CHAPTER: What Is Allowed Regarding Age For The Udhiyyah (Sacrifice). - باب: کس عمر کے جانور کی قربانی جائز ہے ؟ - Sacrifice (kitab al-dahaya) - Sunnan Abu Dawood with Urdu and English Translation
Chapter 5 of Sacrifice (kitab al-dahaya) in Sunnan Abu Dawood. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
Narrated Jabir: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم as saying: Sacrifice only a full-grown animal unless it is difficult for you, in which case sacrifice a lamb.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صرف مسنہ ۱؎ ہی ذبح کرو، مسنہ نہ پاؤ تو بھیڑ کا جذعہ ذبح کرو ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الأضاحي ۲ (۱۹۶۲)، سنن النسائی/الضحایا ۱۲ (۴۳۸۳)، سنن ابن ماجہ/الأضاحي ۷ (۳۱۴۱)، (تحفة الأشراف: ۲۷۱۵)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۳۱۲، ۳۲۷)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : مسنہ وہ جانور جس کے دودھ کے دانت ٹوٹ چکے ہوں ، یہ اونٹ میں عموماً اس وقت ہوتا ہے جب وہ پانچ برس پورے کر کے چھٹے میں داخل ہو گیا ہو، گائے بیل اور بھینس جب وہ دو برس پورے کرکے تیسرے میں داخل ہو جائیں، بکری اور بھیڑ میں جب ایک برس پورا کرکے دوسرے میں داخل ہو جائیں، جذعہ اس دنبہ یا بھیڑ کو کہتے ہیں جو سال بھر کا ہو چکا ہو، اہل لغت اور شارحین میں محققین کا یہی قول صحیح ہے، (دیکھئے مرعاۃ شرح مشکاۃ)
Narrated Zayd ibn Khalid al-Juhani: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم distributed sacrificial animals among his Companions. He gave me a kid (of less than a year). I took it to him and said: This is a kid. He said: Sacrifice it. so I sacrificed it.
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام میں قربانی کے جانور تقسیم کئے تو مجھ کو ایک بکری کا بچہ جو جذع تھا ( یعنی دوسرے سال میں داخل ہو چکا تھا ) دیا، میں اس کو لوٹا کر آپ کے پاس لایا اور میں نے کہا کہ یہ جذع ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی قربانی کر ڈالو ، تو میں نے اسی کی قربانی کر ڈالی۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ۳۷۵۱)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوکالة ۱ (۲۳۰۰)، والشرکة ۱۲ (۲۵۰۰)، والأضاحي ۲، (۵۵۴۷) ۷ (۵۵۵۵)، صحیح مسلم/الأضاحي ۲ (۱۹۶۵)، سنن الترمذی/الأضاحي ۷ (۱۵۰۰)، سنن النسائی/الضحایا ۱۲ (۴۳۸۴)، سنن ابن ماجہ/الأضاحي ۷ (۳۱۳۸)، مسند احمد (۴/۱۴۹، ۱۵۲، ۵/۱۹۴)، سنن الدارمی/الأضاحي ۴ (۱۹۹۶)، کلھم عن عقبة بن عامر رضي اللہ عنہ
Narrated Asim bin Kulaib: On the authority of his father: We were with a man from the Companions of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم called Mujashi' who belonged to Banu Sulaim. There was a scarcity if goats (in those days). He commanded a man to announce (among the people); so he announced that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم used to say: A lamb may be given as full payent for that for which has full-grown animal is payment. Abu Dawud said: His name is Mujashi' bin Masud.
کلیب کہتے ہیں کہ ہم مجاشع نامی بنی سلیم کے ایک صحابی رسول کے ساتھ تھے اس وقت بکریاں مہنگی ہو گئیں تو انہوں نے منادی کو حکم دیا کہ وہ اعلان کر دے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فر ماتے تھے: جذع ( ایک سالہ ) اس چیز سے کفایت کرتا ہے جس سے «ثنی» ( وہ جانور جس کے سامنے کے دانت گر گئے ہوں ) کفایت کرتا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مجاشع بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن النسائی/الضحایا ۱۲(۴۳۸۹)، سنن ابن ماجہ/الأضاحي ۷ (۳۱۴۰)، (تحفة الأشراف: ۱۱۲۱۱)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۵/۳۶۸)
Narrated Al-Bara bin Azib: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم delivered a sermon to us on the day of sacrifice after the prayer. He said: If anyone prays like our prayer, and sacrifices like our sacrifice, his sacrifice is all right. If anyone sacrifices before the prayer (forEid), that is goat meant for flesh. Abu Burdah bin Niyar stood up and said: Messenger of Allah, I swear by Allah, I sacrificed before I went for prayer. I thought it was the day of eating and drinking; so I made haste, and ate myself, and supplied flesh to my family and neighbors. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: That is a goat meant for eating flesh. He said: I have a kid (of less than a year) which is better than two goats meant for flesh. Will it be valid from me ? He said: Yes, but it will not be valid for anyone after you.
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دسویں ذی الحجہ کو نماز عید کے بعد ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: جس نے ہماری نماز کی طرح نماز پڑھی، اور ہماری قربانی کی طرح قربانی کی، تو اس نے قربانی کی ( یعنی اس کو قربانی کا ثواب ملا ) اور جس نے نماز عید سے پہلے قربانی کر لی تو وہ گوشت کی بکری ۱؎ ہو گی ، یہ سن کر ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے تو نماز کے لیے نکلنے سے پہلے قربانی کر ڈالی اور میں نے یہ سمجھا کہ یہ دن کھانے اور پینے کا دن ہے، تو میں نے جلدی کی، میں نے خود کھایا، اور اپنے اہل و عیال اور ہمسایوں کو بھی کھلایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ گوشت کی بکری ہے ۲؎ ، تو انہوں نے کہا: میرے پاس ایک سالہ جوان بکری اور وہ گوشت کی دو بکریوں سے بہتر ہے، کیا وہ میری طرف سے کفایت کرے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، لیکن تمہارے بعد کسی کے لیے کافی نہ ہو گی ( یعنی یہ حکم تمہارے لیے خاص ہے ) ۔
وضاحت: ۱؎ : یعنی یہ قربانی شمار نہیں ہو گی اور نہ ہی اسے قربانی کا ثواب ملے گا اس سے صرف گوشت حاصل ہو گا جسے وہ کھا سکتا ہے۔۲؎ : یعنی اس سے تمہیں صرف گوشت حاصل ہوا قربانی کا ثواب نہیں۔
Narrated Al-Bara ibn Azib: A maternal uncle of mine called Abu Burdah sacrificed before the prayer (for Eid). The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Your goat is meant for flesh. He said: Messenger of Allah, I have a domestic kid with me. He said: Sacrifice it, but it is not valid for any man other than you.
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے ابوبردہ نامی ایک ماموں نے نماز سے پہلے قربانی کر لی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: یہ تمہاری بکری گوشت کی بکری ہوئی ، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے پاس بکریوں میں سے ایک پلی ہوئی جذعہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی کو ذبح کر ڈالو، لیکن تمہارے سوا اور کسی کے لیے ایسا کرنا درست نہیں ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ۱۷۶۹)
Pick a verse, and get a ready Quran image or a short vertical video for
YouTube Shorts, Instagram and Facebook Reels, TikTok and WhatsApp Status —
Arabic with English and Urdu translation, free on
WizTools123.