Surat ul Lail
Surah: 92
Verse: 8
سورة الليل
وَ اَمَّا مَنۡۢ بَخِلَ وَ اسۡتَغۡنٰی ۙ﴿۸﴾
But as for he who withholds and considers himself free of need
لیکن جس نے بخیلی کی اور بے پرواہی برتی ۔
وَ اَمَّا مَنۡۢ بَخِلَ وَ اسۡتَغۡنٰی ۙ﴿۸﴾
But as for he who withholds and considers himself free of need
لیکن جس نے بخیلی کی اور بے پرواہی برتی ۔
وَأَمَّا مَن بَخِلَ ... But he who is greedy, meaning, with that which he has. ... وَاسْتَغْنَى and thinks himself self-sufficient, Ikrimah reported that Ibn Abbas said, "This means he is stingy with his wealth and considers himself to be in no need of his Lord, the Mighty and Majestic." This was recorded by Ibn Abi Hatim. وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى
8۔ 1 یعنی اللہ کے راہ میں خرچ نہیں کرے گا اور اللہ کے حکم سے بےپرواہی کرے گا۔
واما من بخل واستغنی …: یعنی جس میں شر کے یہ تین جامع اوصاف ہیں کہ وہ بخل کرتا ہے، اخروی انجام اور حلال و حرام کی پروا ہی نہیں کرتا اور سب سے اچھی بات یعنی اللہ کے ایک ہونے اور اس کی نازل کردہ باتوں کو جھٹلاتا ہے، تو ہم بھی اسے اس کی خواہش کے مطابق اس راستے پر چلنے دیتے ہیں جو مشکلات و مصائب کا راستہ ہے اور جہنم کی طرف لے جانے والا ہے، یعنی اس کے لئے نیکی کرنا مشکل اور گناہ کرنا آسان ہوجاتا ہے۔
وَاَمَّا مَنْۢ بَخِلَ وَاسْتَغْنٰى ٨ ۙ بخل البُخْلُ : إمساک المقتنیات عمّا لا يحق حبسها عنه، ويقابله الجود، يقال : بَخِلَ فهو بَاخِلٌ ، وأمّا البَخِيل فالذي يكثر منه البخل، کالرحیم من الراحم . والبُخْلُ ضربان : بخل بقنیات نفسه، وبخل بقنیات غيره، وهو أكثرها ذمّا، دلیلنا علی ذلک قوله تعالی: الَّذِينَ يَبْخَلُونَ وَيَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ [ النساء/ 37] . ( ب خ ل ) البخل ( دس ) اپنے جمع کردہ ذخائر کو ان جگہوں سے روک لینا جہاں پر خرچ کرنے سے اسے روکنا نہیں چاہیئے ۔ اس کے بالمقابل الجواد ہے بخل اس نے بخیل کیا باخل ۔ بخل کرنے والا ۔ البخیل ( صیغہ مبالغہ ) جو بہت زیادہ بخل سے کام لیتا ہو جیسا کہ الراحم ( مہربان ) سے الرحیم مبالغہ کے لئے آتا جاتا ہے ۔ البخیل ۔ دو قسم پر ہے ایک یہ ہے کہ انسان اپنی چیزوں کو خرچ کرنے سے روک لے اور دوم یہ کہ دوسروں کو بھی خرچ کرنے سے منع کرے یہ پہلی قسم سے بدتر ہے جیسے فرمایا : { الَّذِينَ يَبْخَلُونَ وَيَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ } ( سورة النساء 37) یعنی جو خود بھی بخل کریں اور لوگوں کو بھی بخل کی تعلیم دیں ۔ غنی( فایدة) أَغْنَانِي كذا، وأغْنَى عنه كذا : إذا کفاه . قال تعالی: ما أَغْنى عَنِّي مالِيَهْ [ الحاقة/ 28] ، ما أَغْنى عَنْهُ مالُهُ [ المسد/ 2] ، لَنْ تُغْنِيَ عَنْهُمْ أَمْوالُهُمْ وَلا أَوْلادُهُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئاً [ آل عمران/ 10] ، ( غ ن ی ) الغنیٰ اور اغنانی کذا اور اغنی کذا عنہ کذا کسی چیز کا کا فی ہونا اور فائدہ بخشنا ۔ قر آں میں ہے : ما أَغْنى عَنِّي مالِيَهْ [ الحاقة/ 28] میرا مال میرے کچھ کام نہ آیا ما أَغْنى عَنْهُ مالُهُ [ المسد/ 2] تو اس کا مال ہی اس کے کچھ کام آیا ۔۔۔۔ لَنْ تُغْنِيَ عَنْهُمْ أَمْوالُهُمْ وَلا أَوْلادُهُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئاً [ آل عمران/ 10] نہ تو ان کا مال ہی خدا کے عذاب سے انہیں بچا سکے گا اور نہ ان کی اولاد ہی کچھ کام آئیگی
(8 ۔ 11) اور جس نے اپنے مال کو اللہ کی راہ میں دینے سے بخل کیا یعنی ولید بن مغیرہ اور حضرت ابو سفیان یہ اس وقت تک اسلام نہیں لائے تھے اور اللہ سے بےپروائی اختیار کی اور وعدہ خداوندی، یا یہ کہ جنت، یا یہ کہ کلمہ اسلام کو جھٹلایا سو ہم اس کو بارہا نافرمانیوں اور امساک عن الصدقة فی سبیل اللہ میں مبتلا کریں گے اور جو مال اس نے دنیا میں جمع کیا ہے جب وہ مرنے لگے گا یا یہ کہ دوزخ میں گرے گا اس کے کچھ کام نہ آئے گا۔
آیت ٨{ وَاَمَّا مَنْم بَخِلَ } ” اور جس نے بخل کیا “ پہلی تین خصوصیات کی ترتیب ذہن میں رکھیے اور نوٹ کیجیے کہ ” اِعطاء “ کے مقابلے میں یہاں بخل آگیا ہے۔ { وَاسْتَغْنٰی ۔ } ” اور بےپروائی اختیار کی۔ “ بھلائی اور خیر کے راستے کی تین خصوصیات میں اعطاء کے بعد تقویٰ یعنی پھونک پھونک کر قدم رکھنے اور ذمہ داری کے احساس کا بیان تھا۔ اس کے مقابلے یہاں لاابالی پن ‘ لاپرواہی اور بےنیازی (استغناء) کا تذکرہ ہے۔ گویا ایک شخص حلال و حرام کی تمیز سے ناآشنا اور نیکی و بدی کے تصور سے بیگانہ اپنی دھن میں مست چلا جا رہا ہے۔ کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے تو اس کی بلا سے ‘ کسی کی عزت پر حرف آتا ہے تو آتا رہے ‘ کسی کے جان و مال کی حرمت پامال ہوتی ہے تو بھی پروا نہیں ! غرض اپنی سوچ ہے ‘ اپنی مرضی ہے اور اپنے کام سے کام ہے : ؎ دریا کو اپنی موج کی طغیانیوں سے کام کشتی کسی کی پار ہو یا درمیاں رہے !
(92:8) واما من بخل واستغنی۔ جملہ عاطفہ اور شرطیہ ہے ف عاطفہ اور من شرطیہ ہے۔ بخل ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب بخل (باب سمع) مصدر۔ اس نے بخل کیا۔ اس نے کنجوسی کی۔ واؤ عاطفہ استغنی ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب استغناء (استفعال) مصدر اس نے بےپروائی کی۔ اس کا عطف بخل پر ہے۔ اور جس نے کنجوسی کی اور (آخرت کی) پرواہ نہ کی۔
فہم القرآن ربط کلام : اچھے فکر وعمل کا ذکر کرنے کے بعد منفی سوچ اور برے عمل کا بیان اور انجام۔ فہم القرآن کا مطالعہ کرنے والے اصحاب یہ حقیقت بالیقین جانتے ہیں کہ قرآن مجید میں اکثر مقامات پر نیکی اور برائی کے درمیان فرق اور ان کے انجام کا بیک مقام پر ذکر کیا جاتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ قرآن مجید کی تلاوت کرنے والا موقع پر فیصلہ کرپائے کہ اس نے کون سے کام اختیار کرنے ہیں اور کس راستے پر چلنا ہے۔ اسی اصول کے پیش نظر یہاں بھی قرآن مجید نے ایک ہی مقام پر مثبت فکرو عمل اور اس کے مقابلے میں منفی فکر وعمل کا ذکر اور ان کا انجام بیان کیا ہے۔ چناچہ بتلایا ہے کہ جس نے بخل اختیار کیا اور اپنے رب کے خوف سے بےخوف ہوا اور اچھی بات کو جھٹلا یا اس کے لیے اس کا رب مشکل پیدا کرے گا، ایسا شخص تباہی کے گھاٹ اترے گا تو اس کا مال اسے کوئی فائدہ نہیں دے گا، یہاں دو ایسے گناہوں کا ذکر کیا گیا ہے جس کا مرتکب انسان سچائی کو جھٹلانے میں شرم محسوس نہیں کرتا، جب کسی انسان کے دل میں بخل بھر جائے تو بالیقین اس کا دل سخت ہوجاتا ہے۔ اسے کسی پر ترس نہیں آتا جسے کسی پر ترس نہ آئے اور اس کا دل سخت ہوجائے وہ اپنے رب کی ذات اور بات کی پرواہ نہیں کرتا اس کے سامنے سچ بات پیش کی جائے تو وہ زبان سے اقرار بھی کرتا ہے لیکن اس کا دل سچائی کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ اس کے لیے نیکی کے کام کرنا مشکل بنا دیتا ہے۔ جس وجہ سے وہ صدقہ کرنے کو بوجھ سمجھتا ہے اور نماز پڑھنا اس کی طبیعت پر گراں گزرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جب ایسے شخص کی گرفت کرتا ہے تو اس کا مال اس کے کچھ کام نہیں آتا، نہ صرف دنیا میں اس کا مال اس کے کام نہیں آتا بلکہ قیامت کے دن یہ مال اس کے لیے جہنم کا ایندھن بنا دیا جائے گا۔ الحسنٰی کا معنٰی مفسرین نے اللہ کی توحید اور دین کیا ہے جس نے اس سے منہ موڑ لیا وہ دنیا میں خوشحالی پانے کے باوجود دل کی تنگی اور پریشانیوں سے بےقرار رہے گا۔ ” اور جو میرے ذکر سے منہ موڑے گا اس کے لیے دنیا کی گزران تنگ ہوگی اور قیامت کے دن ہم اسے اندھا اٹھائیں گے۔ وہ کہے گا پروردگار میں دنیا میں دیکھتا تھا اب مجھے اندھا کیوں اٹھایا گیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اس لیے کہ جب ہماری آیات تیرے پاس آئیں تو نے انہیں بھلا دیا تھا۔ (طٰہٰ : ١٢٤ تا ١٢٦) (عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ (رض) أَنَّ النَّبِيَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ مَامِنْ یَوْمٍ یُّصْبِحُ الْعِبَادُ فِیْہِ إِلَّا مَلَکَانِ یَنْزِلَانِ فَیَقُوْلُ أَحَدُھُمَا اَللّٰھُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا وَیَقُوْلُ الْآخَرُ اللّٰھُمَّ أَعْطِ مُمْسِکًا تَلَفًا) (رواہ البخاری : باب قول اللّٰہِ تعالیٰ فأما من أعطی واتقی وصدق بالحسنیٰ ) ” حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر صبح دو فرشتے اترتے ہیں ان میں سے ایک آواز دیتا ہے اے اللہ ! خرچ کرنے والے کو اور عطا فرما، دوسرا آواز لگاتا ہے اے اللہ ! نہ خرچ کرنے والے کا مال ختم کردے۔ “ ” ابوذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں ایک رات نکلا اور دیکھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اکیلے جا رہے تھے آپ کے ساتھ کوئی نہیں تھا، میں نے سمجھا کہ آپ نے کسی کو اپنے ساتھ لے جانا پسند نہیں فرمایا۔ میں نے چاندنی رات میں آپ کے پیچھے پیچھے چلنا شروع کردیا۔ آپ نے موڑ کر دیکھا تو فرمایا : کون ہے ؟ میں نے کہا ابو ذر ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آؤ میرے ساتھ چلو ! میں تھوڑی دیر آپ کے ساتھ چلتا رہا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ دنیا میں زیادہ مال رکھنے والے قیامت کے دن کم مرتبے والے ہوں گے سوائے اس کے جس پر اللہ تعالیٰ نے اپنا فضل فرمایا۔ اس نے اپنے دائیں بائیں اور آگے پیچھے خرچ کیا۔ “ ( رواہ البخاری : باب الْمُکْثِرُونَ ہُمُ الْمُقِلُّونَ ) مسائل ١۔ جس نے بخل کیا اور نیکی سے لاپرواہی کی وہ مارا جائے گا۔ ٢۔ جس نے الحسنیٰ کی تکذیب کی اللہ تعالیٰ اس کے لیے تنگی پیدا کردے گا ایسے شخص کو اس کا مال کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ تفسیر بالقرآن بخل کرنے اور نیکی کی تکذیب کرنے والے کا انجام : ١۔ خزانے جمع کرنے والوں کو عذاب کی خوشخبری دیں۔ (التوبہ : ٣٤) ٢۔ بخیل اپنا مال ہمیشہ باقی نہیں رکھ سکتا۔ (ھمزہ : ٣) ٣۔ تباہی اس کے لیے جس نے مال جمع کیا اور گن گن کر رکھا۔ (الہمزہ : ١) ٤۔ بخیل کے مال کے ذریعے ہی اسے سزادی جائے گی۔ (التوبہ : ٣٥) ٥۔ بخیل لوگ مال کو اپنے لیے خیر خیال کرتے ہیں حالانکہ وہ ان کے لیے برا ہے۔ (آل عمران : ١٨٠)
واما من .................... اذاتردی (8:92 تا 11) ” اور جس نے بخل اختیار کیا اور اللہ سے بےنیازی اختیار کی اور بھلائی کو جھٹلایا ، اس کو ہم سخت راستے کی طرف سہولت دیں گے ، اور اس کا مال آخر اس کے کس کام آئے گا جبکہ وہ ہلاک ہوجائے “۔ وہ شخص جو اپنے نفس اور مال میں بخل اختیار کرتا ہے اور اللہ کریم سے بےنیازی اختیار کرتا ہے ، اور اس کی ہدایات سے غافل ہوتا ہے اور اللہ کے دین اور اس کی دعوت کی تکذیب کرتا ہے ، تو وہ اپنے نفس کو انتہائی شروفساد کے لئے تیار کرتا ہے ، اور پرلے درجے کے بگاڑ سے اس کو دوچار کرتا ہے ، تو وہ اس بات کے مستحق ہوتا ہے کہ اللہ اس کے لئے ہر چیز مشکل کردے اور اسے سخت راستوں کی سہولیات فراہم کی جائیں اور اسے توفیق دی جائے کہ وہ ہر قدم پر مشکلات سے دوچار ہو ، اس پر آسانیوں کا دروازہ بند کردیا جائے ، اور اسے قدم قدم پر مشکلات درپیش ہوں ، جو اسے راہ راست اور صراط مستقیم سے دور ہی لے جائیں۔ اور یہ شخص بدبختی کے راستے پر ہی آگے بڑھے۔ اگرچہ وہ بظاہر یہ محسوس کرے کہ وہ کامیابی کی راہ پر جارہا ہے۔ حالانکہ وہ تو ٹھوکر کھاتا جاتا ہے اور وہ اپنی ایک ٹھوکر سے بچنے کے لئے دوسری ٹھوکر کھاتا ہے ، جس کی وجہ سے وہ سیدھی راہ سے اور دور ہوجاتا ہے تاکہ وہ اللہ کی رضا سے محروم ہوجائے۔ اور جب وہ ٹھوکروں سے بھرے ہوئے اس منحرف راہ پر آگے بڑھتا ہے اور آخرکار ہلاکت کے گڑھے میں گرتا ہے تو اس وقت پھر اس کا مال اسے کوئی فائدہ نہیں دیتا ، حالانکہ یہ مال ہی تھا جس نے اسے اللہ سے بےنیاز کردیا تھا۔ اب یہ مفید نہیں ہے۔ وما یغنی ............................ تردی (11:92) ” اور اس کا مال اس کے کس کام آئے گا جبکہ وہ ہلاک ہوجائے “۔ کسی کو شر اور فساد کے لئے سہولیات فراہم کرنا اور اسے معصیت کی توفیق دینا دراصل اسے سخت کام اور سخت راستے کی طرف موڑنا ہے۔ اگرچہ ایسا شخص اس دنیا میں کامیاب نظر آئے۔ حقیقت یہ ہے کہ جہنم سے کوئی مشکل منزل اور مشکل جائے قیام نہیں ہے اور العسریٰ سے یہاں مراد جہنم ہی ہے۔ یوں اس سورت کا پہلا پیراگراف ختم ہوتا ہے اور اس میں تمام انسانی سوسائٹیوں کے لئے دوراستے ، دو طریقے اور دو نظام متعین کردیئے جاتے ہیں اور یہ دوراستے ہر زمان ومکان کے لئے ہیں۔ معلوم ہوا کہ دراصل یہ دوبادشاہ اور دو جھنڈے ہیں ، اگرچہ ان کی شکل اور رنگ مختلف ہوں۔ اور یہ کہ ہر انسان مختار ہے ، کہ اپنے لئے جو راستہ چاہے اختیار کرے اور جو طریقہ چاہے اپنائے۔ اللہ ہر کسی کو وہی سہولت دیتا ہے جو وہ چاہتا ہے ، یا سہولت کا راستہ اور یا سختی کا راستہ۔ رہا اگلا پیراگراف تو اس میں ان دونوں فریقوں میں سے ہر ایک کا انجام بنایا گیا ہے۔ یہ دکھایا گیا کہ وہ شخص دوڑتے بھاگتے کہاں تک پہنچ جائے گا۔ جس کو آسان راستوں کی سہولت دی گئی اور اس کی گاڑی کہاں جاکر رکے گی جس کو سخت راستوں پر چلایا گیا اور اس پیراگراف میں بتایا جاتا ہے کہ جس فریق کا جو انجام ہوگا وہ حق ہوگا اور نہایت منصفانہ ہوگا اور ایسا ہی ہوتا ہے اور یقینا ہوتا ہے۔ کیونکہ الہل نے لوگوں کو صحیح راستہ بھی بتلایا اور اگر وہ برے راستوں پر چلیں تو ان کو دہکتی ہوئی آگ سے بھی ڈرایا۔
4:۔ ” واما من بخل “ یہ سعی عمل کا دوسرا رخ ہے جو شخص بخل کرے اور راہ حق میں مال خرچ نہ کرے اور اللہ تعالیٰ کے عذاب وثواب سے مستغنی ہوجائے اور ملت اسلام کو جھٹلائے اس کے لیے ہم تنگی اور شدت کے اسباب آسان کردیں گے اور اس کی سعی عمل کا نتیجہ جہنم کا دردناک عذاب ہوگا۔ ” وما یغنی عنہ مالہ اذا تردی “ وہ مال کو جمع کرتا رہا لیکن راہ حق میں اس کو خرچ نہ کیا تو جب وہ ہلاکت کے گڑھے (جہنم) میں گرے گا اس وقت یہ دولت کام نہ آئے گی کیونکہ اس وقت اس کے ہاتھ خالی ہوں گے۔