Surat ul Lail

Surah: 92

Verse: 4

سورة الليل

اِنَّ سَعۡیَکُمۡ لَشَتّٰی ؕ﴿۴﴾

Indeed, your efforts are diverse.

یقیناً تمہاری کوشش مختلف قسم کی ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Certainly, your efforts and deeds are diverse. meaning, the actions of the servants that they have performed are also opposites and diverse. Therefore, there are those who do good and there are those who do evil. Allah then says, فَأَمَّا مَن أَعْطَى وَاتَّقَى

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

4۔ 1 یعنی کوئی اچھے عمل کرتا ہے، جس کا صلہ جنت ہے اور کوئی برے عمل کرتا ہے جس کا بدلہ جہنم ہے۔ یہ جواب قسم ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١] سورة الشمس کی طرح اس سورت کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے چند متضاد اشیاء مثلاً رات اور دن کی & نر اور مادہ کی قسم کھا کر فرمایا کہ جس طرح دن اور رات کی اور نر اور مادہ کی خصوصیات آپس میں متضاد اور مختلف ہیں۔ اسی طرح اے بنی نوع انسان ! تم جو کچھ اس دنیا میں اعمال بجا لا رہے ہو وہ بھی ایک دوسرے سے متضاد اور مختلف ہیں۔ لہذا تمہاری اس سعی عمل کے نتائج مختلف ہیں اور ہونے چاہئیں۔ وہ یکساں کبھی نہیں ہوسکتے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

ان سعیکم لشتی : یعنی جس طرح رات دن اور نر و مادہ مخلوقات میں باہمی اختلاف اور تضاد ہے اسی طرح تمہاری کوششوں اور تمہارے اعملا میں بھی اختلاف ہے، پھر ان کا نتیجہ اور جزا و سزا بھی الگ الگ ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary إِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتَّىٰ (your efforts are diverse....92:4). This statement is like the statement in Surah Inshiqaq, verse [ 6]: إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَىٰ رَ‌بِّكَ كَدْحًا &0 man, you have to work hard constantly to reach your Lord. [ 84:6] & which has already been explained in that Surah. The sense is that man, by his nature, is used to making efforts for one objective or another. But the nature and the results of these efforts are different. Some people work hard for an objective that brings eternal happiness to them, and others work hard for an objective that makes them suffer eternal perdition. It is reported in a Tradition that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: |"Each morning when a man gets up, he goes to conduct his business and keeps himself busy. His business is either successful and emancipates himself from Hell, or unsuccessful and his efforts become the cause of his destruction.|" Therefore, a wise person should first apply his mind to think whether his efforts will pay dividends, and he should never undertake those efforts that bring about temporary comfort and pleasure, but eternal perdition and grief. The Two Diverse Types of Human Efforts Divide Humankind into Two Groups The Qur&an further shows that, broadly speaking, the humankind may be divided into two opposing groups in terms of their opposing efforts. Each of the two groups are characterised by three qualities. The first group is a successful one, and its three characteristics are: [ 1] they give in charity in the cause of Allah; [ 2] fear Allah and avoid violating the injunctions of Allah in every aspect of life; and [ 3] believe in the &best word&. The &best words& refer to the credo of &there is no god but Allah& [ as Ibn ` Abbas, Dahhak have explained ]. Testifying to the kalimah signifies &to profess the True Faith&. Faith or belief is the essence of all actions, and comes first in order of rank, but on this occasion, it is mentioned last, probably because the main theme in this context is that of physical exertion, efforts and actions. &Iman or faith, on the other hand, pertains to the heart. It signifies the acceptance and confirmation of Allah and His Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) with one&s heart. Confession of this must be made by means of reciting kalimah shahadah &testimony of faith&. Obviously, none of these things involve physical exertion or effort, nor are they generally counted as actions. The second group is [ the unsuccessful one ] and its three characteristics are: [ 1] they are misers to such an extent that they even fail to pay the zakah and other obligatory alms; [ 2] they deem themselves self-sufficient rather than obeying Allah; and [ 3] they reject the &best word& [ that is, the kalimah of &Iman ]. Referring to the first group, the verse says:

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتّٰى۝ ٤ ۭ سعی السَّعْيُ : المشي السّريع، وهو دون العدو، ويستعمل للجدّ في الأمر، خيرا کان أو شرّا، قال تعالی: وَسَعى فِي خَرابِها[ البقرة/ 114] ، وقال : نُورُهُمْ يَسْعى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ [ التحریم/ 8] ، وقال : وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَساداً [ المائدة/ 64] ، وَإِذا تَوَلَّى سَعى فِي الْأَرْضِ [ البقرة/ 205] ، وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسانِ إِلَّا ما سَعى وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرى [ النجم/ 39- 40] ، إِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتَّى [ اللیل/ 4] ، وقال تعالی: وَسَعى لَها سَعْيَها [ الإسراء/ 19] ، كانَ سَعْيُهُمْ مَشْكُوراً [ الإسراء/ 19] ، وقال تعالی: فَلا كُفْرانَ لِسَعْيِهِ [ الأنبیاء/ 94] . وأكثر ما يستعمل السَّعْيُ في الأفعال المحمودة، قال الشاعر : 234- إن أجز علقمة بن سعد سعيه ... لا أجزه ببلاء يوم واحد «3» وقال تعالی: فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ [ الصافات/ 102] ، أي : أدرک ما سعی في طلبه، وخصّ المشي فيما بين الصّفا والمروة بالسعي، وخصّت السّعاية بالنمیمة، وبأخذ الصّدقة، وبکسب المکاتب لعتق رقبته، والمساعاة بالفجور، والمسعاة بطلب المکرمة، قال تعالی: وَالَّذِينَ سَعَوْا فِي آياتِنا مُعاجِزِينَ [ سبأ/ 5] ، أي : اجتهدوا في أن يظهروا لنا عجزا فيما أنزلناه من الآیات . ( س ع ی ) السعی تیز چلنے کو کہتے ہیں اور یہ عدو ( سرپٹ دوڑ ) سے کم درجہ ( کی رفتار ) ہے ( مجازا ) کسی اچھے یا برے کام کے لئے کوشش کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَسَعى فِي خَرابِها[ البقرة/ 114] اور ان کی ویرانی میں ساعی ہو ۔ نُورُهُمْ يَسْعى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ [ التحریم/ 8]( بلکہ ) ان کا نور ( ایمان ) ان کے آگے ۔۔۔۔۔۔ چل رہا ہوگا ۔ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَساداً [ المائدة/ 64] اور ملک میں فساد کرنے کو ڈوڑتے بھریں ۔ وَإِذا تَوَلَّى سَعى فِي الْأَرْضِ [ البقرة/ 205] اور جب پیٹھ پھیر کر چلا جاتا ہے تو زمین میں ( فتنہ انگریزی کرنے کے لئے ) دوڑتا پھرتا ہے ۔ وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسانِ إِلَّا ما سَعى وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرى [ النجم/ 39- 40] اور یہ کہ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے اور یہ کہ اس کی کوشش دیکھی جائے گی ۔ إِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتَّى [ اللیل/ 4] تم لوگوں کی کوشش طرح طرح کی ہے ۔ وَسَعى لَها سَعْيَها [ الإسراء/ 19] اور اس میں اتنی کوشش کرے جتنی اسے لائق ہے اور وہ مومن بھی ہو تو ایسے ہی لوگوں کی کوشش ٹھکانے لگتی ہے ۔ فَلا كُفْرانَ لِسَعْيِهِ [ الأنبیاء/ 94] تو اس کی کوشش رائگاں نی جائے گی لیکن اکثر طور پر سعی کا لفظ افعال محمود میں استعمال ہوتا ہے کسی شاعر نے کہا ہے ( الکامل ) 228 ) ان جز علقمہ بن سیف سعیہ لا اجزہ ببلاء یوم واحد اگر میں علقمہ بن سیف کو اس کی مساعی کا بدلہ دوں تو ایک دن کے حسن کردار کا بدلہ نہیں دے سکتا اور قرآن میں ہے : ۔ فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ [ الصافات/ 102] جب ان کے ساتھ دوڑ نے کی عمر کو پہنچا ۔ یعنی اس عمر کو پہنچ گیا کہ کام کاج میں باپ کا ہاتھ بٹا سکے اور مناسب حج میں سعی کا لفظ صفا اور مردہ کے درمیان چلنے کے لئے مخصوص ہوچکا ہے اور سعاد یۃ کے معنی خاص کر چغلی کھانے اور صد قہ وصول کرنے کے آتے ہیں اور مکاتب غلام کے اپنے آپ کو آزاد کردانے کے لئے مال کمائے پر بھی سعایۃ کا لفظ بولا جاتا ہے مسا عا ۃ کا لفظ فسق و محور اور مسعادۃ کا لفظ اچھے کاموں کے لئے کوشش کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : وَالَّذِينَ سَعَوْا فِي آياتِنا مُعاجِزِينَ [ سبأ/ 5] اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں میں اپنے زعم باطل میں ہمیں عاجز کرنے کے لئے سعی کی میں سعی کے معنی یہ ہیں کہ انہوں نے ہماری نازل کر آیات میں ہامرے عجز کو ظاہر کرنے کے لئے پوری طاقت صرف کر دالی ۔ شتت الشَّتُّ : تفریق الشّعب، يقال : شَتَّ جمعهم شَتّاً وشَتَاتاً ، وجاؤوا أَشْتَاتاً ، أي : متفرّقي النّظام، قال : يَوْمَئِذٍ يَصْدُرُ النَّاسُ أَشْتاتاً [ الزلزلة/ 6] ، وقال : مِنْ نَباتٍ شَتَّى[ طه/ 53] ، أي : مختلفة الأنواع، وَقُلُوبُهُمْ شَتَّى [ الحشر/ 14] ، أي : هم بخلاف من وصفهم بقوله : وَلكِنَّ اللَّهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ [ الأنفال/ 63] . و ( شَتَّانَ ) : اسم فعل، نحو : وشکان، يقال : شتّان ما هما، وشتّان ما بينهما : إذا أخبرت عن ارتفاع الالتئام بينهما . ( ش ت ت ) الشت کے معنی قبیلہ کو متفرق کرنے کے ہیں محاورہ ہے ۔ شت جمعھم شتا وشتاتا ان کی جمیعت متفرق ہوگئی ۔ جاؤا اشتاتا وہ پر اگندہ حالت میں آئے قرآن میں ہے : يَوْمَئِذٍ يَصْدُرُ النَّاسُ أَشْتاتاً [ الزلزلة/ 6] اس دن لوگ گروہ گروہ ہوکر آئیں گے ۔ مِنْ نَباتٍ شَتَّى[ طه/ 53] ( یعنی انواع ( وہ اقسام ) کی مختلف روئیدگی پید اکیں ۔ وَقُلُوبُهُمْ شَتَّى [ الحشر/ 14]( مگر) ان کے دل پھٹے ہوئے ہیں ۔ یعنی ان کی حالت مسلمانوں کی حالت کے برعکس ہے جن کے متعلق فرمایا : وَلكِنَّ اللَّهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ [ الأنفال/ 63] مگر خدا ہی نے ان میں الفت ڈال دی ۔ شتان یہ اسم فعل وزن وشگان ہے ۔ محاورہ ہے ؛۔ شتان ما ھما وشتان ما بینھما ان دونوں میں کس قدر بعد اور تفاوت ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

کہ تمہارے اعمال مختلف ہیں کہ بعض رسول اکرم صلی اللہ اور قرآن کریم کو جھٹلانے والے ہیں اور بعض تصدیق کرنے والے ہیں یا یہ کہ بعض جنت کے لیے کوشاں اور بعض دوزخ کے لیے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤{ اِنَّ سَعْیَکُمْ لَشَتّٰی ۔ } ” بیشک تمہاری کوشش الگ الگ ہے۔ “ یعنی جس طرح کائنات کی باقی چیزوں میں اختلاف و تضاد پایا جاتا ہے اسی طرح تمہارے مختلف افراد کی کوششوں اور محنتوں کی نوعیت بھی مختلف ہے۔ ظاہر ہے زندگی کے شب و روز میں محنت ‘ مشقت اور بھاگ دوڑ کرنا تو انسان کا مقدر ہے : { لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ کَبَدٍ ۔ } (البلد) ” بیشک ہم نے انسان کو پیدا ہی محنت اور مشقت میں کیا ہے “۔ ہر انسان اپنا اور اپنے اہل و عیال کا پیٹ پالنے کے لیے بھی مشقت کرتا ہے ۔ پھر اگر وہ کسی نظریے کا پیروکار ہے تو اس نظریے کی اشاعت اور سربلندی کے لیے بھی تگ و دو کرتا ہے اور اس نظریے کے تحت ایک نظام کے قیام کے لیے بھی جدوجہد کرتا ہے۔ غرض اپنے اپنے ماحول اور حالات کے مطابق محنت اور مشقت تو سب انسان ہی کرتے ہیں لیکن ان کی مشقتوں کے نتائج مختلف ہوتے ہیں۔ ایک شخص اپنی محنت کے نتیجے میں جنت خرید لیتا ہے اور دوسرا اپنی محنت و مشقت کی پاداش میں خود کو دوزخ کا مستحق بنالیتا ہے۔ انسانی محنت میں اس فرق کی وضاحت حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اس حدیث میں ملتی ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (کُلُّ النَّاسِ یَغْدُوْ فَبَائِِعٌ نَفْسَہٗ فَمُعْتِقُھَا اَوْ مُوْبِقُھَا) (١) ” ہر شخص روزانہ اس حال میں صبح کرتا ہے کہ اپنی جان کا سودا کرتا ہے ‘ پھر یا تو وہ اسے آزاد کرا لیتا ہے یا اسے تباہ کر بیٹھتا ہے “۔ کوئی اپنی جسمانی قوت کا سودا کرتا ہے ‘ کوئی ذہنی صلاحیت بیچتا ہے ‘ کوئی اپنی مہارت نیلام کرتا ہے ‘ کوئی اپنا وقت فروخت کرتا ہے۔ غرض اپنے اپنے طریقے اور اپنے اپنے انداز میں ہر شخص دن بھر خود کو بیچتا ہے۔ اب ان میں سے ایک شخص وہ ہے جس نے خود کو بیچتے ہوئے حلال کو مدنظر رکھا ‘ اس نے جھوٹ نہیں بولا ‘ کسی کو دھوکہ نہیں دیا ‘ کم معاوضہ قبول کرلیا لیکن حرام سے اجتناب کیا۔ ایسا شخص شام کو لوٹے گا تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے شامل حال ہوگی۔ اس کے مقابلے میں ایک دوسرے شخص نے بھی دن بھر مشقت کی ‘ مگر حلال و حرام کی تمیز سے بےنیاز ہو کر ‘ معاوضہ اس نے بھی لیامگر غلط بیانی کرکے اور دوسروں کو فریب دے کر ‘ ناپ تول میں کمی کر کے اور گھٹیا چیز کو بڑھیا چیز کے دام پر بیچ کر۔ اب یہ شخص جب شام کو گھر آئے گا تو جہنم کے انگاروں کی گٹھڑی اٹھائے ہوئے آئے گا۔ اب آئندہ آیات میں انسانی زندگی کے دو راستوں میں سے ہر راستے کے تین اوصاف یا تین سنگ ہائے میل کی نشاندہی کردی گئی ہے ‘ تاکہ ہر شخص کو معلوم ہوجائے کہ اس نے کون سا راستہ اختیار کیا ہے ‘ اس راستے پر اب وہ کس مقام پر ہے اور اگر وہ مزید آگے بڑھے گا تو آگے کون سی منزل اس کی منتظر ہوگی۔ اس مضمون کے اعتبار سے میں سمجھتا ہوں کہ یہ قرآن مجید کی اہم ترین سورت ہے۔ اب ملاحظہ ہوں ان میں سے پہلے راستے کے تین اوصاف :

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

1 This is that for which an oath has been sworn by the night and the day, and the creation of the male and the female. It means to say: Just as the night and the day, and the male and the female, are different from each other, and their effects and results are mutually contradictory, so are the aims and objects for which men are endeavouring and struggling; different in their nature and contradictory with regard to their results. In the following verses, it has been told that all these divided endeavours are divided into two main kinds.

سورة الَّیْل حاشیہ نمبر :1 یہ وہ بات ہے جس پر رات اور دن اور نر و مادہ کی پیدائش کی قسم کھائی گئی ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح رات اور دن اور نر اور مادہ ایک دوسرے سے مختلف ہیں ، اور ان میں سے ہر دو کے آثار و نتائج باہم متضاد ہیں ، اسی طرح تم لوگ جن راہوں اور مقاصد میں ا پنی کوششیں صرف کر رہے ہو وہ بھی اپنی نوعیت کے لحاظ سے مختلف اور اپنے نتائج کے اعتبار سے متضاد ہیں ۔ اس کے بعد کی آیات میں بتایا گیا کہ یہ تمام مختلف کوششیں دو بڑی اقسام میں تقسیم ہوتی ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

1: کوششوں سے مراد اعمال ہیں اور مطلب یہ ہے کہ اِنسانوں کے اعمال مختلف قسم کے ہیں، اچھے بھی اور بُرے بھی، اور اِن اعمال کے نتائج بھی مختلف ہیں، جیسا کے آگے آرہا ہے، یہ بات کہنے کے لئے رات اور دن کی قسم کھانے کا شاید یہ مقصد ہے کہ جس طرح رات اور دن کے نتائج مختلف ہیں، اِسی طرح نیکی اور بدی کے نتائج بھی مختلف ہیں، اور جس طرح اﷲ تعالیٰ نے نر اور مادہ کی خاصیتیں الگ الگ رکھی ہیں، اِسی طری اعمال کی خاصیتیں بھی جدا جدا ہیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(92:4) ان سعیکم لشتی۔ جواب قسم ہے۔ ان حرف تحقیق۔ بیشک تحقیق، حرف مشبہ بالفعل۔ سعیکم مضاف مضاف الیہ۔ تمہاری کوشش۔ اسم ان لشتی اس کی خبر۔ لام تاکید کا۔ شتی۔ طرح طرح ۔ جدا جدا۔ متفرق، مختلف، پراگندہ۔ بعض کے نزدیک یہ لفظ مفرد ہے اور بعض نے اس کو شتیت کی جمع بیان کیا ہے جیسے مریض کی جمع مرضی۔ ان سعیکم لشتی۔ بیشک تمہارے اعمال ، تمہاری کوششیں مختلف ہیں کوئی دوزخ سے گلو خلاصی اور مراتب جنت و مدارج قرب کے حصول کی کوشش کرتا ہے۔ اور کوئی اپنے نفس کو ہلاک کرنے کی۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 چناچہ کوئی ایسا کام کرتا ہے جس کا بدلہ جنت ہے اور کوئی ایسا جس کا بدلہ دوزخ ہے۔ کوئی اپنے پیش نظر صرف اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی رکھتا ہے اور صرف اخروی فلاح چاہتا ہے اور کوئی دنیا کا طلب گار ہے۔ کوئی فراخ دلی اور سخاوت سے کام لیتا ہے اور کوئی تنگ دلی اور بخل برتتا ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ان سعیکم .................................... تردی تمہاری مساعی مختلف ہیں ، اپنی حقیقت کے اعتبار سے بھی تمہاری مساعی مختلف ہیں ، اپنے اسباب اور محرکات کے اعتبار سے بھی مختلف ہیں ، اپنے رخ اور سمت کے اعتبار سے بھی مختلف ہیں اور نتائج کے اعتبار سے بھی مختلف ہیں۔ اس زمین پر بسنے والے انسانوں کے مزاج بھی مختلف ہیں۔ ان کے تصورات و افکار بھی مختلف ہیں ، ان کے ذوق اور مشرب بھی مختلف ہیں ، اس کی ترجیحات بھی مختلف ہیں۔ اور لوگوں کی حالت یوں لگتی ہے کہ گویا ان میں سے ہر شخص شاید ایک علیحدہ سیارے کا باشندہ ہے۔ یہ تو ہے ایک حقیقت ، لیکن ایک دوسری حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے ، وہ یہ کہ ان تمام افراد بشریت کے درمیان ایک قدر مشرک بھی ہے جو انہیں باہم جوڑے ہوئے ہے۔ اور ان تمام اختلافات کے درمیان مابہ الاشتراک بھی ہے۔ یہ اشتراک انہیں دوگروہوں میں رکھتا ہے۔ دوصفوں میں اور دو جھنڈوں کے تلے قائم رکھتا ہے جو ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہیں۔ وہ کیا ہے ۔ فاما ............................ بالحسنی (6:82) ” تو جس نے دیا اور تقویٰ اختیار کیا اور بھلائی کو سچ مانا “۔ ایک تو یہ صف ہے اور دوسری صف۔ من بخل ............................ بالحسنی (9:92) ” جس نے بخل کیا اور بےنیازی برتی اور بھلائی کو جھٹلایا “۔ ایک گروہ ہے جو جان بھی کھپاتا ہے ، مال بھی کھپاتا ہے۔ اللہ کے عذاب اور اللہ کے غضب سے ڈرتا ہے اور سچائی کو مانتا ہے اور سچائی کا نام کیا ہے الحسنیٰ ، اس کا علم کیا ہے الحسنیٰ ۔ یہ دو قسم کے لوگ ہیں جو دو صفوں میں کھڑے ہیں ، مختلف المزاج لوگ ، مختلف قسم کی مساعی ، مختلف قسم کے طریقہ ہائے کار ، مختلف قسم کے مقاصد۔ ان دوصفوں میں صف آرا ہوکر ایک دوسرے کے ساتھ ملتے ہیں ، ہر ایک کا اپنا نظام اور منہاج کار ہے اور ہر ایک کو الگ الگ توفیق بخشی گئی ہے اور طریقہ دیا گیا ہے۔ فاما ........................................ للیسری (5:95 تا 7) ” تو جس نے دیا ، اور پرہیزگاری اختیار کی اور بھلائی کو سچ مانا اس کہ ہم آسان راستے کے لئے سہولت دیں گے “۔ اس لئے کہ جو شخص مال دے ، تقویٰ اختیار کرے اور سچائی کی تصدیق کردے تو گویا اس کے پاس جو کچھ تھا اس نے حاضر کردیا اور اپنے نفس کو پاک کرنے اور راہ راست پر لگانے کے لئے حتیٰ المقدور سعی کرلی۔ اب وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اللہ کی نصرت اس کی دستگیری کرے۔ اور اس کو بھلائی کی توفیق دے کیونکہ اللہ نے اپنے اوپر لازم کردیا ہے کہ جس شخص نے اچھا ارادہ کیا ، اسے سہولیات فراہم کرے کیونکہ اللہ کی توفیق اور مشیت کے بغیر تو کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔ اور اس کے بغیر انسان کچھ بھی نہیں کرسکتا۔ اور جس کو اللہ نیکی کی سہولیات فراہم کردے تو گویا وہ منزل مقصود تک پہنچ گیا۔ نہایت آسانی اور سکون و اطمینان کے ساتھ وہ پہنچ گیا۔ وہ زمین پر ہوتے ہوئے بھی عالم بالا تک پہنچ گیا ، وہ نہایت آسانی سے اس جہاں میں رہتا ہے ، اس کا ماحول ، اور اس کے ارد گرد رہنے والے سب اس کے لئے سازگار ہوجاتے ہیں ، ان کے قدم سہولت سے اٹھتے ہیں ، اس کی راہ آسان ہوجاتی ہے ، وہ بڑی آسانی کے ساتھ معاملات سے نمٹ لیتا ہے ، غرض تمام کلیات وجزئیات میں اسے سہولیات حاصل ہوجاتی ہیں۔ یہ ایک ایسا مقام و مرتبہ ہے جس کے دائرے میں سب کچھ آجاتا ہے۔ اور اس مرتبہ ومقام کو پانے والا رسول اللہ کے ساتھ حسب وعدہ رہی بڑی سہولیات پاتا ہے۔ فسنیسرہ للیسری (7:92) ” ہم اسے آسان راستے کی طرف سہولت دیں گے “۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(4) کہ بلا شبہ تمہاری مساعی اور کوششیں مختلف ہیں یعنی تمہارے اعمال اور نیز ان کے ثمرات مختلف ہیں کوئی دائمی عذاب کا مستحق ہوتا ہے کوئی ان اعمال سے دائمی راحت و آرام حاصل کرتا ہے ۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، کل الناس یغدوانبائع نفس فمعتقھا او مربقھا ، یعنی ہر انسان صبح کرتا ہے اس حال میں کہ اپنے نفس کو خرچ کرتا ہے پھر یا تو اس کو آزاد کرالیتا ہے یا اس کو ہلاک کردیتا ہے، یعنی مختلف اعمال کی وجہ سے کوئی تو عذاب سے اپنی جان کو آزاد کرالیتا ہے اور کوئی برے عمل کرکے اس جان کو ہلاکت میں ڈال دیتا ہے ، آگے تفصیل ہے۔