حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سُئِلَ أَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَكْمَلُ إِيمَانًا، قَالَ: رَجُلٌ يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ، وَرَجُلٌ يَعْبُدُ اللَّهَ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ قَدْ كُفِيَ النَّاسُ شَرَّهُ .
Abu Saeed (Al Khudri) reported The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم was asked “Which believers are most perfect in respect of faith? He replied “A man who strives in the path of Allaah with his life and property and a man who worships Allaah in a mountain valley where he protects the people from his evil. ””
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سا مومن سب سے زیادہ کامل ایمان والا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص جو اللہ کے راستے میں اپنی جان اور مال سے جہاد کرے، نیز وہ شخص جو کسی پہاڑ کی گھاٹی ۱؎ میں اللہ کی عبادت کرتا ہو، اور لوگ اس کے شر سے محفوظ ہوں ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجھاد ۲ (۲۷۸۶)، والرقاق ۳۴ (۶۴۹۴)، صحیح مسلم/الإمارة ۳۴ (۱۸۸۸)، سنن الترمذی/فضائل الجھاد ۲۴ (۱۶۶۰)، سنن النسائی/الجھاد ۷ (۳۱۰۷)، سنن ابن ماجہ/الفتن ۱۳ (۳۹۷۸)، (تحفة الأشراف: ۴۱۵۱)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۱۶، ۳۷، ۵۶، ۸۸)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : یہ شرط نہیں ہے، اسے بطور مثال ذکر کیا گیا ہے کیونکہ عموماً گھاٹیوں میں تنہائی ہوتی ہے، اس سے گوشہ نشینی کی فضیلت ثابت ہوتی ہے کیونکہ آدمی بے کار باتوں اور لغو چیزوں سے محفوظ رہتا ہے لیکن یہ فتنہ کے زمانہ کے ساتھ خاص ہے، اور فتنہ نہ ہونے کی صورت میں جمہور کے نزدیک عام لوگوں سے اختلاط اور میل جول ہی زیادہ بہتر ہے۔
2485
Sahih