Surat ul Lail

Surah: 92

Verse: 5

سورة الليل

فَاَمَّا مَنۡ اَعۡطٰی وَ اتَّقٰی ۙ﴿۵﴾

As for he who gives and fears Allah

جس نے دیا ( اللہ کی راہ میں ) اور ڈرا ( اپنے رب سے ) ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

As for him who gives and has Taqwa. meaning, he gives what he has been commanded to give and he fears Allah in his affairs. وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

5۔ 1 یعنی خیر کے کاموں میں خرچ کرے گا اور محارم سے بچے گا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فاما من اعطی …:” الحسنی “” احسن “ کی مونث ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(ومن احسن قولاً ممن دعآ الی اللہ و عمل صالحاً وقال اننی من السلمین) (حم السجدۃ : ٣٣)” اور اس شخص سے زیادہ اچھی بات کس کی ہے جو اللہ کی طرف دعوت دے اور نیک عمل کرے اور کہے کہ بیشک میں فرماں بر داروں سے ہوں ؟ “ جس شخص میں بھی بھلائی کے یہ تین جامع اوصاف ہیں کہ وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے فراخ دل ہے، اللہ سے ڈرتا ہے اور اس کی نافرمانی اور ہر حرام کام سے بچتا ہے اور سب سے اچھی بات یعنی اللہ کے ایک ہونے کو اور اس کی نازل کی ہوئی ہر بات کو سچ مان کر اس کا تابع ہوجاتا ہے، تو اس کے اس میلان اور رجحان کے مطابق ہم بھی اس کے لئے نیکی اور جنت کے راستے پر چلنا آسان کردیں گے، یعنی اس کے لئے نیکی کرنا آسان ہوجائے گا اور گناہ کرنا مشکل۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰى وَاتَّقٰى۝ ٥ ۙ «أمَّا» و «أمَّا» حرف يقتضي معنی أحد الشيئين، ويكرّر نحو : أَمَّا أَحَدُكُما فَيَسْقِي رَبَّهُ خَمْراً وَأَمَّا الْآخَرُ فَيُصْلَبُ [يوسف/ 41] ، ويبتدأ بها الکلام نحو : أمّا بعد فإنه كذا . ( ا ما حرف ) اما ۔ یہ کبھی حرف تفصیل ہوتا ہے ) اور احد اشیئین کے معنی دیتا ہے اور کلام میں مکرر استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ { أَمَّا أَحَدُكُمَا فَيَسْقِي رَبَّهُ خَمْرًا وَأَمَّا الْآخَرُ فَيُصْلَبُ } ( سورة يوسف 41) تم میں سے ایک ( جو پہلا خواب بیان کرنے ولا ہے وہ ) تو اپنے آقا کو شراب پلایا کریگا اور جو دوسرا ہے وہ سونی دیا جائے گا ۔ اور کبھی ابتداء کلام کے لئے آتا ہے جیسے امابعد فانہ کذا ۔ عطا العَطْوُ : التّناول، والمعاطاة : المناولة، والإعطاء : الإنالة . قال تعالی: حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ [ التوبة/ 29] . واختصّ العطيّة والعطاء بالصّلة . قال : هذا عَطاؤُنا فَامْنُنْ أَوْ أَمْسِكْ بِغَيْرِ حِسابٍ [ ص/ 39] ( ع ط و ) العطوا ( ن ) کے معنی ہیں لینا پکڑنا اور المعاد طاہ باہم لینا دینا الاعطاء ( افعال ) قرآن میں ہے : ۔ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ [ التوبة/ 29] یہاں تک کہ جزیہ دیں ۔ اور العطیۃ والعطاء خاص کر اس چیز کو کہتے ہیں جو محض تفضیلا دی جائے ۔ تَّقْوَى والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، ثمّ يسمّى الخوف تارة تَقْوًى، والتَّقْوَى خوفاً حسب تسمية مقتضی الشیء بمقتضيه والمقتضي بمقتضاه، وصار التَّقْوَى في تعارف الشّرع حفظ النّفس عمّا يؤثم، وذلک بترک المحظور، ويتمّ ذلک بترک بعض المباحات لما روي : «الحلال بيّن، والحرام بيّن، ومن رتع حول الحمی فحقیق أن يقع فيه» قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] ، إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا [ النحل/ 128] ، وَسِيقَ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ زُمَراً [ الزمر/ 73] ولجعل التَّقْوَى منازل قال : وَاتَّقُوا يَوْماً تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللَّهِ [ البقرة/ 281] ، واتَّقُوا رَبَّكُمُ [ النساء/ 1] ، وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَخْشَ اللَّهَ وَيَتَّقْهِ [ النور/ 52] ، وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسائَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحامَ [ النساء/ 1] ، اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقاتِهِ [ آل عمران/ 102] . و تخصیص کلّ واحد من هذه الألفاظ له ما بعد هذا الکتاب . ويقال : اتَّقَى فلانٌ بکذا : إذا جعله وِقَايَةً لنفسه، وقوله : أَفَمَنْ يَتَّقِي بِوَجْهِهِ سُوءَ الْعَذابِ يَوْمَ الْقِيامَةِ [ الزمر/ 24] تنبيه علی شدّة ما ينالهم، وأنّ أجدر شيء يَتَّقُونَ به من العذاب يوم القیامة هو وجوههم، فصار ذلک کقوله : وَتَغْشى وُجُوهَهُمُ النَّارُ [إبراهيم/ 50] ، يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلى وُجُوهِهِمْ [ القمر/ 48] . التقویٰ اس کے اصل معنی نفس کو ہر اس چیز سے بچانے کے ہیں جس سے گزند پہنچنے کا اندیشہ ہو لیکن کبھی کبھی لفظ تقوٰی اور خوف ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ جس طرح کہ سبب بول کر مسبب اور مسبب بولکر سبب مراد لیا جاتا ہے اور اصطلاح شریعت میں نفس کو ہر اس چیز سے بچا نیکا نام تقوی ہے جو گناہوں کا موجب ہو ۔ اور یہ بات محظو رات شرعیہ کے ترک کرنے سے حاصل ہوجاتی ہے مگر اس میں درجہ کمال حاصل کرنے کے لئے بعض مباحات کو بھی ترک کرنا پڑتا ہے ۔ چناچہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے ۔ ( 149 ) الحلال بین واحرام بین ومن وقع حول الحمی فحقیق ان یقع فیہ کہ حلال بھی بین ہے اور حرام بھی بین ہے اور جو شخص چراگاہ کے اردگرد چرائے گا تو ہوسکتا ہے کہ وہ اس میں داخل ہوجائے ( یعنی مشتبہ چیزیں اگرچہ درجہ اباحت میں ہوتی ہیں لیکن ورع کا تقاضا یہ ہے کہ انہیں بھی چھوڑ دایا جائے ) قرآن پاک میں ہے : ۔ فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] جو شخص ان پر ایمان لا کر خدا سے ڈرتا رہے گا اور اپنی حالت درست رکھے گا ۔ ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے ۔ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا[ النحل/ 128] کچھ شک نہیں کہ جو پرہیز گار ہیں اللہ ان کا مدد گار ہے ۔ وَسِيقَ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ زُمَراً [ الزمر/ 73] اور جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کو گروہ بناکر بہشت کی طرف لے جائیں گے ۔ پھر تقویٰ کے چونکہ بہت سے مدارج ہیں اس لئے آیات وَاتَّقُوا يَوْماً تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللَّهِ [ البقرة/ 281] اور اس دن سے ڈرو جب کہ تم خدا کے حضور میں لوٹ کر جاؤ گے ۔ واتَّقُوا رَبَّكُمُ [ النساء/ 1] اپنے پروردگار سے ڈرو ۔ اور اس سے ڈرے گا ۔ اور خدا سے جس کا نام کو تم اپنی حاجت برآری کا ذریعہ بناتے ہو ڈرو ۔ اور قطع مودت ارجام سے ۔ اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقاتِهِ [ آل عمران/ 102] خدا سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے ۔ میں ہر جگہ تقویٰ کا ایک خاص معنی مراد ہے جس کی تفصیل اس کتاب کے اور بعد بیان ہوگی ۔ اتقٰی فلان بکذا کے معنی کسی چیز کے ذریعہ بچاؤ حاصل کرنے کے ہیں ۔ اور آیت : ۔ أَفَمَنْ يَتَّقِي بِوَجْهِهِ سُوءَ الْعَذابِ يَوْمَ الْقِيامَةِ [ الزمر/ 24] بھلا جو شخص قیامت کے دن اپنے منہ سے برے عذاب کو روکتا ہوا ۔ میں اس عذاب شدید پر تنبیہ کی ہے جو قیامت کے دن ان پر نازل ہوگا اور یہ کہ سب سے بڑی چیز جس کے ذریعہ وہ و عذاب سے بچنے کی کوشش کریں گے وہ ان کے چہرے ہی ہوں گے تو یہ ایسے ہی ہے جیسے دوسری جگہ فرمایا : وَتَغْشى وُجُوهَهُمُ النَّارُ [إبراهيم/ 50] اور ان کے مونہوں کو آگ لپٹ رہی ہوگی ۔ يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلى وُجُوهِهِمْ [ القمر/ 48] اس روز منہ کے بل دوزخ میں گھسٹیے جائیں گے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

سو جس نے اللہ کی راہ میں مال دیا اور نو مسلمانوں کو کفار سے خرید کر اور ان کی تکالیف سے نجاد دلا کر ان کو آزاد کردیا اور کفر و شرک اور فواحش سے بچا، اور اللہ کے وعدے کی، یا یہ کہ جنت کی، یا یہ کہ کلمہ اسلام کی تصدیق کی سو ہم اس پر اطاعت خداوندی کو آسان کردیں گے یا یہ کہ بار بار نیکیوں اور اللہ کے راستہ میں خرچ کرنے کی توفیق دیں گے ان آیات سے حضرت ابوبکر صدیق مراد ہیں ان ہی کی فضیلت میں یہ آیات نازل ہوئی ہیں۔ شان نزول فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰى وَاتَّقٰى الخ حاکم نے بواسطہ عامر بن عبداللہ، حضرت عبداللہ بن زبیر سے روایت کیا ہے کہ حضرت ابو قحافہ نے حضرت ابوبکر سے فرمایا اے بیٹے تو کمزوروں کو خرید کر آزاد کرتا ہے تو اگر طاقتور آدمیوں کو آزاد کرتا جو تیری مدد اور تیری حفاظت کے لیے کھڑے ہوتے تو اچھا تھا تو اس پر حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا میں صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کمزوروں کو آزاد کراتا ہوں اس پر فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰى وَاتَّقٰى اخیر تک یہ آیات نازل ہوئی اور بزاز نے ابن زبیر سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت وَمَا لِاَحَدٍ عِنْدَهٗ مِنْ نِّعْمَةٍ تُجْزٰٓى اخیر تک حضرت ابوبکر صدیق کے بارے میں نازل ہوئی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥{ فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰی وَاتَّقٰی ۔ } ” تو جس نے عطا کیا اور تقویٰ اختیار کیا۔ “ ظاہر ہے یہ خیر کا راستہ ہے اور اس راستے کا پہلا وصف یا پہلا سنگ میل ” اِعطاء “ یا انفاق فی سبیل اللہ ہے۔ سورة البلد میں اس عمل کو انسان کے لیے ایک بہت مشکل گھاٹی قرار دے کر اس کی وضاحت یوں فرمائی گئی : { فَکُّ رَقَـبَۃٍ - اَوْ اِطْعٰـمٌ فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَـبَۃٍ - یَّتِیْمًا ذَا مَقْرَبَۃٍ - اَوْ مِسْکِیْنًا ذَا مَتْرَبَۃٍ - ثُمَّ کَانَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا…} ” کسی گردن کا چھڑا دینا۔ یا کھانا کھلا دینا بھوک کے دن ‘ اس یتیم کو کہ جو قرابت دار بھی ہے ‘ یا اس محتاج کو جو مٹی میں رُل رہا ہے۔ پھر وہ شامل ہوا ان لوگوں میں جو ایمان لائے…“ یعنی جو انسان اس ” مشکل گھاٹی “ کو عبور کرنے کے بعد اہل ایمان کی صف میں شامل ہوگا وہ ان شاء اللہ ابوبکر صدیق ‘ عمر فاروق ‘ عثمان غنی اور علی مرتضیٰ - کا پیروکار بنے گا ۔ لیکن جس نے یہ امتحان پاس کیے بغیر ہی کلمہ پڑھ لیا تو اس کے بارے میں خدشہ ہے کہ توحید و رسالت کی گواہی دینے کے بعد بھی اس کے ایمان کی بوباس عبداللہ بن ابی کے ایمان کی سی ہوگی۔ ظاہر ہے جو کلمہ حضرت ابوبکر ‘ حضرت عمر ‘ حضرت عثمان اور حضرت علی - نے پڑھا تھا وہی کلمہ عبداللہ بن ابی نے بھی پڑھا تھا۔ یعنی ایمان کا بیج تو دونوں طرف ایک سا تھا ‘ مگر یہ زمین اور تھی ‘ وہ زمین اور تھی۔ اس زمین میں انفاق فی سبیل اللہ کا ہل چل چکا تھا اور اس زمین میں ُ حب ِدنیا اور شکوک و تردّد کے جھاڑ جھنکاڑ نے قبضہ جما رکھا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ عبداللہ بن ابی کے دل کی زمین میں ایمان کے بیج کا جمائو ممکن ہی نہ ہوا۔ اس حوالے سے اگر سورة آل عمران کی آیت ٩٢ کے اس جملے کو مدنظر رکھا جائے تو انفاق و اِعطاء کے اس فلسفے کو سمجھنا بہت آسان ہوجاتا ہے : { لَــنْ تَنَالُوْا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَط } یعنی جب تک تم لوگ اپنی عزیز ترین چیز کو اللہ کی راہ میں نہ دے ڈالو تم نیکی کی گردکو بھی نہیں پہنچ سکتے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا چاہیے تو مال کی قربانی دو اور قربانی بھی بہترین چیز کی۔ یہ نہیں کہ چھانٹ کر بےکار چیزیں کسی کو دے کر سمجھو کہ تم نے حاتم طائی کی قبر پر لات مار دی ہے۔ اس راستے کا دوسر اوصف یا سنگ میل تقویٰ ( وَاتَّقٰی) ہے ۔ یعنی انسان کا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے ڈرتے رہنا۔ ہر لمحہ برائی کی خاردار جھاڑیوں سے اپنا دامن بچانے کی فکر میں رہنا اور مسلسل کوشش کرتے رہنا کہ میں کسی کا دل نہ دکھائوں اور کسی کا حق نہ ماروں۔ لیکن یہ تبھی ممکن ہے جب انسان کے اندر اللہ تعالیٰ کی ودیعت کردہ وہ اخلاقی حس زندہ و بیدار ہو جس کا ذکر سورة الشمس کی آیت { فَاَلْہَمَہَا فُجُوْرَہَا وَتَقْوٰٹہَا ۔ } میں آیا ہے۔ اگر اس کی اخلاقی حس کی شمع ہوا و ہوس کے طوفان کی نذر ہوچکی ہو تو پھر ظاہر ہے کہاں کا تقویٰ اور کس کا ڈر !

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(92:5) فاما من اعطی واتقی وصدق بالحسنی : (یہ اختلاف سعی کی صورتیں بیان ہو رہی ہیں) ۔ جملہ شرطیہ ہے۔ اما حرف شرط۔ بمعنی سو۔ پھر۔ من شرطیہ جس نے اعطی ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ اعطاء (افعال) مصدر۔ اس نے دیا۔ اس نے عطا کیا۔ واؤ عاطفہ، اتقی ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب اتقاء (افتعال) مصدر وہ ڈرا۔ اس نے پرہیز کیا۔ اور اس نے پرہیزگاری اختیار کی۔ اتقی کا عطف اعطی پر ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ پھر جس نے (اللہ کی راہ میں) دیا۔ اور پرہیزگاری اختیار کی۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : فکروعمل میں فرق اور نیک فکر وعمل کا دنیا میں فائدہ۔ فکرو عمل میں فرق سمجھانے کے لیے مختصر طور پر یہاں دو قسم کی سوچ اور اعمال بیان کیے گئے ہیں ایک وہ خوش قسمت ہے جس نے ” اللہ “ کے دیئے ہوئے مال کو اس کی رضا کے لیے خرچ کیا اور ہمیشہ بخل اور اپنے رب کی نافرمانی سے ڈرتا رہا اور اللہ تعالیٰ کے ارشادات اور احکام کی دل کی گہرائی، زبان کی سچائی اور صالح عمل کے ساتھ اس کی تصدیق کرتا رہا اللہ تعالیٰ اس کے لیے نیکی کرنا مزید آسان کردیتا ہے جس بنا پر اس کے لیے صدقہ اور نیکی کرنا آسان ہوجاتے ہیں اس بات کو یوں بھی بیان کیا گیا ہے۔ ( الَّذِیْنَ جَاہَدُوْا فِیْنَا لَنَہْدِیَنَّہُمْ سُبُلَنَا وَ اِنَّ اللّٰہَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ ) (العنکبوت : ٦٩) ” جو لوگ ہمارے لیے محنت کریں گے ہم انہیں اپنے راستے دکھائیں گے، اور یقیناً اللہ نیک لوگوں کے ساتھ ہے۔ “ ” جو کوئی آخرت کی کھیتی چاہتا ہے ہم اس کی کھیتی کو بڑھاتے ہیں اور جو دنیا کی کھیتی چاہتا ہے اسے دنیا میں ہی دے دیتے ہیں مگر آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ “ (الشوریٰ : ٢٠) (عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مَثَلُ الْبَخِےْلِ وَالْمُتَصَدِّقِ کَمَثَلِ رَجُلَےْنِ عَلَےْھِمَا جُنَّتَانِ مِنْ حَدِےْدٍ قَدِ اضْطُرَّتْ اَےْدِےْھِمَا اِلٰی ثُدِیِّھِمَا وَتَرَاقِےْھِمَا فَجَعَلَ الْمُتَصَدِّقُ کُلَّمَا تَصَدَّقَ بِصَدَقَۃٍ انْبَسَطَتْ عَنْہُ وَجَعَلَ الْبَخِیْلُ کُلَّمَا ھَمَّ بِصَدَقَۃٍ قَلَصَتْ وَاَخَذَتْ کُلُّ حَلْقَۃٍ بِمَکَانِھَا) (رواہ البخاری : باب مَثَلِ الْمُتَصَدِّقِ وَالْبَخِیلِ ) ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بخیل اور صدقہ کرنے والے کی مثال ان دو آدمیوں کی طرح ہے جنہوں نے زرہ پہن رکھی ہو۔ اس کے ہاتھوں کو اس کی چھاتیوں اور سینے کے ساتھ جکڑ دیا گیا ہو۔ صدقہ دینے والا جب صدقہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو زرہ کشادہ ہوجاتی ہے۔ بخیل جب صدقہ کرنے کا خیال کرتا ہے تو زرہ سمٹ جاتی اور ہر کڑی اپنی اپنی جگہ پر سخت ہوجاتی ہے۔ “

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اس کے بعد اعمال صالحہ اور اعمال سیہٴ کا تذکرہ فرمایا، ارشاد فرمایا : ﴿ فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰى وَ اتَّقٰىۙ٠٠٥ وَ صَدَّقَ بالْحُسْنٰى ۙ٠٠٦ فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلْيُسْرٰى ؕ٠٠٧﴾ (سو جس نے دیا اور حسنیٰ یعنی کلمہ لا الہ الا اللہ کی تصدیق کی سو ہم اس کے لیے آرام والی خصلت اختیار کرنا آسان کردیں گے) ﴿ وَ اَمَّا مَنْۢ بَخِلَ وَ اسْتَغْنٰىۙ٠٠٨ وَ كَذَّبَ بالْحُسْنٰى ۙ٠٠٩ فَسَنُيَسِّرُهٗ لِلْعُسْرٰى ؕ٠٠١٠﴾ (اور جس نے کنجوسی کی اور بےپروائی اختیار کی اور حسنیٰ یعنی کلمہ لا الہ الا اللہ کو جھٹلایا سو ہم اس کے لیے مصیبت والی خصلت اختیار کرنا آسان کردیں گے) ۔ یعنی دنیا میں مصیبتوں میں پڑے گا اور آخرت میں دوزخ میں جائے گا۔ بعض حضرات نے دونوں جگہ الحسنیٰ سے جنت مراد لی ہے یعنی ایمان لانے والے جنت پر ایمان لائے ہیں اور ان کے مخالف دوسرے فریق یعنی کافروں نے اس کو جھٹلایا۔ انسان جو دنیا میں آیا ہے کچھ نہ کچھ عمل کرتا ہے اور دنیا دار الامتحان ہے اس میں مومن بھی ہیں کافر بھی ہیں نیک بھی ہیں بد بھی ہیں پھر موت کے بعد انجام کے اعتبار سے بھی مختلف ہوں گے، انسانوں کے احوال مختلف ہیں دنیا کے حالات اور مجلسیں اور صحبتیں بدلتی رہتی ہیں اچھے لوگ برے اور برے لوگ اچھے بن جاتے ہیں۔ مومن ایمان چھوڑ بیٹھتے ہیں اور کافر ایمان لے آتے ہیں۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے ہر شخص کا ٹھکانہ لکھا ہوا ہے۔ دوزخ میں بھی اور جنت میں بھی (یعنی کسی کا دوزخ میں جانا لکھا ہے اور کسی کا جنت میں جانا نوشتہ ہے) ۔ صحابہ (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو کیا ہم اس پر بھروسہ نہ کرلیں جو ہمارے بارے میں لکھا جا چکا ہے اور کیا عمل کو نہ چھوڑ دیں ؟ آپ نے فرمایا عمل کرتے رہو ہر شخص کے لیے وہی چیز آسان کردی جائے گی جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے جو شخص اہل سعادت میں سے ہے یعنی نیک بخت ہے اس کے لیے سعادت والے اعمال آسان کردیئے جائیں گے اور جو شخص اہل شقاوت میں سے ہے اس کے لیے بد بختی والے اعمال آسان کردیئے جائیں گے اس کے بعد آپ نے آیات کریمہ ﴿ فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰى وَ اتَّقٰىۙ٠٠٥ وَ صَدَّقَ بالْحُسْنٰى ۙ٠٠٦﴾ (الآیات) کی تلاوت فرمائیں۔ (رواہ البخاری صفحہ ٧٣٧: ج ٢، صفحہ ٧٣٨: ج ٢) آیت کریمہ میں الیسریٰ سے ایمان اور اعمال صالح اختیار کرنا مراد ہے جس کا ترجمہ راحت والی خصلت کیا گیا ہے۔ حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ اگرچہ سب کچھ مقدر ہے لیکن انسان عمل میں اپنی سمجھ اور فہم کو استعمال کرے ایمان قبول کرے اعمال صالحہ میں لگا رہے۔ کفر و شرک سے دور رہے اور معاصی سے پرہیز کرتا رہے بندہ کا کام عقل و فہم کا استعمال کرنا اور ایمان قبول کرنا اور اچھے کاموں میں لگنا ہے۔ ﴿وَ صَدَّقَ بالْحُسْنٰى ۙ٠٠٦﴾ میں ایمان کو اور ﴿ وَ كَذَّبَ بالْحُسْنٰى ۙ٠٠٩﴾ میں کفر کو بیان فرما دیا اور ﴿اَعْطٰى وَ اتَّقٰىۙ٠٠٥ ﴾ میں اعمال صالحہ کی طرف اشارہ فرما دیا۔ ﴿اَعْطٰى﴾میں مال کو اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرنے اور اتقی میں تمام گناہوں سے بچنے کی تاکید فرما دی اور بخیل کا تذکرہ کرتے ہوئے جو واستغنی فرمایا ہے اس میں یہ بتادیا کہ بخل کرنے والا دنیا والے مال سے تو محبت کرتا ہے اور جمع کر کے رکھتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے خرچ کرنے پر جو آخرت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجر وثواب ملنا ہے اس سے استغناء برتتا ہے گویا کہ اسے وہاں کی نعمتوں کی ضرورت ہی نہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

3:۔ ” فاما من اعطی “ یہ جواب قسم۔ یعنی سعی عمل کے مختلف ہونے کا ذکر اور نوع عمل کی جزاء وسزا کا بیان ہے جو شخص مال کے حقوق ادا کرے یعنی جہاں اللہ نے خرچ کرنے کا حکم دیا ہے وہاں خرچ کرے اور خدا سے ڈرے اور اس کے محارم و ممنوعات سے اجتناب کرے۔ ” وصدق بالحسنی “ اور ملت اسلام پر ایمان لائے اور اس کی تصدیق کرے۔ ” فسنیسرہ للیسری “ یہ بشارت ہے جس شخص کی سعی عمل مذکورہ بالا اعمال کے لیے ہوگی ہم اس کیلئے آسانی کے اسباب مہیا کردینگے یعنی اسے ایسے کاموں کی مزید توفیق دیں گے جو آخرت میں اس کی راحت و آسانی اور دخول جنت کا باعث ہوں گے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(5) پس جس نے دیا اور وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہا۔