TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 2235 سنن ابوداؤد

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 1 in this chapter
Whole chapter
Previous Hadith Next Hadith
CHAPTER: Who So Said That He Was A Free Man.
باب: بریرہ کا شوہر آزاد تھا اس کے قائلین کی دلیل ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ كَثِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَسْوَدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏ أَنَّ زَوْجَ بَرِيرَةَ كَانَ حُرًّا حِينَ أُعْتِقَتْ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَّهَا خُيِّرَتْ ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ مَا أُحِبُّ أَنْ أَكُونَ مَعَهُ وَأَنَّ لِي كَذَا وَكَذَا.
Aishah said “Barirah’s husband was a free man when she was emancipated. She was given choice. She said “I do not like to remain with him. I have such and such (grievances)”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جس وقت بریرہ رضی اللہ عنہا آزاد ہوئی اس وقت اس کا شوہر آزاد ۱؎ تھا، اسے اختیار دیا گیا، تو اس نے کہا کہ اگر مجھے اتنا اتنا مال بھی مل جائے تب بھی میں اس کے ساتھ رہنا پسند نہ کروں گی۔
2235
Zaeef
Bookmark
Status: Zaeef
:حکم حدیث ضعیف
Reference
حوالہ حکم
Reference : Sunan Abi Dawud 2235 In-book reference : Book 13, Hadith 61 English translation : Book 12, Hadith 2227
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ۱۵۹۹۷) (صحیح)
Explanation
شرح و تفصیل
وضاحت: ۱؎ : صحیح یہ ہے کہ وہ اس وقت غلام تھے جیسا کہ متعدد صحیح روایتیں اوپر گزریں۔

Related Chapters

222
1
Chapter: What has been related about a slave woman who is freed but she has a husband
باب: عورت جو آزاد کر دی جائے اور وہ شوہر والی ہو
Jam e Tirmazi
2
موزوں پر مسح کی مدت کے عدم تعین کے قائلین کی دلیل کا بیان
Musnad Ahmad
3
(۶)مفصل سورتوں میں سجدۂ تلاوت کی مشروعیت کے قائلین کی دلیل کا بیان
Musnad Ahmad
4
نقد و نقد سودا ہونے کی صورت میں ایک جنس میں تفاضل کے جواز کے قائلین کی دلیل
Musnad Ahmad
5
(77) CHAPTER. Sadaqat-ul-Fitr (is compulsory) on a slave as well as on a free Muslim.
صدقہ فطر آزاد اور غلام پر واجب ہونا
Sahih Bukhari
6
(106) CHAPTER. The sin of a person who sells a free man (knowingly and intentionally).
آزاد شخص کو بیچنا کیسا گناہ ہے ؟
Sahih Bukhari
7
(5) CHAPTER. Whoever manumits his portion of a common slave and does not possess enough money to manumit him completely, then that slave should be helped to work without hardship to earn what will enable him to get complete freedom according to the writing (of emancipation)
اگر کسی شخص نے ساجھے کے غلام میں اپنا حصہ آزاد کر دیا اور وہ نادار ہے تو دوسرے ساجھے والوں کے لیے اس سے محنت مزدوری کرائی جائے گی جیسے مکاتب سے کراتے ہیں ، اس پر سختی نہیں کی جائے گی ۔
Sahih Bukhari
8
(5) CHAPTER. If a Mukatab slave asks somebody to buy and free him, it is permissible for that person to buy him.
اگر مکاتب کسی شخص سے کہے مجھ کو خرید کر آزاد کر دو اور وہ اسی غرض سے اسے خریدلے
Sahih Bukhari
9
(10) CHAPTER. The conditions permissible in the case of a slave who has a writing for emancipation, if he agrees to be sold to somebody else who promises to free him.
اگر مکاتب اپنی بیع پر اس لیے راضی ہو جائے کہ اسے آزاد کر دیا جائے گا تو اس کے ساتھ جو شرائط جائز ہو سکتی ہیں ، ان کا بیان
Sahih Bukhari
10
(171) CHAPTER. The freeing of a captive.
( مسلمان ) قیدیوں کو آزاد کرانا
Sahih Bukhari
11
(14) CHAPTER. The son of some peopIe's sister is considered as belonging to the same people; and the freed slave of some people belongs to those people (who have freed him).
کسی قوم کا بھانجا یا آزاد کیا ہوا غلام بھی اسی قوم میں داخل ہوتا ہے ۔
Sahih Bukhari
12
(19) CHAPTER. (About) a free lady as the wife of a slave.
آزاد عورت کا غلام مرد کے نکاح میں ہونا جائز ہے ۔
Sahih Bukhari
13
(16) CHAPTER. The intercession of the Prophet for Barira's husband.
بریرہ رضیاللہعنہا کے شوہر کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سفارش کرنا ۔
Sahih Bukhari
14
(16) CHAPTER. Freed female slaves or any other women can be wet nurses.
آزاد اور لونڈی دونوں انا ہو سکتی ہیں یعنی دودھ پلا سکتی ہیں ۔
Sahih Bukhari
15
(20) CHAPTER. The heir of the Saiba (a slave whose master frees him and tells him that nobody will be entitled to get his Wala).
سائبہ وہ غلام یا لونڈی جس کو مالک آزاد کر دے اور کہہ دے کہ تیری ولاء کا حق کسی کو نہ ملے گا کی وراثت کا بیان
Sahih Bukhari
16
(24) CHAPTER. The freed slave belongs to the people who have freed him. And the son of the sister of some people is one of them (belongs to those people).
جو شخص کسی قوم کا غلام ہو آزاد کیا گیا وہ اسی قوم میں شمار ہو گا ۔ اسی طرح کسی قوم کا بھانجا بھی اسی قوم میں داخل ہوگا
Sahih Bukhari
17
Chapter: It is permissible to have intercourse with a female captive after it is established that she is not pregnant, and if she has a husband, then her marriage is annulled when she is captured
استبرائے رحم کے بعد جنگ میں قید ہونے والی لونڈی کے ساتھ مجامعت کرنا جائز ہے اور اگر اس کا شوہر تھا تز غلامی کی وجہ سے اس کا نکاح فسخ ہو گیا
Sahih Muslim
18
Chapter: One who frees his share in a slave
جس شخص نے ایک (مشتر کہ )غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کر دیا
Sahih Muslim
19
CHAPTER: Whoever Said That A Donkey Does Not Nullify The Prayer.
باب: نمازی کے آگے سے گدھا کے گزرنے سے نماز نہیں ٹوٹتی اس کے قائلین کی دلیل کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
20
CHAPTER: Whoever Said That A Dog Does Not Nullify The Prayer.
باب: نمازی کے آگے سے کتوں کے گزرنے سے نماز نہیں ٹوٹتی اس کے قائلین کی دلیل کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
21
CHAPTER: Whoever Said That Nothing Nullifes The Prayer.
باب: نمازی کے آگے کسی بھی چیز کے گزرنے سے نماز نہیں ٹوٹتی اس کے قائلین کی دلیل کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
22
CHAPTER: Those Who Recited It Out Loud.
باب: «بسم الله الرحمن الرحيم» زور سے پڑھنے کے قائلین کی دلیل کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
23
CHAPTER: Those Who Held That One Should Recite (Al-Fatihah) In Other Than The Aloud Prayers.
باب: امام زور سے قرآت نہ کرے تو مقتدی قرآت کرے اس کے قائلین کی دلیل
Sunnan Abu Dawood
24
CHAPTER: Whoever Said The Doubt Should Be Ignored When One Is Confused Regarding (Whether He Has Prayed) Two Or Three Rak’ah.
باب: جب دو یا تین رکعت میں شک ہو جائے تو شک کو دور کرے ( اور کم کو اختیار کرے ) اس کے قائلین کی دلیل کا ذکر ۔
Sunnan Abu Dawood
25
CHAPTER: Those Who Said He Should Complete (The Prayers) Based Upon His Strongest Judgement.
باب: غالب گمان کے مطابق رکعات پوری کرے اس کے قائلین کی دلیل کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
26
CHAPTER: Those Who Said (The Prostrations Should Be) After The Taslim.
باب: سلام پھیرنے کے بعد سجدہ سہو کے قائلین کی دلیل کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
27
CHAPTER: Whoever Said That It Should Be Prayed With Four Rak’ahs.
باب: نماز کسوف میں چار رکوع کے قائلین کی دلیل کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
28
CHAPTER: Freeing Slaves During An Eclipse.
باب: گرہن لگنے پر غلام آزاد کرنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
29
CHAPTER: Whoever Said That Only Two Ruku’ Should Be Performed (In Eclipse Prayer).
باب: نماز کسوف کی ہر رکعت میں ایک ایک رکوع ہے اس کے قائلین کی دلیل ۔
Sunnan Abu Dawood
30
CHAPTER: Regarding Whoever Said That It Is The Twenty First Night.
باب: شب قدر اکیسویں رات میں ہے اس کے قائلین کی دلیل کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
31
CHAPTER: Whoever Said It Was The Twenty-Seventh Night.
باب: شب قدر ستائیسویں رات میں ہے اس کے قائلین کی دلیل کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
32
CHAPTER: Whoever Said It Was Throughout Ramadan.
باب: شب قدر سارے رمضان میں ہے اس کے قائلین کی دلیل کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
33
CHAPTER: A View That There Is No Prostration In Mufassal Surahs.
باب: مفصل میں سجدہ نہ ہونے کے قائلین کی دلیل کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
34
CHAPTER: A View That There Is Prostration In Mufassal Surahs.
باب: سورۃ والنجم میں سجدہ ہے اس کے قائلین کی دلیل کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
35
CHAPTER: The View That Half A Sa’ Of Wheat Is To Be Given As Sadaqah.
باب: گیہوں میں آدھا صاع صدقہ فطر دینے کے قائلین کی دلیل کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
36
CHAPTER: Whoever Said That A Sermon Is Delivered On The Day Of Sacrifice.
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم النحر کو خطبہ دیا اس قائلین کی دلیل کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
37
CHAPTER: A Man Frees His Slave And Then Marries Her.
باب: اپنی لونڈی کو آزاد کر کے اس سے شادی کرنے کے ثواب کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
38
CHAPTER: Regarding A Slave Woman Who Was Married To Slave A Or Free Man And Then Freed.
باب: آزاد یا غلام کے نکاح میں موجود لونڈی کی آزادی کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
39
CHAPTER: If Two Slaves Are Set Free Together, Does The Wife Have The Option?
باب: جب میاں بیوی دونوں ایک ساتھ آزاد ہوں تو کیا بیوی کو اختیار حاصل ہو گا ؟
Sunnan Abu Dawood
40
CHAPTER: The Preference To Break The Fast (While On A Journey).
باب: سفر میں روزہ نہ رکھنا بہتر ہے اس کے قائلین کی دلیل ۔
Sunnan Abu Dawood
41
CHAPTER: Whoever Preferred To Fast (While On A Journey).
باب: سفر میں روزہ رکھنا افضل ہے اس کے قائلین کی دلیل
Sunnan Abu Dawood
42
CHAPTER: Regarding Whoever Said That The Khumus Is Before The Nafl.
باب: مال غنیمت میں سے نفل ( انعام ) دینے سے پہلے خمس ( پانچویں حصہ ) نکالا جائے اس کے قائلین کی دلیل کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
43
CHAPTER: Freeing A Believing Slave (As Expiation).
باب: مسلمان لونڈی کو ( کفارہ میں ) آزاد کرنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
44
CHAPTER: Whoever Mentioned Working In Order To Pay Off The Remaining Portion, In This Hadith.
باب: جس شخص کے نزدیک آزاد کرنے والا مفلس ہو تو غلام سے محنت کرائی جائے اس کی دلیل کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
45
CHAPTER: Whoever Reported That Skins Of Dead Animals Cannot Be Used.
باب: مردار کی کھال کا استعمال ممنوع ہے اس کے قائلین کی دلیل ۔
Sunnan Abu Dawood
46
CHAPTER: The view that Prophet’s name and kunyah should not be combined in one person’s name.
باب: محمد نام اور ابوالقاسم کنیت ایک ساتھ نہ رکھے اس کے قائلین کی دلیل ۔
Sunnan Abu Dawood
47
سود صرف ادھار میں ہے کے قائلین کی دلیل
Sunnan Ibn e Maja
48
مردار کی کھال اور پٹھے سے فائدہ نہ اٹھانے کے قائلین کی دلیل کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
49
Chapter: What Has Been Related About A Woman Spending From Her Husband's House
باب: عورت اپنے شوہر کے گھر سے خرچ کرے تو کیسا ہے؟
Jam e Tirmazi
50
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked For A Woman To Fast Except With The Permission Of Her Husband
باب: شوہر کی اجازت کے بغیر عورت کے نفل روزہ رکھنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

1,960
Jam e Tirmazi
1256
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَاشْتَرَطُوا الْوَلَاءَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ اشْتَرِيهَا فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْطَى الثَّمَنَ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ لِمَنْ وَلِيَ النِّعْمَةَ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَمَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ يُكْنَى:‏‏‏‏ أَبَا عَتَّابٍ. حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْعَطَّارُ الْبَصْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ الْمَدِينِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ إِذَا حُدِّثْتَ عَنْ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَدْ مَلَأْتَ يَدَكَ مِنَ الْخَيْرِ لَا تُرِدْ غَيْرَهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمّ قَالَ يَحْيَى:‏‏‏‏ مَا أَجِدُ فِي إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَمُجَاهِدٍ، ‏‏‏‏‏‏أَثْبَتَ مِنْ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ مُحَمَّدٌ:‏‏‏‏ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ مَنْصُورٌ، ‏‏‏‏‏‏أَثْبَتُ أَهْلِ الْكُوفَةِ.
Narrated Al-Aswad: From 'Aishah that she wanted to purchase Barirah, but they (he owners) made the condition that they would retain the Wala'. So the Prophet (ﷺ) said: Buy her, the Wala' is only for the one who gives the price, or for the one who grants the favor. [He said:] There is something on this topic from Ibn 'Umar. [Abu 'Eisa said:] The Hadith of 'Aishah is a Hasan Sahih Hadith. This is acted upon according to the people of knowledge. And Mansur bin Al-Mu'tamir's Kunyah is Abu 'Attab. Abu Bakr Al-'Attar Al-Basri narrated to us from 'Ali bin Al-Madini who said: I heard Yahya bin Sa'eed saying: 'When you get a narration from Mansur, then your hand has been filled with goodness without needing others.' Then Yahya said: 'I did not find anyone more reliable in (narrating from) Ibrahim An-Nakha'i and Mujahid than Mansur. [He said:] Muhammad informed me from 'Abdullah bin Abi Al-Aswad who said: 'Abdur-Rahman bin Mahdi said: 'Mansur is the most reliable of the people of Al-Kufah.'
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے بریرہ ( لونڈی ) کو خریدنا چاہا، تو بریرہ کے مالکوں نے ولاء ۱؎ کی شرط لگائی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ سے فرمایا: ”تم اسے خرید لو، ( اور آزاد کر دو ) اس لیے کہ ولاء تو اسی کا ہو گا جو قیمت ادا کرے، یا جو نعمت ( آزاد کرنے ) کا مالک ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی حدیث مروی ہے، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
Jam e Tirmazi
2125
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ فَاشْتَرَطُوا الْوَلَاءَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْطَى الثَّمَنَ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ لِمَنْ وَلِيَ النِّعْمَةَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ.
Aishah narrated that she wanted to buy Barrirah but (her owners) stipulated that they should have her Wala', so the Prophet (s.a.w) said: The Wala' is for the one who gives the price, or for the one who grants the favor. [Abu 'Eisa said:] There are narrations on this topic from Ibn 'Umar and Abu Hurairah. This Hadith is Hasan Sahih, and this is acted upon according to the people of knowledge.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے بریرہ کو خریدنے ( اور آزاد کرنے ) کا ارادہ کیا تو بریرہ کے گھر والوں نے ولاء ( میراث ) کی شرط رکھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولاء ( میراث ) کا حق اسی کو حاصل ہے جو قیمت ادا کرے یا آزاد کرنے کی نعمت کا مالک ہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
Sunnan Nisai
2791
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَسْوَدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَمًا ثُمَّ لَا يُحْرِمُ .
It was narrated that Aishah said: I used to twist the garlands of sacrificial sheep of the Messenger of Allah. Then he did not enter a state of Ihram.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کی بکریوں کے قلادے ( ہار ) بٹا کرتی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم احرام نہیں باندھتے تھے ( یعنی حلال رہتے تھے ) ۔
Sunnan Nisai
5629
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَنْصُورٍ،‏‏‏‏ وَحَمَّادٌ،‏‏‏‏ وَسُلَيْمَانُ،‏‏‏‏ عَنْ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْأَسْوَدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُزَفَّتِ .
It was narrated that 'Aishah said: The Messenger of Allah [SAW] forbade Ad-Dubba' (gourds) and Al-Muzaffat.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کی تونبی اور روغنی برتن سے منع فرمایا ہے۔
Jam e Tirmazi
116
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ:‏‏‏‏ ضَافَ عَائِشَةَ ضَيْفٌ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَرَتْ لَهُ بِمِلْحَفَةٍ صَفْرَاءَ، ‏‏‏‏‏‏فَنَامَ فِيهَا فَاحْتَلَمَ، ‏‏‏‏‏‏فَاسْتَحْيَا أَنْ يُرْسِلَ بِهَا وَبِهَا أَثَرُ الِاحْتِلَامِ، ‏‏‏‏‏‏فَغَمَسَهَا فِي الْمَاءِ ثُمَّ أَرْسَلَ بِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ عَائِشَةُ:‏‏‏‏ لِمَ أَفْسَدَ عَلَيْنَا ثَوْبَنَا إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيهِ أَنْ يَفْرُكَهُ بِأَصَابِعِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَرُبَّمَا فَرَكْتُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَصَابِعِي . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنَ الْفُقَهَاءِ، ‏‏‏‏‏‏مِثْلِ:‏‏‏‏ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّافِعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا فِي الْمَنِيِّ يُصِيبُ الثَّوْبَ:‏‏‏‏ يُجْزِئُهُ الْفَرْكُ وَإِنْ لَمْ يُغْسَلْ، ‏‏‏‏‏‏وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏مِثْلَ رِوَايَةِ الْأَعْمَشِ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى أَبُو مَعْشَرٍ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَسْوَدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَحَدِيثُ الْأَعْمَشِ أَصَحُّ.
Hammam bin AI-Harith narrated: Aishah had a guest to whom she lent a yellow wrap for him to sleep in. He had a wet dream, and was too embarrassed to send it to her while the traces of the wet dream were present on it. So he submerged it (washing it) in water, then he sent it to her. Aishah said, Why did he ruin our garment? It would have been sufficient for him to scrape it off with his fingers. Sometimes I would scrape it off of the garment of Allah's Messenger with my fingers.
ہمام بن حارث کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کے یہاں ایک مہمان آیا تو انہوں نے اسے ( اوڑھنے کے لیے ) اسے ایک زرد چادر دینے کا حکم دیا۔ وہ اس میں سویا تو اسے احتلام ہو گیا، ایسے ہی بھیجنے میں کہ اس میں احتلام کا اثر ہے اسے شرم محسوس ہوئی، چنانچہ اس نے اسے پانی سے دھو کر بھیجا، تو عائشہ رضی الله عنہا نے کہا: اس نے ہمارا کپڑا کیوں خراب کر دیا؟ اسے اپنی انگلیوں سے کھرچ دیتا، بس اتنا کافی تھا، بسا اوقات میں اپنی انگلیوں سے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے کپڑے سے اسے کھرچ دیتی تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- صحابہ کرام، تابعین اور ان کے بعد کے فقہاء میں سے سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے کہ کپڑے پر منی ۱؎ لگ جائے تو اسے کھرچ دینا کافی ہے، گرچہ دھویا نہ جائے۔
Jam e Tirmazi
155
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:‏‏‏‏ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَشَدَّ تَعْجِيلًا لِلظُّهْرِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا مِنْ أَبِي بَكْرٍ،‏‏‏‏ وَلَا مِنْ عُمَرَ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ وَخَبَّابٍ،‏‏‏‏ وَأَبِي بَرْزَةَ،‏‏‏‏ وَابْنِ مَسْعُودٍ،‏‏‏‏ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ،‏‏‏‏ وَأَنَسٍ،‏‏‏‏ وَجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عَائِشَةَ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ الَّذِي اخْتَارَهُ أَهْلُ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ:‏‏‏‏ قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ:‏‏‏‏ وَقَدْ تَكَلَّمَ شُعْبَةُ فِي حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ مِنْ أَجْلِ حَدِيثِهِ الَّذِي رَوَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ سَأَلَ النَّاسَ وَلَهُ مَا يُغْنِيهِ ،‏‏‏‏ قَالَ يَحْيَى:‏‏‏‏ وَرَوَى لَهُ سُفْيَانُ،‏‏‏‏ وَزَائِدَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَرَ يَحْيَى بِحَدِيثِهِ بَأْسًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ مُحَمَّدٌ:‏‏‏‏ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَعْجِيلِ الظُّهْرِ.
Aishah narrated: I have not seen anyone who hastened Zuhr more than Allah's Messenger nor Abu Bakr, nor Umar.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ظہر کو رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے بڑھ کر جلدی کرنے والا میں نے کسی کو نہیں دیکھا، اور نہ ابوبکر اور عمر رضی الله عنہما سے بڑھ کر جلدی کرنے والا کسی کو دیکھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں جابر بن عبداللہ، خباب، ابوبرزہ، ابن مسعود، زید بن ثابت، انس اور جابر بن سمرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں اور عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن ہے، ۲- اور اسی کو صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں اہل علم نے اختیار کیا ہے۔
Jam e Tirmazi
756
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:‏‏‏‏ مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَائِمًا فِي الْعَشْرِ قَطُّ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ الْأَعْمَشِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَسْوَدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى الثَّوْرِيُّ وَغَيْرُهُ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُرَ صَائِمًا فِي الْعَشْرِ . وَرَوَى أَبُو الْأَحْوَصِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ الْأَسْوَدِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدِ اخْتَلَفُوا عَلَى مَنْصُورٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏وَرِوَايَةُ الْأَعْمَشِ أَصَحُّ وَأَوْصَلُ إِسْنَادًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وسَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ أَبَانَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ وَكِيعًا، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ الْأَعْمَشُ أَحْفَظُ لِإِسْنَادِ إِبْرَاهِيمَ مِنْ مَنْصُورٍ.
Aishah narrated: I did not see the Prophet fasting at all during the ten.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ذی الحجہ کے دس دنوں میں روزے رکھتے کبھی نہیں دیکھا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اسی طرح کئی دوسرے لوگوں نے بھی بطریق «الأعمش عن إبراهيم عن الأسود عن عائشة» روایت کی ہے، ۲- اور ثوری وغیرہ نے یہ حدیث بطریق «منصور عن ابراہیم النخعی» یوں روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ذی الحجہ کے دس دنوں میں روزہ رکھتے نہیں دیکھا گیا، ۳- اور ابوالا ٔحوص نے بطریق «منصور عن ابراہیم النخعی عن عائشہ» روایت کی اس میں انہوں نے اسود کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے، ۴- اور لوگوں نے اس حدیث میں منصور پر اختلاف کیا ہے۔ اور اعمش کی روایت زیادہ صحیح ہے اور سند کے اعتبار سے سب سے زیادہ متصل ہے، ۵- اعمش ابراہیم نخعی کی سند کے منصور سے زیادہ یاد رکھنے والے۔
Jam e Tirmazi
909
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:‏‏‏‏ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّهَا غَنَمًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ لَا يُحْرِمُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ يَرَوْنَ تَقْلِيدَ الْغَنَمِ.
Aishah narrated: I twisted the garlands for all of the Hadi of the Messenger of Allah, which were sheep, then he did not assume Ihram.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کی بکریوں کے سارے قلادے ( پٹے ) میں ہی بٹتی تھی ۱؎ پھر آپ احرام نہ باندھتے ( حلال ہی رہتے تھے ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- صحابہ کرام وغیرہ میں سے بعض اہل علم کے نزدیک اسی پر عمل ہے، وہ بکریوں کے قلادہ پہنانے کے قائل ہیں۔
Jam e Tirmazi
1155
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:‏‏‏‏ كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ حُرًّا، ‏‏‏‏‏‏فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ هَكَذَا، ‏‏‏‏‏‏رَوَى هِشَامٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ عَبْدًا ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى عِكْرِمَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ رَأَيْتُ زَوْجَ بَرِيرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ عَبْدًا، ‏‏‏‏‏‏يُقَالُ لَهُ:‏‏‏‏ مُغِيثٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالُوا:‏‏‏‏ إِذَا كَانَتِ الْأَمَةُ تَحْتَ الْحُرِّ، ‏‏‏‏‏‏فَأُعْتِقَتْ فَلَا خِيَارَ لَهَا، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّمَا يَكُونُ لَهَا الْخِيَارُ إِذَا أُعْتِقَتْ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَتْ تَحْتَ عَبْدٍ وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ الشَّافِعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى الْأَعْمَشُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَسْوَدِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ حُرًّا، ‏‏‏‏‏‏فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَوَى أَبُو عَوَانَةَ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ فِي قِصَّةِ بَرِيرَةَ. قَالَ الْأَسْوَدُ:‏‏‏‏ وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنَ التَّابِعِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ بَعْدَهُمْ وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَهْلِ الْكُوفَةِ.
Aishah narrated: “Barfah’s husband was a free man, so the Messenger of Allah let her choose.”
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ بریرہ کے شوہر آزاد تھے، پھر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اختیار دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسی طرح ہشام نے اپنے والد عروہ سے اور عروہ نے عائشہ رضی الله عنہا سے روایت کی ہے، وہ کہتی ہیں کہ بریرہ کا شوہر غلام تھا، ۳- عکرمہ سے روایت ہے کہ ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: میں نے بریرہ کے شوہر کو دیکھا ہے، وہ غلام تھے اور انہیں مغیث کہا جاتا تھا، ۴- اسی طرح کی ابن عمر رضی الله عنہما سے روایت کی گئی ہے، ۵- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ جب لونڈی آزاد مرد کے نکاح میں ہو اور وہ آزاد کر دی جائے تو اسے اختیار نہیں ہو گا۔ اسے اختیار صرف اس صورت میں ہو گا، جب وہ آزاد کی جائے اور وہ کسی غلام کی زوجیت میں ہو۔ یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، ۶- لیکن اعمش نے بطریق: «إبراهيم عن الأسود عن عائشة» روایت کی ہے کہ بریرہ کے شوہر آزاد تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اختیار دیا۔ اور ابو عوانہ نے بھی اس حدیث کو بطریق: «الأعمش عن إبراهيم عن الأسود عن عائشة» بریرہ کے قصہ کے سلسلہ میں روایت کیا ہے، اسود کہتے ہیں: بریرہ کے شوہر آزاد تھے، ۷- تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ اور یہی سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا بھی قول ہے ۱؎۔