TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of al-janaiz (funerals). - کتاب جنازے کے احکام و مسائل - Book 24 of Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Book 24 of Sahih Bukhari, with 97 chapters and 158 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

158 Hadith · 97 Chapters
(1) CHAPTER. What is said about funerals, and those whose last words were: La ilaha illallah (none has the right to be worshipped but Allah).
جنازوں کے باب میں جو حدیثیں آئی ہیں ان کا بیان اور جس شخص کا آخری کلام لا الہٰ الا اللہ ہو ، اس کابیان
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ الْأَحْدَبُ ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتَانِي آتٍ مِنْ رَبِّي فَأَخْبَرَنِي أَوْ قَالَ بَشَّرَنِي أَنَّهُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ , قُلْتُ : وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ ، قَالَ : وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ .
Narrated Abu Dhar: Allah's Apostle said, Someone came to me from my Lord and gave me the news (or good tidings) that if any of my followers dies worshipping none (in any way) along with Allah, he will enter Paradise. I asked, Even if he committed illegal sexual intercourse (adultery) and theft? He replied, Even if he committed illegal sexual intercourse (adultery) and theft.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے مہدی بن میمون نے، کہا کہ ہم سے واصل بن حیان احدب (کبڑے) نے، ان سے معرور بن سوید نے بیان کیا اور ان سے ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( کہ خواب میں ) میرے پاس میرے رب کا ایک آنے والا ( فرشتہ ) آیا۔ اس نے مجھے خبر دی، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ اس نے مجھے خوشخبری دی کہ میری امت میں سے جو کوئی اس حال میں مرے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس نے کوئی شریک نہ ٹھہرایا ہو تو وہ جنت میں جائے گا۔ اس پر میں نے پوچھا اگرچہ اس نے زنا کیا ہو، اگرچہ اس نے چوری کی ہو؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں اگرچہ زنا کیا ہو اگرچہ چوری کی ہو۔
1237
Sahih
(1) CHAPTER. What is said about funerals, and those whose last words were: La ilaha illallah (none has the right to be worshipped but Allah).
جنازوں کے باب میں جو حدیثیں آئی ہیں ان کا بیان اور جس شخص کا آخری کلام لا الہٰ الا اللہ ہو ، اس کابیان
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنَا شَقِيقٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ مَاتَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ النَّارَ , وَقُلْتُ أَنَا : مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ .
Narrated `Abdullah: Allah's Apostle said, Anyone who dies worshipping others along with Allah will definitely enter the Fire. I said, Anyone who dies worshipping none along with Allah will definitely enter Paradise.
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے میرے باپ حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شقیق بن سلمہ نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اس حالت میں مرے کہ کسی کو اللہ کا شریک ٹھہراتا تھا تو وہ جہنم میں جائے گا اور میں یہ کہتا ہوں کہ جو اس حال میں مرا کہ اللہ کا کوئی شریک نہ ٹھہراتا ہو وہ جنت میں جائے گا۔
1238
Sahih
(2) CHAPTER. The order of following the funeral procession.
جنازہ میں شریک ہونے کاحکم
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْأَشْعَثِ , قَالَ : سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، عَنْ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ ، أَمَرَنَا : بِاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ , وَعِيَادَةِ الْمَرِيضِ , وَإِجَابَةِ الدَّاعِي , وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ , وَإِبْرَارِ الْقَسَمِ , وَرَدِّ السَّلَامِ , وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ ، وَنَهَانَا عَنْ : آنِيَةِ الْفِضَّةِ , وَخَاتَمِ الذَّهَبِ , وَالْحَرِيرِ , وَالدِّيبَاجِ , وَالْقَسِّيِّ , وَالْإِسْتَبْرَقِ .
Narrated Al-Bara' bin `Azib: Allah's Apostle ordered us to do seven things and forbade us to do other seven. He ordered us: to follow the funeral procession. to visit the sick, to accept invitations, to help the oppressed, to fulfill the oaths, to return the greeting and to reply to the sneezer: (saying, May Allah be merciful on you, provided the sneezer says, All the praises are for Allah, ). He forbade us to use silver utensils and dishes and to wear golden rings, silk (clothes), Dibaj (pure silk cloth), Qissi and Istabraq (two kinds of silk cloths).
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے اشعث بن ابی الثعثاء نے، انہوں نے کہا کہ میں نے معاویہ بن سوید مقرن سے سنا، وہ براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے تھے کہ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سات کاموں کا حکم دیا اور سات کاموں سے روکا۔ ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا جنازہ کے ساتھ چلنے، مریض کی مزاج پرسی، دعوت قبول کرنے، مظلوم کی مدد کرنے کا، قسم پوری کرنے کا، سلام کا جواب دینے کا، چھینک پر «يرحمک الله» کہنے کا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منع کیا تھا چاندی کے برتن ( استعمال میں لانے ) سے، سونے کی انگوٹھی پہننے سے، ریشم اور دیباج ( کے کپڑوں کے پہننے ) سے، قسی سے، استبرق سے۔
1239
Sahih
(2) CHAPTER. The order of following the funeral procession.
جنازہ میں شریک ہونے کاحکم
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ , قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ , قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ خَمْسٌ : رَدُّ السَّلَامِ , وَعِيَادَةُ الْمَرِيضِ , وَاتِّبَاعُ الْجَنَائِزِ , وَإِجَابَةُ الدَّعْوَةِ , وَتَشْمِيتُ الْعَاطِسِ , تَابَعَهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، وَرَوَاهُ سَلَامَةُ بْنُ رَوْحٍ ، عَنْ عُقَيْلٍ .
Narrated Abu Huraira: I heard Allah's Apostle saying, The rights of a Muslim on the Muslims are to follow the funeral processions, to accept invitation and to reply the sneezer. (see Hadith No 331)
ہم سے محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عمرو بن ابی سلمہ نے بیان کیا، ان سے امام اوزاعی نے، انہوں نے کہا کہ مجھے ابن شہاب نے خبر دی، کہا کہ مجھے سعید بن مسیب نے خبر دی کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ مسلمان کے مسلمان پر پانچ حق ہیں سلام کا جواب دینا، مریض کا مزاج معلوم کرنا، جنازے کے ساتھ چلنا، دعوت قبول کرنا، اور چھینک پر ( اس کے «الحمدلله» کے جواب میں ) «يرحمک الله» کہنا۔ اس روایت کی متابعت عبدالرزاق نے کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے معمر نے خبر دی تھی۔ اور اس کی روایت سلامہ نے بھی عقیل سے کی ہے۔
1240
Sahih
(3) CHAPTER. Visiting the deceased person after he has been put in his shroud.
میت کو جب کفن میں لپیٹا جا چکا ہو تو اس کے پاس جانا ( جائز ہے )
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ , قَالَ : أَخْبَرَنِي مَعْمَرٌ وَيُونُسُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ ، قَالَتْ : أَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى فَرَسِهِ مِنْ مَسْكَنِهِ بِالسُّنْحِ حَتَّى نَزَلَ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَلَمْ يُكَلِّمْ النَّاسَ ، حَتَّى نَزَلَ فَدَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَتَيَمَّمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُسَجًّى بِبُرْدِ حِبَرَةٍ ، فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ ثُمَّ أَكَبَّ عَلَيْهِ فَقَبَّلَهُ ، ثُمَّ بَكَى , فَقَالَ : بِأَبِي أَنْتَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، لَا يَجْمَعُ اللَّهُ عَلَيْكَ مَوْتَتَيْنِ ، أَمَّا الْمَوْتَةُ الَّتِي كُتِبَتْ عَلَيْكَ فَقَدْ مُتَّهَا ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ : فَأَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَرَجَ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُكَلِّمُ النَّاسَ , فَقَالَ : اجْلِسْ فَأَبَى ، فَقَالَ : اجْلِسْ فَأَبَى ، فَتَشَهَّدَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَمَالَ إِلَيْهِ النَّاسُ وَتَرَكُوا عُمَرَ ، فَقَالَ : أَمَّا بَعْدُ ، فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ مَاتَ ، وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : وَمَا مُحَمَّدٌ إِلا رَسُولٌ إلى الشَّاكِرِينَ سورة آل عمران آية 144 وَاللَّهِ لَكَأَنَّ النَّاسَ لَمْ يَكُونُوا يَعْلَمُونَ أَنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ الآيَةَ حَتَّى تَلَاهَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَتَلَقَّاهَا مِنْهُ النَّاسُ ، فَمَا يُسْمَعُ بَشَرٌ إِلَّا يَتْلُوهَا .
Narrated `Aisha: Abu Bakr came riding his horse from his dwelling place in As-Sunh. He got down from it, entered the Mosque and did not speak with anybody till he came to me and went direct to the Prophet, who was covered with a marked blanket. Abu Bakr uncovered his face. He knelt down and kissed him and then started weeping and said, My father and my mother be sacrificed for you, O Allah's Prophet! Allah will not combine two deaths on you. You have died the death which was written for you. Narrated Abu Salama from Ibn `Abbas : Abu Bakr came out and `Umar , was addressing the people, and Abu Bakr told him to sit down but `Umar refused. Abu Bakr again told him to sit down but `Umar again refused. Then Abu Bakr recited the Tashah-hud (i.e. none has the right to be worshipped but Allah and Muhammad is Allah's Apostle) and the people attended to Abu Bakr and left `Umar. Abu Bakr said, Amma ba'du, whoever amongst you worshipped Muhammad, then Muhammad is dead, but whoever worshipped Allah, Allah is alive and will never die. Allah said: 'Muhammad is no more than an Apostle and indeed (many) Apostles have passed away before him ..(up to the) grateful.' (3.144) (The narrator added, By Allah, it was as if the people never knew that Allah had revealed this verse before till Abu Bakr recited it and then whoever heard it, started reciting it. )
ہم سے بشر بن محمد نے بیان کیا، انہیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا کہ مجھے معمر بن راشد اور یونس نے خبر دی، انہیں زہری نے، کہا کہ مجھے ابوسلمہ نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ ( جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی ) ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے گھر سے جو سنح میں تھا گھوڑے پر سوار ہو کر آئے اور اترتے ہی مسجد میں تشریف لے گئے۔ پھر آپ کسی سے گفتگو کئے بغیر عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ میں آئے ( جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نعش مبارک رکھی ہوئی تھی ) اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو برد حبرہ ( یمن کی بنی ہوئی دھاری دار چادر ) سے ڈھانک دیا گیا تھا۔ پھر آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک کھولا اور جھک کر اس کا بوسہ لیا اور رونے لگے۔ آپ نے کہا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اے اللہ کے نبی! اللہ تعالیٰ دو موتیں آپ پر کبھی جمع نہیں کرے گا۔ سوا ایک موت کے جو آپ کے مقدر میں تھی سو آپ وفات پا چکے۔ ابوسلمہ نے کہا کہ مجھے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ جب باہر تشریف لائے تو عمر رضی اللہ عنہ اس وقت لوگوں سے کچھ باتیں کر رہے تھے۔ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بیٹھ جاؤ۔ لیکن عمر رضی اللہ عنہ نہیں مانے۔ پھر دوبارہ آپ نے بیٹھنے کے لیے کہا۔ لیکن عمر رضی اللہ عنہ نہیں مانے۔ آخر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کلمہ شہادت پڑھا تو تمام مجمع آپ کی طرف متوجہ ہو گیا اور عمر رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دیا۔ آپ نے فرمایا امابعد! اگر کوئی شخص تم میں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو چکی اور اگر کوئی اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ باقی رہنے والا ہے۔ کبھی وہ مرنے والا نہیں۔ اللہ پاک نے فرمایا ہے ”اور محمد صرف اللہ کے رسول ہیں اور بہت سے رسول اس سے پہلے بھی گزر چکے ہیں“ «الشاكرين» تک ( آپ نے آیت تلاوت کی ) قسم اللہ کی ایسا معلوم ہوا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے آیت کی تلاوت سے پہلے جیسے لوگوں کو معلوم ہی نہ تھا کہ یہ آیت بھی اللہ پاک نے قرآن مجید میں اتاری ہے۔ اب تمام صحابہ نے یہ آیت آپ سے سیکھ لی پھر تو ہر شخص کی زبان پر یہی آیت تھی۔
1241
Sahih
(3) CHAPTER. Visiting the deceased person after he has been put in his shroud.
میت کو جب کفن میں لپیٹا جا چکا ہو تو اس کے پاس جانا ( جائز ہے )
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ , قَالَ : أَخْبَرَنِي مَعْمَرٌ وَيُونُسُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ ، قَالَتْ : أَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى فَرَسِهِ مِنْ مَسْكَنِهِ بِالسُّنْحِ حَتَّى نَزَلَ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَلَمْ يُكَلِّمْ النَّاسَ ، حَتَّى نَزَلَ فَدَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَتَيَمَّمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُسَجًّى بِبُرْدِ حِبَرَةٍ ، فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ ثُمَّ أَكَبَّ عَلَيْهِ فَقَبَّلَهُ ، ثُمَّ بَكَى , فَقَالَ : بِأَبِي أَنْتَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، لَا يَجْمَعُ اللَّهُ عَلَيْكَ مَوْتَتَيْنِ ، أَمَّا الْمَوْتَةُ الَّتِي كُتِبَتْ عَلَيْكَ فَقَدْ مُتَّهَا ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ : فَأَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَرَجَ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُكَلِّمُ النَّاسَ , فَقَالَ : اجْلِسْ فَأَبَى ، فَقَالَ : اجْلِسْ فَأَبَى ، فَتَشَهَّدَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَمَالَ إِلَيْهِ النَّاسُ وَتَرَكُوا عُمَرَ ، فَقَالَ : أَمَّا بَعْدُ ، فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ مَاتَ ، وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : وَمَا مُحَمَّدٌ إِلا رَسُولٌ إلى الشَّاكِرِينَ سورة آل عمران آية 144 وَاللَّهِ لَكَأَنَّ النَّاسَ لَمْ يَكُونُوا يَعْلَمُونَ أَنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ الآيَةَ حَتَّى تَلَاهَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَتَلَقَّاهَا مِنْهُ النَّاسُ ، فَمَا يُسْمَعُ بَشَرٌ إِلَّا يَتْلُوهَا .
Narrated `Aisha: Abu Bakr came riding his horse from his dwelling place in As-Sunh. He got down from it, entered the Mosque and did not speak with anybody till he came to me and went direct to the Prophet, who was covered with a marked blanket. Abu Bakr uncovered his face. He knelt down and kissed him and then started weeping and said, My father and my mother be sacrificed for you, O Allah's Prophet! Allah will not combine two deaths on you. You have died the death which was written for you. Narrated Abu Salama from Ibn `Abbas : Abu Bakr came out and `Umar , was addressing the people, and Abu Bakr told him to sit down but `Umar refused. Abu Bakr again told him to sit down but `Umar again refused. Then Abu Bakr recited the Tashah-hud (i.e. none has the right to be worshipped but Allah and Muhammad is Allah's Apostle) and the people attended to Abu Bakr and left `Umar. Abu Bakr said, Amma ba'du, whoever amongst you worshipped Muhammad, then Muhammad is dead, but whoever worshipped Allah, Allah is alive and will never die. Allah said: 'Muhammad is no more than an Apostle and indeed (many) Apostles have passed away before him ..(up to the) grateful.' (3.144) (The narrator added, By Allah, it was as if the people never knew that Allah had revealed this verse before till Abu Bakr recited it and then whoever heard it, started reciting it. )
ہم سے بشر بن محمد نے بیان کیا، انہیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا کہ مجھے معمر بن راشد اور یونس نے خبر دی، انہیں زہری نے، کہا کہ مجھے ابوسلمہ نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ ( جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی ) ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے گھر سے جو سنح میں تھا گھوڑے پر سوار ہو کر آئے اور اترتے ہی مسجد میں تشریف لے گئے۔ پھر آپ کسی سے گفتگو کئے بغیر عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ میں آئے ( جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نعش مبارک رکھی ہوئی تھی ) اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو برد حبرہ ( یمن کی بنی ہوئی دھاری دار چادر ) سے ڈھانک دیا گیا تھا۔ پھر آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک کھولا اور جھک کر اس کا بوسہ لیا اور رونے لگے۔ آپ نے کہا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اے اللہ کے نبی! اللہ تعالیٰ دو موتیں آپ پر کبھی جمع نہیں کرے گا۔ سوا ایک موت کے جو آپ کے مقدر میں تھی سو آپ وفات پا چکے۔ ابوسلمہ نے کہا کہ مجھے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ جب باہر تشریف لائے تو عمر رضی اللہ عنہ اس وقت لوگوں سے کچھ باتیں کر رہے تھے۔ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بیٹھ جاؤ۔ لیکن عمر رضی اللہ عنہ نہیں مانے۔ پھر دوبارہ آپ نے بیٹھنے کے لیے کہا۔ لیکن عمر رضی اللہ عنہ نہیں مانے۔ آخر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کلمہ شہادت پڑھا تو تمام مجمع آپ کی طرف متوجہ ہو گیا اور عمر رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دیا۔ آپ نے فرمایا امابعد! اگر کوئی شخص تم میں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو چکی اور اگر کوئی اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ باقی رہنے والا ہے۔ کبھی وہ مرنے والا نہیں۔ اللہ پاک نے فرمایا ہے ”اور محمد صرف اللہ کے رسول ہیں اور بہت سے رسول اس سے پہلے بھی گزر چکے ہیں“ «الشاكرين» تک ( آپ نے آیت تلاوت کی ) قسم اللہ کی ایسا معلوم ہوا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے آیت کی تلاوت سے پہلے جیسے لوگوں کو معلوم ہی نہ تھا کہ یہ آیت بھی اللہ پاک نے قرآن مجید میں اتاری ہے۔ اب تمام صحابہ نے یہ آیت آپ سے سیکھ لی پھر تو ہر شخص کی زبان پر یہی آیت تھی۔
1242
Sahih
(3) CHAPTER. Visiting the deceased person after he has been put in his shroud.
میت کو جب کفن میں لپیٹا جا چکا ہو تو اس کے پاس جانا ( جائز ہے )
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , قَالَ : أَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، أَنَّ أُمَّ الْعَلَاءِ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ بَايَعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّهُ اقْتُسِمَ الْمُهَاجِرُونَ قُرْعَةً فَطَارَ لَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ فَأَنْزَلْنَاهُ فِي أَبْيَاتِنَا ، فَوَجِعَ وَجَعَهُ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ فَلَمَّا تُوُفِّيَ وَغُسِّلَ وَكُفِّنَ فِي أَثْوَابِهِ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ أَبَا السَّائِبِ فَشَهَادَتِي عَلَيْكَ لَقَدْ أَكْرَمَكَ اللَّهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَمَا يُدْرِيكِ أَنَّ اللَّهَ قَدْ أَكْرَمَهُ ؟ , فَقُلْتُ : بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمَنْ يُكْرِمُهُ اللَّهُ ؟ , فَقَالَ : أَمَّا هُوَ فَقَدْ جَاءَهُ الْيَقِينُ ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو لَهُ الْخَيْرَ وَاللَّهِ مَا أَدْرِي وَأَنَا رَسُولُ اللَّهِ مَا يُفْعَلُ بِي ، قَالَتْ : فَوَاللَّهِ لَا أُزَكِّي أَحَدًا بَعْدَهُ أَبَدًا .
Narrated Kharija bin Zaid bin Thabit: Um Al-`Ala', an Ansari woman who gave the pledge of allegiance to the Prophet said to me, The emigrants were distributed amongst us by drawing lots and we got in our share `Uthman bin Maz'un. We made him stay with us in our house. Then he suffered from a disease which proved fatal when he died and was given a bath and was shrouded in his clothes, Allah's Apostle came I said, 'May Allah be merciful to you, O Abu As-Sa'ib! I testify that Allah has honored you'. The Prophet said, 'How do you know that Allah has honored him?' I replied, 'O Allah's Apostle! Let my father be sacrificed for you! On whom else shall Allah bestow His honor?' The Prophet said, 'No doubt, death came to him. By Allah, I too wish him good, but by Allah, I do not know what Allah will do with me though I am Allah's Apostle. ' By Allah, I never attested the piety of anyone after that.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے کہا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، انہوں نے فرمایا کہ مجھے خارجہ بن زید بن ثابت نے خبر دی کہ ام العلاء رضی اللہ عنہا انصار کی ایک عورت نے جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی، نے انہیں خبر دی کہ مہاجرین قرعہ ڈال کر انصار میں بانٹ دیئے گئے تو عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ ہمارے حصہ میں آئے۔ چنانچہ ہم نے انہیں اپنے گھر میں رکھا۔ آخر وہ بیمار ہوئے اور اسی میں وفات پا گئے۔ وفات کے بعد غسل دیا گیا اور کفن میں لپیٹ دیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ میں نے کہا ابوسائب آپ پر اللہ کی رحمتیں ہوں میری آپ کے متعلق شہادت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی عزت فرمائی ہے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی عزت فرمائی ہے؟ میں نے کہا یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں پھر کس کی اللہ تعالیٰ عزت افزائی کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس میں شبہ نہیں کہ ان کی موت آ چکی، قسم اللہ کی کہ میں بھی ان کے لیے خیر ہی کی امید رکھتا ہوں لیکن واللہ! مجھے خود اپنے متعلق بھی معلوم نہیں کہ میرے ساتھ کیا معاملہ ہو گا۔ حالانکہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ ام العلاء رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اللہ کی قسم! اب میں کبھی کسی کے متعلق ( اس طرح کی ) گواہی نہیں دوں گی۔
1243
Sahih
(3) CHAPTER. Visiting the deceased person after he has been put in his shroud.
میت کو جب کفن میں لپیٹا جا چکا ہو تو اس کے پاس جانا ( جائز ہے )
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ , قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , قَالَ : لَمَّا قُتِلَ أَبِي جَعَلْتُ أَكْشِفُ الثَّوْبَ عَنْ وَجْهِهِ أَبْكِي وَيَنْهَوْنِي عَنْهُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَنْهَانِي فَجَعَلَتْ عَمَّتِي فَاطِمَةُ تَبْكِي ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَبْكِينَ أَوْ لَا تَبْكِينَ ، مَا زَالَتِ الْمَلَائِكَةُ تُظِلُّهُ بِأَجْنِحَتِهَا حَتَّى رَفَعْتُمُوهُ ، تَابَعَهُ ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، سَمِعَ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ .
Narrated Jabir bin `Abdullah: When my father was martyred, I lifted the sheet from his face and wept and the people forbade me to do so but the Prophet did not forbid me. Then my aunt Fatima began weeping and the Prophet said, It is all the same whether you weep or not. The angels were shading him continuously with their wings till you shifted him (from the field).
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے غندر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے محمد بن منکدر سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے کہا کہ جب میرے والد شہید کر دیئے گئے تو میں ان کے چہرے پر پڑا ہو کپڑا کھولتا اور روتا تھا۔ دوسرے لوگ تو مجھے اس سے روکتے تھے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ نہیں کہہ رہے تھے۔ آخر میری چچی فاطمہ رضی اللہ عنہا بھی رونے لگیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ روؤ یا چپ رہو۔ جب تک تم لوگ میت کو اٹھاتے نہیں ملائکہ تو برابر اس پر اپنے پروں کا سایہ کئے ہوئے ہیں۔ اس روایت کی متابعت شعبہ کے ساتھ ابن جریج نے کی، انہیں ابن منکدر نے خبر دی اور انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا۔
1244
Sahih
(3) CHAPTER. Visiting the deceased person after he has been put in his shroud.
آدمی اپنی ذات سے موت کی خبر میت کے وارثوں کو سنا سکتا ہے
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَى النَّجَاشِيَّ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ خَرَجَ إِلَى الْمُصَلَّى فَصَفَّ بِهِمْ وَكَبَّرَ أَرْبَعًا .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle informed (the people) about the death of An-Najashi on the very day he died. He went towards the Musalla (praying place) and the people stood behind him in rows. He said four Takbirs (i.e. offered the Funeral prayer).
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے مالک نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سعید بن مسیب نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی وفات کی خبر اسی دن دی جس دن اس کی وفات ہوئی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کی جگہ گئے۔ اور لوگوں کے ساتھ صف باندھ کر ( جنازہ کی نماز میں ) چار تکبیریں کہیں۔
1245
Sahih
(3) CHAPTER. Visiting the deceased person after he has been put in his shroud.
آدمی اپنی ذات سے موت کی خبر میت کے وارثوں کو سنا سکتا ہے
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَخَذَ الرَّايَةَ زَيْدٌ فَأُصِيبَ ، ثُمَّ أَخَذَهَا جَعْفَرٌ فَأُصِيبَ ، ثُمَّ أَخَذَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ فَأُصِيبَ ، وَإِنَّ عَيْنَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَتَذْرِفَانِ ، ثُمَّ أَخَذَهَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ مِنْ غَيْرِ إِمْرَةٍ فَفُتِحَ لَهُ .
Narrated Anas bin Malik: The Prophet said, Zaid took over the flag and was martyred. Then it was taken by Jafar who was martyred as well. Then `Abdullah bin Rawaha took the flag but he too was martyred and at that time the eyes of Allah's Apostle were full of tears. Then Khalid bin Al-Walid took the flag without being nominated as a chief (before hand) and was blessed with victory.
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے حمید بن بلال نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ زید نے جھنڈا سنبھالا لیکن وہ شہید ہو گئے۔ پھر جعفر نے سنبھالا اور وہ بھی شہید ہو گئے۔ پھر عبداللہ بن رواحہ نے سنبھالا اور وہ بھی شہید ہو گئے۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں میں آنسو بہ رہے تھے۔ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ) اور پھر خالد بن ولید نے خود اپنے طور پر جھنڈا اٹھا لیا اور ان کو فتح حاصل ہوئی۔
1246
Sahih
(5) CHAPTER. What is said regarding conveying the news of the funeral (procession).
جنازہ تیار ہو تو لوگوں کو خبر دینا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , قَالَ : مَاتَ إِنْسَانٌ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ فَمَاتَ بِاللَّيْلِ فَدَفَنُوهُ لَيْلًا ، فَلَمَّا أَصْبَحَ أَخْبَرُوهُ , فَقَالَ : مَا مَنَعَكُمْ أَنْ تُعْلِمُونِي ؟ ، قَالُوا : كَانَ اللَّيْلُ فَكَرِهْنَا وَكَانَتْ ظُلْمَةٌ أَنْ نَشُقَّ عَلَيْكَ فَأَتَى قَبْرَهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ .
Narrated Ibn `Abbas.: A person died and Allah's Apostle used to visit him. He died at night and (the people) buried him at night. In the morning they informed the Prophet (about his death). He said, What prevented you from informing me? They replied, It was night and it was a dark night and so we disliked to trouble you. The Prophet went to his grave and offered the (funeral) prayer.
ہم سے محمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا، انہیں ابومعاویہ نے خبر دی، انہیں ابواسحاق شیبانی نے، انہیں شعبی نے، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ایک شخص کی وفات ہو گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی عیادت کو جایا کرتے تھے۔ چونکہ ان کا انتقال رات میں ہوا تھا اس لیے رات ہی میں لوگوں نے انہیں دفن کر دیا اور جب صبح ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( کہ جنازہ تیار ہوتے وقت ) مجھے بتانے میں ( کیا ) رکاوٹ تھی؟ لوگوں نے کہا کہ رات تھی اور اندھیرا بھی تھا۔ اس لیے ہم نے مناسب نہیں سمجھا کہ کہیں آپ کو تکلیف ہو۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی قبر پر تشریف لائے اور نماز پڑھی۔
1247
Sahih
(6) CHAPTER. The superiority of the person whose child dies and he faces the event with patience hoping for Allah's reward.
اس شخص کی فضیلت جس کی کوئی اولاد مر جائے اور وہ اجر کی نیت سے صبر کرے
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا مِنَ النَّاسِ مِنْ مُسْلِمٍ يُتَوَفَّى لَهُ ثَلَاثٌ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمْ .
Narrated Anas: The Prophet said, A Muslim whose three children die before the age of puberty will be granted Paradise by Allah due to his mercy for them.
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے، ان سے عبدالعزیز نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی مسلمان کے اگر تین بچے مر جائیں جو بلوغت کو نہ پہنچے ہوں تو اللہ تعالیٰ اس رحمت کے نتیجے میں جو ان بچوں سے وہ رکھتا ہے مسلمان ( بچے کے باپ اور ماں ) کو بھی جنت میں داخل کرے گا۔
1248
Sahih
(6) CHAPTER. The superiority of the person whose child dies and he faces the event with patience hoping for Allah's reward.
اس شخص کی فضیلت جس کی کوئی اولاد مر جائے اور وہ اجر کی نیت سے صبر کرے
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ النِّسَاءَ قُلْنَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اجْعَلْ لَنَا يَوْمًا ، فَوَعَظَهُنَّ , وَقَالَ : أَيُّمَا امْرَأَةٍ مَاتَ لَهَا ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ كَانُوا حِجَابًا مِنَ النَّارِ , قَالَتِ امْرَأَةٌ : وَاثْنَانِ ، قَالَ : وَاثْنَانِ .
Narrated Abu Sa`id: The women requested the Prophet, Please fix a day for us. So the Prophet preached to them and said, A woman whose three children died would be screened from the Hell Fire by them, Hearing that, a woman asked, If two died? The Prophet replied, Even two (would screen her from the (Hell) Fire.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے، ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ اصبہانی نے، ان سے ذکوان نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ عورتوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ہمیں بھی نصیحت کرنے کے لیے آپ ایک دن خاص فرما دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ان کی درخواست منظور فرماتے ہوئے ایک خاص دن میں ) ان کو وعظ فرمایا اور بتلایا کہ جس عورت کے تین بچے مر جائیں تو وہ اس کے لیے جہنم سے پناہ بن جاتے ہیں۔ اس پر ایک عورت نے پوچھا: یا رسول اللہ! اگر کسی کے دو ہی بچے مریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دو بچوں پر بھی۔
1249
Sahih
(6) CHAPTER. The superiority of the person whose child dies and he faces the event with patience hoping for Allah's reward.
اس شخص کی فضیلت جس کی کوئی اولاد مر جائے اور وہ اجر کی نیت سے صبر کرے
وَقَالَ شَرِيكٌ : عَنْ ابْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، حَدَّثَنِي أَبُو صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ .
And Abu Huraira added, Those children should be below the age of puberty.
شریک نے ابن اصبہانی سے بیان کیا کہ ان سے ابوصالح نے بیان کیا اور ان سے ابوسعید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بھی کہا کہ وہ بچے مراد ہیں جو ابھی بلوغت کو نہ پہنچے ہوں۔
1250
Sahih
(6) CHAPTER. The superiority of the person whose child dies and he faces the event with patience hoping for Allah's reward.
اس شخص کی فضیلت جس کی کوئی اولاد مر جائے اور وہ اجر کی نیت سے صبر کرے
حدثنا علي ، حدثنا سفيان , قال : سمعت الزهري ، عن سعيد بن المسيب ، عن ابي هريرة رضي الله عنه ، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : لا يموت لمسلم ثلاثة من الولد فيلج النار إلا تحلة القسم ، قال ابو عبد الله : وإن منكم إلا واردها .حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , قَالَ : سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَا يَمُوتُ لِمُسْلِمٍ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ فَيَلِجَ النَّارَ إِلَّا تَحِلَّةَ الْقَسَمِ ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا .
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, No Muslim whose three children died will go to the Fire except for Allah's oath (i.e. everyone has to pass over the bridge above the lake of fire).
ہم سے علی نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، انہوں نے کہا کہ میں نے زہری سے سنا، انہوں نے سعید بن مسیب سے سنا اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی کے اگر تین بچے مر جائیں تو وہ دوزخ میں نہیں جائے گا اور اگر جائے گا بھی تو صرف قسم پوری کرنے کے لیے۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔ ( قرآن کی آیت یہ ہے ) تم میں سے ہر ایک کو دوزخ کے اوپر سے گزرنا ہو گا۔
1251
Sahih
(7) CHAPTER. The saying of a man to a woman at the grave, “Be patient.”
کسی مرد کا کسی عورت سے قبر کے پاس یہ کہنا کہ صبر کر
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِامْرَأَةٍ عِنْدَ قَبْرٍ وَهِيَ تَبْكِي , فَقَالَ : اتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي .
Narrated Anas bin Malik: The Prophet passed by a woman who was sitting and weeping beside a grave and said to her, Fear Allah and be patient.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ثابت نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک عورت کے پاس سے گزرے جو ایک قبر پر بیٹھی ہوئی رو رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اللہ سے ڈر اور صبر کر۔
1252
Sahih
(8) CHAPTER. The bath of a dead (Muslim) and his ablution with water and Sidr (lote-tree leaves).
میت کو پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دینا اور وضو کرانا
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَتِ ابْنَتُهُ , فَقَالَ : اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكَ بِمَاءٍ , وَسِدْرٍ وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا أَوْ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي ، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ فَأَعْطَانَا حِقْوَهُ , فَقَالَ : أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ تَعْنِي إِزَارَهُ .
Narrated Um 'Atiyya al-Ansariya: Allah's Apostle came to us when his daughter died and said, Wash her thrice or five times or more, if you see it necessary, with water and Sidr and then apply camphor or some camphor at the end; and when you finish, notify me. So when we finished it, we informed him and he gave us his waist-sheet and told us to shroud the dead body in it.
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے اور ان سے محمد بن سیرین نے، ان سے ام عطیہ انصاری رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی ( زینب یا ام کلثوم رضی اللہ عنہما ) کی وفات ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لائے اور فرمایا کہ تین یا پانچ مرتبہ غسل دے دو اور اگر مناسب سمجھو تو اس سے بھی زیادہ دے سکتی ہو۔ غسل کے پانی میں بیری کے پتے ملا لو اور آخر میں کافور یا ( یہ کہا کہ ) کچھ کافور کا استعمال کر لینا اور غسل سے فارغ ہونے پر مجھے خبر دے دینا۔ چنانچہ ہم نے جب غسل دے لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دیدی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنا ازار دیا اور فرمایا کہ اسے ان کی قمیص بنا دو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد اپنے ازار سے تھی۔
1253
Sahih
(9) CHAPTER. It is desirable to wash (the dead body) for an odd number of times.
میت کو طاق مرتبہ غسل دینا مستحب ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهُ , فَقَالَ : اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ بِمَاءٍ , وَسِدْرٍ وَاجْعَلْنَ فِي الْآخِرَةِ كَافُورًا ، فَإِذَا فَرَغْتُنَّ فَآذِنَّنِي ، فَلَمَّا فَرَغْنَا آذَنَّاهُ فَأَلْقَى إِلَيْنَا حِقْوَهُ , فَقَالَ : أَشْعِرْنَهَا إِيَّاهُ .
Narrated Um 'Atiyya: Allah's Apostle came to us and we were giving a bath to his (dead) daughter and said, Wash her three, five or more times with water and Sidr and sprinkle camphor on her at the end; and when you finish, notify me. So when we finished, we informed him and he gave us his waist-sheet and told us to shroud her in it. Aiyub said that Hafsa narrated to him a narration similar to that of Muhammad in which it was said that the bath was to be given for an odd number of times, and the numbers 3, 5 or 7 were mentioned. It was also said that they were to start with the right side and with the parts which were washed in ablution, and that Um 'Atiyya also mentioned, We combed her hair and divided them in three braids.
ہم سے محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالوہاب ثقفی نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے محمد نے، ان سے ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کو غسل دے رہی تھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ تین یا پانچ مرتبہ غسل دو یا اس سے بھی زیادہ، پانی اور بیری کے پتوں سے اور آخر میں کافور بھی استعمال کرنا۔ پھر فارغ ہو کر مجھے خبر دے دینا۔ جب ہم فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر کر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ازار عنایت فرمایا اور فرمایا کہ یہ اندر اس کے بدن پر لپیٹ دو۔
1254
Sahih
(10) CHAPTER. To start from the right side while giving a bath to a dead body.
اس بیان میں کہ ( غسل ) میت کی دائیں طرف سے شروع کیا جائے
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَسْلِ ابْنَتِهِ : ابْدَأْنَ بِمَيَامِنِهَا وَمَوَاضِعِ الْوُضُوءِ مِنْهَا .
Narrated Um 'Atiyya: Allah's Apostle , concerning his (dead) daughter's bath, said, Start with the right side, and the parts which are washed in ablution.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے خالد نے بیان کیا، ان سے حفصہ بنت سیرین نے اور ان سے ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی کے غسل کے وقت فرمایا تھا کہ دائیں طرف سے اور اعضاء وضو سے غسل شروع کرنا۔
1255
Sahih
(11) CHAPTER. (To start with) the parts of the dead body which are washed in ablution.
اس بارے میں کہ پہلے میت کے اعضاء وضو کو دھویا جائے
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ : لَمَّا غَسَّلْنَا بِنْتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَنَا وَنَحْنُ نَغْسِلُهَا : ابْدَأَنَ بِمَيَامِنِهَا وَمَوَاضِعِ الْوُضُوءِ .
Narrated Um 'Atiyya: When we washed the deceased daughter of the Prophet, he said to us, while we were washing her, Start the bath from the right side and from the parts which are washed in ablution.
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وکیع نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، ان سے خالد حذاء نے، ان سے حفصہ بنت سیرین نے اور ان سے ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کو ہم غسل دے رہی تھیں۔ جب ہم نے غسل شروع کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غسل دائیں طرف سے اور اعضاء وضو سے شروع کرو۔
1256
Sahih

Chapters

97
01
(1) CHAPTER. What is said about funerals, and those whose last words were: La ilaha illallah (none has the right to be worshipped but Allah).
جنازوں کے باب میں جو حدیثیں آئی ہیں ان کا بیان اور جس شخص کا آخری کلام لا الہٰ الا اللہ ہو ، اس کابیان
2 Hadith
02
(2) CHAPTER. The order of following the funeral procession.
جنازہ میں شریک ہونے کاحکم
2 Hadith
03
(3) CHAPTER. Visiting the deceased person after he has been put in his shroud.
میت کو جب کفن میں لپیٹا جا چکا ہو تو اس کے پاس جانا ( جائز ہے )
4 Hadith
04
(3) CHAPTER. Visiting the deceased person after he has been put in his shroud.
آدمی اپنی ذات سے موت کی خبر میت کے وارثوں کو سنا سکتا ہے
2 Hadith
05
(5) CHAPTER. What is said regarding conveying the news of the funeral (procession).
جنازہ تیار ہو تو لوگوں کو خبر دینا
1 Hadith
06
(6) CHAPTER. The superiority of the person whose child dies and he faces the event with patience hoping for Allah's reward.
اس شخص کی فضیلت جس کی کوئی اولاد مر جائے اور وہ اجر کی نیت سے صبر کرے
4 Hadith
07
(7) CHAPTER. The saying of a man to a woman at the grave, “Be patient.”
کسی مرد کا کسی عورت سے قبر کے پاس یہ کہنا کہ صبر کر
1 Hadith
08
(8) CHAPTER. The bath of a dead (Muslim) and his ablution with water and Sidr (lote-tree leaves).
میت کو پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دینا اور وضو کرانا
1 Hadith
09
(9) CHAPTER. It is desirable to wash (the dead body) for an odd number of times.
میت کو طاق مرتبہ غسل دینا مستحب ہے
1 Hadith
10
(10) CHAPTER. To start from the right side while giving a bath to a dead body.
اس بیان میں کہ ( غسل ) میت کی دائیں طرف سے شروع کیا جائے
1 Hadith
11
(11) CHAPTER. (To start with) the parts of the dead body which are washed in ablution.
اس بارے میں کہ پہلے میت کے اعضاء وضو کو دھویا جائے
1 Hadith
12
(12) CHAPTER. Can a woman be shrouded in the waist-sheet of a man?
اس بیان میں کہ کیا عورت کو مرد کے ازار کا کفن دیا جا سکتا ہے ؟
1 Hadith
13
(13) CHAPTER. To Sprinkle camphor on the dead body as the last thing (before shrouding).
میت کے غسل میں کافور کا استعمال آخر میں ایک بار کیا جائے
2 Hadith
14
(14) CHAPTER. To undo the hair of a (dead) female.
میت عورت ہو تو غسل کے وقت اس کے بال کھولنا
1 Hadith
15
(15) CHAPTER. How to shroud a dead body.
میت پر کپڑا کیونکر لپیٹنا چا ہیے
1 Hadith
16
(16) CHAPTER. To entwine the head-hair of a (dead) woman in three braids.
اس بیان میں کہ کیا عورت میت کے بال تین لٹوں میں تقسیم کر دیئے جائیں ؟
1 Hadith
17
(17) CHAPTER. To make the hair of a (dead) woman fall at her back.
عورت کے بالوں کی تین لٹیں بنا کر اس کے پیچھے ڈال دی جائیں
1 Hadith
18
(18) CHAPTER. White cloth for the shroud.
اس بارے میں کہ کفن کے لیے سفید کپڑے ہونے مناسب ہیں
1 Hadith
19
(19) CHAPTER. Shrouding in two pieces of cloth.
دو کپڑوں میں کفن دینا
1 Hadith
20
(20) CHAPTER. The perfuming of a dead body with Hanut (a kind of perfume).
میت کو خوشبو لگانا
1 Hadith
21
(21) CHAPTER. How to shroud a Muhrim.
محرم کو کیونکر کفن دیا جائے
2 Hadith
22
(22) CHAPTER. To shroud one in a shirt, stitched or unstitched.
قمیص میں کفن دینا اور اس کاحاشیہ سلا ہوا ہو یا بغیر سلا ہوا ہو اور بغیر قمیص کے کفن دینا
2 Hadith
23
(23) CHAPTER. To shroud (a dead) body without using a shirt.
بغیر قمیص کے کفن دینا
2 Hadith
24
(24) CHAPTER. Using no turban in shrouding.
عمامہ کے بغیر کفن دینے کا بیان
1 Hadith
25
(25) CHAPTER. To shroud one with (the price of) all of one's property.
کفن کی تیاری میت کے سارے مال میں سے کرنا چاہیے
1 Hadith
26
(26) CHAPTER. If there is nothing except one piece of cloth (for shrouding).
اگر میت کے پاس ایک ہی کپڑا نکلے
1 Hadith
27
(27) CHAPTER. If sufficient cloth for the shroud is not available but only that much which covers the head or the feet, then the head is to be covered.
جب کفن کا کپڑا چھوٹا ہو کہ سر اور پاؤں دونوں نہ ڈھک سکیں تو سر چھپا دیں ( اور پاؤں پر گھاس وغیرہ ڈال دیں )
1 Hadith
28
(28) CHAPTER. (If) somebody prepared his shroud (before his death) (in the lifetime of the Prophet and the Prophet did not object to that).
ان کے بیان میں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اپنا کفن خود ہی تیار رکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر کسی طرح کا اعتراض نہیں فرمایا
1 Hadith
29
(29) CHAPTER. (Is it permissible for) women to accompany the funeral procession?
عورتوں کا جنازے کے ساتھ جانا کیسا ہے ؟
1 Hadith
30
(30) CHAPTER. The mourning of a woman for a dead person other than her husband.
عورت کا اپنے خاوند کے سوا اور کسی پر سوگ کرنا کیسا ہے ؟
4 Hadith
31
(31) CHAPTER. Visiting the graves.
قبروں کی زیارت کرنا
1 Hadith
32
(32) CHAPTER. The statement of the Prophet : The deceased is punished because of the weeping (with wailing) of some of his relatives, if wailing was the custome of that dead person.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ میت پر اس کے گھر والوں کے رونے سےعذاب ہوتا ہے یعنی جب رونا ماتم کرنا میت کے خاندان کی رسم ہو ۔
7 Hadith
33
(33) CHAPTER. What (sort of) wailing over a deceased is disliked.
میت پر نوحہ کرنا مکروہ ہے
2 Hadith
34
(34) CHAPTER.
باب
2 Hadith
35
(35) CHAPTER. He who tears off his clothes (when afflicted with a calamity) is not from us.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ گریبان چاک کرنے والے ہم میں سے نہیں ہیں
1 Hadith
36
(36) CHAPTER. The sorrow of the Prophet for Sa'd bin Khaula.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ کی وفات پر افسوس کرنا
1 Hadith
37
(37) CHAPTER. Shaving the head on the falling of a calamity is forbidden.
غمی کے وقت سر منڈوانے کی ممانعت
1 Hadith
38
(38) CHAPTER. He who slaps his cheeks is not from us.
رخسار پیٹنے والے ہم میں سے نہیں ہیں ( یعنی ہماری امت سے خارج ہیں )
1 Hadith
39
(39) CHAPTER. Prohibition of wailing and following the traditions of the Days of Ignorance when afflicted with a calamity.
اس بارے میں کہ مصیبت کے وقت جاہلیت کی باتیں اور واویلا کرنے کی ممانعت ہے
1 Hadith
40
(40) CHAPTER. Whoever sat down and looked sad when afflicted with a calamity.
جو شخص مصیبت کے وقت ایسا بیٹھے کہ وہ غمگین دکھائی دے
2 Hadith
41
(41) CHAPTER. Whoever shows no signs of grief and sorrow on the falling of a calamity.
جو شخص مصیبت کے وقت ( اپنے نفس پر زور ڈال کر ) اپنا رنج ظاہر نہ کرے
1 Hadith
42
(42) CHAPTER. Patience is to be observed at the first stroke of a calamity.
صبر وہی ہے جو مصیبت آتے ہی کیا جائے
1 Hadith
43
(43) CHAPTER. The saying of the Prophet (at the death of his son Ibrahim): “ Indeed we are grieved by your separation.”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا کہ اے ابراھیم ! ہم تمہاری جدائی پر غمگین ہیں
1 Hadith
44
(44) CHAPTER. To weep near a patient.
مریض کے پاس رونا کیسا ہے ؟
1 Hadith
45
(45) CHAPTER. The forbiddance of wailing and crying aloud; and scolding those who practise them.
کس طرح کے نوحہ و بکا سے منع کرنا اور اس پر جھڑکنا چاہیے
2 Hadith
46
(46) CHAPTER. Standing for the funeral procession.
جنازہ دیکھ کر کھڑے ہو جانا
1 Hadith
47
(47) CHAPTER. When should one sit after standing for the funeral procession?
اگر کوئی جنازہ دیکھ کر کھڑا ہو جائے تو اسے کب بیٹھنا چاہئے ؟
1 Hadith
48
(48) CHAPTER. Whoever accompanies a funeral procession should not sit till the coffin is put down from the shoulders of men, and if someone sits before this, then he is to be ordered to stand up.
جو شخص جنازہ کے ساتھ ہو وہ اس وقت تک نہ بیٹھے جب تک جنازہ لوگوں کے کاندھوں سے اتار کر زمین پر نہ رکھ دیا جائے اور اگر پہلے بیٹھ جائے تو اس سے کھڑا ہونے کے لیے کہا جائے
2 Hadith
49
(49) CHAPTER. Standing for the funeral procession of a Jew.
اس شخص کے بارے میں جو یہودی کا جنازہ دیکھ کر کھڑا ہو گیا
3 Hadith
50
(50) CHAPTER. Men, and not women, are to carry the coffin.
اس بارے میں کہ عورتیں نہیں بلکہ مرد ہی جنازے کو اٹھائیں
1 Hadith
51
(51) CHAPTER. Hurrying up with the coffin.
جنازے کو جلد لے چلنا
1 Hadith
52
(52) CHAPTER. The saying of the deceased while he is being carried on the bier, “Take me quickly.”
نیک میت چارپائی پر کہتا ہے کہ مجھے آگے بڑھائے چلو ( جلد دفناؤ )
1 Hadith
53
(53) CHAPTER. Whoever aligned in two or three rows behind the Imam for a funeral Salat (prayer).
امام کے پیچھے جنازہ کی نماز کے لیے دو یا تین صفیں کرنا
1 Hadith
54
(54) CHAPTER. The rows for funeral prayer.
جنازہ کی نماز میں صفیں باندھنا
3 Hadith
55
(55) CHAPTER. The lining up of boys in rows with men in the funeral prayer.
جنازے کی نماز میں بچے بھی مردوں کے برابر کھڑے ہوں
1 Hadith
56
(56) CHAPTER. The legal way of offering the funeral prayer.
جنازے پر نماز کا مشروع ہونا
1 Hadith
57
(57) CHAPTER. Superiority of accompanying funeral processions.
جنازہ کے ساتھ جانے کی فضیلت
2 Hadith
58
(58) CHAPTER. Whoever waits till the deceased is buried.
جو شخص دفن ہونے تک ٹھہرا رہے
1 Hadith
59
(59) CHAPTER. The offering of the funeral Salat (prayer) by boys along with the men.
بڑوں کے ساتھ بچوں کا بھی نماز جنازہ میں شریک ہونا
1 Hadith
60
(60) CHAPTER. To offer the funeral Salat (prayer) at a Musalla and in the mosque.
نماز جنازہ عیدگاہ میں اور مسجد میں ( ہر دو جگہ جائز ہے )
3 Hadith
61
(61) CHAPTER. What is disliked of establishing places for worship (mosques) over the graves.
قبروں پر مسجد بنانا مکروہ ہے
1 Hadith
62
(62) CHAPTER. The offering of the funeral Salat (prayer) of a woman who died during the delivery (of a child).
اگر کسی عورت کا نفاس کی حالت میں انتقال ہو جائے تو اس پر نماز جنازہ پڑھنا
1 Hadith
63
(63) CHAPTER. Where should the Imam stand while leading the funeral prayer of a female or a male?
اس بارے میں کہ عورت اور مرد کی نماز جنازہ میں کہاں کھڑا ہوا جائے ؟
1 Hadith
64
(64) CHAPTER. There are four Takbir in the funeral prayers.
نماز جنازہ میں چار تکبیریں کہنا
2 Hadith
65
(65) CHAPTER. The recitation of Surat-al-Fatiha in the funeral Salat.
نماز جنازہ میں سورۃ فاتحہ پڑھنا ( ضروری ہے )
1 Hadith
66
(66) CHAPTER. To offer the (funeral) Salat (prayer) on the grave after the burial of the deceased.
مردہ کو دفن کرنے کے بعد قبر پر نماز جنازہ پڑھنا
2 Hadith
67
(67) CHAPTER. A dead person hears the footsteps (of the living).
اس بیان میں کہ مردہ لوٹ کر جانے والوں کے جوتوں کی آواز سنتا ہے
1 Hadith
68
(68) CHAPTER. Whoever desired to be buried in the Sacred Land or something like it.
جو شخص ارض مقدس یا ایسی ہی کسی برکت والی جگہ دفن ہونے کا آرزو مند ہو
1 Hadith
69
(69) CHAPTER. Burial at night and Abu Bakr رضی اللہ عنہ was buried at night.
رات میں دفن کرنا کیسا ہے ؟ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رات میں دفن کئے گئے
1 Hadith
70
(70) CHAPTER. Building a mosque (a place of worship) at a grave.
قبر پر مسجد تعمیر کرنا کیسا ہے ؟
1 Hadith
71
(71) CHAPTER. Who may get down in the grave of a woman.
عورت کی قبر میں کون اترے ؟
1 Hadith
72
(72) CHAPTER. The funeral Salat (prayer) of a martyr.
شہید کی نماز جنازہ پڑھیں یا نہیں ؟
2 Hadith
73
(73) CHAPTER. The burial of two or three men in one grave.
دو یاتین آدمیوں کو ایک قبر میں دفن کرنا
1 Hadith
74
(74) CHAPTER. Whoever thinks that no bath is required for the martyrs.
اس شخص کی دلیل جو شہداء کا غسل مناسب نہیں سمجھتا
1 Hadith
75
(75) CHAPTER. Who should be put first in the Lahd (a side extension of a grave) and it is called Lahd because it is to the side. If it is a straight one (i.e. has no side extension), it is called Darih.
بغلی قبر میں کون آگے رکھا جائے
2 Hadith
76
(76) CHAPTER. The placing of Idhkhir (a kind of shrub with a fragrant smell) and grass in the grave.
اذخر اور سوکھی گھاس قبر میں بچھانا
1 Hadith
77
(77) CHAPTER. Can the dead body be taken out of its grave and Lahd for some reason?
باب کہ میت کو کسی خاص وجہ سے قبر یا لحد سے باہر نکالا جا سکتا ہے ؟
3 Hadith
78
(78) CHAPTER. The Lahd and the (straight) cut in the grave.
بغلی یا صندوقی قبر بنانا
1 Hadith
79
(79) CHAPTER. If a boy becomes a Muslim and then dies, should a funeral prayer be offered for him? Should Islam be explained to a boy (below the age of puberty)?
ایک بچہ اسلام لایا پھر اس کا انتقال ہو گیا ‘ تو کیا اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی ؟ اور کیا بچے کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی جا سکتی ہے ؟
6 Hadith
80
(80) CHAPTER. If Al-Mushrik says, “La ilaha illallah (none has the right to be worshipped but Allah) at the time of his death.
جب ایک مشرک موت کے وقت لا الٰہ الا اللہ کہہ لے
1 Hadith
81
(81) CHAPTER. Placing a leaf of a date-palm over the grave.
قبر پر کھجور کی ڈالیاں لگانا
1 Hadith
82
(82) CHAPTER. Preacher delivering a lecture at a grave and the sitting of his companions around him.
قبر کے پاس عالم کا بیٹھنا اور لوگوں کو نصیحت کرنا اور لوگوں کا اس کے اردگرد بیٹھنا
1 Hadith
83
(83) CHAPTER. What is said about committing suicide.
جو شخص خودکشی کرے اس کی سزا کے بیان میں
3 Hadith
84
(84) CHAPTER. It is disliked to offer the funeral prayer for the hypocrites, and to ask Allah's Forgiveness for the Mushrikun.
منافقوں پر نماز جنازہ پڑھنا اور مشرکوں کے لیے طلب مغفرت کرنا ناپسند ہے
1 Hadith
85
(85) CHAPTER. The praising of a deceased by the people.
لوگوں کی زبان پر میت کی تعریف ہو تو بہتر ہے
2 Hadith
86
(86) CHAPTER. Wha is said regarding the punishment in the grave.
عذاب قبر کا بیان اور اللہ تعالیٰ نے ( سورۃ الانعام میں ) فرمایا
6 Hadith
87
(87) CHAPTER. To seek refuge with Allah from the punishment in the grave.
قبر کے عذاب سے پناہ مانگنا
3 Hadith
88
(88) CHAPTER. Punishment in the grave because of back-biting and soiling one's clothes with urine.
غیبت اور پیشاب کی آلودگی سے قبر کا عذاب ہونا
1 Hadith
89
(89) CHAPTER. The deceased is shown his actual place (in Paradise or in Hell) both in the morning and in the afternoon.
مردے کو دونوں وقت صبح اور شام اس کا ٹھکانا بتلایا جاتا ہے
1 Hadith
90
(90) CHAPTER. The speech of the deceased after it is lifted upon the bier.
میت کا چارپائی پر بات کرنا
1 Hadith
91
(91) CHAPTER. What is said regarding the dead children of Muslims.
مسلمانوں کی نابالغ اولاد کہاں رہے گی ؟
2 Hadith
92
(92) CHAPTER. What is said regarding the (dead) children of Al-Mushrikun.
مشرکین کی نابالغ اولاد کا بیان
3 Hadith
93
(94) CHAPTER. Dying on Monday.
پیر کے دن مرنے کی فضیلت کا بیان
1 Hadith
94
(95) CHAPTER. Sudden unexpected death.
ناگہانی موت کا بیان
1 Hadith
95
(96) CHAPTER. What is said regarding the graves of the Prophet , Abu Bakr, and Umar.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کی قبروں کا بیان
4 Hadith
96
(97) CHAPTER. What is forbidden as regards: Abusing the dead.
اس بارے میں کہ مردوں کو برا کہنے کی ممانعت ہے
1 Hadith
97
(98) CHAPTER. Talking about the wicked among the dead.
برے مردوں کی برائی بیان کرنا درست ہے
1 Hadith
No chapter matched that.