Surat us Shams

Surah: 91

Verse: 4

سورة الشمس

وَ الَّیۡلِ اِذَا یَغۡشٰىہَا ۪ۙ﴿۴﴾

And [by] the night when it covers it

قسم ہے رات کی جب اسے ڈھانپ لے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

By the night as it Yaghshaha. meaning, when it covers the sun, which takes place when sun disappears and the horizons become dark. Concerning Allah's statement, وَالسَّمَأءِ وَمَا بَنَـهَا

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

4۔ 1۔ یعنی سورج کو ڈھانپ لے اور ہر سمت اندھیرا چھا جائے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤] یعنی جب رات کی تاریکی چھا جائے اور سورج کی روشنی کا نشان تک باقی نہ رہ جائے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

والیل اذا یغشھا : جب رات سورج کی روشنی کو مکملط ور پر چھپا کر خوب اندھیری وہ جاتی ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The fourth oath is taken thus: وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَاهَا (and by the night when it envelops him,...91:4). In other words, when it [ the night ] sets in, the brightness of the sun is concealed [ and only darkness prevails ]. &

چوتھی قسم والیل اذا یغشھا، یعنی قسم ہے رات کی جبکہ وہ آفتاب پر چھا جائے یعنی آفتاب کی روشنی کو مستور کردے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَالَّيْلِ اِذَا يَغْشٰـىہَا۝ ٤ ليل يقال : لَيْلٌ ولَيْلَةٌ ، وجمعها : لَيَالٍ ولَيَائِلُ ولَيْلَاتٌ ، وقیل : لَيْلٌ أَلْيَلُ ، ولیلة لَيْلَاءُ. وقیل : أصل ليلة لَيْلَاةٌ بدلیل تصغیرها علی لُيَيْلَةٍ ، وجمعها علی ليال . قال اللہ تعالی: وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ [إبراهيم/ 33] ( ل ی ل ) لیل ولیلۃ کے معنی رات کے ہیں اس کی جمع لیال ولیا ئل ولیلات آتی ہے اور نہایت تاریک رات کو لیل الیل ولیلہ لیلاء کہا جاتا ہے بعض نے کہا ہے کہ لیلۃ اصل میں لیلاۃ ہے کیونکہ اس کی تصغیر لیلۃ اور جمع لیال آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّا أَنْزَلْناهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ [ القدر/ 1] ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں نازل ( کرنا شروع ) وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ [إبراهيم/ 33] اور رات اور دن کو تمہاری خاطر کام میں لگا دیا ۔ غشي غَشِيَهُ غِشَاوَةً وغِشَاءً : أتاه إتيان ما قد غَشِيَهُ ، أي : ستره . والْغِشَاوَةُ : ما يغطّى به الشیء، قال : وَجَعَلَ عَلى بَصَرِهِ غِشاوَةً [ الجاثية/ 23] ( غ ش و ) غشیۃ غشاوۃ وغشاء اس کے پاس اس چیز کی طرح آیا جو اسے چھپائے غشاوۃ ( اسم ) پر دہ جس سے کوئی چیز ڈھانپ دی جائے قرآن میں ہے : ۔ وَجَعَلَ عَلى بَصَرِهِ غِشاوَةً [ الجاثية/ 23] اور اس کی آنکھوں پر پر دہ ڈال دیا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤{ وَالَّـیْلِ اِذَا یَغْشٰٹہَا ۔ } ” اور قسم ہے رات کی جب وہ اس (سورج) کو ڈھانپ لیتی ہے۔ “ ان دونوں آیات کا مفہوم یوں ہوگا کہ دن سورج کو نمایاں کردیتا ہے جبکہ رات اسے ڈھانپ لیتی ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

2 That is, when the night comes, the sun hides and its light remains hidden throughout the night. This state has been described, saying that the night covers up the sun, for the night actually signifies the sun's hiding behind the horizon because of which its light cannot reach that part of the earth where the night has fallen.

سورة الشَّمْس حاشیہ نمبر :2 یعنی رات کی آمد پر سورج چھپ جاتا ہے اور اس کی روشنی رات بھر غائب رہتی ہے ۔ اس کیفیت کو یوں بیان کیا گیا ہے کہ رات سورج کو ڈھانک لیتی ہے ، کیونکہ رات کی اصل حقیقت سورج کا افق سے نیچے اتر جانا ہے ، جس کی وجہ سے اس کی روشنی زمین کے اس حصے تک نہیں پہنچ سکتی جہاں رات طاری ہو گئی ہو ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(91:4) والیل اذا یغشھا۔ واؤ قسمیہ اذا ظرف زمان۔ یغشی مضارع واحد مذکر غائب غشی (باب سمع) مصدر سے۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجعالشمس ہے۔ قسم ہے رات کی جب وہ آفتاب کو چھپالے۔ اس پر پردہ ڈال دے۔ ڈھانک دے اس کو۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

والیل اذا یغشھا (4:91) ” اور رات کی قسم جبکہ وہ ڈھانک لیتی ہے “۔ یہاں لفظ یغشیٰ ” ڈھانک لینا “ بمقابلہ جلی ” نمایا کرنا ، روشن کرنا “ استعمال ہوا ہے ، اس لئے کہ رات تمام چیزوں کو اپنے سینے سے لگا کر ڈھانپ لیتی ہے اور چھپا لیتی ہے۔ یہ ایک ایسا منظر ہے جو انسان کے دل کو بےحد متاثر کرتا ہے ، اور انسانی زندگی پر جس طرح دن کے اثرات ہوتے ہیں ، اسی طرح رات کے اثرات بھی ہوتے ہیں۔ اس کے بعد آسمان اور آسمان کی ساخت اور اس کی تعمیر پر قسم کھائی جاتی ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

پھر فرمایا ﴿ وَ الَّيْلِ اِذَا يَغْشٰىهَا۪ۙ٠٠٤﴾ (اور قسم ہے رات کی جب وہ سورج کو چھپالے) یہ بھی اسناد مجازی ہے اور مطلب یہ ہے کہ قسم ہے رات کی جب خوب اچھی طرح تاریک ہوجائے اور دن کی روشنی پر چھا جائے۔ ﴿ وَ السَّمَآءِ وَ مَا بَنٰىهَا۪ۙ٠٠٥﴾ (اور قسم ہے آسمان کی اور اس ذات کی جس نے اسے بنایا) ﴿ وَ الْاَرْضِ وَ مَا طَحٰىهَا۪ۙ٠٠٦﴾ (اور قسم ہے زمین کی اور اس ذات کی جس نے اس کو بچھایا) ۔ ﴿ وَ نَفْسٍ وَّ مَا سَوّٰىهَا۪ۙ٠٠٧﴾ (اور قسم ہے جان کی اور اس ذات کی جس نے اس کو اچھی طرح بنایا) ۔ ان تینوں آیتوں میں جو ما موصولہ ہے یہ مَنْ کے معنی میں ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی بھی قسم کھائی اور اپنی ذات کی بھی کیونکہ وہ ہی آسمان کو بنانے والا اور نفس کو بنانے والا ہے۔ نفس یعنی جان کی قسم کھاتے ہوئے ﴿وَّ مَا سَوّٰىهَا۪ۙ٠٠٧﴾ بھی فرمایا مفسرین نے اس سے نفس انسانی مراد لیا ہے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نفس انسانی کو بنایا اور اسے جس قالب میں ڈھالا اس کے اعضا کو خوب ٹھیک طرح مناسب طریقہ پر بنا دیا اس کے اعضاء ظاہرہ بھی خوب اچھی طرح کام کرتے ہیں اور اعضاء باطنہ بھی عقل و فہم تدبر و تفکر ان سب نعمتوں سے نواز دیا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(4) اور قسم ہے رات کی جب و ہ آفتاب اور اس کے انوار کو بالکل چھپالے۔ ضحا ضحوہ اور ضح سب کے معنی روشنی کے ہیں بعض نے دھوپ اور بعض نے گرمی ترجمہ کیا ہے مگر مطلب سب کا ایک ہی ہے اور مراد یہ ہے کہ جب آفتاب بلند ہوجائے اور اس کی روشنی اور دھوپ پھیل جائے، چاند کی روشنی چونکہ آفتاب کے غروب کے بعد ہوتی ہے اور چاند غروب آفتاب کے بعد نمایاں ہوتا ہے اور نیز چاند کی روشنی مستفاد ہے۔ آفتاب کے نور سے اس لئے فرمایا اذاتلہا چونکہ آفتاب کی حرارت اور چاند کی برودت کو کھیتوں کے تیار ہونے اور پھلوں کے پکنے اور میٹھا ہونے میں بڑا دخل ہے اس لئے ان کی قسم کھا کر مخلوق کو متوجہ فرمایا ہے مزرعہ آخرت کی جانب کیونکہ دنیا کی زندگی آخرت کی کھیتی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ آفتاب سے نور نبوت اور ماہتاب کی چاندی سے نور ولایت کی طرف اشارہ ہو۔ (کما قالہ الشاہ مولانا عبدالعزیز دہلوی) بہرحال ! والقمر اذا تلٰہا سے خواہ پچھلی رات کا ہلال ہو یا ایام بیض کا چاند ہو، یا چاند کی ابتدائی راتیں مراد ہوں تابعیت اور پیچھے آنا ظاہر ہے ادھر آفتاب غروب ہوا اور چاند کی روشنی اور چاندنی ظاہر ہوئی اور قسم ہے دن کی جب وہ اس سورج کو خوب روشن کردے۔ عام مفسرین نے جلٰہا کی ضمیر کا مرجع آفتاب کو ٹھہرایا مگر بعض نے ظلمت اور زمین وغیرہ کی طرف راجع کیا ہے، اگرچہ ان چیزوں کا ذکر اوپر نہیں آیا مگر ان کی شہرت کی وجہ سے ان کو مرجع قرار دے لیا ہے ۔ بہرحال یہاں اسناد مجازی ہے نیز مقلوبی طور پر یہاں دن کو روشن کرنے والا فرمایا چونکہ دن کا زمانہ عقل اور وہمی دونوں وجہوں کے اعتبار سے آفتاب کو روشن کرتا ہے اس لئے روشن کرنے کی نسبت دن ہی کی طرف فرمائی۔ اور قسم ہے رات کی جب وہ آفتاب کو چھپالے یعنی اس کی روشنی اور آفتاب کے انوار کو بالکل چھپالے یہاں بھی اسناد مجازی ہے۔