Surat us Shams
Surah: 91
Verse: 9
سورة الشمس
قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ زَکّٰىہَا ۪ۙ﴿۹﴾
He has succeeded who purifies it,
جس نے اسے پاک کیا وہ کامیاب ہوا ۔
قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ زَکّٰىہَا ۪ۙ﴿۹﴾
He has succeeded who purifies it,
جس نے اسے پاک کیا وہ کامیاب ہوا ۔
9۔ 1 شرک سے، معصیت سے اور اخلاقی آلائشوں سے پاک کیا، وہ اخروی فوز و فلاح سے ہمکنار ہوگا۔
قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا ﴿٩﴾ وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا ﴿١٠﴾ (success is really attained by him who purifies it, and failure is really suffered by him who pollutes it....91:10). This is the subject of the seven oaths. The primitive meaning of tazkiyah is &inner cleanliness&, signifying &he who obeyed Allah and purified his inner and outer selves.& Verse [ 10] signifies &he who caused his soul to sink in the swamp of sins will be deprived&. The word dassa is derived from the basic word dass& which denotes &to bury in the ground& as for instance it occurs elsewhere in the Qur&an, thus: أَمْ يَدُسُّهُ فِي التُّرَابِ ...or put it away into the dust? [ 16:59] & Some of the commentators have analysed that the pronouns of zakka &He purified& and dassa &He caused to pollute& as referring to &Allah&, signifying that &he is successful indeed whose soul Allah has purified and he has failed whose soul Allah pollutes &. This verse has divided the entire mankind into two groups: [ 1] successful; and [ 2] unsuccessful. An example of the second group has been cited to show how it rejected the message of Allah and consequently how Allah destroyed them. Such a group will receive severe punishment in the Hereafter. Sometimes, however, an installment of punishment is meted out to them in this world as in the case of Thamud. Their story is recounted fully in Surah A` raf [ S.7:73-79; S.11:61-68; S. 26:141-159; S.27:45-53; S..41:17-18; S.54:23-32; and S. 69:4-5]. Here a brief reference is made to that story and their punishment.
ان سات قسموں کے بعد جواب قسم میں فرمایا قد افلح من زکھا وقد خاب من دسھا، یعنی بامراد ہوا وہ شخص جس نے اپنے نفس کا تزکیہ کرلیا۔ تزکیہ کے اصلی معنے باطنی پاکی کے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ جس نے اللہ کی اطاعت کرکے اپنے ظاہر و باطن کو پاک کرلیا اور محروم ہوا وہ شخص جس نے اپنے نفس کو گناہوں کی دلدل میں دھنسادیا لفظ دسی، دس سے مشتق ہے جس کے معنے زمین میں دفن کردینے کے ہیں کما قال تعالیٰ ام ید سہ فی التراب اور بعض مفسرین نے یہاں زکی اور دسی دونوں میں ضمیر فاعل اللہ کی طرف راجع کرکے معنے یہ کئے ہیں کہ بامراد ہوا وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے پاک کردیا، اور نامراد و محروم ہوا وہ جس کو اللہ تعالیٰ نے گناہوں میں دھنسا دیا اس آیت نے کل انسانوں کو دو گروہوں میں تقسیم کردیا، ایک با مراد اور دوسرا نامراد، آگے اسی دوسری قسم کے لوگوں کا ایک واقعہ بطور مثال کے پیش کرکے ان کے انجام بد سے ڈرایا گیا ہے کہ ان نامرادوں کو آخرت میں تو سخت سزا ملے ہی گی بعض اوقات دنیا میں بھی ان کو سزا کی ایک قسط دے دیجاتی ہے جیسے قوم ثمود کو پیش آیا، ان کا واقعہ تفصیل کے ساتھ سورة اعراف میں آچکا ہے یہاں اس کی طرف اجمالی اشارہ فرما کر انکے عذاب کا بیان فرمایا۔
قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىہَا ٩ ( قَدْ ) : حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] ، قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] ، قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] ، لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ، لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] ، وغیر ذلك، ولما قلت لا يصحّ أن يستعمل في أوصاف اللہ تعالیٰ الذّاتيّة، فيقال : قد کان اللہ علیما حكيما، وأما قوله : عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ مَرْضى [ المزمل/ 20] ، فإنّ ذلک متناول للمرض في المعنی، كما أنّ النّفي في قولک : ما علم اللہ زيدا يخرج، هو للخروج، وتقدیر ذلک : قد يمرضون فيما علم الله، وما يخرج زيد فيما علم الله، وإذا دخل ( قَدْ ) علی المستقبَل من الفعل فذلک الفعل يكون في حالة دون حالة . نحو : قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِواذاً [ النور/ 63] ، أي : قد يتسلّلون أحيانا فيما علم اللہ . و ( قَدْ ) و ( قط) «2» يکونان اسما للفعل بمعنی حسب، يقال : قَدْنِي كذا، وقطني كذا، وحكي : قَدِي . وحكى الفرّاء : قَدْ زيدا، وجعل ذلک مقیسا علی ما سمع من قولهم : قدني وقدک، والصحیح أنّ ذلک لا يستعمل مع الظاهر، وإنما جاء عنهم في المضمر . ( قد ) یہ حرف تحقیق ہے اور فعل کے ساتھ مخصوص ہے علماء نحو کے نزدیک یہ حرف توقع ہے اور اصل میں جب یہ فعل ماضی پر آئے تو تجدد اور حدوث کے معنی دیتا ہے جیسے فرمایا : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] خدا نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے ۔ قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] تمہارے لئے دوگرہوں میں ۔۔۔۔ ( قدرت خدا کی عظیم الشان ) نشانی تھی ۔ قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] خدا نے ۔۔ سن لی ۔ لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ( اے پیغمبر ) ۔۔۔۔۔ تو خدا ان سے خوش ہوا ۔ لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] بیشک خدا نے پیغمبر پر مہربانی کی ۔ اور چونکہ یہ فعل ماضی پر تجدد کے لئے آتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کے اوصاف ذاتیہ کے ساتھ استعمال نہیں ہوتا ۔ لہذا عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ مَرْضى [ المزمل/ 20] کہنا صحیح نہیں ہے اور آیت : اس نے جانا کہ تم میں بعض بیمار بھی ہوتے ہیں ۔ میں قد لفظا اگر چہ علم پر داخل ہوا ہے لیکن معنوی طور پر اس کا تعلق مرض کے ساتھ ہے جیسا کہ ، ، میں نفی کا تعلق خروج کے ساتھ ہے ۔ اور اس کی تقدریروں ہے اگر ، ، قد فعل مستقل پر داخل ہو تو تقلیل کا فائدہ دیتا ہے یعنی کبھی وہ فعل واقع ہوتا ہے اور کبھی واقع نہیں ہوتا اور آیت کریمہ : قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِواذاً [ النور/ 63] خدا کو یہ لوگ معلوم ہیں جو تم میں سے آنکھ بچا کر چل دیتے ہیں ۔ کی تقدیریوں ہے قد یتسللون احیانا فیما علم اللہ ( تو یہ بہت آیت بھی ماسبق کی طرح موؤل ہوگی اور قد کا تعلق تسلل کے ساتھ ہوگا ۔ قدوقط یہ دونوں اسم فعل بمعنی حسب کے آتے ہیں جیسے محاورہ ہے قد فی کذا اوقطنی کذا اور قدی ( بدون نون وقایہ ا کا محاورہ بھی حکایت کیا گیا ہے فراء نے قدنی اور قدک پر قیاس کرکے قدر زید ا بھی حکایت کیا ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ قد ( قسم فعل اسم ظاہر کے ساتھ استعمال نہیں ہوتا بلکہ صرف اسم مضمر کے ساتھ آتا ہے ۔ فلح الفَلْحُ : الشّقّ ، وقیل : الحدید بالحدید يُفْلَحُ أي : يشقّ. والفَلَّاحُ : الأكّار لذلک، والفَلَاحُ : الظَّفَرُ وإدراک بغية، وذلک ضربان : دنیويّ وأخرويّ ، فالدّنيويّ : الظّفر بالسّعادات التي تطیب بها حياة الدّنيا، وهو البقاء والغنی والعزّ ، وإيّاه قصد الشاعر بقوله : أَفْلِحْ بما شئت فقد يدرک بال ... ضعف وقد يخدّع الأريب وفَلَاحٌ أخرويّ ، وذلک أربعة أشياء : بقاء بلا فناء، وغنی بلا فقر، وعزّ بلا ذلّ ، وعلم بلا جهل . ولذلک قيل : «لا عيش إلّا عيش الآخرة» وقال تعالی: وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوانُ [ العنکبوت/ 64] ، أَلا إِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ [ المجادلة/ 22] ، قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّى [ الأعلی/ 14] ، قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاها [ الشمس/ 9] ، قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ [ المؤمنون/ 1] ، لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ [ البقرة/ 189] ، إِنَّهُ لا يُفْلِحُ الْكافِرُونَ [ المؤمنون/ 117] ، فَأُولئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ [ الحشر/ 9] ، وقوله : وَقَدْ أَفْلَحَ الْيَوْمَ مَنِ اسْتَعْلى [ طه/ 64] ، فيصحّ أنهم قصدوا به الفلاح الدّنيويّ ، وهو الأقرب، وسمّي السّحور الفَلَاحَ ، ويقال : إنه سمّي بذلک لقولهم عنده : حيّ علی الفلاح، وقولهم في الأذان : ( حي علی الفَلَاحِ ) أي : علی الظّفر الذي جعله اللہ لنا بالصلاة، وعلی هذا قوله ( حتّى خفنا أن يفوتنا الفلاح) أي : الظّفر الذي جعل لنا بصلاة العتمة . ( ف ل ح ) الفلاح الفلح کے معنی پھاڑ نا کے ہیں مثل مشہور ہے الحدید بالحدید یفلح لوہالو ہے کو کاٹتا ہے اس لئے فلاح کسان کو کہتے ہیں ۔ ( کیونکہ وہ زمین کو پھاڑتا ہے ) اور فلاح کے معنی کامیابی اور مطلب وری کے ہیں اور یہ دو قسم پر ہے دینوی اور اخروی ۔ فلاح دنیوی ان سعادتوں کو حاصل کرلینے کا نام ہے جن سے دنیوی زندگی خوشگوار بنتی ہو یعنی بقاء لمال اور عزت و دولت ۔ چناچہ شاعر نے اسی معنی کے مدنظر کہا ہے ( نحلع البسیط) (344) افلح بماشئت فقد یدرک بالضد عف وقد یخدع الاریب جس طریقہ سے چاہو خوش عیشی کرو کبھی کمزور کامیاب ہوجاتا ہے اور چالاک دہو کا کھانا جاتا ہے ۔ اور فلاح اخروی چار چیزوں کے حاصل ہوجانے کا نام ہے بقابلا فناء غنا بلا فقر، عزت بلا ذلت ، علم بلا جہلاسی لئے کہا گیا ہے (75) لاعیش الاعیش الاخرۃ کہ آخرت کی زندگی ہی حقیقی زندگی ہے اور اسی فلاح کے متعلق فرمایا : وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوانُ [ العنکبوت/ 64] اور زندگی کا مقام تو آخرت کا گھر ہے ۔ أَلا إِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ [ المجادلة/ 22] ( اور ) سن رکھو کہ خدا ہی کا لشکر مراد حاصل کرنے والا ہے ۔ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّى[ الأعلی/ 14] بیشک وہ مراد کو پہنچ گیا جو پاک ہوا ۔ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاها [ الشمس/ 9] جس نے اپنے نفس یعنی روح کو پاک رکھا وہ مراد کو پہنچ گیا ۔ قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ [ المؤمنون/ 1] بیشک ایمان والے رستگار ہوئے ۔ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ [ البقرة/ 189] تاکہ تم فلاح پاؤ ۔ إِنَّهُ لا يُفْلِحُ الْكافِرُونَ [ المؤمنون/ 117] کچھ شک نہیں کہ کافر رستگاری نہیں پائیں گے ۔ فَأُولئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ [ الحشر/ 9] وہ تو نجات پانے والے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : وَقَدْ أَفْلَحَ الْيَوْمَ مَنِ اسْتَعْلى [ طه/ 64] اور آج جو غالب رہا وہ کامیاب ہوا ۔ میں یہ بھی صحیح ہے کہ انہوں نے فلاح دنیوی مراد لی ہو بلکہ یہی معنی ( بلحاظ قرآن ) اقرب الی الصحت معلوم ہوتے ہیں ۔ اور سحور یعنی طعام سحر کو بھی فلاح کہا گیا ہے کیونکہ اس وقت حی علی الفلاح کی آواز بلند کی جاتی ہے اور اذان میں حی علی الفلاح کے معنی یہ ہیں کہ اس کامیابی کیطرف آؤ جو نما زکی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے مقدر کر رکھی ہے ۔ اور حدیث (76) حتی خفنا ان یفوتنا الفلاح ( حتی کہ فلاح کے فوت ہوجانے کا ہمیں اندیشہ ہوا ) میں بھی فلاح سے مراد وہ کامیابی ہے جو صلاۃ عشا ادا کرنے کی وجہ سے ہمارے لئے مقدر کی گئی ہے ۔ زكا أصل الزَّكَاةِ : النّموّ الحاصل عن بركة اللہ تعالی، ويعتبر ذلک بالأمور الدّنيويّة والأخرويّة . يقال : زَكَا الزّرع يَزْكُو : إذا حصل منه نموّ وبرکة . وقوله : أَيُّها أَزْكى طَعاماً [ الكهف/ 19] ، إشارة إلى ما يكون حلالا لا يستوخم عقباه، ومنه الزَّكاةُ : لما يخرج الإنسان من حقّ اللہ تعالیٰ إلى الفقراء، وتسمیته بذلک لما يكون فيها من رجاء البرکة، أو لتزکية النّفس، أي : تنمیتها بالخیرات والبرکات، أو لهما جمیعا، فإنّ الخیرین موجودان فيها . وقرن اللہ تعالیٰ الزَّكَاةَ بالصّلاة في القرآن بقوله : وَأَقِيمُوا الصَّلاةَ وَآتُوا الزَّكاةَ [ البقرة/ 43] ، وبِزَكَاءِ النّفس وطهارتها يصير الإنسان بحیث يستحقّ في الدّنيا الأوصاف المحمودة، وفي الآخرة الأجر والمثوبة . وهو أن يتحرّى الإنسان ما فيه تطهيره، وذلک ينسب تارة إلى العبد لکونه مکتسبا لذلک، نحو : قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاها[ الشمس/ 9] ، وتارة ينسب إلى اللہ تعالی، لکونه فاعلا لذلک في الحقیقة نحو : بَلِ اللَّهُ يُزَكِّي مَنْ يَشاءُ [ النساء/ 49] ، وتارة إلى النّبيّ لکونه واسطة في وصول ذلک إليهم، نحو : تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِها[ التوبة/ 103] ، يَتْلُوا عَلَيْكُمْ آياتِنا وَيُزَكِّيكُمْ [ البقرة/ 151] ، وتارة إلى العبادة التي هي آلة في ذلك، نحو : وَحَناناً مِنْ لَدُنَّا وَزَكاةً [ مریم/ 13] ، لِأَهَبَ لَكِ غُلاماً زَكِيًّا[ مریم/ 19] ، أي : مُزَكًّى بالخلقة، وذلک علی طریق ما ذکرنا من الاجتباء، وهو أن يجعل بعض عباده عالما وطاهر الخلق لا بالتّعلّم والممارسة بل بتوفیق إلهيّ ، كما يكون لجلّ الأنبیاء والرّسل . ويجوز أن يكون تسمیته بالمزکّى لما يكون عليه في الاستقبال لا في الحال، والمعنی: سَيَتَزَكَّى، وَالَّذِينَ هُمْ لِلزَّكاةِ فاعِلُونَ [ المؤمنون/ 4] ، أي : يفعلون ما يفعلون من العبادة ليزكّيهم الله، أو لِيُزَكُّوا أنفسهم، والمعنیان واحد . ولیس قوله : «للزّكاة» مفعولا لقوله : «فاعلون» ، بل اللام فيه للعلة والقصد . وتَزْكِيَةُ الإنسان نفسه ضربان : أحدهما : بالفعل، وهو محمود وإليه قصد بقوله : قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاها [ الشمس/ 9] ، وقوله : قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّى[ الأعلی/ 14] . والثاني : بالقول، كتزكية العدل غيره، وذلک مذموم أن يفعل الإنسان بنفسه، وقد نهى اللہ تعالیٰ عنه فقال : فَلا تُزَكُّوا أَنْفُسَكُمْ [ النجم/ 32] ، ونهيه عن ذلک تأديب لقبح مدح الإنسان نفسه عقلا وشرعا، ولهذا قيل لحكيم : ما الذي لا يحسن وإن کان حقّا ؟ فقال : مدح الرّجل نفسه . ( زک و ) الزکاۃ : اس کے اصل معنی اس نمو ( افزونی ) کے ہیں جو برکت الہیہ سے حاصل ہو اس کا تعلق دنیاوی چیزوں سے بھی ہے اور اخروی امور کے ساتھ بھی چناچہ کہا جاتا ہے زکا الزرع یزکو کھیتی کا بڑھنا اور پھلنا پھولنا اور آیت : ۔ أَيُّها أَزْكى طَعاماً [ الكهف/ 19] کس کا کھانا زیادہ صاف ستھرا ہے ۔ میں ازکیٰ سے ایسا کھانا مراد ہے جو حلال اور خوش انجام ہو اور اسی سے زکوۃ کا لفظ مشتق ہے یعنی وہ حصہ جو مال سے حق الہیٰ کے طور پر نکال کر فقراء کو دیا جاتا ہے اور اسے زکوۃ یا تو اسلئے کہا جاتا ہے کہ اس میں برکت کی امید ہوتی ہے اور یا اس لئے کہ اس سے نفس پاکیزہ ہوتا ہے یعنی خیرات و برکات کے ذریعہ اس میں نمو ہوتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کے تسمیہ میں ان ہر دو کا لحاظ کیا گیا ہو ۔ کیونکہ یہ دونوں خوبیاں زکوۃ میں موجود ہیں قرآن میں اللہ تعالیٰ نے نما ز کے ساتھ ساتھ زکوۃٰ کا بھی حکم دیا ہے چناچہ فرمایا : وَأَقِيمُوا الصَّلاةَ وَآتُوا الزَّكاةَ [ البقرة/ 43] نماز قائم کرو اور زکوۃ ٰ ادا کرتے رہو ۔ اور تزکیہ نفس سے ہی انسان دنیا میں اوصاف حمیدہ کا مستحق ہوتا ہے اور آخرت میں اجر وثواب بھی اسی کی بدولت حاصل ہوگا اور تزکیہ نفس کا طریق یہ ہے کہ انسان ان باتوں کی کوشش میں لگ جائے جن سے طہارت نفس حاصل ہوتی ہے اور فعل تزکیہ کی نسبت تو انسان کی طرف کی جاتی ہے کیونکہ وہ اس کا اکتساب کرتا ہے جیسے فرمایا : ۔ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاها [ الشمس/ 9] کہ جس نے اپنی روح کو پاک کیا ( وہ ضرور اپنی ) مراد کو پہنچا ۔ اور کبھی یہ اللہ تعالےٰ کی طرف منسوب ہوتا ہے کیونکہ فی الحقیقت وہی اس کا فاعل ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ بَلِ اللَّهُ يُزَكِّي مَنْ يَشاءُ [ النساء/ 49] بلکہ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے پاک کردیتا ہے ۔ اور کبھی اس کی نسبت نبی کی طرف ہوتی ہے کیونکہ وہ لوگوں کو ان باتوں کی تعلیم دیتا ہے جن سے تزکیہ حاصل ہوتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِها[ التوبة/ 103] کہ اس سے تم ان کو ( ظاہر میں بھی ) پاک اور ( باطن میں بھی ) پاکیزہ کرتے ہو ۔ يَتْلُوا عَلَيْكُمْ آياتِنا وَيُزَكِّيكُمْ [ البقرة/ 151] وہ پیغمبر انہیں ہماری آیات پڑھ کر سناتا ہے اور انہیں بذریعہ تعلیم ( اخلاق رذیلہ ) سے پاک کرتا ہے : ۔ اور کبھی اس کی نسبت عبادت کی طرف ہوتی ہے کیونکہ عبادت تزکیہ کے حاصل کرنے میں بمنزلہ آلہ کے ہے چناچہ یحیٰ (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا : ۔ وَحَناناً مِنْ لَدُنَّا وَزَكاةً [ مریم/ 13] اور اپنی جناب سے رحمدلی اور پاگیزگی دی تھی ۔ لِأَهَبَ لَكِ غُلاماً زَكِيًّا [ مریم/ 19] تاکہ تجھے ایک پاکیزہ لڑکا بخشوں یعنی وہ فطرتا پاکیزہ ہوگا اور فطرتی پاکیزگی جیسا کہ بیان کرچکے ہیں ۔ بطریق اجتباء حاصل ہوتی ہے کہ حق تعالیٰ اپنے بعض بندوں کو عالم اور پاکیزہ اخلاق بنا دیتا ہے اور یہ پاکیزگی تعلیم وممارست سے نہیں بلکہ محض توفیق الہی سے حاصل ہوتی ہے جیسا کہ اکثر انبیاء اور رسل کے ساتھ ہوا ہے ۔ اور آیت کے یہ معنی ہوسکتے ہیں کہ وہ لڑکا آئندہ چل کر پاکیزہ اخلاق ہوگا لہذا زکیا کا تعلق زمانہ حال کے ساتھ نہیں بلکہ استقبال کے ساتھ ہے قرآن میں ہے : ۔ وَالَّذِينَ هُمْ لِلزَّكاةِ فاعِلُونَ [ المؤمنون/ 4] اور وہ جو زکوۃ دیا کرتے ہیں ۔ یعنی وہ عبادت اس غرض سے کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں پاک کر دے یا وہ اپنے نفوس کو پاک کرنے کی غرض سے عبادت کرتے ہیں والما ل واحد ۔ لہذا للزکوۃ میں لام تعلیل کے لیے ہے جسے لام علت و قصد کہتے ہیں اور لام تعدیہ نہیں ہے حتیٰ کہ یہ فاعلون کا مفعول ہو ۔ انسان کے تزکیہ نفس کی دو صورتیں ہیں ایک تزکیہ بالفعل یعنی اچھے اعمال کے ذریعہ اپنے نفس کی اصلاح کرنا یہ طریق محمود ہے چناچہ آیت کریمہ : ۔ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاها [ الشمس/ 9] اور آیت : ۔ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّى [ الأعلی/ 14] میں تزکیہ سے یہی مراد ہیں ۔ دوسرے تزکیہ بالقول ہے جیسا کہ ایک ثقہ شخص دوسرے کے اچھے ہونیکی شہادت دیتا ہے ۔ اگر انسان خود اپنے اچھا ہونے کا دعوے ٰ کرے اور خود ستائی سے کام لے تو یہ مذموم ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے تزکیہ سے منع فرمایا ہے ۔ چناچہ ارشاد ہے ۔ فَلا تُزَكُّوا أَنْفُسَكُمْ [ النجم/ 32] اپنے آپ کو پاک نہ ٹھہراؤ ۔ اور یہ نہی تادیبی ہے کیونکہ انسان کا اپنے منہ آپ میاں مٹھو بننا نہ تو عقلا ہی درست ہے اور نہ ہی شرعا ۔ یہی وجہ ہے کہ جب ایک دانش مند سے پوچھا گیا کہ وہ کونسی بات ہے جو باوجود حق ہونے کے زیب نہیں دیتی تو اس نے جواب دیا مدح الانسان نفسہ کہ خود ستائی کرنا ۔
2: نفس کو پاکیزہ بنانے کا مطلب یہی ہے کہ اِنسان کے دِل میں جو اچھی خواہشات اور اچھے جذبات پیدا ہوتے ہیں، اُنہیں اُبھار کر اُن پر عمل کرے اور جو بری خواہشات اور جذبات پیدا ہوتے ہیں، اُنہیں دبائے۔ اِسی طرح مسلسل مشق کرتے رہنے سے نفس پاکیزہ ہوکروہ ’’نفسِ مطمئنہ‘‘ بن جاتا ہے۔ جس کا ذکر سورۃ الفجر کی آخری آیتوں میں گذرا ہے۔
(91:9) قد افلح من زکہا۔ جمہور کے نزدیک یہ اور اگلا جملہ جواب قسم ہے۔ اور جواب قسم کا لام مقدرہ ہے۔ تقدیرکلام یوں ہے :۔ لقد افلح ۔۔ الخ۔ یا زجاج کے مطابق طول کلام لام کا عوض ہوا۔ (تفسیر مدارک التنزیل) بعض علماء کا قول ہے کہ :۔ فالھمھا فجورھا وتقوھا کے بعد یہ اور اس کے بعد آنے والا جملہ معترضہ ہے اور دونوں فریق (کافرو مومن) کے فرق کو واضح کرنے کے لئے اس کو ذکر کیا گیا ۔ اور قسم کا جواب محذوف ہے۔ جس پر آیت کذبت ثمود بطغوھا دلالت کر رہی ہے۔ کیونکہ قوم ثمود نے حضرت صالح (علیہ السلام) کی تکذیب کی تو اللہ تعالیٰ نے اس کو تباہ کردیا۔ پس تکذیب ثمود کی طرح جب کفار مکہ بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکذیب کر رہے ہیں تو ان کو بھی خدا تعالیٰ تباہ کر دے گا۔ (تفسیر مظہری) قد ماضی پر داخل ہو کر تحقیق کے معنی دیتا ہے۔ قد افلح : تحقیق وہ فلاح پا گیا۔ بیشک وہ کامیاب ہوگیا۔ یقینا وہ کامیاب ہوا۔ زکھا۔ زکی ماضی واحد مذکر غائب تزکیۃ (تفعیل) مصدر۔ اس نے سنوارا۔ اس نے پاک کیا۔ زکی کا فاعل کون ہے ؟ اس کی دو صورتیں ہیں۔ (1) اس کا فاعل من ہے۔ اس صورت میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع نفس ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ بیشک وہ شخص کامیاب ہوا۔ جس نے (اپنے) نفس کو (گناہوں سے) پاک کرلیا۔ (یہ ترجمہ تفسیر حقانی، تفسیر ضیاء القرآن، مولنا فتح محمد جالندھری۔ ایسر التفاسیر نے اختیار کیا ہے) ۔ (2) زکی کا فاعل اللہ ہے اور علامہ پانی پتی نے یہی اختیار کیا ہے۔ لکھتے ہیں :۔ کامیاب ہوا وہ شخص جس کے نفس کو اللہ نے پاک کردیا۔ زکی کا فاعل اللہ ہے اور ھا ضمیر اللہ کی طرف راجع ہے (مگر من مذکر ہے اور ھا ضمیر مؤنث ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ من سے واقع میں نفس ہی مراد ہے اور نفس مؤنث ہے) ۔ تفسیر الخازن میں ہے :۔ ای فاذت وسعدت نفس زکاھا اللہ ای اصلحھا اللہ وطھرھا من الذنوب ووفقھا للطاعۃ۔ کامیاب رہی اور نیک بخت ہوئی وہ جان جس کو اللہ نے پاک کردیا۔ یعنی اللہ نے اس کی اصلاح کی اس کو گناہوں سے پاک رکھا اور طاعت کی توفیق بخشی۔ اور تفسیر مدارک التنزیل میں ہے :۔ ای طھرھا اللہ واصلحھا اللہ نے اس کو پاک کر رکھا اور اس کی اصلاح کی ۔
ف 16 دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” جس نے اپنی جان کو سنوارا (یعنی اسے شرک و کفر سے بچایا) اس نے مراد پا لی۔ “ مگر پہلا ترجمہ زیادہ صحیح ہے کیونکہ اس کی تائید حدیث سے ہوتی ہے۔ حضرت زید بن ارقم سے روایت ہے کہ رسول اللہ دعا کرتے تھے : اللھم ات نفسی تقواھا ورکدا انت خیر من رکاھا انت ولیھا ومولاھا اے اللہ ! تو میرے نفس کو اس کا تقویٰ دے اور اسے پاک کر تجھ سے بڑھ کر کوئی اسے پاک نہیں کرسکتا تو ہی اس کا کار ساز اور مولیٰ ہے۔ فتح (مقدیر بحوالہ حمد نسائی)
قد افلح ........................ دسھا (10:91) ” یقینا فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا اور نامراد ہوا وہ جس نے اس کو دبادیا “۔ مطلب یہ ہے کہ ان فطری قوتوں اور صلاحیتوں کے علاوہ انسان کے اندر ایک قوت مدرکہ ہے اور اس قوت مدرکہ کی وجہ سے انسان ایک ذمہ دار مخلوق بنایا گیا ہے۔ اس قوت مدرکہ کو جس شخص نے نفس کی تطہیر کے لئے اور اس کے اندر بھلائی کی استعداد کو بڑھانے کے لئے استعمال کیا اور خیر کی صلاحیت کو شریر غالب کردیا تو یہ شخص کامیاب ہوگیا ، اور جس شخص نے اپنی قوت عقلیہ کو تاریک کردیا اور اس کو چھپا کر دبا کر کمزور کردیا تو وہ ناکام ہوا۔ غرض انسان کی مسﺅلیت اس وجہ سے ہے کہ وہ قوت عقلیہ اور قوت مدرکہ رکھتا ہے ، اور اپنی اس قوت کی وجہ سے نفس کے اندر موجود خیروشر کی صلاحیتوں کو ایک رخ دے سکتا ہے۔ ان صلاحیتوں کو خیر کے میدان میں ڈال کر پروان چڑھا سکتا ہے اور شر کے میدان میں ڈال کر شر کو پروان چڑھا سکتا ہے۔ اس آزادی واختیار کے نتیجے میں انسان پر ذمہ داری عائد کی گئی ہے۔ اس کی قوت پر فرض عائد ہوا۔ یہ انعام لھا جس کے جواب میں اس پر فرائض عائد ہوئے۔ لیکن اللہ نہایت رحیم ہے۔ انسان کو محض فطری استعداد ، عقلی قوت مدرکہ اور فطری الہام وہدایت کے حوالے ہی نہیں کردیا گیا ، بلکہ آدم (علیہ السلام) سے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک اس ہدایت کے لئے رسول بھیجے گئے جو ان کے لئے مستقل قدریں وضع کرتے رہے۔ انسان کو ایمان کی بنیادی باتیں بتاتے رہے ، ایمان وہدایت کے دلائل سمجھاتے رہے۔ نفس انسانی کے اندر موجود دلائل اور اس کائنات کے آفاق کے اندر موجود اشارات ایمان بھی سمجھاتے رہے۔ انسان کی آنکھوں پر سے ضلالت کے پردے اتارتے رہے تاکہ اسے راہ ہدایت صحیح نظر آئے۔ اور یہ راہ واضح ، صاف اور بغیر کسی التباس کے انسان کو معلوم ہو ، ہر طرف سنگ ہائے میل نصب کردیئے تاکہ وہ انسان منزل مقصود تک پہنچے اور جس راہ پر اس نے جانا ہے ، علی وجہ البصیرت جائے۔ جس کو بھی وہ اختیار کرے اس پر چلے۔ یہ تھی مختصراً انسان کے بارے میں اللہ کی اسکیم اور مشیت جو کام بھی ہوتا ہے۔ اس کے دائرے کے اندر ہوتا ہے۔ وہ اللہ کی مشیت کے مطابق ہوتا ہے اور اللہ کی مکمل تقدیری نظام کے دائرے میں رہتے ہوئے ہوتا ہے۔ انسان کی حیثیت اور مقام انسانیت کے بارے میں یہ اجمالی اور مختصر تبصرہ اپنے اندر نہایت ہی قیمتی نکات رکھتا ہے جو انسان کی تہذیب اور تربیت کے لئے نہایت مفید ہیں۔ ایک یہ کہ اس سے حضرت انسان کو نہایت معزز اور مکرم مخلوق قرار دیا جاتا ہے۔ اس طرح کہ اسے اپنے معاملات کا خود مختار اور ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔ یہ اختیار اور ذمہ داری اگرچہ اللہ کے وسیع تر نظام مشیت اور تقدیر کے اندر ہے ، کیونکہ یہ حریت اور اختیار اللہ کی مشیت ہی نے اسے عطا کیا ، لیکن اس سے بہرحال اس مقام و مرتبہ کا تعین ہوتا ہے اور وہ آزاد اور خود مختار مخلوق قرار پاتا ہے۔ یوں اس کائنات میں انسان ایک نہایت ہی بلندو برتر مقام رکھتا ہے کیونکہ یہ ایک ایسی مخلوق ہے جسے اللہ نے نہایت اہتمام سے تیار کیا ، پھر اس میں اپنی روح پھونکی اور اس جہاں کے بہت سے اور بیشترمخلوقات پر اسے فضیلت دی۔ دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ ان آیات میں یہ قرار دیا گیا ہے کہ انسان اپنے انجام کا خود ذمہ دار ہے۔ سارا معاملہ اس کے ہاتھ میں دے دیا گیا ہے۔ (دائرہ مشیت الہیہ کے اندر اندر جیسا کہ ہم نے وضاحت کی) اس ذمہ داری سے اس کے شعور میں احتیاط اور تقویٰ کا رنگ پیدا ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اللہ کی تقدیر اس کی ذات میں اس طرح کام کرے گی جس طرح وہ اپنے تصرفات اور سرگرمیوں کو رخ دے گا۔ ان اللہ ........................ بانفسھم ” اللہ کبھی کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ اپنی حالت بدلتے نہیں “۔ فی الحقیقت یہ نہایت ہی عظیم ذمہ داری ہے۔ کوئی ذی شعور شخص اس سے غافل اور لاپرواہ نہیں رہ سکتا۔ تیسری بات یہ ہے کہ یہ انسانی سوچ کے اندر یہ شعور پیدا کرتا ہے کہ وہ راہ راست پر ثابت قدم رہنے کے لئے اللہ کے مستقل پیمانوں اور دائمی قدروں کی طرف رجوع کرے تاکہ وہ یقین پر ہو کہ اس سے کی خواہشات نے کہیں غلط راہوں پر تو نہیں ڈال دیا ہے ، دھوکہ تو نہیں دے دیا تاکہ خواہشات نفس اسے ہلاکت کے راستے پر نہ ڈال دیں۔ اور یہ نہ ہو کہ تقدیر الٰہی کے نتیجے میں وہ کہیں اپنی خواہش کو الٰہ بنا چکا ہو۔ یہی وجہ ہے ، اس طرح وہ مطیع شریعت ہونے کے سبب اللہ کے راستوں سے کبھی نہ بھٹکے گا۔ وہ اللہ کی ہدایات کے مطابق چل رہا ہوگا ، اور اسی نور سے روشنی حاصل کرے گا جو دنیا کی ان تاریک راہوں پر چلنے کے لئے ، اللہ نے اسے عنایت کیا۔ چناچہ انسان کو اللہ نے اپنی ذات تک پہنچنے کے لئے تزکیہ نفس اور تطہیر ذات کے لئے بیشمار وسائل عطا کیے ہی ، اس کے ارد گرد نور کے دریا بہہ رہے ہیں ، وہ ان میں ہر وقت غسل کرسکتا ہے اور اس کائنات میں معرفت کردگار کے جو سرچشمے رواں دواں ہیں وہ ان میں اپنی ذات کی تطہیر وقت کرسکتا ہے۔ اس کے بعد ایک زندہ تاریخی مثال سے اس بات کو واضح کیا جاتا ہے کہ کس طرح انسان اپنے نفس کو دنیا کی آلودگیوں میں دفن کردیتا ہے۔ اور پھر اسے راہ ہدایت سے محروم کردیتا ہے۔ یہ مثال قوم ثمود ہے ، جو اللہ کے غصب کے مستحق ہوئے اور جن پر سخت عذاب ٹوٹ پڑا اور ہلاک کردیئے گئے۔
5:۔ ” قد افلح “ یہ مذکورہ قسموں کا جواب ہے مذکورہ بالا شواہد اس پر گواہ ہیں کہ جس طرح وہ برابر نہیں ہیں اسی طرح نفس زکیہ اور نفس خبیثہ بھی برابر نہیں ہیں۔ نفس زکیہ کامیاب اور بامراد ہے اور نفس خبیثہ ذلیل و خوار اور ناکام ہے۔ جس نے اپنے نفس کو خبائث اعتقاد اور و رذائل اخلاق سے پاک کرلیا وہ تو کامیاب اور بامراد ہے اور جس نے اس کو اعتقادی خباثتوں میں ملوث کر کے ذلیل و خوار کیا وہ ناکام مراد ہوا۔