْرٌ عُقْباً [ الكهف/ 44] ، وقال تعالی: أُولئِكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِ [ الرعد/ 22] ، والعاقِبةَ إطلاقها يختصّ بالثّواب نحو : وَالْعاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ [ القصص/ 83] ، وبالإضافة قد تستعمل في العقوبة نحو : ثُمَّ كانَ عاقِبَةَ الَّذِينَ أَساؤُا [ الروم/ 10] ( ع ق ب ) العقب والعقیب العقب والعقبی خاص کر ثواب یعنی اچھے بدلے پر بولے جاتے ہیں ۔ جیسے فرمایا : ۔ خَيْرٌ ثَواباً وَخَيْرٌ عُقْباً [ الكهف/ 44] اس کا صلہ بہتر اور ( اس کا ) بدلہ اچھا ہے ۔ أُولئِكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِ [ الرعد/ 22] یہی لوگ ہیں جن کے لئے عافیت کا گھر ہے ۔ ۔ اور عاقبتہ کا لفظ بھی ثواب کے لئے مخصوص ہے جیسے فرمایا : ۔ وَالْعاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ [ القصص/ 83] اور انجام نیک تو پرہیز گاروں ہی کا ہے ۔ مگر یہ اضافت کی صورت میں کبھی آجاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ ثُمَّ كانَ عاقِبَةَ الَّذِينَ أَساؤُا [ الروم/ 10] پھر جن لوگوں نے برائی کی ان کا انجام بھی برا ہوا ۔
آیت ١٥{ وَلَا یَخَافُ عُقْبٰٹہَا ۔ } ” اور وہ اس کے انجام سے نہیں ڈرتا۔ “ اللہ تعالیٰ کو اپنے اس فعل کے کسی برے نتیجے کا کوئی خوف نہیں ہے کہ اس کے بعد کیا ہوگا ؟ وہ پوری کائنات کا مالک اور خالق ہے ‘ وہ جو چاہے کرے۔ اس نے اس پوری قوم کو ختم کردیا اور ان کی جگہ دوسری قوم کو لے آیا۔ اس سورت میں پہلے انسانی نفس اور ضمیر کے حوالے سے انسان کی انفرادی کامیابی اور ناکامی کا ذکر ہوا اور پھر قوم ثمود کی مثال دے کر قوموں کی اجتماعی کامیابی اور ناکامی کے معیار کے بارے میں بھی بتادیا گیا ۔ اس سورت کے مضمون کا تسلسل اگلی سورت میں بھی نظر آئے گا۔
11 That is, Allah is not like the kings of the world and the rulers of governments, who, when they want to take some action against a people, are compelled to consider what will be the consequences of their action. Allah's power is supreme. He had no apprehension that some supporting power of the Thamud would come out to avenge itself on Him.
سورة الشَّمْس حاشیہ نمبر :11 یعنی اللہ دنیا کے بادشاہوں اور یہاں کی حکومتوں کے فرمانرواؤں کی طرح نہیں ہے کہ وہ کسی قوم کے خلاف کوئی قدم اٹھانے کے وقت یہ سوچنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ اس اقدام کے نتائج کیا ہوں گے ۔ اس کا اقتدار سب سے بالا تر ہے اسے اس امر کا کوئی اندیشہ نہیں تھا کہ ثمود کی حامی کوئی ایسی طاقت ہے جو اس سے بدلہ لینے کے لیے آئے گی ۔
5: جب اِنسانوں کا کوئی لشکر کسی بستی میں تباہی مچائے تو اُسے یہ خوف بھی ہوتا ہے کہ کوئی اس سے انتقام نہ لے، ظاہر ہے کہ اﷲ تعالیٰ جب کسی قوم کو ہلاک کرتا ہے تو اُسے کسی کے انتقام کا کوئی خوف نہیں ہوتا۔
(91:15) ولا یخاف عقبھا : عقبی۔ انجام، بدلہ، عاقبت۔ مضاف ۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع کفار کو سزا دینے کا فعل ہے۔ مضاف الیہ ۔ جملہ حالیہ ہے۔ ای فعل ذلک وھولا یخاف عقبھا۔ اس نے یہ کیا درآں حالیکہ اسے اس کے انجام کو کوئی ڈر نہ تھا۔ لایخاف میں فاعل کی ضمیر کس کی طرف راجع ہے اس کے متعلق مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :۔ (1) لا یخاف کی ضمیر فاعل اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف راجع ہے یعنی اللہ کو اس تباہی یا قوم ثمود کی بربادی کے انجام کا کوئی اندیشہ نہ تھا۔ (2) ضحاک، سدی، کلبی نے کہا کہ لا یخاف کی ضمیر فاعل اشقی کی طرف راجع ہے۔ اور کلام میں کچھ تقدیم و تاخیر ہے۔ اصل کلام اس طرح تھا۔ اذا نبعث اشقھا ولا یخاف عقبھا۔ یعنی سب سے بڑا بدبخت اونٹنی کو قتل کرنے کے لئے فوری تیار ہوگیا اور اس کے نتیجہ کی طرف سے اس کو کچھ بھی خوف نہ آیا۔ (3) لا یضاف کی ضمیر حضرت صالح (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے۔ کیونکہ ان کو وعدہ دیا گیا تھا کہ کافروں کے ساتھ تم ہلاک نہیں ہوگے۔ لیکن اول معنی زیادہ بہتر اور مناسب ہیں کہ ضمیر اللہ سبحانہ کی طرف راجع ہے۔
‘21 یعنی ایسا غارت کیا کہ ان میں کوئی چھوٹا یا بڑا زندہ نہ بچا، صرف وہ لوگ بچے جو حضرت صالح پر ایمان لائے … یہ مطلب اس صورت میں ہے جب ” سواھا “ میں ” ھا “ کی ضمیر قوم کے لئے ہو بعض مفسرین نے اسے ” زمین “ کے لئے قرار دیا ہے۔ اس صورت میں ترجمہ یوں ہوگا ” انہیں زمین سے ملا دیا “ اور بعض نے اسے ملک میں شورش برپا ہوجائے … ” عقباھا میں ” ھا “ کی ضمیر تابہ کرنے کے عمل کے لئے بھی ہوسکتی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو کوئی پروا نہ ہوئی کہ انہیں تباہ کرنے کا انجام کیا ہوتا ہے۔
3۔ راحت کی چیز سے نیک عمل اور بواسطہ نیک عمل کے جنت مراد ہے کہ یسر کا سبب و محل ہے اسی لئے یسری کہہ دیا گیا ورنہ یسری کے معنی آسان چیز ہیں۔
﴿وَ لَا يَخَافُ عُقْبٰهَا (رح) ٠٠١٥﴾ اور وہ اس کے انجام سے نہیں ڈرتا یعنی اللہ تعالیٰ جس کسی کو ہلاک فرمائے کچھ بھی سزا دینا چاہے وہ اپنی مشیت و ارادہ کے مطابق سزا دے سکتا ہے وہ دنیا والے ملوک اور اصحاب اقتدار کی طرح نہیں جو مجرمین سے اور مجرمین کی اقوام سے بعض مرتبہ ڈر جاتے ہیں اور سزا نافذ کرنے میں تامل کرتے ہیں اور یہ سوچتے کہ اگر ہم سزا دینے کا اقدام کریں تو کہیں یہ اقوام بغاوت پر نہ اتر آئیں اور ہمارا اقتدار کھٹائی میں نہ پڑجائے۔ وھذا آخر تفسیر سورة الشمس وللہ الحمد قولہ تعالیٰ ﴿وَ الشَّمْسِ وَ ضُحٰىهَا﴾ ای ضوء ھا کما اخرجہ الحاکم وصححہ عن ابن عباس والمراد اذا اشرقت وقام سلطانھا ﴿وَ الْقَمَرِ اِذَا تَلٰىهَا﴾ ای تبعھا فقیل باعتبار طلوعہ وطلوعھا ای اذا تلا طلوعہ طلوعھا وذلک اول الشھر فان الشمس اذا طلعت من الافق الشرقی فی اول النھار یطلع بعدھا القمر لکن لا سلطان لہ فیری بعد غروبھا ھلالاً وقیل باعتبار طلوعہ وغروبھا ای اذا تلا طلوعہ غروبھا وذلک فی لیلة البدر رابع عشر الشھر وقال الحسن والفراء کما فی البحر ای تبعھا فی کل وقت لانہ یستضییٔ منھا فھو یتلوھا لذلک وقال الزجاج وغیرہ تلاھا معناہ واستدار فکان تابعاً لھا فی الاستدارة و کمال النور ﴿وَ النَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا﴾ ای جلی النھار الشمس ای اظھر ھا فانھا تنجلی وتظھر اذا انبسط النھار فالا ستناد مجازی کالا سناد فی نحو صام نھارہ وقیل الضمیر المنصوب یعود علی الارض وقیل علی الدنیا والمراد بھا وجہ الارض وما علیہ وقیل یعود علٰی الظلمة ووجلاھا بمعنٰی ازالھا وعدم ذکر المر جع علی ھذہ الاقوال للعلم بہ والاول اولٰی لذکر المرجع واتساق الضمائر ﴿وَ الَّيْلِ اِذَا يَغْشٰىهَا﴾ ای الشمس فیغطی ضوء ھا وقیل ای الارض وقیل ای الدنیا وجیئی بالمضارع ھنادون الماضی کما فی السابق قال ابو حیان رعایة للفاصلة ولم یقل غشاھا لانہ یحتاج الٰی حذف احد المفعولین الیھا۔ ﴿وَ الشَّمْسِ وَ ضُحٰىهَا﴾ ﴿وَ السَّمَآءِ وَ مَا بَنٰىهَا﴾ ای ومن بنھا ولقادر العظیم الشان الذی بناھا ودل علٰی وجودہ و کمال قدرتہ بناء ھما۔ ﴿وَ الْاَرْضِ وَ مَا طَحٰىهَا﴾ ای بسطھا من کل جانب ووطئھا کدحاھا ﴿وَ نَفْسٍ وَّ مَا سَوّٰىهَا﴾ ای انشاھا وابدعھا مستعدة لکما لھا وذلک بتعدیل اعضائھا وقواھا الظاھرة والباطنة والتنکیر للتکثیر وقیل للتفخیم علی ان المراد بالنفس آدم (علیہ السلام) والاول انسب بجواب القسم الاٰتی وذھب الفراء والزجاج والمبرد وقتادة وغیرھم الٰی ان ما فی المواضع الثلاث مصدریة ای وبناء ھا وطحوھا وتسوی تھا وجوز ان تکون ما عبارة عن الامر الذی لہ بنیت السماء وطحیت الارض وسویت النفس من الحکم والمصالح التی لا تحصٰی ویکون اسناد الافعال الیھا مجازًا۔ ﴿فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَ تَقْوٰىهَا﴾ الفجور والتقویٰ علی ما اخرج عبد بن حمید وغیرہ عن الضحاک المعصیة والطاعة مطلقا قلبین کانا او قالبیین والھا مھما النفس علی ما اخرج ھو وابن جریر وجماعة عن مجاھد تعر یفھما ایاھا بحیث تمیز رشدھا من ضلالھا وروی ذلک عن ابن عباس کما فی البحر و قریب منہ قول ابن زید فُجُوْرَهَا وَ تَقْوٰىهَا بینھما لھما والایة نظیر قولہ تعالیٰ ﴿وَ هَدَيْنٰهُ النَّجْدَيْنِۚ٠٠١٠﴾ ﴿ قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا۪ۙ٠٠٩ وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَاؕ٠٠١٠﴾ ھذا جواب القسم وحذف الکلام کثیر لا سیما عند طول الکلام المقتضی للتخفیف والتزکیة التنمیة والتدسیس الاخفاء واصل دسی دس فابدل من ثالث التما ثلات یاء ثم ابدلت الفًا لتحرکھا وانفتاح ما قبلھا ای لقد فاز بکل مطلوب ونجامن کل مکروہ من انمٰی نفسہ واعلاھا بالتقوی علما وعملا ولقد خسر من نقصھا واخفاھا بالفجور جھلا وفسوقًا۔ (من روح المعانی) ” فدمدم “ قال الراغب فی مفرداتہ ای اھلکھم وازعجھم وقال المحلی اطبق علیھم ﴿وَ لَا يَخَافُ عُقْبٰهَا﴾ ای عاقب تھا قال الحسن معناہ لا یخاف اللہ احدا تبعة فی اھلاکھم وھی روایة عن ابن عباس (رض) كما فی معالم التنزیل۔
9:۔ ” ولا یخاف “ اللہ تعالیٰ قوم ثمود کی بیخ کنی اور ہلاکت و تباہی کے انجام سے کوئی خوفزدہ نہیں تھا تاکہ ان پر کچھ رحم فرماتا نہ اسے کوئی خطرہ تھا کہ اس سے انتقام لیا جائے گا یا اسے ملامت کی جائے گی۔ ای عاقبتھہما وتبع تھا کما یخاف العاقبون من الملوک عاقبۃ ما یفعلونہ وتبعتہ (روح ج 30 ص 146) ۔ سورة الشمس ختم ہوئی
(15) اور اللہ تعالیٰ کو قوم وثمود کی ہلاکت کے انجام سے ذرا اندیشہ نہیں ہوا اور وہ نہیں ڈرتا پیچھا کرنے سے۔ یعنی جس طرح دنیوی بادشاہ ڈرتے ہیں کہ کسی کو سزا دینے سے ہمارے ملک میں بغاوت ہوجائیگی یا مقتول کے حمایتی کھڑے ہوجائیں گے اور ہمارا پیچھا کریں گے۔ اس آیت کی تفسیر اور بھی کئی طرح کی گئی ہے لیکن عبداللہ بن عباس (رض) سے یہی معنی مروی ہیں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سورت کے بعد قدافلح من زکھا کی مناسبت سے فرمایا کرتے تھے۔ اللھم انی اعوبک من العجز والکسل والبخل والھم و عذاب القبر اللھم اب نفسی تقوھا وزکھا انت خیر من زکھا انت ولیھا ومولھا ۔ اللھم انی اعوبک من علم لا ینفع ومن قلب لا یخشع ومن نفس لا تشبع ومن دعوۃ لا یستجاب لھا۔ تم تفسیر سورة الشمس