TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3967 صحیح بخاری

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 7 of 21 in this chapter
(8) CHAPTER. The killing of Abu Jahl.
( بدر کے دن ) ابوجہل کا قتل ہونا
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الصَّوَّافُ ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ ، كَانَ يَنْزِلُ فِي بَنِي ضُبَيْعَةَ وَهُوَ مَوْلًى لِبَنِي سَدُوسَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ،عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ ، قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فِينَا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ سورة الحج آية 19 .
Narrated `Ali: The following Holy Verse:-- These two opponents (believers and disbelievers) dispute with each other about their Lord. (22.19) was revealed concerning us.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم صواف نے بیان کیا، ہم سے یوسف بن یعقوب نے بیان کیا، ان کا بنی ضبیعہ کے یہاں آنا جانا تھا اور وہ بنی سدوس کے غلام تھے۔ کہا ہم سے سلیمان تیمی نے بیان کیا، ان سے ابومجلز نے اور ان سے قیس بن عباد نے بیان کیا کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا یہ آیت «هذان خصمان اختصموا في ربهم» ہمارے ہی بارے میں نازل ہوئی تھی۔
3967
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح

Related Chapters

333
1
Chapter: What Has Been Related About The Gravity Of Killing A Believer
باب: مومن کے قتل ناحق پر وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
2
Chapter: What Has Been Related About Killing Captives And Ransoming
باب: قیدیوں کے قتل کرنے اور فدیہ لے کر انہیں چھوڑنے کا بیان
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Killing Women And Children
باب: عورتوں اور بچوں کے قتل کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
4
Chapter: What Has Been Related About 'Eisa Bin Maryam killing the Dajjal
باب: عیسیٰ بن مریم کا دجال کو قتل کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
5
اس امت کے فرعون ابوجہل ملعون کے قتل اور اس پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خوشی کا بیان
Musnad Ahmad
6
اس امر کا بیان کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غزوہ بدر سے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ امیہ بن خلف قتل ہو کر گرے گااور اس کی اطلاع اسے مل گئی تھی
Musnad Ahmad
7
فوائد:… یہ سارا کچھ مال کو اکٹھا کرنے کی لالچ میں ہو گا۔ اس موقع پر قتل ہونے والوں کی مختلف تعداد بیان کی گئی ہے، حافظ ابن حجر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ نے کہا: دس میں سے نو افراد کا قتل ہونا، یہ روایت شاذ ہے، محفوظ روایت سو میں ننانوے کا قتل ہونا ہے، جس کو مسلم نے روایت کیا، اس کا ایک شاہد بھی ہے، جس کو سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے روایت کیا، اور جمع تطبیق کی صورت بھی ہو سکتی ہے کہ دونوں احادیث کو لوگوں کی دو قسموں پر محمول کیا جائے (ایک قسم میں سو میں ننانوے قتل ہوں گے اور ایک قسم میں دس میں سے نو)۔ (فتح الباری: ۱۳/۸۱)
Musnad Ahmad
8
(147) CHAPTER. Killing the children in the war.
جنگ میں بچوں کا قتل کرنا کیسا ہے ؟
Sahih Bukhari
9
(148) CHAPTER. Killing the women in the war.
جنگ میں عورتوں کا قتل کرنا کیسا ہے ؟
Sahih Bukhari
10
(169) CHAPTER. The killing of a captive, and the killing of somebody who is in confinement.
قیدی کو قتل کرنا اور کسی کو کھڑا کر کے نشانہ بنانا
Sahih Bukhari
11
(7) CHAPTER. Invoking evil of the Prophet on the disbelievers of Quraish, (Shaiba, Utba, Al-Walid and Abu jahl, etc.) and (the mention of) their death.
کفار قریش ، شیبہ ، عتبہ ، ولید اور ابوجہل بنہشام کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بددعا کرنا اور ان کی ہلاکت کا بیان
Sahih Bukhari
12
(12) CHAPTER.
جنگبدر میں فرشتوں کا شریک ہونا
Sahih Bukhari
13
(15) CHAPTER. The killing of Kab bin Al-Ashraf.
کعببناشرف یہودی کے قتل کا قصہ
Sahih Bukhari
14
(16) CHAPTER. The killing of Abu Rafi, Abdullah bin Abi Al-Huqaiq.
ابورافع ۔ یہودی عبداللہبنابی الحقیق کے قتل کا قصہ
Sahih Bukhari
15
(13) CHAPTER. Killing a man for having killed a woman.
عورت کے بدلہ میں مرد کا قتل کرنا جو عورت کا قاتل ہو
Sahih Bukhari
16
(31) CHAPTER. A Muslim should not be killed for killing a Kafir (disbeliever).
مسلمان کو ( ذمی ) کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا
Sahih Bukhari
17
(3) CHAPTER. Killing those who refuse to fulfil the duties enjoined by Allah, and considering them as apostates.
جو شخص اسلام کے فرض ادا کرنے سے انکار کرے اور جو شخص مرتد ہو جائے اس کا قتل کرنا
Sahih Bukhari
18
Chapter: The prohibition of killing a disbeliever after he says La ilaha illallah
کافر کے لا إله إلا الله کہہ دینے کے بعد اسے قتل کر نا حرام ہے
Sahih Muslim
19
Chapter: Clarifying the emphatic prohibition against killing oneself; The one who kills himself with something will be punished with it in the fire; And that no one will enter Paradise but a muslim
خود کشی کی شدید حرمت، خود کشی کرنے والا جس چیز سے اپنے آپ کو قتل کرے گا جہنم میں اسی کے ذریعے سے اس کوعذاب دیا جائے گا اور جنت میں (عطا کیے گئے جسم سمیت) صرف مسلمان روح ہی داخل ہو گی
Sahih Muslim
20
Chapter: The prohibition of killing women and children in war
جنگ میں عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے کی حرمت
Sahih Muslim
21
Chapter: Permissibility of killing women and children in night raids, so long as it is not done deliberately
شب خون میں عورتوں اور بچوں کے بلا ارادہ قتل ہو جانے کا جواز
Sahih Muslim
22
Chapter: The slaying of Abu Jahl
ابو جہل کا قتل
Sahih Muslim
23
Chapter: Women who take part in military expeditions are to be given a reward but not a regular share; And the prohibition of killing children of the enemy
جہاد میں شریک عورتوں کو عطیہ دیا دائے گا اور (باقاعدہ) حصہ نہیں نکالا جائے گانیز جنگ کرنے والوں کے بچوں کو قتل کرنے کی ممانعت
Sahih Muslim
24
Chapter: The command to be proficient in slaughtering and killing, and to sharpen the blade
اچھے طریقے سے ذبح اور قتل کرنے اور(چھری کی) دھار تیز کرنے کا حکم
Sahih Muslim
25
Chapter: Description Of Ad-Dajjal; Al-Madinah Is Forbidden To Him; He Will Kill A Believer And Bring Him Back To Life
دجال کا حال مدینہ میں اس کا داخلہ حرام ہونا اور مومن کو قتل کرنا اور اسے زندہ کرنا
Sahih Muslim
26
CHAPTER: Regarding The Virtue Of Killing Disbeliever.
باب: کافر کو قتل کرنے والے کی فضیلت کا بیان
Sunnan Abu Dawood
27
CHAPTER: Regarding Killing Women.
باب: عورتوں کے قتل کی ممانعت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
28
CHAPTER: Killing A Captive Without Inviting Him To Islam.
باب: قیدی پر اسلام پیش کئے بغیر اسے قتل کر دینے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
29
CHAPTER: Regarding The Gravity Of Killing A Believer.
باب: مومن کا قتل بڑا گناہ ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
30
CHAPTER: Diyah For A Mistaken Killing That Appears Purposeful.
باب: قتل خطا یعنی شبہ عمد کے قتل کی دیت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
31
باب: آیت کریمہ: ”جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ان کا بدلہ یہ ہے کہ انہیں قتل کر دیا جائے یا سولی پر چڑھا دیا جائے یا ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے جائیں یا انہیں ملک بدر کر دیا جائے“ کی تفسیر اور کن لوگوں کے
Sunnan Nisai
32
Chapter: What Has Been Related About Killing The Two Black Things In Salat
باب: نماز میں سانپ اور بچھو مارنے کا بیان
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related About Whoever Performs Hajj Or Umrah Them Let The Last Of His Acts Be At The House
باب: حج یا عمرہ کرنے والے کا آخری کام بیت اللہ (کعبہ) کا طواف ہونا چاہئے
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Kills His Son: Is He To Suffer Requital For Him Or Not ?
باب: آدمی اپنے بیٹے کو قتل کر دے تو کیا قصاص لیا جائے گا یا نہیں؟
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What Has Been Related About: The Muslim Is Not Killed For The Disbeliever
باب: مسلمان کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Killed His Slave
باب: اپنے غلام کو قتل کر دینے والے شخص کا بیان
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What Has Been Related About Banishment
باب: (زانی کو) شہر بدر کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been Related About: Whoever Drinks Wine Then Lash Him, And Whoever Does It A Fourth Time, Then Kill Him
باب: شرابی کو کوڑے لگانے اور چوتھی بار شراب پینے پر اسے قتل کر دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
39
Chapter: What Has Been Related About Killing Geckos
باب: چھپکلی مارنے کا بیان
Jam e Tirmazi
40
Chapter: What Has Been Related About Killing Snakes
باب: سانپ مارنے کا بیان
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What Has Been Related About Killing Dogs
باب: کتوں کو مارنے کا بیان
Jam e Tirmazi
42
Chapter: What Has Been Related About The Number Of Companions Who Participated In The Battle Of Badr
باب: اہل بدر کی تعداد کا بیان
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What Has Been Related About One Who Is Martyred While In Debt
باب: اللہ کی راہ میں قتل ہونے والے پر قرض ہو تو کیا حکم ہے؟
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What Has Been Related About Burying The One Killed Where He Was Killed
باب: مقتول کو قتل گاہ ہی میں دفن کر دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
45
Chapter: What has been Related About A Man During The Fitnah
باب: فتنہ کے وقت آدمی کو کیسا ہونا چاہئے؟
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What has been Related About Al-Harj(And Performing Worship During It)
باب: قتل و خوں ریزی اور اس وقت کی عبادت کا بیان
Jam e Tirmazi
47
باب: آدمی کا آدمی کے (اعزاز و تکریم کے) لیے کھڑا ہونا (یعنی قیام تعظیمی) مکروہ ہے​
Jam e Tirmazi
48
باب: مشیر یعنی جس سے مشورہ لیا جاتا ہے اس کو امانت دار ہونا چاہئے
Jam e Tirmazi
49
باب: پیٹ کا مواد سے بھرا ہونا (گندے) اشعار سے بھرے ہونے سے بہتر ہے
Jam e Tirmazi
50
بَاب قتل أهل الرِّدَّة والسعاة بِالْفَسَادِ
مرتدوں اور فساد پھیلانے والوں کو قتل کرنے کا بیان
Mishkat
No related chapter matched that.

Related Hadith

3,585
Jam e Tirmazi
3244
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَسْلَمَ الْعِجْلِيِّ، عَنْ بِشْرِ بْنِ شَغَافٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ أَعْرَابِيٌّ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏مَا الصُّورُ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ قَرْنٌ يُنْفَخُ فِيهِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ
Narrated 'Abdullah bin 'Amr [may Allah be pleased with him]: A Bedouin said: 'O Messenger of Allah! What is As-Sur?' He said: 'A horn which is blown into.'
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نے کہا: اللہ کے رسول! صور کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ایک سینگ ( بھوپو ) ہے جس میں پھونکا جائے گا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے اور ہم اسے صرف سلیمان تیمی کی روایت سے جانتے ہیں۔
Sahih Bukhari
4020
حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ : مَنْ يَنْظُرُ مَا صَنَعَ أَبُو جَهْلٍ ؟ فَانْطَلَقَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَوَجَدَهُ قَدْ ضَرَبَهُ ابْنَا عَفْرَاءَ حَتَّى بَرَدَ ، فَقَالَ : آنْتَ أَبَا جَهْلٍ ؟ قَالَ ابْنُ عُلَيَّةَ : قَالَ سُلَيْمَانُ : هَكَذَا قَالَهَا أَنَسٌ ، قَالَ : أَنْتَ أَبَا جَهْلٍ ؟ قَالَ : وَهَلْ فَوْقَ رَجُلٍ قَتَلْتُمُوهُ ، قَالَ سُلَيْمَانُ : أَوْ قَالَ : قَتَلَهُ قَوْمُهُ ، قَالَ : وَقَالَ أَبُو مِجْلَزٍ : قَالَ أَبُو جَهْلٍ: فَلَوْ غَيْرُ أَكَّارٍ قَتَلَنِي .
Narrated Anas: Allah's Apostle said on the day of Badr, Who will go and see what has happened to Abu Jahl? Ibn Mas`ud went and saw him struck by the two sons of 'Afra and was on the point of death . Ibn Mas`ud said, Are you Abu Jahl? Abu Jahl replied, Can there be a man more superior to the one whom you have killed (or as Sulaiman said, or his own folk have killed.)? Abu Jahl added, Would that I had been killed by other than a mere farmer.
مجھ سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن علیہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان تیمی نے بیان کیا، کہا ہم سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کی لڑائی کے دن فرمایا ”کون دیکھ کر آئے گا کہ ابوجہل کے ساتھ کیا ہوا؟ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس کے لیے روانہ ہوئے اور دیکھا کہ عفراء کے دونوں بیٹوں نے اسے قتل کر دیا ہے اور اس کی لاش ٹھنڈی ہونے والی ہے۔ انہوں نے پوچھا، ابوجہل تم ہی ہو؟ ابن علیہ نے بیان کیا کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے پوچھا تھا کہ تو ابوجہل ہے؟ اس پر اس نے کہا، کیا اس سے بھی بڑا کوئی ہو گا جسے تم نے آج قتل کر دیا ہے؟ سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ یا اس نے یوں کہا، ”جسے اس کی قوم نے قتل کر دیا ہے؟ ( کیا اس سے بھی بڑا کوئی ہو گا ) کہا کہ ابومجلز نے بیان کیا کہ ابوجہل نے کہا، کاش! ایک کسان کے سوا مجھے کسی اور نے مارا ہوتا۔
Sahih Muslim
311
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، جَمِيعًا عَنْ سُلَيْمَانَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّ الطُّفَيْلَ بْنَ عَمْرٍو الدَّوْسِيَّ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَلْ لَكَ فِي حِصْنٍ حَصِينٍ وَمَنْعَةٍ؟ - قَالَ: حِصْنٌ كَانَ لِدَوْسٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ - فَأَبَى ذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلَّذِي ذَخَرَ اللهُ لِلْأَنْصَارِ، فَلَمَّا هَاجَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ، هَاجَرَ إِلَيْهِ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو وَهَاجَرَ مَعَهُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ، فَاجْتَوَوُا الْمَدِينَةَ، فَمَرِضَ، فَجَزِعَ، فَأَخَذَ مَشَاقِصَ لَهُ، فَقَطَعَ بِهَا بَرَاجِمَهُ، فَشَخَبَتْ يَدَاهُ حَتَّى مَاتَ، فَرَآهُ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو فِي مَنَامِهِ، فَرَآهُ وَهَيْئَتُهُ حَسَنَةٌ، وَرَآهُ مُغَطِّيًا يَدَيْهِ، فَقَالَ لَهُ: مَا صَنَعَ بِكَ رَبُّكَ؟ فَقَالَ: غَفَرَ لِي بِهِجْرَتِي إِلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا لِي أَرَاكَ مُغَطِّيًا يَدَيْكَ؟ قَالَ: قِيلَ لِي: لَنْ نُصْلِحَ مِنْكَ مَا أَفْسَدْتَ، فَقَصَّهَا الطُّفَيْلُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللهُمَّ وَلِيَدَيْهِ فَاغْفِرْ
It is narrated on the authority of Jabir that Tufail son of Amr al-Dausi came to the Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and said: Do you need strong, fortified protection? The tribe of Daus had a fort in the pre-Islamic days. The Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) declined this offer, since it (the privilege of protecting the Holy Prophet) had already been reserved for the Ansar. When the Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) migrated to Medina, Tufail son of Amr also migrated to that place, and there also migrated along with him a man of his tribe. But the climate of Medina did not suit him, and he fell sick. He felt very uneasy. So he took hold of an iron head of an arrow and cut his finger-joints. The blood streamed forth from his hands, till he died. Tufail son of Amr saw him in a dream. His state was good and he saw him with his hands wrapped. He (Tufail) said to him: What treatment did your Allah accord to you? He replied. Allah granted me pardon for my migration to the Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ): He (Tufail) again said: What is this that I see you wrapping up your hands? He replied: I was told (by Allah): We would not set right anything of yours which you damaged yourself. Tufail narrated this (dream) to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). Upon this he prayed: O Allah I grant pardon even to his hands.
حضرت جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ طفیل بن عمرو دوسی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : اے اللہ کے رسول ! کیا آپ کو ایک مضبوط قلعے اور تحفظ کی ضرورت ہے ؟ ( روایت کرنےوالے نے کہا : یہ ایک قلعہ تھا جو جاہلیت کے دور مین بنو دوس کی ملکیت تھا ) آپ نے اس ( کو قبول کرنے ) سے انکار کر دیا ۔ کیونکہ یہ سعادت اللہ نے انصار کے حصے میں رکھی تھی ، پھر جب نبی ﷺ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے گئے تو طفیل بن عمرو بھی ہجرت کر کے آپ کے پاس آ گئے ، ان کے ساتھ ان کی قوم کے ایک آدمی نے بھی ہجرت کی ، انہوں نے مدینہ کی آب و ہوا ناموافق پائی تو وہ آدمی بیمار ہوا اور گھبرا گیا ، اس نے اپنے چوڑے پھل والے تیر لیے اور ان سے اپنی انگلیوں کے اندرونی طرف کے جوڑ کاٹ ڈالے ، اس کے دونوں ہاتھوں سے خون بہا حتی کہ وہ مر گیا ۔ طفیل بن عمرو نے اسے خواب میں دیکھا ، انہوں نے دیکھا کہ اس کی حالت اچھی تھی اور ( یہ بھی ) دیکھا کہ اس نے اپنے دونوں ہاتھ ڈھانپنے ہوئے تھے ۔ طفیل نے ( عالم خواب میں ) اس سے کہا : تمہارے رب نے تمہارے ساتھ کیا معاملہ کیا ؟ اس نے کہا : اس نے اپنے نبی کی طرف میری ہجرت کے سبب مجھے بخش دیا ۔ انہوں نے پوچھا : میں تمہیں دونوں ہاتھ ڈھانپے ہوئے کیوں دیکھ رہا ہوں ؟ اس نے کہا : مجھ سے کہا گیا : ( اپنا ) جو کچھ تم نے خود ہی خراب کیا ہے ، ہم اسے درست نہیں کریں گے ۔ طفیل نے یہ خواب رسول اللہ ﷺ کو سنایا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’اے اللہ ! اس کے دونوں ہاتھ کو بھی بخش دے ۔ ‘ ‘
Sahih Muslim
854
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - قَالَ إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ - حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ ذَهَبَ حَتَّى يَكُونَ مَكَانَ الرَّوْحَاءِ» قَالَ سُلَيْمَانُ: فَسَأَلْتُهُ عَنِ الرَّوْحَاءِ فَقَالَ: «هِيَ مِنَ الْمَدِينَةِ سِتَّةٌ وَثَلَاثُونَ مِيلًا»
Abu Sufyan reported it on the authority of Jabir that he had heard the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) say: When Satan hears the call to prayer, he runs away to a distance like that of Rauha. Sulaimin said: I asked him about Rauha. He replied: It is at a distance of thirty-six miles from Medina.
۔ جریر نے اعمش سے ، انہوں نے ابو سفیان ( طلحہ بن نافع ) سے اور انہوں نے حضرت جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : میں نے نبیﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : بلاشبہ شیطان جب نماز کی پکار ( اذان ) سنتا ہے تو ( بھاگ کر ) چلا جاتا ہے یہاں تک کہ روحاء کے مقام پر پہنچ جاتا ہے ۔ ‘ ‘ سلیمان ( اعمش ) نے کہا : میں نے ان ( اپنے استاد ابو سفیان طلحہ بن نافع ) سے روحاء کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : یہ مدینہ سے چھتیس میل ( کے فاصلے ) پر ہے ۔
Sahih Muslim
1138
دَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، ح قَالَ: وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَيْضًا أَخْبَرَنَا، الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَلْمَ بْنَ أَبِي الذَّيَّالِ، ح قَالَ: وَحَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ، الْمَعْنِيُّ حَدَّثَنَا زِيَادٌ الْبَكَّائِيُّ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ كُلُّ هَؤُلَاءِ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، بِإِسْنَادِ يُونُسَ كَنَحْوِ حَدِيثِهِ
This hadith has been transmitted by Humaid b. Hilal on the authority of Yunus.
سلیمان بن مغیرہ ، شعبہ ، جریر ، سلم بن ابو ذیال اور عاصم احول سب نے حمید بن ہلال سے یونس کی سند کے ساتھ اس کی حدیث کی مانند حدیث بیان کی ہے ۔
Sahih Muslim
1565
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ فِي سَفَرٍ فَعَرَّسَ بِلَيْلٍ، اضْطَجَعَ عَلَى يَمِينِهِ، وَإِذَا عَرَّسَ قُبَيْلَ الصُّبْحِ نَصَبَ ذِرَاعَهُ، وَوَضَعَ رَأْسَهُ عَلَى كَفِّهِ»
Abu Qatada reported that when the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was in a journey he got down for rest at night, and he used to lie down on his right side, and when he lay down for rest before the dawn, he used to stretch his forearm and place his head over his palm.
حضرت ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ‘ کہا : رسول اللہ ﷺجب سفر میں ہوتے اور رات ( کے آخری حصے ) میں آرام کے لیے لیٹے تو دائیں پہلو پر لیٹتے اور جب صبح سے ذرا پہلو پر لیٹتے تو اپنی کہنی کھڑی کر لیتے اور سر ہتھیلی پر ٹکا لیتے ۔ ( تاکہ زیادہ گہری نیند نہ آئے ۔ اس حدیث کے الفاظ بھی اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ اوپر بیان کیے گئے دو الگ الگواقعے ہیں ۔ )
Sahih Muslim
2688
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: وَذَلِكَ لِمَكَانِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
This hadith is narrated on the authority of Yahya b. Sa'id with the same chain of transmitters but with this variation that he said that ('A'isha did not observe fast but in Sha'ban) out of regard for the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ).
اسحاق بن ابراہیم ، بشر بن عمر زہرانی ، سلیمان بن بلال ، یحییٰ حضرت یحییٰ بن سعید اس سند کے ساتھ اس طرح بیان کرتے ہیں سوائے اس کہ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے مشغول رہتی تھی ۔
Sahih Muslim
3314
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ الْمُخْتَارِ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، ح وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، كُلُّهُمْ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى هُوَ الْمَازِنِيُّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ. أَمَّا حَدِيثُ وُهَيْبٍ فَكَرِوَايَةِ الدَّرَاوَرْدِيِّ: «بِمِثْلَيْ مَا دَعَا بِهِ إِبْرَاهِيمُ»، وَأَمَّا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ فَفِي رِوَايَتِهِمَا: «مِثْلَ مَا دَعَا بِهِ إِبْرَاهِيمُ»
This hadith has been narrated through another chain of transmitters with a slight variation of words.
عبدالعزیز یعنی ابن مختار سلیمان بن بلال اور وہیب ( بن خالد باہلی ) سب نے عمرو بن یحییٰ مازنی سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی وہیب کی حدیث درااوردی کی حدیث کی طرح ہے : " اس سے دگنی ( بر کت ) کی جتنی بر کت کی برا ہیمؑ نے دعا کی تھی " جبکہ سلیمان بن بلال اور عبد العزیز بن مختار دونوں کی روایت میں ہے " جتنی ( برکت کی ) ابرا ہیمؑ نے دعا کی تھی ۔
Sahih Muslim
3675
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ طَاوُسٍ، أَنَّ أَبَا الصَّهْبَاءِ، قَالَ لِابْنِ عَبَّاسٍ: هَاتِ مِنْ هَنَاتِكَ، «أَلَمْ يَكُنِ الطَّلَاقُ الثَّلَاثُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ وَاحِدَةً»؟ فَقَالَ: «قَدْ كَانَ ذَلِكَ، فَلَمَّا كَانَ فِي عَهْدِ عُمَرَ تَتَايَعَ النَّاسُ فِي الطَّلَاقِ، فَأَجَازَهُ عَلَيْهِمْ
Abu al-Sahba' said to Ibn 'Abbas: Enlighten us with your information whether the three divorces (pronounced at one and the same time) were not treated as one during the lifetime of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and Abu Bakr. He said: It was in fact so, but when during the caliphate of 'Umar (Allah be pleased with him) people began to pronounce divorce frequently, he allowed them to do so (to treat pronouncements of three divorces in a single breath as one).
ابراہیم بن میسرہ نے طاوس سے روایت کی کہ ابوصبہاء نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے عرض کی : آپ اپنے نوادر ( جن سے اکثر لوگ بے خبر ہیں ) فتووں میں سے کوئی چیز عنایت کریں ۔ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد میں تین طلاقیں ایک نہیں تھیں؟ انہوں نے جواب دیا : یقینا ایسے ہی تھا ، اس کے بعد جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو لوگوں نے پے در پے ( غلط طریقے سے ایک ساتھ تین ) طلاقیں دینا شروع کر دیں ۔ تو انہوں نے اس بات کو ان پر لاگو کر دیا