Surat us Shams

Surah: 91

Verse: 8

سورة الشمس

فَاَلۡہَمَہَا فُجُوۡرَہَا وَ تَقۡوٰىہَا ۪ۙ﴿۸﴾

And inspired it [with discernment of] its wickedness and its righteousness,

پھر سمجھ دی اسکو بدکاری کی اور بچ کر چلنے کی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Then He showed it its Fujur and its Taqwa. meaning, He showed him to his transgression and his Taqwa. This means that He clarified that for it and He guided it to what has been ordained for him. Ibn `Abbas said, فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا (Then He showed it its Fujur and its Taqwa). "He explained the good and the evil to it (the soul)." Mujahid, Qatadah, Ad-Dahhak and Ath-Thawri all said the same. Sa`id bin Jubayr said, "He gave him inspiration (to see what was) good and evil." Ibn Zayd said, "He made its Fujur and its Taqwa inside of it." Ibn Jarir recorded from Abul-Aswad Ad-Dili that he said, "`Imran bin Husayn said to me, `Do you think that what the people do, and what they strive for is a thing that is pre-ordained and predestined for them, or is it a thing which is only written after the Message comes to them from the Prophet, when there will be an evidence against them' I said, `Rather it is something preordained upon them.' Then he said, `Is that an injustice' Then I became extremely frightened of him (due to what he was saying), and I said to him, `There is nothing except that He (Allah) created it and possesses it in His Hand. He is not asked about what He does, while they (His creation) will be asked.' He (`Imran) then said, `May Allah guide you! I only asked you about that in order to inform you that a man from Muzaynah or Juhaynah tribe came to the Allah's Messenger and asked him: "O Messenger of Allah! Do you consider the actions of mankind and their struggles to be preordained for them and written for them from Qadr, or something written for them only after the Message came to them from their Prophet, when there will be an evidence against them" He (the Prophet ) replied: بَلْ شَيْءٌ قَدْ قُضِيَ عَلَيْهِم Rather it is something preordained for them. So the man said, "Then what is the point of our actions" The Prophet replied, مَنْ كَانَ اللهُ خَلَقَهُ لاِحْدَى الْمَنْزِلَتَيْنِ يُهَيِّيُهُ لَهَا وَتَصْدِيقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللهِ تَعَالَى Whoever Allah created for one of the two positions (Paradise or Hell), He makes it easy for him (to attain). The proof of that is in the Book of Allah. وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا (By Nafs, and Ma Sawwaha (Who apportioned it). Then He showed it its Fujur and its Taqwa).)" Ahmad and Muslim both recorded this Hadith. Allah then says, قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

8۔ 1 الہام کا مطلب یا تو یہ ہے کہ انہیں اچھی طرح سمجھایا اور انہیں انبیاء اور آسمانی کتابوں کے ذریعے سے خیر وشر کی پہچان کروا دی، یا مطلب یہ ہے کہ ان کی عقل اور فطرت میں خیر اور شر، نیکی اور بدکاری کا شور ودیعت کردیا، تاکہ وہ نیکی کو اپنائیں اور بدی سے اجتناب کریں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٨] الہام اور وحی کا فرق :۔ فَاَلْھَمَھَا : الہام کے معنی وہ بات ہے جو اللہ تعالیٰ یا ملاء اعلیٰ کی جانب سے بغیر کسی واسطہ کے دل میں ڈال دی جائے اور بمعنی سمجھ اور بصیرت عطا فرمانا۔ توفیق دینا، الہام شیطان کی طرف سے بھی ہوسکتا ہے جبکہ وہ نصوص شرعیہ کے خلاف ہو۔ وحی اور الہام میں بنیادی فرق یہ ہے کہ الہام کا اطلاق صرف ذوی العقول پر ہوتا ہے جبکہ وحی عام ہے۔ دوسرا فرق یہ ہے کہ الہام کا تعلق کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے سے ہوتا ہے۔ جبکہ وحی میں بہت زیادہ وسعت ہوتی ہے۔ خ الہام کی تین صورتیں :۔ الہام کی کئی صورتیں ہیں۔ ایک صورت تو وہ ہے جسے ہم فطری وحی کہہ سکتے ہیں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے ایک پرندے کے چوزے کو پیدا ہوتے ہی ہوا میں اڑنا سکھا دیا ہے یا مچھلی کو پانی میں تیرنا یا شہد کی مکھی کو چھتہ جیسا حیرت انگیز گھر بنانا سکھا دیا یا انسان کے بچہ کو ماں کی چھاتیوں کی طرف لپکنا اور دودھ چوسنا سکھا دیا۔ اگر اللہ تعالیٰ فطرت میں یہ باتیں نہ رکھتا تو پیدا ہونے والے نادان بچے کو ایسی باتیں سکھانے کا کوئی ذریعہ نہ تھا۔ الہام کی دوسری صورت کسی ایسی بات کا یکدم سوجھ جانا ہے جو انسان کی ذہنی کاوش کا نتیجہ نہیں ہوسکتا۔ چناچہ سائنس کے جتنے اکتشافات اور ایجادات ہوئی ہیں۔ وہ انسانوں کی ذہنی کاوش کے نتیجہ میں نہیں بلکہ ایسے ہی الہام کے نتیجہ میں وجود میں آئی ہیں۔ الہام کی تیسری صورت کا تعلق صرف اخلاقیات سے ہے اور یہی اس آیت میں مذکور ہے یعنی ہر انسان کی فطرت میں خیر و شر کی تمیز رکھ دی گئی ہے۔ پھر انسان کا ضمیر انسان کو ہر وقت متنبہ بھی کرتا رہتا ہے جس کی وجہ سے بسا اوقات اسے برا کام کرنے پر سخت ندامت محسوس ہوتی ہے اور کسی سے بھلائی کرکے انسان خوش ہوتا ہے۔ یہ احساس و امتیاز ایک عالمگیر حقیقت ہے جس کی بنا پر دنیا میں کبھی کوئی انسانی معاشرہ خیر و شر کے تصور سے خالی نہیں رہا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

(فالھمھا فجورھا و تقومھا : لھم یلھم لھما “ (س) ” الشیء “ کسی چیز کو ایک ہی بار نگل جانا۔” الھم اللہ یلھم الھاماً “ (افعال) اللہ تعالیٰ کا دل میں کوئی بات ڈال دینا، سمجھا دینا، اس کی توفیق دے دینا۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے دل میں اس کی نیکی اور بدی کی پہچان رکھ دی ہے۔ یہ پہچان پہلے عقل و فطرت میں رکھی گئی، پھر انیباء (رض) عنہماکے ذریعے سے دوبارہ یاد دہانی کروائی گئی، تاکہ لوگ نافرمانی سے بچیں اور پرہیز گاری اختیار کریں۔ دیکھیے سورة دہر (٣) اور سورة بلد (١٠) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

فَأَلْهَمَهَا فُجُورَ‌هَا وَتَقْوَاهَا (then inspired it with its [ instincts on evil and piety...91:8) The word ilham denotes &to cast into the heart&. The word fujur denotes &open transgression&. The meaning of taqwa is well-known. This sentence is linked with the seventh oath وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا and by the soul, and the One who made it well, [ 91:7] &, signifying that Allah has equipped man with human soul which has the capacity to distinguish between good and bad, and right and wrong. In other words, in his make-up Allah has built in him a special ability to choose freely the righteous path or the sinful path. Whichever way he takes out of his own free will, he will be rewarded or punished. This interpretation is deducible from a traceable Hadith which is transmitted by Muslim on the authority of Sayyidna ` Imran Ibn Husain (رض) . The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was sitting in the company of his followers. They asked him a question regarding Divine Destination. In response, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) recited this verse. This verse will allay the doubt about Divine Destination only if the words &then inspired it with its (instincts of) evil and piety, [ 91:8] & are taken in the sense that human soul has been inspired with conscience to distinguish between right and wrong, and has also been granted the ability to do good as well as the ability to commit sin. Man is not a creature of pure force or coercion. He has free will to choose his path of good or evil. He, in fact, has the option to do good or refrain from sin. The choice is his, for which he is rewarded or punished. Sayyidna Abu Hurairah and Ibn ` Abbas (رض) report that whenever the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) recited the verses [ 91:7-8] under comment would stop and recite the following supplication aloud: اللّٰھُمَّ اٰتِ نفسِی تَقوٰھَا اَنتَ وَلِیُّھَا وَ مَولَاھَا وَ اَنتَ خَیرُ مَن زَکَٰھَا &0 Allah! Give my soul its good. You are its Guardian and Master, and the best to purify it.&

فالھمھا فجورھا وتقوھا، الہام کے معنے دل میں ڈالنا، فجور کے معنے کھلا گناہ اور تقویٰ کا مفہوم معروف و مشہور ہے۔ یہ جملہ بھی ساتویں قسم ونفس وماسوھا کے ساتھ مربوط ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے نفس انسانی کو بنایا، پھر اسکے دل میں فجور اور تقویٰ دونوں کا الہام کردیا، مراد یہ ہے کہ نفس انسانی کی تخلیق میں حق تعالیٰ نے گناہ اور اطاعت دونوں کے مادے اور استعداد رکھدی ہے پھر انسان کو ایک خاص قسم کا اختیار اور قدرت دے دی کہ وہ اپنے قصد واختیار سے گناہ کی راہ اختیار کرلے یا اطاعت کی، جب وہ اپنے قصد واختیار سے ان میں سے کوئی راہ اختیار کرتا ہے تو اسی قصد واختیار پر اس کو ثواب یا عذاب ملتا ہے، اس تفسیر سے وہ شبہ رفع ہوگیا کہ گناہ اور اطاعت جب خود انسان کی تخلیق میں رکھدی گئی تو وہ اسکے کرنے پر مجبور ہوا، ایسی صورت میں وہ نہ کسی ثواب کا مستحق ہے نہ عذاب کا، اور یہ تفسیر ایک حدیث مرفوع سے مستفاد ہے جو صحیح مسلم میں حضرت عمران بن حصین کی روایت سے آئی ہے کہ بعض لوگوں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مسئلہ تقدیر کے متعلق سوال کیا تو آپ نے جواب میں یہ آیت تلاوت فرمائی۔ اس آیت سے مسئلہ تقدیر کے شبہ کا جواب اسی صورت میں ہوسکتا ہے جبکہ الہام فجور وتقویٰ سے مراد یہ لیا جائے کہ دونوں کے مادے اور استعدادیں حق تعالیٰ نے نفس انسانی کے اندر رکھدیئے ہیں مگر اس کو ان میں سے کسی ایک پر مجبور محض نہیں کیا بلکہ اس کو قدرت واختیاردیا کہ ان میں سے جس کو جی چاہے اختیار کرسکتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ اور ابن عباس کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب یہ آیت تلاوت فرماتے تو بلند آواز سے یہ دعا پڑھا کرتے تھے الھم ات نفسی تقوھا انت ولیھا ومولا ھا وانت خیر من ذکھا یعنی یا اللہ میرے نفس کو تقویٰ کی توفیق عطا فرما، آپ ہی میرے نفس کے ولی اور مربی ہیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَاَلْہَمَہَا فُجُوْرَہَا وَتَقْوٰىہَا۝ ٨ لهم الْإِلْهَامُ : إلقاء الشیء في الرّوع، ويختصّ ذلک بما کان من جهة اللہ تعالی، وجهة الملإ الأعلی. قال تعالی: فَأَلْهَمَها فُجُورَها وَتَقْواها[ الشمس/ 8] وذلک نحو ما عبّر عنه بِلَمَّةِ المَلَك، وبالنّفْث في الرّوْع کقوله عليه الصلاة والسلام : «إنّ للملک لمّة وللشیطان لمّة» وکقوله عليه الصلاة والسلام : «إنّ روح القدس نفث في روعي» وأصله من الْتِهَامِ الشیء، وهو ابتلاعه، والْتَهَمَ الفصیل ما في الضّرع، وفرس لهم : كأنه يَلْتَهِمُ الأرض لشدّة عدوه . ( ل ھ م ) الالھام ( افعال ) کے معنی کسی کے دل میں کوئی بات القا کردینا کے ہیں ۔ لیکن یہ لفظ ایسی بات کے القاء کے ساتھ مخصوص ہوچکا ہے جو اللہ تعالیٰ یا ملاء اعلیٰ کی جانب سے کسی کے دل میں ڈالی جاتی ہے ۔ قرآن میں ہے : فَأَلْهَمَها فُجُورَها وَتَقْواها[ الشمس/ 8] پھر اس کو بدکاری ( سے بچنے ) اور پرہیزگاری ( کرنے ) کی سمجھ دی ۔ اور اس کو لمۃ الملک یا نفث فی الروع سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے ۔ جیسا کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان اللملک لمۃ وللشیطان کا ہے ۔ اور ایک دوسری حدیث میں فرمایا :(114) ان روح القدمن نفث فی روعی کہ روح القدس نے میرے دل میں یہ بت ڈال دی ۔ اصل میں یہ التھام الشئی سے ماخوذ ہے ۔ جس کے معنی کسی چیز کو نگل جانا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے ۔ التھم الفصیل مافی الضرع کہ اونٹنی کے بچے نے تھنوں سے تمام دودھ چوس لیا ۔ فرس لھم تیز رو گھوڑا گویا وہ اپنی تیزروی سے زمین کو نگل رہا ہے ۔ فجر الْفَجْرُ : شقّ الشیء شقّا واسعا كَفَجَرَ الإنسان السّكرَيقال : فَجَرْتُهُ فَانْفَجَرَ وفَجَّرْتُهُ فَتَفَجَّرَ. قال تعالی: وَفَجَّرْنَا الْأَرْضَ عُيُوناً [ القمر/ 12] ، وَفَجَّرْنا خِلالَهُما نَهَراً [ الكهف/ 33] ، فَتُفَجِّرَ الْأَنْهارَ [ الإسراء/ 91] ، تَفْجُرَ لَنا مِنَ الْأَرْضِ يَنْبُوعاً [ الإسراء/ 90] ، وقرئ تفجر . وقال : فَانْفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتا عَشْرَةَ عَيْناً [ البقرة/ 60] ، ومنه قيل للصّبح : فَجْرٌ ، لکونه فجر اللیل . قال تعالی: وَالْفَجْرِ وَلَيالٍ عَشْرٍ [ الفجر/ 1- 2] ، إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كانَ مَشْهُوداً [ الإسراء/ 78] ، وقیل : الفَجْرُ فجران : الکاذب، وهو كذَنَبِ السَّرْحان، والصّادق، وبه يتعلّق حکم الصّوم والصّلاة، قال : حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيامَ إِلَى اللَّيْلِ [ البقرة/ 187] . ( ف ج ر ) الفجر کے معنی کسی چیز کو وسیع طور پر پھا ڑ نے اور شق کردینے کے ہیں جیسے محاورہ ہے فجر الانسان السکری اس نے بند میں وسیع شکاف ڈال دیا فجرتہ فانفجرتہ فتفجر شدت کے ساتھ پانی کو پھاڑ کر بہایا قرآن میں ہے : ۔ وَفَجَّرْنَا الْأَرْضَ عُيُوناً [ القمر/ 12] اور زمین میں چشمے جاری کردیئے ۔ وَفَجَّرْنا خِلالَهُما نَهَراً [ الكهف/ 33] اور دونوں میں ہم نے ایک نہر بھی جاری کر رکھی تھی اور اس کے بیچ میں نہریں بہا نکالو ۔ تَفْجُرَ لَنا مِنَ الْأَرْضِ يَنْبُوعاً [ الإسراء/ 90] جب تک کہ ہمارے لئے زمین میں سے چشمے جاری ( نہ) کردو ۔ اور ایک قرآت میں تفجر ( بصیغہ تفعیل ) ہے ۔ فَانْفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتا عَشْرَةَ عَيْناً [ البقرة/ 60] تو پھر اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے ۔ اور اسی سے صبح کو فجر کہا جاتا ہے کیونکہ صبح کی روشنی بھی رات کی تاریکی کو پھاڑ کر نمودار ہوتی ہے ۔ قرآن میں ہے : وَالْفَجْرِ وَلَيالٍ عَشْرٍ [ الفجر/ 1- 2] فجر کی قسم اور دس راتوں کی ۔ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كانَ مَشْهُوداً [ الإسراء/ 78] کیونکہ صبح کے وقت قرآن پڑھنا موجب حضور ( ملائکہ ) ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ فجر دو قسم پر ہے ایک فجر کا ذب جو بھیڑیئے کی دم کی طرح ( سیدھی روشنی سی نمودار ہوتی ہے دوم فجر صادق جس کے ساتھ نماز روزہ وغیرہ احکام تعلق رکھتے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيامَ إِلَى اللَّيْلِ [ البقرة/ 187] یہاں تک کہ صبح کی سفید دھاری رات کی ) سیاہ دھاری سے الگ نظر آنے لگے پھر روزہ ( رکھ کر ) رات تک پورا کرو تَّقْوَى والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، ثمّ يسمّى الخوف تارة تَقْوًى، والتَّقْوَى خوفاً حسب تسمية مقتضی الشیء بمقتضيه والمقتضي بمقتضاه، وصار التَّقْوَى في تعارف الشّرع حفظ النّفس عمّا يؤثم، وذلک بترک المحظور، ويتمّ ذلک بترک بعض المباحات لما روي : «الحلال بيّن، والحرام بيّن، ومن رتع حول الحمی فحقیق أن يقع فيه» قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] ، إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا [ النحل/ 128] ، وَسِيقَ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ زُمَراً [ الزمر/ 73] ولجعل التَّقْوَى منازل قال : وَاتَّقُوا يَوْماً تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللَّهِ [ البقرة/ 281] ، واتَّقُوا رَبَّكُمُ [ النساء/ 1] ، وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَخْشَ اللَّهَ وَيَتَّقْهِ [ النور/ 52] ، وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسائَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحامَ [ النساء/ 1] ، اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقاتِهِ [ آل عمران/ 102] . و تخصیص کلّ واحد من هذه الألفاظ له ما بعد هذا الکتاب . ويقال : اتَّقَى فلانٌ بکذا : إذا جعله وِقَايَةً لنفسه، وقوله : أَفَمَنْ يَتَّقِي بِوَجْهِهِ سُوءَ الْعَذابِ يَوْمَ الْقِيامَةِ [ الزمر/ 24] تنبيه علی شدّة ما ينالهم، وأنّ أجدر شيء يَتَّقُونَ به من العذاب يوم القیامة هو وجوههم، فصار ذلک کقوله : وَتَغْشى وُجُوهَهُمُ النَّارُ [إبراهيم/ 50] ، يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلى وُجُوهِهِمْ [ القمر/ 48] . التقویٰ اس کے اصل معنی نفس کو ہر اس چیز سے بچانے کے ہیں جس سے گزند پہنچنے کا اندیشہ ہو لیکن کبھی کبھی لفظ تقوٰی اور خوف ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ جس طرح کہ سبب بول کر مسبب اور مسبب بولکر سبب مراد لیا جاتا ہے اور اصطلاح شریعت میں نفس کو ہر اس چیز سے بچا نیکا نام تقوی ہے جو گناہوں کا موجب ہو ۔ اور یہ بات محظو رات شرعیہ کے ترک کرنے سے حاصل ہوجاتی ہے مگر اس میں درجہ کمال حاصل کرنے کے لئے بعض مباحات کو بھی ترک کرنا پڑتا ہے ۔ چناچہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے ۔ ( 149 ) الحلال بین واحرام بین ومن وقع حول الحمی فحقیق ان یقع فیہ کہ حلال بھی بین ہے اور حرام بھی بین ہے اور جو شخص چراگاہ کے اردگرد چرائے گا تو ہوسکتا ہے کہ وہ اس میں داخل ہوجائے ( یعنی مشتبہ چیزیں اگرچہ درجہ اباحت میں ہوتی ہیں لیکن ورع کا تقاضا یہ ہے کہ انہیں بھی چھوڑ دایا جائے ) قرآن پاک میں ہے : ۔ فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] جو شخص ان پر ایمان لا کر خدا سے ڈرتا رہے گا اور اپنی حالت درست رکھے گا ۔ ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے ۔ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا[ النحل/ 128] کچھ شک نہیں کہ جو پرہیز گار ہیں اللہ ان کا مدد گار ہے ۔ وَسِيقَ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ زُمَراً [ الزمر/ 73] اور جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کو گروہ بناکر بہشت کی طرف لے جائیں گے ۔ پھر تقویٰ کے چونکہ بہت سے مدارج ہیں اس لئے آیات وَاتَّقُوا يَوْماً تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللَّهِ [ البقرة/ 281] اور اس دن سے ڈرو جب کہ تم خدا کے حضور میں لوٹ کر جاؤ گے ۔ واتَّقُوا رَبَّكُمُ [ النساء/ 1] اپنے پروردگار سے ڈرو ۔ اور اس سے ڈرے گا ۔ اور خدا سے جس کا نام کو تم اپنی حاجت برآری کا ذریعہ بناتے ہو ڈرو ۔ اور قطع مودت ارجام سے ۔ اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقاتِهِ [ آل عمران/ 102] خدا سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے ۔ میں ہر جگہ تقویٰ کا ایک خاص معنی مراد ہے جس کی تفصیل اس کتاب کے اور بعد بیان ہوگی ۔ اتقٰی فلان بکذا کے معنی کسی چیز کے ذریعہ بچاؤ حاصل کرنے کے ہیں ۔ اور آیت : ۔ أَفَمَنْ يَتَّقِي بِوَجْهِهِ سُوءَ الْعَذابِ يَوْمَ الْقِيامَةِ [ الزمر/ 24] بھلا جو شخص قیامت کے دن اپنے منہ سے برے عذاب کو روکتا ہوا ۔ میں اس عذاب شدید پر تنبیہ کی ہے جو قیامت کے دن ان پر نازل ہوگا اور یہ کہ سب سے بڑی چیز جس کے ذریعہ وہ و عذاب سے بچنے کی کوشش کریں گے وہ ان کے چہرے ہی ہوں گے تو یہ ایسے ہی ہے جیسے دوسری جگہ فرمایا : وَتَغْشى وُجُوهَهُمُ النَّارُ [إبراهيم/ 50] اور ان کے مونہوں کو آگ لپٹ رہی ہوگی ۔ يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلى وُجُوهِهِمْ [ القمر/ 48] اس روز منہ کے بل دوزخ میں گھسٹیے جائیں گے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٨{ فَاَلْہَمَہَا فُجُوْرَہَا وَتَقْوٰٹہَا ۔ } ” پس اس کے اندر نیکی اور بدی کا علم الہام کردیا۔ “ اب اگلی دو آیات میں ان قسموں کے جواب مذکور ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

5 The word ilham is derived from Jahm which means to swallow. According to this very basic meaning, the word ilham is used terminologically for Allah's inspiring a man with a concept or idea unconsciously. Inspiring the human self with its wickedness and its piety and virtue has two meanings: (1) That the Creator has placed in it tendencies to both good and evil, and this is the thing that every man feels in himself. (2) That Allah has endowed every man's unconscious mind with the concept that there is a moral good and there is a moral evil, that good morals and acts and evil morals and acts are not equal and alike; fujur (immorality) is an evil thing and taqva (abstention from evils) a good thing. These concepts are pot new to man; he is conscious of these by nature, and the Creator has endowed him with the ability to distinguish between good and evil naturally. This same thing has been said in Surah AI-Balad: "And We showed him both the highways of good and evil." v. 10) ; and in Surah Ad Dahr, thus: "We showed him the way, whether to be grateful or disbelieving" (v. 3) ; and the same has been expressed in Surah AI-Qiyamah, saying: "In man there is the reproaching self (conscience) which reproaches him when he commits evil (v. 2) ," and "Man knows his own self best, even though he may offer many excuses." (w. 1415) . Here, one should also understand well that Allah has blessed every creature with natural inspiration according to its position and nature, as has been pointed out in Surah Ta Ha: "Who has given a distinctive form to everything and then guided it aright." (v. 50) . For example, every species of animals has been given inspirational knowledge according to its needs by virtue of which the fish learns to swim, the bird to fly, the bee to make the beehive and the weaver-bird to build the nest instinctively. Man also in view of his different capacities has been granted separate kinds of inspirational knowledge. His one capacity is that he is an animal being; as such the most significant instance of the inspirational knowledge that he has been given is that the human child starts sucking the mother's milk soon on birth. which no one could teach it, had it, not been taught it instinctively by God. Another position of man is that 6e is a rational being. As such God has boon blessing him with . inspirational guidance continuously since the time of his creation, by virtue of which he has been discovering things and making inventions to develop his civilization. Anyone who studies the history of these discoveries and inventions will realize that there was hardly any which might be the result of man's own effort or thought, but mostly it so happened that suddenly an idea struck a person and he discovered or invented something. Besides these two, another position of man is that he is a moral being. In this position too Allah has blessed him by inspiration with discrimination between good and evil and of the realization of the good to be good and of the evil to be evil. This sense of discrimination and realization is a universal truth on account of which no human society in the world has even been without the concepts of good and evil; there has never been in history, nor is there now, a society which may not be having some kind of a system of rewarding the good and punishing the evil. this fact being prevalent in every age, at every place, and at every stage of civilization is a clear proof of its being natural and innate. Furthermore, this is also proof that a Wise Creator possessed of knowledge has endued man's nature with it, for in the elements of which man is made up and the laws which govern the material system of the world, no human origin of morals can be traced out.

سورة الشَّمْس حاشیہ نمبر :5 الہام کا لفظ لَہْمَ سے ہے جس کے معنی نگلنے کے ہیں ۔ لَھَمَ الْشَّیََٔ وَ الْتَھَمَہٗ کے معنی ہیں فلاں شخص نے اس چیز کو نگل لیا ۔ اور اَلْھَمْتُہُ الْشَّیََٔ کے معنی ہیں میں نے فلاں چیز اس کو نگلوا دی یا اس کے حلق سے اتار دی ۔ اسی بنیادی مفہوم کے لحاظ سے الہام کا لفظ اصلاحاً اللہ تعالی کی طرف سے کسی تصور یا کس خیال کو غیر شعوری طور پر بندے کے دل و دماغ میں اتار دینے کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔ نفس انسانی پر اس کی بدی اور اس کی نیکی و پرہیزگاری الہام کر دینے کے دو مطلب ہیں ۔ ایک یہ کہ اس کے اندر خالق نے نیکی اور بدی دونوں کے رجحانات و میلات رکھ دیے ہیں ، اور یہ وہ چیز ہے جس کو ہر شخص اپنے اندر محسوس کرتا ہے ۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان کے لاشعور میں اللہ تعالی نے یہ تصورات ودیعت کر دیے ہیں کہ اخلاق میں کوئی چیز بھلائی ہے اور کوئی چیز برائی ، اچھے اخلاق و اعمال اور برے اخلاق و اعمال یکساں نہیں ہیں ، فجور ( بد کرداری ) ایک قبیح چیز ہے اور تقویٰ ( برائیوں سے اجتناب ) ایک اچھی چیز ۔ یہ تصورات انسان کے لیے اجنبی نہیں ہیں بلکہ اس کی فطرت ان سے آشنا ہے اور خالق نے برے اور بھلے کی تمیز پیدائشی طور پر اس کو عطا کر دی ہے ۔ یہی بات سورہ بلد میں فرمائی گئی ہے کہ وَهَدَيْنَاهُ النَّجْدَيْنِ اور ہم نے اس کو خیر و شر کے دونوں نمایاں راستے دکھا دیے ( آیت 10 ) ۔ اسی کو سورہ دھر میں یوں بیان کیا گیا ہے: إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا ہم نے اس کو راستہ دکھایا خواہ شاکر بن کر رہے یا کافر ( آیت 3 ) ۔ اور اسی بات کو سورہ قیامہ میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ انسان کے اندر ایک نفس لوامہ ( ضمیر ) موجود ہے جو برائی کرنے پر اسے ملامت کرتا ہے ( آیت 2 ) اور ہر انسان خواہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے مگر وہ اپنے آپ کو خوب جانتا ہے کہ وہ کیا ہے ( آیات 14 ۔ 15 ) ۔ اس جگہ یہ بات بھی اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ فطری الہام اللہ تعالی نے ہر مخلوق پر اس کی حیثیت اور نوعیت کے لحاظ سے کیا ہے ، جیسا کہ سورہ طٰہٰ میں ارشاد ہوا ہے کہ الَّذِي أَعْطَىٰ كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَىٰ جس نے ہر چیز کو اس کی ساخت عطا کی پھر راہ دکھائی ۔ ( آیت 50 ) مثلاً حیوانات کی ہر نوع کو اس کی ضروریات کے مطابق الہامی علم دیا گیا ہے جس کی بنا پر مچھلی کو آپ سے آپ تیرنا ، پرندے کو اڑنا ، شہد کی مکھی کو چھتہ بنانا اور بئے کو گھونسلا تیار کرنا آ جاتا ہے ۔ انسان کو بھی اس کی مختلف حیثیتوں کے لحاظ سے الگ الگ قسم کے الہامی علوم دیے گئے ہیں ۔ انسان کی ایک حیثیت یہ ہے کہ وہ ایک حیوانی وجود ہے اور اس حیثیت سے جو الہامی علم اس کو دیا گیا ہے اس کی ایک نمایاں ترین مثال بچے کا پیدا ہوتے ہی ماں کا دودھ چوسنا ہے جس کی تعلیم اگر خدا نے فطری طور پر اسے نہ دی ہوتی تو کوئی اسے یہ فن نہ سکھا سکتا تھا ۔ اس کی دوسری حیثیت یہ ہے کہ وہ ایک عقلی وجود ہے ۔ اس حیثیت سے خدا نے انسان کی آفرینش کے آغاز سے مسلسل اس کو الہامی رہنمائی دی ہے جس کی بدولت وہ پے در پے اکتشافات اور ایجادات کر کے تمدن میں ترقی کرتا رہا ہے ۔ ان ایجادات و اکتشافات کی تاریخ کا جو شخص بھی مطالعہ کرے گا وہ محسوس کرے گا کہ ان میں سے شاید ہی کوئی ایسی جو محض انسانی فکر و کاوش کا نتیجہ ہو ، ورنہ ہر ایک کی ابتدا اسی طرح ہوئی ہے کہ یکایک کسی شخص کے ذہن میں ایک بات آ گئی اور اس کی بدولت اس نے کسی چیز کا اکتشاف کیا یا کوئی چیز ایجاد کر لی ۔ ان دونوں حیثیتوں کے علاوہ انسان کی ایک اور حیثیت یہ ہے کہ وہ ایک اخلاقی وجود ہے ، اور اس حیثیت سے بھی اللہ تعالی نے اسے خیر و شر کا امتیاز ، اور خیر کے خیر اور شر کے شر ہونے کا احساس الہامی طور پر عطا کیا ہے ۔ یہ امتیاز و احساس ایک عالمگیر حقیقت ہے جس کی بنا پر دنیا میں کبھی کوئی انسانی معاشرہ خیر و شر کے تصورات سے خالی نہیں رہا ہے ، اور کوئی ایسا معاشرہ تاریخ میں کبھی پایا گیا ہے نہ اب پایا جاتا ہے جس کے نظام میں بھلائی اور برائی پر جزا اور سزا کی کوئی نہ کوئی صورت اختیار نہ کی گئی ہو ۔ اس چیز کا ہر زمانے ہر جگہ اور ہر مرحلہ تہذیب و تمدن میں پایا جانا اس کے فطری ہونے کا صریح ثبوت ہے اور مزید براں یہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ ایک خالق حکیم و دانا نے اسے انسان کی فطرت میں ودیعت کیا ہے ، کیونکہ جن اجزاء سے انسان مرکب ہے اور جن قوانین کے تحت دنیا کا مادی نظام چل رہا ہے ان کے اندر کہیں اخلاق کے ماخذ کی نشاندی نہیں کی جا سکتی ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(91:8) فالھمھا فجورھا وتقوھا : ف عاطفہ بمعنی پھر۔ الہم کا عطف سوی پر ہے۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع نفس ہے۔ فجورھا مضاف مضاف الیہ مل کر الہم کا مفعول۔ اسی طرح تقوھا مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول ہے الہم کا۔ الہم ماضی واحد مذکر غائب الہام (افعال) مصدر سے جس کے معنی کسی چیز کو دل میں ڈال دینے کے ہیں۔ الہم لہم سے ماخوذ ہے جس کے معنی نگلنے کے ہیں چونکہ الہام میں بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک بات ڈال دی جاتی ہے اس لئے اس کا نام الہام ہوا۔ الہم کا فاعل محذوف ہے یعنی اللہ تعالیٰ ۔ فجور۔ مصدر ہے فجر یفجر (باب نصر) سے۔ فجور کا لغوی معنی ہے سوار کا زمین سے ایک طرف کو جھک جانا۔ جھوٹ بولنا۔ کسی کو جھوٹا قرار دینا۔ نافرمانی کرنا۔ مراد ی معنی ہیں دین کا پردہ پھاڑنا۔ علی الاعلان گناہ کرنا۔ فجر عن الحق۔ حق سے روگردانی کرنا۔ آیت ہذا میں بدکاری اور شریعت کی نافرمانی مراد ہے۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع نفس ہے۔ تقوھا مضاف مضاف الیہ۔ تقوی۔ اتقاء (افتعال) مصدر سے اسم ہے۔ بمعنی پرہیزگاری۔ بچنا۔ لغت میں تقویٰ کے معنی ہیں نفس کا اس چیز سے بچانا اور حفاظت میں رکھنا جس کا خوف ہو۔ لیکن کبھی کبھی خوف کو تقویٰ سے اور تقویٰ کو خوف سے موسوم کرتے ہیں۔ عرف شرع میں ” تقوی “ نفس کو ہر اس چیز سے بچانے کا نام ہے جو گناہ کی طرف لے جائے یہ بات ممنوعات کے اجتناب سے حاصل ہوتی ہے مگر اس کی تکیمل اس وقت ہوتی ہے کہ جب بعض مباحات کو بھی ترک کیا جائے۔ چناچہ مردی ہے :۔ الحلال بین والحرام بین ومن وقع حول الحمی فحقیق ان یقع فیہ۔ (حلال کھلا ہوا ہے اور حرام کھلا ہوا ہے اور جو چراگاہ کے اردگرد چرائے گا تو (اس کے حال کو دیکھتے ہوئے یہ خطرہ ہے) درست معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس میں داخل ہوجائے) ۔ ھا ضمیر نفس کی طرف راجع ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ پھر اس کی نافرمانی کو اور اس کی پارسائی کو اس کے دل میں ڈال دیا۔ مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کے سامنے خیر و شر اور اطاعت و معصیت کا راستہ کھول دیا تاکہ خیر و طاعت کو اخٹیار کرے اور شر و معصیت سے پرہیز کرے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 15 یہ بتلانا عقل و فطرت سے بھی ہوا اور پھر انبیاء (علیہم السلام) کی زبان سے بھی اچھی باتیں اس لئے بتلائی گئیں کہ انہیں اتخیار کرے اور بری باتیں اس لئے کہ ان سے بچے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

﴿ فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَ تَقْوٰىهَا۪ۙ٠٠٨﴾ (پھر نفس کو اس کے فجور اور تقویٰ کا الہام فرما دیا) جب اسے عقل و فہم سے اور اعضاء صحیحہ ظاہرہ و باطنہ سے نواز دیا تو اسے احکام کا مکلف بھی بنا دیا وہ اپنے خالق ومالک کو پہچاننے کا بھی اہل ہے اور اس کے اعضاء معبود حقیقی کی عبادت کرنے کی بھی قوت رکھتے ہیں، پھر چونکہ امتحان بھی مقصود تھا اس لیے انسان کے لیے دونوں راستے واضح فرما دیئے جسے ﴿ وَ هَدَيْنٰهُ النَّجْدَيْنِۚ٠٠١٠﴾ میں بیان فرمایا نفس انسانی میں فجور کے جذبات بھی ابھرتے ہیں یعنی معاصی کی طرف بھی ابھار ہوتا ہے اور خیر کے جذبات بھی امنڈتے ہیں خیر اور شر دونوں چیزیں نفس انسانی میں پیدا ہوتی ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اس میں ڈالی ہیں اب انسان کی یہ سمجھداری ہے کہ وہ معاصی سے بچے اور خیر کے کاموں میں آگے بڑھے۔ ﴿ قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا۪ۙ٠٠٩﴾ یہ جواب قسم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوقات میں چند چیزوں کی قسم کھائی جن کا وجود انسان کے سامنے ہے اور بہت واضح اور ظاہر ہے آسمان کو سب دیکھتے ہیں، زمین پر سب بستے ہیں اور سب پر رات دن گزرتے ہیں چاند سورج دونوں بڑی روشنی والی چیزیں ہیں۔ اور نفس انسانی تو سب کے ساتھ لگا ہی ہوا ہے ان سب چیزوں کی تخلیق اور ان کے تصرفات سب میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کا مظاہرہ ہے انسان پر لازم ہے کہ اپنے خالق کو پہچانے اس کے احکام پر عمل کرے گناہوں سے بچے، طاعات میں لگے اگر ایمان قبول کیا۔ گناہوں سے بچا، نفس کو سنوارا اور سدھارا اور گناہوں کی آلائش اور گندگی سے بچایا تو وہ کامیاب ہوگیا اس کی دنیا بھی اچھی ہے اور آخرت بھی۔ سورة ٴ النور میں فرمایا ﴿ وَ مَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ يَخْشَ اللّٰهَ وَ يَتَّقْهِ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْفَآىِٕزُوْنَ۠٠٠٥٢﴾ (اور جس نے اللہ کی اور اس کے رسول کی اطاعت کی اور اللہ سے ڈرا اور اس کے ڈر سے گناہوں سے بچا تو یہ لوگ ہیں جو کامیاب ہیں) ۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(8) پھر اس کو اس کی بدکرداری اور تقویٰ و پرہیزگاری سے آگاہ کیا حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے فرمایا اس کے لئے خیر اور شر کو بیان کردیا طاعت اور معصیت اس کو تعلیم کردی اور یہ سکھا دیا کہ کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے ۔ مطلب یہ ہے کہ عقل سلیم اور فطرت صحیحہ اول تو خود ہی اس باب میں رہنما ہے اور وہی بھلی بری بات سمجھاتی ہے پھر انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کو بھیج کر مزیدکرم فرمایا اور برائی اور بھلائی میں فرق بتادیا اور نہایت واضح طور پر انبیاء ومرسلین نے نیکی اور بدی کا راستہ دکھادیا، پھر قلب میں جو نیکی کا رجحان یابدی کا میلان ہوتا ہے تو نیکی کا الہام بواسطہ فرشتہ اور بدی کا القاب واسطہ شیطان ہوتا ہے۔ بہرحال جب یہ کیفیت پیدا ہوتی ہے اور بندہ نیکی یا بدی کا عزم کرلیتا ہے کیونکہ بنی آدم کے تمام افعال اس کے ارادے اور نفس کے داعیہ سے ہوتے ہیں پس جب عزم تک نوبت پہنچ جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس فعل کو خلق فرمادیتا ہے اور بندہ اس کا کسب کرتا ہے اور جب بندہ کسب کرلیتا ہے تو اس کسب کی وجہ سے سزاوجزا کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے اسی کو قرآن نے لفظ الہام سے تعبیر کیا ہے مسئلے کے……بہت سے گوشے ہم نے بہ خوف تطویل چھوڑ دیئے ہیں، مزید تفصیل تفسیر عزیزی سے معلوم ہوسکتی ہے۔ علمائے مفسرین کے اور بھی کئی اقوال ہیں مگر ہم نے عبداللہ بن عباس کے قول پر شرچ کی ہے تاکہ سمجھنے میں آسانی ہو۔ اور جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ ایک طرف بھلے اور برے کو سمجھنے کا وقوف دیا، دوسری طرف برائی سے بچنے اور بھلائی کو حاصل کرنے کے لئے اعضا میں قوت وقدرت عطا فرمائی تو اس بنا پر آگے فرمایا۔