TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of al- maghazi. - کتاب غزوات کے بیان میں - Book 65 of Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Book 65 of Sahih Bukhari, with 78 chapters and 525 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

525 Hadith · 78 Chapters
(5) CHAPTER.
۔ ۔ ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُهَاجِرَ إِلَى الشَّأْمِ ، قَالَ : لَا هِجْرَةَ ، وَلَكِنْ جِهَادٌ ، فَانْطَلِقْ ، فَاعْرِضْ نَفْسَكَ ، فَإِنْ وَجَدْتَ شَيْئًا وَإِلَّا رَجَعْتَ .
Narrated Mujahid: I said to Ibn `Umar, I want to migrate to Sham. He said, There is no migration, but Jihad (for Allah's Cause). Go and offer yourself for Jihad, and if you find an opportunity for Jihad (stay there) otherwise, come back.
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابوبشر نے اور ان سے مجاہد نے کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ میرا ارادہ ہے کہ میں ملک شام کو ہجرت کر جاؤں، فرمایا: اب ہجرت باقی نہیں رہی، جہاد ہی باقی رہ گیا ہے۔ اس لیے جاؤ اور خود کو پیش کرو۔ اگر تم نے کچھ پا لیا تو بہتر ورنہ واپس آ جانا۔
4309
Sahih
(5) CHAPTER.
۔ ۔ ۔
وَقَالَ النَّضْرُ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ ، سَمِعْتُ مُجَاهِدًا ، قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ : فَقَالَ : لَا هِجْرَةَ الْيَوْمَ أَوْ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ .
(In an other narration) Ibn `Umar said: There is no migration today or after Allah's Apostle. (and completed his statement as above.)
نضر نے بیان کیا کہ ہمیں شعبہ نے خبر دی، انہیں ابوبشر نے خبر دی، انہوں نے مجاہد سے سنا کہ جب میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کیا تو انہوں نے کہا کہ اب ہجرت باقی نہیں رہی یا ( فرمایا کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پھر ہجرت کہاں رہی۔
4310
Sahih
(5) CHAPTER.
۔ ۔ ۔
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ ، عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ جَبْرٍ الْمَكِّيِّ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، كَانَ يَقُولُ : لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ .
Narrated Mujahid bin Jabr: `Abdullah bin `Umar used to say, There is no migration after the Conquest (of Mecca).
مجھ سے اسحاق بن یزید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن حمزہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوعمرو اوزاعی نے بیان کیا، ان سے عبدہ بن ابی لبابہ نے، ان سے مجاہد بن جبر مکی نے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے کہ فتح مکہ کے بعد ہجرت باقی نہیں رہی۔
4311
Sahih
(5) CHAPTER.
۔ ۔ ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، قَالَ : زُرْتُ عَائِشَةَ ، مَعَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، فَسَأَلَهَا عَنِ الْهِجْرَةِ ، فَقَالَتْ : لَا هِجْرَةَ الْيَوْمَ ، كَانَ الْمُؤْمِنُ يَفِرُّ أَحَدُهُمْ بِدِينِهِ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَخَافَةَ أَنْ يُفْتَنَ عَلَيْهِ ، فَأَمَّا الْيَوْمَ فَقَدْ أَظْهَرَ اللَّهُ الْإِسْلَامَ ، فَالْمُؤْمِنُ يَعْبُدُ رَبَّهُ حَيْثُ شَاءَ ، وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ .
Narrated `Ata' bin Abi Rabah: `Ubaid bin `Umar and I visited `Aisha, and he asked her about the migration. She said, There is no migration today. A believer used to flee with his religion to Allah and His Prophet for fear that he might be put to trial as regards his religion. Today Allah has rendered Islam victorious; therefore a believing one can worship one's Lord wherever one wishes. But there is Jihad (for Allah's Cause) and intentions. (See Hadith 42, in the 4th Vol. for its Explanation)
ہم سے اسحاق بن یزید نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن حمزہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام اوزاعی نے بیان کیا، ان سے عطا بن ابی رباح نے بیان کیا کہ میں عبید بن عمیر کے ساتھ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا۔ عبید نے ان سے ہجرت کا مسئلہ پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اب ہجرت باقی نہیں رہی۔ پہلے مسلمان اپنا دین بچانے کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی طرف پناہ لینے کے لیے آتے تھے، اس خوف سے کہ کہیں دین کی وجہ سے فتنہ میں نہ پڑ جائیں۔ اس لیے اب جب کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کو غالب کر دیا تو مسلمان جہاں بھی چاہے اپنے رب کی عبادت کر سکتا ہے۔ اب تو صرف جہاد اور جہاد کی نیت کا ثواب باقی ہے۔
4312
Sahih
(5) CHAPTER.
۔ ۔ ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ يَوْمَ الْفَتْحِ ، فَقَالَ : إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ مَكَّةَ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ ، فَهِيَ حَرَامٌ بِحَرَامِ اللَّهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، لَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي وَلَا تَحِلُّ لِأَحَدٍ بَعْدِي ، وَلَمْ تَحْلِلْ لِي قَطُّ إِلَّا سَاعَةً مِنَ الدَّهْرِ لَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا ، وَلَا يُعْضَدُ شَوْكُهَا ، وَلَا يُخْتَلَى خَلَاهَا ، وَلَا تَحِلُّ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمُنْشِدٍ ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ : إِلَّا الْإِذْخِرَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَإِنَّهُ لَا بُدَّ مِنْهُ لِلْقَيْنِ وَالْبُيُوتِ ، فَسَكَتَ ، ثُمَّ قَالَ : إِلَّا الْإِذْخِرَ ، فَإِنَّهُ حَلَالٌ ، وَعَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْكَرِيمِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ بِمِثْلِ هَذَا أَوْ نَحْوِ هَذَا ، رَوَاهُ أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
Narrated Mujahid: Allah's Apostle got up on the day of the Conquest of Mecca and said, Allah has made Mecca a sanctuary since the day He created the Heavens and the Earth, and it will remain a sanctuary by virtue of the sanctity Allah has bestowed on it till the Day of Resurrection. It (i.e. fighting in it) was not made lawful to anyone before me!, nor will it be made lawful to anyone after me, and it was not made lawful for me except for a short period of time. Its game should not be chased, nor should its trees be cut, nor its vegetation or grass uprooted, not its Luqata (i.e. Most things) picked up except by one who makes a public announcement about it. Al-Abbas bin `Abdul Muttalib said, Except the Idhkhir, O Allah's Apostle, as it is indispensable for blacksmiths and houses. On that, the Prophet kept quiet and then said, Except the Idhkhir as it is lawful to cut.
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعاصم نبیل نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، کہا مجھ کو حسن بن مسلم نے خبر دی اور انہیں مجاہد نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن خطبہ سنانے کھڑے ہوئے اور فرمایا ”جس دن اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا تھا، اسی دن اس نے مکہ کو حرمت والا شہر قرار دے دیا تھا۔ پس یہ شہر اللہ کے حکم کے مطابق قیامت تک کے لیے حرمت والا رہے گا۔ جو مجھ سے پہلے کبھی کسی کے لیے حلال نہیں ہوا اور نہ میرے بعد کسی کے لیے حلال ہو گا اور میرے لیے بھی صرف ایک گھڑی کے لیے حلال ہوا تھا۔ یہاں حدود حرم میں شکار کے قابل جانور نہ چھیڑے جائیں۔ یہاں کے کانٹے دار درخت نہ کاٹے جائیں نہ یہاں کی گھاس اکھاڑی جائے اور یہاں پر گری پڑی چیز اس شخص کے سوا جو اعلان کرنے کا ارادہ رکھتا ہو اور کسی کے لیے اٹھانی جائز نہیں۔“ اس پر عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ نے کہا: یا رسول اللہ! اذخر ( گھاس ) کی اجازت دے دیجئیے کیونکہ سناروں کے لیے اور مکانات ( کی تعمیر وغیرہ ) کے لیے یہ ضروری ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے پھر فرمایا ”اذخر اس حکم سے الگ ہے اس کا ( کاٹنا ) حلال ہے۔“ دوسری روایت ابن جریج سے ( اسی سند سے ) ایسی ہی ہے انہوں نے عبدالکریم بن مالک سے، انہوں نے ابن عباس سے اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے ہی روایت کی ہے۔
4313
Sahih
(55) CHAPTER. The Statement of Allah: (“Truly, Allah has given you victory on many battlefields), and on the day of Hunain (battle) when you rejoiced at your great number… (up to)… Oft-Forgiving, Most Merciful.” (V.9:22-27)
جنگ حنین کابیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ : رَأَيْتُ بِيَدِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى ضَرْبَةً ، قَالَ : ضُرِبْتُهَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ ، قُلْتُ : شَهِدْتَ حُنَيْنًا ؟ قَالَ : قَبْلَ ذَلِكَ .
Narrated Isma`il: I saw (a healed scar of) blow over the hand of Ibn Abi `Aufa who said, I received that blow in the battle of Hunain in the company of the Prophet. I said, Did you take part in the battle of Hunain? He replied, Yes (and in other battles) before it.
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، کہا ہم کو اسماعیل بن ابی خالد نے خبر دی، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما کے ہاتھ میں زخم کا نشان دیکھا پھر انہوں نے بتلایا کہ یہ زخم اس وقت آیا تھا جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ حنین میں شریک تھا۔ میں نے کہا، آپ حنین میں شریک تھے؟ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے بھی میں کئی غزوات میں شریک ہو چکا ہوں۔
4314
Sahih
(55) CHAPTER. The Statement of Allah: (“Truly, Allah has given you victory on many battlefields), and on the day of Hunain (battle) when you rejoiced at your great number… (up to)… Oft-Forgiving, Most Merciful.” (V.9:22-27)
جنگ حنین کابیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، وَجَاءَهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا أَبَا عُمَارَةَ ، أَتَوَلَّيْتَ يَوْمَ حُنَيْنٍ ؟ فَقَالَ : أَمَّا أَنَا فَأَشْهَدُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَمْ يُوَلِّ ، وَلَكِنْ عَجِلَ سَرَعَانُ الْقَوْمِ فَرَشَقَتْهُمْ هَوَازِنُ وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ آخِذٌ بِرَأْسِ بَغْلَتِهِ الْبَيْضَاءِ ، يَقُولُ : أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ .
Narrated Abu 'Is-haq: I heard Al-Bara' narrating when a man came and said to him, O Abu '`Umara! Did you flee on the day (of the battle) of Hunain? Al-Bara' replied, I testify that the Prophet did not flee, but the hasty people hurried away and the people of Hawazin threw arrows at them. At that time, Abu Sufyan bin Al-Harith was holding the white mule of the Prophet by the head, and the Prophet was saying, I am the Prophet undoubtedly: I am the son of `Abdul-Muttalib.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے، کہا کہ میں نے براء رضی اللہ عنہ سے سنا، ان کے یہاں ایک شخص آیا اور کہنے لگا کہ اے ابو عمارہ! کیا تم نے حنین کی لڑائی میں پیٹھ پھیر لی تھی؟ انہوں نے کہا، میں اس کی گواہی دیتا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ سے نہیں ہٹے تھے۔ البتہ جو لوگ قوم میں جلد باز تھے، انہوں نے اپنی جلد بازی کا ثبوت دیا تھا، پس قبیلہ ہوازن والوں نے ان پر تیر برسائے۔ ابوسفیان بن حارث رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید خچر کی لگام تھامے ہوئے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے «أنا النبي لا كذب،‏‏‏‏ أنا ابن عبد المطلب‏» ”میں نبی ہوں اس میں بالکل جھوٹ نہیں، میں عبدالمطلب کی اولاد ہوں۔“
4315
Sahih
(55) CHAPTER. The Statement of Allah: (“Truly, Allah has given you victory on many battlefields), and on the day of Hunain (battle) when you rejoiced at your great number… (up to)… Oft-Forgiving, Most Merciful.” (V.9:22-27)
جنگ حنین کابیان
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قِيلَ لِلْبَرَاءِ ، وَأَنَا أَسْمَعُ : أَوَلَّيْتُمْ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ ؟ فَقَالَ : أَمَّا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا كَانُوا رُمَاةً ، فَقَالَ : أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ .
Narrated Abu 'Is-haq: Al-Bara' was asked while I was listening, Did you flee (before the enemy) along with the Prophet on the day of (the battle of) Hunain? He replied, As for the Prophet, he did not (flee). The enemy were good archers and the Prophet was saying, I am the Prophet undoubtedly; I am the son of `Abdul Muttalib.
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے کہ براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا اور میں سن رہا تھا کہ تم لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ حنین میں پیٹھ پھیر لی تھی؟ انہوں نے کہا جہاں تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق ہے تو آپ نے پیٹھ نہیں پھیری تھی۔ ہوا یہ تھا کہ ہوازن والے بڑے تیرانداز تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر فرمایا تھا «أنا النبي لا كذب أنا ابن عبد المطلب» ”میں نبی ہوں اس میں جھوٹ نہیں، میں عبدالمطلب کی اولاد ہوں۔“
4316
Sahih
(55) CHAPTER. The Statement of Allah: (“Truly, Allah has given you victory on many battlefields), and on the day of Hunain (battle) when you rejoiced at your great number… (up to)… Oft-Forgiving, Most Merciful.” (V.9:22-27)
جنگ حنین کابیان
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، سَمِعَ الْبَرَاءَ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ مِنْ قَيْسٍ : أَفَرَرْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ ؟ فَقَالَ : لَكِنْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَفِرَّ ، كَانَتْ هَوَازِنُ رُمَاةً ، وَإِنَّا لَمَّا حَمَلْنَا عَلَيْهِمُ انْكَشَفُوا فَأَكْبَبْنَا عَلَى الْغَنَائِمِ ، فَاسْتُقْبِلْنَا بِالسِّهَامِ ، وَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَتِهِ الْبَيْضَاءِ ، وَإِنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ الْحَارِثِ آخِذٌ بِزِمَامِهَا وَهُوَ يَقُولُ : أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ ، قَالَ إِسْرَائِيلُ وَزُهَيْرٌ : نَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَغْلَتِهِ .
Narrated Abu 'Is-haq: That he heard Al-Bara narrating when a man from Qais (tribe) asked him Did you flee leaving Allah's Apostle on the day (of the battle) of Hunain? Al-Bara' replied, But Allah's Apostle did not flee. The people of Hawazin were good archers, and when we attacked them, they fled. But rushing towards the booty, we were confronted by the arrows (of the enemy). I saw the Prophet riding his white mule while Abu Sufyan was holding its reins, and the Prophet was saying I am the Prophet undoubtedly. (Israil and Zuhair said, The Prophet dismounted from his Mule. )
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے، انہوں نے براء رضی اللہ عنہ سے سنا اور ان سے قبیلہ قیس کے ایک آدمی نے پوچھا کہ کیا تم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غزوہ حنین میں چھوڑ کر بھاگ نکلے تھے؟ انہوں نے کہا: لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ سے نہیں ہٹے تھے۔ قبیلہ ہوازن کے لوگ تیرانداز تھے، جب ان پر ہم نے حملہ کیا تو وہ پسپا ہو گئے پھر ہم لوگ مال غنیمت میں لگ گئے۔ آخر ہمیں ان کے تیروں کا سامنا کرنا پڑا۔ میں نے خود دیکھا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سفید خچر پر سوار تھے اور ابوسفیان بن حارث رضی اللہ عنہ اس کی لگام تھامے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے «أنا النبي لا كذب‏» ”میں نبی ہوں، اس میں جھوٹ نہیں۔“ اسرائیل اور زہیر نے بیان کیا کہ بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خچر سے اتر گئے۔
4317
Sahih
(55) CHAPTER. The Statement of Allah: (“Truly, Allah has given you victory on many battlefields), and on the day of Hunain (battle) when you rejoiced at your great number… (up to)… Oft-Forgiving, Most Merciful.” (V.9:22-27)
جنگ حنین کابیان
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ . ح وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ شِهَابٍ ، وَزَعَمَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ مَرْوَانَ ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ ، أَخْبَرَاهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ حِينَ جَاءَهُ وَفْدُ هَوَازِنَ مُسْلِمِينَ ، فَسَأَلُوهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ وَسَبْيَهُمْ ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَعِي مَنْ تَرَوْنَ ، وَأَحَبُّ الْحَدِيثِ إِلَيَّ أَصْدَقُهُ ، فَاخْتَارُوا إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ : إِمَّا السَّبْيَ ، وَإِمَّا الْمَالَ ، وَقَدْ كُنْتُ اسْتَأْنَيْتُ بِكُمْ ، وَكَانَ أَنْظَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً حِينَ قَفَلَ مِنْ الطَّائِفِ ، فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ رَادٍّ إِلَيْهِمْ إِلَّا إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ ، قَالُوا : فَإِنَّا نَخْتَارُ سَبْيَنَا ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُسْلِمِينَ ، فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ، ثُمَّ قَالَ : أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنَّ إِخْوَانَكُمْ قَدْ جَاءُونَا تَائِبِينَ ، وَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّ إِلَيْهِمْ سَبْيَهُمْ ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُطَيِّبَ ذَلِكَ فَلْيَفْعَلْ ، وَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَكُونَ عَلَى حَظِّهِ حَتَّى نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ مِنْ أَوَّلِ مَا يُفِيءُ اللَّهُ عَلَيْنَا فَلْيَفْعَلْ ، فَقَالَ النَّاسُ : قَدْ طَيَّبْنَا ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّا لَا نَدْرِي مَنْ أَذِنَ مِنْكُمْ فِي ذَلِكَ مِمَّنْ لَمْ يَأْذَنْ ، فَارْجِعُوا حَتَّى يَرْفَعَ إِلَيْنَا عُرَفَاؤُكُمْ أَمْرَكُمْ ، فَرَجَعَ النَّاسُ ، فَكَلَّمَهُمْ عُرَفَاؤُهُمْ ، ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرُوهُ أَنَّهُمْ قَدْ طَيَّبُوا وَأَذِنُوا هَذَا الَّذِي بَلَغَنِي عَنْ سَبْيِ هَوَازِنَ .
Narrated Marwan and Al-Miswar bin Makhrama: When the delegate of Hawazin came to Allah's Apostle declaring their conversion to Islam and asked him to return their properties and captives, Allah's Apostle got up and said to them, There Is involved in this matter, the people whom you see with me, and the most beloved talk to me, is the true one. So choose one of two alternatives: Either the captives or the properties. I have been waiting for you (i.e. have not distributed the booty). Allah's Apostle had delayed the distribution of their booty over ten nights after his return from Ta'if. So when they came to know that Allah's Apostle was not going to return to them but one of the two, they said, We prefer to have our captives. So Allah's Apostle got up amongst the Muslims, and praising Allah as He deserved, said, To proceed! Your brothers have come to you with repentance and I see (it logical) to return their captives. So, whoever of you likes to do that as a favor then he can do it. And whoever of you likes to stick to his share till we give him from the very first booty which Allah will give us, then he can do so. The people said, We do that (i.e. return the captives) willingly as a favor, 'O Allah's Apostle! Allah's Apostle said, We do not know which of you have agreed to it and which have not; so go back and let your chiefs forward us your decision. They went back and their chief's spoke to them, and they (i.e. the chiefs) returned to Allah's Apostle and informed him that all of them had agreed (to give up their captives) with pleasure, and had given their permission (i.e. that the captives be returned to their people). (The sub-narrator said, That is what has reached me about the captives of Hawazin tribe. )
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا مجھ سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے (دوسری سند) اور مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے ابن شہاب کے بھتیجے (محمد بن عبداللہ بن شہاب نے) بیان کیا کہ محمد بن شہاب نے کہا کہ ان سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ انہیں مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ جب قبیلہ ہوازن کا وفد مسلمان ہو کر حاضر ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رخصت دینے کھڑے ہوئے، انہوں نے آپ سے یہ درخواست کی کہ ان کا مال اور ان کے ( قبیلے کے قیدی ) انہیں واپس دے دئیے جائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جیسا کہ تم لوگ دیکھ رہے ہو، میرے ساتھ کتنے اور لوگ بھی ہیں اور دیکھو سچی بات مجھے سب سے زیادہ پسند ہے۔ اس لیے تم لوگ ایک ہی چیز پسند کر لو یا تو اپنے قیدی لے لو یا مال لے لو۔ میں نے تم ہی لوگوں کے خیال سے ( قیدیوں کی تقسیم میں ) تاخیر کی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف سے واپس ہو کر تقریباً دس دن ان کا انتظار کیا تھا۔ آخر جب ان پر واضح ہو گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں صرف ایک ہی چیز واپس کریں گے تو انہوں نے کہا کہ پھر ہم اپنے ( قبیلے کے ) قیدیوں کی واپسی چاہتے ہیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو خطاب کیا، اللہ تعالیٰ کی اس کی شان کے مطابق ثنا کرنے کے بعد فرمایا: امابعد! تمہارے بھائی ( قبیلہ ہوازن کے لوگ ) توبہ کر کے ہمارے پاس آئے ہیں، مسلمان ہو کر اور میری رائے یہ ہے کہ ان کے قیدی انہیں واپس کر دئیے جائیں۔ اس لیے جو شخص ( بلا کسی دنیاوی صلہ کے ) انہیں اپنی خوشی سے واپس کرنا چاہے وہ واپس کر دے یہ بہتر ہے اور جو لوگ اپنا حصہ نہ چھوڑنا چاہتے ہوں، ان کا حق قائم رہے گا۔ وہ یوں کر لیں کہ اس کے بعد جو سب سے پہلے غنیمت اللہ تعالیٰ ہمیں عنایت فرمائے گا اس میں سے ہم انہیں اس کے بدلہ دے دیں گے تو وہ ان کے قیدی واپس کر دیں۔ تمام صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: یا رسول اللہ! ہم خوشی سے ( بلا کسی بدلہ کے ) واپس کرنا چاہتے ہیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس طرح ہمیں اس کا علم نہیں ہو گا کہ کس نے اپنی خوشی سے واپس کیا ہے اور کس نے نہیں، اس لیے سب لوگ جائیں اور تمہارے چودھری لوگ تمہارا فیصلہ ہمارے پاس لائیں۔ چنانچہ سب واپس آ گئے اور ان کے چودھریوں نے ان سے گفتگو کی پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ سب نے خوشی اور فراخ دلی کے ساتھ اجازت دے دی ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا یہی ہے وہ حدیث جو مجھے قبیلہ ہوازن کے قیدیوں کے متعلق پہنچی ہے۔
4318
Sahih
(55) CHAPTER. The Statement of Allah: (“Truly, Allah has given you victory on many battlefields), and on the day of Hunain (battle) when you rejoiced at your great number… (up to)… Oft-Forgiving, Most Merciful.” (V.9:22-27)
جنگ حنین کابیان
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ . ح وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ شِهَابٍ ، وَزَعَمَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ مَرْوَانَ ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ ، أَخْبَرَاهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ حِينَ جَاءَهُ وَفْدُ هَوَازِنَ مُسْلِمِينَ ، فَسَأَلُوهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ وَسَبْيَهُمْ ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَعِي مَنْ تَرَوْنَ ، وَأَحَبُّ الْحَدِيثِ إِلَيَّ أَصْدَقُهُ ، فَاخْتَارُوا إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ : إِمَّا السَّبْيَ ، وَإِمَّا الْمَالَ ، وَقَدْ كُنْتُ اسْتَأْنَيْتُ بِكُمْ ، وَكَانَ أَنْظَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً حِينَ قَفَلَ مِنْ الطَّائِفِ ، فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ رَادٍّ إِلَيْهِمْ إِلَّا إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ ، قَالُوا : فَإِنَّا نَخْتَارُ سَبْيَنَا ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُسْلِمِينَ ، فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ، ثُمَّ قَالَ : أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنَّ إِخْوَانَكُمْ قَدْ جَاءُونَا تَائِبِينَ ، وَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّ إِلَيْهِمْ سَبْيَهُمْ ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُطَيِّبَ ذَلِكَ فَلْيَفْعَلْ ، وَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَكُونَ عَلَى حَظِّهِ حَتَّى نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ مِنْ أَوَّلِ مَا يُفِيءُ اللَّهُ عَلَيْنَا فَلْيَفْعَلْ ، فَقَالَ النَّاسُ : قَدْ طَيَّبْنَا ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّا لَا نَدْرِي مَنْ أَذِنَ مِنْكُمْ فِي ذَلِكَ مِمَّنْ لَمْ يَأْذَنْ ، فَارْجِعُوا حَتَّى يَرْفَعَ إِلَيْنَا عُرَفَاؤُكُمْ أَمْرَكُمْ ، فَرَجَعَ النَّاسُ ، فَكَلَّمَهُمْ عُرَفَاؤُهُمْ ، ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرُوهُ أَنَّهُمْ قَدْ طَيَّبُوا وَأَذِنُوا هَذَا الَّذِي بَلَغَنِي عَنْ سَبْيِ هَوَازِنَ .
Narrated Marwan and Al-Miswar bin Makhrama: When the delegate of Hawazin came to Allah's Apostle declaring their conversion to Islam and asked him to return their properties and captives, Allah's Apostle got up and said to them, There Is involved in this matter, the people whom you see with me, and the most beloved talk to me, is the true one. So choose one of two alternatives: Either the captives or the properties. I have been waiting for you (i.e. have not distributed the booty). Allah's Apostle had delayed the distribution of their booty over ten nights after his return from Ta'if. So when they came to know that Allah's Apostle was not going to return to them but one of the two, they said, We prefer to have our captives. So Allah's Apostle got up amongst the Muslims, and praising Allah as He deserved, said, To proceed! Your brothers have come to you with repentance and I see (it logical) to return their captives. So, whoever of you likes to do that as a favor then he can do it. And whoever of you likes to stick to his share till we give him from the very first booty which Allah will give us, then he can do so. The people said, We do that (i.e. return the captives) willingly as a favor, 'O Allah's Apostle! Allah's Apostle said, We do not know which of you have agreed to it and which have not; so go back and let your chiefs forward us your decision. They went back and their chief's spoke to them, and they (i.e. the chiefs) returned to Allah's Apostle and informed him that all of them had agreed (to give up their captives) with pleasure, and had given their permission (i.e. that the captives be returned to their people). (The sub-narrator said, That is what has reached me about the captives of Hawazin tribe. )
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا مجھ سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے (دوسری سند) اور مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے ابن شہاب کے بھتیجے (محمد بن عبداللہ بن شہاب نے) بیان کیا کہ محمد بن شہاب نے کہا کہ ان سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ انہیں مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ جب قبیلہ ہوازن کا وفد مسلمان ہو کر حاضر ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رخصت دینے کھڑے ہوئے، انہوں نے آپ سے یہ درخواست کی کہ ان کا مال اور ان کے ( قبیلے کے قیدی ) انہیں واپس دے دئیے جائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جیسا کہ تم لوگ دیکھ رہے ہو، میرے ساتھ کتنے اور لوگ بھی ہیں اور دیکھو سچی بات مجھے سب سے زیادہ پسند ہے۔ اس لیے تم لوگ ایک ہی چیز پسند کر لو یا تو اپنے قیدی لے لو یا مال لے لو۔ میں نے تم ہی لوگوں کے خیال سے ( قیدیوں کی تقسیم میں ) تاخیر کی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف سے واپس ہو کر تقریباً دس دن ان کا انتظار کیا تھا۔ آخر جب ان پر واضح ہو گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں صرف ایک ہی چیز واپس کریں گے تو انہوں نے کہا کہ پھر ہم اپنے ( قبیلے کے ) قیدیوں کی واپسی چاہتے ہیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو خطاب کیا، اللہ تعالیٰ کی اس کی شان کے مطابق ثنا کرنے کے بعد فرمایا: امابعد! تمہارے بھائی ( قبیلہ ہوازن کے لوگ ) توبہ کر کے ہمارے پاس آئے ہیں، مسلمان ہو کر اور میری رائے یہ ہے کہ ان کے قیدی انہیں واپس کر دئیے جائیں۔ اس لیے جو شخص ( بلا کسی دنیاوی صلہ کے ) انہیں اپنی خوشی سے واپس کرنا چاہے وہ واپس کر دے یہ بہتر ہے اور جو لوگ اپنا حصہ نہ چھوڑنا چاہتے ہوں، ان کا حق قائم رہے گا۔ وہ یوں کر لیں کہ اس کے بعد جو سب سے پہلے غنیمت اللہ تعالیٰ ہمیں عنایت فرمائے گا اس میں سے ہم انہیں اس کے بدلہ دے دیں گے تو وہ ان کے قیدی واپس کر دیں۔ تمام صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: یا رسول اللہ! ہم خوشی سے ( بلا کسی بدلہ کے ) واپس کرنا چاہتے ہیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس طرح ہمیں اس کا علم نہیں ہو گا کہ کس نے اپنی خوشی سے واپس کیا ہے اور کس نے نہیں، اس لیے سب لوگ جائیں اور تمہارے چودھری لوگ تمہارا فیصلہ ہمارے پاس لائیں۔ چنانچہ سب واپس آ گئے اور ان کے چودھریوں نے ان سے گفتگو کی پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ سب نے خوشی اور فراخ دلی کے ساتھ اجازت دے دی ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا یہی ہے وہ حدیث جو مجھے قبیلہ ہوازن کے قیدیوں کے متعلق پہنچی ہے۔
4319
Sahih
(55) CHAPTER. The Statement of Allah: (“Truly, Allah has given you victory on many battlefields), and on the day of Hunain (battle) when you rejoiced at your great number… (up to)… Oft-Forgiving, Most Merciful.” (V.9:22-27)
جنگ حنین کابیان
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عُمَرَ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ . ح حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : لَمَّا قَفَلْنَا مِنْ حُنَيْنٍ سَأَلَ عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَذْرٍ كَانَ نَذَرَهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ اعْتِكَافٍ ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَفَائِهِ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، وَرَوَاهُ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
Narrated Ibn `Umar: When we returned from (the battle of) Hunain, `Umar asked the Prophet about a vow which he had made during the Pre-lslamic period of Ignorance that he would perform I`tikaf. The Prophet ordered him to fulfill his vow.
ہم سے ابوالنعمان محمد بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے نافع نے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! (دوسری سند) اور مجھ سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں معمر نے خبر دی، انہیں ایوب نے، انہیں نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب ہم غزوہ حنین سے واپس ہو رہے تھے تو عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی ایک نذر کے متعلق پوچھا جو انہوں نے زمانہ جاہلیت میں اعتکاف کی مانی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اسے پوری کرنے کا حکم دیا اور بعض ( احمد بن عبدہ ضبی ) نے حماد سے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے۔ اور اس روایت کو جریر بن حازم اور حماد بن سلمہ نے ایوب سے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
4320
Sahih
(55) CHAPTER. The Statement of Allah: (“Truly, Allah has given you victory on many battlefields), and on the day of Hunain (battle) when you rejoiced at your great number… (up to)… Oft-Forgiving, Most Merciful.” (V.9:22-27)
جنگ حنین کابیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حُنَيْنٍ ، فَلَمَّا الْتَقَيْنَا كَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ جَوْلَةٌ ، فَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَدْ عَلَا رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، فَضَرَبْتُهُ مِنْ وَرَائِهِ عَلَى حَبْلِ عَاتِقِهِ بِالسَّيْفِ ، فَقَطَعْتُ الدِّرْعَ وَأَقْبَلَ عَلَيَّ ، فَضَمَّنِي ضَمَّةً وَجَدْتُ مِنْهَا رِيحَ الْمَوْتِ ، ثُمَّ أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ ، فَأَرْسَلَنِي فَلَحِقْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، فَقُلْتُ : مَا بَالُ النَّاسِ ، قَالَ : أَمْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، ثُمَّ رَجَعُوا وَجَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ ، فَقُلْتُ : مَنْ يَشْهَدُ لِي ؟ ثُمَّ جَلَسْتُ ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ ، فَقُمْتُ ، فَقُلْتُ : مَنْ يَشْهَدُ لِي ؟ ثُمَّ جَلَسْتُ ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ ، فَقُمْتُ ، فَقَالَ : مَا لَكَ يَا أَبَا قَتَادَةَ ؟ فَأَخْبَرْتُهُ ، فَقَالَ رَجُلٌ : صَدَقَ ، وَسَلَبُهُ عِنْدِي فَأَرْضِهِ مِنِّي ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : لَاهَا اللَّهِ إِذًا لَا يَعْمِدُ إِلَى أَسَدٍ مِنْ أُسْدِ اللَّهِ يُقَاتِلُ عَنِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيُعْطِيَكَ سَلَبَهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : صَدَقَ ، فَأَعْطِهِ ، فَأَعْطَانِيهِ ، فَابْتَعْتُ بِهِ مَخْرَفًا فِي بَنِي سَلِمَةَ فَإِنَّهُ لَأَوَّلُ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ فِي الْإِسْلَامِ .
Narrated Abu Qatada: We set out along with the Prophet during the year of (the battle of) Hunain, and when we faced the enemy, the Muslims (with the exception of the Prophet and some of his companions) retreated (before the enemy). I saw one of the pagans over-powering one of the Muslims, so I struck the pagan from behind his neck causing his armor to be cut off. The pagan headed towards me and pressed me so forcibly that I felt as if I was dying. Then death took him over and he released me. Afterwards I followed `Umar and said to him, What is wrong with the people? He said, It is the Order of Allah. Then the Muslims returned (to the battle after the flight) and (after overcoming the enemy) the Prophet sat and said, Whoever had killed an Infidel and has an evidence to this issue, will have the Salb (i.e. the belonging of the deceased e.g. clothes, arms, horse, etc). I (stood up) and said, Who will be my witness? and then sat down. Then the Prophet repeated his question. Then the Prophet said the same (for the third time). I got up and said, Who will be my witness? and then sat down. The Prophet asked his former question again. So I got up. The Prophet said, What is the matter, O Abu Qatada? So I narrated the whole story; A man said, Abu Qatada has spoken the truth, and the Salb of the deceased is with me, so please compensate Abu Qatada on my behalf. Abu Bakr said, No! By Allah, it will never happen that the Prophet will leave a Lion of Allah who fights for the Sake of Allah and His Apostle and give his spoils to you. The Prophet said, Abu Bakr has spoken the truth. Give it (the spoils) back to him (O man)! So he gave it to me and I bought a garden in (the land of) Banu Salama with it (i.e. the spoils) and that was the first property I got after embracing Islam.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں یحییٰ بن سعید نے، انہیں عمرو بن کثیر بن افلح نے، انہیں قتادہ کے مولیٰ ابو محمد نے اور ان سے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ غزوہ حنین کے لیے ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے۔ جب جنگ ہوئی تو مسلمان ذرا ڈگمگا گئے ( یعنی آگے پیچھے ہو گئے ) ۔ میں نے دیکھا کہ ایک مشرک ایک مسلمان کے اوپر غالب ہو رہا ہے، میں نے پیچھے سے اس کی گردن پر تلوار ماری اور اس کی زرہ کاٹ ڈالی۔ اب وہ مجھ پر پلٹ پڑا اور مجھے اتنی زور سے بھینچا کہ موت کی تصویر میری آنکھوں میں پھر گئی، آخر وہ مر گیا اور مجھے چھوڑ دیا۔ پھر میری ملاقات عمر رضی اللہ عنہ سے ہوئی۔ میں نے پوچھا لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ انہوں نے فرمایا، یہی اللہ عزوجل کا حکم ہے۔ پھر مسلمان پلٹے اور ( جنگ ختم ہونے کے بعد ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے اور فرمایا کہ جس نے کسی کو قتل کیا ہو اور اس کے لیے کوئی گواہ بھی رکھتا ہو تو اس کا تمام سامان و ہتھیار اسے ہی ملے گا۔ میں نے اپنے دل میں کہا کہ میرے لیے کون گواہی دے گا؟ پھر میں بیٹھ گیا۔ بیان کیا کہ پھر آپ نے دوبارہ یہی فرمایا۔ اس مرتبہ پھر میں نے دل میں کہا کہ میرے لیے کون گواہی دے گا؟ اور پھر بیٹھ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اپنا فرمان دہرایا تو میں اس مرتبہ کھڑا ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ فرمایا کیا بات ہے، اے ابوقتادہ! میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو ایک صاحب ( اسود بن خزاعی اسلمی ) نے کہا کہ یہ سچ کہتے ہیں اور ان کے مقتول کا سامان میرے پاس ہے۔ آپ میرے حق میں انہیں راضی کر دیں ( کہ سامان مجھ سے نہ لیں ) اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں، اللہ کی قسم! اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر، جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے لڑتا ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کا حق تمہیں ہرگز نہیں دے سکتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہوں نے سچ کہا، تم سامان ابوقتادہ کو دے دو۔ انہوں نے سامان مجھے دے دیا۔ میں نے اس سامان سے قبیلہ سلمہ کے محلہ میں ایک باغ خریدا اسلام کے بعد یہ میرا پہلا مال تھا، جسے میں نے حاصل کیا تھا۔
4321
Sahih
(55) CHAPTER. The Statement of Allah: (“Truly, Allah has given you victory on many battlefields), and on the day of Hunain (battle) when you rejoiced at your great number… (up to)… Oft-Forgiving, Most Merciful.” (V.9:22-27)
جنگ حنین کابیان
وَقَالَ اللَّيْثُ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ ، أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمَ حُنَيْنٍ نَظَرْتُ إِلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يُقَاتِلُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَآخَرُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ يَخْتِلُهُ مِنْ وَرَائِهِ لِيَقْتُلَهُ ، فَأَسْرَعْتُ إِلَى الَّذِي يَخْتِلُهُ ، فَرَفَعَ يَدَهُ لِيَضْرِبَنِي وَأَضْرِبُ يَدَهُ فَقَطَعْتُهَا ، ثُمَّ أَخَذَنِي فَضَمَّنِي ضَمًّا شَدِيدًا حَتَّى تَخَوَّفْتُ ، ثُمَّ تَرَكَ فَتَحَلَّلَ وَدَفَعْتُهُ ، ثُمَّ قَتَلْتُهُ ، وَانْهَزَمَ الْمُسْلِمُونَ وَانْهَزَمْتُ مَعَهُمْ ، فَإِذَا بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي النَّاسِ ، فَقُلْتُ لَهُ : مَا شَأْنُ النَّاسِ ؟ قَالَ : أَمْرُ اللَّهِ ، ثُمَّ تَرَاجَعَ النَّاسُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَقَامَ بَيِّنَةً عَلَى قَتِيلٍ قَتَلَهُ فَلَهُ سَلَبُهُ ، فَقُمْتُ لِأَلْتَمِسَ بَيِّنَةً عَلَى قَتِيلِي ، فَلَمْ أَرَ أَحَدًا يَشْهَدُ لِي ، فَجَلَسْتُ ، ثُمَّ بَدَا لِي فَذَكَرْتُ أَمْرَهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ جُلَسَائِهِ : سِلَاحُ هَذَا الْقَتِيلِ الَّذِي يَذْكُرُ عِنْدِي فَأَرْضِهِ مِنْهُ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : كَلَّا لَا يُعْطِهِ أُصَيْبِغَ مِنْ قُرَيْشٍ ، وَيَدَعَ أَسَدًا مِنْ أُسْدِ اللَّهِ يُقَاتِلُ عَنِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَدَّاهُ إِلَيَّ ، فَاشْتَرَيْتُ مِنْهُ خِرَافًا ، فَكَانَ أَوَّلَ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ فِي الْإِسْلَامِ .
Narrated Abu Qatada: When it was the day of (the battle of) Hunain, I saw a Muslim man fighting with one of the pagans and another pagan was hiding himself behind the Muslim in order to kill him. So I hurried towards the pagan who was hiding behind the Muslim to kill him, and he raised his hand to hit me but I hit his hand and cut it off. That man got hold of me and pressed me so hard that I was afraid (that I would die), then he knelt down and his grip became loose and I pushed him and killed him. The Muslims (excepting the Prophet and some of his companions) started fleeing and I too, fled with them. Suddenly I met `Umar bin Al-Khattab amongst the people and I asked him, What is wrong with the people? He said, It is the order of Allah Then the people returned to Allah's Apostle (after defeating the enemy). Allah's Apostle said, Whoever produces a proof that he has killed an infidel, will have the spoils of the killed man. So I got up to look for an evidence to prove that I had killed an infidel, but I could not find anyone to bear witness for me, so I sat down. Then it came to my mind (that I should speak of it) and I mentioned the case to Allah's Apostle. A man from the persons who were sitting with him (i.e. the Prophet), said, The arms of the deceased one whom he ( i.e. Abu Qatada) has mentioned, are with me, so please compensate him for it (i.e. the spoils), Abu Bakr said, No, Allah's Apostle will not give it (i.e. the spoils) to a weak humble person from Quraish and leave one of Allah's Lions who fights on behalf of Allah and His Apostle. Allah's Apostle then got up and gave that (spoils) to me, and I bought with it, a garden which was the first property I got after embracing Islam.
اور لیث بن سعد نے بیان کیا، مجھ سے یحییٰ بن سعید انصاری نے بیان کیا تھا کہ ان سے عمر بن کثیر بن افلح نے، ان سے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے مولیٰ ابو محمد نے کہ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ غزوہ حنین کے دن میں نے ایک مسلمان کو دیکھا کہ ایک مشرک سے لڑ رہا تھا اور ایک دوسرا مشرک پیچھے سے مسلمان کو قتل کرنے کی گھات میں تھا، پہلے تو میں اسی کی طرف بڑھا، اس نے اپنا ہاتھ مجھے مارنے کے لیے اٹھایا تو میں نے اس کے ہاتھ پر وار کر کے کاٹ دیا۔ اس کے بعد وہ مجھ سے چمٹ گیا اور اتنی زور سے مجھے بھینچا کہ میں ڈر گیا۔ آخر اس نے مجھے چھوڑ دیا اور ڈھیلا پڑ گیا۔ میں نے اسے دھکا دے کر قتل کر دیا اور مسلمان بھاگ نکلے اور میں بھی ان کے ساتھ بھاگ پڑا۔ لوگوں میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نظر آئے تو میں نے ان سے پوچھا، کہ لوگ بھاگ کیوں رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا یہی حکم ہے، پھر لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر جمع ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اس پر گواہ قائم کر دے گا کہ کسی مقتول کو اسی نے قتل کیا ہے تو اس کا سارا سامان اسے ملے گا۔ میں اپنے مقتول پر گواہ کے لیے اٹھا لیکن مجھے کوئی گواہ دکھائی نہیں دیا۔ آخر میں بیٹھ گیا پھر میرے سامنے ایک صورت آئی۔ میں نے اپنے معاملے کی اطلاع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے ایک صاحب ( اسود بن خزاعی اسلمی رضی اللہ عنہ ) نے کہا کہ ان کے مقتول کا ہتھیار میرے پاس ہے، آپ میرے حق میں انہیں راضی کر دیں۔ اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا ہرگز نہیں، اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر کو چھوڑ کر جو اللہ اور اس کے رسول کے لیے جنگ کرتا ہے، اس کا حق قریش کے ایک بزدل کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں دے سکتے۔ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور مجھے وہ سامان عطا فرمایا۔ میں نے اس سے ایک باغ خریدا اور یہ سب سے پہلا مال تھا جسے میں نے اسلام لانے کے بعد حاصل کیا تھا۔
4322
Sahih
(56) CHAPTER. The Ghazwa of Autas.
غزوہ اوطاس کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَمَّا فَرَغَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حُنَيْنٍ ، بَعَثَ أَبَا عَامِرٍ عَلَى جَيْشٍ إِلَى أَوْطَاسٍ ، فَلَقِيَ دُرَيْدَ بْنَ الصِّمَّةِ فَقُتِلَ دُرَيْدٌ ، وَهَزَمَ اللَّهُ أَصْحَابَهُ ، قَالَ أَبُو مُوسَى : وَبَعَثَنِي مَعَ أَبِي عَامِرٍ ، فَرُمِيَ أَبُو عَامِرٍ فِي رُكْبَتِهِ رَمَاهُ جُشَمِيٌّ بِسَهْمٍ ، فَأَثْبَتَهُ فِي رُكْبَتِهِ ، فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ ، فَقُلْتُ : يَا عَمِّ مَنْ رَمَاكَ ؟ فَأَشَارَ إِلَى أَبِي مُوسَى ، فَقَالَ : ذَاكَ قَاتِلِي الَّذِي رَمَانِي ، فَقَصَدْتُ لَهُ فَلَحِقْتُهُ ، فَلَمَّا رَآنِي وَلَّى فَاتَّبَعْتُهُ ، وَجَعَلْتُ أَقُولُ لَهُ : أَلَا تَسْتَحْيِي ، أَلَا تَثْبُتُ ؟ فَكَفَّ ، فَاخْتَلَفْنَا ضَرْبَتَيْنِ بِالسَّيْفِ ، فَقَتَلْتُهُ ، ثُمَّ قُلْتُ لِأَبِي عَامِرٍ : قَتَلَ اللَّهُ صَاحِبَكَ ، قَالَ : فَانْزِعْ هَذَا السَّهْمَ ، فَنَزَعْتُهُ ، فَنَزَا مِنْهُ الْمَاءُ ، قَالَ : يَا ابْنَ أَخِي ، أَقْرِئْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّلَامَ ، وَقُلْ لَهُ : اسْتَغْفِرْ لِي ، وَاسْتَخْلَفَنِي أَبُو عَامِرٍ عَلَى النَّاسِ ، فَمَكُثَ يَسِيرًا ثُمَّ مَاتَ ، فَرَجَعْتُ ، فَدَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ عَلَى سَرِيرٍ مُرْمَلٍ وَعَلَيْهِ فِرَاشٌ قَدْ أَثَّرَ رِمَالُ السَّرِيرِ بِظَهْرِهِ وَجَنْبَيْهِ ، فَأَخْبَرْتُهُ بِخَبَرِنَا وَخَبَرِ أَبِي عَامِرٍ ، وَقَالَ : قُلْ لَهُ اسْتَغْفِرْ لِي ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعُبَيْدٍ أَبِي عَامِرٍ ، وَرَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَوْقَ كَثِيرٍ مِنْ خَلْقِكَ مِنَ النَّاسِ ، فَقُلْتُ : وَلِي ، فَاسْتَغْفِرْ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ذَنْبَهُ ، وَأَدْخِلْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُدْخَلًا كَرِيمًا ، قَالَ أَبُو بُرْدَةَ : إِحْدَاهُمَا لِأَبِي عَامِرٍ ، وَالْأُخْرَى لِأَبِي مُوسَى .
Narrated Abu Musa: When the Prophet had finished from the battle of Hunain, he sent Abu Amir at the head of an army to Autas He (i.e. Abu Amir) met Duraid bin As Summa and Duraid was killed and Allah defeated his companions. The Prophet sent me with Abu 'Amir. Abu Amir was shot at his knee with an arrow which a man from Jushm had shot and fixed into his knee. I went to him and said, O Uncle! Who shot you? He pointed me out (his killer) saying, That is my killer who shot me (with an arrow). So I headed towards him and overtook him, and when he saw me, he fled, and I followed him and started saying to him, Won't you be ashamed? Won't you stop? So that person stopped, and we exchanged two hits with the swords and I killed him. Then I said to Abu 'Amir. Allah has killed your killer. He said, Take out this arrow So I removed it, and water oozed out of the wound. He then said, O son of my brother! Convey my compliments to the Prophet and request him to ask Allah's Forgiveness for me. Abu Amir made me his successor in commanding the people (i.e. troops). He survived for a short while and then died. (Later) I returned and entered upon the Prophet at his house, and found him lying in a bed made of stalks of date-palm leaves knitted with ropes, and on it there was bedding. The strings of the bed had their traces over his back and sides. Then I told the Prophet about our and Abu Amir's news and how he had said Tell him to ask for Allah's Forgiveness for me. The Prophet asked for water, performed ablution and then raised hands, saying, O Allah's Forgive `Ubaid, Abu Amir. At that time I saw the whiteness of the Prophet's armpits. The Prophet then said, O Allah, make him (i.e. Abu Amir) on the Day of Resurrection, superior to many of Your human creatures. I said, Will you ask Allah's Forgiveness for me? (On that) the Prophet said, O Allah, forgive the sins of `Abdullah bin Qais and admit him to a nice entrance (i.e. paradise) on the Day of Resurrection. Abu Burda said, One of the prayers was for Abu 'Amir and the other was for Abu Musa (i.e. `Abdullah bin Qais).
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے برید بن عبداللہ نے، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ حنین سے فارغ ہو گئے تو آپ نے ایک دستے کے ساتھ ابوعامر رضی اللہ عنہ کو وادی اوطاس کی طرف بھیجا۔ اس معرکہ میں درید ابن الصمہ سے مقابلہ ہوا۔ درید قتل کر دیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے لشکر کو شکست دے دی۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوعامر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھی بھیجا تھا۔ ابوعامر رضی اللہ عنہ کے گھٹنے میں تیر آ کر لگا۔ بنی جعشم کے ایک شخص نے ان پر تیر مارا تھا اور ان کے گھٹنے میں اتار دیا تھا۔ میں ان کے پاس پہنچا اور کہا:چچا! یہ تیر آپ پر کس نے پھینکا؟ انہوں نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو اشارے سے بتایا کہ وہ جعشمی میرا قاتل ہے جس نے مجھے نشانہ بنایا ہے۔ میں اس کی طرف لپکا اور اس کے قریب پہنچ گیا لیکن جب اس نے مجھے دیکھا تو وہ بھاگ پڑا میں نے اس کا پیچھا کیا اور میں یہ کہتا جاتا تھا، تجھے شرم نہیں آتی، تجھ سے مقابلہ نہیں کیا جاتا۔ آخر وہ رک گیا اور ہم نے ایک دوسرے پر تلوار سے وار کیا۔ میں نے اسے قتل کر دیا اور ابوعامر رضی اللہ عنہ سے جا کر کہا کہ اللہ نے آپ کے قاتل کو قتل کروا دیا۔ انہوں نے فرمایا کہ میرے ( گھٹنے میں سے ) تیر نکال لے، میں نے نکال دیا تو اس سے پانی جاری ہو گیا پھر انہوں نے فرمایا: بھتیجے! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو میرا سلام پہنچانا اور عرض کرنا کہ میرے لیے مغفرت کی دعا فرمائیں۔ ابوعامر رضی اللہ عنہ نے لوگوں پر مجھے اپنا نائب بنا دیا۔ اس کے بعد وہ تھوڑی دیر اور زندہ رہے اور شہادت پائی۔ میں واپس ہوا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا۔ آپ اپنے گھر میں بانوں کی ایک چارپائی پر تشریف فرما تھے۔ اس پر کوئی بستر بچھا ہوا نہیں تھا اور بانوں کے نشانات آپ کی پیٹھ اور پہلو پر پڑ گئے تھے۔ میں نے آپ سے اپنے اور ابوعامر رضی اللہ عنہ کے واقعات بیان کئے اور یہ کہ انہوں نے دعا مغفرت کے لیے درخواست کی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی طلب فرمایا اور وضو کیا پھر ہاتھ اٹھا کر دعا کی، اے اللہ! عبید ابوعامر کی مغفرت فرما۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغل میں سفیدی ( جب آپ دعا کر رہے تھے ) دیکھی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی، اے اللہ! قیامت کے دن ابوعامر کو اپنی بہت سی مخلوق سے بلند تر درجہ عطا فرمائیو۔ میں نے عرض کیا اور میرے لیے بھی اللہ سے مغفرت کی دعا فرما دیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اے اللہ! عبداللہ بن قیس ابوموسیٰ کے گناہوں کو بھی معاف فرما اور قیامت کے دن اچھا مقام عطا فرمائیو۔ ابوبردہ نے بیان کیا کہ ایک دعا ابوعامر رضی اللہ عنہ کے لیے تھی اور دوسری ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے لیے۔
4323
Sahih
(57) CHAPTER. The Ghazwa of At-Ta'if was in the month of Shawwal, during the 8th year (of Al-Hijrah).
غزوہطائف کا بیان جوشوال سنہ 8ھ میں ہوا ۔ یہ موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیاہے
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، سَمِعَ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي مُخَنَّثٌ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ إِنْ فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ الطَّائِفَ غَدًا ، فَعَلَيْكَ بِابْنَةِ غَيْلَانَ ، فَإِنَّهَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ ، وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا يَدْخُلَنَّ هَؤُلَاءِ عَلَيْكُنَّ ، قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ : وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : الْمُخَنَّثُ هِيتٌ .حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا ، وَزَادَ : وَهُوَ مُحَاصِرُ الطَّائِفِ يَوْمَئِذٍ .
Narrated Um Salama: The Prophet came to me while there was an effeminate man sitting with me, and I heard him (i.e. the effeminate man) saying to `Abdullah bin Abi Umaiya, O `Abdullah! See if Allah should make you conquer Ta'if tomorrow, then take the daughter of Ghailan (in marriage) as (she is so beautiful and fat that) she shows four folds of flesh when facing you, and eight when she turns her back. The Prophet then said, These (effeminate men) should never enter upon you (O women!). Ibn Juraij said, That effeminate man was called Hit. Narrated Hisham: The above narration and added extra, that at that time, the Prophet, was besieging Taif.
ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم نے سفیان بن عیینہ سے سنا، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے زینب بنت ابی سلمہ نے اور ان سے ان کی والدہ ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے تو میرے پاس ایک مخنث بیٹھا ہوا تھا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا کہ وہ عبداللہ بن امیہ سے کہہ رہا تھا کہ اے عبداللہ! دیکھو اگر کل اللہ تعالیٰ نے طائف کی فتح تمہیں عطا فرمائی تو غیلان بن سلمہ کی بیٹی ( بادیہ نامی ) کو لے لینا وہ جب سامنے آتی ہے تو پیٹ پر چار بل اور پیٹھ موڑ کر جاتی ہے تو آٹھ بل دکھائی دیتے ہیں ( یعنی بہت موٹی تازہ عورت ہے ) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ لوگ اب تمہار ے گھر میں نہ آیا کریں۔ ابن عیینہ نے بیان کیا کہ ابن جریج نے کہا، اس مخنث کا نام ہیت تھا۔ ہم سے محمود نے بیان کیا، ان سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے اسی طرح بیان کیا اور یہ اضافہ کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت طائف کا محاصرہ کئے ہوئے تھے
4324
Sahih
(57) CHAPTER. The Ghazwa of At-Ta'if was in the month of Shawwal, during the 8th year (of Al-Hijrah).
غزوہطائف کا بیان جوشوال سنہ 8ھ میں ہوا ۔ یہ موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیاہے
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ الشَّاعِرِ الْأَعْمَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : لَمَّا حَاصَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّائِفَ ، فَلَمْ يَنَلْ مِنْهُمْ شَيْئًا ، قَالَ : إِنَّا قَافِلُونَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، فَثَقُلَ عَلَيْهِمْ ، وَقَالُوا : نَذْهَبُ وَلَا نَفْتَحُهُ ، وَقَالَ مَرَّةً : نَقْفُلُ ، فَقَالَ : اغْدُوا عَلَى الْقِتَالِ ، فَغَدَوْا ، فَأَصَابَهُمْ جِرَاحٌ ، فَقَالَ : إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، فَأَعْجَبَهُمْ ، فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً : فَتَبَسَّمَ ، قَالَ : قَالَ الْحُمَيْدِيُّ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الْخَبَرَ كُلَّهُ .
Narrated `Abdullah bin `Amr: When Allah's Apostle besieged Taif and could not conquer its people, he said, We will return (to Medina) If Allah wills. That distressed the Companions (of the Prophet and they said, Shall we go away without conquering it (i.e. the Fort of Taif)? Once the Prophet said, Let us return. Then the Prophet said (to them), Fight tomorrow. They fought and (many of them) got wounded, whereupon the Prophet said, We will return (to Medina) tomorrow if Allah wills. That delighted them, whereupon the Prophet smiled. The sub-narrator, Sufyan said once, (The Prophet) smiled.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے ابو العباس نابینا شاعر نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے، انہوں نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا محاصرہ کیا تو دشمن کا کچھ بھی نقصان نہیں کیا۔ آخر آپ نے فرمایا کہ اب ان شاءاللہ ہم واپس ہو جائیں گے۔ مسلمانوں کے لیے ناکام لوٹنا بڑا شاق گزرا۔ انہوں نے کہا کہ واہ بغیر فتح کے ہم واپس چلے جائیں ( راوی نے ) ایک مرتبہ «نذهب» کے بجائے «نقفل» کا لفظ استعمال کیا یعنی ہم۔۔۔ لوٹ جائیں اور طائف کو فتح نہ کریں ( یہ کیونکر ہو سکتا ہے ) اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر صبح سویرے میدان میں جنگ کے لیے آ جاؤ۔ پس وہ صحابہ سویرے ہی آ گئے لیکن ان کی بڑی تعداد زخمی ہو گئی۔ اب پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان شاءاللہ ہم کل واپس چلیں گے۔ صحابہ نے اسے بہت پسند کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر ہنس پڑے۔ اور سفیان نے ایک مرتبہ بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دئیے۔ حمیدی نے کہا کہ ہم سے سفیان نے یہ پوری خبر بیان کی۔
4325
Sahih
(57) CHAPTER. The Ghazwa of At-Ta'if was in the month of Shawwal, during the 8th year (of Al-Hijrah).
غزوہطائف کا بیان جوشوال سنہ 8ھ میں ہوا ۔ یہ موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیاہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعْدًا وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَأَبَا بَكْرَةَ ، وَكَانَ تَسَوَّرَ حِصْنَ الطَّائِفِ فِي أُنَاسٍ ، فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَا : سَمِعْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُ فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ ، وَقَالَ هِشَامٌ : وَأَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، أَوْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعْدًا ، وَأَبَا بَكْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ عَاصِمٌ : قُلْتُ : لَقَدْ شَهِدَ عِنْدَكَ رَجُلَانِ حَسْبُكَ بِهِمَا ، قَالَ : أَجَلْ ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَأَوَّلُ مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَأَمَّا الْآخَرُ ، فَنَزَلَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَالِثَ ثَلَاثَةٍ وَعِشْرِينَ مِنْ الطَّائِفِ .
Narrated Abu `Uthman: I heard from Sa`d, the first man who has thrown an arrow in Allah's Cause, and from Abu Bakra who jumped over the wall of the Ta'if Fort along with a few persons and came to the Prophet. They both said, We heard the Prophet saying, If somebody claims to be the son of somebody other than his father knowingly, he will be denied Paradise (i.e. he will not enter Paradise).' Narrated Ma`mar from `Asim from Abu Al-`Aliya or Abu `Uthman An-Nahdi who said. I heard Sa`d and Abu Bakra narrating from the Prophet. `Asim said, I said (to him), 'Very trustworthy persons have narrated to you.' He said, 'Yes, one of them was the first to throw an arrow in Allah's Cause and the other came to the Prophet in a group of thirty-three persons from Ta'if.'
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر (محمد بن جعفر) نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عاصم بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے ابوعثمان نہدی سے سنا کہا میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا، جنہوں نے سب سے پہلے اللہ کے راستے میں تیر چلایا تھا اور ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے جو طائف کے قلعے پر چند مسلمانوں کے ساتھ چڑھے تھے اور اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔ ان دونوں صحابیوں نے بیان کیا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے کہ جو شخص جانتے ہوئے اپنے باپ کے سوا کسی دوسرے کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرے تو اس پر جنت حرام ہے۔ اور ہشام نے بیان کیا اور انہیں معمر نے خبر دی، انہیں عاصم نے، انہیں ابوالعالیہ یا ابوعثمان نہدی نے، کہا کہ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، عاصم نے بیان کیا کہ میں نے ( ابوالعالیہ یا ابوعثمان نہدی رضی اللہ عنہ ) سے کہا آپ سے یہ روایت ایسے دو اصحاب ( سعد اور ابوبکرہ رضی اللہ عنہما ) نے بیان کی ہے کہ یقین کے لیے ان کے نام کافی ہیں۔ انہوں نے کہا یقیناً ان میں سے ایک ( سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ) تو وہ ہیں جنہوں نے اللہ کے راستے میں سب سے پہلے تیر چلایا تھا اور دوسرے ( ابوبکرہ رضی اللہ عنہ ) وہ ہیں جو تیسویں آدمی تھے ان لوگوں میں جو طائف کے قلعہ سے اتر کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے۔
4326
Sahih
(57) CHAPTER. The Ghazwa of At-Ta'if was in the month of Shawwal, during the 8th year (of Al-Hijrah).
غزوہطائف کا بیان جوشوال سنہ 8ھ میں ہوا ۔ یہ موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیاہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعْدًا وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَأَبَا بَكْرَةَ ، وَكَانَ تَسَوَّرَ حِصْنَ الطَّائِفِ فِي أُنَاسٍ ، فَجَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَا : سَمِعْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُ فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ ، وَقَالَ هِشَامٌ : وَأَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، أَوْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعْدًا ، وَأَبَا بَكْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ عَاصِمٌ : قُلْتُ : لَقَدْ شَهِدَ عِنْدَكَ رَجُلَانِ حَسْبُكَ بِهِمَا ، قَالَ : أَجَلْ ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَأَوَّلُ مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَأَمَّا الْآخَرُ ، فَنَزَلَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَالِثَ ثَلَاثَةٍ وَعِشْرِينَ مِنْ الطَّائِفِ .
Narrated Abu `Uthman: I heard from Sa`d, the first man who has thrown an arrow in Allah's Cause, and from Abu Bakra who jumped over the wall of the Ta'if Fort along with a few persons and came to the Prophet. They both said, We heard the Prophet saying, If somebody claims to be the son of somebody other than his father knowingly, he will be denied Paradise (i.e. he will not enter Paradise).' Narrated Ma`mar from `Asim from Abu Al-`Aliya or Abu `Uthman An-Nahdi who said. I heard Sa`d and Abu Bakra narrating from the Prophet. `Asim said, I said (to him), 'Very trustworthy persons have narrated to you.' He said, 'Yes, one of them was the first to throw an arrow in Allah's Cause and the other came to the Prophet in a group of thirty-three persons from Ta'if.'
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر (محمد بن جعفر) نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عاصم بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے ابوعثمان نہدی سے سنا کہا میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا، جنہوں نے سب سے پہلے اللہ کے راستے میں تیر چلایا تھا اور ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے جو طائف کے قلعے پر چند مسلمانوں کے ساتھ چڑھے تھے اور اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔ ان دونوں صحابیوں نے بیان کیا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے کہ جو شخص جانتے ہوئے اپنے باپ کے سوا کسی دوسرے کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرے تو اس پر جنت حرام ہے۔ اور ہشام نے بیان کیا اور انہیں معمر نے خبر دی، انہیں عاصم نے، انہیں ابوالعالیہ یا ابوعثمان نہدی نے، کہا کہ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، عاصم نے بیان کیا کہ میں نے ( ابوالعالیہ یا ابوعثمان نہدی رضی اللہ عنہ ) سے کہا آپ سے یہ روایت ایسے دو اصحاب ( سعد اور ابوبکرہ رضی اللہ عنہما ) نے بیان کی ہے کہ یقین کے لیے ان کے نام کافی ہیں۔ انہوں نے کہا یقیناً ان میں سے ایک ( سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ) تو وہ ہیں جنہوں نے اللہ کے راستے میں سب سے پہلے تیر چلایا تھا اور دوسرے ( ابوبکرہ رضی اللہ عنہ ) وہ ہیں جو تیسویں آدمی تھے ان لوگوں میں جو طائف کے قلعہ سے اتر کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے۔
4327
Sahih
(57) CHAPTER. The Ghazwa of At-Ta'if was in the month of Shawwal, during the 8th year (of Al-Hijrah).
غزوہطائف کا بیان جوشوال سنہ 8ھ میں ہوا ۔ یہ موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیاہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ نَازِلٌ بِالْجِعْرَانَةِ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ وَمَعَهُ بِلَالٌ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيٌّ ، فَقَالَ : أَلَا تُنْجِزُ لِي مَا وَعَدْتَنِي ، فَقَالَ لَهُ : أَبْشِرْ ، فَقَالَ : قَدْ أَكْثَرْتَ عَلَيَّ مِنْ أَبْشِرْ ، فَأَقْبَلَ عَلَى أَبِي مُوسَى وَبِلَالٍ كَهَيْئَةِ الْغَضْبَانِ ، فَقَالَ : رَدَّ الْبُشْرَى ، فَاقْبَلَا أَنْتُمَا ، قَالَا : قَبِلْنَا ، ثُمَّ دَعَا بِقَدَحٍ فِيهِ مَاءٌ ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ فِيهِ ، وَمَجَّ فِيهِ ، ثُمَّ قَالَ : اشْرَبَا مِنْهُ ، وَأَفْرِغَا عَلَى وُجُوهِكُمَا وَنُحُورِكُمَا ، وَأَبْشِرَا ، فَأَخَذَا الْقَدَحَ فَفَعَلَا ، فَنَادَتْ أُمُّ سَلَمَةَ مِنْ وَرَاءِ السِّتْرِ : أَنْ أَفْضِلَا لِأُمِّكُمَا ، فَأَفْضَلَا لَهَا مِنْهُ طَائِفَةً .
Narrated Abu Burda: Abu Musa said, I was with the Prophet when he was encamping at Al-Jarana (a place) between Mecca and Medina and Bilal was with him. A bedouin came to the Prophet and said, Won't you fulfill what you have promised me? The Prophet said, 'Rejoice (at what I will do for you).' The bedouin said, (You have said to me) rejoice too often. Then the Prophet turned to me (i.e. Abu Musa) and Bilal in an angry mood and said, 'The bedouin has refused the good tidings, so you both accept them.' Bilal and I said, 'We accept them.' Then the Prophet asked for a drinking bowl containing water and washed his hands and face in it, and then took a mouthful of water and threw it therein saying (to us), Drink (some of) it and pour (some) over your faces and chests and be happy at the good tidings. So they both took the drinking bowl and did as instructed. Um Salama called from behind a screen, Keep something (of the water for your mother. So they left some of it for her.
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے برید بن عبداللہ نے، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے برید بن عبداللہ نے، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
4328
Sahih

Chapters

78
01
(1) CHAPTER. The Ghazwa of Al-'Ushaira or Al-Usaira.
غزوہعشیرہ یا عسرہ کا بیان
1 Hadith
02
(2) CHAPTER. The Prophet's prediction about whom he thought would be killed at Badr.
بدر کی لڑائی میں فلاں فلاں مارے جائیں گے ۔ اس کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشینگوئی کا بیان
1 Hadith
03
(3) CHAPTER. The story of the Ghazwa of Badr.
غزوہبدر کا بیان
1 Hadith
04
(4) CHAPTER. The Statement of Allah: “(Remember) when you sought help of your Lord and He answered you (saying: 'I will help you with a thousand of a angels each behind the other (following one another) in succession.' Allah made it only as glad tidings, and that your hearts be at rest therewith. And there is no victory except from Allah. verily, Allah is All-Mighty, All-Wise. (Remember) when He covered you with a slumber as a security from Him, and He caused water (rain) to descend on you from the sky, to clean you thereby and to remove from you the Rijz (whispering, evil-suggestions) of Shaitan (Satan), and to strengthen yor hearts, and make your feet firm thereby. (Remember) when your Lord revealed to the angels, 'Verily, I am with you so keep firm those who have believed. I will cast terror into the hearts of those who have disbelived, so strike them over the necks, and smite over all their fingers and toes.' This is because they defined and disobeys Allah and His Messenger, then verily, Allah is Severe in punisllment.” (V.8:9-13)
اللہ تعالیٰ کا فرمان
5 Hadith
05
(5) CHAPTER.
۔ ۔ ۔
55 Hadith
06
(6) CHAPTER. The number of the warriors of Badr.
جنگبدر میں شریک ہونے والوں کا شمار
5 Hadith
07
(7) CHAPTER. Invoking evil of the Prophet on the disbelievers of Quraish, (Shaiba, Utba, Al-Walid and Abu jahl, etc.) and (the mention of) their death.
کفار قریش ، شیبہ ، عتبہ ، ولید اور ابوجہل بنہشام کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بددعا کرنا اور ان کی ہلاکت کا بیان
1 Hadith
08
(8) CHAPTER. The killing of Abu Jahl.
( بدر کے دن ) ابوجہل کا قتل ہونا
21 Hadith
09
(9) CHAPTER. The superiority of those who fought the battle of Badr.
بدر کی لڑائی میں حاضر ہونے والوں کی فضیلت کا بیان
14 Hadith
10
(12) CHAPTER.
جنگبدر میں فرشتوں کا شریک ہونا
1 Hadith
11
(14) CHAPTER. The story of Bani An-Nadir.
بنو نضیر کے یہودیوں کے واقعہ کا بیان
8 Hadith
12
(15) CHAPTER. The killing of Kab bin Al-Ashraf.
کعببناشرف یہودی کے قتل کا قصہ
2 Hadith
13
(16) CHAPTER. The killing of Abu Rafi, Abdullah bin Abi Al-Huqaiq.
ابورافع ۔ یہودی عبداللہبنابی الحقیق کے قتل کا قصہ
2 Hadith
14
(17) CHAPTER. The Ghazwa of Uhud.
غزوہاحد کا بیان
11 Hadith
15
(18) CHAPTER: “When two parties from among you were about the lose heart, but Allah was their Wali (Protector and Supporter).” (V.3:122)
جب تم میں سے دو جماعتیں ایسا ارادہ کر بیٹھتی تھیں کہ ہمت ہار دیں حالانکہ اللہ دونوں کا مددگار تھا اور ایماندار وں کو تو اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے
14 Hadith
16
(22) CHAPTER. (Allah's Statement): “Not for you (O Muhammad , but for Allah) is the decision; whether He turns in mercy to (pardon) them or punishes them; verily, they are the Zalimun (polytheists, and wrong-doers, disobedients).” (V.3:128)
اللہ تعالیٰ کا فرمان ” آپ کو اس امر میں کوئی اختیار نہیں ۔ اللہ خواہ ان کی توبہ قبول کرے یا انہیں عذاب کرے پس بیشک وہ ظالم ہیں ۔
2 Hadith
17
(23) CHAPTER. Narration regarding Umm Salit.
حضرت امسلیط رضیاللہعنہا کا تذکرہ
1 Hadith
18
(24) CHAPTER. The martyrdom of Hamza bin Abdul-Muttalib .
حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضیاللہعنہ کی شہادت کا بیان
1 Hadith
19
(25) CHAPTER. The wounds inflicted on the Prophet on the day (of the battle) of Uhud.
غزوہاحد کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو زخم پہنچے تھے ان کا بیان
2 Hadith
20
(26) CHAPTER. (Allah's Statement):- “Those who answered (the Call of) Allah and the Messenger (Muhammad )... (V.3:172)
وہ لوگ جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی آواز کو عملاً قبول کیا ( یعنی ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعمیل کے لیے فوراً تیار ہو گئے )
1 Hadith
21
(27) CHAPTER. The Muslims who were killed on the day (of the battle) of Uhud.
جن مسلمانوں نے غزوہاحد میں شہادت پائی ان کا بیان ۔
5 Hadith
22
(28) CHAPTER. “Uhud is a mountain that loves us and is loved by us.”
ارشاد نبوی کہ احد پہاڑ ہم سے محبت رکھتا ہے ۔
3 Hadith
23
(29) CHAPTER. The Ghazwa (i.e., battle) of Ar-Raji, Ril, Dhakwan and Bir Mauna.
غزوہ رجیع کا بیان
11 Hadith
24
(30) CHAPTER. The Ghazwa of Al-Khandaq which is called Al-Ahzab Battle.
غزوہخندق کا بیان جس کا دوسرا نام غزوہاحزاب ہے ۔
20 Hadith
25
(31) CHAPTER. The return of the Prophet from (the battle of) the Ahzab (Confederates) and his going out to Bani Quraiza and his besieging them.
غزوہاحزاب سے نبی کریم کا واپس لوٹنا اور بنوقریظہ پر چڑھائی کرنااور ان کا محاصرہ کرنا
8 Hadith
26
(32) CHAPTER. The Ghazwa (i.e., battle) of Dhat-ur-Riqa.
غزوہ ذاتالرقاع کا بیان
13 Hadith
27
(33) CHAPTER. The Ghazwa of Banu Al-Mustaliq which belongs to the tribe of Khuzaa. It is also called the Ghazwa of Al- Muraisi.
غزوہ بنو المصطلق کا بیان جو قبیلہ بنو خزاعہ سے ہوا تھا اور یہی غزوہ مریسیع ( بھی کہلاتا ) ہے
2 Hadith
28
(34) CHAPTER. The Ghazwa of Anmar.
غزوہ انمار کا بیان
1 Hadith
29
(35) CHAPTER. The narration of AI-Ifk.
واقعہ افک کا بیان
7 Hadith
30
(36) CHAPTER. The Ghazwa of Al- Hudaibiya.
غزوہ حدیبیہ کا بیان
44 Hadith
31
(37) CHAPTER. The story of (the tribes of) 'Ukl and 'Uraina.
قبائل عکل اور عرینہ کا قصہ
2 Hadith
32
(38) CHAPTER. Ghazwa Dhat-Qarad.
ذات قرد کی لڑائی کا بیان
1 Hadith
33
(39) CHAPTER. Ghazwa of Khaibar.
غزوہخیبر کا بیان
49 Hadith
34
(40) CHAPTER. The appointment of a ruler for Khaibar by the Prophet .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خیبر والوں پر تحصیل دار مقرر فرمانا
4 Hadith
35
(41) CHAPTER. The dealing of the Prophet with the people of Khaibar.
خیبر والوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ طے کرنا
1 Hadith
36
(42) CHAPTER. The sheep which was poisoned (and presented) to the Prophet at Khaibar.
اس بکری کا گوشت جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خیبر میں زہر دیا گیا تھا ۔ اس کو عروہ نے عائشہ رضیاللہعنہا سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے ۔
1 Hadith
37
(43) CHAPTER. The Ghazwa of Zaid bin Haritha.
غزوہ زیدبنحارثہ کا بیان
1 Hadith
38
(44) CHAPTER. The Umra Al-Qada.
عمرہ قضاء کا بیان
9 Hadith
39
(45) CHAPTER. The Ghazwa of Mu'tah in the land of Sham.
غزوہموتہ کا بیان جو سرزمین شام میں سنہ 8ھ میں ہوا تھا
9 Hadith
40
(46) CHAPTER. The despatch of Usama bin Zaid by the Prophet towards Al-Huraqat, (a place of the tribe of Juhaina).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسامہ بنزید رضیاللہعنہ کو حرقات کے مقابلہ پر بھیجنا
4 Hadith
41
(46) CHAPTER. The despatch of Usama bin Zaid by the Prophet towards Al-Huraqat, (a place of the tribe of Juhaina).
غزوہ فتح مکہ کا بیان
5 Hadith
42
(48) CHAPTER. The Ghazwa of Al-Fath (was fought) during Ramadan.
غزوہ فتح مکہ کا بیان جو رمضان سنہ 8 ھ میں ہوا تھا
2 Hadith
43
(49) CHAPTER. Where did the Prophet fix the flag on the day of the conquest of Makkah?
فتح مکہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جھنڈا کہاں گاڑا تھا ؟
9 Hadith
44
(50) CHAPTER. The entrance of the Prophet from the upper part of Makkah.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا شہر کے بالائی جانب سے مکہ میں داخل ہونا
3 Hadith
45
(52) CHAPTER.
فتح مکہ کے دن قیام نبوی کا بیان
5 Hadith
46
(53) CHAPTER. The stay of the Prophet in Makkah during the period of the Conquest (of Makkah).
فتح مکہ کے زمانہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکہ میں قیام کرنا
3 Hadith
47
(55) CHAPTER. The Statement of Allah: (“Truly, Allah has given you victory on many battlefields), and on the day of Hunain (battle) when you rejoiced at your great number… (up to)… Oft-Forgiving, Most Merciful.” (V.9:22-27)
جنگ حنین کابیان
9 Hadith
48
(56) CHAPTER. The Ghazwa of Autas.
غزوہ اوطاس کا بیان
1 Hadith
49
(57) CHAPTER. The Ghazwa of At-Ta'if was in the month of Shawwal, during the 8th year (of Al-Hijrah).
غزوہطائف کا بیان جوشوال سنہ 8ھ میں ہوا ۔ یہ موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیاہے
14 Hadith
50
(58) CHAPTER. The Sariya (i.e., an army unit sent by the Prophet ) which was sent towards Najd.
نجد کی طرف جو لشکرآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے روانہ کیا تھا ، اس کا بیان
1 Hadith
51
(59) CHAPTER. The Prophet sent Khalid bin Al-Walid (to fight) with Banu Jadhima.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خالدبنولید ر ضی اللہ عنہ کو بنیجذیمہ قبیلے کی طرف بھیجنا
1 Hadith
52
(60) CHAPTER. The Sariya of Abdullah bin Hudhafa As-Sahmi and Alqama bin Majazziz Al-Mudliji, and it is said that it was called the Sariya of the Ansar.
عبداللہبنحذافہ سہمی رضی اللہ عنہ
1 Hadith
53
(61) CHAPTER. The sending of Abu Musa and Mu'adh to Yemen before the Hajjat-al-Wada.
حجۃالوداع سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ابوموسیٰاشعری اور حضرت معاذبنجبل رضیاللہعنہما کو یمن بھیجنا
8 Hadith
54
(62) CHAPTER. The sending Ali bin Abi Talib and Khalid bin Al-Walid Yemen before Hajjat-al-Wada'.
حجۃالوداع سے پہلے علی بنابیطالب اور خالدبنولید رضیاللہعنہما کو یمن بھیجنا
6 Hadith
55
(63) CHAPTER. Ghazwa Dhul-Khalasa.
غزوہ ذوالخلصہ کا بیان
3 Hadith
56
(64) CHAPTER. The Ghazwa of Dhat-us-Salasil, which is the Ghazwa of Lakhm and Judham.
غزوہ ذاتالسلاسل کا بیان
1 Hadith
57
(65) CHAPTER. The departure of Jarir to Yemen.
حضرت جریر بنعبداللہ بجلی رضیاللہعنہ کا یمن کی طرف جانا
1 Hadith
58
(66) CHAPTER. The Ghazwa of the sea-coast.
غزوہ سیفالبحر کا بیان
3 Hadith
59
(67) CHAPTER. The Hajj in which Abu Bakr led the people in the 9th year (of Al-Hijrah)
حضرت ابوبکر رضیاللہعنہ کا لوگوں کے ساتھ سنہ ۹ھ میں حج کرنا
2 Hadith
60
(68) CHAPTER. The delegation of Bani Tamim.
بنیتمیم کے وفد کا بیان
1 Hadith
61
(69) CHAPTER.
محمد بن اسحاق نے کہا کہ
2 Hadith
62
(70) CHAPTER. The delegation of Abdul-Qais.
وفد عبدالقیس کابیان
4 Hadith
63
(71) CHAPTER. The delegation of Banu Hanifa and the narration of Thumama bin Uthal.
وفد بنو حنیفہ اور ثمامہبناثال کے واقعات کابیان
6 Hadith
64
(72) CHAPTER. The story of Al- Aswad Al-Ansi.
اسودعنسی کا قصہ
2 Hadith
65
(73) CHAPTER. The story of the people of Najran (Christians).
نجران کے نصاریٰ کا قصہ
3 Hadith
66
(74) CHAPTER. The story of Oman and Al-Bahrain.
عمان اور بحرین کاقصہ
1 Hadith
67
(75) CHAPTER. The arrival of Al-Ashariyun and the people of Yemen.
قبیلہ اشعر اور اہلیمن کی آمد کابیان
8 Hadith
68
(76) CHAPTER. The story of Daus and Tufail bin Amr Ad-Dausi.
قبیلہدوس اور طفیل بنعمر و دوسی رضیاللہعنہ کا بیان
2 Hadith
69
(77) CHAPTER. The delegation of Taiy, and the narration of Adi bin Hatim.
قبیلہ طے کے وفد اور عدی بنحاتم رضیاللہعنہ کا قصہ
1 Hadith
70
(78) CHAPTER. Hajjat-ul-Wada.
حجۃالوداع کابیان
20 Hadith
71
(79) CHAPTER. The Ghazwa of Tabuk, which is also called Ghazwa AI-Usrah (i.e., the battle of hardship).
غزوہتبوک کا بیان ، اس کا دوسرا غزوہ عسرت یعنی ( تنگی کا غزوہ ) بھی ہے ۔
3 Hadith
72
(80) CHAPTER. The narration of Kab bin Malik.
حضرت کعب بنمالک رضیاللہعنہ کے واقعہ کا بیا ن
1 Hadith
73
(81) CHAPTER. The dismounting of the Prophet at (the place called) Al-Hijr.
حجر بستی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا گزرنا
2 Hadith
74
(83) CHAPTER. The letter of the Prophet to Kisra (Khosrau) and Qaiser (Caesar).
کسریٰ ( شاہایران ) اور قیصر ( شاہروم ) کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطوط لکھنا
4 Hadith
75
(84) CHAPTER. The sickness of the Prophet and his death.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا بیان
35 Hadith
76
(85) CHAPTER. The last statement, the Prophet spoke.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری کلمہ جو زبان مبارک سے نکلا
4 Hadith
77
(88) CHAPTER. The despatch of Usama bin Zaid by the Prophet during his fatal illness.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کااسامہ بنزید رضیاللہعنہ کو مرضالموت میں ایک مہم پر روانہ کرنا
1 Hadith
78
(90) CHAPTER. How many Ghazawat the Prophet fought.
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کل کتنے غزوے کئے ہیں ؟
3 Hadith
No chapter matched that.