TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of al- maghazi. - کتاب غزوات کے بیان میں - Book 65 of Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Book 65 of Sahih Bukhari, with 78 chapters and 525 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

525 Hadith · 78 Chapters
(30) CHAPTER. The Ghazwa of Al-Khandaq which is called Al-Ahzab Battle.
غزوہخندق کا بیان جس کا دوسرا نام غزوہاحزاب ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ , قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ : نَغْزُوهُمْ وَلَا يَغْزُونَنَا .
Narrated Sulaiman bin Surd: On the day of Al-Ahzab (i.e. clans) the Prophet said, (After this battle) we will go to attack them(i.e. the infidels) and they will not come to attack us.
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ‘ ان سے ابواسحاق سبیعی نے ‘ ان سے سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احزاب کے موقع پر ( جب کفار کا لشکر ناکام واپس ہو گیا ) فرمایا کہ اب ہم ان سے لڑیں گے۔ آئندہ وہ ہم پر چڑھ کر کبھی نہ آ سکیں گے۔
4109
Sahih
(30) CHAPTER. The Ghazwa of Al-Khandaq which is called Al-Ahzab Battle.
غزوہخندق کا بیان جس کا دوسرا نام غزوہاحزاب ہے ۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ , سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ , يَقُولُ : سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ صُرَدٍ , يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ حِينَ أَجْلَى الْأَحْزَابَ عَنْهُ : الْآنَ نَغْزُوهُمْ وَلَا يَغْزُونَنَا نَحْنُ نَسِيرُ إِلَيْهِمْ .
Narrated Sulaiman bin Surd: When the clans were driven away, I heard the Prophet saying, From now onwards we will go to attack them (i.e. the infidels) and they will not come to attack us, but we will go to them.
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے اسرائیل بن یونس نے بیان کیا ‘ انہوں نے ابواسحاق سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ‘ جب عرب کے قبائل ( جو غزوہ خندق کے موقع پر مدینہ چڑھ کر آئے تھے ) ناکام واپس ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب ہم ان سے جنگ کریں گے ‘ وہ ہم پر چڑھ کر نہ آ سکیں گے بلکہ ہم ہی ان پر فوج کشی کیا کریں گے۔
4110
Sahih
(30) CHAPTER. The Ghazwa of Al-Khandaq which is called Al-Ahzab Battle.
غزوہخندق کا بیان جس کا دوسرا نام غزوہاحزاب ہے ۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ , حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ عُبَيْدَةَ , عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عنه , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ : مَلَأَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا كَمَا شَغَلُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ .
Narrated `Ali: On the day of Al-Khandaq (i.e. Trench), the Prophet said '(Let) Allah fill their (i.e. the infidels') houses and graves with fire just as they have prevented us from offering the Middle Prayer (i.e. `Asr prayer) till the sun had set.
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے روح بن عبادہ نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام بن حسان نے بیان کیا ‘ ان سے محمد بن سیرین نے ‘ ان سے عبیدہ سلمانی نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خندق کے موقع پر فرمایا کہ جس طرح ان کفار نے ہمیں صلوٰۃ وسطیٰ ( نماز عصر ) نہیں پڑھنے دی اور سورج غروب ہو گیا ‘ اللہ تعالیٰ بھی ان کی قبروں اور گھروں کو آگ سے بھر دے۔
4111
Sahih
(30) CHAPTER. The Ghazwa of Al-Khandaq which is called Al-Ahzab Battle.
غزوہخندق کا بیان جس کا دوسرا نام غزوہاحزاب ہے ۔
حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ يَحْيَى , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جَاءَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ جَعَلَ يَسُبُّ كُفَّارَ قُرَيْشٍ , وَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كِدْتُ أَنْ أُصَلِّيَ حَتَّى كَادَتِ الشَّمْسُ أَنْ تَغْرُبَ , قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَاللَّهِ مَا صَلَّيْتُهَا , فَنَزَلْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُطْحَانَ , فَتَوَضَّأَ لِلصَّلَاةِ وَتَوَضَّأْنَا لَهَا , فَصَلَّى الْعَصْرَ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ , ثُمَّ صَلَّى بَعْدَهَا الْمَغْرِبَ .
Narrated Jabir bin `Abdullah: `Umar bin Al-Khattab came on the day of Al-Khandaq after the sun had set and he was abusing the infidels of Quraish saying, O Allah's Apostle! I was unable to offer the (`Asr) prayer till the sun was about to set. The Prophet said, By Allah, I have not offered this (i.e. `Asr) prayer. So we came down along with the Prophet to Buthan where he performed ablution for the prayer and then we performed the ablution for it. Then he offered the `Asr prayer after the sun had set, and after it he offered the Maghrib prayer.
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ہشام بن حسان نے بیان کیا ‘ ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے ‘ ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ غزوہ خندق کے موقع پر سورج غروب ہونے کے بعد ( لڑ کر ) واپس ہوئے۔ وہ کفار قریش کو برا بھلا کہہ رہے تھے۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! سورج غروب ہونے کو ہے اور میں عصر کی نماز اب تک نہیں پڑھ سکا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم! نماز تو میں بھی نہ پڑھ سکا۔ آخر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وادی بطحان میں اترے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے لیے وضو کیا۔ ہم نے بھی وضو کیا ‘ پھر عصر کی نماز سورج غروب ہونے کے بعد پڑھی اور اس کے بعد مغرب کی نماز پڑھی۔
4112
Sahih
(30) CHAPTER. The Ghazwa of Al-Khandaq which is called Al-Ahzab Battle.
غزوہخندق کا بیان جس کا دوسرا نام غزوہاحزاب ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ , أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ , عَنْ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ , قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرًا , يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ : مَنْ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ ؟ , فَقَالَ الزُّبَيْرُ : أَنَا , ثُمَّ قَالَ : مَنْ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ ؟ فَقَالَ الزُّبَيْرُ : أَنَا , ثُمَّ قَالَ : مَنْ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ ؟ فَقَالَ الزُّبَيْرُ : أَنَا , ثُمَّ قَالَ : إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيَّ , وَإِنَّ حَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ .
Narrated Jabir: On the day of Al-Ahzab (i.e. clans), Allah's Apostle said, 'Who will bring us the news of the people (i.e. the clans of Quraish infidels)? Az-Zubair said, I. The Prophet again said, Who will bring us the news of the people? AzZubair said, I. The Prophet again said, Who will bring us the news of the people? Az-Zubair said, I. The Prophet then said, Every prophet has his Hawari (i.e. disciplespecial helper); my disciple is Az-Zubair.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی ‘ ان سے محمد بن منکدر نے بیان کیا اور انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ وہ بیان کرتے تھے کہ غزوہ احزاب کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کفار کے لشکر کی خبریں کون لائے گا؟ زبیر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میں تیار ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کفار کے لشکر کی خبریں کون لائے گا؟ اس مرتبہ بھی زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ پوچھا کہ کفار کے لشکر کی خبریں کون لائے گا؟ زبیر رضی اللہ عنہ نے اس مرتبہ بھی اپنے آپ کو پیش کیا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں اور میرے حواری زبیر ہیں۔
4113
Sahih
(30) CHAPTER. The Ghazwa of Al-Khandaq which is called Al-Ahzab Battle.
غزوہخندق کا بیان جس کا دوسرا نام غزوہاحزاب ہے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كَانَ يَقُولُ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ , أَعَزَّ جُنْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ , وَغَلَبَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ , فَلَا شَيْءَ بَعْدَهُ .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle used to say, None has the right to be worshipped except Allah Alone (Who) honored His Warriors and made His Slave victorious, and He (Alone) defeated the (infidel) clans; so there is nothing after Him.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ‘ ان سے سعید بن ابی سعید نے ‘ ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے جس نے اپنے لشکر کو فتح دی۔ اپنے بندے کی مدد کی ( یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ) اور احزاب ( یعنی افواج کفار ) کو تنہا بھگا دیا پس اس کے بعد کوئی چیز اس کے مدمقابل نہیں ہو سکتی۔“
4114
Sahih
(30) CHAPTER. The Ghazwa of Al-Khandaq which is called Al-Ahzab Battle.
غزوہخندق کا بیان جس کا دوسرا نام غزوہاحزاب ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ , أَخْبَرَنَا الْفَزَارِيُّ , وَعَبْدَةُ , عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ , قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , يَقُولُ : دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْأَحْزَابِ , فَقَالَ : اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ سَرِيعَ الْحِسَابِ , اهْزِمْ الْأَحْزَابَ , اللَّهُمَّ اهْزِمْهُمْ وَزَلْزِلْهُمْ .
Narrated `Abdullah bin Abi `Aufa: Allah's Apostle invoked evil upon the clans saying, Allah, the Revealer of the Holy Book (i.e. the Qur'an), the Quick Taker of the accounts! Please defeat the clans. O Allah! Defeat them and shake them.
ہم سے محمد نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو فزاری اور عبدہ نے خبر دی ‘ ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احزاب ( افواج کفار ) کے لیے ( غزوہ خندق کے موقع پر ) بددعا کی ”اے اللہ! کتاب کے نازل کرنے والے! جلدی حساب لینے والے! کفار کے لشکر کو شکست دے۔ اے اللہ! انہیں شکست دے۔ یا اللہ! ان کی طاقت کو متزلزل کر دے۔“
4115
Sahih
(30) CHAPTER. The Ghazwa of Al-Khandaq which is called Al-Ahzab Battle.
غزوہخندق کا بیان جس کا دوسرا نام غزوہاحزاب ہے ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ , أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ , أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ , عَنْ سَالِمٍ , وَنَافِعٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَفَلَ مِنَ الْغَزْوِ أَوِ الْحَجِّ أَوِ الْعُمْرَةِ يَبْدَأُ فَيُكَبِّرُ ثَلَاثَ مِرَارٍ , ثُمَّ يَقُولُ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ , لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ , آيِبُونَ تَائِبُونَ , عَابِدُونَ سَاجِدُونَ , لِرَبِّنَا حَامِدُونَ , صَدَقَ اللَّهُ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ , وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ .
Narrated `Abdullah: Whenever Allah's Apostle returned from a Ghazwa, Hajj or `Umra, he used to start (saying), Allahu- Akbar, thrice and then he would say, None has the right to be worshipped except Allah alone Who has no partners. To Him belongs the Kingdom, all praises are for Him, and He is able to do all things (i.e. Omnipotent). We are returning with repentance (to Allah) worshipping, prostrating, and praising our Lord. Allah has fulfilled His Promise, made His Slave victorious, and He (Alone) defeated the clans (of infidels) .
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں سالم بن عبداللہ بن عمر اور نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوے، حج یا عمرے سے واپس آتے تو سب سے پہلے تین مرتبہ اللہ اکبر کہتے۔ پھر یوں فرماتے ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، بادشاہت اسی کے لیے ہے، حمد اسی کے لیے ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ( یا اللہ! ) ہم واپس ہو رہے ہیں توبہ کرتے ہوئے، عبادت کرتے ہوئے اپنے رب کے حضور سجدہ کرتے ہوئے اور اپنے رب کی حمد کرتے ہوئے۔ اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا۔ اپنے بندے کی مدد کی اور کفار کی فوجوں کو اس نے اکیلے شکست دے دی۔“
4116
Sahih
(31) CHAPTER. The return of the Prophet from (the battle of) the Ahzab (Confederates) and his going out to Bani Quraiza and his besieging them.
غزوہاحزاب سے نبی کریم کا واپس لوٹنا اور بنوقریظہ پر چڑھائی کرنااور ان کا محاصرہ کرنا
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , عَنْ هِشَامٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ : لَمَّا رَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْخَنْدَقِ , وَوَضَعَ السِّلَاحَ وَاغْتَسَلَ , أَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ : قَدْ وَضَعْتَ السِّلَاحَ , وَاللَّهِ مَا وَضَعْنَاهُ , فَاخْرُجْ إِلَيْهِمْ , قَالَ : فَإِلَى أَيْنَ ؟ قَالَ : هَا هُنَا , وَأَشَارَ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ .
Narrated `Aisha: When the Prophet returned from Al-Khandaq (i.e. Trench) and laid down his arms and took a bath, Gabriel came and said (to the Prophet ), You have laid down your arms? By Allah, we angels have not laid them down yet. So set out for them. The Prophet said, Where to go? Gabriel said, Towards this side, pointing towards Banu Quraiza. So the Prophet went out towards them.
مجھ سے عبداللہ بن ابی شیبہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام بن عروہ نے ‘ ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جوں ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنگ خندق سے مدینہ واپس ہوئے اور ہتھیار اتار کر غسل کیا تو جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے اور کہا: آپ نے ابھی ہتھیار اتار دیئے؟ اللہ کی قسم! ہم نے تو ابھی ہتھیار نہیں اتارے۔ چلئے ان پر حملہ کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کن پر؟ جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ ان پر اور انہوں نے ( یہود کے قبیلہ ) بنو قریظہ کی طرف اشارہ کیا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قریظہ پر چڑھائی کی۔
4117
Sahih
(31) CHAPTER. The return of the Prophet from (the battle of) the Ahzab (Confederates) and his going out to Bani Quraiza and his besieging them.
غزوہاحزاب سے نبی کریم کا واپس لوٹنا اور بنوقریظہ پر چڑھائی کرنااور ان کا محاصرہ کرنا
حَدَّثَنَا مُوسَى , حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ , عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ , عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى الْغُبَارِ سَاطِعًا فِي زُقَاقِ بَنِي غَنْمٍ مَوْكِبَ جِبْرِيلَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ حِينَ سَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ .
Narrated Anas: As if I am just now looking at the dust rising in the street of Banu Ghanm (in Medina) because of the marching of Gabriel's regiment when Allah's Apostle set out to Banu Quraiza (to attack them).
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا ‘ ان سے حمید بن ہلال نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جیسے اب بھی وہ گردوغبار میں دیکھ رہا ہوں جو جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ سوار فرشتوں کی وجہ سے قبیلہ بنو غنم کی گلی میں اٹھا تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنو قریظہ کے خلاف چڑھ کر گئے تھے۔
4118
Sahih
(31) CHAPTER. The return of the Prophet from (the battle of) the Ahzab (Confederates) and his going out to Bani Quraiza and his besieging them.
غزوہاحزاب سے نبی کریم کا واپس لوٹنا اور بنوقریظہ پر چڑھائی کرنااور ان کا محاصرہ کرنا
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ , حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ : لَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدٌ الْعَصْرَ إِلَّا فِي بَنِي قُرَيْظَةَ , فَأَدْرَكَ بَعْضُهُمُ الْعَصْرَ فِي الطَّرِيقِ , فَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَا نُصَلِّي حَتَّى نَأْتِيَهَا , وَقَالَ بَعْضُهُمْ : بَلْ نُصَلِّي لَمْ يُرِدْ مِنَّا ذَلِكَ , فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُعَنِّفْ وَاحِدًا مِنْهُمْ .
Narrated Ibn `Umar: On the day of Al-Ahzab (i.e. Clans) the Prophet said, None of you Muslims) should offer the `Asr prayer but at Banu Quraiza's place. The `Asr prayer became due for some of them on the way. Some of those said, We will not offer it till we reach it, the place of Banu Quraiza, while some others said, No, we will pray at this spot, for the Prophet did not mean that for us. Later on It was mentioned to the Prophet and he did not berate any of the two groups.
ہم سے محمد بن عبداللہ بن محمد بن اسماء نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے جویریہ بن اسماء نے بیان کیا ‘ ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ غزوہ احزاب کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمام مسلمان عصر کی نماز بنو قریظہ تک پہنچنے کے بعد ہی ادا کریں۔ بعض حضرات کی عصر کی نماز کا وقت راستے ہی میں ہو گیا۔ ان میں سے کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم نے تو کہا کہ ہم راستے میں نماز نہیں پڑھیں گے۔ ( کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قریظہ میں نماز عصر پڑھنے کے لیے فرمایا ہے ) اور بعض صحابہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا منشا یہ نہیں تھا۔ ( بلکہ جلدی جانا مقصد تھا ) بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کا تذکرہ ہوا تو آپ نے کسی پر خفگی نہیں فرمائی۔
4119
Sahih
(31) CHAPTER. The return of the Prophet from (the battle of) the Ahzab (Confederates) and his going out to Bani Quraiza and his besieging them.
غزوہاحزاب سے نبی کریم کا واپس لوٹنا اور بنوقریظہ پر چڑھائی کرنااور ان کا محاصرہ کرنا
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ , حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ . ح وحَدَّثَنِي خَلِيفَةُ , حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ , قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي , عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : كَانَ الرَّجُلُ يَجْعَلُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّخَلَاتِ حَتَّى افْتَتَحَ قُرَيْظَةَ , وَالنَّضِيرَ , وَإِنَّ أَهْلِي أَمَرُونِي أَنْ آتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْأَلَهُ الَّذِي كَانُوا أَعْطَوْهُ أَوْ بَعْضَهُ , وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْطَاهُ أُمَّ أَيْمَنَ , فَجَاءَتْ أُمُّ أَيْمَنَ فَجَعَلَتِ الثَّوْبَ فِي عُنُقِي تَقُولُ : كَلَّا وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ , لَا يُعْطِيكَهُمْ وَقَدْ أَعْطَانِيهَا , أَوْ كَمَا قَالَتْ : وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ لَكِ كَذَا , وَتَقُولُ كَلَّا وَاللَّهِ , حَتَّى أَعْطَاهَا حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ : عَشَرَةَ أَمْثَالِهِ , أَوْ كَمَا قَالَ .
Narrated Anas: Some (of the Ansar) used to present date palm trees to the Prophet till Banu Quraiza and Banu An- Nadir were conquered (then he returned to the people their date palms). My people ordered me to ask the Prophet to return some or all the date palms they had given to him, but the Prophet had given those trees to Um Aiman. On that, Um Aiman came and put the garment around my neck and said, No, by Him except Whom none has the right to be worshipped, he will not return those trees to you as he (i.e. the Prophet ) has given them to me. The Prophet go said (to her), Return those trees and I will give you so much (instead of them). But she kept on refusing, saying, No, by Allah, till he gave her ten times the number of her date palms.
ہم سے عبداللہ ابی الاسود نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا (دوسری سند امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں) اور مجھ سے خلیفہ بن خیاط نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا ‘ کہ میں نے اپنے والد سے سنا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بطور ہدیہ صحابہ رضی اللہ عنہم اپنے باغ میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چند کھجور کے درخت مقرر کر دیئے تھے یہاں تک کہ بنو قریظہ اور بنو نضیر کے قبائل فتح ہو گئے ( تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ہدایا کو واپس کر دیا ) میرے گھر والوں نے بھی مجھے اس کھجور کو، تمام کی تمام یا اس کا کچھ حصہ لینے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کھجور ام ایمن رضی اللہ عنہا کو دے دی تھی۔ اتنے میں وہ بھی آ گئیں اور کپڑا میری گردن میں ڈال کر کہنے لگیں ‘ قطعاً نہیں۔ اس ذات کی قسم! جس کے سوا کوئی معبود نہیں یہ پھل تمہیں نہیں ملیں گے۔ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے عنایت فرما چکے ہیں۔ یا اسی طرح کے الفاظ انہوں نے بیان کئے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تم مجھ سے اس کے بدلے میں اتنے لے لو۔ ( اور ان کا مال انہیں واپس کر دو ) لیکن وہ اب بھی یہی کہے جا رہی تھیں کہ قطعاً نہیں، خدا کی قسم! یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں، میرا خیال ہے کہ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس کا دس گنا دینے کا وعدہ فرمایا ( پھر انہوں نے مجھے چھوڑا ) یا اسی طرح کے الفاظ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کئے۔
4120
Sahih
(31) CHAPTER. The return of the Prophet from (the battle of) the Ahzab (Confederates) and his going out to Bani Quraiza and his besieging them.
غزوہاحزاب سے نبی کریم کا واپس لوٹنا اور بنوقریظہ پر چڑھائی کرنااور ان کا محاصرہ کرنا
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ سَعْدٍ , قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ , قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , يَقُولُ : نَزَلَ أَهْلُ قُرَيْظَةَ عَلَى حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ , فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى سَعْدٍ فَأَتَى عَلَى حِمَارٍ , فَلَمَّا دَنَا مِنَ الْمَسْجِدِ قَالَ لِلْأَنْصَارِ : قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ أَوْ خَيْرِكُمْ , فَقَالَ : هَؤُلَاءِ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِكَ , فَقَالَ : تَقْتُلُ مُقَاتِلَتَهُمْ وَتَسْبِي ذَرَارِيَّهُمْ , قَالَ : قَضَيْتَ بِحُكْمِ اللَّهِ وَرُبَّمَا قَالَ : بِحُكْمِ الْمَلِكِ .
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri: The people of (Banu) Quraiza agreed to accept the verdict of Sa`d bin Mu`adh. So the Prophet sent for Sa`d, and the latter came (riding) a donkey and when he approached the Mosque, the Prophet said to the Ansar, Get up for your chief or for the best among you. Then the Prophet said (to Sa`d). These (i.e. Banu Quraiza) have agreed to accept your verdict. Sa`d said, Kill their (men) warriors and take their offspring as captives, On that the Prophet said, You have judged according to Allah's Judgment, or said, according to the King's judgment.
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے غندر نے ‘ ان سے شعبہ نے ‘ ان سے سعد بن ابراہیم نے ‘ انہوں نے ابوامامہ سے سنا ‘ انہوں نے کہا کہ میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ بنو قریظہ نے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو ثالث مان کر ہتھیار ڈال دیئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلانے کے لیے آدمی بھیجا۔ وہ گدھے پر سوار ہو کر آئے۔ جب اس جگہ کے قریب آئے جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھنے کے لیے منتخب کر رکھا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے فرمایا کہ اپنے سردار کے لینے کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔ یا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا ) اپنے سے بہتر شخص کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ بنو قریظہ نے تم کو ثالث مان کر ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔ چنانچہ سعد رضی اللہ عنہ نے یہ فیصلہ کیا کہ جتنے لوگ ان میں جنگ کے قابل ہیں انہیں قتل کر دیا جائے اور ان کے بچوں اور عورتوں کو قیدی بنا لیا جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ تم نے اللہ کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ کیا یا یہ فرمایا کہ جیسے بادشاہ ( یعنی اللہ ) کا حکم تھا۔
4121
Sahih
(31) CHAPTER. The return of the Prophet from (the battle of) the Ahzab (Confederates) and his going out to Bani Quraiza and his besieging them.
غزوہاحزاب سے نبی کریم کا واپس لوٹنا اور بنوقریظہ پر چڑھائی کرنااور ان کا محاصرہ کرنا
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ : أُصِيبَ سَعْدٌ يَوْمَ الْخَنْدَقِ رَمَاهُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ يُقَالُ لَهُ : حِبَّانُ بْنُ الْعَرِقَةِ وَهُوَ حِبَّانُ بْنُ قَيْسٍ مِنْ بَنِي مَعِيصِ بْنِ عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ رَمَاهُ فِي الْأَكْحَلِ , فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْمَةً فِي الْمَسْجِدِ لِيَعُودَهُ مِنْ قَرِيبٍ , فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْخَنْدَقِ وَضَعَ السِّلَاحَ وَاغْتَسَلَ , فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام وَهُوَ يَنْفُضُ رَأْسَهُ مِنَ الْغُبَارِ , فَقَالَ : قَدْ وَضَعْتَ السِّلَاحَ وَاللَّهِ مَا وَضَعْتُهُ اخْرُجْ إِلَيْهِمْ , قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَأَيْنَ , فَأَشَارَ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ , فَأَتَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَنَزَلُوا عَلَى حُكْمِهِ , فَرَدَّ الْحُكْمَ إِلَى سَعْدٍ , قَالَ : فَإِنِّي أَحْكُمُ فِيهِمْ أَنْ تُقْتَلَ الْمُقَاتِلَةُ , وَأَنْ تُسْبَى النِّسَاءُ وَالذُّرِّيَّةُ , وَأَنْ تُقْسَمَ أَمْوَالُهُمْ , قَالَ هِشَامٌ فَأَخْبَرَنِي أَبِي , عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ سَعْدًا قَالَ : اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أُجَاهِدَهُمْ فِيكَ , مِنْ قَوْمٍ كَذَّبُوا رَسُولَكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخْرَجُوهُ , اللَّهُمَّ فَإِنِّي أَظُنُّ أَنَّكَ قَدْ وَضَعْتَ الْحَرْبَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ فَإِنْ كَانَ بَقِيَ مِنْ حَرْبِ قُرَيْشٍ شَيْءٌ , فَأَبْقِنِي لَهُ حَتَّى أُجَاهِدَهُمْ فِيكَ , وَإِنْ كُنْتَ وَضَعْتَ الْحَرْبَ فَافْجُرْهَا وَاجْعَلْ مَوْتَتِي فِيهَا , فَانْفَجَرَتْ مِنْ لَبَّتِهِ فَلَمْ يَرُعْهُمْ وَفِي الْمَسْجِدِ خَيْمَةٌ مِنْ بَنِي غِفَارٍ إِلَّا الدَّمُ يَسِيلُ إِلَيْهِمْ , فَقَالُوا : يَا أَهْلَ الْخَيْمَةِ مَا هَذَا الَّذِي يَأْتِينَا مِنْ قِبَلِكُمْ , فَإِذَا سَعْدٌ يَغْذُو جُرْحُهُ دَمًا فَمَاتَ مِنْهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ .
Narrated `Aisha: Sa`d was wounded on the day of Khandaq (i.e. Trench) when a man from Quraish, called Hibban bin Al-`Araqa hit him (with an arrow). The man was Hibban bin Qais from (the tribe of) Bani Mais bin 'Amir bin Lu'ai who shot an arrow at Sa`d's medial arm vein (or main artery of the arm). The Prophet pitched a tent (for Sa`d) in the Mosque so that he might be near to the Prophet to visit. When the Prophet returned from the (battle) of Al-Khandaq (i.e. Trench) and laid down his arms and took a bath Gabriel came to him while he (i.e. Gabriel) was shaking the dust off his head, and said, You have laid down the arms? By Allah, I have not laid them down. Go out to them (to attack them). The Prophet said, Where? Gabriel pointed towards Bani Quraiza. So Allah's Apostle went to them (i.e. Banu Quraiza) (i.e. besieged them). They then surrendered to the Prophet's judgment but he directed them to Sa`d to give his verdict concerning them. Sa`d said, I give my judgment that their warriors should be killed, their women and children should be taken as captives, and their properties distributed. Narrated Hisham: My father informed me that `Aisha said, Sa`d said, O Allah! You know that there is nothing more beloved to me than to fight in Your Cause against those who disbelieved Your Apostle and turned him out (of Mecca). O Allah! I think you have put to an end the fight between us and them (i.e. Quraish infidels). And if there still remains any fight with the Quraish (infidels), then keep me alive till I fight against them for Your Sake. But if you have brought the war to an end, then let this wound burst and cause my death thereby.' So blood gushed from the wound. There was a tent in the Mosque belonging to Banu Ghifar who were surprised by the blood flowing towards them . They said, 'O people of the tent! What is this thing which is coming to us from your side?' Behold! Blood was flowing profusely out of Sa`d's wound. Sa`d then died because of that.
ہم سے زکریا بن یحییٰ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ غزوہ خندق کے موقع پر سعد رضی اللہ عنہ زخمی ہو گئے تھے۔ قریش کے ایک کافر شخص ‘ حسان بن عرفہ نامی نے ان پر تیر چلایا تھا اور وہ ان کے بازو کی رگ میں آ کے لگا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے مسجد میں ایک خیمہ لگا دیا تھا تاکہ قریب سے ان کی عیادت کرتے رہیں۔ پھر جب آپ غزوہ خندق سے واپس ہوئے اور ہتھیار رکھ کر غسل کیا تو جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے۔ وہ اپنے سر سے غبار جھاڑ رہے تھے۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا آپ نے ہتھیار رکھ دیئے۔ اللہ کی قسم! ابھی میں نے ہتھیار نہیں اتارے ہیں۔ آپ کو ان پر فوج کشی کرنی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کن پر؟ تو انہوں نے بنو قریظہ کی طرف اشارہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنو قریظہ تک پہنچے ( اور انہوں نے اسلامی لشکر کے پندرہ دن کے سخت محاصرہ کے بعد ) سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو ثالث مان کر ہتھیار ڈال دیئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد رضی اللہ عنہ کو فیصلہ کا اختیار دیا۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ان کے بارے میں فیصلہ کرتا ہوں کہ جتنے لوگ ان کے جنگ کرنے کے قابل ہیں وہ قتل کر دیئے جائیں ‘ ان کی عورتیں اور بچے قید کر لیے جائیں اور ان کا مال تقسیم کر لیا جائے۔ ہشام نے بیان کیا کہ پھر مجھے میرے والد نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی کہ سعد رضی اللہ عنہ نے یہ دعا کی تھی ”اے اللہ! تو خوب جانتا ہے کہ اس سے زیادہ مجھے کوئی چیز عزیز نہیں کہ میں تیرے راستے میں اس قوم سے جہاد کروں جس نے تیرے رسول کو جھٹلایا اور انہیں ان کے وطن سے نکالا لیکن اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تو نے ہماری اور ان کی لڑائی اب ختم کر دی ہے۔ لیکن اگر قریش سے ہماری لڑائی کا کوئی بھی سلسلہ ابھی باقی ہو تو مجھے اس کے لیے زندہ رکھنا۔ یہاں تک کہ میں تیرے راستے میں ان سے جہاد کروں اور اگر لڑائی کے سلسلے کو تو نے ختم ہی کر دیا ہے تو میرے زخموں کو پھر سے ہرا کر دے اور اسی میں میری موت واقع کر دے۔ اس دعا کے بعد سینے پر ان کا زخم پھر سے تازہ ہو گیا۔ مسجد میں قبیلہ بنو غفار کے کچھ صحابہ کا بھی ایک خیمہ تھا۔ خون ان کی طرف بہہ کر آیا تو وہ گھبرائے اور انہوں نے کہا: اے خیمہ والو! تمہاری طرف سے یہ خون ہماری طرف بہہ کر آ رہا ہے؟ دیکھا تو سعد رضی اللہ عنہ کے زخم سے خون بہہ رہا تھا ‘ ان کی وفات اسی میں ہوئی۔
4122
Sahih
(31) CHAPTER. The return of the Prophet from (the battle of) the Ahzab (Confederates) and his going out to Bani Quraiza and his besieging them.
غزوہاحزاب سے نبی کریم کا واپس لوٹنا اور بنوقریظہ پر چڑھائی کرنااور ان کا محاصرہ کرنا
حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ , أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ , قَالَ : أَخْبَرَنِي عَدِيٌّ أَنَّهُ , سَمِعَ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَسَّانَ : اهْجُهُمْ أَوْ هَاجِهِمْ وَجِبْرِيلُ مَعَكَ .
Narrated Al-Bara: The Prophet said to Hassan, Abuse them (with your poems), and Gabriel is with you (i.e, supports you). (Through another group of sub narrators) Al-Bara bin Azib said, On the day of Quraiza's (besiege), Allah's Apostle said to Hassan bin Thabit, 'Abuse them (with your poems), and Gabriel is with you (i.e. supports you).'
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی ‘ کہا کہ مجھے عدی بن ثابت نے خبر دی ‘ انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ مشرکین کی ہجو کر یا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بجائے ) «هاجهم» فرمایا جبرائیل تمہارے ساتھ ہیں۔
4123
Sahih
(31) CHAPTER. The return of the Prophet from (the battle of) the Ahzab (Confederates) and his going out to Bani Quraiza and his besieging them.
غزوہاحزاب سے نبی کریم کا واپس لوٹنا اور بنوقریظہ پر چڑھائی کرنااور ان کا محاصرہ کرنا
وَزَادَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ , عَنْ الشَّيْبَانِيِّ , عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ , عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ قُرَيْظَةَ لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ اهْجُ الْمُشْرِكِينَ فَإِنَّ جِبْرِيلَ مَعَكَ .
Al-Bara' bin `Azib said (through another chain of sub-narrators): On the day of Quraiza's (siege), Allah's Messenger (saws) said to Hassan bin Thabit, 'Abuse them (with your poems), and Jibril is with you.'
اور ابراہیم بن طہمان نے شیبانی سے یہ زیادہ کیا ہے ان سے عدی بن ثابت نے بیان کیا اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بنو قریظہ کے موقع پر حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ مشرکین کی ہجو کرو جبرائیل تمہاری مدد پر ہیں۔
4124
Sahih
(32) CHAPTER. The Ghazwa (i.e., battle) of Dhat-ur-Riqa.
غزوہ ذاتالرقاع کا بیان
قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : قَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ , أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : صَلَّى بِأَصْحَابِهِ فِي الْخَوْفِ فِي غَزْوَةِ السَّابِعَةِ غَزْوَةِ ذَاتِ الرِّقَاعِ , قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخَوْفَ بِذِي قَرَدٍ .
Narrated Jabir bin Abdullah (ra):The Prophet (saws) led his Companions in the Fear Prayer in the seventh Ghazwa i.e. the Ghazwa of Dhat-ur-Riqa. Ibn Abbas said, The Prophet (saws) offered the Fear Prayer at a place called Dhi-Qarad.
اور عبداللہ بن رجاء نے کہا ‘ انہیں عمران قطان نے خبر دی ‘ انہیں یحییٰ بن کثیر نے ‘ انہیں ابوسلمہ نے اور انہیں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے ساتھ نماز خوف ساتویں غزوہ میں پڑھی تھی۔ یعنی غزوہ ذات الرقاع میں۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز خوف ذو قرد میں پڑھی تھی۔
4125
Sahih
(32) CHAPTER. The Ghazwa (i.e., battle) of Dhat-ur-Riqa.
غزوہ ذاتالرقاع کا بیان
وَقَالَ بَكْرُ بْنُ سَوَادَةَ : حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ نَافِعٍ , عَنْ أَبِي مُوسَى , أَنَّ جَابِرًا حَدَّثَهُمْ : صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِمْ يَوْمَ مُحَارِبٍ وَثَعْلَبَةَ .
Jabir said that the Prophet (saws) led the people in the Fear Prayer on the day of Muharib and Tha'laba (i.e. the day of the battle of Dhat-ur-Riqa').
اور بکر بن سوادہ نے بیان کیا ‘ ان سے زیاد بن نافع نے بیان کیا ‘ ان سے ابوموسیٰ نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ محارب اور بنی ثعلبہ میں اپنے ساتھیوں کو نماز خوف پڑھائی تھی۔
4126
Sahih
(32) CHAPTER. The Ghazwa (i.e., battle) of Dhat-ur-Riqa.
غزوہ ذاتالرقاع کا بیان
وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ , سَمِعْتُ وَهْبَ بْنَ كَيْسَانَ , سَمِعْتُ جَابِرًا : خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى ذَاتِ الرِّقَاعِ مِنْ نَخْلٍ , فَلَقِيَ جَمْعًا مِنْ غَطَفَانَ فَلَمْ يَكُنْ قِتَالٌ وَأَخَافَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا , فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيِ الْخَوْفِ , وَقَالَ يَزِيدُ : عَنْ سَلَمَةَ : غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْقَرَدِ .
Jabir added: The Prophet (saws) set out for the battle of Dhat-ur-Riqa' at a place called Nakhl and he met a group of people from Ghatafan, but there was no clash (between them); the people were afraid of each other and the Prophet (saws) offered the two raka'at of the Fear prayer. Narrated Salama: I fought in the company of the Prophet (saws) on the day of al-Qarad.
اور ابن اسحاق نے بیان کیا ‘ انہوں نے وہب بن کیسان سے سنا ‘ انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ ذات الرقاع کے لیے مقام نخل سے روانہ ہوئے تھے۔ وہاں آپ کا قبیلہ غطفان کی ایک جماعت سے سامنا ہوا لیکن کوئی جنگ نہیں ہوئی اور چونکہ مسلمانوں پر کفار کے ( اچانک حملے کا ) خطرہ تھا۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز خوف پڑھائی۔ اور یزید نے سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کے واسطے سے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ ذوالقرد میں شریک تھا۔
4127
Sahih
(32) CHAPTER. The Ghazwa (i.e., battle) of Dhat-ur-Riqa.
غزوہ ذاتالرقاع کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ , حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ , عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ , عَنْ أَبِي بُرْدَةَ , عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ وَنَحْنُ سِتَّةُ نَفَرٍ بَيْنَنَا بَعِيرٌ نَعْتَقِبُهُ , فَنَقِبَتْ أَقْدَامُنَا وَنَقِبَتْ قَدَمَايَ وَسَقَطَتْ أَظْفَارِي , وَكُنَّا نَلُفُّ عَلَى أَرْجُلِنَا الْخِرَقَ , فَسُمِّيَتْ غَزْوَةَ ذَاتِ الرِّقَاعِ لِمَا كُنَّا نَعْصِبُ مِنَ الْخِرَقِ عَلَى أَرْجُلِنَا , وَحَدَّثَ أَبُو مُوسَى بِهَذَا , ثُمَّ كَرِهَ ذَاكَ , قَالَ : مَا كُنْتُ أَصْنَعُ بِأَنْ أَذْكُرَهُ , كَأَنَّهُ كَرِهَ أَنْ يَكُونَ شَيْءٌ مِنْ عَمَلِهِ أَفْشَاهُ .
Narrated Abu Burda: Abu Musa said, We went out in the company of the Prophet for a Ghazwa and we were six persons having one camel which we rode in rotation. So, (due to excessive walking) our feet became thin and my feet became thin and my nail dropped, and we used to wrap our feet with the pieces of cloth, and for this reason, the Ghazwa was named Dhat-ur-Riqa as we wrapped our feet with rags. When Abu- Musa narrated this (Hadith), he felt regretful to do so and said, as if he disliked to have disclosed a good deed of his.
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوامامہ نے بیان کیا ‘ ان سے برید بن عبداللہ بن ابی بردہ نے ‘ ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ کے لیے نکلے۔ ہم چھ ساتھی تھے اور ہم سب کے لیے صرف ایک اونٹ تھا ‘ جس پر باری باری ہم سوار ہوتے تھے۔ ( پیدل طویل اور پر مشقت سفر کی وجہ سے ) ہمارے پاؤں پھٹ گئے اور میرے بھی پاؤں پھٹ گئے تھے۔ ناخن بھی جھڑ گئے تھے۔ چنانچہ ہم قدموں پر کپڑے کی پٹی باندھ باندھ کر چل رہے تھے۔ اسی لیے اس کا نام غزوہ ذات الرقاع پڑا ‘ کیونکہ ہم نے قدموں کو پٹیوں سے باندھ رکھا تھا۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث تو بیان کر دی ‘ لیکن پھر ان کو اس کا اظہار اچھا نہیں معلوم ہوا۔ فرمانے لگے کہ مجھے یہ حدیث بیان نہ کرنی چاہیے تھی۔ ان کو اپنا نیک عمل ظاہر کرنا برا معلوم ہوا۔
4128
Sahih

Chapters

78
01
(1) CHAPTER. The Ghazwa of Al-'Ushaira or Al-Usaira.
غزوہعشیرہ یا عسرہ کا بیان
1 Hadith
02
(2) CHAPTER. The Prophet's prediction about whom he thought would be killed at Badr.
بدر کی لڑائی میں فلاں فلاں مارے جائیں گے ۔ اس کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشینگوئی کا بیان
1 Hadith
03
(3) CHAPTER. The story of the Ghazwa of Badr.
غزوہبدر کا بیان
1 Hadith
04
(4) CHAPTER. The Statement of Allah: “(Remember) when you sought help of your Lord and He answered you (saying: 'I will help you with a thousand of a angels each behind the other (following one another) in succession.' Allah made it only as glad tidings, and that your hearts be at rest therewith. And there is no victory except from Allah. verily, Allah is All-Mighty, All-Wise. (Remember) when He covered you with a slumber as a security from Him, and He caused water (rain) to descend on you from the sky, to clean you thereby and to remove from you the Rijz (whispering, evil-suggestions) of Shaitan (Satan), and to strengthen yor hearts, and make your feet firm thereby. (Remember) when your Lord revealed to the angels, 'Verily, I am with you so keep firm those who have believed. I will cast terror into the hearts of those who have disbelived, so strike them over the necks, and smite over all their fingers and toes.' This is because they defined and disobeys Allah and His Messenger, then verily, Allah is Severe in punisllment.” (V.8:9-13)
اللہ تعالیٰ کا فرمان
5 Hadith
05
(5) CHAPTER.
۔ ۔ ۔
55 Hadith
06
(6) CHAPTER. The number of the warriors of Badr.
جنگبدر میں شریک ہونے والوں کا شمار
5 Hadith
07
(7) CHAPTER. Invoking evil of the Prophet on the disbelievers of Quraish, (Shaiba, Utba, Al-Walid and Abu jahl, etc.) and (the mention of) their death.
کفار قریش ، شیبہ ، عتبہ ، ولید اور ابوجہل بنہشام کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بددعا کرنا اور ان کی ہلاکت کا بیان
1 Hadith
08
(8) CHAPTER. The killing of Abu Jahl.
( بدر کے دن ) ابوجہل کا قتل ہونا
21 Hadith
09
(9) CHAPTER. The superiority of those who fought the battle of Badr.
بدر کی لڑائی میں حاضر ہونے والوں کی فضیلت کا بیان
14 Hadith
10
(12) CHAPTER.
جنگبدر میں فرشتوں کا شریک ہونا
1 Hadith
11
(14) CHAPTER. The story of Bani An-Nadir.
بنو نضیر کے یہودیوں کے واقعہ کا بیان
8 Hadith
12
(15) CHAPTER. The killing of Kab bin Al-Ashraf.
کعببناشرف یہودی کے قتل کا قصہ
2 Hadith
13
(16) CHAPTER. The killing of Abu Rafi, Abdullah bin Abi Al-Huqaiq.
ابورافع ۔ یہودی عبداللہبنابی الحقیق کے قتل کا قصہ
2 Hadith
14
(17) CHAPTER. The Ghazwa of Uhud.
غزوہاحد کا بیان
11 Hadith
15
(18) CHAPTER: “When two parties from among you were about the lose heart, but Allah was their Wali (Protector and Supporter).” (V.3:122)
جب تم میں سے دو جماعتیں ایسا ارادہ کر بیٹھتی تھیں کہ ہمت ہار دیں حالانکہ اللہ دونوں کا مددگار تھا اور ایماندار وں کو تو اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے
14 Hadith
16
(22) CHAPTER. (Allah's Statement): “Not for you (O Muhammad , but for Allah) is the decision; whether He turns in mercy to (pardon) them or punishes them; verily, they are the Zalimun (polytheists, and wrong-doers, disobedients).” (V.3:128)
اللہ تعالیٰ کا فرمان ” آپ کو اس امر میں کوئی اختیار نہیں ۔ اللہ خواہ ان کی توبہ قبول کرے یا انہیں عذاب کرے پس بیشک وہ ظالم ہیں ۔
2 Hadith
17
(23) CHAPTER. Narration regarding Umm Salit.
حضرت امسلیط رضیاللہعنہا کا تذکرہ
1 Hadith
18
(24) CHAPTER. The martyrdom of Hamza bin Abdul-Muttalib .
حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضیاللہعنہ کی شہادت کا بیان
1 Hadith
19
(25) CHAPTER. The wounds inflicted on the Prophet on the day (of the battle) of Uhud.
غزوہاحد کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو زخم پہنچے تھے ان کا بیان
2 Hadith
20
(26) CHAPTER. (Allah's Statement):- “Those who answered (the Call of) Allah and the Messenger (Muhammad )... (V.3:172)
وہ لوگ جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی آواز کو عملاً قبول کیا ( یعنی ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعمیل کے لیے فوراً تیار ہو گئے )
1 Hadith
21
(27) CHAPTER. The Muslims who were killed on the day (of the battle) of Uhud.
جن مسلمانوں نے غزوہاحد میں شہادت پائی ان کا بیان ۔
5 Hadith
22
(28) CHAPTER. “Uhud is a mountain that loves us and is loved by us.”
ارشاد نبوی کہ احد پہاڑ ہم سے محبت رکھتا ہے ۔
3 Hadith
23
(29) CHAPTER. The Ghazwa (i.e., battle) of Ar-Raji, Ril, Dhakwan and Bir Mauna.
غزوہ رجیع کا بیان
11 Hadith
24
(30) CHAPTER. The Ghazwa of Al-Khandaq which is called Al-Ahzab Battle.
غزوہخندق کا بیان جس کا دوسرا نام غزوہاحزاب ہے ۔
20 Hadith
25
(31) CHAPTER. The return of the Prophet from (the battle of) the Ahzab (Confederates) and his going out to Bani Quraiza and his besieging them.
غزوہاحزاب سے نبی کریم کا واپس لوٹنا اور بنوقریظہ پر چڑھائی کرنااور ان کا محاصرہ کرنا
8 Hadith
26
(32) CHAPTER. The Ghazwa (i.e., battle) of Dhat-ur-Riqa.
غزوہ ذاتالرقاع کا بیان
13 Hadith
27
(33) CHAPTER. The Ghazwa of Banu Al-Mustaliq which belongs to the tribe of Khuzaa. It is also called the Ghazwa of Al- Muraisi.
غزوہ بنو المصطلق کا بیان جو قبیلہ بنو خزاعہ سے ہوا تھا اور یہی غزوہ مریسیع ( بھی کہلاتا ) ہے
2 Hadith
28
(34) CHAPTER. The Ghazwa of Anmar.
غزوہ انمار کا بیان
1 Hadith
29
(35) CHAPTER. The narration of AI-Ifk.
واقعہ افک کا بیان
7 Hadith
30
(36) CHAPTER. The Ghazwa of Al- Hudaibiya.
غزوہ حدیبیہ کا بیان
44 Hadith
31
(37) CHAPTER. The story of (the tribes of) 'Ukl and 'Uraina.
قبائل عکل اور عرینہ کا قصہ
2 Hadith
32
(38) CHAPTER. Ghazwa Dhat-Qarad.
ذات قرد کی لڑائی کا بیان
1 Hadith
33
(39) CHAPTER. Ghazwa of Khaibar.
غزوہخیبر کا بیان
49 Hadith
34
(40) CHAPTER. The appointment of a ruler for Khaibar by the Prophet .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خیبر والوں پر تحصیل دار مقرر فرمانا
4 Hadith
35
(41) CHAPTER. The dealing of the Prophet with the people of Khaibar.
خیبر والوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ طے کرنا
1 Hadith
36
(42) CHAPTER. The sheep which was poisoned (and presented) to the Prophet at Khaibar.
اس بکری کا گوشت جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خیبر میں زہر دیا گیا تھا ۔ اس کو عروہ نے عائشہ رضیاللہعنہا سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے ۔
1 Hadith
37
(43) CHAPTER. The Ghazwa of Zaid bin Haritha.
غزوہ زیدبنحارثہ کا بیان
1 Hadith
38
(44) CHAPTER. The Umra Al-Qada.
عمرہ قضاء کا بیان
9 Hadith
39
(45) CHAPTER. The Ghazwa of Mu'tah in the land of Sham.
غزوہموتہ کا بیان جو سرزمین شام میں سنہ 8ھ میں ہوا تھا
9 Hadith
40
(46) CHAPTER. The despatch of Usama bin Zaid by the Prophet towards Al-Huraqat, (a place of the tribe of Juhaina).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسامہ بنزید رضیاللہعنہ کو حرقات کے مقابلہ پر بھیجنا
4 Hadith
41
(46) CHAPTER. The despatch of Usama bin Zaid by the Prophet towards Al-Huraqat, (a place of the tribe of Juhaina).
غزوہ فتح مکہ کا بیان
5 Hadith
42
(48) CHAPTER. The Ghazwa of Al-Fath (was fought) during Ramadan.
غزوہ فتح مکہ کا بیان جو رمضان سنہ 8 ھ میں ہوا تھا
2 Hadith
43
(49) CHAPTER. Where did the Prophet fix the flag on the day of the conquest of Makkah?
فتح مکہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جھنڈا کہاں گاڑا تھا ؟
9 Hadith
44
(50) CHAPTER. The entrance of the Prophet from the upper part of Makkah.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا شہر کے بالائی جانب سے مکہ میں داخل ہونا
3 Hadith
45
(52) CHAPTER.
فتح مکہ کے دن قیام نبوی کا بیان
5 Hadith
46
(53) CHAPTER. The stay of the Prophet in Makkah during the period of the Conquest (of Makkah).
فتح مکہ کے زمانہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکہ میں قیام کرنا
3 Hadith
47
(55) CHAPTER. The Statement of Allah: (“Truly, Allah has given you victory on many battlefields), and on the day of Hunain (battle) when you rejoiced at your great number… (up to)… Oft-Forgiving, Most Merciful.” (V.9:22-27)
جنگ حنین کابیان
9 Hadith
48
(56) CHAPTER. The Ghazwa of Autas.
غزوہ اوطاس کا بیان
1 Hadith
49
(57) CHAPTER. The Ghazwa of At-Ta'if was in the month of Shawwal, during the 8th year (of Al-Hijrah).
غزوہطائف کا بیان جوشوال سنہ 8ھ میں ہوا ۔ یہ موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیاہے
14 Hadith
50
(58) CHAPTER. The Sariya (i.e., an army unit sent by the Prophet ) which was sent towards Najd.
نجد کی طرف جو لشکرآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے روانہ کیا تھا ، اس کا بیان
1 Hadith
51
(59) CHAPTER. The Prophet sent Khalid bin Al-Walid (to fight) with Banu Jadhima.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خالدبنولید ر ضی اللہ عنہ کو بنیجذیمہ قبیلے کی طرف بھیجنا
1 Hadith
52
(60) CHAPTER. The Sariya of Abdullah bin Hudhafa As-Sahmi and Alqama bin Majazziz Al-Mudliji, and it is said that it was called the Sariya of the Ansar.
عبداللہبنحذافہ سہمی رضی اللہ عنہ
1 Hadith
53
(61) CHAPTER. The sending of Abu Musa and Mu'adh to Yemen before the Hajjat-al-Wada.
حجۃالوداع سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ابوموسیٰاشعری اور حضرت معاذبنجبل رضیاللہعنہما کو یمن بھیجنا
8 Hadith
54
(62) CHAPTER. The sending Ali bin Abi Talib and Khalid bin Al-Walid Yemen before Hajjat-al-Wada'.
حجۃالوداع سے پہلے علی بنابیطالب اور خالدبنولید رضیاللہعنہما کو یمن بھیجنا
6 Hadith
55
(63) CHAPTER. Ghazwa Dhul-Khalasa.
غزوہ ذوالخلصہ کا بیان
3 Hadith
56
(64) CHAPTER. The Ghazwa of Dhat-us-Salasil, which is the Ghazwa of Lakhm and Judham.
غزوہ ذاتالسلاسل کا بیان
1 Hadith
57
(65) CHAPTER. The departure of Jarir to Yemen.
حضرت جریر بنعبداللہ بجلی رضیاللہعنہ کا یمن کی طرف جانا
1 Hadith
58
(66) CHAPTER. The Ghazwa of the sea-coast.
غزوہ سیفالبحر کا بیان
3 Hadith
59
(67) CHAPTER. The Hajj in which Abu Bakr led the people in the 9th year (of Al-Hijrah)
حضرت ابوبکر رضیاللہعنہ کا لوگوں کے ساتھ سنہ ۹ھ میں حج کرنا
2 Hadith
60
(68) CHAPTER. The delegation of Bani Tamim.
بنیتمیم کے وفد کا بیان
1 Hadith
61
(69) CHAPTER.
محمد بن اسحاق نے کہا کہ
2 Hadith
62
(70) CHAPTER. The delegation of Abdul-Qais.
وفد عبدالقیس کابیان
4 Hadith
63
(71) CHAPTER. The delegation of Banu Hanifa and the narration of Thumama bin Uthal.
وفد بنو حنیفہ اور ثمامہبناثال کے واقعات کابیان
6 Hadith
64
(72) CHAPTER. The story of Al- Aswad Al-Ansi.
اسودعنسی کا قصہ
2 Hadith
65
(73) CHAPTER. The story of the people of Najran (Christians).
نجران کے نصاریٰ کا قصہ
3 Hadith
66
(74) CHAPTER. The story of Oman and Al-Bahrain.
عمان اور بحرین کاقصہ
1 Hadith
67
(75) CHAPTER. The arrival of Al-Ashariyun and the people of Yemen.
قبیلہ اشعر اور اہلیمن کی آمد کابیان
8 Hadith
68
(76) CHAPTER. The story of Daus and Tufail bin Amr Ad-Dausi.
قبیلہدوس اور طفیل بنعمر و دوسی رضیاللہعنہ کا بیان
2 Hadith
69
(77) CHAPTER. The delegation of Taiy, and the narration of Adi bin Hatim.
قبیلہ طے کے وفد اور عدی بنحاتم رضیاللہعنہ کا قصہ
1 Hadith
70
(78) CHAPTER. Hajjat-ul-Wada.
حجۃالوداع کابیان
20 Hadith
71
(79) CHAPTER. The Ghazwa of Tabuk, which is also called Ghazwa AI-Usrah (i.e., the battle of hardship).
غزوہتبوک کا بیان ، اس کا دوسرا غزوہ عسرت یعنی ( تنگی کا غزوہ ) بھی ہے ۔
3 Hadith
72
(80) CHAPTER. The narration of Kab bin Malik.
حضرت کعب بنمالک رضیاللہعنہ کے واقعہ کا بیا ن
1 Hadith
73
(81) CHAPTER. The dismounting of the Prophet at (the place called) Al-Hijr.
حجر بستی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا گزرنا
2 Hadith
74
(83) CHAPTER. The letter of the Prophet to Kisra (Khosrau) and Qaiser (Caesar).
کسریٰ ( شاہایران ) اور قیصر ( شاہروم ) کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطوط لکھنا
4 Hadith
75
(84) CHAPTER. The sickness of the Prophet and his death.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا بیان
35 Hadith
76
(85) CHAPTER. The last statement, the Prophet spoke.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری کلمہ جو زبان مبارک سے نکلا
4 Hadith
77
(88) CHAPTER. The despatch of Usama bin Zaid by the Prophet during his fatal illness.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کااسامہ بنزید رضیاللہعنہ کو مرضالموت میں ایک مہم پر روانہ کرنا
1 Hadith
78
(90) CHAPTER. How many Ghazawat the Prophet fought.
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کل کتنے غزوے کئے ہیں ؟
3 Hadith
No chapter matched that.