Surat ul Lail
Surah: 92
Verse: 20
سورة الليل
اِلَّا ابۡتِغَآءَ وَجۡہِ رَبِّہِ الۡاَعۡلٰی ﴿ۚ۲۰﴾
But only seeking the countenance of his Lord, Most High.
بلکہ صرف اپنے پروردگار بزرگ و بلند کی رضا چاہنے کے لیے ۔
اِلَّا ابۡتِغَآءَ وَجۡہِ رَبِّہِ الۡاَعۡلٰی ﴿ۚ۲۰﴾
But only seeking the countenance of his Lord, Most High.
بلکہ صرف اپنے پروردگار بزرگ و بلند کی رضا چاہنے کے لیے ۔
to seek the Face of his Lord, the Most High. meaning, hoping to attain the blessing of seeing Him in the final abode in the Gardens of Paradise. Allah then says, وَلَسَوْفَ يَرْضَى
20۔ 1 بلکہ اخلاص سے اللہ کی رضا اور جنت میں اس کے دیدار کے لئے خرچ کرتا ہے۔
اِلَّا ابْتِغَاۗءَ وَجْہِ رَبِّہِ الْاَعْلٰى ٢٠ ۚ ابتغاء (ينبغي) البَغْي : طلب تجاوز الاقتصاد فيما يتحرّى، تجاوزه أم لم يتجاوزه، فتارة يعتبر في القدر الذي هو الكمية، وتارة يعتبر في الوصف الذي هو الكيفية، يقال : بَغَيْتُ الشیء : إذا طلبت أكثر ما يجب، وابْتَغَيْتُ كذلك، قال اللہ عزّ وجل : لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ [ التوبة/ 48] ، وأمّا الابتغاء فقد خصّ بالاجتهاد في الطلب، فمتی کان الطلب لشیء محمود فالابتغاء فيه محمود نحو : ابْتِغاءَ رَحْمَةٍ مِنْ رَبِّكَ [ الإسراء/ 28] ، وابْتِغاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْأَعْلى [ اللیل/ 20] ، الابتغاء فقد خصّ بالاجتهاد في الطلب، فمتی کان الطلب لشیء محمود فالابتغاء فيه محمود نحو : ابْتِغاءَ رَحْمَةٍ مِنْ رَبِّكَ [ الإسراء/ 28] ، وابْتِغاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْأَعْلى [ اللیل/ 20] ، وقولهم : يَنْبغي مطاوع بغی. فإذا قيل : ينبغي أن يكون کذا ؟ فيقال علی وجهين : أحدهما ما يكون مسخّرا للفعل، نحو : النار ينبغي أن تحرق الثوب، والثاني : علی معنی الاستئهال، نحو : فلان ينبغي أن يعطی لکرمه، وقوله تعالی: وَما عَلَّمْناهُ الشِّعْرَ وَما يَنْبَغِي لَهُ [يس/ 69] ، علی الأول، فإنّ معناه لا يتسخّر ولا يتسهّل له، ألا تری أنّ لسانه لم يكن يجري به، وقوله تعالی: وَهَبْ لِي مُلْكاً لا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي [ ص/ 35] . ( ب غ ی ) البغی کے معنی کسی چیز کی طلب میں درمیانہ ردی کی حد سے تجاوز کی خواہش کرنا کے ہیں ۔ خواہ تجاوز کرسکے یا نہ اور بغی کا استعمال کیت اور کیفیت یعنی قدر وو صف دونوں کے متعلق ہوتا ہے ۔ کہا جاتا ۔ کسی چیز کے حاصل کرنے میں جائز حد سے تجاوز ۔ قرآن میں ہے : ۔ لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ [ التوبة/ 48 پہلے بھی طالب فسادر ہے ہیں ۔ الا بتغاء یہ خاص کر کوشش کے ساتھ کسی چیز کو طلب کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ اگر اچھی چیز کی طلب ہو تو یہ کوشش بھی محمود ہوگی ( ورنہ مذموم ) چناچہ فرمایا : ۔ { ابْتِغَاءَ رَحْمَةٍ مِنْ رَبِّكَ } ( سورة الإسراء 28) اپنے پروردگار کی رحمت ( یعنی فراخ دستی ) کے انتظار میں ۔ وابْتِغاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْأَعْلى [ اللیل/ 20] بلکہ اپنے خدا وندی اعلیٰ کی رضامندی حاصل کرنے کے لئے دیتا ہے ۔ اور ینبغی ( انفعال ) بغی کا مطاوع آتا ہے اور ینبغی ایکون کذا کا محاورہ طرح استعمال ہوتا ہے ( 1) اس شے کے متعلق جو کسی فعل کے لئے مسخر ہو جیسے یعنی کپڑے کو جلا ڈالنا آگ کا خاصہ ہے ۔ ( 2) یہ کہ وہ اس کا اہل ہے یعنی اس کے لئے ایسا کرنا مناسب اور زیبا ہے جیسے کہ فلان کے لئے اپنی کرم کی وجہ سے بخشش کرنا زیبا ہے اور آیت کریمہ : ۔ وَما عَلَّمْناهُ الشِّعْرَ وَما يَنْبَغِي لَهُ [يس/ 69] اور ہم نے ان ( پیغمبر ) کو شعر گوئی نہیں سکھلائی اور نہ وہ ان کو شایاں ہے ۔ پہلے معنی پر محمول ہے ۔ یعنی نہ تو آنحضرت فطر تا شاعر ہیں ۔ اور نہ ہی سہولت کے ساتھ شعر کہہ سکتے ہیں اور یہ معلوم کہ آپ کی زبان پر شعر جاری نہ ہوتا تھا ۔ اور آیت کریمہ : وَهَبْ لِي مُلْكاً لا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي [ ص/ 35] اور مجھ کو ایسی بادشاہ ہی عطا فرما کر میرے بعد کیسی کو شایاں نہ ہو ۔ ( دوسرے معنی پر محمول ہے ۔ یعنی میرے بعد وہ سلطنت کسی کو میسر نہ ہو ) وجه ( ذات باري) عبّر عن الذّات بالوجه في قول اللہ : وَيَبْقى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلالِ وَالْإِكْرامِ [ الرحمن/ 27] قيل : ذاته . وقیل : أراد بالوجه هاهنا التّوجّه إلى اللہ تعالیٰ بالأعمال الصالحة، وقال : فَأَيْنَما تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ [ البقرة/ 115] ، كُلُّ شَيْءٍ هالِكٌ إِلَّا وَجْهَهُ [ القصص/ 88] ، يُرِيدُونَ وَجْهَ اللَّهِ [ الروم/ 38] ، إِنَّما نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ [ الإنسان/ 9] قيل : إنّ الوجه في كلّ هذا زائد، ويعنی بذلک : كلّ شيء هالك إلّا هو، وکذا في أخواته . وروي أنه قيل ذلک لأبي عبد اللہ بن الرّضا فقال : سبحان اللہ ! لقد قالوا قولا عظیما، إنما عني الوجه الذي يؤتی منه ومعناه : كلّ شيء من أعمال العباد هالک و باطل إلا ما أريد به الله، وعلی هذا الآیات الأخر، وعلی هذا قوله : يُرِيدُونَ وَجْهَهُ [ الكهف/ 28] ، تُرِيدُونَ وَجْهَ اللَّهِ [ الروم/ 39] نیز ہر چیز کے اشرف حصہ اور مبدا پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے جیسے وھہ کذا اس کا اول حصہ ۔ وجھہ النھار دن کا اول حصہ اور آیت کریمہ : ۔ وَيَبْقى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلالِ وَالْإِكْرامِ [ الرحمن/ 27] اور تمہارے پروردگار ہی کی ذات ( بابرکت ) جو صاحب جلال و عظمت ہے ۔ باقی رہ جائے گی ۔ میں بعض نے وجہ سے ذات باری تعالیٰ مراد لی ہے ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ وجھ ربک سے اعمال صالحہ مراد ہیں ۔ جن سے ذات باری تعالیٰ کی رجا جوئی مقصود ہوتی ہے ۔ نیز فرمایا : ۔ فَأَيْنَما تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ [ البقرة/ 115] تو جدھر تم رخ کروا ادھر اللہ کی ذات ہے ۔ كُلُّ شَيْءٍ هالِكٌ إِلَّا وَجْهَهُ [ القصص/ 88] اس کی ذات پاک کے سوا ہر چیز فنا ہونے والی ہے يُرِيدُونَ وَجْهَ اللَّهِ [ الروم/ 38] جو لوگ رضائے خدا کے طالب ہیں ۔ إِنَّما نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ [ الإنسان/ 9] اور کہتے ہیں کہ ہم تو خالص خدا کے لئے کھلاتے ہیں ۔ ان تمام آیات میں بعض نے کہا ہے کہ وجہ اللہ سے اللہ تعالیٰ کی ذات مراد ہے لہذا آیت کل شئی ھالک کے معنی یہ ہیں کہ باستثنا ذات باری تعالیٰ ہر چیز نابود ہونے والی ہے ۔ اور اسی قسم کی دوسری آیات میں بھی یہی معنی ہیں ۔ مروی ہے کہ ابی عبد اللہ بن الر ضائے نے کہا ہے سبحان اللہ لوگ بہت بڑا کلمہ کہتے ہیں ۔ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔
10 This is further explanation of the sincerity of the pious man. He was not indebted in any way to the people on whom he spends his wealth so that he may be doing so in order to repay for favours received, or may be giving gifts and holding banguets to them in order to further benefit from them, but he is helping such people only in order to seek the goodwill of his Lord, the Supreme. He was neither indebted to them before, nor he expects any favours from them in the future. Its best illustration is the act of Hadrat Abu Bakr Siddiq (may Allah blesshim) , He would purchase and set free the poor slaves and slaves-girls who accepted Islam in Makkah and were cruelly treated by their masters on that account. Ibn Jarir and Ibn 'Asakir have related, on the authority of Hadrat 'Amir bin 'Abdullah bin Zubair, that when Hadrat Abu Bakr's father saw him spending money to purchase the freedom of the poor slaves and slave-girls, he said to him: "Son, I see that you are getting the weak people free; had you spent this money on the freedom of strong, young men, they would have become your helpers and supporters." Hadrat Abu Bakr replied: "Dear father, I only seek the reward that is with Allah."
سورة الَّیْل حاشیہ نمبر :10 یہ اس پرہیزگار آدمی کے خلوص کو مزید توضیح ہے کہ وہ اپنا مال جن لوگوں پر صرف کرتا ہے ان کا کوئی احسان پہلے سے اس پر نہ تھا کہ وہ اس کا بدلہ چکانے کے لیے ، یا آئندہ ان سے مزید فائدہ اٹھانے کے لیے ان کو ہدیے اور تحفے دے رہا ہو اور ان کی دعوتیں کر رہا ، بلکہ وہ اپنے رب برتر کی رضا جوئی کے لیے ایسے لوگوں کی مدد کر رہا ہے جن کا نہ پہلے اس پر کوئی احسان تھا ، نہ آئندہ ان سے وہ کسی احسان کی توقع رکھتا ہے ۔ اس کی بہترین مثال حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا یہ فعل ہے کہ مکہ معظمہ میں جن بےکس غلاموں اور لونڈیوں نے اسلام قبول کیا تھا اور اس قصور میں جن کے مالک ان پر بے تحاشا ظلم توڑ رہے تھے ان کو خرید کر وہ آزاد کر دیتے تھے ۔ تاکہ وہ ان کے ظلم سے بچ جا ئیں ۔ ابن جریر اور ابن عساکر نے حضرت عامر بن عبداللہ بن زبیر کی یہ روایت نقل کی ہے کہ حضرت ابو بکر کو اس طرح ان غریب غلاموں اور لونڈیوں کی آزادی پر روپیہ خرچ کرتے دیکھ کر ان کے والد نے ان سے کہا کہ بیٹا ، میں دیکھ رہا ہوں کہ تم کمزور لوگوں کو آزاد کر رہے ہو ۔ اگر مضبوط جوانوں کی آزادی پر تم یہی روپیہ خرچ کرتے تو وہ تمہارے قوت بازو بنتے ۔ اس پر حضرت ابو بکر نے ان سے کہا ای ابہ انما ارید ما عند اللہ ، ابا جان ، میں تو وہ اجر چاہتا ہوں جو اللہ کے ہاں ہے ۔
(92:20) الا انتغاء وجہ ربہ الاعلی۔ یہ یا تو استثناء منقطع ہے۔ بلکہ اپنے رب کی خوشنودی کی طلب میں ایسا کیا۔ یا استثناء متصل ہے مگر مستثنیٰ منہ محذوف ہے۔ یعنی وہ کسی غرض کے لئے اور احسان کا بدلہ چکانے کے لئے ایسا نہیں کرتا سوائے اس کے کہ وہ اپنے رب کی مرضی طلب کرتا ہے اور اس کی خوشنودی کا طلب گار ہے۔ ابتغاء (افتعال) مصدر ہے بمعنی چاہنا۔ تلاش کرنا۔ مضاف ربہ مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ وجہ کا جو مضاف ہے۔ مضاف اور مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ ہوئے ابتغاء کے۔ الا علی : علو سے افعل التفضیل کا صیغہ سب سے برتر، سب سے اعلیٰ ، سب سے اوپر، غالب۔ ترجمہ ہوگا :۔ سوائے (اس کے کہ) اپنے پروردگار اعلیٰ کی خوشنودی کی طلب میں (خرچ کرتا ہے)
8۔ ہرچند کہ آیت کے الفاظ عام ہیں مگر اس کا سبب حضرت ابوبکر صدیق (رض) کا واقعہ ہے کہ انہوں نے حضرت بلال (رض) کو کافروں سے خرید کر للہ آزاد کردیا تھا۔
(20) بلکہ اس کا مقصد تو صرف اپنے بزرگ و برتر پروردگار کی رضا جوئی اور خوشنودی ہے یعنی اگرچہ کسی کے احسان کا بدلا دینا اور اس کام کے لئے روپیہ خرچ کرنا اچھی بات ہے لیکن اس کے انفاق میں یہ بات بھی نہیں کیونکہ اس پر کسی کا احسان ہی ایسا نہیں جس کا وہ بدلا نہ اتار چکا ہو اب روپیہ خرچ کرنا صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ہے اور جہاں احسان کا بدلا تک نہ ہو تو وہاں ریا اور دکھاوے کا ذکر ہی کیا ہے۔ بہرحال اس کے انفاق کا مقصد محض اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی اور خوشنودی ہے۔