حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: أَفْطَرْنَا يَوْمًا فِي رَمَضَانَ فِي غَيْمٍ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ طَلَعَتِ الشَّمْسُ، قَالَ أَبُو أُسَامَةَ: قُلْتُ لِهِشَامٍ: أُمِرُوا بِالْقَضَاءِ ؟ قَالَ: وَبُدٌّ مِنْ ذَلِكَ .
Narrated Asma daughter of Abu Bakr: We broke the fast one during Ramadan when it was cloudy in the lifetime of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم ; then the sun rose. Abu Usamah said: I said to Hisham: Were they commanded to atone for it ? He replied: That was inevitable.
اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ماہ رمضان میں ایک دن ہم نے بدلی میں روزہ کھول لیا اس کے بعد سورج نمودار ہو گیا۔ راوی ابواسامہ کہتے ہیں کہ میں نے ہشام بن عروہ سے سوال کیا کہ پھر تو لوگوں کو روزے کی قضاء کا حکم دیا گیا ہو گا؟ کہنے لگے: کیا اس کے بغیر بھی چارہ ہے؟ ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصوم ۴۶ (۱۹۵۹)، سنن ابن ماجہ/الصیام ۱۵ (۱۶۷۴)، (تحفة الأشراف: ۱۵۷۴۹)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۶/۳۴۶) (صحیح)
2359
Sahih