TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of as-saum (the fasting). - کتاب روزے کے مسائل کا بیان - Book 31 of Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Book 31 of Sahih Bukhari, with 68 chapters and 117 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

117 Hadith · 68 Chapters
(53) CHAPTER. What is said about the fasting and non-fasting (periods) of the Prophet .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کا بیان
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : مَا صَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا كَامِلًا قَطُّ غَيْرَ رَمَضَانَ ، وَيَصُومُ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ : لَا وَاللَّهِ لَا يُفْطِرُ ، وَيُفْطِرُ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ : لَا وَاللَّهِ لَا يَصُومُ .
Narrated Ibn `Abbas: The Prophet never fasted a full month except the month of Ramadan, and he used to fast till one could say, By Allah, he will never stop fasting, and he would abandon fasting till one would say, By Allah, he will never fast.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے ابوبشر نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رمضان کے سوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی پورے مہینے کا روزہ نہیں رکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نفل روزہ رکھنے لگتے تو دیکھنے والا کہہ اٹھتا کہ بخدا، اب آپ بے روزہ نہیں رہیں گے اور اسی طرح جب نفل روزہ چھوڑ دیتے تو کہنے والا کہتا کہ واللہ! اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ نہیں رکھیں گے۔
1971
Sahih
(53) CHAPTER. What is said about the fasting and non-fasting (periods) of the Prophet .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کا بیان
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفْطِرُ مِنَ الشَّهْرِ ، حَتَّى نَظُنَّ أَنْ لَا يَصُومَ مِنْهُ ، وَيَصُومُ حَتَّى نَظُنَّ أَنْ لَا يُفْطِرَ مِنْهُ شَيْئًا ، وَكَانَ لَا تَشَاءُ تَرَاهُ مِنَ اللَّيْلِ مُصَلِّيًا إِلَّا رَأَيْتَهُ ، وَلَا نَائِمًا إِلَّا رَأَيْتَهُ ، وَقَالَ سُلَيْمَانُ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ أَنَسًا فِي الصَّوْمِ .
Narrated Anas: Allah's Apostle used to leave fasting in a certain month till we thought that he would not fast in that month, and he used to fast in another month till we thought he would not stop fasting at all in that month. And if one wanted to see him praying at night, one could see him (in that condition), and if one wanted to see him sleeping at night, one could see him (in that condition) too.
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے حمید طویل نے اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی مہینہ میں بے روزہ کے رہتے تو ہمیں خیال ہوتا کہ اس مہینہ میں آپ روزہ رکھیں گے ہی نہیں۔ اسی طرح کسی مہینہ میں نفل روزہ رکھنے لگتے تو ہم خیال کرتے کہ اب اس مہینہ کا ایک دن بھی بے روزے کے نہیں گزرے گا۔ جو جب بھی چاہتا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو رات میں نماز پڑھتے دیکھ سکتا تھا اور جب بھی چاہتا سوتا ہوا بھی دیکھ سکتا تھا۔ سلیمان نے حمید طویل سے یوں بیان کیا کہ انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے روزہ کے متعلق پوچھا تھا۔
1972
Sahih
(53) CHAPTER. What is said about the fasting and non-fasting (periods) of the Prophet .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کا بیان
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ سَلَامٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنْ صِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَا كُنْتُ أُحِبُّ أَنْ أَرَاهُ مِنَ الشَّهْرِ صَائِمًا إِلَّا رَأَيْتُهُ ، وَلَا مُفْطِرًا إِلَّا رَأَيْتُهُ ، وَلَا مِنَ اللَّيْلِ قَائِمًا إِلَّا رَأَيْتُهُ ، وَلَا نَائِمًا إِلَّا رَأَيْتُهُ ، وَلَا مَسِسْتُ خَزَّةً وَلَا حَرِيرَةً أَلْيَنَ مِنْ كَفِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَا شَمِمْتُ مِسْكَةً وَلَا عَبِيرَةً أَطْيَبَ رَائِحَةً مِنْ رَائِحَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
Narrated Humaid: I asked Anas about the fasting of the Prophet. He said Whenever I liked to see the Prophet fasting in any month, I could see that, and whenever I liked to see him not fasting, I could see that too, and if I liked to see him praying in any night, I could see that, and if I liked to see him sleeping, I could see that, too. Anas further said, I never touched silk or velvet softer than the hand of Allah's Apostle and never smelled musk or perfumed smoke more pleasant than the smell of Allah's Apostle.
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ابوخالد احمر نے خبر دی، کہا کہ ہم کو حمید نے خبر دی، کہا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے متعلق پوچھا۔ آپ نے فرمایا کہ جب بھی میرا دل چاہتا کہ آپ کو روزے سے دیکھوں تو میں آپ کو روزے سے ہی دیکھتا۔ اور بغیر روزے کے چاہتا تو بغیر روزے سے ہی دیکھتا۔ رات میں کھڑے ( نماز پڑھتے ) دیکھنا چاہتا تو اسی طرح نماز پڑھتے دیکھتا۔ اور سوتے ہوئے دیکھنا چاہتا تو اسی طرح دیکھتا۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ہاتھوں سے زیادہ نرم و نازک ریشم کے کپڑوں کو بھی نہیں دیکھا۔ اور نہ مشک و عنبر کو آپ کی خوشبو سے زیادہ خوشبودار پایا۔
1973
Sahih
(54) CHAPTER. The right of the guest in fasting.
مہمان کی خاطر سے نفل روزہ نہ رکھنا یا توڑ ڈالنا
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ يَعْنِي إِنَّ لِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ، وَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ، فَقُلْتُ : وَمَا صَوْمُ دَاوُدَ ؟ قَالَ : نِصْفُ الدَّهْرِ .
Narrated `Abdullah bin `Amr bin Al-`As: Once Allah's Apostle came to me, and then he narrated the whole narration, i.e. your guest has a right on you, and your wife has a right on you. I then asked about the fasting of David. The Prophet replied, Half of the year, (i.e. he used to fast on every alternate day).
ہم سے اسحاق نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ہارون بن اسماعیل نے خبر دی، کہا کہ ہم سے علی نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوسلمہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے۔ پھر انہوں نے پوری حدیث بیان کی، یعنی تمہارے ملاقاتیوں کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے۔ اس پر میں نے پوچھا اور داؤد علیہ السلام کا روزہ کیسا تھا؟ تو آپ نے فرمایا کہ ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن بے روزہ رہنا صوم داؤدی ہے۔
1974
Sahih
(55) CHAPTER. The right of the body in observing As-Saum (the fast).
روزے میں جسم کا حق
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ النَّهَارَ ، وَتَقُومُ اللَّيْلَ ؟ فَقُلْتُ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : فَلَا تَفْعَلْ صُمْ وَأَفْطِرْ ، وَقُمْ وَنَمْ ، فَإِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ، وَإِنَّ لِعَيْنِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ، وَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ، وَإِنَّ لِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ، وَإِنَّ بِحَسْبِكَ أَنْ تَصُومَ كُلَّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ، فَإِنَّ لَكَ بِكُلِّ حَسَنَةٍ عَشْرَ أَمْثَالِهَا ، فَإِنَّ ذَلِكَ صِيَامُ الدَّهْرِ كُلِّهِ ، فَشَدَّدْتُ ، فَشُدِّدَ عَلَيَّ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً ، قَالَ : فَصُمْ صِيَامَ نَبِيِّ اللَّهِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام ، وَلَا تَزِدْ عَلَيْهِ ، قُلْتُ : وَمَا كَانَ صِيَامُ نَبِيِّ اللَّهِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام ؟ قَالَ : نِصْفَ الدَّهْرِ ، فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ ، يَقُولُ بَعْدَ مَا كَبِرَ : يَا لَيْتَنِي قَبِلْتُ رُخْصَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
Narrated `Abdullah bin `Amr bin Al-`As: Allah's Apostle said to me, O `Abdullah! Have I not been informed that you fast during the day and offer prayers all the night. `Abdullah replied, Yes, O Allah's Apostle! The Prophet said, Don't do that; fast for few days and then give it up for few days, offer prayers and also sleep at night, as your body has a right on you, and your wife has a right on you, and your guest has a right on you. And it is sufficient for you to fast three days in a month, as the reward of a good deed is multiplied ten times, so it will be like fasting throughout the year. I insisted (on fasting) and so I was given a hard instruction. I said, O Allah's Apostle! I have power. The Prophet said, Fast like the fasting of the Prophet David and do not fast more than that. I said, How was the fasting of the Prophet of Allah, David? He said, Half of the year, (i.e. he used to fast on every alternate day). Afterwards when `Abdullah became old, he used to say, It would have been better for me if I had accepted the permission of the Prophet (which he gave me i.e. to fast only three days a month).
ہم سے ابن مقاتل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہم کو اوزاعی نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھ سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، عبداللہ! کیا یہ خبر صحیح ہے کہ تم دن میں تو روزہ رکھتے ہو اور ساری رات نماز پڑھتے ہو؟ میں نے عرض کی صحیح ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے فرمایا، کہ ایسا نہ کر، روزہ بھی رکھ اور بے روزہ کے بھی رہ۔ نماز بھی پڑھ اور سوؤ بھی۔ کیونکہ تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے تمہاری آنکھوں کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے اور تم سے ملاقات کرنے والوں کا بھی تم پر حق ہے بس یہی کافی ہے کہ ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھ لیا کرو، کیونکہ ہر نیکی کا بدلہ دس گنا ملے گا اور اس طرح یہ ساری عمر کا روزہ ہو جائے گا، لیکن میں نے اپنے پر سختی چاہی تو مجھ پر سختی کر دی گئی۔ میں نے عرض کی، یا رسول اللہ! میں اپنے میں قوت پاتا ہوں۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ پھر اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام کا روزہ رکھ اور اس سے آگے نہ بڑھ، میں نے پوچھا اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام کا روزہ کیا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن بے روزہ رہا کرتے تھے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ بعد میں جب ضعیف ہو گئے تو کہا کرتے تھے کاش! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی رخصت مان لیتا۔
1975
Sahih
(56) CHAPTER. Observing Saum (fasting) daily throughout the life.
ہمیشہ روزہ رکھنا ( جس کو صوم الدھر کہتے ہیں )
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، قَالَ : أُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنِّي أَقُولُ : وَاللَّهِ لَأَصُومَنَّ النَّهَارَ ، وَلَأَقُومَنَّ اللَّيْلَ مَا عِشْتُ ، فَقُلْتُ لَهُ : قَدْ قُلْتُهُ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، قَالَ : فَإِنَّكَ لَا تَسْتَطِيعُ ذَلِكَ ، فَصُمْ وَأَفْطِرْ ، وَقُمْ وَنَمْ ، وَصُمْ مِنَ الشَّهْرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ، فَإِنَّ الْحَسَنَةَ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا ، وَذَلِكَ مِثْلُ صِيَامِ الدَّهْرِ ، قُلْتُ : إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : فَصُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمَيْنِ ، قُلْتُ : إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : فَصُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا ، فَذَلِكَ صِيَامُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام وَهُوَ أَفْضَلُ الصِّيَامِ ، فَقُلْتُ : إِنِّي أُطِيقُ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ .
Narrated `Abdullah bin `Amr: Allah's Apostle was informed that I had taken an oath to fast daily and to pray (every night) all the night throughout my life (so Allah's Apostle came to me and asked whether it was correct): I replied, Let my parents be sacrificed for you! I said so. The Prophet said, You can not do that. So, fast for few days and give it up for few days, r ray and sleep. Fast three days a month as the reward of good deeds is multiplied ten times and that will be equal to one year of fasting. I replied, I can do better than that. The Prophet said to me, Fast one day and give up fasting for a day and that is the fasting of Prophet David and that is the best fasting. I said, I have the power to fast better (more) than that. The Prophet said, There is no better fasting than that.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، کہا کہ مجھے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی کہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک میری یہ بات پہنچا گئی کہ ”اللہ کی قسم! زندگی بھر میں دن میں تو روزے رکھوں گا۔ اور ساری رات عبادت کروں گا“ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی، میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا ہوں، ہاں میں نے یہ کہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن تیرے اندر اس کی طاقت نہیں، اس لیے روزہ بھی رکھ اور بے روزہ بھی رہ۔ عبادت بھی کر لیکن سوؤ بھی اور مہینے میں تین دن کے روزے رکھا کر۔ نیکیوں کا بدلہ دس گنا ملتا ہے، اس طرح یہ ساری عمر کا روزہ ہو جائے گا، میں نے کہا کہ میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ایک دن روزہ رکھا کر اور دو دن کے لیے روزے چھوڑ دیا کر۔ میں نے پھر کہا کہ میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا ایک دن روزہ رکھ اور ایک دن بے روزہ کے رہ کہ داؤد علیہ السلام کا روزہ ایسا ہی تھا۔ اور روزہ کا یہ سب سے افضل طریقہ ہے۔ میں نے اب بھی وہی کہا کہ مجھے اس سے بھی زیادہ کی طاقت ہے لیکن اس مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے افضل کوئی روزہ نہیں ہے۔
1976
Sahih
(57) CHAPTER. The right of the family (wife) in observing As-Saum (the fast).
روزہ میں بیوی اور بال بچوں کا حق
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، سَمِعْتُ عَطَاءً ، أَنَّ أَبَا الْعَبَّاسِ الشَّاعِرَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، بَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنِّي أَسْرُدُ الصَّوْمَ وَأُصَلِّي اللَّيْلَ ، فَإِمَّا أَرْسَلَ إِلَيَّ ، وَإِمَّا لَقِيتُهُ ، فَقَالَ : أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ وَلَا تُفْطِرُ وَتُصَلِّي وَلَا تَنَامُ ، فَصُمْ وَأَفْطِرْ ، وَقُمْ وَنَمْ ، فَإِنَّ لِعَيْنِكَ عَلَيْكَ حَظًّا ، وَإِنَّ لِنَفْسِكَ ، وَأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَظًّا ، قَالَ : إِنِّي لَأَقْوَى لِذَلِكَ ، قَالَ : فَصُمْ صِيَامَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام ، قَالَ : وَكَيْفَ ؟ قَالَ : كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا ، وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقَى ، قَالَ : مَنْ لِي بِهَذِهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، قَالَ عَطَاءٌ : لَا أَدْرِي كَيْفَ ذَكَرَ صِيَامَ الْأَبَدِ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ مَرَّتَيْنِ .
Narrated `Abdullah bin `Amr: The news of my daily fasting and praying every night throughout the night reached the Prophet. So he sent for me or I met him, and he said, I have been informed that you fast everyday and pray every night (all the night). Fast (for some days) and give up fasting (for some days); pray and sleep, for your eyes have a right on you, and your body and your family (i.e. wife) have a right on you. I replied, I have more power than that (fasting). The Prophet said, Then fast like the fasts of (the Prophet) David . I said, How? He replied, He used to fast on alternate days, and he used not to flee on meeting the enemy. I said, From where can I get that chance? (`Ata' said, I do not know how the expression of fasting daily throughout the life occurred. ) So, the Prophet said, twice, Whoever fasts daily throughout his life is just as the one who does not fast at all.
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ابوعاصم نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے، انہوں نے عطاء سے سنا، انہیں ابوعباس شاعر نے خبر دی، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ میں مسلسل روزے رکھتا ہوں اور ساری رات عبادت کرتا ہوں۔ اب یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو میرے پاس بھیجا یا خود میں نے آپ سے ملاقات کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا یہ خبر صحیح ہے کہ تو متواتر روزے رکھتا ہے اور ایک بھی نہیں چھوڑتا اور ( رات بھر ) نماز پڑھتا رہتا ہے؟ روزہ بھی رکھ اور بے روزہ بھی رہ، عبادت بھی کر اور سوؤ بھی کیونکہ تیری آنکھ کا بھی تجھ پر حق ہے، تیری جان کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیری بیوی کا بھی تجھ پر حق ہے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھ میں اس سے زیادہ کی طاقت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر داؤد علیہ السلام کی طرح روزہ رکھا کر۔ انہوں نے کہا اور وہ کس طرح؟ فرمایا کہ داؤد علیہ السلام ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن کا روزہ چھوڑ دیا کرتے تھے۔ اور جب دشمن سے مقابلہ ہوتا تو پیٹھ نہیں پھیرتے تھے۔ اس پر عبداللہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی، اے اللہ کے نبی! میرے لیے یہ کیسے ممکن ہے کہ میں پیٹھ پھیر جاؤں۔ عطاء نے کہا کہ مجھے یاد نہیں ( اس حدیث میں ) صوم دہر کا کس طرح ذکر ہوا! ( البتہ انہیں اتنا دیا تھا کہ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جو صوم دہر رکھتا ہے اس کا روزہ ہی نہیں، دو مرتبہ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا ) ۔
1977
Sahih
(58) CHAPTER. Saum (fasting) on alternate days.
ایک دن روزہ اور ایک دن افطار کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُجَاهِدًا ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : صُمْ مِنَ الشَّهْرِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ، قَالَ : أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، فَمَا زَالَ حَتَّى قَالَ : صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا ، فَقَالَ : اقْرَإِ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ شَهْرٍ ، قَالَ : إِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ ، فَمَا زَالَ حَتَّى قَالَ فِي ثَلَاثٍ .
Narrated Mujahid from `Abdullah bin `Amr: The Prophet said (to `Abdullah), Fast three days a month. `Abdullah said, (to the Prophet) I am able to fast more than that. They kept on arguing on this matter till the Prophet said, Fast on alternate days, and recite the whole Qur'an once a month. `Abdullah said, I can recite more (in a month), and the argument went on till the Prophet said, Recite the Qur'an once each three days. (i.e. you must not recite the whole Qur'an in less than three days).
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے مغیرہ نے بیان کیا کہ میں نے مجاہد سے سنا اور انہوں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، مہینہ میں صرف تین دن کے روزے رکھا کر۔ انہوں نے کہا کہ مجھ میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت ہے۔ اسی طرح وہ برابر کہتے رہے ( کہ مجھ میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت ہے ) یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن کا روزہ چھوڑ دیا کر۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یہ بھی فرمایا کہ مہینہ میں ایک قرآن مجید ختم کیا کر۔ انہوں نے اس پر بھی کہا کہ میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ اور برابر یہی کہتے رہے۔ یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تین دن میں ( ایک قرآن ختم کیا کر ) ۔
1978
Sahih
(59) CHAPTER. The Saum (fasting) of Dawud (David) عليه السلام.
حضرت داؤد علیہ السلام کا روزہ
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ الْمَكِّيَّ ، وَكَانَ شَاعِرًا ، وَكَانَ لَا يُتَّهَمُ فِي حَدِيثِهِ ، قَالَ :سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّكَ لَتَصُومُ الدَّهْرَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ ، فَقُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : إِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ هَجَمَتْ لَهُ الْعَيْنُ ، وَنَفِهَتْ لَهُ النَّفْسُ ، لَا صَامَ مَنْ صَامَ الدَّهْرَ صَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ صَوْمُ الدَّهْرِ كُلِّهِ ، قُلْتُ : فَإِنِّي أُطِيقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ : فَصُمْ صَوْمَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام ، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا ، وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقَى .
Narrated `Abdullah bin `Amr bin Al-`As: The Prophet said to me, You fast daily all the year and pray every night all the night? I replied in the affirmative. The Prophet said, If you keep on doing this, your eyes will become weak and your body will get tired. He who fasts all the year is as he who did not fast at all. The fasting of three days (a month) will be equal to the tasting of the whole year. I replied, I have the power for more than this. The Prophet said, Then fast like the fasting of David who used to fast on alternate days and would never flee from the battle field, on meeting the enemy.
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حبیب بن ابی ثابت نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابوعباس مکی سے سنا، وہ شاعر تھے لیکن روایت حدیث میں ان پر کسی قسم کا اتہام نہیں تھا۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کیا تو متواتر روزے رکھتا ہے اور رات بھر عبادت کرتا ہے؟ میں نے ہاں میں جواب دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر تو یونہی کرتا رہا تو آنکھیں دھنس جائیں گی، اور تو بےحد کمزور ہو جائے گا یہ کوئی روزہ نہیں کہ کوئی زندگی بھر ( بلاناغہ ہر روز ) روزہ رکھے۔ تین دن کا ( ہر مہینہ میں ) روزہ پوری زندگی کے روزے کے برابر ہے۔ میں نے اس پر کہا کہ مجھے اس سے بھی زیادہ طاقت ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر داؤد علیہ السلام کا روزہ رکھا کر۔ آپ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن روزہ چھوڑ دیتے تھے اور جب دشمن کا سامنا ہوتا تو پیٹھ نہیں دکھلایا کرتے تھے۔
1979
Sahih
(59) CHAPTER. The Saum (fasting) of Dawud (David) عليه السلام.
حضرت داؤد علیہ السلام کا روزہ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ شَاهِينَ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الْمَلِيحِ ، قَالَ : دَخَلْتُ مَعَ أَبِيكَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، فَحَدَّثَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذُكِرَ لَهُ صَوْمِي ، فَدَخَلَ عَلَيَّ ، فَأَلْقَيْتُ لَهُ وِسَادَةً مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ ، فَجَلَسَ عَلَى الْأَرْضِ ، وَصَارَتِ الْوِسَادَةُ بَيْنِي وَبَيْنَهُ ، فَقَالَ : أَمَا يَكْفِيكَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ ؟ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : خَمْسًا ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : سَبْعًا ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : تِسْعًا ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : إِحْدَى عَشْرَةَ ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا صَوْمَ فَوْقَ صَوْمِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام ، شَطْرَ الدَّهَرِ ، صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا .
Narrated `Abdullah bin `Amr: Allah's Apostle was informed about my fasts, and he came to me and I spread for him a leather cushion stuffed with palm fires, but he sat on the ground and the cushion remained between me and him, and then he said, Isn't it sufficient for you to fast three days a month? I replied, O Allah's Apostle! (I can fast more). He said, Five? I replied, O Allah's Apostle! (I can fast more). He said, Seven? I replied, O Allah's Apostle! (I can fast more). He said, Nine (days per month)? I replied, O Allah's Apostle! (I can fast more) He said, Eleven (days per month)? And then the Prophet said, There is no fast superior to that of the Prophet David it was for half of the year. So, fast on alternate days.
ہم سے اسحٰق واسطی نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا، ان سے خالد حذاء نے اور ان سے ابوقلابہ نے کہ مجھے ابوملیح نے خبر دی، کہا کہ میں آپ کے والد کے ساتھ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے روزے کے متعلق خبر ہو گئی۔ ( کہ میں مسلسل روزے رکھتا ہوں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے اور میں نے ایک گدہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بچھا دیا۔ جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر بیٹھ گئے۔ اور تکیہ میرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کیا تمہارے لیے ہر مہینہ میں تین دن کے روزے کافی نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے عرض کی، یا رسول اللہ! ( کچھ اور بڑھا دیجئیے ) آپ نے فرمایا، اچھا پانچ دن کے روزے ( رکھ لے ) میں نے عرض کی، یا رسول اللہ کچھ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چلو چھ دن، میں نے عرض کی یا رسول اللہ! ( کچھ اور بڑھائیے، مجھ میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! اچھا نو دن، میں نے عرض کی، یا رسول اللہ! کچھ اور فرمایا، اچھا گیارہ دن۔ آخر آپ نے فرمایا کہ داؤد علیہ السلام کے روزے کے طریقے کے سوا اور کوئی طریقہ ( شریعت میں ) جائز نہیں۔ یعنی زندگی کے آدھے دنوں میں ایک دن کا روزہ رکھ اور ایک دن کا روزہ چھوڑ دیا کر۔
1980
Sahih
(60) CHAPTER. To observe Saum (fast) the three days (preceding) the full moon night, i.e., 13th, 14th and 15th of the lunar months.
ایام بیض کے روزے یعنی تیرہ ، چودہ اور پندرہ تاریخوں کے روزے رکھنا
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ : صِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ، وَرَكْعَتَيِ الضُّحَى ، وَأَنْ أُوتِرَ قَبْلَ أَنْ أَنَامَ .
Narrated Abu Huraira: My friend (the Prophet ) advised me to observe three things: (1) to fast three days a month; (2) to pray two rak`at of Duha prayer (forenoon prayer); and (3) to pray witr before sleeping.
ہم سے معمر نے بیان کیا، ان سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے ابوالتیاح نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوعثمان نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ہر مہینے کی تین تاریخوں میں روزہ رکھنے کی وصیت فرمائی تھی۔ اسی طرح چاشت کی دو رکعتوں کی بھی وصیت فرمائی تھی اور اس کی بھی کہ سونے سے پہلے ہی میں وتر پڑھ لیا کروں۔
1981
Sahih
(61) CHAPTER. Whoever Visited some people and did not break his (optional) Saum (fast) with them.
جو شخص کسی کے ہاں بطور مہمان ملاقات کے لیے گیا اور ان کے یہاں جا کر اس نے اپنا نفلی روزہ نہیں توڑا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنِي خَالِدٌ هُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمِّ سُلَيْمٍ فَأَتَتْهُ بِتَمْرٍ وَسَمْنٍ ، قَالَ : أَعِيدُوا سَمْنَكُمْ فِي سِقَائِهِ ، وَتَمْرَكُمْ فِي وِعَائِهِ ، فَإِنِّي صَائِمٌ ، ثُمَّ قَامَ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ الْبَيْتِ فَصَلَّى غَيْرَ الْمَكْتُوبَةِ ، فَدَعَا لِأُمِّ سُلَيْمٍ وَأَهْلِ بَيْتِهَا ، فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِي خُوَيْصَّةً ، قَالَ : مَا هِيَ ؟ قَالَتْ : خَادِمُكَ أَنَسٌ ، فَمَا تَرَكَ خَيْرَ آخِرَةٍ وَلَا دُنْيَا إِلَّا دَعَا لِي بِهِ ، قَالَ : اللَّهُمَّ ارْزُقْهُ مَالًا ، وَوَلَدًا ، وَبَارِكْ لَهُ فِيهِ ، فَإِنِّي لَمِنْ أَكْثَرِ الْأَنْصَارِ مَالًا ، وَحَدَّثَتْنِي ابْنَتِي أُمَيْنَةُ أَنَّهُ دُفِنَ لِصُلْبِي مَقْدَمَ حَجَّاجٍ الْبَصْرَةَ بِضْعٌ وَعِشْرُونَ وَمِائَةٌ . حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ ، سَمِعَ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
Narrated Anas: The Prophet paid a visit to Um-Sulaim and she placed before him dates and ghee. The Prophet said, Replace the ghee and dates in their respective containers for I am fasting. Then he stood somewhere in her house and offered an optional prayer and then he invoked good on Um-Sulaim and her family. Then Um-Sulaim said, O Allah's Apostle! I have a special request (today). He said, What is it? She replied, (Please invoke for) your servant Anas. So Allah's Apostle did not leave anything good in the world or the Hereafter which he did not invoke (Allah to bestow) on me and said, O Allah! Give him (i.e. Anas) property and children and bless him. Thus I am one of the richest among the Ansar and my daughter Umaina told me that when Al-Hajjaj came to Basra, more than 120 of my offspring had been buried.
ہم سے محمد بن مثنی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے خالد نے (جو حارث کے بیٹے ہیں) بیان کیا، ان سے حمید نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ام سلیم رضی اللہ عنہا نامی ایک عورت کے یہاں تشریف لے گئے۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھجور اور گھی پیش کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، یہ گھی اس کے برتن میں رکھ دو اور یہ کھجوریں بھی اس کے برتن میں رکھ دو کیونکہ میں تو روزے سے ہوں، پھر آپ نے گھر کے ایک کنارے میں کھڑے ہو کر نفل نماز پڑھی اور ام سلیم رضی اللہ عنہا اور ان کے گھر والوں کے لیے دعا کی، ام سلیم رضی اللہ عنہا نے عرض کی کہ میرا ایک بچہ لاڈلا بھی تو ہے ( اس کے لیے بھی تو دعا فرما دیجئیے ) فرمایا کون ہے انہوں نے کہا آپ کا خادم انس ( رضی اللہ عنہ ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا اور آخرت کی کوئی خیر و بھلائی نہ چھوڑی جس کی ان کے لیے دعا نہ کی ہو۔ آپ نے دعا میں یہ بھی فرمایا اے اللہ! اسے مال اور اولاد عطا فرما اور اس کے لیے برکت عطا کر ( انس رضی اللہ عنہ کا بیان تھا کہ ) چنانچہ میں انصار میں سب سے زیادہ مالدار ہوں۔ اور مجھ سے میری بیٹی امینہ نے بیان کیا حجاج کے بصرہ آنے تک میری صلبی اولاد میں سے تقریباً ایک سو بیس دفن ہو چکے تھے۔ ہم سے ابن ابی مریم نے بیان کیا، انہیں یحییٰ نے خبر دی، کہا کہ مجھ سے حمید نے بیان کیا، اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ کے ساتھ۔
1982
Sahih
(62) CHAPTER. Fasting the last days of the month.
مہینے کے آخر میں روزہ رکھنا
حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ ، عَنْ غَيْلَانَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ سَأَلَهُ ، أَوْ سَأَلَ رَجُلًا وَعِمْرَانُ يَسْمَعُ ، فَقَالَ : يَا أَبَا فُلَانٍ ، أَمَا صُمْتَ سَرَرَ هَذَا الشَّهْرِ ؟ قَالَ : أَظُنُّهُ قَالَ يَعْنِي رَمَضَانَ ، قَالَ الرَّجُلُ : لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : فَإِذَا أَفْطَرْتَ ، فَصُمْ يَوْمَيْنِ ، لَمْ يَقُلِ الصَّلْتُ أَظُنُّهُ يَعْنِي رَمَضَانَ ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : وَقَالَ ثَابِتٌ : عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِمْرَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَرَرِ شَعْبَانَ .
Narrated Mutarrif from `Imran Ibn Husain: That the Prophet asked him (Imran) or asked a man and `Imran was listening, O Abu so-and-so! Have you fasted the last days of this month? (The narrator thought that he said, the month of Ramadan ). The man replied, No, O Allah's Apostle! The Prophet said to him, When you finish your fasting (of Ramadan) fast two days (in Shawwal). Through another series of narrators `Imran said, The Prophet said, '(Have you fasted) the last days of Sha'ban?
ہم سے صلت بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے مہدی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے غیلان نے (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے مہدی بن میمون نے، ان سے غیلان بن جریر نے، ان سے مطرف نے، ان سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا یا ( مطرف نے یہ کہا کہ ) سوال تو کسی اور نے کیا تھا لیکن وہ سن رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے ابوفلاں! کیا تم نے اس مہینے کے آخر کے روزے رکھے؟ ابونعمان نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ راوی نے کہا کہ آپ کی مراد رمضان سے تھی۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) کہتے ہیں کہ ثابت نے بیان کیا، ان سے مطرف نے، ان سے عمران رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( رمضان کے آخر کے بجائے ) شعبان کے آخر میں کا لفظ بیان کیا ( یہی صحیح ہے ) ۔
1983
Sahih
(63) CHAPTER. Observing Saum (fast) on Friday. If someone gets up in the morning of Friday and is observing the Saum (fast) he should break it [if he did not observe Saum the day before or does not intend to observe Saum (fasts) after it].
جمعہ کے دن روزہ رکھنا اگر کسی نے خالی ایک جمعہ کے دن کے روزہ کی نیت کر لی تو اسے توڑ ڈالے
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ ، قَالَ : نَعَمْ ، زَادَ غَيْرُ أَبِي عَاصِمٍ يَعْنِي أَنْ يَنْفَرِدَ بِصَوْمٍ .
Narrated Muhammad bin `Abbas: I asked Jabir Did the Prophet forbid fasting on Fridays? He replied, Yes. (Other narrators added, If he intends to fast only that day. )
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے، ان سے عبدالحمید بن جبیر نے اور ان سے محمد بن عباد نے کہ میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں! ابوعاصم کے علاوہ راویوں نے یہ اضافہ کیا ہے کہ خالی ( ایک جمعہ ہی کے دن ) روزہ رکھنے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا۔
1984
Sahih
(63) CHAPTER. Observing Saum (fast) on Friday. If someone gets up in the morning of Friday and is observing the Saum (fast) he should break it [if he did not observe Saum the day before or does not intend to observe Saum (fasts) after it].
جمعہ کے دن روزہ رکھنا اگر کسی نے خالی ایک جمعہ کے دن کے روزہ کی نیت کر لی تو اسے توڑ ڈالے
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لَا يَصُومَنَّ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، إِلَّا يَوْمًا قَبْلَهُ أَوْ بَعْدَهُ .
Narrated Abu Huraira: I heard the Prophet saying, None of you should fast on Friday unless he fasts a day before or after it.
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابوصالح نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی بھی شخص جمعہ کے دن اس وقت تک روزہ نہ رکھے جب تک اس سے ایک دن پہلے یا اس کے ایک بعد روزہ نہ رکھتا ہو۔
1985
Sahih
(63) CHAPTER. Observing Saum (fast) on Friday. If someone gets up in the morning of Friday and is observing the Saum (fast) he should break it [if he did not observe Saum the day before or does not intend to observe Saum (fasts) after it].
جمعہ کے دن روزہ رکھنا اگر کسی نے خالی ایک جمعہ کے دن کے روزہ کی نیت کر لی تو اسے توڑ ڈالے
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَهِيَ صَائِمَةٌ ، فَقَالَ : أَصُمْتِ أَمْسِ ؟ قَالَتْ : لَا ، قَالَ : تُرِيدِينَ أَنْ تَصُومِي غَدًا ؟ قَالَتْ : لَا ، قَالَ : فَأَفْطِرِي ، وَقَالَ حَمَّادُ بْنُ الْجَعْدِ : سَمِعَ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ ، أَنَّ جُوَيْرِيَةَ حَدَّثَتْهُ ، فَأَمَرَهَا فَأَفْطَرَتْ .
Narrated Abu Aiyub from Juwairiya bint Al-Harith: The Prophet visited her (Juwairiya) on a Friday and she was fasting. He asked her, Did you fast yesterday? She said, No. He said, Do you intend to fast tomorrow? She said, No. He said, Then break your fast. Through another series of narrators, Abu Aiyub is reported to have said, He ordered her and she broke her fast.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، (دوسری سند) اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھ سے محمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے ابوایوب نے اور ان سے جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں جمعہ کے دن تشریف لے گئے، ( اتفاق سے ) وہ روزہ سے تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر دریافت فرمایا کے کل کے دن بھی تو نے روزہ رکھا تھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا آئندہ کل روزہ رکھنے کا ارادہ ہے؟ جواب دیا کہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر روزہ توڑ دو۔ حماد بن جعد نے بیان کیا کہ انہوں نے قتادہ سے سنا، ان سے ابوایوب نے بیان کیا اور ان سے جویریہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور انہوں نے روزہ توڑ دیا۔
1986
Sahih
(64) CHAPTER. Can one select some special days [for observing Saum (fast)]?
روزے کے لیے کوئی دن مقرر کرنا
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْتَصُّ مِنَ الْأَيَّامِ شَيْئًا ؟ قَالَتْ : لَا ، كَانَ عَمَلُهُ دِيمَةً ، وَأَيُّكُمْ يُطِيقُ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطِيقُ .
Narrated Alqama: I asked `Aisha Did Allah s Apostle, use to choose some special days (for fasting)? She replied, No, but he used to be regular (constant) (in his service of worshipping). Who amongst you can endure what Allah's Apostle used to endure?
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، ان سے منصور نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے علقمہ نے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( روزہ وغیرہ عبادات کے لیے ) کچھ دن خاص طور پر مقرر کر رکھے تھے؟ انہوں نے کہا نہیں۔ بلکہ آپ کے ہر عمل میں ہمیشگی ہوتی تھی اور دوسرا کون ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جتنی طاقت رکھتا ہو؟
1987
Sahih
(65) CHAPTER. Observing Saum (fast) on the day of Arafah.
عرفہ کے دن روزہ رکھنا
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مَالِكٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَالِمٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُمَيْرٌ مَوْلَى أُمِّ الْفَضْلِ ، أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ حَدَّثَتْهُ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَبَّاسِ ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ ، أَنَّ نَاسًا تَمَارَوْا عِنْدَهَا يَوْمَ عَرَفَةَ فِي صَوْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : هُوَ صَائِمٌ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَيْسَ بِصَائِمٍ ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ بِقَدَحِ لَبَنٍ وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى بَعِيرِهِ فَشَرِبَهُ .
Narrated Um Al-Fadl bint Al-Harith: While the people were with me on the day of `Arafat they differed as to whether the Prophet was fasting or not; some said that he was fasting while others said that he was not fasting. So, I sent to him a bowl full of milk while he was riding over his camel and he drank it.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ مجھ سے سالم نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ام فضل رضی اللہ عنہا کے مولی عمیر نے بیان کیا اور ان سے ام فضل رضی اللہ عنہا نے بیان کیا۔ (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہیں امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں عمر بن عبداللہ کے غلام ابونضر نے، انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام عمیر نے اور انہیں ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا نے کہ ان کے یہاں کچھ لوگ عرفات کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ کے بارے میں جھگڑ رہے تھے۔ بعض نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ سے ہیں۔ اور بعض نے کہا کہ روزہ سے نہیں ہیں۔ اس پر ام فضل رضی اللہ عنہا نے آپ کی خدمت میں دودھ کا ایک پیالہ بھیجا ( تاکہ حقیقت ظاہر ہو جائے ) آپ اپنے اونٹ پر سوار تھے، آپ نے دودھ پی لیا۔
1988
Sahih
(65) CHAPTER. Observing Saum (fast) on the day of Arafah.
عرفہ کے دن روزہ رکھنا
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَوْ قُرِئَ عَلَيْهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّ النَّاسَ شَكُّوا فِي صِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ بِحِلَابٍ وَهُوَ وَاقِفٌ فِي الْمَوْقِفِ ، فَشَرِبَ مِنْهُ وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ .
Narrated Maimuna: The people doubted whether the Prophet was fasting on the day of `Arafat or not, so I sent milk while he was standing at `Arafat, he drank it and the people were looking at him.
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، (یا ان کے سامنے حدیث کی قرآت کی گئی) ۔ کہا کہ مجھ کو عمرو نے خبر دی، انہیں بکیر نے، انہیں کریب نے اور انہیں میمونہ رضی اللہ عنہا نے کہ عرفہ کے دن کچھ لوگوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے متعلق شک ہوا۔ اس لیے انہوں نے آپ کی خدمت میں دودھ بھیجا۔ آپ اس وقت عرفات میں وقوف فرما تھے۔ آپ نے دودھ پی لیا اور سب لوگ دیکھ رہے تھے۔
1989
Sahih
(66) CHAPTER. Observing Saum on the first day of Eid-uI- Fitr.
عیدالفطر کے دن روزہ رکھنا
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ ، قَالَ : شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : هَذَانِ يَوْمَانِ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِهِمَا : يَوْمُ فِطْرِكُمْ مِنْ صِيَامِكُمْ ، وَالْيَوْمُ الْآخَرُ تَأْكُلُونَ فِيهِ مِنْ نُسُكِكُمْ ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ : مَنْ قَالَ مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ فَقَدْ أَصَابَ ، وَمَنْ قَالَ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، فَقَدْ أَصَابَ .
Narrated Abu `Ubaid: (the slave of Ibn Azhar) I witnessed the `Id with `Umar bin Al-Khattab who said, Allah's Apostle has forbidden people to fast on the day on which you break fasting (the fasts of Ramadan) and the day on which you eat the meat of your sacrifices (the first day of `Id ul Fitr and `Id ul-Adha).
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن ازہر کے غلام ابوعبید نے بیان کیا کہ عید کے دن میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے خدمت میں حاضر تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ دو دن ایسے ہیں جن کے روزوں کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ممانعت فرمائی ہے۔ ( رمضان کے ) روزوں کے بعد افطار کا دن ( عیدالفطر ) اور دوسرا وہ دن جس میں تم اپنی قربانی کا گوشت کھاتے ہو ( یعنی عید الاضحی کا دن ) ۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا سفیان بن عیینہ نے کہا، جس نے ابوعبداللہ کو ابن ازہر کا غلام کہا اس نے بھی ٹھیک کہا، اور جس نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کا غلام کہا اس نے بھی ٹھیک کہا۔ ( اس کی وجہ یہ ہے کہ ابن ازہر اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ دونوں اس غلام میں شریک تھے ) ۔
1990
Sahih

Chapters

68
01
(1) CHAPTER. Fasting is obligatory in (the month of) Ramadan.
رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
3 Hadith
02
(2) CHAPTER. The superiority of As-Saum (the fasting).
روزہ کی فضیلت کا بیان
1 Hadith
03
(3) CHAPTER. As-Saum (the fasting) is an expiation (for sins).
روزہ گناہوں کا کفارہ ہوتاہے
1 Hadith
04
(4) CHAPTER. Ar-Raiyan (one of the gates of Paradise) is for people observing Saum (fast) people.
روزہ داروں کے لیے ریان ( نامی ایک دروازہ جنت میں بنایا گیا ہے اس کی تفصیل کا بیان )
2 Hadith
05
(5) CHAPTER. Should it be said “Ramadan” or “the month of Ramadam?” And whoever thinks that both are permissible.
رمضان کہا جائے یا ماہ رمضان ؟ اور جن کے نزدیک دونوں لفظوں کی گنجائش ہے ۔
3 Hadith
06
(6) CHAPTER. Whoever observed fast in Ramadan out of sincere faith (that it is an enjoined duty), and hoping for a reward from Allah and with honest intention (i.e., only for Allah's sake).
جو شخص رمضان کے روزے ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت کر کے رکھے اس کا ثواب
1 Hadith
07
(7) CHAPTER. The Prophet used to be most generous in the month of Ramadan.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں سب سے زیادہ سخاوت کیا کرتے تھے
1 Hadith
08
(8) CHAPTER. Whoever does not give up lying speech (false statements (i.e., telling lies) and acting on those while obsering Saum (fast).
جو شخص رمضان میں جھوٹ بولنا اور دغابازی کرنا نہ چھوڑے
1 Hadith
09
(9) CHAPTER. Should one say, “I am observing Saum (fast)” on being abused?
کوئی روزہ دار کو اگر گالی دے تو اسے یہ کہنا چاہئے کہ میں روزہ سے ہوں ؟
1 Hadith
10
(10) CHAPTER. As-Saum (the fasting) (is recommended) for those who fear committing illegal sexual acts, i.e., those who are unmarried.
جو کنوارا ہو اور زنا سے ڈرے تو وہ روزہ رکھے
1 Hadith
11
(11) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Start observing Saum (fasts) on seeing the crescent-moon of Ramadan, and stop observing Saum on seeing the crescent-moon (of Shawwal).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد جب تم ( رمضان کا ) چاند دیکھو تو روزے رکھو اور جب شوال کا چاند دیکھو تو روزے رکھنا چھوڑ دو
6 Hadith
12
(12) CHAPTER. The two months of Eid do not decrease.
عید کے دونوں مہینے کم نہیں ہوتے
1 Hadith
13
(13) CHAPTER. The statement of the Prophet : “We neither write nor know accounts.”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ ہم لوگ حساب کتاب نہیں جانتے
1 Hadith
14
(14) CHAPTER. Not to observe Saum (fast) for a day or two ahead of Ramadan.
رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزے نہ رکھے جائیں
1 Hadith
15
(15) CHAPTER. The Statement of Allah: “It is made lawful for you to have sexual relations with your wives on the night of the As-Saum (the fasts)”.
اللہ عزوجل کا فرمانا کہ
1 Hadith
16
(16) CHAPTER. The Statement of Allah: … And eat and drink until the white thread of dawn appears to you distinct from the black.”
۔ ( سورۃ البقرہ میں ) اللہ تعالیٰ کا فرمانا کہ
2 Hadith
17
(17) CHAPTER. The statement of the Prophet : “The Adhan of Bilal should not stop you from taking Sahur (late-night meals).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ بلال کی اذان تمہیں سحری کھانے سے نہ روکے
2 Hadith
18
(18) CHAPTER. Taking the Sahur (late night meals taken before dawn) hurriedly (shortly before dawn).
سحری کھانے میں دیر کرنا
1 Hadith
19
(19) CHAPTER. What is the interva between the (end of) Sahur and the Salat-ul-Fajr (early morning prayer)?
سحری اور فجر کی نماز میں کتنا فاصلہ ہوتا تھا
1 Hadith
20
(20) CHAPTER. The Sahur (late night meals) is a blessing but it is not compulsory.
سحری کھانا مستحب ہے واجب نہیں ہے
2 Hadith
21
(21) CHAPTER. If the intention of observing Saum (fast) was made in the daytime.
اگر کوئی شخص روزے کی نیت دن میں کرے تو درست ہے
1 Hadith
22
(22) CHAPTER. If a person observing Saum (fasts) gets up in the morning in the state of Janaba [will his Saum (fast) be valid?]
روزہ دار صبح کو جنابت کی حالت میں اٹھے تو کیا حکم ہے
2 Hadith
23
(23) CHAPTER. To embrace while one is observing Saum (fast).
روزہ دار کا اپنی بیوی سے مباشرت یعنی بوسہ مساس وغیرہ درست ہے
1 Hadith
24
(24) CHAPTER. What is said regarding kissing by a fasting person.
روزہ دار کا روزہ کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لینا
2 Hadith
25
(25) CHAPTER. Taking a bath by a person observing Saum (fast).
روزہ دار کا غسل کرنا جائز ہے
3 Hadith
26
(26) CHAPTER. If a person observing Saum (fast) ate or drank forgetfully (should he observe Saum another day in lieu of that day)?
اگر روزہ دار بھول کر کھا پی لے تو روزہ نہیں جاتا
1 Hadith
27
(27) CHAPTER. Dry or green Siwak for the person observing Saum (fast).
روزہ دار کے لیے تر یا خشک مسواک استعمال کرنی درست ہے
1 Hadith
28
(29) CHAPTER. Whoever has a sexual intercourse with wife in Ramadan, (intentionally, he has to pay expiation).
جان بوجھ کر اگر رمضان میں کسی نے جما ع کیا ؟
1 Hadith
29
(30) CHAPTER: If somebody had a sexual intercourse with his wife in Ramadan and has got nothing, then if he is given something in charity, he should give the expiation of that sinful act.
اگر کسی نے رمضان میں قصداً جماع کیا !
1 Hadith
30
(31) CHAPTER. Can a person who has had sexual intercourse (with his wife) in Ramadan feed his family from things given as expiation of his sin if they are needy?
رمضان میں اپنی بیوی کے ساتھ قصداً ہمبستر ہونے والا شخص کیا کرے ؟
1 Hadith
31
(32) CHAPTER. Cupping (letting out blood medically) and vomiting of a person observing Saum (fast).
روزہ دار کا پچھنا لگوانا اور قے کرنا کیسا ہے
3 Hadith
32
(33) CHAPTER. To observe Saum (fast) or not to observe Saum during journeys.
سفر میں روزہ رکھنا اور افطار کرنا
3 Hadith
33
(34) CHAPTER. If a person observed Saum (fast) some days of Ramadan and then went on a journey (is it permissible for him to break his Saum).
جب رمضان میں کچھ روزے رکھ کر کوئی سفر کرے
1 Hadith
34
(35) CHAPTER.
۔ ۔ ۔
1 Hadith
35
(36) CHAPTER. The saying of the Prophet to the person observing Saum (fast) who was being shaded on a very hot day, It is not from Al-Birr (righteousness) to observe As-Saum (the fast) on a journey.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا اس شخص کے لیے جس پر شدت گرمی کی وجہ سے سایہ کر دیا گیا تھا کہ
1 Hadith
36
(37) CHAPTER. The Companions of the Prophet did not criticize each other for observing Saum (fast) or not observing Saum (fast) (on journeys).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم ( سفر میں ) روزہ رکھتے یا نہ رکھتے وہ ایک دوسرے پر نکتہ چینی نہیں کیا کرتے تھے
1 Hadith
37
(38) CHAPTER. Whoever broke his Saum (fast) on a journey (publicly) so that the people might see him.
سفر میں لوگوں کو دکھا کر روزہ افطا کر ڈالنا
1 Hadith
38
(39) CHAPTER. (The Statement of Allah): And as for those who can fast with difficulty (e.g. the aged etc) they have (a choice either to fast or) to feed a Miskin (poor person) (for every day). (V.2:184)
سورۃ البقرہ کی اس آیت کا بیان وعلی الذین یطیقونہ فدیۃ الایۃ
1 Hadith
39
(40) CHAPTER. When to make up for the missed days of fasting of Ramadan.
رمضان کے قضاء روزے کب رکھے جائیں
1 Hadith
40
(41) CHAPTER. The menstruating women should leave the Saum (fast) and As-Salat (the prayer).
حیض والی عورت نہ نماز پڑھے اور نہ روزے رکھے
1 Hadith
41
(42) CHAPTER. Whoever died and he ought to have observed Saum (fast) (the missed days of Ramadan, can somebody else observe Saum instead of him?)
اگر کوئی شخص مر جائے اور اس کے ذمہ روزے ہوں
2 Hadith
42
(43) CHAPTER. When should the person observing Saum (fast) break his Saum (fast)?
روزہ کس وقت افطا رکرے ؟
2 Hadith
43
(44) CHAPTER. lftar [to break the Saum (fast)] with the available water or anything else.
پانی وغیرہ جو چیز بھی پاس ہو اس سے روزہ افطار کر لینا چاہئے
1 Hadith
44
(45) CHAPTER. To hasten the Iftar [breaking of the fast].
روزہ کھولنے میں جلدی کرنا
2 Hadith
45
(46) CHAPTER. If somebody Aftara [breaks the Saum (fast)], thinking that the sun has set and then sees the sun still visible. [Should he make up for that Saum?]
ایک شخص نے سورج غروب سمجھ کر روزہ کھول لیا اس کے بعد سورج نکل آیا !
1 Hadith
46
(47) CHAPTER. Saum (fasting) of boys (children etc.)
بچوں کے روزہ رکھنے کا بیان
1 Hadith
47
(48) CHAPTER. Al-Wisal [i.e., to observe Saum (fast) continuously without eating or drinking anything by day or night, may be for a day or two or more].
پے درپے ملا کر روزہ رکھنا اور جنہوں نے یہ کہا کہ رات میں روزہ نہیں ہو سکتا
4 Hadith
48
(49) CHAPTER. The punishment for the person who practises Al-Wisal very often.
جو طے کے روزے بہت رکھے اس کو سزا دینے کا بیان
2 Hadith
49
(50) CHAPTER. To observe Saum (fast) continuously day and night (Al-Wisal) till the time of Sahar (last part of night).
سحری تک وصال کا روزہ رکھنا
1 Hadith
50
(51) CHAPTER. If someone forces his Muslim brother to break his (Nawafil) fast, by giving him oath, the person observing Saum (fast) has not to observe Saum (fast) in lieu of it if the giving up of the Saum was better for him.
کسی نے اپنے بھائی کو نفلی روزہ توڑنے کے لیے قسم دی
1 Hadith
51
(52) CHAPTER. Saum (fasting) in the month of Sha‘ban.
ماہ شعبان میں روزے رکھنے کا بیان
2 Hadith
52
(53) CHAPTER. What is said about the fasting and non-fasting (periods) of the Prophet .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کا بیان
3 Hadith
53
(54) CHAPTER. The right of the guest in fasting.
مہمان کی خاطر سے نفل روزہ نہ رکھنا یا توڑ ڈالنا
1 Hadith
54
(55) CHAPTER. The right of the body in observing As-Saum (the fast).
روزے میں جسم کا حق
1 Hadith
55
(56) CHAPTER. Observing Saum (fasting) daily throughout the life.
ہمیشہ روزہ رکھنا ( جس کو صوم الدھر کہتے ہیں )
1 Hadith
56
(57) CHAPTER. The right of the family (wife) in observing As-Saum (the fast).
روزہ میں بیوی اور بال بچوں کا حق
1 Hadith
57
(58) CHAPTER. Saum (fasting) on alternate days.
ایک دن روزہ اور ایک دن افطار کا بیان
1 Hadith
58
(59) CHAPTER. The Saum (fasting) of Dawud (David) عليه السلام.
حضرت داؤد علیہ السلام کا روزہ
2 Hadith
59
(60) CHAPTER. To observe Saum (fast) the three days (preceding) the full moon night, i.e., 13th, 14th and 15th of the lunar months.
ایام بیض کے روزے یعنی تیرہ ، چودہ اور پندرہ تاریخوں کے روزے رکھنا
1 Hadith
60
(61) CHAPTER. Whoever Visited some people and did not break his (optional) Saum (fast) with them.
جو شخص کسی کے ہاں بطور مہمان ملاقات کے لیے گیا اور ان کے یہاں جا کر اس نے اپنا نفلی روزہ نہیں توڑا
1 Hadith
61
(62) CHAPTER. Fasting the last days of the month.
مہینے کے آخر میں روزہ رکھنا
1 Hadith
62
(63) CHAPTER. Observing Saum (fast) on Friday. If someone gets up in the morning of Friday and is observing the Saum (fast) he should break it [if he did not observe Saum the day before or does not intend to observe Saum (fasts) after it].
جمعہ کے دن روزہ رکھنا اگر کسی نے خالی ایک جمعہ کے دن کے روزہ کی نیت کر لی تو اسے توڑ ڈالے
3 Hadith
63
(64) CHAPTER. Can one select some special days [for observing Saum (fast)]?
روزے کے لیے کوئی دن مقرر کرنا
1 Hadith
64
(65) CHAPTER. Observing Saum (fast) on the day of Arafah.
عرفہ کے دن روزہ رکھنا
2 Hadith
65
(66) CHAPTER. Observing Saum on the first day of Eid-uI- Fitr.
عیدالفطر کے دن روزہ رکھنا
3 Hadith
66
(67) CHAPTER. Observing Saum (fast) on the day of Nahr (i.e., first day of Eid-ul-Adha).
عیدالاضحی کے دن کا روزہ رکھنا
3 Hadith
67
(68) CHAPTER. Observing Saum (fast) on Tashriq days (11th, 12th and 13th of Dhul-Hijjah).
ایام تشریق کے روزے رکھنا
4 Hadith
68
(69) CHAPTER. Observing Saum (fast) on the day of Ashura (tenth of Muharram).
اس بارے میں کہ عاشوراء کے دن کا روزہ کیسا ہے ؟
8 Hadith
No chapter matched that.